Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan NovelR50506 Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 25)
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 25)
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan
آفتاب تیز رفتار گاڑی چلاتا خان ولا پہنچا تھا۔ اس کا دماغ پھر سے تین سال پیچھے چلا گیا تھا۔ وہ اپنے کمرے میں آتا بند ہو چکا تھا۔ وہ کنول کو وہیں چھوڑ آیا تھا ۔ جانتا تھا عغیم خان اسے لے آۓ گا۔ لیکن اس وقت اسے کنول سے بھی نہیں ملنا تھا۔ وہ اس کا چہرہ بھی دیکھنے کا روادار نہیں تھا۔
جو کچھ اس نے کیا وہ اسے بھلا نہیں پا رہا تھا۔ بلکہآج پھر سے پرانے زخم تازہ ہو گۓ تھے۔
جب وہ اسے چھوڑ کے گٸ تھی۔
وہ دن آج بھی اسے یاد تھا۔
جب وہ گھر آیا اور اسے کنول نہ ملی لیکن اس کی جگہ ایک خط ملا تھا۔ جس میں اس نے اسے چوڑ کے جانے کا کہا تھا۔ ساتھ میں وہ بچی کو بھی لے گٸ تھی۔
جس سے آفتاب کا ل اس سے زیادہ برا ہوا تھا۔
دوسرے دن ہی اس نے پتہ لگا لیا تھا۔ کہ وہ کہاں ہے۔۔؟ لیکن اس نے کنول تک پہنچنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ وہ اسے مزید آزما رہا تھا۔ لیکن اس کی پل ل کی رپورٹ رکھے ہوۓ تھا۔
صرف اس کی نہیں اپنی بیٹی کی بھی۔
یہاں تک کہ اس کا اکیلا رہنا اسے چبھا تھا ۔ اور پھر مسز فاروقی کا اس کی زندگی میں شامل ہونا بھی آفتاب کی ہی مرہونِ منت تھا۔ وہ آفتاب کی طرف سے ہی بھیجی گٸ تھیں۔ جو کنول کا ہر موڑ پے ساتھ تو دیتی رہیں۔ لیکن آفتاب کو بھی اسکی پل پل کی رپورٹ پہنچاتی رہیں۔
اس کے وہاں رہنے سے لے کے واپس آنے تک۔۔ وہ سب جانتا تھا۔ اس کے ہر قدم کو اٹھنے سےپہلے ہی وہ جانتا تھا۔ لیکن اک بار بھی اس نے اپنے ردعمل سے ظاہر نہ کیا۔ کہ وہ یہ سب جانتا ہے۔ اور آج جب خان بیگم کے خط سے سارا راز کھلا تو وہ اسے وہیں چھوڑ آیق۔ جب وہ چاہتا تھا۔ کہ وہ اس تک واپس آۓ۔ تب وہ نہ لوٹی۔ اور آج وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ اس تک لوٹے۔
سفیہ سے نکاح تو دور کی بات وہ اس کی شکل یکھنا بھی گوارا نہیں کرتا تھا۔ اس وقت اس نے غصہ میں کنول سے سب کہا۔ جبکہ اس کا اردہ بالکل بھی ایسا نہیں تھا۔ لیکن۔۔۔ کنول کی بے اعتباری نے اسکی محبت کے بت کو بھی پاش پاش کر دیا۔ وہ اب چاہ کے بھی ان ٹکڑوں کو آپس میں جوڑ نہیں سکتا تھا۔
جوڑتا بھی تو دراڑ باقی رہ جانی تھی۔
اور اس دراڑ کے ساتھ اب باقی کی زندگی جینا اس کے اختیار سے باہر تھا۔
کیا کچھ پایا ہم نے۔۔؟
اور سب کچھ کھو دیا۔۔۔
آفتاب ریولنگ چیٸر کی سیٹ کے ساتھ پشت لگا کے بیٹھا تھا۔ آنکھیں موندے وہ اہنے اوپر ضبط کے کڑے مراحل سے گزر رہا تھا۔
درد سہا ہے کتنا
میرے زخمی دل نے
چاہ کے بھی نہ روٹھے
بے وفا سنگدل سے
میں نے چاہا تجھے۔۔
رب سے مانگا تجھے
دل ہے بے بس بہت
نہ سنے یہ مجھے
مشکل میں یہ جان ہے۔۔
دل کتنا نادان ہے۔۔
دل کتنا انجان ہے۔۔












کنول جیسے ہی خان ولا پہنچی۔ اس کا رخ
آفتاب کے کنرےکی جانب تھا۔ ایک ایک قدم ا سپے بھاری پڑ رہا تھا۔ اسے ڈر تھا۔ آفتاب کا۔۔ اس کے غصہ کا ۔۔ وہ حق پے تھا۔۔ جو بھی ہو۔۔ کچھ بھی ہو۔۔ سب ایک غلط فہمی پے ہوا تھا۔ لیکن۔۔
یہ بھی اتنا ہی کڑوا سچ تھا۔ کہ کنول نے آفتاب سے اس کی بیٹی کو چھینا تھا۔ اس کی اپنی اولاد کو اس نے ۔۔ باپ کے سایے سے محروم کیا۔۔ بنا اس کی اطلاع میں لاۓ گھر چھوڑ دیا۔
شاید۔۔۔ اس کی معافی۔۔ تو ۔۔ آفتاب اس کے مرنے کے بعد بھی نہ دے۔۔۔؟؟
اس کے قدم سیڑھیوں پے ہی تھمے تھے۔ آنسوٶں سے چہرہ تر تھا۔ آنکھیں رو رو کے سوجھی ہوٸ تھیں۔ وہ اپنےاندر ہمت جٹا ہی نہیں پا رہی تھی۔ کہ آفتاب کا سامنا کر سکے۔
مما۔۔۔؟؟ اسی لمحے مونس اور ملکہ بگاتے ہوۓ وہاں انٹر ہوۓ۔ اور اسے تھاما۔۔
کنول نے جھک کے ان کو پیار کیا۔
انہیں دیکھ کے وہ اپنے آنسو ضبط کرتی دفعتاً مسکراٸ تھی۔
مما۔۔؟ آپ رو کیوں رہی ہیں۔۔؟ ملکہ نے اس کے آنسو پونچھے۔
نہیں۔۔۔ بیٹا۔۔۔؟؟ میں ۔۔ رو تو نہیں۔۔ رہی۔۔ وہ آنکھ میں کچھ چلا۔۔۔ گیا تھا۔۔۔ کنول نے بہانہ تراشا ۔
مما۔۔؟؟ ڈیڈ کہاں ہیں۔۔؟
ملکہ کے اگلے سوال پے کنول نے آفتاب کے بند دروازہ کی جانب دیکھنا چاہا۔ جو سیڑھیوں سے تو بالکل نظر نہ آیا ۔
بیٹا۔۔۔ ان کی طبیت نہیں ٹھیک ۔ وہ اپنے کنرے میں آرام کر رہے ہیں ۔
کنول انہیں لیے نیچے اتر آٸ ۔
مما۔۔۔؟ بابا آپ سے ناراض کیوں ہیں۔؟
مونس کو جو بات کافی دنوں سے تنگ کر رہی تھی۔ آخر پوچھ ہی لی۔
کنول کی آنکھوں میں پھر سے پانی بھر آیا۔ کیسے وہ ان ننھے فرشتوں کو بتاتیبکہ وہ کیسے ان کے باپ کا دل دکھا چکی تھی۔۔۔؟؟ کہ اب۔۔ سب کچھ ریت کی مانند بکھر گیا تھا۔ اور وہ چاہ کے بھی اپنے بکھرے گھر کو سمیٹ نہیں پا رہی تھی۔
مما۔۔ ڈونٹ کراٸ۔۔ پلیز۔۔ آپ روتی ہیں۔۔ تو ہمیں بھی رونا آتا ہے۔ مونس کی آنکھیں بھی بھیگنے لگی تھیں۔ کنول نے اسے کھینچ کے سینے سے لگایا۔
وہ پھر سے رو دی تھی۔ کتنا ظلم کیا تھا اس نے اپنے بچے پے صرف اس۔۔ ایک غلط فہمی کی بنا پے وہ تین سال اپنے بچے سے دور رہی۔۔ اپنے محبوب شوہر سے دور رہی۔ اس بات کا غم اسے ندر ہی اندر کھا رہا تھا۔
اور یہ۔۔ اس سفیہ کی وجہ سے ہوا تھا۔
ایک دم سے کنول کے اندر غصہ سا بھر گیا۔
اس کا جی چاہا سفیہ اس کے سامنے ہو۔ اور وہ اسے جان سے مار ڈالے۔
مما۔۔۔! آپ۔۔ روتےہوۓ بالکل اچھی نہیں لگتیں۔ پلیز پرامس آپ اب کبھی نہیں روٸیں گیں۔ مونس نے اس کے گال صاف کیے۔ تو وہ زبردستی مسکرا کے اثبات نیں سر ہلا گٸ۔ لیکن اس کا دل ابی بھی آفتاب کے لیے فکر مند تھا۔ جو اس سے سخت قسم کا روٹھا ہوا تھا۔
کیا وہ۔۔مان جاۓ گا۔۔؟؟ دل نے خود سے سوال کیا۔
تو جواب خاموشی میں ملا۔
ایک ڈر تھا۔
میں کیسے معافی مانگوں ان سے۔۔۔؟؟ وہ۔۔ تو میری شکل بھی نہیں دیکھنا گوارا کریں گے۔۔؟
بچوں کو ان کے روم میں لاتی وہ مسلسل یہی سوچ رہی تھی۔
ابھی تک جو اتنی اکڑ سے یہاں رہ رہی تھی۔۔ اب ساری اکڑ انا خود داری ڈھے گٸ تھی۔
اب اپنے آپ میں تو اس کا کچھ بھی نہیں بچا تھا۔
قسمت نے کیسا ستم کیا تھا۔۔؟ کہ اللہ نے تو اس کا نصیب بہت حسین لکھا۔ لیکن وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنا سب کچھ مٹا کے گٸ۔
بچوں کے لیے ناجی بی بی کو ہدایات دیتی وہ دل بڑا کرتی آفتاب کے روم کی جانب بڑھی۔
اس کا دل بہت سخت دھڑکا تھا۔ دروازہ کو کھولنا چاہا۔ لیکن وہ لاکڈ تھا۔ کنول جانتی تھی۔ کہ وہ لاکڈ ہوگا۔ اس لیے کیز اپنے ساتھ لاٸ تھی۔
دھڑکتے دل سے کیز لگاتے دروازہ کا لاک کھولا۔ دروازہ کیناب گھوماٸ۔ تو دروازہ کھلتا چلا گیا۔
کنول کا سانس بھی رکنے لگا تھا۔
وہ جان بوجھ کے شیر کی کھچار میں آرہی تھی۔ وہ جانتی تھی۔ آفتاب شیر خان سے اسے معافی کبھی نہیں ملے گی ۔ لیکن وہ پھر بھی آگٸ تھی۔
شاید اپنے لیے آفتاب کی منتخب کی گٸ سزا سننے ۔۔








عابی کی طبعیت اچانک خراب ہوگٸ۔
شامی اسے لیے ہاسپٹل آیا تھا۔
دیکھیں۔۔ آپ نے ضرور کھانے پینے میں کوٸ کوتاہی کی ہے۔۔ جس سے ان کی یہ حالت ہوٸ ہے۔ بہتر ہوگا۔ ان کے کھانے پینے کا اچھے سے خیال رکھیں۔ ورنہ بچوں کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے ۔
وہ جو ان کی بات سنتا سخت متفکر ہوا تھا۔ ان کی آخری بات پے چونکا ۔
کیا مطلب۔۔؟ بچوں۔۔۔؟؟
جی۔۔ آپ کی مسز کے جڑواں بچے ہیں۔ اور اس کے لیے آپ کو ان کی بے انتہا کٸیر کرنی ہوگی۔
وہ الریڈی کمزور ہیں۔ ان کےکھانے پینے کا ان کے آرام کا بہت زیادہ خیال رکھنا ہوگا۔
ڈاکٹر نے پروفیشنل انداز میں کہتے پریسکرپشن شامی کی طرف بڑھاٸ جو ابھی تک فرطہ حیرت میں ڈوبا ہوا تھا۔
ل کو ایک عجیب سی خوش کا احساس جاگا تھا۔
وہ اندر ہی اندر خوش تھا بہت۔
ڈاکٹر کی مزید ہدایات سنتا وہ باہر نکلا جہاں عابی چیٸر کی پشت کے ساتھ ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی۔
عابی۔۔؟؟ شامیاس کے قریب جاتے دھیرے سے اسے پکار گیا۔ تو اس نے آنکھیں کھولیں۔
سب۔۔ ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟ گھبراۓ ہوۓ انداز میں پوچھا۔
ہا۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔ اللہ کے کرم سے۔۔ بس۔۔ بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔۔ ! شامی نے اس کا ہاتھ تھامے نرمی سے کہا۔
ہم۔۔ ہر طرح سے خیال رکھتے ہیں۔۔ اپنا۔۔! کبھی لاپرواہی نہیں کی۔۔ پھر بھی نجانے کیوں۔۔؟؟ عابی صفاٸ دینے لگی۔ شامی نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے اسے گود میں اٹھایا ۔ تو وہ بوکھلا گٸ۔
یہ۔۔ کیا کر رہے ہیں۔؟ نیچے اتاریں ہمیں۔۔۔! عابی شرم سے لال ہو رہی تھی۔
جبکہ شامی تو بنا کسی کی کوٸ پرواہ کیے اسے بانہوں میں اٹھاۓ باہر کیجانب قدم بڑھا گیا تھا۔
