Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 02)

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan

سر ۔۔آ رہے ہیں۔۔۔۔ سر آرہے ہیں۔۔

پورے آفس میں شور برپا ہوا تھا۔

سبھی الرٹ ہوتے اپنی اپنی سیٹوں پے کھڑے ہو چکے تھے۔

وہ ایک کروفر سے چلتا ہوا اپنے ہی آفس کی بلڈنگ میں داخل ہوا تھا۔

وہی دبنگ انداز ۔۔ وہی چہرے کی سنجیدگی۔۔۔ وہ ازلی سرد پن۔۔۔ جیسے چہرہ ایک عرصے سے مسکرانا ہی بھول گیا ہو۔۔۔! مسکراہٹ لفظ سے ناآشنا۔۔ اسکے گلابی لب۔۔ آج بھی وہ ویسا ہی تھا۔ بلکہ پہلے سے بھی زیادہ مردانہ وجاہت ابھر آٸ تھی۔ اسکی آنکھوں کا سرد پن اسے ہر لڑکی کا کرش بنا چکا تھا۔ اور اک وہ تھا۔ کسی کی طرف آنکھ اٹھا کے دیکھنا بھی گوارا نہ کرتا تھا۔

ان گزرے تین سالوں نے اسکا کچھ نہیں بگاڑا تھا۔ بس فرق صرف اتنا آیا تھا۔ اب اسکے چہرے پے بیٸرڈ نے جگہ لے لیے تھی۔ اور آنکھوں پے گلاسز نے۔ اسکی شہد رنگ آنکھوں میں سرد پن سامنے والے کو ٹھٹھکنے پے مجبور کر دیتا تھا۔

لفٹ سے نکلتا وہ اپنے آفس کی جانب بڑھا

سیکرٹری اسکے ساتھ ساتھ ہی تھا۔

سب نے ہی اسے سلام کیا تھا۔ جس میں کسی کا بھی رک کے جواب دنا اس نے ضروری نہ سمجھا تھا۔

اپنے آفس آتے ہی وہ سیٹ پے بیٹھتا کوٹ کے آگے کے دو بٹن کھول چکا تھا۔

زلفی۔۔۔!آج کی ڈیٹیل؟

لیپ ٹاپ آن کیے وہ زلفی سے آج کی میٹنگز کے حوالے سے ڈیٹا لینے لگا۔

اسکی بات سنتے ہوۓ وہ اک پل کو ماضی میں گم ہوا۔

مجھے۔۔۔ یہ شہر اچھا نہیں لگتا۔۔۔بہت سی تلخ یادیں جڑی ہیں اس شہر سے۔۔۔بہت کچھ کھویا ہے یہاں پے۔۔!

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

کیا کچھ پایا ہم نے۔۔۔؟؟

اور سب کچھ کھو دیا۔۔۔

💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔
💔

سر۔۔؟؟؟ آپ نے بتایا نہیں۔۔؟ زلفی نے دھیرے سے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

کس بارے میں پوچھ رہے تھے۔۔۔؟؟ لیپ ٹاپ پے نظریں جماۓ انتہاٸ سنجیدگی سے پوچھا۔

سر۔۔۔! علی زمان کے ساتھ آج آپ کی امپورٹنٹ میٹنگ ہے۔

ٹھیک ہے۔۔۔ یو مے گو۔ ناٶ۔! آفتاب نے اسے جانے کا اشارہ کیا۔۔۔۔ وہ فوراً باہر نکلا۔ اور گہرا سانس خارج کیا۔

وہ کوٸ اور نہیں۔۔۔ آفتاب ہی تو تھا۔۔۔۔آفتاب شیر خان۔۔!اپنے نام کی طرح صرف ایک۔

بزنس کی دنیا کا بے تاج بادشاہ۔

آفتاب شیر خان۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

ایس پی۔۔۔! اگر ۔۔۔ مہربانی کریں تو تھوڑی توجہ مجھے بھی دے دیں۔۔؟

کومل نے طنزیہ کہا۔ تو کاظم نے بھنوٸیں اچکاٸیں۔

جی حکم۔۔۔؟؟ کاظم من و عن اسکی طرف متوجہ ہوا۔

تین سال ہوگٸے۔۔ ایک کام آپ سے کہا وہ بھی آپ نہیں کر سکے۔۔۔؟

کومل افسردگی سے بولی تھی۔

کوشش کر تو رہا ہوں۔۔۔۔! کاظم وہیں پاس بیٹھ گیا۔

اگر اتنی سی بھی ۔۔۔ اتنی سی بھی کوشش کی ہوی۔۔۔ تو ایٹ لیسٹ۔۔۔۔۔ اتنا تو پتہ لگا لیتے۔۔ کہ کنول ہے کہاں ۔۔۔؟ ان تین سالوں میں آپ یہ تک پتہ نہ لگا سکے۔۔۔

کومل ہاتھ کے اشارہ سے بولتی رخ پلٹ گٸ۔

اچھا تم بتاٶ۔۔۔؟؟ کہاں ڈھونڈو۔۔۔؟ کنول بھابھی کو۔۔۔؟؟ کاظم نے اسکا رخ اپنی طرف موڑا۔

مجھے نہیں پتہ۔۔۔ وہ روہانسی ہوٸ۔

اچھا۔۔۔ فکر نہیں کرو۔۔۔ پتہ لگ جاۓ گا۔۔۔ جلد ہی۔۔۔!

اپنی جگہ سے اٹھتے وہ پولیس یونیفارم پہنے خود کو آٸینے میں دیکھنے لگا۔ ۔ جبکہ کومل ایک دم سے چپ ہی ہوگٸ۔

ان تین سالوں نے ان کی زندگیوں کو بدل کے رکھ دیا تھا۔

کنول کا اچانک سے خان ولا چھوڑ کے چلے جانا۔۔۔ اور ساتھ میں ایک سال کی بیٹی کو بھی لے کے۔۔۔!

کومل تین سال سے بہن کے لیے تڑپ رہی تھی۔ ملی بھی تو ایسے کہ پھر سے جدا ہوگٸ۔

اداس مت ہو۔۔۔ مل جاٸیں گیں۔۔ کنول بھابھی۔۔! کاظم نے اسے حوصلہ دیا تھا۔

کاظم ! آپ کو پتہ ہے۔۔۔ اگر آفتاب اسے ڈھونڈتے ۔۔

۔۔ تو وہ اب تک مل چکی ہوتی۔۔۔ لیکن۔۔۔؟؟

اسکی آنکھیں نم ہوٸیں۔

کاظمنے اسے اپنے ساتھ لگایا۔

فکر نہ کرو۔۔۔ جب دونوں کے بیچ غلط فہمیاں ختم ہوں گی۔ تو سب کچھ خود بخود ٹھیک ہو جاۓ گا۔

آپ ایک بات بتاٸیں۔۔۔؟ سچ سچ بتانا۔؟؟ کیا واقعی آفتاب نہیں جانتے ہوں گے۔۔؟؟ کہ کنول کہاں ہے۔۔۔؟؟ انکی بیٹی کہاں ہے۔۔۔ ۔؟ کتنے پرسکون ہیں وہ تین سال سے۔۔۔جیسے سب کچھ ٹھیک ہو ان کی لاٸف۔۔۔ میں۔۔؟؟

کومل ہزار بار کی کہی بات پھر سے دہرا رہی تھی۔

آپ مانیں یا نہ مانیں۔۔۔ میرا دل کہتا ہے۔۔ وہ جانتے ہیں۔۔۔ ان کے بیوی اور بیٹی کہاں ہیں۔۔۔!

اچھا۔۔۔ پھر۔۔۔ کیا ہوگا۔۔۔؟؟ پتہ بھی ہو تو۔۔۔؟؟

کاظم کا آج تسلی بھرا جواب کومل کو ٹھٹھکا گیا۔

مطلب۔۔۔۔؟؟ وہ جانتے ہیں۔۔۔!

یو نو۔۔کاظم۔۔۔! اگر آج میں دیکھ سکتی۔۔۔ تو اب تک اپنی بہن کو ڈھونڈ چکی ہوتی۔

وہ اٹھ کے تلخی سے کہتی دور جا کھڑی ہوٸ۔

کومل۔۔۔! یار۔۔۔ کیوں آج اتنا غصہ ہو رہی ہو۔۔۔؟ اور نیگیٹو سوچ رہی ہو۔۔؟؟ کاظم کو اسکی فکر ہوٸ۔۔

مجھ پے بھروسہ ہے ناں۔۔۔؟؟ اسے پکڑ کے اپنی طرف کیا۔ اسکے چہرے پے خفگی تھی۔

بس تھوڑا انتظار کر لو۔۔۔! میں پتہ لگا لوں گا۔۔۔ وعدہ۔۔۔! کاظم نے اسکے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں لیتے محبت سے کہا۔

وعدہ ناں۔۔۔؟؟؟ وہ ناز سے بولی۔

کاظم نے اسکے ماتھے پے پیار بھرا بوسہ دیا۔

پکا وعدہ میری جان۔۔۔! اسے سینے سے لگاتا وہ اسے پرسکون کر گیا تھا۔

کاظم جانتا تھا۔ کومل کو کیسے پرسکون کرنا ہے۔

ان تین سالوں میں کاظم نے آفتاب کو ٹوٹا بکھرا نہیں دیکھا۔ دیکھا تو بس۔۔ بنا کسی تاثر کے۔۔۔ ! اور کرب میں مبتلا۔۔۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

دور منزل ہے

راہگزر تنہا

رستہ

ختم ہی نہیں ہوتا۔۔۔

ریزہ ریزہ ہیں

خواب آنکھوں میں

کیسے کہہ دوں کہ

غم نہیں ہوتا۔۔۔۔

کوٸ شکوہ نہیں

مگر مولا!

کیا کروں۔۔۔

درد کم نہیں ہوتا۔۔۔۔

درد کم نہیں ہوتا۔۔۔۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

مونس ۔۔۔

!میری جان۔۔۔! یہاں آٸیں۔۔ اور یہ دودھ پی لیں۔۔

تبسم بیگم نے پانچ سالہ مونس کے پیچھے بھاگتے ہوۓ اسے پکارا تھا۔۔

میں نہیں آٶں گا دادو۔۔۔۔! مجھے نہیں پسند ۔۔۔!آپ پی لیں۔

آگے سے مشورہ دیا گیا۔

ارے۔۔ بڑی بیگم۔۔۔ آپ سے نہیں سنبھالا جاۓ گا۔۔۔! بہت شرارتی ہے یہ۔۔۔ ! لاٸیے۔۔۔ ہمیں دیں۔۔۔!

گورنس ناجیہ نے مسکراتے ہوۓ تبسم بیگم کے ہاتھ سے دودوھ کا گلاس لے لیا۔

دودھ نہ پینے کے معاملے میں یہ سارا ماں پے گیا ہے۔۔۔!

تبسم بیگم مسکراتے ہوۓ ایک چٸیر پے بیٹھ گٸیں۔

اور اپنے ہی الفاظ پے وہ خود ہی افسردہ ہوگٸیں۔

نجانے۔۔۔ کہاں ہو گی۔۔۔؟؟ کس حال میں ہوگی۔۔۔؟؟

اور میری پوتی۔۔۔ ملکہ۔۔۔؟؟ دو آنسو۔۔ ٹوٹ کے برسے تھے۔

کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ مونس پی لیجیے۔۔ پھر چاکلیٹ ملے گی۔۔ ناجیہ نے لالچ دیا۔

نہیں۔۔ کھانی۔۔۔ خود کھا لیں۔۔ وہ پورے گارڈن میں ناجیہ بی بی کو بھی بھگا رہا تھا۔

اور وہ بھی اب تھک سی گٸ تھیں۔

ناجیہ۔۔۔! یہ لے جاٸیں اور بادام والا دودھ لے آٸیں۔۔۔!

تبسم بیگم نے کہا تو ناجیہ سر اثبات میں ہلاتی اندر چلی گٸیں۔ جبکہ مونس بھاگتا ہوا ان کے پاس آیا۔

بس۔۔۔۔ تھک گٸیں۔۔۔؟؟ دادو۔۔۔۔؟؟ مونس نے ان کا ہاتھ پکڑ کے اپنی طرف متوجہ کیا۔

بیٹا۔۔۔! دودھ کیوں نہیں پیتے آپ۔۔۔؟؟ یوں تنگ کرتے ہیں۔۔۔؟؟؟

آپ ۔۔۔ تنگ کرتی ہیں۔۔ دادو۔۔۔ یو نو۔۔نہیں دودھ پسند تو نہیں پینا۔۔۔! آپ بادام والا دودھ دیا کریں۔۔ پھر پی لوں گا۔

وہ مسکراتے ہوۓ اپنی ہی کہی جا رہا تھا۔

کیوں۔۔؟؟ کوٸ مسٸلہ ہے ؟ اچانک سے آفتاب کی آمد پے دونوں چونکے۔

کچھ پوچھا ہے میں نے۔۔۔؟؟ کیوں دودھ نہیں پی رہے ؟ آفتاب کی سرد آواز پے مونس نے سہم کے دادی کو دیکھا۔

خان۔۔۔! وہ بچہ ہے۔۔۔ ! دھیمے لہجے میں بات کریں۔

تو ۔۔۔؟؟ ابھی سے یہ حال ہے۔۔۔ بڑے ہو کے کیا کرے گا۔۔۔؟؟

یہ لیں جی بادام والا دودھ۔۔۔۔! ناجیہ بی بی نے دودھ لاتے کہا۔ جبکہ سامنے آفتاب کو دیکھ وہیں رک گٸیں۔

واپس لے کے جاٸیں یہ۔۔۔!آفتاب نے لب بھینچے۔

آفتاب۔۔۔؟؟ بچہ ہے۔۔۔ اسے یہی پینا ہے۔۔۔ تو پینے دیں۔۔۔! تبسم بیگم کو آفتاب کے رویے پے دکھ ہوا۔

ایک بار بول جو دیا ہے۔۔۔ نہیں۔۔۔ تو نہیں۔۔۔! یہ میرا بیٹا ہے صرف۔۔۔ اور یہ وہی کھاۓ پیے گا۔۔ جو میں کہوں گا۔۔۔ آفتاب نے سخت لہجے میں کہا۔

معصوم مونس کی آنکھوں میں آنسو آگۓ۔۔۔

اس کے بابا بہت سخت تھے۔۔۔ لیکن کبھی کبھیار اتنے سخت ہوجاتے کہ اسے لگتا یہ اس کے سوتیلے بابا ہیں۔

ناجیہ دودھ واپس لے گٸیں۔

تبسم بیگم نے سر نفی میں ہلایا۔

اندر جاٸیں آپ۔۔۔! آفتاب نے مونس ک طرف دیکھتے کہا۔ تو وہ فوراً وہاں ںسے بھاگا۔

آفتاب ایک ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے ماتھے پے تیوری چڑھاۓ کھڑا تھا۔

کبھی کبھی۔۔۔ تو ہمیں حیرت ہوتی ہے۔۔۔ کہ آپ وہی آفتاب ہیں۔۔۔؟؟ یا کوٸ اور۔۔۔؟؟

تبسم بیگم نے اآفتاب کے پاس سے گذرتے دکھ سے کہا۔

آفتاب خاموش رہا۔

اسکی تلخی۔۔۔ اسکی زندگی کو بہت متاثر کر رہی تھی۔

اور اس سب کی زمہ دار صرف وہ ایک تھی۔۔ جو اس کی تھی۔

اسکا سب کچھ تھی۔۔

اسکی روح تھی۔۔۔

اسکے جینے کی وجہ تھی۔۔۔

بس۔۔ یہ ایک لفظ ہی تو تھا

تھی۔۔۔

ہاں وہ تھی۔۔۔

اب کہیں نہیں تھی۔۔۔

نہ دل میں نہ روح میں ۔۔ نہ زندگی میں۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *