Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

دل تجسس میں مبتلا نیچے آئی تھی۔ وہ جاننا چاہتی تھی، آخر یہ لڑکی کون تھی جس کے آنے کا سن کر زورین یوں بھاگا بھاگا چلا گیا تھا۔
ڈرائنگ روم میں قدم رکھتے ہی اُس کے کانوں میں زورین کی ہنسی کے ساتھ ایک نسوانی ہنسی ٹکرائی تھی۔ رہی سہی کسر سامنے کے منظر نے پوری کردی تھی۔
وہ لڑکی نتاشا صوفے پر زورین کے قریب چپک کر بیٹھی اُس کی شرٹ کے بٹنوں سے کھیل رہی تھی۔ اُس کا یہ استحقاق بھرا انداز دل کے اندر آگ بھڑکا گیا تھا۔ زورین جس طرح مسکرا کر اپنائیت سے اُس کی جانب دیکھ رہا تھا۔ اِس طرح تو آج تک اُس نے کبھی بھول کر بھی اُس کی جانب نہیں دیکھا تھا۔
یقیناً یہ لڑکی زورین کے لیے بہت سپیشل تھی۔
دل آنکھوں میں نمی بھرے واپس پلٹنے ہی والی تھی۔ مگر زورین کی پکار پر اُسے رُکنا پڑا تھا۔
اُن دونوں کی نظر اُس پر پڑ چکی تھی۔ دل کو ناچار اندر آنا پڑا تھا۔
”اسلام وعلیکم!“
بہت مشکل سے خود کو کمپوز کرتی وہ اندر داخل ہوتی اُن دونوں کے سامنے رکھے صوفے پر براجمان ہوئی تھی۔ جبکہ اُن لوگوں کی پوزیشن میں زرا برابر بھی چینجنگ نہیں آئی تھی۔ زورین کو فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا۔ کہ سامنے بیٹھی لڑکی اُس کی بیوی ہے۔
زورین نے اُس لڑکی کا تعارف دل سے کروایا تھا۔ وہ اُس کی بیسٹ فرینڈ تھی۔ مگر اِس وقت بیوی سے بھی زیادہ کلوز لگ رہی تھی۔ جبکہ دل کو اُس لڑکی کے آگے اپنی بیوی کے طور متعارف کروایا تھا۔
جس پر اُس لڑکی نے ناگواریت بھری نظروں سے دل کو دیکھا تھا۔
دل زورین کے سینے پر رکھے نتاشا کے ہاتھ پر نظریں گاڑھے ضبط کے حدوں کو چھو رہی تھی۔ کوئی لڑکی بھلا اُس کے سامنے اتنے اسحقاق سے اُس کے ہزبینڈ کے قریب کیسے آسکتی تھی۔
دل نے اضطراری کیفیت میں اپنے ہونٹوں کو کاٹتے اُنہیں زخمی کردیا تھا۔ نیچے والے ہونٹ سے خون رسنے لگا تھا۔ مگر اُسے پرواہ بالکل بھی نہیں تھی۔
زورین کال آنے پر نتاشا سے ایکسکیوز کرتا وہاں سے اُٹھ کر گلاس وال کی جانب بڑھ گیا تھا۔
دل نے دھندلائی شکوہ کناں نظروں سے زورین کی جانب دیکھا تھا۔ وہ اب اِس شخص کی زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکلنے کا فیصلہ کر چکی تھی۔
”جب زورین کی شادی کا سنا تو میں بہت سرپرائزڈ ہوئی۔ مگر تمہاری تصویر دیکھ کر سمجھ گئی۔ زورین نے تم سے شادی صرف اپنے گھر والوں کو خوش کرنے کے لیے کی ہے۔ کیونکہ تم جیسی مڈل کلاس دبو سی لڑکی سے زورین شاہ محبت کرے امپاسبل ہے۔ ویسے اتنے دن اُس کے ساتھ رہنے کے بعد خواب تو بہت اُونچے اُونچے دیکھ لیے ہونگے نا تم نے۔ تمہاری یہی غلط فہمی دور کرنے خاص طور پر لندن سے یہاں آئی ہوں۔ زورین شاہ صرف میرا ہے، بچپن کے دوست ہیں ہم۔ بہت محبت کرتے ہیں ایک دوسرے سے۔ تم ہمارے درمیان کبھی نہیں آسکتی۔“
وہ لڑکی ایک ایک کرکے لفظوں کے وار کرتی، اُس کا دل بُری طرح لہولہان کرگئی تھی۔
بالوں کو سٹائلش سے کرل ڈالے، لائٹ میک اپ اور انتہائی قیمتی کپڑوں میں ملبوس وہ دل کو ہر لحاظ سے زورین کے معیار پر پورا اُترتی محسوس ہوئی تھی۔ وہ تو کسی صورت اُس کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھی۔
اُس کا دل بُری طرح ٹوٹا تھا۔ خوشیوں اور محبت کے معاملے میں وہ دنیا کی سب سے بدنصیب لڑکی تھی۔
“میں جانتی ہوں، میں زورین شاہ کے قابل نہیں ہوں۔ آپ کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں خود اُن سے طلاق لینا چاہتی ہوں۔ وہ صرف آپ کے ہیں اور آپ کے ہی رہیں گے۔ میں آپ کے جیسی خوش نصیب کبھی نہیں ہوسکتی۔“
بات پوری کرتے ناچاہتے ہوئے بھی دل کے منہ سے ایک ہچکی برآمد ہوئی تھی۔ نتاشا بہت غور سے اُس کا جائزہ لے رہی تھی۔
”ایک بات سچ سچ بتاؤ گی۔“
نتاشا اُسے دروازے کی جانب بڑھتا دیکھ جلدی سے بولی تھی۔ جس پر مروتاً دل کو اثبات میں سر ہلانا پڑا تھا۔
“بہت محبت کرتی ہونا تم زورین سے۔“
نتاشا کے سوال پر اُس کا دل ایک بار پھر درد سے بھر گیا تھا۔
”اِس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ویسے بھی میری محبت آپ کی محبت جنتی پاور فل کبھی نہیں ہوسکتی۔“
اُس نے اپنے دل پر پتھر رکھتے جواب دیا تھا۔
“تم نہ بھی بتاؤ۔ مگر تمہاری آنکھیں صاف بتا رہی ہیں۔ کہ تم بے پناہ محبت کرتی ہو زورین سے۔ اور اُسے کھونے کا احساس تمہیں اندر ہی اندر توڑ رہا ہے۔ اگر اتنی محبت کرتی ہو اُس سے تو یوں ہی پیچھے ہٹ جاؤ گی۔ اپنی محبت کی خاطر لڑو گی نہیں۔“
نتاشا نے اُسے اُکسانا چاہا تھا۔
”اگر وہ بھی مجھ سے محبت کرتے تو اُن کی محبت حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کر گزرتی۔ مگر وہ نفرت کرتے ہیں مجھ سے۔ اُن کے سر پر مصلت نہیں ہونا چاہتی۔ ہمیشہ سے میرا وجود سب کے لیے بوجھ رہا ہے۔ اب مزید کسی کو اپنی منحوسیت کا شکار نہیں کرنا چاہتی۔ یہ سچ ہے اپنی زندگی سے بڑھ کر چاہا ہے میں نے اُس شخص کو۔ اتنا کے اُسی کی خوشی کی خاطر اپنی محبت سے دستبردار ہورہی ہوں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ زورین شاہ کے بغیر دل آویز نہیں جی پائے گی۔ مگر زورین اپنی محبت کے ساتھ خوش رہیں اِس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیئے مجھے۔“
یہ سب بولتے اُس کا دل نجانے کتنے ٹکڑوں میں بٹا تھا۔ آنسو کو بے دردی سے رگڑتے وہاں سے نکلتے وہ اپنی ہی محبت کے ماتم میں کھوئی اپنے پیچھے کھڑے سب کچھ لفظ بلفظ سنتے زورین کو نہیں دیکھ پائی تھی۔
جس کا کال سننے جانا تو ایک بہانا تھا۔ وہ شروع سے لے کر آخر تک اُس کی ساری باتیں سن چکا تھا۔
نتاشا زورین کی وہاں موجودگی سے اچھی طرح واقف تھی۔
اُسے ساکت و جامد اپنی جگہ جما دیکھ وہ مسکراتی اُس کے قریب آئی تھی۔
”تم نے جو بولا تھا میں نے ویسا کردیا۔ بہت خوشی ہورہی یہ دیکھ کر۔ بہت محبت کرتی ہے وہ تم۔ اب مجھے لگ رہا ہے کہ میری تمہارے لیے محبت اُس کی اِس بےلوث محبت کے آگے کچھ نہیں ہے۔ ایسی پیارے اور سچے دل کی مالک لڑکی ہی ڈیزرو کرتی تمہیں۔“
نتاشا حسرت بھری نظروں سے اُسے دیکھتی زورین شاہ کو کھونے پر پُرملال تھی۔
مگر خوش بھی تھی کہ اُس کے بیسٹ فرینڈ کو اُس کی محبت مل گئی تھی۔ ایسی لڑکی جو اُس جیسے بے حس جذبات سے عاری انسان کو محبت کرنا سیکھا گئی تھی۔
نتاشا اور زورین بچپن سے بہت اچھے دوست تھے۔ نتاشا کو خود بھی پتا نہیں چلا تھا۔ نجانے کب اور کیسے وہ زورین سے محبت کرنے لگی تھی۔ مگر محبت جیسے جذبے زورین کی نفرت کو جانتے ہوئے اُس نے ہمیشہ اپنی فیلنگز زورین سے چھپا کر ہی رکھی تھیں۔ وہ اپنا اتنا اچھا دوست کھونا نہیں چاہتی تھی۔
زورین کی شادی کا سن کر ہی وہ کل لندن سے واپس آئی تھی۔ مگر یہاں تو اُسے زورین ایک بالکل الگ رُوپ میں ہی ملا تھا۔ دل کی محبت میں ڈوبا ایک بہت الگ انسان۔ جسے محبت لفظ سے بھی نفرت تھی۔ اُسے ایک عام سی لڑکی نے محبت کرنا سیکھا دیا تھا۔
مگر محبت کی راہ جو پار کرنا بھلا کب کسی کے لیے آسان رہا تھا۔ زورین دل کی پچھلی زندگی کے بارے میں جاننے کے بعد اب اُس پر مزید کوئی دباؤ نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ وہ اُسے خوش دیکھنا چاہتا تھا۔ اِس لیے یہ جاننا چاہتا تھا کہ دل اُس سے محبت کرتی ہے یا نہیں۔
کسی حد تک تو اُسے اِس بات کی شورٹی تھی۔ مگر مکمل یقین اُسے آج دل کے منہ سے اپنے لیے بے پناہ محبت کا اظہار سن کر ہوا تھا۔
وہ اِس وقت خود کو ہواؤں میں اُڑتا محسوس کررہا تھا۔ اُس کے اندر کے سارے وہم و وسوسے دور ہوچکے تھے۔ لیکن یہ سب اگلوانے کے لیے نتاشا نے جو الفاظ ادا کیے تھے۔ اُن سے دل کو کافی تکلیف ہوئی تھی۔ یہی بات زورین کو بے چین کررہی تھی۔
وہ نتاشا کا شکریہ ادا کرتا جلدی سے دل کو ڈھونڈنے اُوپر کی جانب بڑھا تھا۔
مگر کچھ لمحوں بعد زورین کو ہوش اُڑ چکے تھے۔ پورا گھر چھان مارنے کے باوجود دل اُسے کہیں نہیں ملی تھی۔ گارڈ سے پوچھنے پر پتا چلا تھا وہ بنا گاڑی اور ڈرائیور کے پیدل ہی گھر سے نکل ہے۔
زورین ایک پل کی بھی دیر کیے گاڑی لے کر گھر سے نکل گیا تھا۔ وہ جانتا تھا دل نتاشا کی باتوں سے بہت ہرٹ ہوئی ہے۔ اُس کا دل مسلسل اُس کی خیریت کے لیے دعا گو تھا۔ وہ لڑکی کتنی جذباتی تھی وہ اچھے سے جانتا تھا، کہیں وہ کچھ اُلٹا سیدھا نہ کر بیٹھے۔ اِسی سوچ نے اُس کا دل بے کل کر رکھا تھا۔
اندھا دھند روڈ پر گاڑیاں دوڑاتے وہ اُسی تکلیف سے گزر رہا تھا۔ جس سے اُس کی وجہ سے کچھ دیر پہلے دل گزری تھی۔
★★★★★★★★★
ہاسپٹل میں قدم رکھتے سُلین پر جو پہاڑ ٹوٹا تھا۔ وہ اپنی جگہ لڑکھڑا سی گئی تھی۔ نرس اگر آگے بڑھ کر اُسے تھامتی نہیں تو اُس نے زمین بوس ہوجانا تھا۔
”یہ کیا بول رہے ہیں آپ لوگ۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔ کہاں ہیں میرے بابا۔ اتنی سیکیورٹی کے باوجود کیسے غائب کیا جاسکتا ہے اُنہیں۔“
سُلین ڈاکٹرز پر چلاتی آپے سے باہر ہوئی تھی۔ اُس کا بس نہیں چل رہا تھا۔ یہاں کے عملے سمیت پورے ہاسپٹل کو آگ لگا دے۔ اُس کا دشمن ایک بار پھر جیت گیا تھا۔ اُس کے بابا کی جان کو خطرہ تھا۔
”میم ہم خود نہیں جانتے، آخر یہ سب ہوا کیسے۔ پورا ٹائم گارڈ باہر پیرا دے رہے تھے۔ اور دو نرسز روم کے اندر موجود تھیں۔ اُس کے باوجود کیسے پیشنٹ کو وہاں سے غائب کیا گیا۔ ہم خود سمجھ نہیں پارہے۔ روم کے اندر بھی کوئی ایسا راستہ موجود نہیں ہے۔ کہ اُن کو باہر لے جایا جائے۔ ہم ساری فوٹیج چیک کررہے ہیں۔ ہماری پوری کوشش ہیں ہم جلد ہی پتا لگا لیں گے۔“
ڈاکٹرز پولیس کو وہاں دیکھ گھبراہٹ اور پریشانی کا شکار ہوئے تھے۔ قاسم سُلین کے ساتھ ساتھ تھا۔ اور حبیب صاحب کو ڈھونڈنے کی ہر ممکن کوشش کررہا تھا۔ سُلین سے زیادہ تو حبیب صاحب کی گمشدگی نے اُس کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی تھی۔ اگر اُن کے راز ابتہاج یا کسی بھی اور دشمن تک پہنچ جاتے تو اُن کو بربادی سے کوئی نہیں بچا پاتا۔
”قاسم یہ سب کیا ہوگیا۔ ابھی بھی اُن ظالموں کو رحم نہیں آیا۔ اتنے سالوں بعد بابا ٹھیک ہوئے۔ ایک بار مل بھی نہیں پائی میں اُن سے۔ آخر کس نے کیا ہے یہ سب۔“
سُلین کا رو رو کر بُرا حال ہوچکا تھا۔ اُس کا بس نہیں چل رہا تھا۔ سب کچھ تہس نہس کرکے رکھ دے۔
”ابتہاج لغاری اُسی کا ہاتھ ہے اِس سب کے پیچھے، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں۔ جس صفائی اور ہوشیاری سے یہ کام کیا گیا ہے۔ کوئی اور نہیں کرسکتا۔“
قاسم کی بات پر سُلین کو جھٹکا لگا تھا۔ وہ اِس رُخ پر تو سوچ ہی نہیں پائی تھی۔ ابتہاج بھی تو اُس کے بابا کو غائب کروا سکتا تھا۔
”اب کیا کریں ہم۔ بابا کو اُس کی قید سے کیسے آزاد کروائیں۔ کہیں وہ بابا کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔“
سُلین قاسم کی بات سن کر مزید پریشان ہوئی تھی۔
”میں یہاں اپنی طرف سے اُنہیں ڈھونڈنے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔ آپ گھر جائے اور کسی بھی طرح ابتہاج کے پاس رہ کر پتا لگانے کی کوشش کریں کے اُس نے حبیب انکل کو کہاں چھپا کر رکھا ہے۔“
قاسم اُسے سمجھاتا باہر می جانب بڑھا تھا۔
”آپ کو گھبرانے کی ضرورت بالکل بھی نہیں ہے۔ وہ میرا آدمی ہے۔ اُس نے میرے کہنے پر ہی ابتہاج کا اعتبار جیتا اور اب اُس کے پاس کام کررہا ہے۔ آصف نام ہے اِس کا۔ اِس کے ہوتے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنی جان پر کھیل کر آپ کو بچائے گا۔“
قاسم اُسے ابتہاج کے ڈرائیور کے بارے میں بتاتے ہوئے بولا تھا۔ جو اُسے یہاں ہاسپٹل لے کر آیا تھا۔ ابتہاج گھر نہیں تھا۔ اُس نے اپنے آدمیوں کو سُلین پر کسی قسم کی روک ٹوک کرنے سے منع کیا تھا۔ اِس لیے سُلین آرام سے نکل آئی تھی۔ لیکن گارڈز نے اپنی احتیاطی تدابیر کے طور پر آصف کو ساتھ ڈرائیونگ کے لیے بھیج دیا تھا۔
لیکن سُلین کو قطحی اندازہ نہیں تھا۔ کہ یہ ابتہاج کا نہیں حقیقت میں قاسم کا آدمی تھا۔
قاسم کی ساری ہداہتیں سمجھ کر وہ سر ہلاتی گاڑی کی جانب بڑھی تھی۔ جہاں ڈرائیور آصف اُس کے لیے دروازہ کھولے کھڑا تھا۔
” اسلام وعلیکم بھابھی۔۔۔۔۔ ہیو آ نائس ڈے۔“
آصف سُلین کو دیکھ خاموش نہیں رہ پایا تھا۔ اُس کی زبان میں کھجلی ہوئی تھی۔
”واٹ۔۔۔۔ایکسکیوزمی۔۔یہ بھابھی کس کو بولا آپ نے۔”
سُلین نے مشکوک نظروں سے سادہ سے قمیض شلوار میں ملبوس نوجوان جو دیکھا تھا۔ جو کہیں سے بھی ڈرائیور معلوم نہیں ہورہا تھا۔
بال ترتیب سے سجائے کلین شیو میں وہ اپنی زبان پھسل جانے پر خود کو کوستا سر مزید جھکا گیا تھا۔ اگر اُس کے باس کو پتا چل جاتا اُس کی بونگیوں کا تو اُس کی خیر نہیں تھی۔
”آئم سوری میم۔۔۔۔ وہ غلطی سے پتا نہیں کیسے یہ لفظ زبان سے نکل گیا۔ معاف کردیں پلیز۔ اگر آپ ناراض ہوگئی تو سر مجھے نوکری سے نکال دیں گے۔“
وہ فوراً مصنوعی شرمندگی کا شکار ہوا تھا۔
“اٹس اوکے۔“
سُلین اِس وقت بہت ٹینشن میں تھی۔ اِس لیے اُس کی اورایکٹنگ پر زیادہ توجہ نہیں دے پائی تھی
”میم کہاں جانا ہے۔۔۔۔گھر یا۔۔۔۔۔۔۔“
آصف کو رگ ایک بار پھر پھڑکی تھی۔
”آف کورس گھر جانا ہے۔ اور یہ یا یہ کیا مراد ہی آپ کی۔“
سُلین اُس کے دیکھنے کے عجیب سے انداز اور اُلٹی سیدھی باتوں پر اب تپ گئی تھی۔
”نہیں بھابھی۔۔۔۔اوہ آئم سوری میم۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ میرا مطلب۔ میں تو صرف یہی پوچھ رہا تھا، گھر جانا ہے یا ابتہاج سر کے پاس۔ وہ گھر پر نہیں ہیں اِس وقت۔“
آصف کے بھابھی کہنے پر سُلین اُسے گھوری سے نوازا تھا۔ مگر اُس کی اگلی بات پر وہ چونک گئی تھی۔
”شکر ہے اوٹ پٹانگ بولنے کے علاوہ بھی کوئی کام کی بات پتا ہے آپ کو۔“
سُلین اُسے ابتہاج کے پاس لے جانے کا اشارہ کرتی طنزیا لہجے میں بولی تھی۔
آصف نے اُسے اپنی جانب متوجہ کرکے دوسری ٹینشن سے نکال دیا تھا۔ سُلین جس کی تھوڑی دیر ہی رونے کی وجہ سے آنکھیں سوج گئی تھیں۔ اِس وقت اُنہیں سے وہ آصف کو مشکوک نظروں سے گھورنے لگی تھی۔
کیونکہ ابتہاج کے سبھی ملازمین چاہے مرد ہوں یا عورت سب ہی اپنے کام سے کام ہی رکھتے تھے۔ کسی نے سر اُٹھا کر بات کو دوبارہ دوہرایا بھی نہیں تھا۔ مگر آصف تو سب سے الگ ہی معلوم ہورہا تھا۔ جس پر سُلین کا حیرت کا اظہار کرنا بنتا تھا۔
”یہ قاسم کا آدمی ہے۔ شاید اِسی وجہ سے اِسے پتا نہیں کہ ابتہاج کے ملازمین کیسا رویہ اختیار کرتے۔“
سُلین اپنے شک کو وہی دبا گئی تھی۔ اِس وقت اُسے صرف ابتہاج کے پاس پہنچنا تھا۔ اُس کے ملازمین پر غورو فکر کرنے کا اُس کے پاس ٹائم نہیں تھا۔
★★★★★★★★★
بُری طرح سے توڑ پھوڑ کا شکار ہوتے، دل اپنا غم بانٹنے اپنے نانا نانی کی قبر پر آئی تھی۔ اُس کی زندگی میں یہی دو ہستیاں تھیں۔ جن کے لیے کبھی وہ اہم تھی۔ اِن کے علاوہ تو اپنے ماں باپ سمیت وہ دنیا کے ہر انسان کے لیے رتی بھر اہمیت کی حامل نہیں تھی۔
”نانو نہیں رہ سکتی میں زورین شاہ کے بغیر۔ آپ دعا کریں نا اُنہیں بھی مجھ سے محبت ہوجائے۔ یا پھر آپ مجھے اپنے پاس بلا لیں۔ اُن کے بغیر یہاں میرے لیے کچھ نہیں بچا اب۔ مزید نہیں رہنا مجھے اب یہاں۔“
دل قبر پر سر رکھے چھوٹے بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہی تھی۔ جیسے اُس کی کوئی بہت قیمتی شے کھو گئی ہو۔
کافی دیر وہاں گزارنے کے بعد وہ وہاں سے نکل آئی تھی۔ وہ واپس ذکریا منزل نہیں جانا چاہتی تھی۔ اور نہ یہ جانتی تھی کہ اب اُس کا ٹھکانہ اب کیا ہونے والا تھا۔ زورین کے گھر سے نکلتے وہ اپنا موبائل فون تک اُٹھانا بھول گئی تھی۔ اُس وقت وہ حواسوں میں بالکل بھی نہیں تھی۔ شام ڈھل رہی تھی۔ روڈ پر چلتے اُسے نجانے کتنی دیر ہوچکی تھی۔ اُس کے پیر بالکل شل ہوچکے تھے۔ مگر وہ رُکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ چاروں طرف اندھیرا پھیل رہا تھا۔ اندھیرے سے بے حد خوفزدہ ہونے والی اِس وقت اِس احساس سے بھی بہت دور تھی۔
جب اچانک اُسے اپنے پیچھے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی تھی۔
وہ جھٹکے سے پلٹی تھی۔ مگر اپنے عین پیچھے بے حد قریب کھڑے تین آوارہ مزاج لڑکوں کو دیکھ وہ بُری طرح کانپ اُٹھی تھی۔ اُس نے ایسی کسی سچویشن کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا۔
”ارے بلبل کہاں چلی جارہی ہے۔ زرا رک کر ہماری بات بھی سن لے۔“
سیاہ چادر میں لپٹی اِس چاندنی میں نہائی حُسن کی پری کو یوں گلیوں میں بھٹکتا دیکھ اُن کی لال ٹپک گئی تھی۔ اتنا اچھا موقع وہ ہاتھ سے کسی صورت نہیں جانے دینا چاہتے تھے۔
”دیکھو میں کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں۔ تم لوگ دور رہو مجھ سے۔ میرے شوہر کی پہنچ بہت اُوپر تک ہے، وہ تم لوگوں کو چھوڑے گا نہیں۔“
دل کپکپاتی آواز میں بولتی اُلٹے قدموں پیچھے ہٹی تھی۔ جبکہ وہ تینوں لڑکے کمینگی بھرے چہروں سے اپنی غلیظ نظریں اُس کے وجود پر گاڑھے کسی قیمت پر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔
دل کو سمجھ نہیں آرہا تھا کیسے اپنی عزت بچا کر یہاں سے نکلے۔ جذبات میں آکر گھر سے نکلنے والا فیصلہ اُس پر اتنا بھاری پڑ سکتا تھا۔ اُسے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔
”اتنے ٹائم بعد تو اتنا زبردست مال ہاتھ لگا ہے۔ ہمیںں کسی پاگل کتے نے نہیں کاٹا جو تجھے ایسے ہی جانے دیں۔“
اُن میں سے ایک لڑکا بولتا دل کے قریب آیا تھا۔ دل کے دماغ میں اچانک یہی آیا تھا۔ وہ کسی کو اپنی مدد کے لیے بلاتی اُونچی آواز میں چلانے لگی تھی۔ اُس کی اِس حرکت پر گھبراتے اُس لڑکے نے دل کو بالوں سے دبوچتے اُس کے منہ پر سختی سے ہاتھ جماتے اُس کی چیخوں کا گلا گھونٹ دیا تھا۔
وہ لوگ گھسیٹ کر دل کو ایک سنسان گلی کی جانب لے جانے لگے تھے۔
دل بے بسی کی انتہا پر پہنچتی اِس ذلت سے بچنے کے لیے اب صرف موت کی دعا مانگنے لگی تھی۔
★★★★★★★★★
“میم آپ کی منزل آچکی ہے۔ اِسی گھر میں موجود ہیں سر اِس وقت۔“
آصف ایک بڑے سے بنگلے کے اندر گاڑی لے جاکر روکتے سُلین سے مخاطب ہوا تھا۔ جس پر سُلین نے یہ انتہائی طویل سفر ختم ہونے پر سکھ کا سانس لیا تھا۔ ابتہاج کے اِس ڈرائیور نے اُس کا دماغ بالکل خراب کرکے رکھ دیا تھا۔
سب سے زیادہ جس بات نے اُسے زچ کیا تھا۔ وہ تھا بات بات پر اُس کا بھابھی کہنا۔
”تھینک گارڈ۔۔۔۔“
سُلین گاڑی کا دروازہ زور سے بند کرتے بولی تھی۔ جس پر آصف کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔
آصف کی ہی راہنمائی کرنے پر سُلین اُس کے پیچھے اندر داخل ہوئی تھی۔
”لوگوں کی زندگیوں کے سودے کر کر کے نجانے اِس شخص نے ایسے کتنے محل کھڑے کر رکھے ہیں۔ اب پتا نہیں یہاں کونسے کارنامے سر انجام دیتا ہے یہ۔“
سُلین وہاں سے نکلتی دو لڑکیوں کو دیکھ بڑبڑائی تھی۔ آصف نے اُسے بتایا تھا کہ ابتہاج اُس کی آمد کے حوالے سے بے خبر تھا۔
سُلین اُسے رنگے ہاتھوں پکڑنے کا سوچ کر ہی بہت خوش ہورہی تھی۔ اُس نے جیسے ہی ڈرائنگ روم میں قدم رکھا سامنے کا منظر اُس کی سوچ کے عین مطابق تھا۔ مگر اُسے یہ دیکھ خوشی نہیں ہوئی تھی۔ اُس کا دل دکھ سے بھر گیا تھا۔ ابتہاج لغاری کے اُس نے ایک اور موقع دینا چاہا تھا۔ مگر سامنے کا منظر دیکھ یر سُلین کو لگا تھا، یہ شخص وہی تھا جیسا قاسم نے اُسے بتایا تھا۔

جاری ہے۔۔۔