Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 03)

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan

ہوا کیا ہے۔۔۔؟؟ آپ مجھے بتاٸیں کیا مسٸلہ ہے۔۔۔۔؟؟ کنول کاوٸنٹر پے آ کے کھڑی ہوٸ۔ جہاں ایک شخص بہت بحث کیے جارہا

کیا کیا ۔؟؟؟ ایک تو باسی کھانا دیا۔۔۔ اوپر سے بل بھی اتنا زیادہ بنا دیا کوٸ حال ہے ۔۔۔؟؟ مری میں تم لوگ مسافر کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہو؟؟

وہ شخص اب مزید غصہ ہوا۔

کنول نے خود پے ضبط کیا۔

کتنی پے منٹ کی تھی آپ نے۔۔۔؟؟ مسز فاروقی ان کو انکی پے منٹ واپس کر دیں۔

لیکن ۔۔یہ۔۔۔؟؟؟ مسز فاروقی نے کچھ کہنا چاہا۔ لیکن کنول نے ٹوک دیا۔

دے دیں۔۔۔ انہیں۔۔۔! کنول نے بات ختم کرنے کو کہا۔

بالکل۔۔۔۔! نکالو۔۔ میرے پیسے۔۔۔؟ لوگوں کو بے وقوف بنایا ہوا ہے۔۔۔

وہ شخص پھر سے بولا ۔

آپ کو آپ کے پیسے واپس مل رہے ہیں۔۔ مزید کوٸ بات نہیں۔۔! کنول نے ہاتھ اٹھا کے منع کیا۔ تو وہ منہ بنا گیا۔

اسکے سارے پیسے مسز فاروقی نے واپس کر دیٸے۔

وہ پیسے گنتا آگے بڑھا۔

وہ غلط بول رہا تھا۔۔ ۔کنول۔ ۔! مسز فاروقی نے دکھ سے کہا۔

جانتی ہوں۔۔۔! جانے دیں۔۔ پے منٹ میں کر دوں گی۔۔

حساب آپ مکمل کر لیجیے گا۔

کنول نے کیش بک کھولتے اس پے پے منٹ لکھتے اور پیسے وہاں رکھ دیٸے۔

اور خود ریسٹورینٹ سے باہر آگٸ۔

گاڑی کے قریب پہنچی۔ تو ڈراٸیور نے گاڑی کا دروازہ کھولا۔ وہ اندر بیٹھتی اب اپنی منزل کی طرف گامزن تھی۔

ہم جو چلنے لگے ہیں۔۔۔

چلنے لگے ہیں یہ راستے۔۔۔

ہااں۔۔۔ منزل سے بہتر ۔۔۔

لگنے لگے ہیں۔۔ یہ راستے۔۔۔

🅜🅤🅝🅣🅐🅗🅐🅒🅗🅞🅤🅗🅐🅝

سفیہ۔۔۔۔! خان آیا۔۔۔؟؟؟

خان بی نے سفیہ کو پکارا ۔

نہیں خان بیگم۔۔۔ نہیں آۓ وہ۔۔۔! سفیہ دکھی اندز میں بولی تھی۔

ناراض ہو کے ایسا گیا ہے۔۔ کہ لوٹ کے نہیں آیا۔۔۔ اور۔۔ نہ ہی ۔۔۔ مجھے بیٹے کا چہرہ دکھایا۔

انکا دل دکھا تھا۔ وہ نم لہجے میں کہتیں اٹھ کے بیٹھی تھیں۔

آپ فکر نہ کریں۔۔ آجاٸیں گے وہ۔۔۔! سفیہ نے انکو حوصلہ دیا۔

نہیں آۓ گا۔۔ وہ۔۔ اپنی دادی کو نہی ںرے گا وہ معاف۔۔۔ مجھے پتہ ہے۔۔۔ جب مر جاٶں گی۔۔ تو ہی وہ آۓ گا۔۔ مجھے کاندھا دینے۔۔ وہ بری طرح رو دی تھیں۔

اللہ نہ کرے۔۔۔ خان بیگم۔۔۔ کیسی باتیں کر رہی ہیں۔ آپ۔۔؟؟ کچھ نہیں ہوگا آپ کو۔۔۔!سفیہ ان کے پاس بیٹھتی ان کی بات پے نم ہوٸ۔

سفیہ صدیقی صاحب کو کہو۔ وکیل کو بلوا دیں۔۔

وہ گہرے سانس لیتے بولی۔

کیوں۔۔؟ خان بیگم۔۔۔؟؟؟ سفیہ کے کان کھڑے ہوۓ۔

وصیت لکھوانی ہے۔۔۔! ندگی کا اب کوٸ بھروسہ نہیں۔۔۔ ! انکا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا۔

وصیت کی بات پے سفیہ ان کو عجیب نظروں سے دیکھنے لگی۔

آپ نے کیا سوچا ہے۔۔۔؟؟ خان بیگم۔۔۔؟؟؟ سفیہ نے انکے دل کی بات جاننے کی کوشش کی۔

سفیہ۔۔۔! یہ سب کچھ۔۔۔میرے آفتاب کا ہے۔۔۔۔ شیر خان کے جانے کے بعد۔۔ اسکی دوسری بیوی اور بچیوں کو انکا حصہ دے دیا تھا۔ اب ۔۔۔ یہ سب ۔۔۔ صرف آفتاب کا ہے۔۔۔ ار اسے اسکا حق ملنا چاہیے۔۔

اروبار۔۔ تو سارا ۔۔ شیر خان نے اپنی زندگی میں ہی اسے دے دیا تھا۔ اب جاٸیداد۔۔ اوور خان حویلی۔۔ یہ خان منشن۔۔ سب اسی کا ہے۔۔۔!

