Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 44)

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan

آفتاب فریش ہوتا باہر نکلا تھا۔ وہ کافی دیر سے شہیر خانزادہ کا انتظار کر رہا تھا۔ جو ابھی تک نہیں لوٹا تھا۔ اس کے نمبر پے بھی کال ملا چکا تھا۔۔ غفار کے نمبر پے بھی

لیکنکوٸ اسے کچھ نہیں بتا رہا تھا۔ آفتاب شیر خان کا دماغ اس وقت پرسکون تھا۔ وہ جانتا تھا اس سب کے پیچھے جاوید خان ہے۔ اور وہ جاوید خان کو بہت اچھی سزا دینے والا تھا۔ اس کے لیے اس نے بہت کچھ سوچ رکھا تھا۔ لیکن نہیں۔۔ جانتا تھا۔۔ کبھی کبھار جو انسان سوچتا ہے۔۔ وہ ہوتا نہیں۔۔! وہ اپنے کف فولڈ کر رہا تھا۔ جب کنول اندر داخل ہوٸ۔ آفتاب اس کی جنب مڑا۔ جو دھیرے سے اس کے پاس آتی مسکراٸ تھی۔ اس کی مسکراہٹ میں ایک آسودگی تھی۔ کیا ہوا؟؟ بچے ٹھیک ہیں۔۔؟؟ بہت اپ سیٹ ہو گۓ تھے ناں۔؟ آفتاب نے پرفیوم اٹھایا تھا۔ جو کنول نے اس کے ہاتھ سے لیتے خود اس کے اوپر چھڑکاٶ کرنے لگی۔ آفتاب نے بہت وارفتگی سے اسے دیکھا تھا۔ ہینڈسم لگ رہے ہیں۔۔۔! وہ تھوڑا قریب ہوٸ تھی۔ آفتاب نے اس کی کمر کے گرد بازو حاٸل کرتے اسے خود سے قریب کیا۔ آپ مجھے دعوتِ عامدے رہی ہیں۔۔۔! اس کے چہرے پے پرتپش سانسوں کو چھوڑتے وہ گھمبیر لہجے میں گویا ہوا۔ تو نول کے دل کی دھڑنوں میں ارتعاش پیدا ہوا۔ اس کے گلے میں دونوں بانہوں کو ڈالے خود بھی اس کے پاس ہوتی وہ آفتاب کے جذبات کو ہوا دے رہی تھی۔ مکمل آپ کی ہوں۔۔ ہمیشہ سے آپ کی تھی۔۔ آپ کی ہی رہوں گی۔۔۔! بہت جذب کے عالم میں کہتے آفتاب کے ماتھےپے اپنے لب رکھے۔ اس کے لمس پے آفتاب شیر خان نے آنکھیں بند کرتے دل سے محسوس کیا۔ کیا کچھنہ تھا اس ایک لمس میں۔۔ پیار محبت شدت احترام سکون۔۔۔! اس سے پہلے کے وہ پیچھے ہوتی آفتاب نے اس کے بالوں میں ہاتھ ڈالے اس کے لبوں کو اپنی دسترس میں لیا۔ وہ بہت بری طرح بوکھلاٸ تھی۔ لیکن مزاحمت نہ کر سکی۔ ان دونوں کا دل ایک ہی تال پے دھڑک رہا تھا۔ اپنی تشنگی کو بڑھتا دیکھ وہ خود ہی پیچھے ہٹا۔ تھینک یو۔۔۔ واپس آنے کے لیے۔۔۔! مجھے زندگی کو واپس جینے کے لیے۔۔۔! آفتاب نے اس کے ماتھے سے ماتھا جوڑا ۔ اور دل سے اسے کہا۔ کنول نے اس کی جانب بہت محبت سے دیکھا۔ آپ ک بھی شکریہ۔۔ ! میری غلطیوں سمیت مجھے معاف کرنے کا۔۔۔! مجھے اپنی زندگی میں واپس لانے کا۔۔ کنول نے اس کے سینے پے سر رکھا۔ تو آفتاب نے اسے اپنے حصار میں لیا۔

اسی وقت دروازے پے دستک ہوٸ۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ دستک بہت اونچی آواز میں ہو رہی تھی۔ آجاٸیں۔۔۔! آفتاب نے اندر آنے کی اجازت دی۔ تو ملازمہ گھبراۓ ہوۓ اندر داخل ہوٸ۔

خان جی۔۔۔! جلدی سے باہر آٸیں۔۔ غضب ہو گیا۔ وہ بہت گھبراٸ ہوٸ تھی۔ آفتاب اور کنول نے پریشانی سے اسیک دوسرے کی جانب دیکھا اور باہر کی طرف قدم بڑھاۓ جہاں۔۔ غفار کے ساتھ کام کرنے والا ایک خاص آدمی کھڑا پریشانی سے اور بے چینی سے آفتاب کا انتظار کر رہا تھا۔

کیا ہوا۔۔ علی شیر۔۔؟؟ آفتاب سیڑھیاں اترتا نیچے آیا۔ علی شیر نے جذبز کےعالم میں آفتاب شیر خان کو دیکھا ایک پل کو وہ سہما تھا اس کی شخصیت ہی ایسی تھی۔ کہ سامنے والا مرعوب ہوۓ بنا رہ ہی نہیں سکتا تھا۔ خان۔۔۔! گولی چلی ہے۔۔۔! اور۔۔ ؟؟ اسے سمجھ نہ آیا کہ کیسے بتاۓ۔۔۔؟؟ کیا کہنا چاہتے ہو تم۔۔۔؟؟ کسے لگی گولی۔۔۔؟؟ آفتاب کے ماتھے پے بل پڑے۔ کنول بھی حیرانی سے دیکھتی وہیں سیڑھیوں پے ہی ٹھہر گٸ۔

آپ کی۔۔۔ بہن۔۔۔! اب۔۔ اس دنیا میں نہیں رہیں ۔ علی شیر کے بتانےپے آفتاب کو لگا اس کے سر پے آسمان گر پڑا ہو۔ سکتے کیکیفیت میں وہ علی شیر کو دیکھنےلگا۔ چہرہ خطرناک حد تک سرخ ہو چکا تھا۔ تم جانتے ہو۔۔؟؟ کیا بکواس کر رہے ہو۔۔؟؟ شیر کی رخ وہ غرایا تھا۔ معاف کیجے۔۔۔! لیکن۔۔ یہی سچ ہے۔۔۔! علی شیر نے سر جھکاۓ کہا اور ایک پل کی دیری کیےبنا ہو باہر نکلا تھا۔ علی شیر اس کے پیچھے بھاگا تھا۔ کنول منہ پے ہاتھ رکھے وہیں بیٹھتی چلی گٸ۔ ایسا۔۔۔ کیسے ہو سکتا ہے۔۔؟؟ عظمی۔۔۔؟؟؟ کنول کیآنکھوں سے آنسو رواں تھے۔۔۔! انابیہ نے باہر آتے کنول کو روتے دیکھا تو اس کے پاس چلی آٸ۔ اور عظمی ک پتہ چلا تو اس کے دل میں شہیر خانزادہ کا ہی خیال کوندا۔ اس کے دلمیں طرح طرح کے وسوسے پیدا ہونے لگے۔ یااللہ۔۔۔ ایسا کچھ نہ ہو۔۔۔ خانم اور تبسمبیگم تک بھی یہ خبر پہنچ چکی تھی۔ خان منشن میں اس وقت افراتفری مچ گٸ تھی۔ سبھی کو آنے والےوقت سے خوف محسوس ہوا۔

✅
✅
✅
✅
✅
✅
✅
✅
✅

ایک طرف آفتاب شیر خان نے حیدرآباد پہنچتے جاوید خان کے خان پیلس میں قدم رکھا۔ تو وہیں دوسری طرف شہیر خانزادہ حیدرآباد سے کراچی پہنچتا غفار کی ہاسپٹل سے تسلی کرتا اب خان منشن پہنچا تھا۔

وہیں رک جاٶ۔ ۔آفتاب شیر خان۔۔۔! جاوید خان نے آفتاب شیر خان کو اند آتے دیکھا جو فل سیکیویرٹی میں آیا تھا۔ علی شیر نے اسے عظمی کے مرنے کی خبر تو دے دی۔ لیکن اس کا غصہ اتنا سخت تھا۔ کہ وہ مزید کچھ بتا نہ سکا۔ گھر کی دہلیز پے ہی آفتاب کے قدم ٹھہرے تھے۔ سامنے ہی اس کی بہن کی میت رکھی گٸ تھی۔ زیشان اس کا بھانجا۔۔! عظمی کا بیٹا وہیں نانی کے پاس ماں کی میت کے پاس بیٹھا تھا۔ وہ دس سال کا بچہ۔۔ یہ تصور ہی نہیں کر پا رہا تھا۔ کہ اب اس کی ماں نہیں رہی۔ بس وہ رو رہا تھا۔۔ اردگرد سے بے خبر۔۔۔

اندر آنے کی اجازت نہیں دوں گا میں۔ جاوید خان للکارا تھا۔ میری بہن ہے وہ۔۔۔! آفتاب غصہ سے آگے بڑھا تھا۔

بہن ۔۔۔؟؟ جب اس پے گولی چلی تب کہاں تھے تم۔۔؟؟ ایک طرف اپنےاس نام نہاد بھاٸ کو بھیج دیا ۔ اس نے۔ میری بھانجی کو موت کےگھاٹ اتار دیا ۔۔ اس کا دل نہیں کانپا۔۔۔۔۔؟؟؟ میری معصوم بھانجی کی جان لے لی۔۔۔ ! تم آگۓ ہو ۔ ڈرامہ کرنے۔۔۔! جاوید نے بھڑکتے ہوۓ آفتاب کو کہا۔ تو آفتاب شیر خان نے پلٹ کے سوالیہ اور حیران نظروں سے علی شیر کو دیکھا جس کا سر ۔۔ جھک گیا تھا۔ کیا ہوا۔۔؟؟ بھاٸ نے بتایا نہیں۔۔؟؟ کہ وہ کیا کارنامہ کر کے گیا ہے۔۔؟؟ جاوید اس کے حیران ہونے پے طنز مارتے بولا۔ آفتاب نے اس کی بات کا کوٸ جوب نہ دیا اور آگےبڑھ کے بہن کو دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھیں نم ہوٸ تھیں۔ کیا کچھ نہیں یاد آیا تھا۔ اسے۔۔ عظمی کے لیے دل بےانتہا دکھا تھا۔ آنکھیں خود ہی نم ہوتی چلی گٸیں۔

چہرہ کا رخ موڑتا وہ آنسو صاف کر گیا۔ کچھ ہی دیر میں جنازہ کا وقت تھا۔

ارسل بھی اسی لمحے پہنچا تھا اس پے تو یہ خبرہی پہاڑ بن کے ٹوٹی تھی۔ اسے تو جاوید خان نے ایک خاص میٹنگ کے لیے اچانک اسلام آباد روانہ کیا تھا۔ اسے کیا پتہ تھا۔۔؟؟ عظمی اسے یوں چھوڑ جاۓ گی۔۔؟؟ وہ بہت رویا۔۔۔! ایک مرد ہو کے وہ رویا۔ اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ بیٹے کو سینے سے لگاۓ وہ سب کے ہمراہ جنازہ اٹھاۓ چل دیا۔ اسے ایک چپ لگ گٸ تھی۔ ایک ایسی چپ جس کے طوفان برپا ہونے کا اندیشہ تھا۔

💭
😓
😓
💭
💭
💭
💭
💭
💭

کیا بولے جا رہی ہو۔۔؟؟ ہوش میں تو ہو۔۔؟؟ شہیر کا انابیہ کی باتوں پے غصہ ہی آگیا۔

آپ شاید۔۔ کچھ سمجھنا ہی نہیں چاہ رہے۔۔۔! یا شاید جان بوجھ کے انجان بن رہے ہیں۔۔ ساتھ ساتھ انابیہ کے ہاتھ بھی چل رہے تھے۔ وہ اپنا سارا سامان پیک کر رہی تھی۔ اور وہ وہاں سے اب نکلنے کا ارادہ رھتے تھے۔ اس بات سے شہیر کو سخت اعتراض تھا۔

نا ٹیک کہہ رہی ہے۔۔شہیر بھاٸ۔۔ آپ اس وقت یہاں سے چلے جاٸیں۔۔ یہ بات بہت چھوٹی نہیں۔۔ کہ دب جاۓ۔۔ اور خان کے غصہ سے کون نہیں واقف۔۔۔؟؟ وہ کچھ بھی سنے بنا۔۔ اپنا فثصلہ سنا دے گے۔۔ کنول نے آنسو پونچھتے ہوٸے کہا۔

نہیں۔۔ ہرگز نہیں۔۔! جب میں نے کچھ کیا ہی نہیں۔۔ تو میں کیوں ڈروں۔۔؟؟ خان کا مجھ پے پورا اعتبار ہے۔ وہ جانتے نہیں کیا مجھے۔۔؟؟ شہیر کے ماتھے پے بے شمار بل پڑے تھے۔

غصہ میں صحیح غلط کا فرق مٹ جاتا ہے خان۔۔۔! خانم کی آواز پے وہ تینوں چونکے۔ ہمیں یہاں سے جانا چاہیے

۔ اور اس وقت ہمارا یہاں سے جانا ہی مناسب ہے۔۔۔ ! خانمکی بات پے شہیر نے لب بھینچے۔ آپ سب کا ماغ خراب ہو گیا ہے۔ اور میرا بی کر رہے ہیں۔۔۔ آپ کو جہاں جانا ہے۔ جاٸیں۔۔ لیکن۔۔ میں یہیں خان کا انتظار کروں گا۔۔ شہیر بضد ہوا۔

آپ کو میری قسم۔۔ شہیر۔۔۔! اچانک سے انابہ نے س کا ہاتھاپنے سر پے رکھا۔ آپ۔۔ چل رہے ہیں۔۔ مجھے آپ چاہیٸیں۔۔ اور میں۔۔ یہ تو نہیں کہہ رہی کہ ۔ ہمیشہ کے لیے یہاں سے چلے جاٸیں۔۔؟؟ جب کچھ حالات بہر ہوں گے۔۔ تو ہملوٹ آٸیں گے۔۔ تب۔۔ جب ۔ آفتاب بھاٸ آپ کی۔۔۔ ہاری بات ۔۔سن لیں۔۔ رنہ اس وقت وہ جہاں ہیں۔۔ انہیں جو دکھایا جاۓ گا۔۔ وہ وہی دیکھیں گے۔۔ ! اور آپ کی بات سنے بنا ہی۔ انہوں نے۔۔ ؟؟ آپ کو۔۔؟؟؟ انابیہ منہ پے ہاتھ رکھے رو دی۔ شیر نے ے بسی سے سر نفی میں ہلایا۔ عورت مرد کو کتنا کمزور کر دیتی ہے۔۔ آج شہیر کو اندازہ ہو رہا تھا۔ چاہے وہ ماں کے روپ میں ہو۔۔ یا بیوی کے۔۔؟؟

آپ ۔۔اس وقت میری سن لیں۔۔ پلیز۔۔۔! مجھے اپنے بچوں کا باپ چاہیے۔۔۔/! آخر میں چلا دی تھی۔ کنول اور تبسم۔کے آنسو بہہ رہ تھے۔ ایک طرف عظمی کے جنے کا دکھ تھا تو دوسری طرف۔۔ شہیر کے اوپر الزام لگنے کا۔۔ ! سب جانتے تھے وہ ایسا کچھ کر ہی نہیں سکتا تھا۔ لیکن۔ اس وقت گن شہیر کے ہاتھوں میں تھی۔ اس بات کے گواہ تو خود خان کے آدمی بھی تھے۔ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔ انا۔۔۔! مجھے خان پے پورا یقین ہے وہ ایک طرف کی بات سن کے فیصلہ کبھی نہیں کریں گے۔۔۔! آپ سمجھ کیوں نہیں رہے۔۔؟؟ انابیہ سر پے ہاتھ رکھے چلاٸ تھی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا۔ ایک منٹ میں وہ شہیر کو وہاں سے لے کے چلی جاۓ۔

میں نے کوٸ گناہ نہیں کیا۔ کہ میں چھپ کے جاٶں۔۔۔ یہاں سے۔۔ مجھے موت قبول ہے۔۔ لیکن۔۔ چھپ کے۔۔۔؟؟

ابھی شہیر غصہ سے اتنا ہی بول پایا تھا۔ کہ انابیہ نے اندر جاتے دراز سے گن نکال لاٸ۔ اور اپنی کنپٹی پے رکھی۔ آپ کو موت قبول ہے۔۔ آپ کو ہماری۔ اپنی فیملی کی پرواہ نہیں۔۔ اپنے بچوں کا نیں سوچ رہے۔۔۔ ان کا آپ کے بنا کیا ہوگا۔۔؟ تو ۔۔ہمیں۔۔موت کے گھاٹ اتار دیں۔۔ پھر جو۔۔ چاہے کریں۔۔ ! انابیہ نے کہتے ہی گن کا ٹریگر دبانا چاہا۔ کہ شہیر نے دہلتے دل سے آگے بڑھ کے انابیہ کے ہاتھ سے گن کھینچیی۔ پاگل ہوگٸ ہو۔۔؟؟ ابھی ۔۔ چل جاتی تو۔۔؟؟ شہیر نے اسے خود سے لگانا چاہا تو اس نے شہیر کو پرے دھکیلا۔ آپ چل رہے ہیں یا نہیں۔۔؟؟ انابیہ نے قطعی انداز میں پوچھا۔ تو شہیر نے سختی سے آنکھیں بند کیں۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *