Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 15)

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

عابی۔۔۔؟؟ یہ کیا ۔۔۔ کہہ رہی ہو۔۔؟

شامی کو اس کی بات پے شاک لگا۔ جبکہ عابی کی آنکھوں میں آنسو آگۓ۔

سچ کہہ رہے ہیں ہم۔۔۔ اور۔۔ کتنے بے وقوف ہیں ناں۔۔ ہم۔۔۔ کہ جو ایک دن پہلے ہمیں نفرت سے چھوڑ گۓ ۔۔۔ اگلے دن۔۔ خود چل کے آۓ۔۔ نہ صرف معافی مانگی۔۔ بلکہ۔۔۔ اپنے ساتھ واپس بھی لے آۓ۔۔ ہمیں لگا۔۔۔ آپ۔۔ کو ہم سے محبت ہے۔۔۔ اور۔۔ اس محبت میں۔۔ آپ۔۔۔؟؟ لیکن۔۔ ہم غلط تھے۔

اس نے آنسو پونچھے۔ جب کہ شامی کے ماتھے پے بل نمودار ہوۓ۔

آپ نے اب بھی۔۔ اپنی اولاد کو ہی عزیز جانا۔۔۔! صرف۔۔ اپنی ہونے والی اولاد کی خاطر۔۔آپ ہمیں واپس لاۓ۔۔؟؟

ہاں۔۔۔! شامی نے غصہ ضبط کرتے یک لفظی جواب دیا۔ عابی کے اندر چھن سے کچھ ٹوٹا تھا۔

اور کچھ۔۔۔؟؟ خود کو کچھ سخت کہنے سے شامی نے باز رکھا تھا۔ عابی جو کھڑی ہوٸ تھی واپس بستر پے ڈھے سے گٸ۔

جتنے آنسو پونچھتیاتنی آنھیں بھیگ جاتیں۔

پکڑو ۔۔یہ میڈیسن ۔۔۔۔! شامی نے نہایت سنجیدگی سے اسے دواٸ دینی چاہی۔ لیکن عابی نے ہاتھ آگے نہ بڑھایا۔

خود کھاٶ گی ۔۔۔ یا زبردستی کھلاٶں۔۔؟؟ شامی کے سرد انداز پے وہ اس سے سر جھکاۓ داٸی لیتی منہ میں رکھ گٸ۔ اور پانی سے گلے میں انڈیلتی اسے بری طرح کھانسی لگ گٸ۔

شامی نے پریشانی سے اس کی کمر سہلاٸ۔ تو عابی نے اس کا ہاتھ پرے جھٹکا۔

ببب۔۔۔۔ببے۔۔۔ فکر رہیں۔۔ آپ کے بچے کی حفاظت۔۔ ہم۔۔ اپنی جان سے بھی زیادہ کریں گے۔۔۔ ! لیکن۔۔۔ صرف۔۔۔ آپ کے بچے کی۔۔۔! عابی نے گردن موڑ کے کہتے شامی کو بری طرح جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔

کیا کہنا چاہتی ہو۔۔؟؟ صاف صاف کہو۔۔۔!

شامی نے اٹھتے ہوۓ غصہ سے کہا۔

ہمیں۔۔ ہماری امی کے پاس جانا ہے۔۔ ابھی اسی وقت۔۔۔! آنسو صاف کرتی وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔

اچھا۔۔۔؟؟ اور تمہیں لگتا ہے۔۔۔ کہ میں تمہیں بھیج دوں گا۔۔؟؟ سینے پے بازو باندھے سخت انداز سے پوچھا۔

ہمیں۔۔ جانا ہے۔۔ ابھی اسی وقت۔۔۔ ورنہ۔۔۔؟؟؟ عابی کو بھی غصہ آنے لگا۔۔

ورنہ کیا۔۔؟؟ کیا کرلو گی تم۔۔؟؟ ہاں۔۔؟؟ شامی بی دو قدم کا فاصلہ مٹاتا اس کے قریب ہوا۔

ہم۔۔۔ خود چلے جاٸیں گے۔۔۔! عابی اس کے ایک طرف سے ہوتی روتے ہوۓ نکلنے لگی۔ کہ شامی نے اس کا ہاتھ تھامے اسے بستر پے بٹھایا۔

خبردار۔۔ جو ایک قدم بگی میری اجازت کے بنا اس کمرے سے بھی باہر نکالا تو۔۔۔ ٹانگیں توڑ کے بستر پے ڈال دوں گا۔ سمجھی تم۔

اس پے جگکا وہ انتہاٸ طیش کے عالم میں بولا تگھا۔ اچانک سے شامی کے بدلتے تیور پے عابی منہ کھولے اسے دیکھتی رہ گٸ۔

اسے از سر نو۔۔۔ اپنی زندگی کا احتساب کرنا پڑا وہ کہاں مات کھا گٸ تھی۔۔۔؟؟

کیا شامی کو پہچاننے میں اسے غلطی ہوگٸ تھی۔۔؟؟ یا ۔۔ وہ جان بوجھ کے آنکھیں بند کر چکی تھی۔

خاموش آنسو بہاتی وہ شامی کو مزید طیش دلا رہی تھی۔

وہ جو اس پے غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس کی بے تکی باتوں کی وجہ سے پھر سے اس پے غصہ کر گیا۔

نجانے کیا کیا خود سے اخذ کر چکی تھی۔۔۔؟؟

اور اب شامی پے اس کی محبت پے شک کر رہی تھی۔ وہ بھی شادی کے پانچ سال بعد اسے یاد آیا کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتا۔۔ بلکہ صرف اپنی اولاد سے محبت کرتا ہے۔۔ مطلب۔۔؟؟ حد ہی ہوگٸ۔

اپنے بالوں میں انگلیاں پھرتا وہ ادھر سے ادھر چکر لگا رہا تھا۔

ہم ہی سب سے بڑے بے وقوف ہیں۔۔ اور اسی لاٸق ہیں۔۔ وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔

ہو گیا۔۔ اندازہ۔۔؟؟ اب چپ کر کے سو جاٶ۔۔ میرا دماغ خراب مت کرنا۔۔۔! شامی بی تقریباً دبا دبا چینخا تھا۔

عابی سہم سی گٸ اور پھر بالکل ہی چپ ہو گٸ۔ وہ ایسی ہی تھی۔ جتنا مرضی وہ شامی سے لڑ لیتی۔۔ لیکن اس سے آج بھی ڈرتی تھی۔

اپنا غصہ ترک کرتا وہ اس کے پاس آکے بیٹھا۔

عابی۔۔۔! بہتر ہو گا۔۔ اپنے ماغ سے یہ خرافات نکال دو۔۔ ورنہ۔۔ زندگی۔۔ بہت مشکل ہو جانی ہے۔۔ یہ سب سوچ کے۔۔ بول کے۔۔ نہ صرف تم مجھے تکلیف دے رہی ہو۔۔بلکہ خود کو بھی۔۔۔! شامی نے بے بسی سے اس کا ہاتھ تھامتے کہا۔

ہمیں۔۔ نیند آرہی ہے۔۔ عابی نے رخ پھیرا۔

ہممم۔۔۔۔ سو جاٶ۔۔۔!شامی خاموشی سے اس کے پاس سے اٹھتا اس پے کمفرٹر اوڑھتا خود گیلری میں چلا آیا۔

اس کا دل بہت بری طرح دکھا تھا۔ بھلا ایسے کیسے ممکن تھا۔ کہ وہ عابی سے محبت نہ کرتا۔۔؟ وہ تو اس کی روح اس کی زندگی میں شامل تھی۔ ہاں وہ الگ بات تھی۔ کہ وہ اظہار کے معاملے میں توڑا کنجوس واقع ہوا تھا۔ لیکن وہ وہ ان پانچ سالوں میں اسے سمجھ ہی نہ پاٸ تھی۔۔۔؟؟

شامی کو اس بات کا سخت دکھ تھا۔

وہ کنتنا نیگیٹیو سوچ رہی تھی۔ لیکن اس کی کنڈیشن کی وجہ سے وہ چپ ہو گیا تھا۔ اور سوچ لیا تھا۔ کہ وہ اب اس سے کبھی کوٸ فالتو بات نہیں کرے گا۔۔ او نہ ہی بچے کے حوالے سے کچھ۔۔ بھی کہے گا۔۔

بچہ۔۔؟؟ کس قدر خوش ہوا تھا وہ یہ خبر سن کے۔۔ ! لیکن۔۔عابی کے چہرے پے کوٸ خوشی ڈھونڈنے سے بھی نہ ملی تھی۔ وہ کافی دیر وہیں گیلری میں رہا۔ جب دماغ سن ہو گیا تو سر جھٹکا وہ اندر واپس آگیا۔ لاٸیٹ آف کرتا بیڈ پے اس کے قریب لیٹا۔ تو اس کا وجود ہلکے ہلکے ہل رہا تھا۔ جس کا مطلب تھا وہ ابھی بھی رو رہی تھی۔

شامی نے نفی میں سر ہلاتے اسے خود سے قریب کیا۔ اور اس کا سر اپنے سینے پے رکھتے اسے اپنے مضبوط حصار میں لیا۔ وہ اس کی شرٹ مضبوطی سے تھامے سسکی۔

شامی نے اس کے ماتھے پے محبت بھرا بوسہ دیا۔ جس سے اس پاگل کو سکون محسوس ہوا۔ اور رونے کی شدت میں کمی واقع ہوٸ۔

پاگل۔۔۔۔! اسے اپنے ساتھ بھینچے اس کے بالوں میں نرمی سے انگلیاں چلاتا وہ اسے پرسکون کرتا خود بھی نیند کی وادیوں میں کھو گیا تھا۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘

آج وہ بچوں کو لے کے پارک آگٸ تھی۔ بچے نتہاٸ خوش تھے۔ آنا تو آفتاب نے بھی تھا۔ لیکن اس کی اچانک میٹنگ کی وجہ سے وہ نہ آسکا تو اسےاکیلے آنا پڑا۔ جب کہ گارڈز ان کے ساتھ ساتھ تھے۔

مما۔۔۔ پلیز۔۔ اس سیونگ پے چلیں۔ مونس نے خوشی سے چہکتے کہا۔

ارے نہیں۔۔ بیٹا۔۔۔ یہ بڑے بچوں کے لیے ہے۔۔۔ آپ آٸیں اس طرف چلتے ہیں۔

وہ بچوں کو لیے پورے پارک میں مزے سے گھوم پھر رہی تھی۔

کافی وقت گزار کے وہ اب ایک اوپن ریسٹورینٹ میں کھانے پینے کے لیے بیٹھے تھے۔

ایم ٹو مچ ٹاٸیڈ۔۔۔۔۔ ! ملکہ نے اسٹاٸیل سے کہا۔

میم کیا لیں گیں۔۔۔۔؟؟ ویٹر ان کا آرڈر لینے آگیا۔

آرڈر دیتے ہوۓ بھی انہوں نے کافی وقت لگا دیا۔ اور پھھر سے آج کے دن کے بارے میں باتیں کرنے لگے۔ کنول ان کے چہرےپے پھیلی خوشی دیکھاپنے اندر بہت سکون اترتا محسوس کر رہی تھی۔

اس نے رب کا شکر ادا کیا کہ اپنی انا اور ضد میں اس نے زیادہ دیر نہیں کر دی۔۔۔ ورنہ اگت مونس کا دل اس سے بدظن ہو جاتا ۔۔۔إ؟ تو ۔۔۔وہ کیا۔۔۔؟؟ کیا کرتی۔۔۔؟

💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞

آفتاب کو عین وقت ے مسٹر چیمہ کی وجہ دے رکنا پڑ گیا۔

اس شخص نے زمین کے جھوٹے پیپرز بنوا کے عدالت میں پیش کر دیۓ۔جس پے ان کو نوٹس آیا تھا۔ اپنے وکیل سے تمام باتیں ڈسکس کر لینے کے بعد اس نے زمین کے اصل پیپرز کی کاپی وکیل نجم صاحب کودے دی۔ جو اس کیس کو لے کے آگے چلنے والے تھے۔ نجم صاحب ان سے اجازت لے کے جاطکے تھے۔ اگلی پیشی پے وکیل نجم صاحب نے جانا تھا۔

اپنے آفس میں بیٹھا وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔

کہ فون کی بیل پے چونکا۔

کیا حال ہیں۔۔ مسٹر خان۔۔؟؟ مسٹر چیمہ کی کھنک دار آواز پے آفتاب چونکا۔

اللہ کا کرم ہے مسٹر چیمہ۔۔۔

آفتاب کے چہرے کے تاثرات سرد ہوۓ۔

مسٹر خان۔۔۔ کیا یہ بہتر نہیں۔۔ کہ ہم آپس میں معاملہ سیٹ کر لیں۔۔۔؟؟ آپ مجھے وہ زمین دے دیں۔۔ او بدلہ میں کچھ رقم لے لیں۔۔۔؟؟

آپ کو لگتا ہے۔۔؟؟ اب کچھ بات بن سکتی ہے۔۔؟؟ آپ نے عدالت کا رخ کیا ہے مسٹر چیمہ۔۔۔ اب بات عدالت میں ہی ہوگی۔۔۔ آفتاب نے سرد لہجے میں ان کو جواب دیا۔

خان۔۔۔! بھولو مت۔۔۔ وہ زمین بہت عرصے سے ہمارے قبضے میں ہے۔۔ اور اتنی آسانی سے تو نہیں قبضہ چھوڑنے والا ۔

مسٹر چیمہکی غصیلی آواز آٸ۔ تو آفتاب خن تمسخر سے ہنسا۔

یہ عدالت بتاۓ فیصلہ کرے گی اب۔

آفتاب خان۔۔۔! تمہارے ۔۔۔ دو ونں بچے بہت پیارے ہیں۔۔۔

اس کی بات پے اب کی بار آفتاب چونکا۔

اور بیوی۔۔۔؟؟ وہ تو انتہاٸ خوبصورت ہے۔۔۔ اس وقت۔۔ وہ ۔۔ کہیں گھومنے گۓ ہیں۔۔ ناں۔۔۔؟؟ اگر وہ۔۔ واپس ہی نہ آۓ تو۔۔؟؟

چیمہ۔۔۔۔۔؟؟ آفتاب خان دھاڑا تھا۔

اگر میرے بیوی بچوں کی طرف آنکھ اٹھ کے بی دیکھا ۔۔۔ تو تمہارا وہ حال کروں گا۔۔ کہ تم نہ زندہ میں رہو گے نہ مردہ میں۔۔۔!

شیر جیسی دھاڑ پے ایک پل کو چیمہ صاحب بھی لرز گۓ۔ اور جھٹ سے فون بند کر دیا۔

دوسری طرف آفتاب کا غصہ ساتویں آسمنا پے پہنچ چکا تھا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *