Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan NovelR50506 Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 08)
Rate this Novel
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 (Episode 08)
Tum Mere Nikkah Mein Ho Season 2 by Muntaha Chohan
گاڑی جھٹکے سے رکی۔ کنول نے ونڈ سکرین کے پار دیکھا۔ تو سانس اوپر کی اوپر نیچے کی نیچے رہ گٸ۔
تین گاڑیاں ایک ساتھ وہاں سامنے موجود تھیں۔
خان۔۔؟؟ زیرِلب کہتی اس کا دل بہت سخت لرزا تھا۔
بھیا۔۔۔۔ گاڑی پیچھے موڑیں۔۔۔ وہ منت سے بولی۔
اس سے پہلے کے ڈراٸیور گاڑی موڑتا پیچھے بھی دو گاڑیاں آن کھڑی ہوٸیں ۔
اب باہر نکلنے کے علاوہ کوٸ آپشن نہ بچا تھا۔
وہ مونس کا ہاتھ تھامے نیچے اتری تھی۔ جبکہ ملکہ کو اس نے اپنے پیچھے کیا تھا۔
سامنے گاڑی سے وہ اترا۔ سن گلاسز لگاۓ ایسے ٹھاٹ باٹھ جیسے کی ریاست کا بادشاہ ہو۔ دونوں ہی نظروں کا تصادم ہوا۔
دل کو قرارآیا۔۔۔
پہلی پہلی بار آیا۔۔۔
اوہ۔۔ یارا۔۔۔۔
وہ ایک ایک قدم اٹگاتا اس کی جانب آیا تھا۔ اور کچھ فاصلے پےرک گیا تھا۔ ۔اس ایک ایک قدم پے کنول کو اپنے دل ک سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔
کیا۔۔۔ محبت۔۔ اب بھی زندہ ہے۔۔؟؟ کول نے دل سے پوچھا تو آگے سے خاموشی ملی۔ اس خاموشی نے اسے پتھر کا کر دیا۔
بابا۔۔۔۔؟؟ مونس کنول کا ہاتھ چھڑا کے آفتاب کی طرف لپکا تھا ۔ آفتابنے اسے گھٹنوں کے بل بیٹھتے اپنی گود میں اٹھایا تھا۔
جبکہ کنول اپنا خالی ہاتھ دیکھتی رہ گٸ تھی۔
ان تین سالوں میں اس نے کیا کھو دیا۔۔۔ آج اسے احساس ہو تھا۔ دو آنسو لڑھک کے گال پے بہے۔
baba its a mricle..
مما۔۔ روزخواب میں آتی تھیں۔ آج سچ میں آگٸیں۔۔
وہ خوشی سے باپ کو بتا رہا تھا۔
آپ۔۔ گارڈ انکل کے ساتھ جا کے گاڑی میں بیٹھیں۔ ٹھیک ہے۔۔۔! خان نے سنجیدگی سے بولا۔ تو مونس خاموشی سے چلا گیا۔
آفتاب شیر خان۔۔۔! مجھے میرا بیٹا۔۔۔ واپس کر دو۔۔۔! کونل نے اونچی آواز میں اسے للکارا تھا۔
آفتاب شیر خان ایک جھٹکے سے پلٹا۔ اور اس کے پاس آیا۔ کنول کا دل پھر سے دھڑکنے لگا۔
تمہیں کیا لگا۔۔۔؟ تم میری ناک کے نیچے سے میرے بیٹےکو لے جاٶ گی۔۔۔ ؟؟ اور آفتاب شیر خان چپ چاپ تماشا دیکھتا رہ جاۓ گا۔۔۔؟؟
کنول اس کے سامنے کمزور پڑ رہی تھی۔ لیکن وہ خان آفتاب کے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔
پلکیں جھپک جھپک کے اسے یکھتی وہ آنسو روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔
مجھے۔۔۔میرا مونس چاہیے۔۔۔! لہجے میں تین سال کا کرب تھا۔ جسے آفتاب باآسانی محسوس کر سکتا تھا۔
بھول جاٶ۔۔۔ کہ کوٸ بیٹا بھی تھا تمہارا۔۔
اس سے پہلے کہ تمہیں اپنے یہاں آنے پے پچھتاوا ہو۔۔۔ دفعہ ہو جاٶ میری نظرں سے۔۔۔۔!زہرخند ہجے میں کہتا وہ کنول کا بھرم ہی توڑ گیا۔
آنسو اب کی با بند بادھنے سے بھی نہ روکا۔ اور بےوفاٸ کرتا لڑھکتا ہوا گال پے آن گرا۔
