Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 32)

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan

کنول ے دروازے سےاندر آنے والے پے گن تانی۔ لیکن آنے والا کوٸ اور نہیں۔۔ اس کا خان تھا۔

اس کا اپنا۔۔ خان۔۔ کنول نے روتے ہوۓ گن نیچے پھینکی تھی۔ اور اپنی جگہ سے اٹھی تھی ۔

آفتاب نے اسے صحیح سلامت دیکھ شکر ک گہرا سانس خارج کیا۔ وہیں اسسکی نظر اس کی بکھری حالتپے پڑی۔

اس کی اتنی خراب حالت دیکھ آفتاب کا خون کھول اٹھا۔ کنول آگے بڑھتے روتے ہوۓ اس کے قریب آٸ۔ اس کی چال میں بھی لڑکھڑاہٹ تھی۔

آفتب نے فوراً سے اپنی شال اس کے گرد اوڑھاٸ۔

اس کا جسم ڈھانپا تھا وہ دھیرے دھیرے لرز رہی تھی۔

خان بنا اسے کوٸ دلاسا دیٸے ایک لفظ کہے اپنے ساتھ باہر لے کے آیا تھا۔ جہاں سفیہ جبار کے قبضے میں کھڑی تلملا رہی تھی۔

کیا کرنا ہے اس کا خان۔۔؟؟ جبار نے غصہ سے پوچھا۔

کنول کا ہاتھ تھامے وہ جو باہر کی جانب بڑھ رہا تھا۔ جبار کی بات پے رکا۔

سختی سے جبڑے بھینچے تھے۔

ایک گن نکاتا وہ ایک فاٸر کر گیا تھا جو سیدھا سفیہ کے ندھے میں جا کے لگا تھا۔

وہ تڑپ ہی گٸ ۔۔ ایک اور فاٸر ہوا جو سفیہ کے دوسرے کندھے میں جا لگا۔

سفیہ وہیں گری تھی۔ اور بے ہوش ہوٸ تھی۔

اس اٹھاٶ۔۔ اور باہر پھینک دو۔

خان کے سختی سےکہے الفاظ پے کنول نے دہل کے اسے دیکھا تھا۔

خان ۔۔؟؟ وہ اسے لیے باہر کی جانب بڑھا کہ کنول نے اس کا ہاتھ روکا۔ وہ رکتے ہوۓ پلٹا لیکن ہاتھ نہ چھوڑا۔

وہ۔۔ وہ مر جاۓ گی۔۔۔! کنول نے گھبراۓ ہوۓ انداز میں کہا۔۔

تو۔۔؟؟ تو کیا۔۔؟؟ مرتی ہے تو مر جاۓ۔۔ خبردار۔۔ ج میرے سامنے اس کے لیے ہمدردی بی دکھاٸ تو۔۔۔؟ چلو۔۔۔ یہاں سے۔ آفتاب نے تنک کے کہتے اسے وارن کیا۔ اور چلنے کو بولا۔

پلیز۔۔۔ اسے۔۔ ہاسپٹل۔۔۔؟؟ کنول نے دکھ سے ایک نظر آفتاب اور جبار کو دیکھا۔

میری کہی بکواس تمہیں سمجھ نہیں آتی۔۔؟؟ اب کی بار وہ سخت غصہ سے دھاڑا۔ کہ جبار بھی ہم گیا۔

لیکن وہ کنول ہی کیا جو باز آجاۓ۔

زا دینی ہی تھی تو اس وقت دیتے۔۔ جب یہ۔۔ ہمارے بیچ آٸ تھی۔ ۔۔ اور سب کچھ تباہ و برباد کردیا تھا۔ تب آپ کق نہں یاد آٸ۔۔؟ جب تین سال اسے خان حویلی میں پالتے رہے۔۔ تب۔۔ اسے مار دیتے ۔۔تو آج یہ نوبت نہ آتی۔

کنولنے آنسو ضبط کرتے تلخ لہجے میں کہا۔

آفتاب نے ایک نظر جبار کو دیکھا۔ جو سر جھکاۓ کھڑا تھا۔

چلو۔۔۔! خان نے اس کی بات کا جوادینا ضروی نہ سمجھا۔

نہیں۔ خان۔۔۔! میرے اندر کی انسانیت ابھی زندہ ہے۔۔۔! میں اتنی سنگل نہں ہو سکتی۔۔

پلیز۔۔ جبار بھاٸ۔۔ اسے ہاسپٹل لے جاٸیں۔۔۔ پلیز۔۔۔ وہ روتے ہوۓ جبار سے بولی۔ آفتاب نے غصہ سے رخ پھیرا۔ جبار۔۔۔ خان کی خاموشی سے سمجھتا ہوا اثبات میں سرہلاتا سفیہ کو اٹھاۓ باہر نکلا تھا۔

آفتاب نے اب نی بارمزید غصہ سے اس کی کلاٸ سے جکڑی تھی۔ اوراسے لیے اپنی گاڑی کی جانب لایا تھا۔

اسے گاڑی میں پٹخنے والےاندز میں بٹھایا۔ اور خود ڈراٸیونگ سیٹ سنبھالی۔

فل۔اسپیڈ پے گاڑی کو روڈ۔پے ڈالتا وہ اپنے ندر کے اشتعال۔کو قابو کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ کنول نے بھی اب اس کے غصہ کی بالکل پراوہ نہ کی۔ اور آنکھیں بند کر کے گاڑی کی سیٹ کے ساتھ ٹیک لگاۓ چپ چاپ بیٹھ گٸ۔

گاڑی خان منشن کے باہر جا رکی۔

اور آفتاب کے وہاں کھڑے ہوتے ہی گارڈنے بڑا گیٹ وا کیا۔ جھٹکے سے گاڑی گیٹ سے اندر کی جانب لایا۔ اور گاڑی پورچ میں کھڑی کرتا وہ خود نیچے اترا تھا۔ جب کہ کنول ابھی بھیسیٹ کے ساتھ پشت لگاۓ ریلیکیس کر رہی تھی۔

فرنٹ ڈور کھولتے ہی آفتاب نے اسے کلاٸ سے غصہ سے پکڑا۔ اور نیچے اتارا۔

کنول ہڑبڑا گٸ۔

اور اس کے ساتھ خود کو گھسیٹتی چلی گٸ۔

اپنے کمرے میں لے جا کے آفتاب نے دروزہ لاک کرتے جھٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڑا۔

کیوں۔۔؟ کیوں گٸ تی بنا ڈراٸیور کے۔۔۔؟ گھر سے۔۔؟؟ بولو۔۔۔؟؟ خن کا غصہ کنول کو بھی غصہ دلا گیا۔

آپ۔۔۔ آپ۔۔ بھی تو گٸے تھے ناں۔۔۔۔ اپنی فیملیکے ساتھ گھومنے پھرنے۔۔ تب آپ کو یاد نہیں آٸ میری۔۔؟ کہ ایک بیوی بھی ہے میری۔۔؟۔ اب چلے آٸیں ہیں۔۔۔ مجھ سے سوال جواب کرنے۔۔

کنول آج بروںبعداپنی ٹون میں واپس آٸ تھی۔ آفتاب شیرخان تو دیکھتا ہی رہ گیا۔

اب ایسے مت دیکھیں۔۔ جاٸیں یہاں سے۔۔

مجھے چینج کرنا ہے۔

اپنے ارگدر آفتاب کی شال لپیٹے وہ اٹھلاتے ہوۓ بولی تھی۔ اور پلٹی۔ کہ اسی لمحے آفتاب شیر خان نے ہاتھ بڑھا کے اپنی شال کھینچی۔ کنول شال کے ساتھ کھنچی چلی گٸ اور سیدھا اس کے سینے سے جا ٹکراٸ۔

نظریں اٹھا کے کنول نے گہری نکروں سے آفتاب کو دیکھا۔

جس کی نظروں میں صرف جنون ہی جنون تھا۔

پاگل پن تھا۔۔۔ دیوانگی تھی۔

کنول نے سٹپٹا کے نظریں چراٸیں۔ آج کتنے عرصے بعد ایک بار پھر سے جذبات جاگے تھے۔ دونوں ہی ایک دوسرے کو وارفتگی سے دیکھتے اردگرد کا ہوش بھلا بیٹھے تھے۔

معاف نہیں کروں گا۔۔ کبھی بھی۔۔۔! آفتاب نے اس کی کان کی لو کے ساتھ ہونٹ مس کرتے گھمبیر لہجے میں کہا تھا۔

مجھے معافی چاہیے بھی نہیں۔۔۔! کنول نے بھی دھیرے سے اس کے کان کے قریب ہوتے کہتے اس کے کان کی لو کو چوما تھا۔

اس کی اتنی بے باک حرکت پے آفتاب نے دانت پیستے اسے دیکھا تھا۔

کیا حرکت ہے یہ۔۔؟؟ وہ خفگی سے بولا۔

آپ کرو تو۔۔ ٹھیک۔۔ میں کروں تو۔۔؟؟ غلط۔۔؟؟ نولنے منہ بنا کے کہا۔

زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں۔۔ سمجھی۔۔۔! خان نے اسے چھوڑا تھا اور رخ پلٹا تھا۔

فری نہیں ہو رہی۔۔۔حق ہے۔۔ آپ پے میرا۔۔۔! اس نے جاتے ہوۓ آفتاب کے پیروں میں زنجیر ڈالی تھی۔

کیسا حق۔۔۔۔۔۔؟؟ خان نے ایسا سوال کیا کہ وہ بری رح تپی تھی۔ اور بے اختیار اس کے قریب ہوتی اس کے ہونٹوں پے اپنے لبوں سے اپنا حق وصول کیا۔ آفتاب تو اس کی فیدہ دلیری پے ہی گنگ رہ گیا۔

وہ اس طرح خود سے کبھی قریب آٸ ہی نہیں تی۔

خان کے ہونٹوں سے اپنے لبوں کو جدا کرتی وہ پیچھے ہٹنےلگی تھی۔ کہ خان نے بند آنکھوں سے ہی محسوس کر لیا۔ اور اس کے بالوں میں ہاتھ ڈالتا اس کا چہرہ دوبارہ اپنے ہونٹوں کے نزدیک کرتا اس کے لبوں کو نشانہ بنا گیا۔ جتنا ہو خود کو سراب کر رہا تھا۔تشنگی تھی کہ بڑھتی چلی جا رہی تھی۔

ایک دوسرے میں کھوۓ انہیں وقت بیت گیا تھا۔دھیرے سے اس کے لبو ںکو آزادی بخشی تو وہ گہرا سانس لیتی اس کے سینے پے سر ٹکا گٸ۔

آج اتنے برس بعد آفتاب کے سینے میں لگی آگ بجھی تھی۔

دل ایک دم پرسکون ہوا تھا۔ اس لڑکی کی قربت کا تو وہ شروع سے ہی دیوانہ تھا۔ نجانے تین سال کیسے اس سے دور رہا۔۔۔؟؟ کہ اب سوچتا ہے تو ۔۔ دل ڈوب سا جاتا ہے۔

کیوں۔۔ کیوں قریب آۓ۔۔؟ جب معاف نہیں کیا تو۔۔؟؟

کیونکہ تم میرے نکاح میں ہو۔۔۔! تم سے زیادہ تم پے حق رکھتا ہوں۔۔۔

وہ سر اٹھا کے پوچھتی آفتاب کو بچوں جیسی لگی تھی۔ دھیرے سے اس کی ٹھنڈی ناک کو چوم کے جواب دیتا وہ اسے گنگ کر گیا۔

آفتاب شیر خان کو صرف۔۔ سرا پکڑانے کی دیر تھی۔ سارے کا سارے اس نے خود پکڑ لیا تھا۔

وہ اس سے دور ہونے لگی۔۔ کہ آفتاب نے بانہوں کا شکنجہ مضبوط کیا۔

چھوڑیں مجھے۔۔۔! معاف بھی نہیں کرنا۔۔ اور مجھ سے حق بھی وصولنا ہے۔۔ ! بھولیں مت۔۔ میں کوٸ عام لڑکی نہہیں۔۔۔! آفتاب شیر خان کی بیوی ہوں۔۔ وہبھی محبوب بیوی۔۔۔۔! اترا کے کہتی وہ پھر سے آفتاب کو اپنے قریب آنے کی دعوت دے رہی تھی۔

اسکی بکھری حالت دیکھتا ایک بار پھر آفتاب کا دل سخت ہوا۔

اس کا بس نہیں چل رہا تھا اس مرے ہوٸ ۓ شخ کو پھر سے مار ڈالے جا کے۔۔ جس نے اس کی کنول کو ہاتھ لگان کی جرات کی تھی۔

جاٶ۔۔ جا کے چینج کر لو۔۔۔! دھیمی آواز میں کہتے وو کنول کو چونکا گیا۔

و پنی حالت یھتی شرمندہ ہوتی خاموشی سے کبرڈمیں اپنے ڈھیر کپڑوں میں سے ایک ڈریس لیتی وہ باتھ روم۔کی جانب بڑھی تھی۔ آفتاب نے کال کر کےجبار سے ساری صورت حالکا جاٸزہ لیا تھا۔

اور اسے سفیہ پے کڑی نظر رکھنے کا کہتے وہ کال کاٹ گیا۔

کچھ ہی دیر بعد کنول ڈریس کی بجاۓ سلک کی سیلولیس مہرون ناٸٹی میں باہر آٸ۔

آفتاب تو ا سکا کھلتا روپ دیکھ کچھ پل تو سکتے میں آگیا۔

اس پے ایسا لگتا تھا۔۔ جیسے یک بار پھر سے کلی ہی بن گٸ ہو۔۔ وہ کہیں سے بھی دو بچوں کی ماں نہیں لگ رہی تھی۔ گیل بالوں کو ایک طرف کرتے وہ آٸینے کے سامنے کھڑی ہوتے بال سکھانے لگی۔

آفتاب میکانکی سی کیفیت میں اس کے پاس پیچھے جا کھڑا ہوا۔

اس کا رخ اپنی طرف موڑا۔

آنکھیں میچے وہ اس کی خوچبو کو اپنے اندر اتارتا اسے لرزنے پے مجبور کر گیا۔

دل کی فھڑکنوں نے شور مچایا تو سانسوں نے گہرا پن دکھایا۔

وہ اس کے بال ایک طرف کرتا اس کی گردن پے جھکتا اسے معتبر کرنے لگا۔

کنول وہیں آٸنے کےسامنے کھڑی اس خونخوار شیر کو دیکھ رہی تھی جا کے جڑذبات بھی اس نے خود جگاۓ تھے۔ اب اس سے ڈر بھی رہی تھی۔ لیکن آفتاب سے معافی مانگنے کا اسے اور کوٸ طرقہ سمجھ بھی نہیں آیا۔ اس کے قریب جانے سے بہتر لگا اسے اپنے قریب آنے کا موقع دیتی۔۔ اب شیر خان کے جذبات کو جگا کے وہ اپنےپاٶں پے خود کلہاڑی مار چکی تھی۔

آفتاب شیر خان کی جسارتیں بڑھتی جا رہی تھیں۔ آج کنول کو کھونے کے احساس نے اس کے اندر چھپی اس کی محبت اس کی کٸیر کو جگا دیا تھا۔

کنول سے الگ ہونا۔۔ اس کے لیے سوہانِ روح تھا۔

وہ اس پے اپنی شدتیں ایک بار پھر نچھاور کرنے لگا۔ اپنی محبت کی بارش میں اسے بھگوتا وہ خود بھی سیراب ہوتا چلا گیا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *