Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

”میرا بیٹا کہاں ہے۔ اگر اُسے زرا سی خراش بھی آئی تو میں چھوڑوں گی نہیں تمہیں۔ ابھی تک اگر تم زندہ ہو تو اِسے احسان مانو میرا۔ آرام سے میرے بیٹے کو میرے حوالے کردو۔“
ابتہاج اِس وقت گلشن آرا کے بنگلے میں اُس کے ڈرائنگ روم میں عین اُس کے سامنے ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھا اُس کا ضبط آزما رہا تھا۔
اُس کے تن تنہا ہونے کے باوجود گلشن آرا کو اُس سے اتنا خوف تھا۔ کہ اُس نے اپنے گارڈز کی پوری فوج اپنے اردگرد اکٹھی کر لی تھی۔
“تمہارے ایسے کروڑوں گارڈز بھی مجھے میرا کام کرنے سے روک نہیں پائیں گے۔“
ابتہاج اُس کے چہرے پر پنپتا موت کا خوف دیکھ تمسخرانہ لہجے میں بولا تھا۔
”بولو۔۔۔مجھے ضروری کام سے جانا ہے۔ زیادہ ٹائم نہیں ہے میرے پاس۔“
گلشن آرا نے اپنے ہاتھوں کی لرزش چھپاتے لہجے کو ہموار رکھنے کی کوشش کی تھی۔ وہ اب تک جتنے گناہ کرچکی تھی۔ وہ سب ایک ایک کرکے اُس کے سامنے آرہے تھے۔
” ٹائم تو واقعی ہی نہیں ہے تمہارے پاس۔“
ابتہاج نے آگ اُگلتی نظروں سے سامنے بیٹھی فتنا صفت عورت کو دیکھا تھا۔ جس نے اُس کے سارے رشتے اُس سے چھین لیے تھے۔ اُس کی ماں کو صرف جائیداد کی خاطر مار دیا تھا۔
”اگر اپنے بیٹے کو زندہ سلامت دیکھنا چاہتی ہو۔ تو اپنے سارے گناہوں کا اقرار کرکے خود کو پولیس کے حوالے کردو۔ ورنہ ایک سیکنڈ میں میرے آدمی تمہارے بیٹے کے پرخچے اُڑا دیں گے۔“
ابتہاج کی بات پر گلشن آرا کے چہرے کا رنگ متغیر ہوا تھا۔ جو کام اُس نے اپنے شوہر کی خاطر نہیں چھوڑا تھا۔ وہ بیٹے کی خاطر کیسے چھوڑتی۔
”نن نہیں تم ایسا کچھ نہیں کرو گے۔ میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں۔ تم میرے بیٹے کو کیسے ختم کرو گے۔ اُس سے پہلے ہی میرے آدمی تمہارا کام تمام کردیں گے۔ تمہاری بھول ہے کہ میں یہ کام چھوڑوں گی۔ چاہے سامنے میرا بیٹا کھڑا ہو یا شوہر۔ میں اِس ملک کو تباہ کرنے کی قسم کھا کر یہاں داخل ہوئی تھی۔ اور ختم کر کے ہی نکلوں گی۔ جعفر لغاری اور قاسم لغاری تو صرف مہرے تھے۔ جنہیں استعمال کرکے میں نے کامیابی کی اتنی منزلیں طے کی ہیں۔ اُن کی خاطر میں اپنے پیشے سے غداری کبھی نہیں کروں گی۔ تم تو ویسے بھی میری یہ خصلت اچھی طرح جانتے ہو۔ صرف تمہارے باپ سے تعلق نہیں تھا میرا۔ نجانے کتنے مردوں کو استعمال کیا ہے میں نے یہاں تک پہنچنے کے لیے۔ اور تم کہہ رہے ہو۔ اپنے گناہوں کا اقرار کرکے خود کو پولیس کے حوالے کردوں۔ مجھے نہیں لگا تھا۔ تک اتنے بے وقوف ہوسکتے ہو۔ جو یہ شرط لے کر میرے پاس یہاں آئے۔ اب میں تمہیں مزید جینے کی مہلت نہیں دے سکتی۔ پہلے ہی تم کئی بار میرے راستے میں آچکے ہو۔ مگر اب مزید نہیں۔“
گلشن آرا کے چہرے پر اپنے بیٹے کو کھونے کا زرا سا ملال بھی نہیں تھا۔
”تمہاری آنکھیں کھلیں اب یا پھر ابھی اور بھی کچھ سننا باقی ہے۔“
ابتہاج کی پکار پر دروازے سے اندر داخل ہوتے قاسم کو دیکھ گلشن آرا کچھ پل کے لیے سمجھ ہی نہیں پائی تھی۔ اُس جیسی عورت کو ابتہاج لغاری نے اتنی آسانی سے اپنی باتوں میں اُلجھا دیا تھا۔ اُس نے اپنے ہی ہاتھوں اپنا بہت بڑا نقصان کردیا تھا۔
اُسے تو لگا تھا ابتہاج قاسم کو مار دے گا۔ جس کے ساتھ اُس کے سارے راز بھی دفن ہوجائیں گے۔ مگر قاسم کو اِس شاطر انسان نے اپنے ساتھ ملا کر اُسی کی بازی پلٹ دی تھی۔
“تمہیں تمہارے اِس دھوکے کی سزا ضرور ملے گی۔ چھوڑوں گی نہیں میں تمہیں۔“
ابتہاج کا مسکراتا دیکھ وہ زہر خند لہجے میں بولتے اپنے پیچھے کھڑے گارڈ سے گن چھین کر ابتہاج پر تانی تھی۔ اُس کے باوجود ابتہاج کے سکون میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔
“اب آپ کو وقت ختم ہوچکا ہے۔ ابتہاج بھائی پر گولی چلانے کی غلطی مت کیجیئے گا۔ ورنہ میں قسم کھاتا ہوں اپنے ہاتھوں سے یہ ساری گولیاں آپ کے وجود میں اُتار دوں گا۔“
قاسم نے نفرت آمیز نگاہوں سے گلشن آرا کی جانب دیکھتے بندوق اُس کی کنپٹی پر رکھی تھی۔
”گھن آرہی ہے خود سے۔ کہ آپ جیسی عورت کی کوک سے جنم لیا میں نے۔ میری اور نیہا کی زندگی برباد کرکے رکھ دی آپ نے۔“
قاسم کی لال آنکھیں تکلیف کے احساس سے نم ہوچکی تھیں۔ اُس کی ماں نے اُسے گناہوں کی دلدل میں ایسا پھنسایا تھا کہ وہ اپنی دنیا اور آخرت دونوں گنوا بیٹھا تھا۔
”تمہیں اِس عورت کے خون سے اپنے ہاتھ گندے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اِس کو میں ایسی عبرت ناک سزا دلواؤں گا۔ کہ یہ موت کی دعائیں کرے گی۔ مگر اِسے موت بھی نصیب نہیں ہوگی۔“
فورسز کے لوگوں نے اندر آکر گلشن آرا کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔
“تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ میرا خاتمہ کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ میرے آدمی ابھی بھی تمہارے گرد موجود ہیں۔ تمہیں اور تمھاری بیوی کو چھوڑوں گی نہیں میں ابتہاج لغاری۔ میں واپس ضرور آؤں گی۔“
گلشن آرا بکتی جھکتی وہاں سے نکل گئی تھی۔
”میں تو آپ کی معافی کے قابل بھی نہیں ہوں۔ بہت بڑا گنہگار ہوں ہیں۔ میں نے اپنی پوری لائف تو آپ کے خلاف سازشیں بنتے ہی گزار دی۔ سُلین بھابھی کے ساتھ بھی بہت غلط کیا میں نے۔ اگر ہوسکے تو مجھے معاف کردیجیئے گا۔“
قاسم خود کو پولیس کے حوالے کرنے سے پہلے ابتہاج کے آگے ہاتھ جوڑ کر ندامت کے احساس سے چور لہجے میں بولا تھا۔
ابتہاج نے اُسے دل سے اپنا بھائی مانا تھا۔ وہ زیادہ دیر اُس کو اِس حال میں نہیں دیکھ پایا تھا۔ اور فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے آگے بڑھ کر اُسے اپنے سینے میں بھینچ لیا تھا۔
”تم نے وہی کیا جو تمہیں بچپن سے سیکھایا گیا تھا۔ لیکن سب سے اچھی بات یہ ہے کہ الله نے تمہیں گناہوں کی دلدل میں پھنسنے سے بچا لیا ہے۔ تم فکر مت کرو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔“
قاسم اُس کی اِس قدر اعلٰی ظرفی پر مزید نادم ہوا تھا۔ مگر ابتہاج نے اُسے زیادہ دیر اِس احساس میں نہیں رہنے دیا تھا۔
قاسم نے اپنے تمام جرائم کا اقرار کرتے خود کو پولیس کے حوالے کردیا تھا۔ ابتہاج نے پوری کوشش کی تھی اُسے کم سے کم سزا ملے۔
★★★★★★★★
اُن دونوں نے ہی شہلا بیگم اور ہمایوں شاہ کے ساتھ کچھ ٹائم گزارنے کا کہتے اپنے شوہروں کو خالی ہاتھ لُٹا دیا تھا۔
“یہ ملاپ تو ہم دونوں کو بہت مہنگا پڑا ہے۔“
جاتے وقت زورین نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔ وہ سب کے درمیان بہت خوش باش اچھے سے رہا تھا۔ مگر دل سے بات کرنا تو دور اُس نے دیکھا تک نہیں تھا۔ اُس کی یہ بے رُخی دل کو اندر ہی اندر رُلا رہی تھی۔ جب اُس نے ساتھ رہنا ہی نہیں تھا۔ تو اُسے اتنی خوشیوں بھری زندگی کا عادی کیوں کررہا تھا۔
“کیا ہوا اگر سیاں جی کی اتنی یاد آرہی ہے۔ تو چلی کیوں نہیں جاتی اُن کے پاس۔“
سُلین دل کو لان میں گم صم اُداس بیٹھا دیکھ اُسے چھیڑتے ہوئے بولی تھی۔ اور ہاتھ میں پکڑا چائے کا مگ اُس کی جانب بڑھایا تھا۔
“نہیں ایسا کچھ نہیں۔ جو میرا نہیں اُسے یاد کرکے اپنا دل دکھی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔“
دل چائے کا مگ ہونٹوں سے لگاتی یاسیت سے بولی تھی۔
“یہ کیا بات ہوئی تمہارا شوہر تمہارا نہیں تو اور کس کا ہے۔ زورین شاہ کی بیوی ہو تم سب سے زیادہ تمہارا حق ہے ہے اُس پر۔ “
سُلین نے بیوی لفظ پر خاصہ زور دیا تھا۔ وہ اُس سے اُس کی پریشانی اور ڈسٹربنس کی اصل وجہ اُگلوانا چاہتی تھی۔
” نہیں میرا حق نہیں ہے۔ بہت جلد ہمارا رشتہ ختم ہوجائے گا۔ میں صرف نام کی بیوی ہوں اُن کی۔ وہ کسی اور سے محبت کرتے ہیں۔ اور شادی بھی اُسی سے کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کی لائف میں میری کوئی جگہ نہیں ہے۔“
دل کی آنکھوں میں ایک بار پھر نمی اُتر آئی تھی۔
”اور کس سے محبت کرتا ہے زورین۔“
سُلین نے اُس کی گال پر بکھرے آنسو صاف کرتے پوچھا تھا۔
”نتاشا سے۔ اُس کی بچپن کی فرینڈ ہے۔“
نتاشا کا نام لیتے دل کی آنکھوں کے سامنے وہی منظر دوہرایا تھا۔ جس میں وہ لڑکی زورین کے بعد قریب بیٹھی تھی۔
“دل تم واقعی اتنی بے وقوف ہو۔“
سُلین کے سوال پر دل نے آنسو صاف کرتے خفگی سے اُسے دیکھا تھا۔
”کسی بچے کو بولو گی نا۔ تو وہ بھی زورین کی آنکھوں میں دیکھ کر بتا دے گا۔ کہ زورین صرف تم سے محبت کرتا ہے۔ وہ بھی بے پناہ۔ تم اتنی بڑی غلط فہمی کا شکار کیسے ہوسکتی ہو۔“
سُلین کے اتنے یقین سے کہنے پر دل پل بھر کو ٹھہر سی گئی تھی۔
سُلین کے پوچھنے پر اُس نے اپنی ساری کہانی اُسے سنا ڈالی تھی۔ سُلین افسوس سے سر ہلانے کے سوا کچھ نہیں کر پائی تھی۔ اُس کی بہن عقملندی میں اُس سے بھی دو ہاتھ آگے نکلی تھی۔
”اگر واقعی مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ تو ایک ہفتہ ہوچکا ہے مجھے یہاں۔ آنا تو دور کی بات ایک کال تک نہیں کی۔“
دل ابھی بھی ماننے سے انکاری تھی۔
”کیونکہ تم جو باتیں اُسے سنا چکی ہو۔ اُس کے بعد وہ تمہارے قریب نہیں آئے گا۔ تمہیں ہی جانا پڑے گا۔ مرد کی انا سے واقف نہیں ہو تم۔“
سلین نے اُسے مخلصانہ مشورہ دیا تھا۔
”میں کیا کروں پھر۔“
دل کو سُلین کی بات بالکل ٹھیک لگی تھی۔ وہ اپنی بچکانہ بےوقوفیوں سے زورین کو گنوانا نہیں چاہتی تھی۔ اگر زورین واقعی اُس سے محبت کرتا تھا تو تو اُس دن اُس نے زورین کو جو باتیں سنائی تھیں وہ بہت غلط تھا۔
“آؤ شاپنگ پر چلتے ہیں۔ پھر میں سب سمجھاتی ہوں تمہیں۔ “
سُلین اُس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتی اُس کے انکار کے باوجود ساتھ گھسیٹ کر لے گئی تھی۔
★★★★★★★★
“اُف آپ تو مجھے ایسے شاپنگ کروا رہی ہیں۔ جیسے میری رخصتی ہونی ہیں ابھی۔“
دل اتنا سب کچھ خرید کر اب تنگ آچکی تھی۔ وہ زہنی طور پر ویسے ہی بہت تھکی ہوئی تھی۔ اِس شاپنگ نے اب اُسے مزید تھکا دیا تھا۔
”بھابھی آپ جلدی چلیں میرے ساتھ۔ بہت بڑی گڑبڑ ہوگئی ہے۔“
وہ دونوں کافی شاپ کی جانب بڑھ رہی تھیں۔ جب آصف گھبرایا بوکھلایا اُن کے قریب آیا تھا۔
“کیا ہوا سب ٹھیک ہے۔ ابتہاج تو ٹھیک ہیں نا۔“
سُلین کا دل انجانے خوف سے دھڑکا تھا۔
“نہیں وہ ٹھیک نہیں ہیں۔ اُنہیں گولی لگی ہے۔ اُن کی حالت کافی سیریس ہے۔ آپ کو ابھی ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔ وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔“
آصف کے ساتھ شایان اور فرحان بھی اُسی جیسی پریشانی بھری شکلیں بنائے کھڑے تھے۔ کچھ دن پہلے ہی ابتہاج نے اُن دونوں کو اِس شرط پر رہاع کروایا تھا۔
کہ باہر نکل کر وہ اپنی پرانی حرکتیں چھوڑ کر حلال کی روزی کمائیں گے۔ اُس نے اُن دونوں کو اپنے آفس میں کام پر رکھ لیا تھا۔
سُلین شاپنگ بیگز وہیں پھینکتی اُن کے ساتھ باہر کی جانب بھاگی تھی۔
دل نے بھی ساتھ جانا چاہا تھا مگر آصف نے اُسے اصل بات سمجھاتے روک دیا تھا۔
“ایک گال پر ابتہاج بھائی سے ڈیزائن بنوا کر آرام نہیں آیا آپ کو۔ جو اب دوسری گال پر اُن کی بیوی سے بنوانا چاہتے ہیں۔“
دل نے اُسے باز رکھنا چاہا تھا۔
“اپنے یار کی خوشی کی خاطر اُن کی بیوی سے جوتوں سے پیٹنے کو بھی تیار ہوں۔“
آصف شرارتی لہجے میں جواب دیتا گاڑی کی جانب بڑھ گیا تھا۔
★★★★★★★★★
“میم یہ آپ کے لیے آیا تھا۔“
دل شہلا بیگم اور ہمایوں شاہ کے روم سے نکلی ہی تھی۔ جب ملازمہ نے اُس کی جانب ایک لفافہ بڑھایا تھا۔ جس کے ساتھ ایک چھوٹا سا لیٹر بھی اٹیچ تھا۔
“کورٹ کے پیپرز۔“
دل کے لب پھڑپھڑائے تھے۔ اُس نے جلدی سے وہ لیٹر اوپن کیا تھا۔
”میں صرف تمہاری خوشی چاہتا ہوں۔ اِن گزرے دنوں میں جان گیا ہوں۔ تمہاری خوشی میرے ساتھ نہیں ہے۔ میں یہ طلاق کے پیپرز بھیجوا رہا ہوں۔ تم جو چاہتی تھی اب وہی ہوگا۔ میں اب مزید تمہیں اِس زبردستی کے بندھن میں باندھ کر نہیں رکھوں گا۔“
جیسے جیسے دل وہ تحریر پڑھتی جارہی تھی۔ اُسے اپنی سانسیں تھمتی محسوس ہوئی تھیں۔
اُس کے منہ سے بے اختیار سسکی نکلی تھی۔
“نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔ زورین آپ ہی تو میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہیں۔ آپ سے الگ ہوکر میں جی نہیں پاؤں گی۔ میں آپ کو خود سے دور نہیں جانے دوں گی۔“
گال پر بکھر جانے والے آنسو صاف کرتی وہ باہر کی جانب بھاگی تھی۔
اگلے بیس منٹ میں وہ زورین کے گھر پر تھی۔ مگر چوکیدار کے مطابق وہ اِس وقت آفس میں تھا۔
دل جلد از جلد زورین کے پاس پہنچ جانا چاہتی تھی۔ اُس کی ہداہت پر ڈرائیور اُسے زورین کے آفس لے گیا تھا۔ شادی کے بعد وہ پہلی بار یہاں آئی تھی۔ خوبصورت سی پارکنگ سے آفس کی جانب والے راستے پر چلتے اُس کے ہونٹوں پر خوبصورت سی مسکان چھائی ہوئی تھی۔
پہلی بار اِسی جگہ پر وہ زورین سے ملی تھی۔ اُس کی زندگی کا سب سے حسین حادثہ تھا وہ۔ زورین نے جیسے پہلی ملاقات میں اُسے پروٹیکٹ کیا تھا۔ آج تک ویسے ہی کرتا آیا تھا۔
دل نے جیسے ہی آفس کے اندر قدم رکھا تھا۔ وہ ریسپشنسٹ جس نے اُس دن اُسے زورین سے ملنے نہیں دیا تھا۔ آج اُسے دیکھ فوراً احتراماً کھڑی ہوئی تھی۔
زورین کے سٹاف کے سبھی لوگوں نے اُس کے نکاح میں شرکت کی تھی۔ اِس لیے وہ سب اُسے پہچانتے تھے اب زورین کی بیوی کی حیثیت سے۔
” میم سر اِس وقت اُوپر میٹنگ روم میں موجود ہیں۔ آئیں میں آپ کو اُن کے آفس لے جاتی ہوں۔ وہ جیسے ہی فری ہونگے میں آپ کو انفارم کردوں گی۔“
زورین کی پی اے نے دل کے قریب آکر کہا تھا۔
”مجھے ابھی ملنا ہے اُن سے۔”
دل نے دوٹوک بات کی تھی۔ اب تک کتنی مشکل سے اُس نے ضبط کررکھا تھا یہ وہی جانتی تھی۔
“میم سر ہمیں ڈانٹے گے۔ میٹنگ کے درمیان اِس طرح وہاں جانے کی اجازت کسی کو نہیں۔“
پی اے بیچارگی سے بولی تھی۔
”آپ مجھے بتائیں گی میٹنگ روم کا طرف ہے یا میں خود ڈھونڈ لوں۔“
دل نے بہت مشکل سے اپنا لہجہ نارمل رکھا تھا۔
اُس کی بات پر وہ لڑکی ناچار اُسے ساتھ آنے کا اشارہ کرتی سیڑھیوں کی جانب بڑھی تھی۔
“میم اگر آپ ایک گھنٹہ ویٹ کر لیں۔ سر فری ہوجائیں گے۔“
پی اے کو اپنی نوکری چلے جانے کی پریشانی شروع ہوچکی تھی۔
” آپ فکر مت کریں۔ آپ کے باس آپ کو کچھ نہیں کہیں گے۔“
دل اُسے تسلی دیتی اندر قدم رکھ چکی تھی۔
پورے روم میں لائٹس آف تھیں۔ پروجیکٹر سے نکلتی نیلی روشنی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ دل کی نظر سامنے سیٹ پر ریلیکس سے بیٹھے زورین پر پڑی تھی۔
اُسے طلاق کا نوٹس بھیجوا کر وہ اتنے سکون میں بیٹھا تھا۔ جیسے اُسے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا یہ رشتہ رہے نہ رہے۔
“مجھے بات کرنی ہیں آپ سے۔“
سوئچ بورڈ پر ہاتھ مارتے دل نے میٹنگ روم کا نظارہ بدل دیا تھا۔ ہر چیز روشنیوں میں نہا گئی تھی۔
وہاں موجود سب لوگوں نے زورین کی جانب دیکھا تھا۔ وہ اب زورین کے غصے سے دھاڑنے کے منتظر تھے۔ مگر۔۔۔۔۔۔
“آپ سب جاسکتے ہیں۔ یہ میٹنگ ہم بعد میں کانٹینو کریں گے۔“
زورین کے پرسکون انداز پر وہ سب شدید حیرانگی کے زیرِ اثر وہاں سے نکل گئے تھے۔
زورین نے ایک پل کے لیے بھی نظریں دل کے اُوپر سے نہیں ہٹائی تھیں۔
مگر دل اِس وقت اُس کی لوح دیتی نظروں سے بنا گھبرائے غصے سے اُس کی جانب بڑھی تھی۔
”آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے یہ پیپرز بھیجوانے کی۔ مجھے طلاق دے کر نتاشا سے شادی کرنا چاہتے ہیں آپ۔ یا پھر اُس کے علاوہ کوئی اور گرل فرینڈ ہے آپ کی۔“
دل اُس کے قریب کھڑی بھیگے چہرے کے ساتھ چلائی تھی۔ مگر زورین کے اطمینان میں ابھی بھی کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔
اُس کی پرشوق نگاہیں بلو ڈریس میں ملبوس بار بار ڈھلکتے ریشمی دوپٹے کو سنبھالتی دل کے دلکش حلیے پر جمی ہوئی تھیں۔ بالوں کی کٹی لٹیں بار بار اُس کے ہونٹوں سے ٹچ ہوتیں زورین کو جلن میں مبتلا کررہی تھیں۔
”پہلے زبردستی مجھے اپنی لائف میں شامل کیا۔ اپنی نفرت جتائی اور اب جب محبت ہوچکی ہے تو زبردستی نکالنا چاہتے ہیں۔ آپ کو صرف مجھ سے چھٹکارا چاہیئے تو اُس کے اور بھی بہت سارے طریقے ہیں۔ صرف طلاق ہی کیوں۔۔۔۔اب آپ کو کبھی میری شکل نہیں دیکھنی پڑے گی۔ ہمیشہ کے لیے آزاد ہوجائیں گے آپ۔“
دل اُس لفافے کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے زورین کی جانب اُچھالتی واپس مُڑی تھی۔ اُسے زورین کی خاموشی مزید تکلیف میں مبتلا کررہی تھی۔
مگر اُس کے دور ہونے سے پہلے ہی زورین نے ہاتھ بڑھا کر اُسے اپنی جانب کھینچا تھا۔ دل کے منہ سے بے ساختہ چیخ برآمد ہوئی تھی۔
اگلے لمحے وہ زورین کے اُوپر آرہی تھی۔
”دور سے مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ اب بولو کیا کہہ رہی تھی تم۔“
زورین نے اپنے سینے پر آکر گرتی دل کے گرد اپنا حصار باندھتے اُسے بالکل قید کرلیا تھا۔
“آپ کو یہ سب مذاق لگ رہا ہے۔ چھوڑیں مجھے میری زندگی کو آپ نے مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ میں کبھی معاف نہیں کروں گی آپ کو۔“
دل اُس کے چہرے پر ناچتی شوخی پر تپ کر بولی تھی۔
”میں معافی مانگ کب رہا ہوں۔ تم یہی چاہتی تھی نا۔ میں تو صرف تمہاری خواہش پوری کررہا ہوں۔“
زورین اُس کی شریر لٹوں کو اُنگلی پر لپیٹ کر اُس کے چہرے سے ہٹا گیا تھا۔
“نہیں چاہتی میں ایسا۔ “
دل صرف اتنا ہی بول پایا تھا۔ اور اُس کے سینے پر سر رکھتے رو دی تھی۔
زورین جو اُسے ابھی مزید تنگ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اُس کے اِس طرح شدت سے رونے پر ایک دم بوکھلا گیا تھا۔
“دل خاموش ہوجاؤ۔ اور فوراً اپنے آنسوؤں کی اِس فیکٹری کو بند کرو۔ ورنہ میں اپنے طریقے سے خاموش کرواؤں گا۔“
زورین اُس کا چہرا تھام کر اُوپر اُٹھاتا دھمکی آمیز لہجے میں بولا تھا۔
”نہیں کروں گی رونا بند۔ نہیں ڈرتی میں اب آپ سے۔ آپ۔۔۔۔۔۔“
زورین نے دل کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اُس کی بولتی بند کردی تھی۔ دل کو اُس سے اِس جارحانہ عمل کی قطعی توقع نہیں تھی۔ اُسے اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہوئی تھیں۔
دل کی سینے پر کمزور پڑتی گرفت پر زورین ہوش میں آتے اُسے آزادی بخش گیا تھا۔ اِس لڑکی نے اتنے دنوں سے اُسے تڑپا کر رکھا ہوا تھا۔ مگر اُس کی یہ معمولی سی جسارت پر وہ حواس باختہ ہوتی اُس کے سینے پر سر ٹکا گئی تھی۔
” آپ۔۔۔۔ “
اپنی سانسیں نارمل کرتے دل نے دوبارہ کچھ بولنا چاہا تھا۔ مگر زورین کی تپیش زدہ نظروں سے کنفیوز ہوتے وہ اپنی بات بھول گئی تھی۔
”تم سے ملنے سے پہلے میں محبت کے مفہوم سے ناواقف تھا۔ میں تو بس زندگی گزار رہا تھا۔ مجھے جینا تمہارے احساس نے سیکھایا ہے۔
محبت کے اصل رنگوں سے تم نے روشناس کروایا مجھے۔ ورنہ میرے نزدیک تو یہ دنیا کا سب سے ناپائیدار رشتہ تھا۔
میری لائف میں تم وہ واحد لڑکی ہو جس نے میرے دل تک رسائی حاصل کی ہے۔ نتاشا میری لائف میں کبھی تھی ہی نہیں۔ اُس دن میرے کہنے پر صرف اِس لیے اُس نے تم سے جھوٹ بولا کیونکہ میں تمہارے دل کی بات جاننا چاہتا تھا۔ تمہیں اندازہ نہیں ہے۔ تمہارے اقرار نے مجھے کس قدر خوشی دی۔
میں نے تمہارے ساتھ شروع میں بہت نارواں سلوک کیا۔ جس کے لیے تم جو سزا دینا چاہو مجھے قبول ہے۔ ہر بات میں ہر جگہ میری غلطی تھی۔ جس میں دل سے قبول کرتا ہوں۔ مگر اُس رات تم غلط تھی۔ تمہارے لفظوں نے مجھے بہت ہرٹ کیا۔
میں نے تو خود سے فیصلہ بھی کرلیا تھا۔ کہ اب جب تک تم خود چل کر میرے پاس نہیں آؤ گی۔ میں تمہاری جانب پیش قدمی نہیں کروں گا۔ مگر اپنی کہی ہر بات پر جی جان سے ڈٹ جانے والا زورین شاہ دل کے معاملے میں ہار گیا۔ یہاں بھی مجھے ہی تمہاری جانب قدم بڑھانا پڑا۔
تم تو مجھ سے بھی زیادہ ضدی نکلی۔“
دل زورین کی باتیں سن کر خود کو ہواؤں میں محسوس کرنے لگی تھی۔ کبھی جس خواب کو ناممکن سمجھتی تھی۔ آج اُس کی حسین تکمیل اُس کے سامنے تھی۔
مگر زورین کی آخری بات پر وہ بالکل بھی متفق نہیں ہوئی تھی۔ اُس کے اتنے بُرے مذاق پر دل کی ناراضگی ابھی جاری تھی۔
” آپ ہارے نہیں ہیں۔ آپ نے اپنی ضد برقرار رکھی ہے۔ میں چل کر آپ کے پاس آئی ہوں۔ آپ نے میری جانب پیش قدمی نہیں کی۔ میری محبت زیادہ ہے آپ سے۔“
دل اُس کا حصار توڑتی پیچھے ہٹی تھی۔
جبکہ زورین اپنی اتنی لمبی چوڑی بات اور محبت کے اظہار کے جواب میں ایسا ٹھنڈا رسپانس دیکھ اُسے گھورتا اُس کے مقابل آن کھڑا ہوا تھا۔
”یہ جو پیپرز پھاڑ کر میرے منہ پر مارے ہیں۔ ایک بار کھول کر دیکھنے کی زحمت کی تھی۔“
زورین سینے پر بازو باندھتا اُسے خوشمگیں نگاہوں سے دیکھتے بولا۔
دل نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
”ہمارے ہنی مون کے ٹکٹس تھے۔ کل جانا ہے ہمیں اور میری عقلمند بیوی اِن کو دیکھے بغیر اِن کا یہ حال کرچکی ہے۔ میں نے یہ اِسی لیے بھیجوائے تھے۔ کیونکہ مجھے پوری اُمید تھی تم ضرور آؤ گی۔ مجھ سے لڑنے۔ اگر میں یہ نہ کرتا تو تم نے سالوں لگا دینے تھے۔ سوچنے میں اور میرے پاس لوٹ کر آنے میں۔“
زورین نے اب کی بار بات کے دوران اُس کی جانب پیش قدمی کی تھی۔ ہنی مون کے نام پر دل کے چہرے پر سرخی پھیل گئی تھی۔
“بہت اچھے ہوگئے یہ پھٹ گئے۔“
جس شخص کی لمحہ بھر کے لیے شوخ نظریں برداشت نہیں ہورہی تھیں۔ اُس کے ساتھ ہنی مون پر جانے کے تصور نے ہی اُسے لرزا کر رکھ دیا تھا۔
قریب کھڑے ہونے کی وجہ سے زورین اُس کی بڑبڑاہٹ باآسانی سن چکا تھا۔
”نئے ٹکٹس کا آرڈر دے دیا ہے میں نے اپنے پی اے کو۔ زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔“
زورین اُلٹے قدموں پیچھے کی جانب جاتی سُلین کی کلائی دبوچ کر اُسے دیوار کے ساتھ لگا چکا تھا۔
”ناراض میں ہوں تم سے۔ نخرے تمہارے ختم نہیں ہورہے۔ اب جلدی سے مناؤ مجھے۔ “
زورین اُس کے مسکرانے کی وجہ سے پھولی گالوں کو چھوتے چہرے پر سنجیدگی طاری کرتے بولا تھا۔
جس پر دل نے نظریں اُٹھا کر اُس کی جانب بغور دیکھا تھا۔
”پہلے آپ آنکھیں بند کریں۔“
اُس کے گلے میں بانہیں ڈالتے دل اک ادا سے بولی تھی۔
زورین اُس کے اچانک بدلتے انداز پر خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوتا آنکھیں موند گیا تھا۔
دل کچھ سیکنڈز اُس کے قریب کھڑے رہنے کے بعد چہرے پر شرارتی مسکراہٹ سجائے جھک کر اُس کے حصار سے نکل آئی تھی۔
”دل واپس آؤ۔“
زورین نے آنکھیں کھول کر اُسے گھورا تھا۔
”نہیں۔۔۔۔ آپ مجھ سے اپنی سزا کے بارے میں پوچھ رہے تھے نا۔ تو آپکی سزا یہی ہے۔ اب ایک مہینے تک میں ماما پاپا کے ساتھ رہوں گی۔ اور آپ کو یہ قبول کرنی ہوگی۔“
دل دروازہ کھول کر اُسے شوخی سے دیکھتی وہاں سے نکل گئی تھی۔
زورین اُسے واپس پہلے جیسی چہکتی مسکراتی دل میں بدلتا دیکھ مسکرا دیا تھا۔ مگر ابِھی اُس سے اُس کے اِس گستاخی کا بدلہ لینا تھا۔
زورین مسکراتا دل کی جانب بڑھا تھا۔
دل کو یہی لگا تھا۔ وہ اُس کے پیچھے نہیں آئے گا۔ مگر اُس کے پارکنگ کی سیڑھیاں چڑھنے سے پہلے ہی زورین اُسے کچھ سمجھنے کا موقع دیئے بغیر بانہوں میں بھرتا اپنی گاڑی کی جانب بڑھا تھا۔
”آپ۔۔۔۔۔یہ کیا کررہے ہیں۔“
دل کو زورین کی اِس بے باکی کی اُمید بالکل بھی نہیں تھی۔
”ابھی اپنی بہت ساری بے قراریوں کی داستاں تو سنانی رہتی ہے تمہیں۔ میری جان ابھی جو تم نے کیا ہے۔ ویسے کئی حساب رہتے ہیں میرے۔ جو اب گھر جاکر ہی بے باک کرسکتا ہوں۔ اِس لیے ہم وہی جارہے ہیں۔“
زورین دل کی پیشانی پر بوسہ دیتا شوخی بھری سرگوشی کرتا اُس کی سانسیں منتشر کر گیا تھا۔
“آپ بہت بے شرم ہیں۔ “
دل اُس کے سینے میں لال پڑتا چہرا چھپاتی خفت بھرے لہجے میں بولی تھی۔
”وہ تو بعد میں پوچھوں گا تم سے۔ ابھی تو تم سے محبت کا اظہار بھی کروانا ہے مجھے۔ مجھ سے کئی بار سن چکی ہو۔ مگر خود ایک بار بھی نہیں بولی۔“
زورین اُسے گاڑی میں بیٹھا کر اُس کے برابر فرنٹ سیٹ پر آن بیٹھا تھا۔ اُس نے دل کا ہاتھ اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔
دل نے ایک محبت پاش نظر اُس کے چہرے پر ڈالتے اُس کے ہاتھ پر اپنا دوسرا ہاتھ بھی رکھ دیا تھا۔ جسے ہونٹوں سے لگاتے زورین نے عقیدت سے چوم لیا تھا۔
اُن دونوں نے ہی اب تک کی اپنی زندگی محرومیوں میں گزاری تھی۔ مگر اب وہ دونوں تمام غلط فہمیوں کو مٹا کر اپنی محبت کی جنگ جیت چکے تھے۔ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے وہ آگے آنے والی ہر مشکل کا سامنے کرنے کو تیار تھے۔
دل زندگی میں اتنی سختیاں اور نفرت سہنے کے باوجود کبھی بھی اپنے رب سے نا اُمید نہیں ہوئی تھی۔ اُس کے اِسی یقین کے چلتے پروردگار نے اُس کی قسمت میں ایسا شخص لکھ دیا تھا۔ جس کی محبت کا دل کے نزدیک اب کوئی نعم البدل نہیں تھا۔
★★★★★★★★

“ابتہاج کو اگر گولی لگی ہے تو اُنہیں ہاسپٹل ہونا چاہیئے نا۔ یہ آپ لوگ مجھے کہاں لے کر جارہے ہیں۔“

سُلین کو اُن سب کے چہروں پر کسی قسم کی کوئی پریشانی ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہی تھی۔ اُوپر سے اب وہ گاڑی بھی ہاسپٹل والے راستے سے دوسری جانب موڑ چکے تھے۔

” بھابِھی وہ آپ جانتی تو ہیں ابتہاج کو۔ وہ کتنا ضدی ہے۔ اُس نے ہاسپٹل جانے سے انکار کردیا تھا۔ اِس لیے اُسے گھر ہی رکھا گیا ہے۔“

شایان نے بہت مشکل سے بہانہ گھڑا تھا۔ جس پر باقی سب کی جان میں بھی جان آئی تھی۔ آصف اُنہیں سُلین کے قاسم کو مارے گئے تھپڑوں سے آگاہ کرچکا تھا۔

اِس لیے سب ہی ابتہاج کے مزاج جیسی اُس کی بیوی سے خوفزدہ تھے۔ اگر پکڑے جاتے تو اُس نے اُن کا بھی قاسم جیسا حال کرنا تھا۔

”اگر آپ لوگوں کی بات جھوٹ نکلی تو چھوڑوں گی نہیں میں آپ کو۔ اور آصف صاحب آپ نے جو مجھے اتنے دن بھابھی اور میم بول بول کر بے وقوف بنائی رکھا ہے۔ اُس کا بدلہ تو بہت اچھے سے لے چکی ہوں میں۔ سویرا کو آپ کی اور نینا کی ساری پکس سینڈ کردی ہیں۔ اب دیتے رہیے گا جواب اُسے۔ “

نینا ابتہاج کی اسسٹنٹ تھی جو آصف پر بہت لائنیں مارتی تھی۔ آصف اُس کی بات سن کر سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا۔ جبکہ شایان اور فرحان اُس کی شکل دیکھ اپنا قہقہ نہیں روک پائے تھے۔

“بھابھی آپ دونوں میاں بیوی بہت ظالم ہیں۔ مجھے لگتا میں غریب پوری زندگی آپ دونوں کے درمیان ایسے ہی پستا رہوں گا۔“

سُلین نے لاپرواہی سے کندھے اُچکائے تھے۔ اور پلٹ کر اُن تینوں کو گھورا تھا۔

“میرے خیال میں تم لوگ پریشان تھے ابھی کچھ دیر پہلے۔ تم لوگوں کے دوست کو گولی لگی ہے۔“

سُلین کے طنز پر وہ تینوں فوراً سنبھل کر سیدھے ہوئے تھے۔

گاڑی پورچ میں رکتے فرحان نے آگے آکر احتراماً سُلین کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا۔

سُلین تیز قدموں سے اندر داخل ہوتی سیدھا ابتہاج کے روم کی جانب بڑھی تھی۔ مگر سامنے کا منظر دیکھ اُس نے اپنے پیچھے کھڑے اُن تینوں کو گھورا تھا۔

ابتہاج آرام سکون سے صوفے پر بیٹھا اپنا پسندیدہ شغل فرما رہا تھا۔ پہلے تو حیرت بھری نظروں سے اُس نت سُلین کی جانب دیکھا تھا۔ مگر پھر اُس کے پیچھے کھڑے اپنے تینوں شیطانوں کو دیکھ وہ سارا معاملہ سمجھ گیا تھا۔

“کیا ہے یہ سب۔۔۔۔“

ابتہاج سیگریٹ سلگھاتا اُن کے قریب آیا تھا۔ سُلین شعلے برساتی نظروں سے اُسے دیکھتی واپس پلٹی تھی۔

“سُلین ایک منٹ رکو تو۔“

سُلین کو غصے سے واپس پلٹتا دیکھ آصف کے اشارے پر سویرا جلدی سے آگے آئی تھی۔

“میں یہاں ایک سیکنڈ نہیں رُک سکتی۔ دھوکے باز لوگوں نے دھوکے سے بلایا ہے مجھے یہاں۔“

سُلین کو شدید غصہ آرہا تھا۔ ایک ہفتے سے وہ ابتہاج سے ناراض تھی۔ اُسے منانا بات کرنا تو دور کی بات۔ اتنی الزام تراشی کے بعد واپس پلٹ کر اُسے پوچھا تک نہیں تھا۔

جبکہ ابتہاج نے اُس کی بات کے جواب میں خاموشی اختیار کرتے سیگریٹ کا گہرا کش لیا تھا۔ سُلین اِس وقت شیفون کے بلیک کلیوں والے فراک میں ملبوس۔ بالوں کو جوڑے میں قید کیے اُسے کافی ڈسٹرب کر گئی تھی۔

”سُلین پلیز ایک منٹ یہاں آؤ۔ پلیز بات تو سنو۔“

سویرا اُسے بازو سے پکڑ کر زبردستی اندر کی جانب لے جاتے بولی تھی۔

سُلین نے اُس سے بازو چھڑوانے کی کوشش کی تھی۔ مگر تب تک سویرا اُسے صوفے پر بیٹھا کر آصف کی جلدی سے پکڑائی رسی سے باندھ گئی تھی۔

ابتہاج اُن سب کو گھورتا یہ ساری کاروائی دیکھ رہا تھا۔ مگر شاید اُس کا دل بھی کچھ ایسا ہی چاہتا تھا۔ اِس لیے اُس نے کسی کو روکا نہیں تھا۔

“سویرا پاگل ہوگئی ہو تم۔ کھولو مجھے۔“

سُلین اپنے ہاتھ رسیوں سے نکالنے کی کوشش کرتی زور سے چلائی تھی۔

”آئم سوری سویٹ ہارٹ۔ یہ کام اب ابتہاج بھائی ہی کریں گے۔“

سویرا اُس کے کان میں سرگوشی کرتی باقی سے کے ساتھ باہر کی جانب بڑھی تھی۔

“بیسٹ آف لک بوتھ آف یو۔ اب پلیز ایک دوسرے کا سر مت پھاڑ دینا۔“

وہ سب شرارتی مسکراہٹ سے دونوں کی جانب دیکھتے باہر نکل گئے تھے۔

ابتہاج ہونٹوں پر بے ساختہ اُمڈ آتی مسکراہٹ کو چھپاتا سُلین کی جانب بڑھا تھا۔

عین اُس کے سامنے والے صوفے بیٹھتے اُس نے سلین پر نظریں گاڑھی تھیں۔ جو اُسے صاف اگنور کرتی سر جھکائے رسیوں سے اُلجھنے میں مصروف تھی۔

” اگر تم چاہو تو میں مدد کرسکتا ہوں تمہاری۔“

سیگریٹ کا دھواں باہر چھوڑتے ابتہاج اُس سے مخاطب ہوا تھا۔

مگر سُلین اُس سے شدید خفگی کا اظہار کرتی دیکھنے سے بھی گریزاں تھیں۔

” کیوں میں تو دھوکے باز ہوں۔ آپ تو نفرت کرتے ہیں مجھ سے، پھر آپ میری مدد کیوں کریں گے۔“

سلین نے تڑخ کر جواب دیا تھا۔

ابتہاج کو اُس کے اِس رُوپ پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔

“تم جانتی ہو۔ اِس وقت بلیک سوٹ میں تم کس قدر حسین لگ رہی ہو۔ میرا دل چاہ رہا ہے ۔۔۔۔۔“

ابتہاج کی بے باک نظریں خود پر مرکوز دیکھ سُلین کو خطرہ محسوس ہوا تھا۔

”میرے ہاتھ کھولیں۔ مجھے جانا ہے یہاں سے۔“

سُلین اُس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی بیچ میں کاٹ گئی تھی۔

“مگر تم تو ابھی مجھ سے مدد لینے سے انکار کرچکی ہو۔“

ابتہاج نے اُس کا خوف سے لال پڑتا چہرا دیکھ بہت مشکل سے اپنا قہقہ روکا تھا۔

وہ اُٹھ کر اب سُلین کے سامنے پڑے ٹیبل پر آن بیٹھا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ سُلین کے بے حد قریب آگیا تھا۔

سُلین نے اپنا چہرا پیچھے کرتے درمیان میں فاصلہ برقرار رکھنا چاہا تھا۔

“اوکے کھولتا ہوں۔ مگر پہلے تمہیں میرے ایک سوال کا ٹھیک ٹھیک جواب دینا ہوگا۔“

ابتہاج کے سنجیدہ ہونے پر سُلین نے نظریں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔

“اُس دن جب تم مجھے نشہ آور دوا کے زیرِ اثر بے ہوش سمجھ رہی تھی۔ اُس دن بہت پیار آرہا تھا نا تمہیں مجھ پر۔ اور تم نے میرے کان میں کچھ محبت بھری سرگوشی بھی کی تھی۔ میرے زہن میں نہیں آرہا تھا۔ تم نے کیا کہا تھا۔ زرا ایک بار پھر ریپیٹ کردو۔“

ابتہاج نے جس سنجیدگی سے بات شروع کی تھی۔ اختتام پر اُس کے چہرے پر چھلکتی شوخی نے سلین کو خود میں سمٹنے پر مجبور کردیا تھا۔ اُس کا چہرا شرم کے مارے اِس قدر سُرخ ہوچکا تھا۔ کہ دیکھ کر ایسے لگتا تھا ابھی خون چھلک پڑے گا۔

ابتہاج اُس کی کیفیت دیکھ اپنا قہقہ نہیں روک پایا تھا۔

سُلین نے بے اختیار اُس کی جانب دیکھا تھا۔ آج پہلی بار وہ اُسے اِس طرح کھل کر ہنستا دیکھ رہی تھی۔ وہ کتنے پل اُس کے سحر میں جکڑی اُسے یوں ہی بے خودی کے عالم میں تکے گئی تھی۔

“اُس دن نہیں بول پایا۔ مگر آج کہنا چاہتا ہوں۔ لو یو ٹو مائی لو۔“

ابتہاج کو اُس کی یہ بے خودی بے خود سا کر گئی تھی۔

اُس نے ہلکا سا جھکتے سُلین کا گلابی گال چوم لیا تھا۔

سُلین فوراً سنبھلتی پیچھے ہٹی تھی۔

”آپ نے مجھے ہرٹ کیا ہے۔ میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔“

سُلین آنکھوں میں نمی بھرے اُس سے شکوہ کیا تھا۔

ابتہاج نے محبت سے اپنی لاڈلی بیوی کی جانب دیکھا تھا۔ جس کے مطابق روٹھنے اور ہرٹ کرنے کا حق صرف اُسی کے پاس تھا۔

اگلے لمحے سُلین نے اپنے لفظوں سے اِس بات کی تصدیق بھی کردی تھی۔

”اگر آپ یہ کہنے والے ہیں۔ کہ میں نے آپ کو زیادہ ہرٹ کیا ہے۔ آپ کے بہت بار سچائی بتانے کی کوشش کرنے کے باوجود ایک نہیں سنی آپ کی۔ اور آپ پر نجانے کتنے الزام لگائے تو میں مانتی ہوں میں غلط ہوں۔ مگر آپ مجھ سے اِن سب باتوں پر نہ ہی ناراض ہوسکتے ہیں۔ نہ ہی میں آپ سے معافی مانگوں گی۔

کیونکہ آپ کے کہے الفاظ میرے الزاموں کے آگے کچھ بھی نہیں ہیں۔ آپ نے مجھے طلاق دینے کی بات کی تھی۔ جو میں کبھی معاف نہیں کروں گی۔“

سُلین آنسوؤں کے درمیان بولتی ابتہاج کو اُس کی غلطی سے آگاہ کرنے لگی تھی۔

جس بات پر ابتہاج پہلے ہی بہت شرمندہ تھا۔

“میں نے اُس وقت واقعی بہت غلط کیا۔ مجھے وہ سب نہیں کہنا چاہیئے تھا۔ میں بھلا یہ سوچ بھی کیسے سکتا ہوں کہ تم مجھے دھوکا دو گی۔ اُس وقت نجانے میرا دماغ کیوں اتنا خراب ہوگیا تھا کہ میں تمہیں اتنا کچھ غلط بول گیا۔

مجھ سے بہت بڑی غلطی سرزد ہوئی ہے۔ جس کے لیے میں صبح شام تم سے معافی مانگنے کو تیار ہوں۔ ایک اور بات کلیئر کر دوں۔ اُس وقت غصے میں میں نے جو بولا تھا۔ وہ میں کبھی مر کر بھی نہیں کرسکتا۔ تم سے محبت میری چند دنوں کی نہیں ہے۔ بہت پہلے سے تم اِس دل میں بستی ہو۔ میں نے اپنی زندگی کے کھٹن ترین سات سال صرف تمہاری یاد کے سہارے گزاریں ہیں۔ اگر تم میرے تصور میں میرے ساتھ نہ ہوتی۔ تو نجانے کب کا خود کو ختم کرچکا ہوتا۔“

ابتہاج کے ایک ایک لفظ میں سچائی بول رہی تھی۔ سُلین کیسے اُس پر ایمان نہ لاتی۔

اُس نے جھک کر ابتہاج کے بندھے ہاتھوں پر ہونٹ رکھ دیئے تھے۔

ابتہاج اُس کی اِس خوبصورت ادا پر کھل کر مسکرا دیا تھا۔ اُس کے دل نے واقعی اُس کے لیے دنیا کی سب سے پیاری لڑکی چنی تھی۔

“اب تو میرے ہاتھ کھول دیں۔ تاکہ میں آپ کے اُن چیلوں کی درگت بناؤں۔ کتنی چلاکی سے لائیں ہیں وہ مجھے یہاں۔“

سُلین اُس کی گہری نگاہوں سے گھبراتی فوراً بات بدل گئی تھی۔ جسے اچھے سے سمجھتے ابتہاج کی شوخی میں مزید اضافہ ہوا تھا۔

” جانتے تھے مجھ معصوم سے میری یہ ظالم بیوی قابو نہیں آئے گی۔ اِسی لیے سارا بندوبست کرکے گئے ہیں.“

ابتہاج اُسے مزید چڑھاتے بولا تھا۔ ساتھ ہی اُسے رسیوں سے آزاد بھی کردیا تھا۔

”خود کو معصوم بول کر معصوم لوگوں کی انسلٹ تو مت کریں۔“

سُلین اُسے آنکھیں دیکھاتی اپنی جگہ سے اُٹھی تھی۔

”کدھر۔۔۔۔“

ابتہاج نے اُس کے راستے میں آتے آبرو اُچکا کر پوچھا تھا۔ سُلین اُس کے تیور دیکھ کر سمجھ گئی تھی۔ اِتنی آسانی سے فرار ممکن نہیں ہے۔

”اپنے گھر۔۔۔۔اگر آپ اپنی وائف کو واپس لانا چاہتے ہیں۔ تو آپ کو خود اُسے وہاں سے لینے آنا ہوگا۔ ویسے بھی ابھی آپ کے دوست مجھے دھوکے سے لے کر آئیں ہیں۔ آپ نے جیسے ایک ہفتے میری خیر خبر نہیں لی اُس کا یہی مطلب ہے۔ کہ آپ مزید ایک ہفتہ میرے بغیر گزار سکتے ہیں۔“

سلین شکوہ کرتی اُس کے سینے پر دونوں ہاتھ جماتی اُسے پیچھے دھکیل گئی تھی۔

مگر اب کی بار ابتہاج نے اُسے دور نہیں جانے دیا تھا۔ اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتے وہ اُسے اپنے بے حد قریب کھینچ گیا تھا۔

“ایک ہفتے تک لینے اِس لیے نہیں آیا۔ میں چاہتا تھا۔ تم کچھ وقت اپنی فیملی کے ساتھ گزرا لو۔ کیونکہ اُس کے بعد کم از کم ایک سال تک تو تم نے کسی کو دکھنا ہی نہیں ہے۔“

ابتہاج کی بات پر سلین نے ناسمجھی سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔

“اپنی محبت میں تمہیں ایسا گم کروں گا۔ کہ تم کسی کو ملو گی ہی نہیں۔“

ابتہاج نے محبت بھری سرگوشی کرتے سُلین کو اپنے سینے میں بھینچ لیا تھا۔ جبکہ اُس کے خمار آلود لہجے اور لفظوں کی بے باکی پر سُلین شرمگی مسکراہٹ کے ساتھ اُس کے سینے میں چھپ گئی تھی۔

”آئم سوری۔۔۔۔۔جب آپ کو ایموشنلی میری سپورٹ کی ضرورت تھی۔ میں آپ ہی کے دشمنوں کی بات پر یقین کرکے۔ آپ کو مزید ہرٹ کرتی رہی۔ آئم رئیلی سوری۔۔۔۔۔”

سُلین ابتہاج کی اِس قدر محبت کے والہانہ اظہار پر اپنی ندامت کا اظہار کیے بنا نہیں رہ پائی تھی۔

مگر ابتہاج اُس کی ہر خطا معاف کرتا اُسے اپنی محبت کی چھاؤں میں لے چکا تھا۔

سُلین نے آسودگی سے سر اُس کے سینے پر ٹکاتے آنکھیں موند لی تھیں۔

ابتہاج نے بھی کسی قیمتی متاع کی طرح اُسے خود میں سمو لیا تھا۔

اُن کی زندگی سے بُرائی کا خاتمہ ہوچکا تھا۔

انسان بُرے کاموں کی دلدل میں پھنستے یہ بھول جاتا ہے کہ وہ چاہے جتنا بھی چھپ لے اُوپر بیٹھے رب کی پکڑ سے نہیں بچ سکتا۔ گلشن آرا کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔ اُس نے اپنی طاقت کے زعم میں آکر باقی انسانوں کیڑے مکوڑے سمجھتے مسلنا چاہا تھا۔ اُس نے ابتہاج کگ ساتھ ہر بار بُرا کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن الله سب سے بڑا کارساز ہے۔ اُس نے گلشن آرا کی ہر سازش اُسی پر اُلٹ دی تھی۔

جیت ہمیشہ سچائی کی ہوتی ہے۔ اِسی لیے اتنی تکلیفیں اور تنہائی برداشت کرنے کے بعد آخر جیت ابتہاج لغاری کی ہوئی تھی۔

الله نے اُسے سُلین کی جیسی بیوی عطا کرکے اُس کی ہر اذیت کا ازالہ کردیا تھا۔

شہلا بیگم اور ہمایوں شاہ اپنی بیٹیوں کو پاکر بہت خوش تھے۔ اُن کے داماد اُنہیں بیٹوں سے بڑھ کر عزت دیتے تھے۔

دل کے کہنے پر زورین نے ذکریا منزل والوں کو بے گھر نہیں کیا تھا۔ رقیہ بیگم اور تنویر صاحب کے کیے کی سزا وہ باقی گھر والوں کو دینا ٹھیک نہیں تھا۔ شہلا بیگم نے بھی فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے سب کو معاف کردیا تھا۔

اُن سب کی زندگیوں سے دکھوں اور غموں کے بادل چھٹ گئے تھے۔ اور آگے آنے والی کسی بھی تکلیف کا وہ سب مل کر ایک ساتھ مقابلہ کرنے کو تیار تھے۔

ختم شد۔۔۔۔۔۔