Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan NovelR50506 Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 19)
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 19)
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha chohan
مونس۔۔۔ آپ کے ٹیسٹ میں۔ یہ اتنا کم گریڈ کیوں۔۔؟ کنول شام کو ان دونوں کو لیے گارڈن میں بیٹھی پڑھا رہی تھی۔ کہ میتھس کے ٹیسٹ پے نظر پڑی۔
مما۔۔۔؟؟ وہ منمنایا۔
کیا مما۔۔۔؟ مونس۔۔۔ یہ صحیح ہے کیا۔۔؟؟ اتنے کم گریڈز کیوں۔۔؟ کنول کو انتہاٸ برا لگا تھا۔
مونس پریپ میں تھا تو ملکہ نرسری میں۔
مما۔۔ ہی از ناٹ لاٸک کلرنگ۔
ملکہ نے کنول کو ریزن بتایا۔۔
یہ تو کوٸ وجہ نہ ہوٸ ۔ مونس۔۔ آپ نے مجھے بہت ڈس اپاٸنٹ کیا ہے۔ کنول نے دھیمے لہجے میں کہا۔
مما۔۔۔ سوری۔۔۔ نیکسٹ ٹاٸم ایسا نہیں ہوگا۔ اے پلس گریڈ لوں گا۔ پکا پرامس۔۔۔ اس نے پیار سے کنول کا ہاتھ تھاما۔
پکا ناں۔۔۔۔؟؟ کنول نے تصدیق چاہی۔
یس مام۔۔۔! مونس خوش ہوگیا کہ اس کی مما اس سے نارض نہیں ہوٸیں۔
مما۔۔۔ کیا آپ ہماری رٸیل والی ہی مما ہوناں۔۔؟؟ اچانک سے مونس کے کہنے پے کنول کا دل بر طرح دھڑکا۔
ایسا۔۔ کیوں کہا آپ نے۔۔؟
میرے فرینڈز کہتے ہیں۔۔ آپ ہماری مما نہیں لگتیں۔ آپ تنی چھوٹی سی کیوٹ سی ہیں۔ جب کہ مما تو موٹی اور ہیلتھی ہوتی ہیں ناں۔۔؟؟
مونس نے کہتے ساتھ تصدیق بھی چاہی۔
ایسے نہیں کہتے بیٹا۔۔ سب کو اللہ نے بنایا ہے۔۔ اور سب ک اپنے ممی بابا سے پیار ہوتا ہے۔ اور کبھی کسی کے بارے میں برا نہیں سوچتے۔ اا ے ہمارا اللہ ناراض ہو جاتا ہے۔ کنول نے رسان ے سمجایا ۔
بٹ۔۔مامم۔۔۔۔ یو آر سو سویٹ۔۔۔
I am lucky .. you are my mama…
مونس نے اس سے گلے لگتے کہا۔ تو کنول مسکرا دی۔
بیٹا۔۔ مونس۔۔ ملکہ۔۔ جلدی سے چینج کر کے آٶ۔۔ بیٹا۔۔۔ ہمیں ۔۔ ابھی جانا ہے۔ اچانک سے آفتاب کی آمد پے وہ تینوں چونکے۔
کہاں۔۔ بابا۔۔۔؟؟ کنول کے دل میں آیا سوال ملکہ نے پوچھ لیا۔
بڑی دادو سے ملنے۔۔۔ ! چلو۔۔۔ جلدی سے شوز پہن کے آٶ۔
آفتب کے کہنے پے وہ دونوں اندر کی طرف بڑھے۔
آپ۔۔ خان۔۔ حویلی کی بات کر رہے ہیں۔۔؟ خن بیگم کی۔۔؟؟ غصہ ضبط کرتے آفتاب سے پوچھا۔
وہ جو ایک نظر اسے دیکھ اگنور کرتا موباٸلم یں بزی ہوا تھا۔ کنول کی بات پے چونکا۔
کوٸ مسٸلہ ہے۔۔؟؟؟ اوہ۔۔۔ میں تو بھول گیا۔۔۔ محترمہ کے سارے مسٸلےہی خان حویلی سے شروع ہو کے خان حویلی پے ہی ختم ہوتے ہیں۔
ایک چڑ جو ہے۔۔ جو ساری ندگی رہے گی۔ آفتاب نے طنز کیا۔
آپ ۔۔۔ مجھ سے اس طرح بات نہیں کر سکتے۔۔۔
کنول کو تپ ہی چڑھ گٸ۔
آپ جب چاہیں جاٸیں اپنی خان حویلی۔ مجھے کوٸ مسٸلہ نہیں۔ لیکن۔۔ میرے بچوں کو کیوں لے کے جا رہے ہیں۔۔؟؟؟ کنول نے اس کے مقابل آتے سوال گڑھا۔
میری مرضی۔۔۔ تمہیں جواط دہ نہیں ہوں میں ۔ سمجھی تم۔۔۔! آفتاب نے اس کے چہرے کو دیکھتے غصہ سے کہا۔
خان حویلی میں ایک ناگن بھی بستی ہے۔ اور آپ میرے بچوں کو وہاں نہیں لے کے جاٸیں گے۔۔!
کنول نے حتمی لہجے میں کہا۔
میں تمہارا پابند نہیں۔۔۔۔۔ آفتاب کا بھی پارہ ہاٸ ہوا۔
وہ مزید کچھ کہتا کہ بچے وہاں آن موجود ہوۓ۔
بیٹا۔۔۔ آپ گاڑی میں جا کے بیٹھو۔۔ بابا آرہے ہیں
آفتاب نے ان سے بہت پیار سے کہا۔
تو وہ خاموشی سے باہر نکل گۓ۔
ہمیشہ آپ پنی من مانی کرتے ہیں۔۔ میرے بچوں کو کچھ ہوا ناں۔۔؟؟ تو یاد رکھیے گا۔۔۔؟؟
کیا۔۔۔؟؟ کی۔یاد رکھوں۔۔۔؟؟ دھمکی دے رہی ہو۔۔؟؟ وہ جو انگلی اٹھاکے وارن کر رہی تھی۔ ایک دم سے آفتاب کے قریب آنے پے چپ ہوگٸ۔
وہ آج بھی اس شخص کی آنکھوں سے خوف کھاتی تھی۔
اسے چپ دیکھ وہ ر جھٹک کے باہر نکلا۔ ابھی گاڑی میں جا کے بیٹھا۔ کہ وہ بھی ایک دم ے اس کے سامنے والی سیٹ پے جا بیٹھی۔ حیرانی سے اسے دیکھا۔
جہاں میرے بچے جاٸیں گے۔۔ ان کی مما بھی ان کے ساتھ جاٸیں گیں۔
پیار سے مونس اور ملکہ کو دیکھتے کہا۔ جب کہ سنایا آفتاب خان کو۔ اس نے کوٸ رسپانس شو نہ کیا۔ اور گاڑی خان حویلی کی طرف بڑھ گٸ۔ جہاں بہت سارے راز ان کا انتظار کر رہے تھے۔
گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تھی۔ ڈراٸیور نے بہت زور کی بریک لگاٸ۔
کنول نے بیلٹ نہیں لگاٸ تھی۔ اس لیے سیدھا جا کے آفتاب کی گود میں گری۔ آفتاب نے بھی اسے فوراً بانہوں کے حصار میں لیا تھا۔
مونس اور ملکہ دیکھتے رہ گۓ۔
کنول کے لب آفتاب کی گردن سے مس ہوۓ۔ آفتاب نے ایک لمحے کو آنکھیں موندے اس لمس کو روح میں اترتا محسوس کیا۔
تین سال ۔۔۔ تین سال۔۔ سے یہ لمس اس سے دور تھا۔۔ آج اس نے پھر سے چھوا تو لگا۔۔ پہلی بار ہی چھوا ہے۔ دل نے ایک بیٹ مس کی۔
کنول اپنی پوزیشن کا خیال کرتی پیچھے ہٹی۔ لیکن وہ ابھی بھی لرز رہی تھی۔ اور لرزتے ہوۓ اس نے بیلٹ ڈھونڈنی چاہی۔۔ کہ وہ بیلٹ لگا سکے۔
لیکن جب لرز رہی تھی۔ تو کیسی ڈھونڈ پاتی۔۔؟ بہت زیادہ کنفیوز ہوگٸ تھی۔ وہ۔
اسے کچھ سمجھ نہ آیا۔۔ کہ اس کے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔ آفتاب کے قریب جانا اسے چھونا۔۔ یہ سب اچانک ہی ہوا تھا۔ لیکن اسے یہ احساس آج بہت الگ سا لگا ۔ گاڑی پھر سے چل پڑی تھی۔
لیکن کنول نے ابھی تک سیٹ بیلٹ نہ لگاٸ تھی۔
آفتاب اس کا کنفیوز ہونا۔۔۔ اور انپنا دیکھ رہا تھا۔ وہ بیلٹ غلط طریقے سے بنا دیکھے کھینچ رہی تھی۔ بچے ماں ک فیکھ کے مسکرانے لگے۔
جب کہ کنول نے انہیں ایک گھوری سے نوازا۔ تبھی آفتاب نے آگے ہوتے اسے بیلٹ نکال کے لگا کے دی۔ اس پل آفتاب کا اس کے بے حد نزدیک ہوتے اپنی کلون کی خوشبو سے اسے ایک بار پھر سے اپنے حصار میں لے گیا۔ اس کا دل پھر سے زور زور سے دھڑکنے لگا۔ آفتاب کے چہرے کی طرف ایک بار بھی وہ نہ دیکھ سکی۔ اسے خود پے غصہ آرہا تھا۔ کہ کیوں وہ خود پے قابو نہیں رکھ پاٸ۔
گاڑی خان حویلی کے گیٹ سے اندر داخل ہوٸ۔ تو خان حویلیکے درو دیوار کو دیکھتے ایک بار پھر سے کنول کو پرانی یادوں نے جکڑا۔
ہاں۔۔ ہے اس سے میرا تعلق۔۔۔ سب کچھ ہے وہ میری۔۔۔ اور نکاح بھی کروں گا۔۔ اس سے ۔۔ کل ہی۔۔ اسی جگہ۔۔ اسی سے۔۔۔ کروں گا۔۔ نکاح۔۔ تمہارے سامنے۔۔ سب کے سامنے ۔۔۔۔ میں اقرار کرتا ہوں۔ میرے لیے یہ لڑکی سب کچھ ہے۔ اور کچھ سننا ہے۔۔۔؟؟ تین سال پہلے کے کہے الفاظ کی بازگشت ایک بار پھر سے کنول کو سناٸ دی تو اس کی آنکھ کا ایک کونہ نم ہوا۔
گاڑی رک چکی تھی بچے گاڑی سے نیچے اترے تھے۔ آفتاب نے اسے کھوۓ ہوۓ دیکھا تو سمجھ گیا کہ کہ وہ کیا سوچ رہی ہے۔ سر جھٹکتا وہ بھی اس کے پاس سے ہوتا خود نیچے اترنے لگا کہ اچانک سے کنول کی نظر اس پے اٹھی۔ اس کے گردن پے اپنے ہونٹوں کی لپ اسٹیک کا نشان دیکھتی وہ ایک بار پھر سے سب کچھ بھولتی اسے کلاٸ سے پکڑ کے روک گٸ۔ آفتاب ایک لمحے کو اسے دیکھتا اپنی جگہ رکا تھا۔
کنول کچھ بول نہ سکی۔ لیکن اس نے آفتاب کو اشارہ کیا۔
کیا۔۔؟؟ اس نے بھنوٸیں اچکاٸیں۔
وہ۔۔۔؟؟ کنول بولتے ہوۓ گھبراٸ تھی۔ اس کا گھبرانا آفتاب خان کو اتنی ٹف سچویشن میں بھی بہت زیادہ بھایا تھا۔
وہ کیا۔۔؟؟ نفی میں سر ہلاتا وہ قدم گاڑی سے نیچے قدم اتارنے لگا۔ کہ کنول نے آگے ہوتے اس کی کلاٸ تھامی۔ اور اس کی گردن پے لگ پنی لپ اسٹیک کا نشن صاف کرے لگی۔ اس دوران وہ س کے قریب ہوٸ تھی۔ اس کی مہکتی خوشبو خان کے حواسوں پے چھاٸ۔ تو وہ اسے یکدم پیچھے کرتا نیچے اتر گیا۔
کنول نے گہرا سانس خارج کیا۔ اور خو بھی نیچے اتری۔ آفتاب بچوں کو لیے اندر کی جانب بڑھا۔ کہ ملکہ رکی۔
مما۔۔ لیٹس کم۔۔۔! اس نے کنول کو پکارا۔
نہیں۔۔ بیٹا۔۔۔! آپ جاٸیں۔۔ مما یہیں ویٹ کرے گی۔
کنول نے انہیں مسکرا کے اندر کیجانب جانے کا کہا۔ وہ اندر نہیں جانا چاہتی تھی۔ یہاں تک بھی وہ صرف بچوں کی خاطر آٸ تھی۔
خان۔۔۔! وہ۔۔ خان بیگم۔۔؟ ان کی حالت بالکل ٹھیک نہیں۔۔ جلدی چلیں۔۔۔ ! سفیہ بھاگتیہوٸ ان تک پہنچی تھی۔ اس نے اردگرد کسی اور ک نہ دیکھا نہ دیکھنا گوارا کیا ۔
چلو۔۔ بچو۔۔۔! آفتاب نے کنول کو نظر انداز کیا۔ اور اندر بڑھا۔ جب کہ سفیہ کا آفتاب کو خان کہنا کنول کے تن بدن میں آگ لگا گیا تھا۔ وہ مٹھیاں بھینچتی رہ گٸ۔ اور وہ سب اندر چلے گۓ۔
اس کا جی چاہا وہ بھی جاۓ اندر۔ اور سفیہ کا دھکے دے کے یہاں سے نکال دے۔ آفتاب خان کی زندگی سے نکال باہر کرے۔ لیکن وہ ایسا بس سوچ سکی۔ وہ ایسا چاہ کے بھی نہیں کرسکتی تھی۔
کیونکہ وہ آفتاب خان کے نکاح میں تھی۔
ہاں۔۔ وہ اس کے نکاح میں تھی۔ کنول کی آنکھوں میں آنسو بھر گۓ۔
جو کہا کرتا تھا اسے۔۔۔
تم میرے نکاح میں ہو۔
آج وہ کسی اور کو نکاح میں لے چکا تھا۔
وہ دنیا تھا میری۔۔۔
میری ہستی کا سماں تھا۔
میرے جینے کی وجہ تھا۔
میرا رہبر میرا دلبر تھا۔
نکاح عشق و محرم تھا۔۔
سب کچھ تھا۔۔ وہ مگر
اب کہ تھا۔۔ تو۔۔وہ
وہ بے وفا تھا۔