اس ایک آنسو نے آفتاب کے دل میں ہلچل مچاٸ تھی۔ لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔
اور پلٹا۔
اوہ ہیلو۔۔۔ مسٹر ڈیڈ۔۔۔! کنول کے پیچھے کھڑے ملکہ نے سر نکال کے آفتاب خان کو پکارا۔
اپنی پشت پے وہ بچی کی آواز سنتا رکا تھا۔ دل میں طوفان برپا ہوا تھا۔ اور جھٹکے سے پلٹا۔











کیا آج تو بڑی برق رفتاری سے کام کیا جا رہا ہے۔۔؟؟
خیریت ہے ناں۔۔؟؟ شامی نے عابی کے فٹ فٹ کام کرنے پے چوٹ کی۔
دو دن سمیرا کی بیٹی کی منگنی ہے۔۔ تو میں سوچ رہی تھی۔ آپ کے بابا اور میں آج جا کے مبارک دے آٸیں۔ پھر فضا نے آجانا لاہور سے۔۔۔! بچوں سمیت۔۔
انابیہ بھی آرہی ہے۔۔ تو نہیں نکلا جاۓ گا گھر سے۔۔
ہمم۔۔۔۔ بچوں کو چھٹیوں ہوگٸ ہوں گیں۔۔؟؟ شامی نے چاۓ کا سپ لیتے کہا۔
ہاں۔۔ بیٹا۔۔۔ یہ چھٹیاں ہی ہوتی ہیں۔۔ جب بیٹیاں ماں باپ کے گھر جاتی ہیں۔۔ ایک یاس سے کہا۔
ممانی جان۔۔۔؟؟ عابی کی آنکھیں چمکیں۔
چھٹیاں ہورہی ہیں۔۔ تو ہم بھی اپنی امی کےگھر چلے جاٸیں۔۔؟؟
نہ۔۔ تمہارے کنسے بچے سکول جاتے ہیں۔۔ جو چھٹیوں میں امی کے گھر جانے کا سوچ رہی ہو۔۔؟؟ اس سے پہلے کے جملہ خاتون جواب دیتیں۔ شامی نے تپ کر کہا۔ تو وہ منہ بسور گٸ۔
اور بول تو ایسے رہی ہے۔۔ جیسے اماں حضور کا گھر کلکتے میں ہو۔۔ یہ۔۔ یہ۔۔ ایک دیوار کا فرق ہے۔۔ نواب صاحب کے گھر کا۔۔۔ ! اور چھٹیاں گزادنی ہیں۔۔ جا کے۔۔۔! شامی صحیح معنوں میں تپ گیا تھا۔
تو اچھی بات ہے ناں۔۔ کرایہ نہیں لگے گا۔۔ کوٸ۔۔ ہمیں بھی جانا ہے ممانی جان۔۔۔ پلیز۔۔۔۔! کہتے ہوۓ جمیلہ خاتون کے سامنے منمناٸ۔ تو انہوں نے اس کے ر پےپیار سے ہاتھ پھیرا۔
اچھا میری جان آج چلی جانا۔۔۔ پیار سے بولا۔
کوٸ ضرورت نہیں۔۔ ! گھر بیٹھے آرام سے۔۔۔! شامی نے سنجیدگی سے اپنا بیگ اٹھاتے کہا۔
تو عابی نے شکی نظروں سے اسے دیکھا۔
ارے بیٹا۔۔۔۔۔ وہ کون سا روز جاتی ہے۔۔؟؟ جانے دو۔۔ آپ شام کو آتے ہو۔۔ کیا کرے گی سارا دن۔۔؟؟ اکیلی گھر میں۔۔؟؟ آپ آنا تو جا کے لے آنا۔۔ اور نواب صاحب بھی گلہ کر رہے تھے۔ شامی تو نظر ہی نہیں آتا۔۔۔؟؟ ان سے بھی مل لینا۔
جی۔۔۔! میں اتنا فارغ بندہ نہیں۔۔ ! اور ہاں۔۔ ! تم۔۔ میرے آنے سے پہلے گھر واپس آجانا۔۔۔ اور منہا کا دھیان رکھنا۔۔۔! غصہ اور سنجیدھی سے کہتے وہ گیٹ کی جانب پارکنگ کی طف بڑھا گاڑی نکالنتے وہ پاس کھڑی رونی صورت بناٸے عابی کو فیکھتا زچ ہوتا پھر سے گاڑی سے باہر نکلا۔
کیا ہے۔۔؟؟ اب دے دی ہے نا۔۔ اجازت۔۔؟؟ اب یہ پانی کی ٹینکی کیوں کھول رہی ہو؟ اس کے آنسوٶں کی طرف طنزیہ اشارہ کیا۔
آپ۔۔۔ بھی۔۔۔ آجاٸیے گا۔۔ ناں۔۔؟؟؟ پلیز۔۔؟؟ وہ منمناٸ۔۔۔
شامی نے گہرا سانس خارج کیا۔
اچھا۔۔۔ کوشش کروں گا۔۔ اندر جاٶ۔۔ شامی کے اتنا کہہ دہنے پےوہ خوش ہوتی اندر کی طرف بڑھ گٸ۔ جبکہ شامی نگی میں سر ہلاتا۔ گاڑی میں بیٹھا آفس کے لیے نکل چکا تھا۔











وہ بچی کنول کے پیچھے سے ہٹ کے اب سامنے آگٸ تھی۔ آفتاب نے گردن ترچھی کرتے ایک نظر اس پٹاخہ کو دیکھا۔
اور اپنا چشمہ اتارا۔ کنول ملکہ کو اس سے چھپانا چاہتی تھی۔ لیکن ملکہ نے سامنے آکے کنول کے لیے مسٸلہ بنا دیا۔
اگر آپ نے میری مما کو ہرٹ کیا۔۔ تو آٸ سوٸیر۔۔ میں آپ کو واپس سپیس میں بھیج دوں گی۔
ملکہ کے تڑتڑ چلتے جملے سنتا آفتاب جہاں حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ وہیں کنول نے سختی سے آنکھیں بند کرتے کھولیں تھیں۔
آفتب گھٹنوں کے بل ملکہ کے سامنے بیٹھا تھا۔ اور یک ٹک اپنی بیٹی کو دیکھے جا رہا تھا۔ جو بالکل اسی کی کاپی تھی۔
جھٹ سے دل کی آوز پے لبیک کہتے ملکہ کو گود میں اٹھایا۔
آپ۔۔ مجھے سپیس میں بھیجیں گیں۔۔؟؟ بہت محبت سے پوچھا
کنول جو اس سے ملکہ کو چھیننے والی تھی۔ ایک پل کو وہیں تھم گٸ۔
ملکہ آفتاب کی گود میں دونوں ایک دوسرے کا چہرے دیکھتے اتنے مکمل لگ رہے تھے۔ کہ کنول اپنی جگہ سے ہل ہی نہ سکی۔
if you hur my mom.. i will ….!!
وہ مکمل الفاظ ادا کرتی آفتاب خان کے اندر سکون سا اتار گٸ۔ ایک کس اس کے گال پے کرتا وہ اسے گود میں لیے اپنی گاڑی کی جانب بڑھا۔ تبھی کنول کو ہوش آیا اور جھٹکے سے آفتاب کے پیچھے بھاگی۔ لیکن وہ ملکہ کو تب تک اپنی گاڑی میں بٹھا چکا تھا۔
میری بچی۔۔ مجھے واپس کرو آفتاب خان۔۔۔! کنول اب کی بار غصہ سے چلاٸ تھی۔
آفتاب اس کی جانب پلٹا۔
تمہاری عادت گٸ نہیں ناں۔۔ پیٹھ پے وار کرنے کی۔۔؟؟
وہ دوبارہ چشمہ چڑھا چکا تھا۔ نجانے وہ آنکھوں میں مجود کونسا درد چھپا رہا تھا۔
میرے بیٹے کو اغو کرنے آٸ تھی۔۔۔؟؟ استہزایہ انداز میں ہنسا۔۔ میں نے تمہارے سامنے اپنی بیٹی تم سے واپس لے لی۔۔۔؟؟
آفتاب خان کے الفاظ کنول کو تیر بن کے دل میں پیوست ہوۓ تھے۔
وہ گاڑی میں بیٹھنے لگا ۔کہ
ہرگز نہیں۔۔ مجھے ملکہ واپس کرو۔ نول بے ین ہوتی آگے بڑھی۔ کہ آفتاب گاڑ میں بیٹھتا ڈراٸیور کو چلنے کا بول دیا۔ گاڑی آگے بڑھ گٸ۔
کنول جو گاڑی تک پہنچی تھی۔ گاڑی ک پکڑنے کے چکر میں اس کے پیچھے بھاگتی وہیں گری تھی۔ کہ اس کی کلاٸیاں چھلنی ہوٸ تھیں۔ اپنے گاڑی کے مرر سے آفتاب خان نے اسے گرتے دیکھا تھا۔ دل ایک دم ہول اٹھا۔ لیکن وہ رکا نہیں پلٹا نہیں۔۔
نظریں پھیرتا وہ جا چکا تھا۔
ایک ایک کر کے سب گاڑیاں جا چکی تھیں وہاں سے۔۔ وہ خالی ہاتھ رہ گٸ تھی۔
اور دھول رہ گٸ تھی۔
آنکھیں برس رہی تھیں۔
اس کھٹور کو بے حسی کے آخری درجے پے دیکھ وہ آنکھیں بند کرتی اپنے دل سے بھی اسکی محبت کو نکال پھینک دینا چاہتی تھی۔ جو تن سالوں سے جونک کی طرح اس کے ساتھ چپکی ہوٸ تھی۔ آج وہ سب ختم ہو گیا۔۔۔
دھول ہٹ چکی تھی۔ اب منظر واضح تھا۔
ایک بیوی تو ہار مان سکتی ہے۔۔ لیکن ایک ماں نہیں۔۔ ! مونس ۔۔ اور ملکہ میرے بچے ہیں۔۔ اور اتنی آسانی سے آپ کو دے دوں۔۔ آفتاب شیر خان۔۔؟؟
ناممکن۔۔۔۔! اب کی بار اس کے اندر کی ایک ماں نے اسے بہادر بنا دیا تھا۔ اس کا رخ اب واپسی کی طرف نہیں۔۔ بلکہ خان منشن کی طرف تھا۔
جاری ہے۔