دل میں صرف اور صرف آفتاب کی محبت تھی۔ سفیہ نے خاٸف ہوتے انہیں دیکھا۔

مطلب۔۔۔۔۔؟؟ سب کچھ۔۔۔ آفتاب کو۔ ۔میں انکو کہیں نظر نہ آٸ۔۔۔؟؟ اٹھتے ہوۓ تنفر سے سوچا۔

جو ان کی ہر طرح سے خیال رکھ رہی ہوں۔۔ انکا ساتھ دے رہی ہوں۔۔ مجھے۔۔۔ کچھ نہیں۔۔ اور ۔ وہ جو انکا پوتا ہے۔۔ اسے سب کچھ۔۔۔؟؟؟

سفیہ۔۔۔! انہوں نے جاتی ہوٸ سفیہ کو پکارا۔ وہ پلٹی تھی۔

اپنا بنگلہ۔۔۔ جو پشاور ہے۔۔ وہ ہم نے آپ کے نام کر دیا ہے۔۔۔ فکر نہ کرنا۔۔۔ خان بیگم کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کریں۔

بھلے سفیہ نہیں بولی۔ لیکن وہ سمجھ گٸی تھیں۔ سفیہ نے سر جھکا لیا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

مونس۔۔۔! یہ آپ کے ٹیسٹ میں مارکس دیکھے ہیں۔۔؟؟ کیوں آپ نے کم مارکس لیے ہیں۔۔۔؟؟؟

ٹیوٹر فضا نے مونس کا میتھ کا ٹیسٹ دیکھتے ناراضگی سے کہا۔

یہ۔۔۔ بہت اچھا ہے۔۔ ٹیچر۔۔۔! مونس اپنے نام کی طرح تھا۔ اپنی غلطی کبھی نہیں مانتا تھا۔ اپنی ماں کی طرح۔

بیٹا۔۔۔! یہ ایک پورا کلر رونگ کیا ہے آپ نے۔۔۔! یہاں ریڈ کلر کرنا تھا۔ آپ نے بلیو کر دیا۔۔۔۔؟

آٸ ڈونٹ لاٸک ریڈ کلر۔۔۔ماٸ فیورٹ کلر از بلیو۔۔۔!کتے ہوۓ وہ مسکرایا تھا۔

وہ تو ٹھیک ہے مونس۔۔۔! بٹ یہاں آپ نے ریڈ ہی کرنا تھا۔۔ ! فضا نے پیار سے سمجھایا۔

ٹیچر۔۔۔! یو نو۔۔۔! میری مما کا فیورٹ کلر بھی بلیو ہے۔۔۔۔! اور میری دادو کہتی ہیں۔۔ میں بالکل اپنی مما کی طرح ہوں۔

مونس اپنے خیللوں میں ہی بول رہا تھا

آفتاب جو سیڑھیاں اترتا نیچے آرہا تھا۔ مونس کی چمکتی آنکھوں کو دیکھتا اسکے بول پے دل کی دھڑکن میں ارتعاش پایا۔

اچھا۔۔۔! تو یہ بات ہے۔۔۔! فضا نے مسکرا کے اسکی طرف دیکھا۔

جی۔۔۔ ! آپ کو پتہ ہے وہ بہت خوبصورت ہیں۔۔ اور میں بالکل انکی طرح ہوں۔۔ اس لیے بابا مجھے پسند نہیں کرتے۔۔۔! اب کی بار وہ اداس ہوا تھا۔

ناجیہ بی بی۔۔۔۔۔! آفتاب کی غصہ بھری آواز سنتے وہ دونوں چونکے تھے۔ مونس ڈر کے اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔

وہ بری طرح سہما تھا ۔ اور فضا کو دیکھتا اپنی نوٹ بک کھینچ کے اندر کی جانب بھاگ گیا تھا۔

کیا ہوا۔۔۔؟؟ بیٹا۔۔۔؟؟؟ ناجیہ بیگم فوراً وہاں پہنچیں۔

ان کا حساب کریں۔۔۔ مونس کی ٹیوٹر کو چینج کریں۔۔ ! آج ہی۔۔۔۔! سختی سے کہتے وہ فضا کو ایک نظر دیکھتا آگے بڑھا۔

سر۔۔۔۔! آپ مجھے ٹیوٹر شپ سے تو نکال دیں گے۔۔۔! لیکن ۔۔اپنے بیٹے کے دل سے اسکی ماں کو کیسے نکالیں گے۔۔۔؟؟ فضا نے اپنا بیگ اٹھایا۔ اور آفتاب کے پاس آتے وہ بولتے ہوۓ وہاں رکی نہیں۔۔ بلکہ جا چکی تھی۔

