Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan NovelR50506 Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 21)
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 21)
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha chohan
سب مل کے گھومنے کا پروگرام بنا رہے تھے۔ اور انابیہ کا ہی یہ سب پلان تھا۔ وہ یہاں آکے اتنی ایکساٸٹڈ تھی۔ کہ اس سب میں وہ اپنے پیارے شوہر شہیر خان کو تو ٹاٸم ہی نہیں دے پا رہی تھی۔ اور وہ اچھا خاصا ناراض تھا جب کہ انابٕیہکو اس بات کا بھی علم نہیں تھا۔ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ ہر پل کو انجواۓ کر رہی تھی۔ اس کی اور شامی کی جوڑی نے پورے گھر میں رونق میلا لگایا ہوا تھا۔ آفس سے چھٹیاں لیتا وہ بھی ہر وقت گھر پے موجود تھا۔ لیکن شام کو وہ آن لاٸن کام کر کے کار پوری کر رہا تھا۔ دن کا وقت اپنوں کے ساتھ انجواۓ کرنے میں لگا دیتا۔
چلو۔۔۔ کل صبح چڑیا گھر چلتے ہیں۔۔۔ بچے خوش ہوجاٸیں گے۔
انابیہ نے مشورہ دیا۔
چڑیا گھر جانے کی کیا ضرورت ہے اس وقت سلطان ہاٶس چڑیا گھر بنا ہوا ہے۔۔ شامی نے لقمہ دیا۔ تو انابیہ نے پاس پڑا کشن اسے اٹھا کے مارا۔ وہ تو نیچے ہوگیا۔ لیکن باہر سے اندر آتے شہیر کے منہ پے جا لگا۔
اوہ۔۔ ایم سوری…! انابیہ منمناٸ لیکن ہونٹوں پے مسکراہٹ بھی بکھری تھی۔ جب کہ شامی اور پاس بیٹھے بچے دبی دبی ہنسی ہنسے تھے۔
شہیر نے سنجیدگی سے کشن کو ایک طرف صوفے پے رکھتے وہیں سے واپسی کی راہ لے لی۔
انہیں کیا ہوا۔۔؟؟ وہ جو کھلکھلا کے ہنسنےکا سوچ رہی تھی۔ اک دم سے سنجیدہ ہوٸ۔
جا کے پوچھ۔۔لو۔۔۔! شامی نے سہولت سے مشورہ دیا۔
تم پلاننگ کرو۔۔ میں ابھی آتی ہوں۔ شامی سے کہتی وہ شہیر کے پیچھے ہی لپکی تھی۔
کیا ہوا۔۔؟؟ آپ کی طبعیت ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟ لہجے میں فکر مندی نمایاں تھی۔
تمہیں پرواہ ہے۔۔؟؟ شہیر کا کلستا لہجہ انابیہ تو سن ہی ہوگٸ اب انہیں کیا ہوا۔۔؟؟ خود سے سوچنے لگی۔ کہاں غلطی ہوٸ ہے۔۔؟؟
اگر سوچنے کا سلسلہ ختم ہو گیا ہو۔۔۔! تو جاٶ۔۔ مجھے نیند آرہی ہے۔ شہیر نے سرد لہجے میں کہتے بیڈ پے کمفرٹر اوڑھتے کہا ۔
شہیر۔۔۔؟؟ انابیہ نے منمناتے ہوۓ آواز دی۔
انابیہ۔۔ جسٹ گو۔۔۔ ! ماتھےبپے بازو ٹکاۓ وہ سنجیدگی اور غصہ سے بولا تھا۔
انابیہکی ناچاہتے ہوۓ بھی آنکھیں بھیگ گٸیں۔ وہ باہر جانے کی بجاۓ دروازہ بند کرتی اس کے پاس آگٸ۔
بچے دونوں دادی نانی کے پاس تھے۔ وہمزے سے اپنے یہ دن اپنے میکے میں انجواۓ کر رہی تھی۔ بچوں کے ستھ ساتھ وہ شوہر کو بھی بھول گٸ تھی۔ اور یہیں وہ غلطی کر گٸ تھی ۔
اس کے پاس بستر پے لیٹتے اس کا بازو اس کے ماتھے سے ہٹاتے اپنا سر اس کے سینے پے رکھا۔ شہیر نے کوٸ ردعمل ظاہر نہ کیا۔ انابیہ نے اس کو ہگ کیا۔ تو پھر بھی کوٸ ردعمل نہ ظاہر کیا۔ انابیہ نے اپنے لب اس کے ماتھے پے رکھے۔ وہ تب بھی خاموش رہا۔ انابیہ کی جسارتیں اب بڑھتی جا رہی تھیں۔ گالوں سے ہوتے وہ اس کے لبوں تک جا پہنچی تھی۔ اور وہ جو خود پے قابو کیے لیٹا تھا۔ اس کے اسطرح کرنے سے اپنے بے لگام جذبات کو کھلا چھوڑتا اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے بستر پے لٹاتا خود اس پے حاوی ہوا۔
آگٸ یاد ہزبینڈ کی۔۔؟؟ محبت بھرا طنز تھا۔
آپ کو بھولنےکی غلطی کر سکتی ہوں کیا بھلا؟
اس کے بالوں میں محبت سے ہاتھ پھیرتی وہ اسے مزید اپنے قریب آنے پے اکسا رہی تھی۔
اس کے لبوں پے جھکتا وہ اپنی تشنگیمٹاتا پیچھےہٹ گیا تھا۔
یہاں آکے تو واقعی بھول گٸ ہو۔۔۔! شکوہ زباں پے آہی گیا۔
شاید۔۔ آپ صحیح ہوں۔۔ لیکن۔۔۔۔ میں نےجان بوجھ کے کچھ نہیں کیا۔۔ بس۔۔ اتنی ایکساٸٹڈ ہوگٸ۔۔ کہ اور کچھ یاد ہی نہیں۔۔ بس۔۔ یہی سوچتی ہوں۔۔ اتنے فن رہ گۓ ہیں۔۔ انجواۓ کرلو۔۔۔ پھر نجانے کب آپ لےکے آٸیں پاکستان۔۔۔؟؟ آنکھیں ترس جاٸیں گیں پھر سب کو دیکھنے کو۔۔۔!
ایک یاس تھی انابیہ کے لہجے میں۔۔ وہ اپنوں کے بیچ بہت کھل اٹھی تھی۔ اسے انابیہ کا یوں اداس ہونا زرا اچھا نہ لگا۔
اداس نہ ہوا کرو۔۔۔ میری جان۔۔۔! تم خوش رہتی ہو۔۔ تو میں بھی خوش ہوتا ہوں۔۔ لو یو سو مچ۔۔۔!
ہاتھ بڑھا کے لاٸیٹ آف کرتا وہ اس کے قریب ہوتا اسے خود میں گم کر گیا۔ جب کہ اس کا یوں اداس ہونا اس کے دل پے ہتھوڑے کی طرح برسا تھا۔










بچوں کو ان کے کمرے میں سوتا دیکھ وہ مطمین ہوتی وہاں سے نکلی تھی۔ خان بیگم کی وفات کو آج ایک ہفتہہو چلا تھا۔
تبسم بیگم چاہ کے بھی نہیں آسکیں تھیں۔ ان کی دوست کی طبعیت بہت خراب تھی۔ اور ان کا اس دنیا میں کوٸ نہ تھا۔
جب کہ تبسم بیگم کو وہ اپنی بہنوں کی طرح عزیز تھیں۔ اس لیے ہمہ وقت ان کے پاس تھیں۔
کنول کو انکی کمی بہت محسوس ہو رہی تھی۔ لیک جب تک وہ نہیں جاتیں تھیں۔ تب تک گھر کے سب معاملات وہی دیکھ رہی تھی۔
وہ اپنے روم کے ساتھ لیفٹ والا کمرہ استعمال کر رہی تھی۔ جبکہ آفتاب راٸیٹ والا
اپنے اصل کمرہ دونوں نے ہی چھوڑا ہوا تھا۔
لیکن آج کنول کا جی چاہا اس کمرے میں جاۓ۔
دل کی بات مانتے دروازہ کھولتی آج پھر وہ اس کمرے میں آٸ تھی۔
لیکن اس بار بڑی لاٸیٹ آن نہ کی۔
تاکہ آفتاب کو پتہ نہ چل سکے۔ وہ آرام سے دراز کھولے کھڑی تھی۔ اس کے اندر سب کچھ ویسے ہی تھا۔ جیسا وہ چھوڑ کے گٸ تھی۔
دراز بند کرتی وہ اب کبرڈ کی جانب بڑھی تھی۔
کبرڈ کھولا تو اپنے سب کپذےہینگ ہوۓ دکھاٸ دیۓ۔
سب پے ہاتھپھیرتیوہ ماضی میں کھونے لگی۔ کتنا خوش تھے۔ وہ سب۔۔ !
ملکہ کی پیداٸش پے آفتاب شیر خان نے دنیا کی ہر چیز لا کے اس کے قدموں میں جا دی تھی۔ وہ خود کو کتنا خوش قسمت تصور کرتی تھی۔ اور اک دن۔۔۔ سب کچھ ختم ہو گیا۔۔۔ وہ ڈاٸن ان کی خوشیوں کو کھا گٸ۔
کاش وہ خان حولی نہ گٸ ہوتی۔۔
کاش۔۔۔۔ وہ سب کچھ نہ دیکھتی۔۔
کاش۔۔۔؟؟ان کے بیچ دوری نہ آتی۔۔
جب سب ختم ہو جاتا ہے۔۔ بس ۔۔کاش ہی رہ جاتا ہے۔
وہ دکھی تو تھی۔۔ لیکن دکھ سے زیادہ اسے غصہ تھا۔ ان تین سالوں نے اس کا غصہ کم نہیں کیا تھا۔ بلکہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھا تھا۔
کنول۔۔۔ میری نظروں سے دور ہوجاٶ۔۔ ورنہ میں وہ کر دوں گا۔۔ جو میں سچنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔۔ آٶٹ۔۔۔۔۔!
وہ کتنا غصہ سے دھاڑا تھا۔ کہ اس کے دھاڑنے کی گونج آج بھی سناٸ دیتی تھی کنول کو۔۔
اس نے اسے پنینظروں سے دور جانے کا کہا۔ وہ سچ میں ہی اس کی نظروں سے اوجھل ہو گٸ۔
وہ جانتی تھی۔ اب ان کے بیچ کچھ باقی نہیں بچا۔ ساۓ ایک رشتہ کے اور وہ نکاح کا رشتہ تھا۔ اس رشتے کو بچانے کے لیے کنول نے انتہاٸ سخت قدم اٹھایا تھا۔ کہ ماں کی ممتا کو بھی کچل دیا۔ اور وہ خان منشن چھوڑ کے چلی گٸ ۔
اچانک سے اس کا ہاتھ ایک فاٸل سے ٹکرایا۔ اور وہ نیچے آن گری۔
کنول نے آگے بڑھ کے وہ فاٸل اٹھاٸ تھی۔ اس میں سے چند ایک تصاویر نکلیں۔ وہ انہیں اندھرے کی وجہ سے دیکھ نہ سکی۔
انہیں اٹھاتے اس نے بار کا رخ کر کے ان تصویروں کو دیکھنا چاہا۔ کہ اسی لمحے کسی نے غصہ سے وہ تصویریں اس کے ہاتھ سے جھپٹیں۔ وہ ایمدم سے بوکھلاٸ تھی۔ جب لاٸیٹ آن کرتے آفتاب خان کے چہرے پے بلا کا غصہ تھا۔
جب منع کیا ہے کہ اس کمرے میں مت آٶ۔۔ تو ایک بار سمجھ نہیں آتی بات۔۔؟؟ آفتاب بمشکل خود کو قابو کرتا تصویریں واپس فاٸل میں رکھتے اس سے مخاطب ہوا تھا۔
کیا ہے۔۔ اس میں۔۔؟؟
کنول کا سارا دھیان اس فاٸل میں موجود تصویروں پے تھا۔
تمہارا کوٸ لینا دینا نہیں ان سے۔۔۔ ! آفتاب خان غصہ سے کیتا وہ فاٸل واپس کبرڈ میں رکھتا اسے لاک لگانے لگا۔
کنول کو بھی اب غصہ آنے لگا۔
میرے کمرے میں میری کبرڈ میں یہ موجود ہے۔ اور آپ کہہ رہے ہیں۔۔ میرا کوٸ تعلق نہیں۔۔؟؟ دیکھاٸیں مجھے خان۔۔؟؟؟
خان مت کہا کرو۔۔ مجھے۔۔۔! نگرت ہوتی ہے مجھے اپنے نام سے۔
خان نے اسے دونوں کندھوں سے پکڑے کبرڈ کے ساتھ زور سے لگاتے اس کی بات کاٹتے کہا۔
وہ اسے پتھراٸ نظروں سے دیکھنے لگی۔
تم ۔۔تمہرا وجود۔۔ میرے اندر نفرت کی آگ کو ہوا دیتے ہیں۔ اس لیے آخری بار کہہ رہا ہوں۔۔ مجھ سے بھی دور رہو۔ اور میری ہرچیز سے بھی۔۔ ونہ بہت پچھتاٶ گی۔
پچھتا تو رہی ہوں میں۔۔ ! باوجود ضبط کے اس کی آنکھوں میں آنسو بھر گۓ ۔
جھٹکےسے خود کو آزاد کیا۔
اگر اتنی ہی نفرت ہے تو۔۔ ختم کیوں نہیں کر دیتے ہمارے بیچ کے تعلق کو۔۔؟؟
کر دیں مجھے آزاد۔۔۔ ختم کردیں سب۔۔۔!
وہ چلاٸ تھی۔ دکھ سے درد سے غصہ سے۔۔
جی تو چاہتا ہے۔۔ تمہیں جان سے مار کے یہ قصہ ہی یہیں ختم کردوں۔۔ لیکن۔۔ میں ایسا نہیں کروں گا۔۔۔ساری زندگی تڑپ تڑپ کی جیو گی تم۔۔ میری طرح۔ آفتاب کا جارحانہاندز نول کو ڈرا گیا تھا۔
اور کیا کہا تم نے۔۔۔۔۔؟؟ آزاد کردوں۔۔؟؟
ہونہہ۔۔۔ مر کے بھی دوبارہ زندہ ہوجاٶ۔۔ تب بھی تمہیں آزاد نہیں کروں گا۔ تم اپنی آخری سانس تک میرے نکاح میں رہ گی۔ سمجھی تم۔
جھٹکے سے اسے چھوڑا تھا۔ کہ وہ لڑکھڑاٸ تھی۔ وہ جا چکا تھا لیکن آج پھر سارے زخم تازہ کر گیا تھا۔
جاری ہے۔
