Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan NovelR50506 Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 37)
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 37)
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan
جہاز اڑان بھر چکا تھا۔ بچے بھی اداس تھے۔ انابیہ تو تھی ہی اداس ۔ آنکھیں موند کے سر سیٹ کے ساتھ لگایا۔
شہیر نے اس سے اب بھی کوٸ بات نہ کی۔جب کہ اب انابیہ نے بھی خاموشی اختیار کر لی تھی۔
اٸر ہوسٹس نے ان سے کھانے وغیرہ کا پوچھا۔بچوں کو شہیر نے کھانا وغیرہ کا کر دیا۔ جب کہ انابیہ نے کچھ بھی کھانے سے انکار کر دیا۔
شہیر نے بھی کوٸ زور زبردستی نہ کی۔
ایک جان لیوا خاموشی کا راج تھا۔ دونوں کے بیچ۔
جو نجانے کب تک قاٸم رہتی۔۔۔؟؟








کھانے کے بعد وہ دونوں کافی پیتے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ کہ اچانک کاظم کی نظر کومل کے گالوں پے جا ٹہھہری۔
کیا ہوا۔۔؟؟ آنسو کیوں۔۔؟؟ کاظم نے کومل کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو اسے خود سے قریب کیا۔
کومل نے اپنے گال سے آنسو اپنی انگلی کی پور سے اٹبھاۓ۔ اور حیرت زدہ ہوٸ۔
میں۔۔۔ میں کیوں رو رہی ہوں۔۔؟؟ وہ خود بھی حیران ہوٸ۔
کاظم نے اسے اپنی بانہوں میں اٹھایا۔ اور روم کی طرف رخ کیا۔
کومل نے اپنی بانہیں اس کے گلے میں ڈالیں۔
اب تم مجھے روتی نظر نہ آٶ۔۔۔ ! میری آنکھوں پے یہ ظلم نہیں کرنا اب۔۔۔! کاظم نے اسکی آنکھوں پے بسہ دیتے جذب کے عالم میں کہا۔ ساتھ میں کومل کا دل بھی دھڑکا گیا۔
میں فریش ہو کے آتا ہوں۔۔ سونا۔۔ نہیں۔۔! وہ اس کے کان کے قریب گھمبیر آواز میں سرگوشی کرتا اٹھا تھا۔ کومل دھیرے سے مسکرا کے بیڈ کراٶن کے ساتھ ٹیک لگا گٸ۔
وہ آج اپنی قسمت پے نازاں تھی۔ اسے کاظم جیسا ہمسفر مل ا تھا۔ جس نے ہر موڑ پے اس کا ساتھ دیا تھا۔ کہیں ایک بار کومل کو لگا شاید وہ اس سے تنگ آجاۓ ۔۔۔ لیکن ہر بار۔۔کاظم کی محبت نے اسے غلط ثابت کیا تھا۔
کاظم فریش ہوتا باہر آیا تو کومل کو آنکھیں موندے پایا۔ تو دھیرے سے مسکراتا اس کے پاس آیا۔پ طبعیت ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟ کاظم کو اس کی فک ہوٸ۔ اس کے ماتھے پے ہاتھ رکھتے پوچھا اس کا بخار چیک کر رہا تھا۔ کومل نے جھٹ سے آنکھیں کھول دیں۔
جی۔۔۔ ٹھیک ہوں۔۔! کومل کا دل نجانے کیوں دھڑک رہا تھا۔۔؟ وہی کاظم تھا وہی وہ تھی۔ تو جذبات کیوں دہک رہے تھے۔۔۔۔؟؟
سوجاٶ۔۔ نیند آرہی ہے تو۔۔۔؟؟ کاظم نے پیار سے کہا۔
تو کومل مسکرا دی۔ کاظم لاٸیٹ آف کرتا اسی کے پاس ایک طرف لیٹتے پیار سے بولا۔
کومل نے اس کے قریب ہوتے اس کی بازو وا کی۔ اور اس کے سینے پے سر رکھا۔
آٸ لو یو۔۔ کاظم۔۔۔! دھیرے سے اس کے کان میں کہتی وہ اس کا گال چھو گٸ۔ کاظم نے آنکھیں بند کرتے ان لفظوں کو اپنے اندر اتارا۔
لڑکی باز آجاٶ۔۔ مت ہوا دو ۔۔ میرے جذبوں کو۔۔۔ ورنہ خود ہی بری طرح پچھتاٶ گی۔۔۔! کاظم نے گھمبیر لہجے می ںکہتے کومل کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑا گیا۔ لیکن وہ کاظم کو دور نہیں کر سکتی تھی۔ وہ خود بھی اس میں سمٹنا چاہتی تھی۔ اور اسے بھی سمیٹنا چاہتی تھی۔ میں ۔۔ پچھتانا چاہتی ہوں۔۔ دھیرے سے اس کے کان کے قریب ہوتے کہتی وہ کاظم کے جذبات کو جگا گٸ۔
اسے کس کے اپنے ساتھ لگایا۔ اور اس کے ماتھے پے بسہ دیتا وہ اسے اپنی بانہوں میں بھرے ااس کی طرف کروٹ لیے آنکھیں موند گیا۔ کومل نے اس کے چہرے کے خدوحال پے ہاتھ پھیرا ۔ وہ اس سے اپنا حق وصول کر سکتا تھا۔ بہت آسانی سے۔۔۔ پھر کیوں وہ قریب نہیں آرہا تھا۔۔۔؟؟ کومل کا دل دکھا تھا۔ کیا ۔۔؟؟ کاظم واقعی۔۔؟؟ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔۔؟ یا۔۔ صرف۔۔ ہمدردی۔۔؟؟ ایک بار پھر سے منفی سوچوں نے پھنک پھیلاۓ۔
دل و جان سے چاہتا ہے یہ پاگل تمہیں۔۔ ! اور اپنی شدتوں سے تمہیں احساس بھی دلاۓ گا۔۔ کتنا تڑپایا ہے تم نے مجھے۔۔! لیکن۔۔۔ ابھی تمہارے اندر اتنی طاقت نہیں۔۔ کہ میری شدتوں کو سہہ سکو۔۔ اس لیے چاپ چپ سوتی نظر آٶ۔۔۔! کاظم اس کے دماغ میں چلنے والے سوال کا تفصیلی جواب دیتا اس کا دل بری طرح دھڑکا گیا۔ وہ سر نیچے کرتی اس کے سینے میں مزید سمٹی تھی۔ ایک دلفریب مسکان نے اسکے لبوں کا احاطہ کیا تھا۔ وہ اپنی قسمت پے بہت نازاں تھی۔ اور آسودگی سے آنکھیں مومد لیں۔









ببا۔۔۔؟؟ مما۔۔۔؟؟؟ مونس کی آواز دھیمی ہوٸ بہت دھیمی۔۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔اس نے بلاسٹ کی آواز سنی تھی۔ ملکہ بھی بھاٸ کے پاس کھڑی تھی۔ اسے بھی کچھ سمجھ نہ آیا۔ کہ ماں ان سے بات کر رہی تھی۔ تو اچانک سے بلاسٹ ہوا۔ اور خاموشی چھا گٸ۔۔۔؟
ببا۔۔۔؟؟ مما۔۔۔؟؟ وہ چلایا تھا۔ ناجیہ بیگم بھاگے ہوۓ آٸیں تھیں۔ کیا ہوا مونس بیٹا۔۔؟ ان کا دل گھبرایا۔
بابا۔۔؟؟ مما۔۔۔؟؟؟ وہمزید کچھ بول ہی نہیں پا رہا تھا۔ بس روۓ جا رہا تھا۔
ناجیہ نے فون اپنے کان کے ساتھ لگایا۔ لیکن دوسری طرف سے آواز نہیں آرہی تھی۔ کال کٹ گٸ تھی۔ بیٹا۔۔ کال کٹ گٸ ہے۔۔ وہ راستے میں ہوں گے۔۔ بس آنے والے ہوں گے۔۔ ناجیہ نے ان کی تسلی کرواٸ تھی۔ نہیں۔۔۔؟؟ وہاں آواز۔۔ آٸ۔۔ زور کی آواز۔۔ ! مونس روتے ہوۓ بول رہا تھا۔ ناجیہ کا دل بھی بیٹھا تھا۔ بیٹا۔۔ ایسا کچھ نہیں۔۔ سگنل کا مسٸلہ ہوگا۔
کیا ہوا۔۔؟؟ مونس۔۔ ؟ کیوں رہے ہیں میری جان۔۔؟ تبسم بیگم جو آ صبح کی واپس لوٹی تھی۔ شور کیآواز سن کے ڈراٸینگ روم میں آگٸیں۔
مونس ان کے سینے سے جا لگا۔
دادو۔۔۔! مما۔۔ ببا۔۔ بچا لیں انہیں۔۔ وہ روتے روتے بولا تھا۔ بہت تڑپ تھی اس کے لہجے میں۔ تبسم بیگم کا دل بہت زوروں سے دھڑکا۔
فوراً ناجیہ بی بی کو آفتاب کو کال ملانے کا کہا۔ نمبر بند آرہا ہے۔۔۔ !
آپ ۔۔کنول کو کال ملاٸیں۔ اگلی بات بولی ۔
ایک بار۔۔ دو بر۔۔ تین بار۔۔ کال ہی نہیں جا رہی۔۔۔؟؟
ناجیہ بھی پریشان ہوگٸی۔
آپ۔۔۔ غفار کو ملاٸیں کال۔۔۔! کچھ سوچتے ہوۓ تبسم بیگم نے ناجیہ بی بی سے کہا۔ ان کا دل بہت سخت گھبرا رہا تھا آج صبح سے۔۔ جیسے کچھ بہت برا ہونے والا ہو۔۔۔ اسی لیے وہ واپس لوٹ آٸیں تھیں۔
جی ۔۔۔ ؟ غفار کی آواز آٸ تو تبسم بیگم نے فون خود لے لیا۔
غفار۔۔؟؟ خان اور کنول کہاں ہیں۔۔؟ چھوٹتے ہی پہلا سوال پوچھا۔
دوسری طرف غفار جو اس جگہ پہنچ چکا تھا۔ جہاں آفتاب کی گاڑی کا بم بلاسٹ ہوا تھا۔ اپنے لب بھینچ گیا ۔
اسے ہر طرف دھوانں ہی دکھاٸ دے رہا تھا۔ کچھ بھی تو سمجھ نہیں آرہا تھا۔ اسے۔۔ ! سیکیورٹی گارڈز غاٸب تھے۔ وہ ایک اکیلی گاڑی تھی۔ جو بلاسٹ کی نظر ہوٸ۔
آفتاب کی غیر حاضری میں غفار کی زمہ داری خان منشن ہوتی۔۔ اور وہ وہیں تھا۔ آفتاب اپنی سیکیورٹی میں کنول کے ساتھ تھا۔ اس تک جب یہ خبر پہنچی۔۔ کہ خان کی گاڑی میں بم ہے۔۔ وہ بہت زیادہ گھبرایا۔ اس نے آفتاب کو بہت زیادہ کالز کیں۔ لیکن اس کا نمبر بزی آرہا تھا۔ وہ خود اس کی لوکیشن تک پہنچنا چاہا۔ لیکن ۔۔ بہت دکر ہو گٸ تھی۔۔۔ بلاسٹ ہو چکا تھا۔ اور سب کچھ بکھر گیا تھا۔ کچھ بھی نہیں بچا تھا۔۔؟؟ وہ وہیں بیٹھے رونے لگا۔ اسی وقت خان منشن سے کال بھی آگٸ۔ اور پہلا سوال۔۔۔ خان کے متعلق ہی تھا۔ وہ کیا جواب دیتا۔۔؟ جب کہ وہ اور اس کے آدمی۔۔ دھواں آگ ۔۔ اور سب کچھ جلتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ لیکن ایک مغموم سی امید اب بھی باقی تھی۔۔ شاید۔۔۔ وہ زندہ ہوں۔۔؟
آپ ۔۔جواب کیوں نہیں دے رہے ۔۔؟؟ کہاں ہیں خان۔؟؟ تبسمبیگم اونچی آواز میں بولیں تھیں۔ اور یہ زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا تھا۔ ورنہ آج تک کبھی کی نے انہیں اونچا بولتے نہیں سنا تھا۔
دعا۔۔۔۔ دعا۔۔کریں۔۔۔؟؟ خان بی بی۔۔۔! اس کی دکھ بھری آواز سناٸ دی۔ تبسم بیگم کا دل کسی انہونی سے لرز اٹھا۔
کیا ہوا۔۔؟؟ خان کو۔۔۔؟اپنی آواز کھاٸ سے آتی سناٸ دی۔
بم۔۔۔بلاسٹ۔۔! گاڑی میں۔۔۔! بالآخر غفار نے بتا ہی دیا۔ دوسری طرف تبسم بیگم کے ہاتھ سے فون نیچے گر گیا۔
یا اللہ۔۔۔۔؟؟؟ وہ نیچے بیٹھتی چلی گٸیں۔
ایسا؟ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔؟؟ ان کی آنکھیں بھیگتی چلی گٸیں۔
مما۔۔۔؟؟ میرے ببا۔۔۔؟؟ مونس بلک بلک کے روتے ہوۓ بولا۔
کچھ نہیں ہوگا۔۔ میری جان۔۔ نہ آپ کی مما کو۔۔ نہ آپ کے ببا۔۔ کو۔۔ تبسم بیگم نے انہیں گلے سے لگایا۔ او دل سے دعا مانگ رہی تھیں۔ کہ ان کے بچے صحیح سلامت ہوں۔۔








پولیس گاڑیاں وہاں پہنچ چکی تھیں۔ ریسکیو ٹیمز بھی آچکی تھیں۔ سب آگ بجھا رہے تھے۔ گاڑی بلاسٹ ہونے پے سارا ایریا سیل کر دیا تھا۔ کسی کو بھی وہاں آنے کی اجازت نہیں دے جا رہی تھی۔ غفار آنکھوں میں آنسو لیے وہیں تھا۔
اسے لگا آفتاب شیر خان ابھی اس کے سامنے آۓ گا۔ اور اسے پکارے گا۔
لیکن۔۔ جتنی باتیں کہی جا رہی تھیں۔ اس میں۔۔ یہی کہا جا رہا تھا۔ کہ ۔۔ گاڑی میں موجود افرد کے بچنے کی کوٸ امید نہیں۔۔ ؟؟ نجانے۔۔۔؟؟ کیا ہوگا۔۔؟؟ سر۔۔۔ سر۔۔۔؟؟ ایک آدمی بھاگتا ہوا آیا۔
کیا ہوا۔۔؟؟
اس طرف آٸیں ۔۔ جلدی سے۔۔۔! وہ غفار کے پاس آیا تھا۔ غفار اس کی بات سنتا اس طرف بھاگا تھا۔
جہاں پہنچتے بھی وہ اندر ہی اندر ڈر رہا تھا۔
جاری ہے۔