دل سے۔۔۔۔؟؟ دل سے کیسے نکالیں گے۔۔۔؟؟

اسکے الفاظ کی بازگشت پے وہ ٹھٹکا تھا۔

کیا وہ واقعی۔۔ اپنے بیٹے کے دل سے اسکی ماں کو نہیں نکال پایا تھا۔۔۔؟؟ ایک شکست خوردہ انداز سے وہ وہیں ایک صوفے پے براجمان ہوا۔

کیا ہوا۔۔؟؟ بیٹأ۔۔۔؟؟ اتنے چپ کیوں ہو؟؟ تبسم بیگم اسے چپ بیٹھا دیکھ اسکے پاس آگٸیں۔

کچھ نہیں امی جان۔۔۔! وقت نے کتنی جلدی پلٹا کھایا ہے۔۔۔ اس پے حیران ہوں۔۔۔ !

تبسم بیگم کو آج آفتاب بہت دکھی لگا تھا۔

بیٹا۔۔۔! یہ جو فضول کی ضدیں ہوتی ہیں۔۔ نا۔۔۔ یہ گھر برباد کر دیتی ہیں۔۔۔۔ انسان اپنے غصہ اور ضد میں اکثر ایسے فیصلے کر لیتا ہے۔۔۔ جو بعد میں صرف پچھتاوے کا ہی سبب بنتے ہیں۔

انہوں نے اسکا کندھا تھپکا تھا۔

آپ کو لگتا ہے۔۔۔؟؟ مجھے اس سے ضد تھی۔۔۔؟؟ اور جو اس نے کیا وہ۔۔۔؟؟ آفتاب آج ان تین سالوں میں پہلی بار اسکے متعلق بات کر رہا تھا۔

کچھ پل یونہی خاموشی چھا گٸ۔

بیٹا۔۔! میں نہیں جانتی کون صحیح اور کون غلط۔۔۔؟؟

لیکن ۔۔۔۔۔۔ اتنا جانتی ہوں۔۔ جب۔۔۔ انسان غلط فہمیوں میں پیدا ہونے والے سوالوں کے جواب بھی خود اخذ کرنے لگے۔ تو پھر رشتے نہیں بچتے۔۔ ! سب ختم ہو جاتا ہے۔۔۔ ! اپنے آپ کو سمجھو اپنے دل کو ٹٹولو۔۔۔ !اگر وہاں ابھی بھی اس کے لیے گنجاٸش ہے۔۔۔ تو ۔۔۔ اس کے بارے میں سوچو۔۔۔!اور اگر نہیں لگتا ۔۔۔کہ کوٸ گنجاٸش ہے۔۔ اٹھتے ہوۓ آفتاب کی سوالیہ نظروں کو دیکھا۔

پھر گنجاٸش نکالو۔۔۔ کیونکہ۔۔ وہ بیوی کے ساتھ ساتھ آپ کے بچوں کی ماں بھی ہے۔۔۔ ! اور ایک ماں سے اسکے بچے الگ مت کرنا۔۔! یہ بہت بڑا گناہ ہے۔۔۔

انہوں نے رسان سے سمجھایا۔ اور آگے بڑھیں۔

امی جان۔۔۔! دغا تو وہ دے کے گٸ ہے۔۔۔! یہاں سے جاتے ہوۓ وہ میری ایک اولاد ساتھ لے گٸ۔۔۔ اور ایک چھوڑ گٸ۔۔۔؟؟؟ چھوڑ کے وہ گٸ ہے۔۔۔! الگ وہ ہوٸ ہے۔۔۔ اپنے بچے سے تعلق اسنے خود توڑا ہے۔۔۔ اپنی مرضی سے۔۔۔ ! اب کسی بھی طرح کی کوٸ گنجاٸش نہیں بچتی۔

سختی سے کہتا وہ باہر کی جانب قدم بڑھا چکا تھا جبکہ تبسم بیگم کی نظر سیڑھیں کی اوٹ میں چھپ کے کھڑے مونس پے جا ٹھہریں۔ وہ سہما سا بچہ آنکھوں میں آنسو لیے کھڑا تھا۔

تبسم بیگم کا دل بہت سخت دکھا۔ وہ بچہ اپنی ماں سے دور ہوتے ہوۓ بھی اپنی ماں سے بے حد محبت کرتا تھا۔ اور اس کے باپ کا برملا نفرت ک اظہار کرنا ۔۔۔ اس معصوم بچے کے زہن کو بری طرح متاثر کر رہا تھا۔

مونس۔۔۔۔؟؟ بیٹا۔۔۔؟؟ تبسم بیگم نے اسے پیار بھرے لہجے میں پکارا۔ لیکن وہ پلٹا اور اندر کی طرف بھاگ گیا۔

تبسم بیگم نفی میں سر ہلاتی رہ گٸیں۔

لیکن وہ اس معاملے میں بے بس تھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *