Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 05)

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan

جب یہ ڈیل میں نے کینسل کر دی تھی۔ پھر آپ نے اوکے کیوں کی احمد صاحب۔۔۔؟؟

آفتاب اس وقت شدید غصہ میں تھا۔ لیکن خود پے ضبط رکھے وہ ان سے بات کر رہا تھا۔ کیونکہ وہ ان کے بابا شیر خان کے بہت قریب تھے۔۔ اور بہت ایماندار تھے۔

بیٹا۔۔۔! آپ کے بابا ن شروع سے ان کے ساتھ ہمیشہ ڈیل کی ہے۔۔۔ کبھی آج تک ان اٹھارہ سالوں میں ایک بار بھی یہ ڈیل کینسل نہیں کی۔ اس لیے۔۔۔؟؟؟

آفتاب نے ونڈو سے ایک نظر باہر دیکھا۔

احمد صاحب۔۔۔! بزنس ۔۔ میں دیکھتا ہوں۔۔ اب۔۔۔۔ اور کیا ڈیل ہونی چاہیے کیا نہیں۔۔ یہ میں ڈیساٸیڈ کروں گا۔

جی۔۔۔۔ بہتر۔۔۔! احمد صاحب نے بحث کرنا مناسب نہ سمجھا۔

اسی لمحے آفتاب شیر خان کے موباٸل پے کال آٸ۔ اس کے ماتھے کے بلوں میں اضافہ ہوا۔

آپ ابھی جاٸیں۔۔ بعد میں بات کرتا ہوں آپ سے۔

فتاب کے کہنے پے وہ باہر نکل گۓ۔ آفتاب نے کال رسیو کی۔

السلام علیکم۔۔۔! کیسے ہیں آپ؟ دوسری طرف ے نسوانی آواز سن آفتاب نے اپنے جبڑے بھینچے۔ پ

کیوں فون کیا۔۔۔؟؟ سرد لہجہ میں پوچھا۔

خان بیگم آپ کو یاد کر رہی ہیں۔ وہ بہت زیادہ بیمار ہیں۔۔ ایک اہم بات کرنی ہے انہوں نے آپ سے۔۔۔ ! سفیہ نے فوراً سے مدعا بیان کیا۔

آفتاب نے کوٸ جواب دینا ضرروری نہ سمجھا۔ اور کال کاٹ دی۔

لیکن ۔۔۔ اس کا ارادہ اب خان حویلی جانے کا تھا۔ خان بیگم اسکی دادی واقعی بہت بیمار تھیں۔ اس کے متعلق وہ بھی جانتا تھا۔ لیکن۔۔ کیا اہم بات کرنا چاہتی تھیں۔۔؟ یہ ۔۔۔ جاننا چاہتا تھا۔ گاڑی کی چابیاں اٹھاۓ وہ آفس سے باہر نکلا تھا۔

گارڈ اس کی گاڑی کے آگے پیچھے اپنی گاڑیوں میں ساتھ ہو لیے تھے۔ سب کے ہاتھ میں گنز تھیں۔ یہ گارڈز۔۔ شیر خان کے ہاٸر کردہ تھے۔

جو پہلے ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ اب آفتابشیر خان کی حفاظت کرتے تھے۔

لیکن آفتاب شیر خان نے کبھی ان کے ہونے یا نہ ہونے کا نوٹس نہیں لیا تھا۔

اور اکثر وہ ڈراٸیونگ خود کرتا تھا۔ اور آج بی وہ خود کر رہا تھا۔

اسلیے گاڑی کا رخ خان حویلی کی طرف تھا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

کنول نے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کے مسز فاروقی کی بات مان ہی لی۔ اور اپنا اور ملکہ کا کچھ سامان پیک کرتی وہ اب کراچی جانے کا ارادہ رکھتی تھی۔

کراچی۔۔۔ ! وہ شہر جہاں اس نے صرف کھویا ہی تھا۔۔۔ پایا کچھ نہیں۔۔۔

سامان پیک کرتے ایک درد سا دل میں جاگا۔۔ دو آنسو ٹوٹ کے نکلے۔

مما۔۔۔! واٸ آر یو کراٸنگ۔۔۔؟؟

ملکہ نے اس کے آنسو دیکھ لیے تھے۔ وہ بالکل باپ کی کاپی تھی۔ اور نظروں کی تیزی اور کانفیڈینس بھی باپ کی طرح ہی تھا۔

کچھ نہیں بیٹا۔۔۔! بس۔۔کچھ گزا وقت یاد آگیا۔

ملکہ کو گود میں اٹھایا۔

مما۔۔۔! ہم۔۔ کراچی کیوں جا رہے ہیں۔۔؟ اسکی زہانت کی تو کنول شروع سے قاٸل تھی۔

چار سال کی تھی۔ لیکن باتیں ہمیشہ اسکی بڑی ہوتی تھیں۔

یہاں آٶ۔۔ میرے پاس۔۔۔! کنول نے اسے اپنے قریب بٹھایا۔

دراز میں سے ایک تصویر نکالی۔ اور اسے ملکہ کے سامنے کیا۔

یہ دیکھیں۔۔ یہ ہیں آپ کے بھاٸ۔ مونس آفتاب شیر خان۔۔! دو سالہ مونس کی طرف انگلی کا اشارہ کیا۔ اس کے معصوم چہرے پے پیار سے انگلی پھیرتے وہ مسکراتے لب سے افسردہ ہوٸ تھی۔

ہی از سو کیوٹ مما۔۔۔!بٹ یہ تو بہت چھوٹا سا ہے۔۔۔!

یہ پکچر پرانی ہے بیٹا۔۔۔! اب تو یہ ماشاءاللہ پانچ سال کے ہوگۓ ہیں۔۔ آپ سے بڑے۔۔۔ ہیں یہ۔۔۔! کنول نے پیار سے اسے بتایا ۔

اینڈ۔۔ ہی از ماٸ ڈیڈ۔۔۔؟ دوسری تصویر پے انگلی رکھتے اشتیاق سے پوچھا۔

کنول۔۔۔! ہم اپنے بچوں کو ہر طرح کی خوشی دیں گے۔ انہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔۔۔

کانوں میں آفتاب کے الفاظ کی بازگشت ہوٸ ۔

مما۔۔۔ ہی از سو مچ ہینڈسم۔۔۔! لاٸیک می۔۔۔۔۔! ملکہ کی آواز پے وہ چونکی۔

ہمممم۔۔۔ ہم۔۔۔ بھیا سے ملنے جا رہے ہیں!

ملنے کیوں۔۔؟؟ ہم انہیں اپنے ساتھ لے آٸیں گے۔ بلکہ ڈیڈ کو بھی۔۔۔!پھر ہم مل کے رہیں گے۔ آ ہیپی فیملی۔۔۔!ملکہ پلاننگ کرنے لگی۔

کنول اسے کچھ نہ کہہ سکی۔ وہ نہیں جانتی تھی۔کہ کراچی جانے پے کون کون سے سرپراٸزز سے ملنے والے ہیں۔

فی الحال وہ صرف مونس کو کو دیکھنا چاہتی تھی۔ اتنے عرصے وہ اپنی یہ خواہش اندر ہی اندر مار رہی تھی۔ لیکن اب اگر مزید برداشت کرتی تو ۔۔شاید۔۔ زندہ نہ رہ پاتی۔

💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨
💨

آفتاب اس وقت خان بیگم کا ہاتھ تھامے ان کے پاس بیٹھا تھا۔ وہ رو رہی تھیں۔ اور آفتاب سے معافی مانگ رہی تھیں۔

مجھے۔۔۔ معاف کر دینا۔۔۔ بیٹا۔۔۔! بہت دل دکھایا۔۔ آپ کی ماں کا بھی۔۔۔ اور آپ کا بھی۔۔۔!

آفتاب نے جمیل کو اشارے سے پوچھا۔۔ ڈاکٹر ابھی تک کیوں نہیں آیأ۔۔۔۔؟؟

بیٹا۔۔۔! آخری وقت ہے۔۔ کبھی بھی مر۔۔۔؟؟؟

آپ۔۔ ایسی باتیں نہ کریں۔ کچھ نہیں ہوگا۔ آپ کو۔۔۔! آفتاب ان کے لیے پریشان ہوا تھا۔

آپ نے یہ سب۔۔۔؟؟ کیوں کیا۔۔۔؟؟

آفتاب نے صدیقی صاحب اور وکیل کو وہاں موجود وصیت کے ساتھ دیکھا۔

بیٹا۔۔۔! میں اپنے جیتے جی۔۔۔ وصیت لکھوانا چاہتی ہوں۔۔۔!

آفتاب کے سہارے اٹھتے ہوۓ بولیں تھیں۔

آپ جانتی ہیں۔ مجھے کچھ نہیں چاہیے۔۔۔ پھر کیوں۔۔؟؟

میں حق و انصاف کرنا چاہتی ہوں۔۔ آفتاب۔۔۔! ایک اکلوتے وارث ہیں۔ آپ اس ساری جاٸیداد کے۔۔ تو آپ کو آپ کا حق ملنا چاہیے۔

وکیل صاحب نے وصیت صدیقی صاحب کی طرف بڑھاٸ۔ جہنوں نے خان بیگم کے آگے رکھی۔ اور ایک پن دیا۔ انہوں نے انگوٹھا لگانے کا کہا۔

اور پھر انگوٹھا لگاتے ہی انہوں نے آفتاب کو اپنے قریب بلوایا۔

وہ ان کے پاس ہوا۔ اسکے کان میں وہ کچھ بولتی رہیں۔ آفتاب سنجیدگی سے سنتا رہا۔ اور آخر میں آفتاب کے سر پے ہاتھ رکھا۔

آپ آرام کریں۔ آفتاب کے کہنے پے وہ سر اثبات میں ہلاتیں لیٹی تھیں۔

وکیل صاحب صدیقی صاحب کے ساتھ باہر نکلتے چلے گۓ۔

آفتاب کچھ دیر وہاں بیٹھا رہا۔ بہت گہری سوچ میں ڈوبا۔۔ وہ سارے حالات و واقعات کا ازسرنو جاٸزہ لیتا رہا۔

یہ لیں۔۔ چاۓ۔۔۔۔! سفیہ نے چاۓ کا کپ آفتاب کی جانب بڑھایا۔

آفتاب نے ایک نظر اٹھاٸ اور رخ پلٹتا اٹھ کھڑا ہوا۔

خان بیگم سو چکی تھیں۔ ان پے کمفرٹر اچھے سے اوڑھا کے وہ باہر نکلا۔

سفیہ اسکے پیچھے ہی باہر لپکی۔

خان۔۔۔؟؟ سفیہ کے تڑپ کے پارنے پے آفتاب کے قدم رکے۔

ایسے مت جاٸیں۔۔ پلیز۔۔۔! اس کے سامنے آتے وہ روندھی آواز میں بولی تھی۔

آفتاب نے ایک قہر آلود نظر اس پے ڈالی۔

خان۔۔! آپ۔۔۔!

اپنی زبان سے مجھے خان مت کہنا۔۔۔ ! یہ حق نہیں ہے تمہیں۔۔۔! اور آٸندہ میرا راستہ روکا۔ تو بھول جاٶں گا۔ کہ تمہارا خان بیگمسے کوٸ ناتا ہے۔۔۔!

انتہاٸ سرد آواز میں کہتا وہ سفیہ کو اسکی اوقات یاد دلا گیا۔

اگر میں نہ کہوں تو کون کہے گا۔۔۔؟؟ جسے تم نے یہ حق دیا وہ تو تمہیں چھوڑ گٸ۔ ایک پل میں۔۔؟؟

ابھی اس کی بات پوری ہوتی۔ آفتاب نے اسکا گلا دبوچا تھا۔ کہ سفیہ کو اپنا سانس رلتا محسوس ہوا۔

خبردار ۔۔۔ جو اپنی گندی زبان سے میری بیوی کے برے میں ایک لفظ بھی کہا تو۔۔۔ اگلا ساسن نہیں لے پاٶ گی۔۔۔!

ایک جھٹکے سے غراتے ہوۓ کہتے وہ اسے پرے دھکیلتا لمبے لمبے ڈگ ڈگ بھرتا خن حویلی سے باہر

نکل چکا تھا۔

اس وقت وہ شدید اضطراب میں تھا۔

دل کو قرار آیا۔۔۔

پہلی پہلی بار آیا۔۔۔۔

گاڑی کو وہ سڑک پے ڈالتا نجانے کہاں سے کہاں جا چکا تھا۔ گارڈز کی گاڑیاں بھی اسکے ہمراہ ہی تھیں۔

ساحل سمندر کے ریب پہنچتا وہ جھٹکے سے گاڑی روکتا نیچے اترا۔ گاڑی کا دروازہ بند کرنا بھی ضروری نہ سمجھا تھا۔

وہ خود پے ضبط کھ رہا تھا۔

میں رو بھی نہیں سکتا۔۔

کیونکہ ہنسے گی دنیا

ناکام چاہت پر۔۔

طعنے کسے گی دنیا۔۔۔

کوٸ دیکھے میری

بے بسی کو زرا۔۔

اشک آنکھوں میں ہے۔۔

دل ہے غم سے بھرا۔۔۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

معاویہ۔۔۔! رکیں۔۔ یہ دیکھیں۔۔ یہ شرٹ پہنیں۔۔ بہت پیاری لگے گی۔

اس وقت وہ بچوں کو خانم کے ساتھ لے کے شاپنگ پلازہ آٸ تھی۔

وہ کچھ ہی دنوں میں پاکستان جانے والے تھے۔ اب کے گفٹس وہ لے چکی تھی۔ اینڈ پے اسے ایک ریڈ کلر کی شرٹ پسند آگٸ۔

وہ معاوہ کو پہنا کے دیکھنا چاہتی تھی لیکن معاویہ اسکے ہاتھ ہی نہیں آرہا تھا۔ وہ آگے آگے بھاگا جا رہا تھا۔ اور انابیہ پیچھے پیچھے۔ جبکہ خانمعلیزہ کو لیے ایک طرف بیٹھیں ماں بیٹے کا یہ تماشا دیکھے ہنسے جا رہی تھیں۔

کہ تبھی سامنے آتی ایک ہستی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی۔

ارے۔۔۔آرام سے۔۔۔! ابھی گر جانا تھا۔

اس لڑکی نے مسکراتے کہا۔

سوری۔۔۔! انابیہ نے شرمندگی سے کہا۔

ایک منٹ ۔۔ اگر میں غلط نہیں ۔۔۔ تو آپ۔۔ شہیر کی واٸف ہیں۔۔ناں۔۔؟؟ شہیر۔۔ ارباز خان۔۔؟؟ وہ آنکھوں میں چمک لیے بولی تھی۔

جبکہ انابیہ کے چہرے پے الجھن کی لکیریں نمودار ہوٸ تھیں۔

سوری۔۔۔ میں نے آپ ک پیہچانا نہیں۔۔۔!

ارے ۔۔ بھول گٸ آپ۔۔۔؟؟ آپ کی شادی پے ہم آۓ تھے۔۔۔ شہیر سےبہت اچھی دوستی ہے میری۔

باٸ دا وے۔۔ میرا نال کلثوم ہے۔۔ پیار سے کوکو کہتے ہیں۔۔ سب۔۔ شہیر بھی اسی نامسے پکارتا ہے۔

لہجے میں شہیر کے لیے مٹھاس تھی۔ انابیہ نے منہ بنا کے اسے دیکھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *