Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan NovelR50506 Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 24)
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 24)
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha chohan
میں آٶں گی۔۔۔! ضرور آٶں گی۔ وصیت سننے۔۔۔! کنول نے آفتاب کی بات کی نفی کرنے کی خاطر دل کی بات ک پس پشت ڈالتی جانے کی ہامی بھر گٸ تھی۔
ٹھیک ہے۔ میں چلتا ہوں۔۔ اجازت۔۔۔! مسٹر امجد اجازت لیتے جا چکے تھے۔
ان کے جانے کے بعد کنول نے بھی رخ پھیرے وہں سے نکلنا چاہا کہ آفتاب خان نے اسکی کلاٸ پکڑ کے غصہ سے اپنی طرف کھینچا۔
تم ۔۔ خان حویلی نہیں جاٶ گی۔ ہر لفظ سخت غصہ سے کہتا وہ کنول کو وارن کر رہا تھا۔
میں جاٶں گی۔۔۔! مسٹر آفتاب شیر خان۔۔۔! کنول نے بھی غصہ سے اپنی کلاٸ چھڑاٸ تھی۔
وہاں جا کے تم نے پھر تماشا کرنا ہے۔ اور۔۔؟؟
اور۔۔ آپ نےپھر اس دو ٹکے کی لڑکی کا سا
تھ ینا ہے ہمیشہ کی طرح مجھے غلط ثابت کرن ہے۔
کنول نے تیز لہجے میں اس کی بات کاٹتے کہا۔
زبان۔۔۔کو قابو میں رکھو۔۔ ورنہ۔۔؟ وہ غصہ سے اسے ریب کر گیا۔
ورنہ کیا۔۔؟؟ کنول نے بھی اس کی آنکھوں میں جھانکتے پوچھا۔
ایک پل کو دونوں ک نظریں ملیں۔ دونوں کے دلوں میں ارتعاش برپا ہوا ۔ اور آفتاب خان موڑ گیا ۔
اور وہاں سے باہر نکلتا چلا گیا۔
وہ چاہ کے بھی اس پے ایک حد سے زیادہ سختی نہیں کر پارہا تھا۔ اس لیے کوشش کرتا تھا کہ اس کے سامنے کم ہی جاۓ۔









سوۓ ہوۓ معویہ کے گال پے دھیرے سے بوسہ دیتے شہیر اسے دیکھتا اپنی آنکھیں نم کر گیا۔ آج پہلی بار اپنے لخت جگر پے ہاتھ اٹھاگیا تھا۔
انابیہ رخموڑے سر تک کمبل تانے سو رہی تھی۔ یا سونے کا ناٹک کر رہی تھی۔ شہیر کافی دیر یونہی معاویہ کو دیکھتا رہا۔ وہ معصوم سو رہا تھا۔ اچانک سے شہیر کی آنکھ سے آنسو چھلک کے باہر آگیا۔ پھر سے معاویہ کے گال پے بوسہ دیتا وہ اس کاہاتھ تھامتا اس پے بھی لب رکھ گیا۔
ایم سوری۔ میری جان۔۔۔! بابا بہت برے ہیں۔۔ وہ دکھی تھی۔ اس کی رودنھی آواز پے انا نے پلٹ کے اسے دیکھا وہ جاگ رہی تھی۔
ایم سوری۔ ڈیڈا کی جان۔۔۔! اسے چومتا وہ اپنے دل میں ٹھنڈک اتارتا اٹھ کے لاٸیٹ آف کرتا بستر پے آیا تھا جہاں نابیہ سوتی بن گٸ۔
بنا اسے تنگ کیے وہ بھی ماتھےطپے بازو رکھے سونے کی کوشش کرتا آنکھیں موند گیا ۔ آج انابیہکو شہیر ٹوٹ سا اور دکھی محسوس ہوا۔ وہ جو اس سے ناراض ہونے کا سوچ کے بیٹھی تھی۔ دھیرے سے رخ پلٹتے شہیر کا بازو ہٹاتی اس کے سینے پے سر رکھ گٸ۔ اور اس کے گرد بازو حماٸل کرتی آنکھیں موند گٸ۔
شہیر نے بھی اسے بانہوں کے حصار میں لیا۔ اور اس کیجانب رخ کرتا اس کے ماتھے پے بوسہ دے گیا۔ اپنی بانہوں میں وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو ہمیشہ سمیٹ لیا کرتے تھے۔ اور یہی ایک وفا کی زبان تھی جو وہ بنا کہے ایک دوسرے کے حساسات کو سمجھ لیتے تھے۔ انہیں کبھی لفظوں کی ضرورت محسوس نہ ہوٸ تھی ۔












آج وہ پھر خان کے ساتھ خان حویلی موجود تھی۔ سفیہ اپنی پھوپھو کے ساتھ بھی وہیں تھی۔ اور انتہاٸ ضبط سے وہ کنول کو خان کے ساتھ بیٹھا دیکھ رہی تھی۔
وکیل صاحب نے وصیت کے اینولپ کو چاک کیا۔ اس سے پہلے کہ وصیت نامہ پڑھا جاۓ۔ یہ ایک خط ہے۔ جو خان بیگم نے آخری لمحات میں لکھواٸ تھی۔
سب ہمہ تن گوش ہوۓ۔
انہوں نےخط پڑھنا شروع کیا جس کے شروع میں انہوں نے سب سے اپنی اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگی تھی۔
ہم۔۔ بہت دلبرداشتہ ہوۓ ہیں۔ اور انسان بہت ٹوٹ جاتا ہے۔۔ جب کوٸ اپنا پیٹھ میں چھرا گھونپتا ہے۔ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہوا۔
جس سے سب سے زیادہ چاہا۔ گھر میں رکھا وہیں ہم سے ہمارے پوتے کو دور کرنے کی وجہ بن گٸ۔
سفیہ دل کا دھڑکا تھا۔ جب دوسری طرف کنول کو بھی خطرے کی گھنٹی سناٸ دی۔ ایک آفتاب شیر خان تھا۔ جو بنا کسی تاثر کے سپاٹ چہرے ک ساتھ وہاں موجود تھا۔
ہم نے اگر کسی کے ساتھ ب سے زیادہ زیادتی کی ہے تو۔۔ وہ کنول ہے۔۔ ہمارے خان کی بیوی۔ اس کی شریکِ حیات۔۔
کنول ۔۔ ! آپ یہاں موجود ہیں۔۔ ہمیں خوشی ہے۔۔۔ بیٹا ۔۔ ہ سکے تو ہمیں معاف کر دینا ۔۔ آپ سے آپ کی محبت کو چھیننا چاہا۔ آپ کے بچوں کو ماں باپ کے ساۓ سے محروم کر ڈالا۔ نجانے اللہ ہیں معاف کر پاۓ گا یا نہیں۔۔۔؟ لیکن۔۔۔ پھر بھی آپ سے ایک درخواست ہے۔۔ کہ ہمارے خان کی زندگی اندھیروں کی نظر مت کریں۔۔ ہمارے گناہ کی سزا انہیں مت دیں وہ بے قصور ہیں۔۔۔
ابھی وکیل صاحب وصیت پڑھ رہے تھے۔ کہ آفتاب شیر خان غصہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
اینف۔۔۔۔! اس خط کو ایک ساٸیڈ پے کریں اور وصیت پڑھیں۔
ماتھےکی ابھری رگوں کے ساتھ وہ غصہ ضبط کرتے بولا تھا۔
وکیل صاحب نے سوالیہ نظروں سے کنول کو دیکھا جس کی آنکھیں جھلملا اٹھی تھیں۔
مجھے سننا ہی یہ پوری تحریر۔۔۔ آپ پڑھیں پلیز۔۔۔! دھیمے لیکن مضبوط لہجے میں کہتی وہ آفتاب خان کے صبر کو آزما رہی تھی ۔ تو وہیں دوسری طرف سفیہ پیچ و تاب کھا رہی تھی۔
کنو۔ل۔۔۔۔! آپ کو سچاٸ جاننے کا پورا حق ہے۔۔۔ اور اس دن جو آپ نے دیکھا وہ سچ نہیں تھا۔
کنول کا دل بری طرح دھڑکا۔
وہ سب ایک پلاننگ کے تحت ہوا تھا۔ جان بوجھ کے سفیہ نے خان کو پھنسایا تھا۔ اور اس گناہ میں ہم بھی شامل تھے۔ اور یہی ہماری بدقسمتی تھی۔
خان۔! ہماری جان۔۔۔! اپنی دادی کو معاف کر دینا۔۔۔
کنول۔۔۔ ! خان کا کردار شیشے کی طرح پاک اور پاکیزہ ہے۔ وہ صرف آپ سے محبت کرتے ہیں۔ ان کی محبت کی قدر کیجیے ۔ انہیں سمجھیں۔۔ اور ہو کے تو ہمیں معاف کر دیجیے گا۔۔۔ آپ کی خان بیگم۔ ![]()
خط ختم ہو چکا تھا۔
کنول آنسو ضبط کرتی ہچکیوں سے رو رہی تھی
اس نے ان تین سالوں میں کیا کھو دیا۔۔۔؟؟ آج اسے شدت سے احساس ہو رہا تھا۔
وہ سچاٸ جو تین سال پہلے سامنے نہیں آٸ تھی۔ آج وہ خان بیگم جاتے جاتے بتا گٸ تھیں۔
امجد صاحب نے وصیت پڑھنی شروع کی۔ لیکن کنول اسے کب سن رہی تھی۔۔؟ اس کا سارا دھیان خان کی طرف تھا۔ جو رخ پھیرے بمشکل وہاں کھڑا تھا۔ جب کہ سفیہ کا بس نہیں چل رہا تھا۔ کہ وہاں سے خود کو کہیں غاٸب کر دے۔
جاٸداد کا ایک بہت بڑا حصہ اور خان حویلی آفتاب شیر خان کی بیوی کے نام کر دیا گیا تھا۔ جو کوٸ اور نہیں۔۔ کنول تھی۔
ایک اور بم اس کے سر پے پھوٹا تھا۔
مطلب۔۔؟ آفتاب نے۔۔؟؟ سفیہ سے نکاح نہیں کیا تھا ۔۔؟؟
کنول کا دل پوری شدت سے دھڑکا تھا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوٸ اس کی نظریں آفتاب شیر خان کی چوڑی پشت پے تھیں۔ آنسو تھے کہ بس بہے چلے جا رہے تھے۔ وہ آج خود کو اپنی ہی نظروں میں گرا ہوا محسوں کر رہی تھی۔
اس کے اندر ایک جنگ چھڑ چکی تھی۔
کیا کچھ نہیں کہا تھا خان سے۔۔۔؟ نجاٸز تعلق۔۔؟؟ زنا۔۔؟ اس کا شدت سے جی چاہا۔ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جاۓ۔۔۔ اب وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔
آفتاب جانتا تھا۔ کہ یہ وقت آنا تھا۔ لیکن اب اس کے لیے کنول کے آنسو کوٸ معنی نہیں رکھتے تھے۔
اس کی پاک دامنی کی گواہی خان بیگم کے خط سے ہوٸ۔ وہ اس بات کو کبھی نہیں بھول سکتا تھا۔ کہ کنول کی بے اعتباری نے اس سے اس کی بیٹی کے تین سال چھینے گۓ تھے۔ وہ چاہ کے بھی کنول کو معاف نہیں کر سکتا تھا۔
کنول نے اس کی جانب قدم بڑھاۓ کہ وہ وکیل صاحب کی جانب مڑا۔
وصیت مکمل ہوگٸ۔۔؟؟ سرد لہجے میں وکیل صاحب سے دریافت کیا۔
جی۔۔۔! یہاں پے آپ کے اور آپ کی مسز کے ساٸن چاہیے۔۔۔! امجد صاحب نے پیپرز ان کی طرف بڑھاۓ۔ آفتاب نے بنا کسی تاثر کے ان پے ساٸن کر دیا۔ اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا واہں سے نکل گیا۔
میم۔۔۔ آپ کے ساٸن۔۔؟؟ امجد صاحب اب کنول سے مخاطب تھے۔
کنول نے آنسو پونچھتے لرزتے ہاتھوں سے ان پیپرز پے ساٸن کیا اور فوراً سے پیپرز امجد صاحب کو دیتی وہ بھی آفتاب کے پیچھے لپکی تھی۔ لیکن وہ گاڑی میں بیٹھتا جا چکا تھا۔
اس نے کنول کو کچھ بھی کہنے کا موقع نہ دیا تھا۔
کنول سخت دلبرداشتہ ہوٸ تھی۔ کیسے وہ سب ٹھیک کرے گی۔۔؟؟ کیسے ۔۔ آفتاب خان کو مناۓ گی۔۔؟ جسے وہ اپنے لفظوں کی مار دے کے بری طرح زخمی کر چکی تھی۔ کہ رہی سہی کسر ان تین سالوں کے ہجر نے پوری کر دی تھی۔ زخم ناسور بن گۓ تھے۔
ووہ اپنے آنسو ضبط کرتی وہیں کھڑی رہ گٸ۔
وہیں۔۔ اسی جگہ جہاں تین سال پہلے اس نے خان کو اکیلا چھوڑا تھا۔ آج خان اسے اکیلا چھوڑ گیا تھا۔
وجہ کل بھی وہی تھی۔
وجہ آج بھی وہی تھی۔
لیکن۔۔ وہ آفتاب کے لیے سراپاۓ محبت تھی۔ اور ہمیشہ سے تھی۔۔۔
کل بھی تجھے دل یاد کرتا تھا۔۔۔
آج بھی تجھے دل یاد کرتا ہے۔۔۔
تم سمجھ نہ پاۓ۔۔۔۔
تم سمجھ نہ پاۓ۔۔۔۔۔!
دل میرا دل نہ مانے۔۔۔
کیا کروں۔۔۔کیا کروں۔۔۔
درد دل تو نہ جانے کیا۔۔ کروں۔۔؟؟
جاری ہے۔







