Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan NovelR50506 Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 16)
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 16)
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan
آفتاب خان گاڑی میں بیٹھا اس وقت اس کا رخ اسی پارک کی طرف تھا۔ جہاں اس کے بیوی بچے تھے۔ گاڑی پارکنگ ایریا میں کھڑی کرتے وہ دو گارڈز کے ہمراہ بھاگتا ہوا پارک میں آیا تھا۔ اور انہیں ڈھونڈنے لگا۔ وہ کب سے کنول کو کال کر رہا تھا۔ یکن وہ تھی کہ ٹھا ہی نہیں رہی تھی۔ جس وجہ سے وہ زیادہ پریشان ہوا تھا۔
یس۔۔۔۔۔ بھیا۔۔۔ یو کین ڈو۔۔ اٹ۔۔۔! ملکہ کی آواز عقب سے سنتا وہ اس طرف مڑا تھا۔ جو مونس کو ایک سوینگ کے ساتھ چیٸراپ کر رہی تھی۔ اور تالیاں بجا رہی تھی۔
آفتاب بھاگنے کے سے انداز میں اس تک پہنچا۔ اور اسے اپنے سینے میں بھینچا۔ اس نے رب کا شکر ادا کیا۔ کہ اس کے بچے ٹھیک ہیں۔ مونس باپ کو یکھتا سوینگ سے اتر آیا۔ بھاگتا ہوا خوشی سے باپ کے گلے لگا۔
آفتاب خان نے دونوں کو سینے سے لگایا۔ بچوں کے ساتھ آۓ گارڈز بی وہاں موجود تھے۔
ڈیڈ۔۔ آپ آگۓ۔۔ اب او مزہ آۓ گا۔۔ ملکہ خوشی سے چہکی۔
بیٹا۔۔ اب گھر چلتے ہیں۔۔ نیکسٹ سنڈے آٸیں گے۔۔ ٹھیک ہے۔ آفتاب نے ملکہ اور مونس کا ماتھا چوما۔
مما۔۔ کہاں ہیں۔۔؟ اچانک سے آفتاب کو محسوس ہوا۔
وہ ۔۔ ابی تو یہیں تھیں۔ مونس نے ادھر ادھر نظریں دوڑاٸیں۔
آفتاب کو وہ کہیں دکھاٸ نہ دی۔
عظیم خن بچوں کو گارڈز کے ساتھ لے کے گاڑی میں جاٸیں ۔۔ بلکہ گھر جاٸیں۔۔ میں آتا ہوں۔
آفتاب نے بچے عظیم خان کے حوالے کرتے خود آگے بڑھتا کنول کو ڈھونڈنے لگا۔ جو یہاں اتنے رش میں کہیں نظر نہ آٸ۔
یار۔۔ بہت برا حادثہ ہوا ہے۔۔ پورا سوینگ ہی گر گیا۔۔ اس بیچاری لڑکی پے۔۔ کسی کی پاس سے گزرتے ہوۓ بات کانوں میں پڑعی تو آفتاب کا دل بری طرح لرز اٹھا۔
تمہاری بیوی بت خوبصورت ہے۔۔۔۔
چیمہ کےالفاظ کی بازگشت سے اسکا سر گھوما تھا۔ وہ بھاگت ہوا اس حادثے کی جگہ پہنچا۔ کافی رش تھا۔ ایک سوینگ ہی الٹ گیا تھا۔ آفتاب نے چاروں طرف نظر دوڑاٸ لیکن وہ اظالم کہیں نظر نہ آٸ۔
اس کا دل اب بری طرح اسے صحیح سلامت دیکھنے کا متمنی ہوا تھا۔
ڈونٹ وری۔۔۔! بیٹا۔۔ ہمت کرو اٹھو۔۔
سوینگ کے قریب پہنچتے اسے ایک طرف سے آواز آٸ تھی۔ وہ آواز وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتا تھا۔ وہ پلٹا۔ اور اس طرف آیا۔ وہ کسی بچے کو کھڑا کیے اس کی ہیلپ کر رہی تھی ۔
آفتاب نے مٹھیاں بھینچیں۔ اور غصہ سے اس کی طرف بڑھا۔
اور اس کا رخ اپنی طرف کیا۔
تمہارا دماغ کام کرتا ہے یا نہیں۔۔؟ کیا کر رہی ہو تم یہاں۔۔؟ وہ غصہ سے پھٹ پڑا تھا۔ کنول اسے بس دیکھتی رہ گٸ۔
لیکن پلٹ کے کچھ بول نہ سکی۔ اس بچے کو اس کے ماں باپ یکھ چکے تھے بھاگتے ہوۓ اس کے پاس آۓ۔
شکر اللہ کا ہمارا بچہ صحیح سلامت ہے۔ آپ کو شکریہ۔۔ آپ نے ہمارے بچے کی جان بچالی۔۔۔ وہ کنول کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔ کنول آگے سے مسکرا بھی نہ سکی۔ اس بچے کو وہ گرتے ہوۓ دیکھ چکی تھی۔ اس لیے وہاں اپنے بچوں کو گارڈز کے حوالے کرتی خود بھاگتی ہوٸ اس طرف آٸ تھی۔ جس میں اس بچے کو جھولے کے نیچے سے نکالتے وہ اپنا ہاتھ پھر سے زخمی کر چکی تھی۔
آفتاب نے اس کا وہی ہاتھ غصہ سے تھاما۔ اور اسے وہں سے کھینچتا ہوا لے جانے لگا ۔
کنول اس کے ساتھ گھسیٹتی چلی گٸ۔
اسے لے جا کے گڑی میں پٹخنے والے انداز میں بٹھایا اور خود بھی بیٹھا۔ ڈراٸیور نے گاڑی اسٹارٹ کی۔ تو کنول کو ہوش آیا۔
بچے۔۔۔؟
بہت جلدی یاد آگٸ بچوں کی۔۔؟ طنز سے اس کی طرف دیکھا۔
اس کا انداز بتا رہا تھا۔ بچے اسے مل گۓ ہیں۔ کنول نے محسوس کیا تو دوبارہ کچھ نہ بولی ۔ اپنا ہاتھ آنچل میں چھپا لیا۔ جس میں سے اب خون بہنے لگا تھا۔ آفتاب کی نظر اس کے سفید آنچل پے پڑی جو لال ہو رہا تھا۔ ایک نظر اسے دیکھا جو بنا کسی تاثر کے باہر دیکھ رہی تھی۔
آفتاب نے دانت پیسے۔ اور ڈراٸیور کوگاڑی ہاسپٹل کی طرف لے جانے کا کہا ۔
کچھ ہی دیر میں وہ ہاسپٹل کے سامنے تھے۔ کنول نے حیرت سے مڑ کے اسے دیکھا۔ اس نے گاڑی کا دروزہ کھولتے اسے نیچے آنے کا اشارہ کیا۔ کنول نے گہرا سانس خارج کرتے اس کے ساتھ نیچے اترتی ہاسپٹل کے اندر چلی آٸ۔ اس کے زخم کا معاٸنہ کیا جانے لگا۔
آفتاب اس کے سر پے ہی کھڑا تھا۔ ڈاکٹر کی جرات نہ تھی کہاسے باہر جانے کو کہتا۔
فون پے وہ بچں کے گھر پنچ جانے کا اطمینان کر چکا تھا۔
کنول کی بینڈیج ہوتے وہ بھی باہر نکلے تھے۔ اسے لیے وہ گاڑی میں واپس بیٹھا تھا۔
سارے راستے خاموشی ہی رہی تھی۔ دونوں میں سے کوٸ بھی کچھ نہیں بول پا رہا تھا۔
گاڑی گیٹ سے انٹر ہوٸ۔
رکو۔۔۔!
اتر کے وہ اندر کی جانب بڑھتی کنول آفتاب کی آواز پےرکی۔ اور اس کی طرف پلٹی۔
آج کے بعد۔۔۔ بچوں کو اکیلے لے کے تم کہیں نہیں جاٶ گی۔۔۔! آواز میں سختی تھی۔
کیوں۔۔؟ کنول کو اس کی بات پے سخت غصہ آیا ۔
کیوں۔۔؟؟ یہ پوچھنے کا حق تم نہیں رکھتی۔۔۔ آفتاب نے پاس آتے اسے سر سے پاٶں تک جانچا تھا۔
وہ کہیں سے بھی دو بچوں کی ماں نہیں لگتی تھی۔ وہ پہلے سے بھی زیادہ حسین ہوگٸ تھی۔ اور کم عمر لگنے لگی تھی۔ حقیقت میں ایسا تھا۔۔؟؟ یا آفتاب کے دیکھنے میں بدلاٶ آگیا تھا۔۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔
میں حق رکھتی ہوں۔۔ آفتاب شیر خان ۔۔۔ کیونکہ۔۔ میں ماں ہوں۔۔ اور میں اپنے بچوں کو کہیں بھی لے جا سکتی ہوں۔۔ اس کے لیے مجھے کسی کی بھی پرمیشن کی ضرورت نہیں۔۔۔
ضرورت ہے۔۔۔ وہ بچے میرے ہیں۔۔ اس گھر میں اور اس گھر سے باہر۔۔ وہ کہیں بھی ہوں گے۔۔ میری زمہ داری ہیں۔ اس لیے جتنا کہا ہے۔۔ اتنا ہی کرو تو تمہارے لیے بہتر ہو گا۔۔ ورنہ۔۔۔؟؟
ورنہ کیا۔۔؟؟ وہ پھر لڑنے مرنے پے تل آٸ تھی۔ اسے آفتاب کے رویے سے دن بدن مسٸلہ ہوتا جا رہا تھا۔
صرف دھمکیاں ہی دیتے ہیں آپ۔۔۔! لاسٹ سنڈے بھی وہ آپ کا ویٹ کرتے رہے۔۔ لیکن۔۔ آپ کو اپنے کام سے فرصت ہی کب ملی کہ انہیں لے کے جاتے۔۔؟؟ آج بھی وہ آپ کا ویٹ کرتے رہے۔۔۔ کہ آپ انہیں لے کے جاٸیں گے۔۔۔۔۔ لیکن۔۔ آج بھی ۔۔ آپ نے ہی انہیں اکیلا بھیجا۔۔ اپنی مرضی سے۔۔ اب آپ ۔۔ مجھے موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں۔۔ ؟؟ کنول نے اسے آٸینہ دکھایا۔ تو وہ لب بھینچ گیا وہ صحیح کہہ رہی تھی۔ اس نے ہی اجازت دی تھی اسے جانے کی۔۔۔ اور اب وہ خود ہی اس پے بھڑک رہا تھا۔ اور اس سب کی وجہ وہ مسٹر چیمہ تھے۔۔
اپنا ماتھا مسلتا وہ نفی میں سر ہلاتا گہرا سانس خارج کر گیا۔
میں تمہیں کوٸ الزام نہیں دے رہا۔۔ اگر منع کر رہا ہوں۔ تو اس کے پیچھے کوٸ وجہ ہے۔۔۔ اس لیے۔۔۔؟
کیا وجہ۔۔؟؟ یہی ناں۔۔ کہ آپ کو لگتا ہے کنول کہ اپنے بچوں کو لے کے کہیں فرار ہوگٸ تو کیا ہوگا۔۔؟؟ کنول نے اس کو غصہ سے دیکھتے ماتھے پے بل ڈالے پوچھا۔
آفتب اس کی سچ پے اسے دیکھتا رہ گیا۔
وہ ہستی ہی پیدا نہیں ہوٸ۔۔ جو مجھ سے میرے بچوں کو چھین کے لے جا سکے۔۔۔! آفتاب نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے سرد آواز میں کہا ۔
کنول ایک پل اس کی آنکھوں کی گہراٸ میں کھو سی گٸ۔
کیا یہ وہی آفتاب خان ہے۔۔؟؟ دل نے سوال کیا۔۔۔؟؟ لیکن اندر سے سواۓ خاموشی کے کچھ نہ ملا۔
کنول واپس پلٹی۔
آنسو چھپانا چاہتی تھی۔
مونس اور ۔۔۔ملکہ ۔۔۔ کو جتنی ایک ماں کی ضرورت ہے۔۔۔ اس سے زیادہ۔۔۔ شاید ایک باپ کی۔۔۔! اور ۔۔۔ ایک ماں اپنے بچوں کو ۔۔ ان کے باپ سے کبھی جدا نہیں کرے گی۔۔۔!
آنسو چھلک ہی آۓ۔ لیکن لہجہ نارمل رکھا۔
میرا یہاں ہونا۔۔ صرف میرے بچوں ی وجہ سے ہے۔۔ جہنیں۔۔ ہم دونوں کا پیار چاہیے۔۔ بچوں کی شخصیت بنانے اور بگاڑنے میں۔۔ ماں باپ دونوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔۔ ماں اگر بچوں کو سنوارتی ہے۔۔ تو باپ۔۔ ایک مضبوط ساٸبان دیتا ہے۔۔۔۔ لہجہ دکھی اور دھیما تھا۔ مجھے۔۔ نہیں ملا۔۔۔ نہ ماں۔۔ کی ممتا۔۔۔ نہ باپ کا ساٸبان۔۔۔ اور۔۔ نہ شوہر۔۔۔؟؟ کہتے کہتے وہ رکی تھی۔
آفتاب نے اسے دکھ سے دیکھا۔ لیکن اس کے آنسو وہ دیکھ نہ سکا۔
میری ۔۔ اللہ سے دعا ہے۔۔۔
اللہ آپ کو ہمیشہ ۔۔ ان کے سر پے قاٸم رکھے۔۔۔ اور۔۔۔؟؟ کبھی۔۔ ان کا ساٸبان نہ بکھرے۔۔۔ ! وہ اب ضبط ٹہوٹتا محسوس کرتی وہاں سے اندر بڑھ گٸ۔
اس کی برداشت سے اب باہر ہوگیا تھا۔
یہ بات اسے بہت تکلیف دے رہی تھی۔ کہ ۔۔ آفتاب کو صرف بچوں کی پرواہ ہے۔۔ اس کی نہیں۔۔ مطلب۔۔؟؟ وہ جیۓ مرے۔۔ جہاں مرضی جاۓ۔۔ اسے کوٸ فرق نہیں پڑتا تھا۔۔ کیا ۔۔۔واقعی۔۔ اب وہ سب کچھ کھو چکی تھی۔۔؟ وہ محبت۔۔۔؟؟
سب۔۔
ختم ہو گیا تھا۔۔۔؟؟
مجھ سے پہلی سی محبت۔۔۔ میرے محبوب نہ مانگ۔۔۔
دو آنسو ٹوٹ کے گرتے بے مول ہوگۓ۔
آفتاب اس کے لفظوں کو سمجھ کے بھی انجان بنا رہا۔ وہ اسے نہیں بتا سکا۔۔ کہ وہ اس کے لیے کیا معنی رکھتی ہے۔۔ اس کا تین سال پہلے کا دیا دکھ سب پے حاوی ہو جاتا تھا۔
