Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 17)

Tum Mere Nikkah Mein Ho by Muntaha chohan

عابی ناشتہ بنانے میں مصروف تھی۔ جب باہر دروازے پے بیل بجی۔ آج سنڈے تھا ۔ اور شامی اور سلطان صاحب دونوں ہی گھر تھے۔

جمیلہ خاتون منہا کو ناشتہ کروا رہی تھیں۔ جبکہ شامی اپنے روم میں آج دیر تک سونے کا شغل منانے والا تھا۔ سنڈے اس کا یونہی گزرا کرتا تھا۔

ایک منٹ پھوپھو آپ بیٹھیں ہم دیکھتے ہیں۔ عابی نے دروازہ کھولا۔ تو سامنے انابیہ کو اپنی فیملی کے ساتھ دیکھ کھل اٹھی۔۔

انا آپی۔۔۔۔؟؟ عابی نے آگے بڑھ کے فوراً اسے اپنے گلے سے لگایا۔ دونوں ایک دوسرے سے گلے لگیں دنا جہان کو بھول گٸ تھیں۔

یار۔۔ ہم بھی۔۔ساتھ ہی ہیں۔۔ راستے سے تو ہٹ جاٶ۔۔ دونوں۔۔ شہیر نے نفی میں سر ہلاتے انہیں آگے سے ہٹنے کو کہا۔

اوہ۔۔۔ سوری خان بھاٸ۔۔۔ آجاٸیں اندر۔۔ ! وہ سب کو راستہ دیتی ایک طرف ہوٸ۔

جمیلہ خاتون خانم کو اپنے گھر دیکھ بہت خوش تھیں وہ یکسر ہی بدل گٸ تھیں۔ محبت سے سب سے ملیں۔ سلطان صاحب بھی باہر آچکے تھے۔ سب سے پرتپاک انداز میں ملے تھے۔

شامی کہاں ہے۔۔؟؟ انابیہ نے اپنے سول میٹ کا پوچھا۔

وہ۔۔۔ سو رہے ہیں۔۔ عابی نے جھجھکتے ہوۓ کہا۔

میں اٹھاتی ہوں۔۔ عابی فورا اندر کی جانب بڑھنے لگی۔ ایک منٹ میں خود جگاتی ہوں۔۔اپنے اسٹاٸیل سے۔۔۔ اسے۔۔ بھلا کون پاگل اتنی دیر تک سوتا ہے۔۔۔؟؟ انابیہ نے کہتے ہی پانی سے بھرا جگ اٹھایا۔ اور شامی کے کمرے کی جانب بڑھی۔ سبھی اسے دیکھ کے مسکرا اٹھے تھے۔

شامی بہت مزے سے نیند کی وادیوں میں کھویا ہوا تھا۔ جب اچانک سے اس پے پانی کا فوارہ چھوٹا۔ وہ ہڑبڑا کے اٹھا۔

عابی۔۔۔؟؟ یہ کیا طریقہ ہے۔۔؟ وہ چلایا تھا۔ یہ دیکھے بنا کہ پانی پھینکنے والا کون تھا۔

جیسے ہی کھلکھلاتی انابیہ پے نظر پڑی۔ ایک دم ساکت ہوا۔

آنکھیں بند کرتے دوبارہ کھولیں۔ وہ ابھی بھی سامنے تھی۔

تم۔۔ تم کب آٸ۔۔؟؟ آگے بڑھ کے انانبیہ کو گلے سے لگاتے اسے خوشگوار حیرت ہوٸ۔

بس ابھی ابھی۔۔۔ ! انابیہ نے خوش ہوتے بتایا۔

تم لوگ تو دو دن بعد آنے والے تھے۔۔ پھر اچانک۔۔؟؟ کیسے پروگرام بن گیا۔

اپنا حلیہ بگڑا دیکھتا وہ بہت پیار سے پوچھ رہا تھا۔

ایسے۔۔۔۔۔! انابیہ نے ایک اور جگ پاس سے اٹھایا۔ اور پھر سے شامی پے سارا انڈیل دیا۔ اس کے بعد وہ رکی نہیں۔ فوراً باہر بھاگی۔ شامی بھی اس کے پیچھے تھا۔ اب انابیہآگے آگے تھی اور شامی پیچھے پیچھے۔۔۔ دونوں پورے گھر میں بھاگ رہے تھے۔

کہ تبھی شامی سامنے سے آتی عابی سے ٹکرایا۔ وہ پیچھے کی طرف گرنے لگی تھی۔ کہ شامی نے اس کی کمر کے گرد بازو حاٸل کرتے فوراً اسے تھاما۔

اور خود سے لگایا۔

تم ٹھیک ہو۔۔؟؟ اس کے ہاتھ سے ٹرے گر گٸ تھی۔ وہ جو پراٹھے بناتی باہر لا رہی تھی۔ بری طرح شمی سے ٹکراٸ تھی۔

انابیہ نے فوراً آگے بڑھ کے ٹرے اور پراٹھے نیچے سے اٹھاۓ۔

عابی سر پکڑ کے رہ گٸ۔

کوٸ حل نہیں۔۔ تم دونوں کا۔۔ اتنے بڑے بڈھے ہوگۓ ہو۔۔ لیکن بچوں والی حرکتیں نہیں چھوٹتیں۔۔ اب کہیں لگ جاتی اسے تو۔۔؟؟ تہ بھی ہے کس حل میں ہے۔۔ وہ۔۔۔!جمیلہ خاتون نے دونوں کو ہی ڈانٹا۔

چلو یہاں۔ آٶ۔۔ عابی۔۔ ادھر چل کے بیٹھو۔

عابی کا ہاتھ تھامے وہ اسے سب کے پاس گارڈن ایریا میں لے آٸیں۔ جہاں سب ناشتہ کرنے میں مصروف تھے۔

یہ بڑے تو ٹھیک تھا۔۔ پر۔۔ امی نے بڈھا کسے کہا۔۔؟؟ انابیہ کو جمیلہ خاتون کی بات کچھ ہضم نہ ہوٸ۔ جب کہ شامی کان کھجاتا رہ گیا۔

ویسے۔۔۔ اچھا لگا۔۔۔! تم بھی اب ہماری فہرست میں آنے والے ہو۔

انانبیہ نے اسے کانگریجولیٹ کیا۔ تو وہ مسکرا دیا۔ دونوں باتیں کرتے ہوۓ گارڈن میں سب کے پاس آۓ۔

شہیر سے گلے ملتے شامی نے کن اکھیوں سے عابی کو دیکھا جو ابھی بھی بس سر کو پکڑے ہولے ہولے دبا رہی تھی۔

زکیہ باجی۔۔۔! سب کے لٕے ناشتہ ڈاٸننگ پے لگا دیں۔۔ جمیلہ خاتون نے گھر کی اکلوتی ملازمہ سے کہا۔ تو وہ اثبات میں سر ہلاتیں اندر کی جانب بڑھیں۔

ہم دیکھتے ہیں۔ عابی نے وہاں سے اٹھنا چاہا۔ لیکن جمیلہ خاتون نے واپس بیٹھا دیا۔

وہ ایک لمحے کو بھی عابی کا وہم نہیں کھاتی تھیں۔ جب سے وہ حادثہ ہوا تھا۔ اور اس کے بعد جو وہ روٸ تھی۔ جمیلہ خاتون بھول ہی نہیں رہی تھیں۔ وہ انہیں بہت عزیز ہو گٸ تھی۔

عابی۔۔ تمہاری طبعیت نہیں ٹھیک لگ رہی جاٶ۔۔ آرام کرو۔۔ پلیز۔۔ !انا نے فکرمندی سے کہا۔

ارے نہیں۔۔ ہم ٹھیک ہوں۔۔ بس۔۔! ایسے ہی۔۔۔ ! وہ جمیلہ خاتون کے منع کرنے کے باوجود سب کو ٹیبل پے ناشتہ سرو کر رہی تھی۔

اگر سب منع کر رہے ہیں۔ تو سن لیتے ہیں بات۔۔۔! جاٶ۔۔ روم میں۔۔ ! شامی کے لہجے میں تھوڑی سختی اور ناگواری سی تھی۔ عابی محسوس کرتی سر جھکاۓ فوراً وہاں سے اپنے روم کی جانب بڑھ گٸ جب کہ آنکھیں پانیوں سے بھر گٸ تھیں۔

شامی۔۔۔۔! اپنے لہجے پے تھوڑا قابو رکھیں۔ سلطان صاحب نے دھیرے سے ٹوکا۔

جب کہ سبھیایک لمحے کو چپ سے ہوگۓ۔ انا بیہ کو دونوں کے بیچ میں کچھ کھٹکا سا لگا۔

@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@

اسے روم میں آۓ ابھی کچھ ہی دیر ہوٸ تھی۔ کہ شامی ناشتے کی ٹرے لیے اندر داخل ہوا۔

جب کہ عابی باتھ روم سے منہ صاف کرتی باہر آٸ تھی۔

اس کا چہرہ بتا رہا تھا۔ وہ روٸ ہے۔

یہاں آٶ۔۔۔! شامی نے نرمی سے اسے پکارا۔ وہ جو اسے اگنور کر کے نکلنے لگی تھی اس کے پکارنے پے پھر سے دل بھر آیا ۔

اپنی جگہ پے جم کے کھڑی ہو گٸ۔ لیکن شامی کے پاس نہ گٸ۔

شامینے گہر سناس خارج کرتے اس کا ہاتھ تھام کے اسے صوفے پے بٹھایا۔

اپنےہاتھسے نوالہ توڑتے اس کے منہ میں ڈالنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔ تو وہ اپنے ضبط کیے آنسو بہانے لگی۔

عابی۔۔۔!رونے کا سیشن بعد میں پہلےناشتہ کر لو۔

شامی نے اسے پیار سے ٹوکا۔ تو وہ منہ میں نوالہ رکھتے منہ ہاتھوں میں چھپا کے بری طرح رو دی۔

شامی اس کے اسطرح رونے سے ازحد پریشان ہوا۔

اور فوراً اسے خود سے لگایا۔

پاگل۔۔۔ کیوں رو رہی ہو۔۔ اتنا۔۔؟؟ ہوا کیا۔۔۔؟؟ اسے اپنے ساتھ لگاۓ وہ اس کی پیٹھ سہلا رہا تھا۔

آپ نے ہمیں۔۔ سب کے۔۔ سامنے۔۔ ڈانٹا۔۔۔۔! وہ اس کی شرٹ کو ٹنسوٶں سے بھگوتے ہچکیوں میں بولی تھی۔

ڈانٹ نظر آٸ۔ اس میں میرا پیار نظر نہیں آیا۔۔؟؟

بہت نرمی سے اس کے بالوں کو ہاتھ سے اس کے چہرے سے پیچھے کرتے کہا۔

آپ۔۔۔ آپ۔۔ ہم سے ۔۔ پیار نہیں۔۔ کرتے۔۔۔ آپ نے۔۔ خود کہا۔۔۔!وہ روتے ہوۓ بالکل بچوں کی طرح لگ رہی تھی۔

ہمممم۔۔۔ پیار نہیں کرتا اس لیے۔۔ پھر سے مما بن رہی ہو۔۔۔ ہیں۔۔ ناں۔۔؟؟ پیار بھرے لہجے میں کہا تو وہ بلش کرنے لگی۔

اور چہرہ جھکا لیا۔

آپ۔۔۔؟؟ وہ کچھ بول نہ پاٸ اب۔۔۔

میرا سوہنا گول گپہ۔۔؟؟ کس طرح کا پیار چاہتا ہے۔۔۔؟؟ پہلے ناشتہ کر لو۔۔۔ پھر مجھے بتانا ۔۔ ویسے ہی پیار کروں گا۔۔ ٹھیک۔۔۔۔! پیار سے اس کے گال پے بوسہ دیتے وہ اسے ناشتہ کروانے لگا تھا۔ اور وہ بھی اس کے سینے سے لگی چپ چاپ ناشتہ کرنے لگی۔

شامی نے محسوس کیا تھا۔ وہ بہت زیادہ حساس ہوگٸ تھی۔ شامی کی ہر بات کو وہ ان دنوں بہت ہی محسوس کرنے لگی تھی۔ اس لیے شامی نے سوچ لیا تھا وہ اسے بہت پیار سے ہینڈل کرے گا۔

💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞
💞

مسٹر اسد چیمہ اس وقت اپنے آفس میں بیٹھا میٹنگ میں مصروف تھا۔ کہ اچانک سے ڈور اوپن ہوا۔ اور آفتاب شیر خان اپنے دو گارڈز کے ساتھ غصہ سے اندر داخل ہوا ۔ سیدھی گن اس کے اوپر تانی۔

یہ۔۔۔ یہ۔۔ کیا ہے۔۔ خان۔۔؟؟ اسد چیمہ کچھ پل کو سہم کے بولا تھا۔

ساتھ ہی نشانہ بدلتا وہ اس کے آفس میں موجود تمام چیزوں کو نشانہ بناتا فاٸر کر چکا تھا۔ وہاں موجود سبھی دم بخود اس کے جلال کو دیکھ رہے تھے۔

گن کا رخ دوبارہ اسد چیمہ پے کیا۔

اگر میری بیوی یا بچوں میں سے کسی کو بھی ایک کھروچ بھی آٸ ہوتی۔۔۔ تو۔۔ اس وقت ان سب کی جگہ تم ہوتے۔۔۔ ساری گولیاں تمہارے سینے میں میں گاڑھ دیتا۔۔۔ آفتاب شیر خان کا انتہا کا غصہ دیکھ اسد چیمہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکا۔

آٸندہ ۔۔ دھمکی دینے سے پہلے ایک بار سوچ لینا۔۔۔ آفتاب شیر خان۔۔۔ پیٹھ پیچھے وار نہیں کرتا۔۔ شیر ہے شیر۔۔۔ وہ اب کی بار دھاڑا تھا۔ کہ سبھی نے دل دہل کے اسے دیکھا۔

جب بھی وار کرے گا سامنے سے وار کرے گا۔۔ اور چیر پھاڑ کے رکھ دے گا۔۔۔ !غصہ اور سرد لہجے میں کہتا وہ زور سے پاس پڑی شیشے کی ٹیبل کو ٹانگ مار کے کرچی کرچی کر گیا تھا۔

اسد چیمہ نے اس کے جاتے ہی گہرا سانس خارج کیا۔ اپنی ٹاٸ کی ناٹ ڈھیلی کی۔

سر۔۔۔۔؟؟ ساتھ بیٹھے بزنس پارٹنر نے ٹشو پیپر بڑھایا۔

پسینہ۔۔۔۔!اس نے ان کے ماتھے کی طرف اشارہ کیا۔

اسد چیمہ نے ماتھے پے آیا پسینہ ہاتھ سے صاف کیا۔ اور اپنی جگہ سے اٹھتا وہ اندر ہی اندر کھولنے لگا تھا۔

اس نے آفتاب شیر خان کو ہلکے میں لیا تھا۔ وہ انسان جو اسے اسی کے آفس میں آکے دھمکا کے جا سکتا ہے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *