Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 22)

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha chohan

کاظم شہیر سے مل چکا تھا۔ اور شہیر کے کہنے پے کومل کو جس ڈاکٹر کے پاس لایا تھا۔ اس نے اسی پرسنٹ چانس بتایا تھا۔ کہ کومل کی آنکھوں کی روشنی لوٹ سکتی تھی۔

کاظم کو کومل کے واپس آنے کی اطلاع مل چکی تھی۔ لیکن ابھی اس نے کومل کو یہ بات نہ بتاٸ تھی۔ ونکہ وہ جانتا تھا۔ کہ اگر اس نے یہ بات کومل کو بتا دی۔ تو وہ اپنا علاج ادھورا چھوڑ کے واپس کراچی جانے کا مطالبہ کرے گی۔ اور فی اضحال ابھی وہ ایسا نہیں چاہتا تھا۔ اس کا پہلی پیوریٹی کومل کی آنکھوں کی روشنی واپس لانا تھا۔

اور چار دن بعد ڈاکٹر نے آپریشن کا کہا تھا۔ اس کے روزانہ ہی مختلف قسم کے ٹیسٹ ہو رہے تھے۔ جو بہت تسلی بخش تھے۔ کاظم ہرپل اس کے ساتھ تھا۔ ہر طرح سے اسکی کٸیر کر رہا تھا۔ وہ امید چھوڑ چکی تھی خود کو اندھیروں میں رہنے کا عادی بنا چکی تھی۔ لیک کاظم ہمت نہیں ہارا تھا۔

کسی نے سچ ہی کہا ہے۔ اچھا شریک حیات بھی نصیب والوں کو ہی ملتا ہے۔

اور کومل ان خوش نصیبوں میں شمار ہوتی تھی۔

⚡
⚡
⚡
⚡
⚡
⚡
⚡
⚡
⚡
⚡
⚡

ماضی۔

کیا مسٸلہ ہے کیوں فون کر رہ ہو بار بار۔۔؟؟

آفتاب کی غصہ بھری آواز سنتی وہ دل پے پتھر رکے بولی تھی۔

خان پلیز۔۔ ایک بار۔۔ صرف ایک بار میری بات سن لیں۔۔ مرنے والے کی آخری خواہش سمجھ کے۔۔ پوری کردیں۔۔ میں جانتی ہوں۔ آپ۔۔کنول سے بہت پیار کرتےہیں۔۔ میں آپ دونوں کے بیچ کبھی نہیں آٶں گی۔۔۔ بس۔۔ آخری بار۔۔ مجھے میری صفاٸ میں کچھ کہنے دیں۔۔ صرف آخری بار۔۔ وہ رو رہی تھی تڑپ رہی تھی۔

اس خان حویلی سے نکلنے کے بعد وہکنول کو خان منشن لے آیا تھا۔ اس کے بعد اس نے پلٹ کے نہ خان بیگم کی خبر لی نہ سفیہ کی۔

اور ایک ہفتے سے مسلسل سفیہ اسے فون کر کے تنگ کر رہی تھی۔ اور آج تو حد ہی کردی میٹنگ کے دوران اچھا خاصا اس نے تنگ کیا۔

ٹھیک ہے میں آرہا ہوں۔۔ کچھ دیر میں۔۔

آفتاب آج اس کا قصہ ہمیشہ کے لیے تمام کرنے کے ارادے سے خان حویلی جانے کا ارادہ کر گیا۔ وہ خان بیگم کو یہی کہنا چاہتا تھا۔ کہ وہ سفیہ کو قابو میں رکھیں۔ ورنہ بہت پچھتاٸیں گے۔

لیکن جب وہ وہاں پہنچا سب۔۔ کچھ الٹ ہو گیا۔

خان بیگم۔۔۔ خان بیگم۔۔۔ وہ اونچی آواز میں بولا تھا لیکن کوٸ جواب ندارد۔

وہ چلتا ہوا اوپر آیا۔ کہ اسے ایک کمرے سے کچھ ٹوٹنے کی آواز آٸ۔

فوراً ے بنا یہ دیکھے کہ وہ کمرہ کس کا ہے۔ وہ اندر داخل ہوا۔ بیڈ کے پاس نیچے فلور پے سفیہ الٹی گری پڑی تھی۔ وہ فوراً اس کی جانب بڑھا۔ اسے سیدھا کیا۔ وہ بے ہوش تھی۔ اس کا دوپٹہ بھی اس کے پاس نہیں تھا۔

آفتاب نے لب بھینچے اور اسے اٹھانا چاہا۔ لیکن وہ ہوش میں نہ آٸ۔ اس نے ملازمہ کو آواز لگاٸ کوٸ بھی وہاں موجود نہ تھا۔

مجبوراً آفتاب نے اسے اٹھاتے بستر پے لٹایا۔ اسی لمحے سفیہ نےآنکھیں کولیں تھیں اور آفتاب کو کھینچتے ہوۓ اپنے اوپر گرایا۔ وہ اس اچانک افتاد کےلیے تیار نہ تھا جو ہوا انجانے میں ہوا۔ اور بالکل اچانک ہوا۔ وہ اس کے اوپر آن گرا۔

خان۔۔۔! بہہت محبت کرتی ہوں آپ سے۔۔۔! پلیز۔۔۔ مجھے کچھ پل قربت کے دے دو۔.. وہ دیوانوں کی طرح بولی تھی۔۔

آفتاب نے اسے دھکا دینا چاہا تو سفیہ نے اس کی شرٹ کے کالر کو پکڑنے کی ناکام کوشش کی۔ جس سے اس کی شرٹ ایک طرف سے کھینچی گٸ۔ اور وہ پھٹ گٸ۔

سفیہ نے پورا زور لگاتے آفتاب کو کھینچا تھا۔ اور وہ گرتے گرتے بھی پھر بھی خود کو سنبھال گیا تھا۔ لیکن اپنے برے وقت کو نہ ٹال سکا۔ اسی لمحے کنول دروازہ کھولے اندر داخل ہوٸ۔ اس نے آفتاب کو سفیہ پے جھکے پایا۔ تو سانس لینا بھول گٸ۔

وہ ایک پل تھا۔۔۔ لاعلمی کا

وہ ایک پل تھا۔۔۔ بے اعتباری کا

وہ ایک پل تھا۔۔۔ بنا کہے سب سمجھنے کا۔

لیکن۔۔۔ کنول نے اس یک پل کی لاعلمی میں کیبے اعتباری۔۔۔ اور بنا کچھ سوچے سمجھے آفتاب کے لیے دل میں شک لا چکی تھی۔

آفتاب ایک جھٹکے سے پیچھے ہتا کنول کے پاس پہنچا۔ اسیلمحے خان بیگم بھی اندر داخل ہو چکی تھیں۔ سفیہ کی نظریں جھکی ہوٸ تھیں۔ جیسے چور چوری کرتے پکڑا جاتا ہے۔

کنول۔۔۔؟؟ آفتاب خان اس کی آنکھوں کی بے یقینی یکھتا پل مں اپنے اندر سے سب کچھ ختم ہوتا محسوس کر رہا تھا۔

وہ بے آواز آنسو رو رہی تھی۔ اور یک ٹک آفتاب کو دیکھے جا رہی تھی۔ و اتنی شاک میں تھی کہ ابھی تک کچھ بول ہی نہیں پا رہی تھی۔

آپ۔۔؟؟ کیوں۔۔؟؟؟ کنول نے درد بھرے لہجے میں پوچھنا چاہا۔

آفتاب نے اس کے چہرے کے کب اور لفظووں کہ گہراٸ کو سجھنا چاہا۔

آپ۔۔۔ اتنا کیسے گر سکتے ہیں۔؟؟ خان۔۔۔؟؟؟ کنول چلاٸ تھی۔ اس کا گریبان پکڑے۔ اور خان اس لمحے اندر ہی اندر بہت بری موت مرا تھا۔

اب الفاظ لب پے آتے آتے دم توڑ گۓ۔۔۔! کہنے کو کچھ بچا ہی نہ تھا۔

کیوں کی بے وفاٸ۔۔۔ خان۔۔۔؟؟ کیوں۔۔؟؟ وہ روتے ہوۓ چلا رہی تھی۔

اور خان اسے بے یقینی سے دیکھ رہا تھا۔

ایسا کرنے سےپہلے ۔۔ آپ نے اک بار بھی۔۔۔ ایک۔۔۔ بار بھی۔۔ میرے بارے میں نہیں سوچا۔ دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔

آفتاب نے آنکھیں بند کرتے دوبارہ سختی سے کھولتے اپنا گریبان اس کے ہاتھ سے چھڑوایا۔

ہاں۔۔ کی ہے بے وفاٸ۔۔ اور کروں گا۔۔۔۔۔ تو۔۔۔؟؟ کیا کر لو گی۔۔۔تم۔۔؟؟ آخر آماۓ جانے سےپہلے ہی وہ اسے آزما گیا۔

لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا۔

مججے آزمانے والے۔۔۔ مجھے آزما کے روۓ گا۔

آپ۔۔۔؟؟ ایسا کیسے ۔۔ کر سکتے ہیں۔۔؟ وہ چینخی تھی۔

میری جگہ کسی اور کو کیسے دے سکتے ہیں آپ۔۔۔؟؟ وہ بری طرح ہزیانی انداز میں چلاٸ۔

جگہ۔۔۔؟؟ میں دے چکا ہوں۔۔ کنول۔۔۔! اب۔۔ روٶ جتنا رونا ہے۔۔۔ آفتاب کو اس کے آنسووٶں سے اچھی خاص تپ چڑھی تھی۔

آپ۔۔ آپ اس ۔۔کے ساتھ۔۔ کیسے؟ میں۔۔ میں اسے چھوڑوں گی نہیں۔۔ زندہ مار دوں گی۔

کنول جارحانہ انداز میں سفیہ کی طرف بڑھی ۔ کہ بیچ میں آفتاب خان نے روک لیا ۔

اسے کیا کہنا ہے۔۔ جو کہنا چاہتی ہو مجھ سے کہو۔۔ تمہارا تعلق مجھ سے ہے۔ اس سے نہیں۔۔

اسی کا تو افسوس ہے خان۔۔۔ کہ آپ سے تعلق رکھا۔ آپ کے نکاح میں رہی آپ نے ۔۔؟؟ اس نکاح کے مقدس رشتے کو پامال کیر دیا آپ نے۔۔۔ ایک عورت کے ساتھ نجاٸز۔۔۔ تعلق ۔۔؟؟

کنول۔۔۔؟؟ آفتاب شیر خان کا ہاتھ اٹھا۔

لیکن ہوا میں ہی بلند رہ گیا۔ کنول نے بے یقینی سے آفتاب کو دیکھا۔ آج پہلی بار اس نے کنول پے ہاتھ اٹھایا تھا۔

اس سے پہلے کہ میں اپنا ضبط کھودوں۔۔ اور کچھ کر بیٹھوں چلی جاٶ یہاں سے۔۔،، انتہاٸ سرد لہجےمیں کہا۔ کنول نے شکست خوردہ انداز میں آفتاب کو دیکھتے وہ طنزیہ انداز میں مسکراٸ۔

نجاٸز تعلق بنانے سے بہتر تھا۔ آ نکاح کر لیتتے۔ کم از کم۔۔ یہ درد تو نہ رہتا کہ آپ زنا۔۔!

اپنی بکواس بند کرو تم۔۔۔! اور بہت تکلیف دہ ہے ناں اب تمہارے لیے۔۔۔ صحیح کہا تم نے۔۔ تعلق بیبہے اس ست اور جاٸز بھی کروں گا۔ کل یہیں اسی وقت اس کے ساتھ نکاح کروں گا۔

سنا تم نے۔۔۔؟؟؟ کڑے تیوروں کے ساتھ کہتا وہ کنول کو عرش سے فرش پے گرا گیا۔

آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔ خان۔۔۔!

کنول نے اس سے زیادہ خود کو یقین دلانا چاہا۔ میں ایسا ہی کروں گا۔۔ کنول۔۔۔! اور وعدہ ہے یرا تم سے۔۔ کل اسی وقت یہ۔۔۔ لڑکی۔۔ تمہاری سوتن بنے گی۔

انتہاٸ سرد لہجے میں کہتا ۔ کنول کو پرے دھکیلتا وہاں سے قدم باہر کو لے لیے۔

جو جگہ جس کی ہوتی ہے ایک دن اسے مل ہی جاتی ہے۔

خان بیگم کے الفاظ پے کنول نے رخ موڑ کے انہیں دیکھا جو اس کے زخموں پے نمک چھڑک رہی تھیں۔

اور پھر بنا لحاظ کے کنول نے سفیہ کا گلا دبایا تھا۔ خان بیگم نے بمشکل سفیہ کا گلا چھڑایا۔

اور پھر خود اپنے آپ پے افسوس کرتی پیچھے ہٹ گٸ تھی۔

بس بہت ہوگیا لڑکی۔۔۔ اب نکلو یہاں سے۔۔ اور بھول جاٶ۔۔ خان کو۔۔۔ ! وہ میرا پوتا ہے۔ اور اب کل ہمارے پوتےکا نکاح ہو گا۔ اصل نکاح۔۔ پورا شہر دیکھے گا۔۔ آفتاب شیر خان کا نکاح۔ اور سفیہ بنے گی ہمارے خاندان کی بہو۔۔۔ اکلوتی بہو۔۔ مالکن۔۔۔ !

اور پھر وہیں سے کنول نے فیصلہ لیا۔ کہ وہ آفتاب کو چوڑ کے چلی جاۓ گی۔ اس کا دل بری طرح ٹوٹا تھا۔

ٹھیس لگی اور ٹوٹا۔۔۔

دل کا نازک شیشہ ۔۔

یہ کھیل نصیبوں والا۔۔

کوٸ ہارا کوٸ جیتا۔۔۔

اس پل۔۔ خان کو خود ے جدا ہوتا وہ دیکھ نہ پاٸ۔

اور پھر اس سے پہلے کہ خان نکاح کرتا وہ اپنے دل پے پتھر رکھے انتہاٸ سخت فیصلہ کر گٸ۔ مون کو وہیں باپ کے پاس چھوڑ۔ وہ ملکہ کو لیے منہ اندھیرے گھر سے نکل گٸ۔ بنا کسی کو بتاۓ۔۔

جس کا دکھ آج بھی آفتاب خان کو تھا۔

اسے کنول کی بے یقینی نے مارا تھا۔ وہ سفیہ کو دو منٹ میں مزہ چکھا سکتا تھا۔ لیکن۔۔ کنول کی باتوں پے وہ ضد میں آگیا تھا۔ کیونکہ وہ تو اپنی تھی نا۔۔۔؟؟؟؟

ہمیں تو اپنوں نے لوٹا

غیروں میں کہاں دم تھا۔۔

ہماری کشتی وہاں ڈوبی۔۔

جہاں پانی کم تھا۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *