Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 31)

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan

ہاں۔۔ فیصلہ ہو گیا ہے۔۔ وہ زمین خان کو ہی ملے گی۔ اپنا قبضہ ہٹ لو وہاں سے۔۔۔!اسد چیمہ فون پے اپنے بندے سے مخاطب تھا۔ جبکہ غصہ بھی سوا نیزے پے تھا۔ برسوں قبضے میں رہنے والی زمین کو خان کے قبضے میں دینا اسد چیمہ کو بھڑکا گیا تھا۔

دروازہ زور سے کھولتا وہ طوفان کی طرح اندر داخل ہوا تھا۔

اور گن سیدھا اسد چیمہ کی کنپٹی پے رکھی تھی۔

کہاں ہے میری بیوی۔۔؟؟ سیدھا اسکی آنکھوں میں اپنی نیلی آنکھیں گاڑی تھیں۔

ایک پل کو تو اسد چیمہ گڑبڑا گیا۔ وہ کیا کہہ رہا تھا اسے سمجھ نہیں آٸ۔ آنکھوں کے سامنے بس گن ہی دکھاٸ دی۔

کون۔۔۔ کونسی۔۔ بیوی۔۔۔؟ وہ گڑبڑاتے ہوۓ بولا تھا۔

میری ایک ہی بیوی ہے۔۔ میری جان ہے وہ اسد چیمہ۔۔ اس کے لیےمیں جان دے بھی سکتا ہوں۔۔ اور کسی کی جان لے بھی سکتا ہوں۔۔ مجھے سیدھی طرح بتا دو۔۔ کہاں ہے وہ۔۔؟إ گن کولوڈ کرتے پھر سے جارحنہ اندازمیں اس کی کنپٹی پے ٹکاٸ۔ کہ اسد چیمہ کے پسینے چھوٹ گۓ۔

مممجھھھے نہیں۔۔ پتہ۔۔! گھبراٸ ہوٸ آوز برآمد ہوٸ۔

میں آخری بار پوچھ رہا ہوں۔۔ ورنہ اب۔۔سیدھا اوپر جاٶ گے۔۔۔!

میں انی ماں کی قسم کھا کے کہتا ہوں۔۔ میں نے تمہاری بیوی کو نہیں دیکھا۔۔ نہ اس کے بارے میں کچھ بھی جانتا ہوں۔۔!پلیز۔۔ خان۔۔ میری بات کا یقین کرو۔۔۔! اسد چیمہ بری طرح گڑبڑاتے ہوۓ بولا تھا۔ آفتاب نےلب بھینچتے ہوۓ اسے دیکھا۔

وہ موت سامنے دیکھتے نہیں بول سکتا تھا۔ آفتاب اتنا جانتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ڈر تھا۔ آفتاب شیر خان کے نام کا خوف تھا۔

اگر ۔۔۔ مجھے زرا بھی بھنک پڑی کہ۔۔۔ میری بیوی کے غاٸب ہونے میں تیرا ہاتھ ہے۔۔ تو اللہ کی قسم۔۔ میں منہ سے بات نہیں کروں گی۔۔ سیدھا گولی کی زبان سے ہمیشہ کے لیے تمہیں موت کی نیند سلا دوں گا۔

یاد رکھنا۔۔۔!

اسکے ماتھے پے زور سے گن مارتا وہ الطرابی کفیت میں واپس مڑا تھا۔ ب اس کا دماغ صرف ایک ہی نام لے رہا تھا۔

اور اس بار آفتاب شیر خان اس کو معاف کرنے کا بالکل ارادہ نہیں رکھتا تھا۔

پہلے وار مجھ پے کیا۔۔ میں نے سہن کرلیا۔۔

اب وار ۔۔ میرے دل پے کیا ہے۔۔ یہ ہن نہیں ہوگا۔۔ اس بار ایسی سزا دوں گا۔۔ کہ ساری زندگی پلٹ کے یکھنا تو دور کی بات۔۔ خان اور اس کی فیملی کا سوچو گی بھی نہیں۔۔

خود کلامی سےکہتا اب اس کی گاڑی کا رخ خان حویلی کی جانب تھا۔

⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕

پاگل ہوگٸ ہو۔۔؟؟ کوکو یہ۔۔ یہ کیا کر رہی ہو۔۔؟ گن مجھے دو۔۔۔!

کوکو نے شہیر کو بلیک میل کر کے بلوایا تھا۔

اور اب اس کے سامنے اپنی کنپٹی پے گن رکھی ہوٸ تھی۔

شہیر۔۔۔! تم۔۔مجھ سے نکاح کرو گے۔۔تو ہی۔۔ میں یہ گن ہٹاٶں گی۔۔ ورنہ۔۔۔ آج یہاں سے میرا جنازہ اٹھے گا۔۔ کوکو کے جارحانہ انداز پے شہیر لب بھنچ گیا۔

کیا پاگلوں والی حرکت ہے۔۔۔؟؟ گن نیچے کرو۔۔ شہیر دھاڑا تھا۔

نہیں۔۔آج یا تم۔۔۔مجھ سے نکاح کرو گےیا میرا جنازہ اٹھاٶ گے۔۔۔۔

کوکو نے کہتے ہی گن کا ٹریگر دبانا چاہا۔

سٹاپ اٹ.۔۔۔۔!شہیر کا دل بری طرح دھڑکا۔ وہ جب یہاں آیا تھا۔ گیٹ کیپر نے اسے دیکھا تھا بلڈنگ کے تن سے چار لوگوں نے اسے لفث سے اندر اور باہر جاتے دیکھا۔ اب اگر اسے کچھ ہو جاتا تو سیدھا الزام اس پے آن تھا۔

نکاح۔۔۔؟؟؟؟ کوکو نے پوری امید سے پوچھا۔

ٹھیک ہے۔۔ کروں گا نکاح۔ تم ۔۔۔ یہ گن نیچے کرو۔۔۔! شہیر نےاسے سمجھانا چاہا۔

تم سچ کہہ رہے ہو۔۔۔؟؟ کرو گے ناں۔۔ مجھ سے نکاح۔۔؟؟ کوکو کو بے نتہا خوشی ہوٸ۔

لیکن اسے یقین نہیں آرہا تھا۔

ہاں۔۔۔۔! بے بسی سے اور برے دل سے کہا۔

قسم کھاٶ۔۔۔! اپنی بیوی کی۔۔۔! وہ بھی کوکو تھی۔ پورے انتظام کروانا جانتی تھی۔

انابیہ کی قسم۔۔۔ کیوں۔۔؟؟ جب کہہ دیا ہے کہ کروں گا نکاح بس کروں گا۔

تم۔۔۔تم۔مکر جاٶ گے۔۔۔ !پہلے۔۔ قسم کھاٶ۔۔ اپنی بیوی کی ۔۔ کہ مجھ سے آج ہی نکاح کرو گے۔۔۔! کوکو نے شہیر کے لیے کوٸ سیکنڈ آپشن نہیں چھوڑا تھا۔

تاریخ ایک بار پھر سے خود کو دہرا رہی تھی۔

کچھ سال پہلے ہی کی بات ہے جب۔۔۔ اس کی ماں نے چال چلی تھی۔ اور اپنوں کو کتنا نقصان پہنچایا تھا۔ تب بھی انابیہ کو بچانے کے لیے اسے عروج سے نکاح کرنا پڑا تھا۔

آج۔۔پھر سے وہی سچویشن آگٸ تھی۔ اور اس بار۔۔۔ اس کی قسم کھا کے وہ پھر سے پھنس رہا تھا۔

اور وجہ۔۔۔ آج بھی انابیہ ہی تھی۔

ٹھیک ہے۔۔ میں قسم کھاتا ہوں۔۔ انابیہ کی۔۔۔ آج ہی تم سے نکاح کروں گا۔

شہیر نے بہت سوچتے ہوۓ کہا۔ وہ اس کے پلان میں پھنس گیا۔۔۔ کوکو نے گن نیچے کی وہ دل سے خوش ہوٸ تھی۔

آخر کار اس نے شہیر کو حاصل کر ہی لیا تھا۔

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

آفتاب خان حویلی پہنچا تھا۔ وہ سیدھا اندر گیا تھا۔ لیکن اندر سفیہ کا نام و نشان تک نہ تھا۔

اس نے ملازمہ سے پوچھا۔

صاحب جی کچھ دیر پہلے ہی وہ باہر نکلیں ہیں۔

آفتاب کو تھوڑی دیر ہوگٸ تھی۔

لیکن وہ پھر بھی پہنچ سکتا تھا۔

کونسی گاڑی میں۔۔۔؟

مزید انفارمیشن لیتا وہ باہر نکلا ٠

جبار۔۔۔۔! باہر کھڑے جبار کو دیکھتا اسکے پاس آیا ۔ کیمراز چیک کرو۔

آفتاب شیر خاان نے پوری خقن حویلی میں کیمراز لگواۓ تھے۔ اور یہ بات سفیہ نہیں جانتی تھی۔

کیمراز جتنی دیر میں چیک ہوۓ اس نے سفیہ کا نمبر ٹریس کرنے کے لیے اپنے خاص بندے کو دیا ۔

وہ صبح ہونے سےپہلے پہلے کنول کو واپس لانا چاہتا تھا۔

نمبر ٹریس ہو چکا تھا۔ کیمراز نے بھی سفیہ کا راز فاش کر دیا۔ آفتاب نےلب بھینچے ایک نظر جبار کو دیکھا۔ وہ اس کی نظروں کا مفہوم سمجھ گیا۔

⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕

دھیرے سے دروازہ کھلا۔ کنول نے آنے والے کو دیکھا۔

وہلکم۔۔۔ ماٸ ڈٸیر سوتن ٹو بی۔۔۔! سفیہ نے مسکراتے ہوۓ کہا ۔

کنول نے اسے حقارت سے دیکھا۔

لوگ سوتے میں خواب دیکھتے ہیں۔۔ اور ۔۔ تم جاگتے ہوۓ۔۔۔

دیکھو شوق سے دیکھو ۔۔۔ خواب دیکھنے پےکوٸ بابندی تو نہیں۔۔۔! لیکن اس خواب کی تعبیر بہت بھیانک ملنے والی ہے تمہیں۔

کنول نےاسے وارن کیا۔ تو وہ قہقہہ لگا کے ہنس دی۔

مجھے ڈرا رہی ہو۔۔۔؟ جب کہ ابھی تم میری ۔۔ ہی قید میں ہو۔۔۔! سوچو۔۔۔ یہاں تمہرے ساتھ کچھ بھی ہو جاۓ۔۔۔ خان کو کون بتاۓ گا۔۔۔؟؟ وہ تو ویسے بھی۔۔ تم سے نفرت کرتے ہیں۔۔

اب کی بار کنول نے مسکراتے ہوۓ سر جھٹکا تھا۔

نفرت۔۔۔؟؟ خان کرے گے۔۔إ؟ وہ بھی کنول سے۔۔۔؟؟

کنول کے انداز پے سفیہ نے ایک نظر اسے دیکھا۔

تین سال۔۔۔ تین سال دور تھی۔۔۔ ناں۔۔ میں۔۔ حاصل کر لیتی ناں۔۔ خان کو۔۔؟؟ کیوں نہیں کر سکی۔۔؟؟

کنول نے اس طنر پے سفیہ کو آگ ہی لگ گٸ۔

اب کروں گی حاصل۔۔ تمہیں اس کی زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکالنے کے بعد۔۔۔ پوہ صرف میرا خان ہے۔۔ میرا۔۔ صرف سفیہ کا۔ وہ چلاٸ تھی۔

میرو۔۔۔۔ میرو۔۔۔! اس نے کسی کو آواز دی تھی۔ ہ شخثص اندر چلا آیا۔

اس لڑکی کا وہ حال کرو کہ یہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔۔۔ سفیہ نے سفاکیت سے کہا۔

وہ شخص مسکراتا ہوا کنول کی جانب بڑھا تھا۔

کنول نے خود ک چھڑانا چاہا۔ وہ شخص اس کے قدموں میں بیٹھا تھا۔ اور خباثت سے اسے دیکھنے لگا تھا۔ کنول کو اس کے دیکھنے کا انداز بالکل بھی ٹھیک نہ لگا۔

اگر۔۔ مجھے چھوا بھی تو۔۔ خان۔۔ تمہارے ساتھ کیا کریں گے۔۔ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔

کنول نے اس کی طرف دیکھتے اسے وارن کیا۔

وہ دھیرے سے مسکرایا۔

ایک بار۔۔۔تمہارے ح کے جلوے دیکھ لوں۔۔ پھر موت بی آجاۓ تو غم نہیں۔۔

ایک جذب کے عالم میں کہتا وہ کنول کی رسیاں کھولنے لگا۔ کنول کو اس کے لمس سے بھی شدت سے کرہت آرہی تھی۔

جیسے ہی رسیاں کھلیں۔ کنول نے اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا۔ اور خود دروازے کی جانب بھاگی تھی۔ جے سفیہ جاتے ہوۓ بند کر گٸ تھی۔

وہ شخص کنول کی جانب پیش قدمی کرنے لگا۔

کنول دروازے کے ساتھ ہی چپک گٸ۔

یااللہ میری مدد کرے ۔۔۔ میں۔۔ کیسے۔۔ اپنی عزت بچاٶں۔۔؟

کنول نے دل سے اپنے اللہ کو یاد کیا۔

وہ شخص جھپٹنے والے انداز میں کنول کی طرف آیا تھا۔ کنول نے پورا زور لگا کے اسے پرے دھکیلا تھا۔ اس شخص نے کنول کی دونوں طرف سے آستین پھاڑ دی۔ کنول نے شدتِ کرب سے آنکھیں موند لیں۔

یاللہ موت ہی دے دے۔۔ لیکن۔۔ میری عزت کی حفاظت کر۔۔۔ وہ پھر ے اللہ سے دعا گو ہوٸ۔

وہ شخص جیسے پاگل ہوا کنول کو دبوچ گیا۔

کنول کے ندر کی تمام ہمت جواب دینے لگی تھی۔ کہ اس شخص کو پرے دھکیلتے اس کے پاس سے کنول کو گن ملی۔ کنول نے اس کی گن سے ہی اس کے پیٹ میں گولی چلا دی۔ وہ جو مدہوش ہوا کنول کے اوپر تھا۔ گولی لگنے سے وہیں جم گیا۔

کنول کو حیرت سے دیکھا۔

کنول نے ایک اور گولی اس کے پیٹ میں چلاٸ۔

تیسری چوتھی۔۔ سب گولیاں۔ اس کے اندر اتار دیں۔ وہ شخص وہیں دم توڑ گیا۔

کنول نے اسے خود پے سے پرے دھکیلا۔ اور خود دور کھسکی۔ فیوار کے ساتھ جا لگی۔ گن ابھی بھی اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔ اور خون میں لت پت تھی۔

تبھی ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا تھا۔ کنولنے آنے والے پے فوراً گن تانی

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *