Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 ( Last Episode)

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan

اب آپ جا سکتے ہیں یہاں سے۔۔ ! خان۔۔۔! ارسل جنازے کے بعد آفتاب کو کھردرے لہجے میں کہتے زیشان کو اپنے ساتھ لگایا تھا۔

ارسل۔۔۔؟؟ آفتاب نے کچھ کہنا چاہا۔ کہ ارسل نے ہاتھ اٹھاتے اسے چپ کرا دیا۔ اور ایک دکھتی نظر اس پے ڈالی۔ بھاٸ تو بہنوں کے محافظ ہوا کرتے ہیں۔۔۔ ! آپ ۔۔ سے یہ امید نہ تھی۔۔۔ ! ارسل ایسا کچھ نہیں۔۔ عظمی بہن تھی میری۔۔ !میرے لیے وہ۔۔؟؟ کچھ نہیں تھی۔۔۔! ارسل نے اس کی بات کاٹی۔ بہتر ہوگا۔۔ آپ اب یہاں سے چلے جاٸیں۔۔یہ نہ ہو۔۔میں اپنے صبر کا پیمانہ کھو دوں۔۔۔! اور آپ جیسا بن جاٶں۔۔ جب کہ میں۔۔بن نہیں سکتا۔۔۔ میں اپنی بہن کے سر کا ساٸبان نہیں چھین سکتا۔۔۔! ارسل نے اسے سختی اور دکھ بھرے لہجے میں کہتے تپتے صحرا میں لاکھڑا کیا۔

ارسل۔۔۔پتر۔۔ میر ی دھی کا خون اتنا سستا نہیں۔۔ کہ معاف ہو جاۓ۔ یاد رکھنا۔ ۔آفتاب شیر خان۔۔۔ ! خان ہیں ہم۔۔۔ خون کے بدلے خون ہی لیں۔۔ گے۔۔۔! جاوید خان نے للکارتے ہوۓ کہا۔ تو آفتاب نے دانت کچکچاتے اسے دیکھا۔

پہلے یہ تو ثابت ہو۔۔ کہ یہ۔ ۔سب۔۔ میرے بھاٸ نے کیا ہے۔۔ تو خون کے بدلے خون میں خود دوں گا۔۔ لیکن۔۔ یاد رکھنا جاوید خان۔۔ ! جو سازش تم نے میرے خلاف کی۔۔ اسکا بدلہ تو تمہیں جلد یا بدیر ۔۔دینا ہی ہوگا۔۔ لیکن۔۔ ! انگلی اٹھاتے وارن کیا۔ اگر ۔۔ یہ بات غلط ثابت ہوٸ۔۔ تو۔۔ تمہیں موت کے گھاٹ میں خود اتاروں گا۔۔ شیر کی سی للکار سے اسے جھاڑتے وہ وہاں سںے اپنے آدمیوں کے ہمراہ نکلتا چلا گیا۔

جاوید خان ایک پل کو سہما تھا۔ لیکن اگلے ہی پل وہ ارسل کے پاس کھڑا ا سکی دل جوٸ کرتا اسکے کان بھر رہا تھا۔

✅
✅
✅
✅
✅
✅
✅
✅
✅
✅
✅

علی شیر نے اب کی بار آفتاب کو ساری بات بتا دی۔۔ کس طرح شہیر نے اسے ڈھونڈنے کیکشش کی۔ اور جب اسے یہ پتہ چلا کہ۔۔ خان پیلس کے جاوید خان اس سب میں شامل ہے۔۔ تو وہ۔۔ یہاں پہنچا۔ اس کے بعد خان پیلس میں کیا ہوا۔۔؟؟ وہ غفار ہی بتا سکتا ہے۔۔! اور غفار کو گولی لگی تھی۔ وہ ہاسپٹل میں تھا۔ آفتاب نے سختی سے آنکھیں موندتے سر سیٹ کے ساتھ لگایا۔ گاڑ حیدرآباد سے کراچی کی طرف رواں دواں تھی۔ اسے جلد از جلد کراچی پہنچنا تھا۔ اور شہیر سے مل کے بات کلٸیر کرنی تھی۔ اس کا دل نہیں مان رہا تھا۔ کہ وہ عظمی پے گولی چلا سکتا ہے۔۔ اور اگر ایسا ہوا بی تھا تو ۔۔ کیوں۔۔؟ وہ وجہ جاننا چاہتا تھا۔۔ کیوں کہ غفار کو گولی لگنے کا مطلب ہے کہ دونوں طرف سے گولیاں چلی تھیں۔ اور اس میں۔۔ عظمی کو غلطی سے۔۔؟؟ لیکن۔۔ یہ سب شہیر کے خلاف جا رہا تھا۔ کیونکہ وہ ان کے گھر جا کے گولیاں برسا کے آیا تھا۔ وہ بہت غلط کر آیا تھا۔ اوپر سے۔۔ اب مزید ایک اور غلطی کر گیا۔۔ جس کا خمیازہ سے اب شاید ساری زندگی بھگتنا پڑتا۔

⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕
⭕

آفتاب خان کی گاڑی جیسے ہی خان منشن میں داخل ہوٸ۔ سبھی کے دل بری طرح لرزے تھے۔ کنول نے تبسم بیگم کی جانب ڈرتے ہوۓ دیکھا۔

خان آندھی طوفان کی طرح اندر آیا تھا۔

شہیر۔۔ خان۔۔؟؟ شہیر خان۔۔؟؟ آفتاب پوری قوت سے چلایا تھا۔ لیکن شہیر خانزادہ ہوتا تو۔۔ سامنے آتا ناں۔۔؟؟ کہاں ہے ۔۔شہیر ۔۔؟؟ آفتاب نے کنول کی جانب دیکھتے سختی سے پوچھا۔ کنول نے لرزتے دل سے آفتاب کی طرف دیکھا ۔ میں نے کچھ پوچھا ہے۔۔؟؟ کہاں ہے۔ شہیر۔۔؟؟ آفتاب کو کچھ غلط ہونے احساس ہوا۔ خان۔۔! آپ ۔۔ غصہ میں ہیں۔ آپ۔۔؟؟ کنول نے بات کرنا چاہی کہ۔۔۔! آفتاب نے غصہ سے پاس پڑا واس گرا کے کے توڑ دیا۔ کنول سہم کے پیچھے ہٹی۔ شہیر خانزادہ کہاں ہے۔۔؟؟ سرد و سپاٹ لہجے میں پوچھا تھا۔ کنول کو کچھ بھی صحیح نہیں لگ رہا تھا۔ سناٸ نہیں دے رہا ۔۔؟؟ کیا پوچھ رہا ہوں میں۔۔؟ آفتب کا غصہ سے برا حال تھا۔ کنول نے مدد طلب نظروں سے تبسم بیگم کو دیکھا۔ بیٹا۔۔۔ وہ جا چکے ہیں۔۔۔!بالآخر کہہ ہی دیا ۔ جا چکے ہیں۔۔؟؟ آفاب نے دانت پیستے حیرت سے مڑ کے انہیں دیکھا۔ کیوں۔۔؟؟ اییییایک۔۔۔ منٹ۔۔۔! اس کا مطلب۔۔؟؟ جاوید خان۔۔؟؟ سچ کہہ رہا تھا۔۔؟؟ آفتاب کو اپنی آواز کسی کھاٸ سے آتی سناٸ دی۔۔۔

آپ کو جاوید خان نے کیا کہا کیا نہیں۔۔ لیکن۔۔ ایک بات سچ ہے شہیر بھاٸ بے گناہ ہیں۔ یہ اب تم مجھے بتاٶ گی۔۔؟؟ آفتاب کنول کی بات پے غصہ سے مڑا تھا۔ کہ سہم کے پیچھے ہٹی۔ خود پے بمشکل کنٹرول کرتا وہ کال ملانے لگا۔ علی شیر ۔۔۔ ! مجھے شہیر خان چاہیے۔۔ ہر حال میں۔۔۔! چاہے زندہ۔۔۔ یا مردہ۔۔۔! آفتاب خان نے سفاک لہجے میں کہتے پاس کھڑی ماں اور بیوی کو حیرانی کی اتھاہ گہراٸیوں میں ڈال دیا۔

خان۔۔؟؟ یہ آپ۔۔؟؟ کیا ۔۔؟؟ بھاٸ ہے وہ آپ کا؟؟ اور آپ۔۔؟؟ جسے میں منوں مٹی تلے دفنا کے آرہا ہوں۔۔ وہ بھی میری بہن تھی۔۔۔! تبسم بیگم کی بات کاٹتا وہ سختی سے کہتا ان کی طرف مڑا۔ اپنے۔۔ اپنے انہی ہاتھوں سے۔۔ اسے۔۔ میں۔۔ نے

۔ قبر میں اتارا ہے۔۔۔! آفتاب کا لہجہ روندھ گیا۔ وہ ضبط کے کن کڑے مراحل سے گزر رہا تھا۔ یہ وہی جانتا تھا۔ نہیں معاف کرسکتا۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔! اور اس بار۔۔ کوٸ بیچ میں نہیں بولے گا۔ کنول کے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ انگلی اٹھاتا وارن کرتا وہ وہاں سے تن فن کرتا باہر نکل گیا ۔ اب کیا ہوگا۔۔؟؟ مما۔۔؟؟ کنول نے گھبرا کے تبسم بیگم کی جانب دیکھا ۔ شاید۔۔۔ ہم سے ہی غلطی ہو گٸ ہے۔۔ ہمیں۔۔ شہیر خانزادہ کو۔۔۔ جانے کو نہیں کہنا چاہیے تھا۔۔ اس کا جانا۔۔ اس کے حق میں ۔۔ غلط ثابت ہو رہا ہے۔۔ اللہ سے دعا ہے۔۔ کہ وہ شہیر کی حفاظت کرے۔ آمین۔۔۔! دونوں ہی پریشانی سے وہاں بیٹھیں اللہ سے دعا کر رہی تھیں۔

#######@

جیسے ہی آفتاب تک شہیر خانزادہ کے مل جانے کی اطالاع پہنچی۔ وہ بھی اس جگہ پے پہنچا۔

شہیر خانزادہ اپنی فمیلی کے ساتھ گاڑی میں ہی پکڑا گیا تھا۔ آگے پیچھے سے اسے گاڑیوں نے کور کیا۔ انابیہ کا دل کسی برے وسوے سے دھڑکا۔

پلیز۔۔۔ خان۔۔! آپ ۔۔ ؟؟ باہر نہیں جاٸیں گے۔۔۔ انابیہنے اس کاہاتھ تھاما۔ انا۔۔۔! میں جانتا تھا۔۔ آفتاب خان ہم تک پہنچ جاۓ گا۔۔ فرار کا راستہ چن کے غلططی کی۔۔ لیکن۔۔ اب میں مزید کوٸ غلطی نہیں دہرانا چاہتا۔ پلیز۔ اب نہیں روکنا۔۔۔! شہیر نے اسے نرمی سے سمجھایا ۔ اور گاڑی سے باہر نکلا۔ بچوں نے سہم کے ماں کی جانب دیکھا۔ خانم نے انہیں اپنے ساتھ باتوں میں لگایا۔ وہ نہیں۔۔ چاہتی تھیں۔۔ کہ بچے کیس بھی طرح کا کوٸ خون خرابہ جیسی چیز دیکھیں۔۔

خان۔۔؟؟ آفتاب کو اپنے سامنے پاتے شیر نے کچھ کہنے کے لیے لب وا کیے۔۔ لیکن خان نے ہاتھ اٹھاتے کچھ بھی بولنےسے منع کر دیا۔ اس کے چہرے پے چٹانوں سی سختی تھی۔ اپنے ساتھ کھڑے آدمی سے گن لیتا اس نے اسے لوڈ کیا۔ اسی پل انابیہ فوراً باہر نکلی اور شہیر کا ہاتھ تھاما۔ پتھراٸ نظروں سے اس نے آفتاب کی جانب دیکھا جس کا نشانہ اب شہیر خانزادہ تھا۔ تم نے ۔۔ بہت غلط کیا۔۔ ؟؟ بھاٸ کہا تھا تمہیں۔۔؟؟ اور۔۔ تم نے۔۔؟؟ کہتے ہوۓ گن تانی کہ شہیر مسکایا۔ آپ کولگتا ہے۔۔ کہ میں قصور وار ہوں۔۔؟؟ شہیر کے لہجے میں درد تھا۔ تم۔۔ ہو شہیر خانزادہ۔۔۔! آفتاب چلایا۔ اگر تم ب گناہ ہوتے تو۔۔ کبھی نہ بھاگتے۔۔۔! آفتاب کی بات پے انابیہ نے سہمتےہوۓ شہیر کی جانب دیکھا۔ آج پھر وہ شہیر کے لیے غلط ثبت ہوٸ تھی۔ شہیر نے اسکی جانب ایک نظر بھی نہ دیکھا وہ سامنے آفتاب کو ہی دیکھے جا رہا تھا۔ اب ۔۔ کچھ بھی کہنے کو باقی نہیں بچا۔۔۔!اگر آپ کو لگتا ہے۔۔ میں نے ہ سب کیا ہے۔۔ تو شہیر خانزادہ کا سینہ حاضر ہے۔۔ چلاٸیں گولی۔۔۔ اور لے لیں بدلہ۔۔۔! شہیر نے بانہیں وا کرتے بنا ڈرے آفتاب شہیر خان سے کہا ۔ ایک پل کو موت کا سا سناٹا چھا گیا۔ آفتاب نے نشانہ لگایا۔ کہ اسی پل انابیہ شہیر کے سامنے آگٸ۔ نہیں۔۔ ! بھاٸ۔۔! آپ کو مارنا ہے تو۔۔ مجھے مار ڈالیں۔۔ ایک بہن آپ کی چلی گٸ ۔۔آپ اپنی دوسری بہن کو بیوہ کرنے آآگۓ۔۔؟؟ تو ٹھیک ہے۔۔ بدلہلینا ہے ناں۔۔ آپ نے۔۔ تو ۔ مجھے مار کے لے لیں۔۔ لیکن۔۔ میرے بچو ںکے ساٸیباں کو مت چھینیں۔ انابیہ کی روتی آواز سنتے آفتاب نے لب بھینچے۔ انابیہ اسے بہنوں کی طرح عزیز تھی ۔وہ کیسے۔۔ اس پے یہ ظلم کر سکتا تھا۔۔۔؟؟ آفتاب نے ضبط کرتے رخ پھیرا۔ سختی سے آنکھیں موندیں۔ چلے جاٶ۔۔ یہاں سے۔۔۔! اتنی دور۔۔ کہ آفتاب شیر خان۔۔ تم تک نہ پہنچ سکے۔۔ ورنہ۔۔ سب ختم ہو جاۓ گا۔۔۔!

خان۔۔؟؟ شہیر نے پکارنا چاہا۔ جاٶ۔۔۔۔! آفتاب بنا ان کی جانب دیکھے چلایا۔ انابیہ نے شہیر کا ہاتھ تھاما۔ او نفی میں سر ہلایا ۔ کہ جیسے ابھی کچھ بھی کہنا سننا بےکار ہے۔۔ شہیر نے سختی سے لب بھینچے۔ ایک نظر پھر سے آفتاب کی پشت کو دیکھا۔ اور انایبیہ کے ساتھ جاتے گاڑی میں بیٹھا۔ اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خان کو اپنے بھاٸ دوست۔۔ اپنے خیرخواہ۔۔ اپنے ساۓ کو خیرآباد کر گیا۔ جب کہ راز اس کے سینے میں ہی دفن ہوگیا۔

آفتاب شیر خان نے بھی واپسی کی راہ لی۔ وہ جانتا تھا اب اسے آگے کیا کرنا ہے۔ شہیر خانزادہ کو اسے نے نکلوا تو دیا تھا اب۔۔ ہر چیز کا ہر بات کا سامنا اسے خود کرنا تھا۔ اور وہ کرنے والا تھا۔

#######

کچھ دن بعد۔

پنچاٸیت لگی تھی۔۔ سب ڈیرے پے موجود تھے۔ معاملہ پنچاٸیت میں حل ہونا تھا۔ جس کا سربراہ خود آفتاب شیر خان تھا۔ لیکن باقی گاٶں کے بھی سرپنچ شامل تھے۔ کینوکہ معاملہ خود سرپنچ پے آیا تھا۔ خان۔۔۔! جیسے کہ۔۔ آپ کے بھاٸ نے ان کی عورت کو مارا ہے۔۔ تو بدلے میں یا تو۔۔ خون کے بدلے خون ہو گا۔۔؟؟ یا خون بہا۔۔۔؟؟ سر پنچ فاضل خان گویا ہوۓ۔

میں ہر چیز کے لیے تیار ہوں۔۔! خان نے گہرا سانس خارج کیا۔ جاوید خان نے ایک نظر ارسل کو دیکھا۔ اور دوسری طرف۔۔۔۔ عظمی کے بیٹے زیشان کی طرف۔۔! ٹھیک ۔۔ ہے۔ ہمیں خون بہا میں شہیر خانزادہ کی بیٹی چاہیے۔۔

جاوید۔۔ خانن۔۔؟؟؟؟ آفتاب غصہ سے چلایا تھا۔ کہ جاوید خان ایک پل کو سہما ۔ خود پے قابو رکھیں۔۔ آپ کو یا تو شہیر خانزادہ کو پیش کرنا ہوگا۔۔ یا خون بہا۔۔ میں۔۔ ؟؟

میں اپنی بیٹی دینے کو تیار ہوں۔۔! خان نے پل کے ہزارویں حصہ میں یہ فیصلہ کیا۔ سبھی کی حیران نظریں اس پے اٹھیں۔ کیا آپ۔۔؟؟ واقعی۔۔؟؟ دیکھیں۔۔۔! قتل۔۔۔ شہیر خانزادہ ہے۔ تو بیٹی بھی۔۔؟؟ آپ کو سننے میں۔۔ مسٸلہ ہے کیا۔۔؟؟ آفتاب شیر خان۔۔ اپنی بیٹی اپنے جگر کا ٹکڑا دے گا۔۔ زیشان ارسل خانزادہ کو۔۔۔! آفتاب نے انکی بات ٹوکی۔ لیکن۔۔ شہیر۔۔؟؟ خبردار جو اب کسی نے شہیر خانزادہ کا نام بھی لیا تو۔۔۔! بھول جاٶں گا۔۔ میں۔۔۔!کہ یہ پنچاٸیت ہے۔۔۔! آفتاب اپنی ٹون میں بولا تو سبھی کو سانپ سونگھ گیا۔ ہمیں منظور ہے۔۔۔! جاوید خان فوراً ہی بولا۔ آفتاب نے مٹھیاں بھینچیں۔ ارسل نے ایک نظر جاوید خان کو دیکھا اور دوسری نظر آفتاب کو۔۔ اس نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ایسا وقت بھی آۓ گا۔۔ کہ اپنی ہی بیوی کی خواہش ایسے پوری ہوتی دیکھے گا۔ ہاں۔۔ یہ عظمی کی خواہش تھی کہ ملکہ اسی کی بہو بنے۔ لیکن۔۔؟؟ اسی کے خون بہا میں وہ آۓ گی۔۔؟؟ ایسا تو نہ سوچا نہ چاہا۔ اور پھر فیصلہ ہو گیا۔ آفتاب نے ملکہ کا عقد زیشان کے ساتھ طے کر دیا۔ کنول ے بہت واویلا مچایا۔ لیکن اس کی ایک نہ سنی گٸ۔

آپ ۔۔۔ کیسے۔۔؟؟ اتنا بڑا ظلم کر سکتے ہیں۔۔ وہ۔۔ ابھی چار سال کی بھی پوری نہیں ہوٸ۔۔ اور آپ اسے۔۔ خون بہا میں۔۔؟؟ میں ایسا نہیں ہونے دوں گی۔۔ سنا۔آپ نے۔۔۔! کنول ملکہ کے آگے ڈھال بن گٸ۔ یو نو۔۔ کنول۔۔۔! اسسب کی کہیں نہ کہیں۔۔ تم بھی زمہ دار ہو۔۔ شہیر کو یہاں سے بھگانے میں تم بھی شامل تھی۔۔۔ اگر وہ نہ بھاگتا تو۔۔؟؟ وہ بھاگے نہیں۔۔! مجبور ہو کے گۓ تھے۔ لیکن۔۔ وہ بے گناہ ہیں۔۔ اور ایک ایسے گناہ کی سزا آپ میری بچی کو دے رہے ہیں۔ جو ۔شہیر بھاٸ نے کیا ہی نہیں۔۔! کنول نے غصہ سے بات کاٹی۔ فیصلہ ہو چکا ہے۔۔ یا شہیر کی لاش۔۔ یا۔۔ ملکہ کا عقد زیشان۔۔سے۔۔ اور زیشان۔۔ پے مجھے پورا بھروسہ ہے۔۔ ! میری بہن کا بچہ ہے وہ۔۔۔! میرے لیے بہت اہم ہے۔۔ ! لیکن بھولیں مت۔۔ آپ اپنی بیٹی کا عقد اس کے ساتھ خون بہا میں کروا رہے ہیں۔۔ جو میری سمجھ س بالاتر ہے۔ تم نہ ہی سمجھو تو۔۔ بہتر ہے۔۔ آفتاب نے اپنا والٹ اٹھاتے کہا۔ کنول نے اسے دکھی نظروں سے دیکھا۔ آپ اتنے ظالم کیسے ہو سکتے ہیں۔۔؟؟ اپنی بیٹی کو۔۔؟؟ نہیں کر رہا میں دشمنوں کے حوالے اسے۔۔ بھروسہ رکھو مجھ پے۔۔! آفتب نے آخر کار اسے تسلی دے دی۔ کنول نے سر جھکا کے آنسو پونچھے۔ تو آفتاب نے گہرا سانس خارج کیا۔ جو ہو رہا ہے۔ اسے ہونے دو۔۔۔! میں ٹھیک کر دوں۔۔ گا۔۔۔ سب۔۔۔! کچھ دیر میں وہ سب آنے والے ہیں۔۔ تو۔۔ ملکہ۔۔۔؟؟ کو ریڈی۔۔ کر دیں۔۔ ! کہتے ہوۓ آفتاب کا دل دکھا تھا۔ اور کس کرب سے گزر تھا یہ وہی جانتا تھا۔ اور واقعی تھوڑی دیر تک وہ سب خان منشن پہنچ چکے تھے۔ ملکہ کو دوپٹہ اوڑھاۓ وہ اس کا نکاح کر چکے تھے۔ کنول نےاسے اپنے گلے لگایا۔ ہمیں رخصتی بھی آج ہی چاہیے۔ جاوید خان نے نیا شوشہ چھوڑ دیا۔ اگر اپنے قدموں پے ل کے جانا چاہتے ہو۔۔ تو اپنی زبان کو لگام دو۔۔ آفتاب نے اسی وقت اس کو کرارا سا جواب دیا کہ وہ منھ بسورتا رہ گیا۔ رخصتی بچی کے بالغ ہونے یا اٹھارہ سال کا ہونے پے ہی ہو گی۔۔۔! فاضل خان نے اونچی آواز میں سب کو اطلاع پہنچاٸ۔ اور اس بار کوٸ اعتراض سامنے نہ آیا۔

آج آفتاب نے اپنے بھاٸ کی زندگی کو بچایا تھا۔ اپنے جگر گوشہ کی قربانی دے کے۔ لیکن وہ جانتا تھا۔ حالات کو کسیے اپنے رخ موڑنا ہے۔۔ اور یہ تو آنے والے وقت نے ہی طے کرنا تھا۔ کہ اس عقد کی کتنی ویلیو تھی۔ اور یہ رشتہ کہاں تک چلتا۔۔۔۔؟؟؟ وہیں دوسری طرف۔۔ شہیر خانزادہ۔۔ ملک چھوڑ کے جا چکا تھا۔ آنے والے وقت سے بے خبر۔۔! او گزرے وقت سے بھی بے خبر۔۔ کہ اس کے جانے کے بعد۔۔ آفتاب نے کیا قربانی دی۔۔۔! لیکن دونوں نے ہی اپنے رشتہ کو بچایا تھا۔

ختم شد۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *