Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

”آپ جیسا عجیب انسان میں نے آج تک نہیں دیکھا۔“
سُلین کوشش کے باوجود خود کو آزاد نہیں کروا پارہی تھی۔
”گڈ۔ آئندہ بھی کبھی نہیں دیکھو گی۔“
ابتہاج روم کے اندر داخل ہوتا پیر سے دروازہ بند کرگیا تھا۔ جو دیکھتے سُلین کی سانسیں رُکی تھیں۔
” آپ نیچے اُتاریں مجھے۔ آپ کے ساتھ پرابلم کیا ہے۔ آپ ایسے کیسے میرے قریب آسکتے ہیں۔“
سُلین خود کو اُس سے چھوڑانے کی تگ و دو میں لگی غصے سے بولی تھی۔ جبکہ مقابل کے کان پر جوں تک نہیں رینگی تھی۔
سامنے رکھے صوفے پر اُسے بیٹھاتے وہ دوزانوں اُس کے قریب بیٹھتا پیر سے سینڈل نکالنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا۔
” یہ کیا کررہے ہیں آپ۔“
سُلین آنکھیں پھاڑے اُس کی جانب دیکھ رہی تھی۔
” آپ کے پیر ہر چوٹ لگی ہے۔ زخم دیکھنے دیں مجھے۔“
ابتہاج اُس کے چلانے کا نوٹس لیے بغیر سینڈل اُتار چکا تھا۔ اب اُس کے ہاتھوں کا لمس سُلین کو اپنے پیروں پر محسوس ہوا تھا۔ وہ جی جان سے لرز اُٹھی تھی۔
ابتہاج نے اپنی گرفت میں اُس کے کپکپاتے پیر کو دیکھا تھا۔
”آپ کو اتنا نازک نہیں ہونا چاہئے۔ اٹس ناٹ گڈ فار یو۔“
اُس کی پائل اُٹھا کر اپنی پاکٹ میں رکھتے وہ اپنی جگہ سے اُٹھا تھا۔ سُلین ہکا بکا سی اُس کی ساری کاروائی دیکھ رہی تھی۔ یہ شخص اُس کی سمجھ سے بالکل باہر تھا۔
” آپ کون ہیں۔ کیوں اِس طرح بنا میری اجازت کے میرے قریب آتے ہیں۔ آپ جس طرح کی لڑکی مجھے سمجھ رہے ہیں۔ میں ویسی نہیں ہوں۔ پلیز جانے دیں مجھے یہاں سے۔ “
سُلین اُس کو اپنی بات سمجھانے کے لیے اب قدرے نرم لہجے میں بولی تھی۔ اِس روبوٹک احساس سے عاری انسان سے کیسے بات کی جائے۔ اور وہ کیسے سمجھے گا۔ سُلین کو اِس میں شدید دشواری ہورہی تھی۔ ایک بات جو اُسے زیادہ اُلجھن میں ڈال رہی تھی۔ وہ تھی اِس کی قاسم کے لیے ناپسندیدگی۔ قاسم کے زرا سا قریب ہونے پر ابتہاج کی آنکھوں سے نکلنے والے شعلوں کی تپیش وہ اب تک نہیں بھولی تھی۔
“آؤچ مجھے درد ہورہا ہے۔“
ابتہاج اُس کی بات کا جواب دیئے بغیر اُس کے زخم کو صاف کرتا رہا تھا۔ سُلین جلن سے چلائی تھی۔ مگر وہ اپنا کام پورا کرکے ہی اُٹھا تھا۔
” ہاں تو کیا کہہ رہی تھیں آپ مس سُلین۔“
ابتہاج کی گہری نظریں اُس کے سُرخ اناری چہرے پر جم گئی تھیں۔ نتھنے پھولائے وہ اُسے بہت کیوٹ لگی تھی۔
” مجھے جانا ہے یہاں سے۔“
سُلین اُسے اپنے آگے دیوار بنا کھڑا دیکھ پیچھے دھکیلتے بولی تھی۔
جس کے جواب میں ابتہاج نے اُس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے اپنے قریب کیا تھا۔ اُس کی اِس غیر متوقع جارحانہ حرکت کے لیے سُلین قطحی تیار نہیں تھی۔ وہ ٹوٹی شاخ کی طرح اُس کے سینے سے آن لگی تھی۔ سُلین کو اپنی سانسیں بند ہوتی محسوس ہوئی تھیں۔
وہ صدمے کی کیفیت میں کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہی تھی۔ ابتہاج کی گرم دہکتی سانسوں سے اُسے اپنا چہرا جھلستا ہوا محسوس ہوا تھا۔
“ابتہاج لغاری دور رہو مجھ سے۔ تمہیں کوئی حق حاصل نہیں میرے قریب آنے۔ اور مجھے چھونے کا۔ میں تمہارے خلاف ہریسمنٹ کا کیس دائر کردوں گی۔“
سُلین نے کمزور سی کپکپاتی آواز میں اُسے دھمکی دی تھی۔ جو ابتہاج لغاری کی آنکھوں میں وہی مسکراہٹ پھیل گئی تھی جسے دیکھ اُس دن سُلین حبیب اُس کی مزید دیوانی ہوئی تھی۔
مگر اِس وقت اِس شخص کی گرفت میں بن پانی کی مچھلی کی طرح مچل رہی تھی۔ اِس بات سے انجان کہ اُس کی یہی سب حرکتیں ابتہاج لغاری کو مزید اُس کی جانب اٹریکٹ کررہی تھیں۔
” آئندہ یہ بال کھلے نظر نہ آئیں مجھے۔“
ابتہاج اُس کے کندھے پر ڈالے بالوں کو سمیٹ کر جوڑے کی شکل میں اُس کے سر پر لگے کلپ میں مقید کرتا وارن کرتے لہجے میں بولتا اُسے مزید سہمنے پر مجبور کرگیا تھا۔
سُلین کو اِس شخص سے اب شدید قسم کا خوف محسوس ہورہا تھا۔
ابتہاج کے سینے پر دونوں ہاتھ جماتے پورا زور لگا کر اُسے پیچھے دھکیلنا چاہا تھا۔ جس چکر میں وہ اُس کے مزید قریب آگئی تھی۔
وہ دونوں ہی اِس بات سے انجان تھے۔ کہ کھڑکی میں کھڑا کوئی شخص اُن کی بہت ساری تصویریں لیتا چہرے پر خباثت بھری مسکراہٹ سجائے وہاں سے ہٹ گیا تھا۔
” آپ چاہتے کیا ہیں مجھ سے۔“
سُلین اُس کے عمل سے بہت زیادہ خوفزدہ ہوچکی تھی۔ وہ جتنا اُس سے دور جانے کی کوشش کررہی تھی۔ ابتہاج نجانے کس ضد میں اُسے مزید اپنے قریب کررہا تھا۔ سُلین کی آنکھوں میں نمی بھر چکی تھی۔ اُسے یہ شخص اچھا لگا تھا۔ مگر پچھلی دو ملاقاتوں سے قاسم کو دیکھنے کے بعد جو حرکتیں وہ کررہا تھا۔ سُلین کے لیے وہ سب سمجھ سے باہر تھا۔ جس شخص نے رات کے اندھیرے میں تن تنہا سنسان روڈ پر دیکھ کر اُس کی حفاظت کی تھی۔ ہر بار اُس کا محافظ ہی ثابت ہوا تھا۔ وہ بھلا لوٹیرا کیسے ہوسکتا تھا۔
مگر وہ اب ایسا کیوں کررہا تھا۔
” قاسم علی تمہارے ریسٹورنٹ کا منیجر اُسے نکال دو اِس جاب سے۔ یہی چاہتا ہوں میں۔“
ابتہاج اپنے سینے پر رکھے اُس کے ہاتھ کو تھامتا سرد مہری سے بولا تھا۔
” آخر آپ کو پرابلم کیا ہے اُس سے۔“
سُلین نے اپنے دماغ میں چلتی بات پوچھ ہی لی تھی۔ اور ساتھ ہی اپنے ہاتھ بھی اُس کی گرفت سے آزاد کرلیے تھے۔ بے بسی کے احساس سے اُس کی آنکھوں سے آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر باہر نکل آئے تھے۔
ابتہاج لغاری اِسی مقام پر آکر ہمیشہ کمزور پڑ جاتا تھا۔ اُس نے فوراً اُسے اپنے حصار سے آزاد کیا تھا۔
” مجھے نہیں پسند وہ انسان اِس لیے۔“
ابتہاج کے چہرے پر سفاکی بھرے تاثرات نمایاں ہوئے تھے۔
” میں ایسا نہیں کروں گی۔“
سُلین خوف کے باوجود انکار کر گئی تھی۔ قاسم ہمیشہ اُس کے ساتھ رہا تھا۔ اُس کے ریسٹورنٹ کا آدھے سے زیادہ کام اِسی نے سنبھالا ہوا تھا۔ پھر وہ کسی اور کی ضد کی وجہ سے اپنے اتنے اہم سٹاف ممبر کو کیسے نکال سکتی تھی۔
“تو پھر مجھے ایسے ہی اپنے قریب دیکھنے کی عادت ڈال لو۔“
سُلین کو اُلٹے قدموں پیچھے جاتا دیکھ ابتہاج آگے بڑھا تھا۔
” آپ مجھے اِس طرح خوفزدہ نہیں کرسکتے۔ اب اگر دوبارہ میرے قریب آئے تو میں آپ کے خلاف ایکشن لوں گی۔ “
سُلین دروازے کے قریب اُس کی پہنچ سے کافی دور ہوتی دلیری سے جواب دیتے بولی تھی۔ وہ فیصلہ کرچکی تھی۔ اپنے لیے ایک باڈی گارڈ ہائر کریں گی۔ جس کے بعد یہ شخص اُس کے قریب بھی نہیں بھٹک سکے گا۔
ابتہاج اُس کی بات پر محظوظ ہوئے بنا نہ رہ پایا تھا۔ اُسے دروازے کی جانب قدم بڑھاتا دیکھ سُلین جلدی سے وہاں سے نکل گئی تھی۔
★★★★★★★
” دل بس کرو۔ اتنا کیوں رو رہی ہو تمہاری طبیعت خراب ہوجائے گی۔“
نرمین اپنے کندھے سے لگی دل کو ہچکیوں سے روتا دیکھ فکرمندی سے بولی تھی۔ ابھی کچھ دیر پہلے اُس کا نکاح ہوچکا تھا۔ جس کے بعد سے اُس کی آنکھوں کا سیلاب رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ گھر کے بڑے دیکھاوے کی خاطر اُس کے سر پر ہاتھ رکھ کر جاچکے تھے۔ وہ ساری ہی مل کر اُسے سنبھالنے میں ہلکان ہوئی جارہی تھیں۔
” دل بس کرو۔ اب اگر رونا بند نہیں کیا، تو میں تمہارے شاہ صاحب کو بلا لاؤں گی۔ پھر وہ ہی تمہیں چپ کروائیں گے اپنے طریقے سے۔“
سویرا اُسے چپ کروانے کا ہر حربہ آزمانے کے بعد اب آخر کار دھمکی آمیز لہجے میں بولی تھی۔
جسے سنتے دل کی ہچکیوں کو ایک دم بریک لگی تھی۔
” بکواس مت کرو۔ منحوس عورت تمہاری وجہ سے ہی آج میں اِس حال تک پہنچی ہوں۔ میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔“
دل نے نرمین کے کندھے سے سر اُٹھا کر بے دردی سے اپنی آنکھیں رگڑتے نگل جانے والی اُسے گھورا تھا۔
” میں نے کیا کیا ہے۔ تم تو ایسے بول رہی ہو۔ جیسے میرے کہنے پر ہی زورین شاہ تمہارا رشتہ لے کر آئے ہیں۔“
سویرا نے شاک کی کیفیت میں منہ کھولتے نرمین کے اشارے پر اُسے باتوں میں اُلجھانے کی کوشش کی تھی۔ ہوا بھی ایسا ہی تھا۔ دل اُس کے ساتھ اُلجھتی واقعی میں رونا بھول چکی تھی۔
” اگر تم مجھے کال کرکے رشتے سے انکار کرنے کا بے ہودہ مشورہ نہ دیتی تو زورین شاہ خود ہی اِس رشتے سے انکار کرچکا ہوتا۔ صرف تمہاری وجہ سے قسمت پھوٹی ہے میری اُس فضول بندے سے۔“
دل کا افسوس وقت کے ساتھ بڑھتا جارہا تھا۔
” پھوپھو کہہ رہی ہیں دل کو باہر لے کر آؤ۔ سب گیسٹ دلہن کے حسین چہرے کا دیدار کرنا چاہتے ہیں۔“
صوفیہ عجلت میں اندر آتی دل کو موت کا فرشتہ محسوس ہوئی تھی۔
” مجھے نہیں جانا باہر۔ تم کہہ دو میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔“
دل اپنا حلیہ بگاڑنے کے لیے سر سے دوپٹہ کھینچنے ہی والی تھی۔ مگر نرمین اور سویرا نے اُس کے ہاتھ پکڑ کر یہ کوشش ناکام بنا دی تھی۔
”لگتا ہے اپنے دلہناپے میں بھی پھوپھو سے جوتے کھانے کا ارادہ ہے تمہارا۔ خاموشی سے چلو نیچے. تھوڑی دیر بیٹھ کر آجانا۔“
نرمین کی ڈانٹ پر دل منہ بسورتی اُن کے ساتھ اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ اُس کا میک اپ ٹھیک کرتے وہ چاروں اُسے باہر لے آئی تھیں۔
” اتنے سارے لوگ ہیں۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔“
سیڑھیوں سے کھڑے ہوکر ہال مہمانوں سے بھرا دیکھ دل نروس ہوتے بولی تھی۔
” حلانکہ ڈرنا تمہیں صرف زورین شاہ سے چاہیئے۔“
سویرا نے اُسے پھر سے چھیڑا تھا۔ دل اُسے گھورنے کے سوا کچھ نہیں کر پائی تھی۔ کیونکہ ہال میں موجود سب لوگ اُن کی جانب متوجہ ہوچکے تھے۔
” ماشاءاللّٰه اللّٰه نظر بد سے بچائے۔ بہت پیاری بیٹی ہے آپ کی۔“
رقیہ بیگم کے قریب کھڑی منزہ ستائشی نظروں سے دل کی جانب دیکھتے بولی تھی۔ اُسے زورین جیسے غصے کے تیز اور حد درجہ ضدی انسان کے لیے ایسی لڑکی کی ہی تلاش تھی۔ دل آویز کا معصوم حُسن اُسے پہلی نظر میں ہی بہت بھایا تھا۔
منزہ نے زورین کی تلاش میں نظریں دوڑائی تھیں۔ جب اُسے ایک سائیڈ پر کھڑے ہوکر فون کرتا دیکھ وہ افسوس سے سرہلاتی اُس کی جانب بڑھی تھی۔اِس وقت بھی اِس شخص کو صرف اپنے بزنس کی پرواہ تھی۔
” زورین سب لوگوں کو بتانا ضروری ہے کہ تم یہ نکاح صرف ایک فارمیلٹی کے لیے کررہے ہو۔ اِس لڑکی کی آگے کی لائف کا تو پتا نہیں مگر آج کے دن تو تم اُسے تھوڑی سی عزت دے سکتے ہو نا۔ یہاں موجود ہر انسان تمہارے اِس بی ہیوئیر کو اچھی طرح نوٹ کررہا ہے۔“
منزہ اُس کے قریب آتی اندر سے غصہ ہونے کے باوجود نہایت تحمل سے بولی تھی۔
” تمہارے کہنے پر نکاح تو کر چکا ہوں۔ اب مزید کیا چاہتی ہو تم ۔“
زورین فون کان سے ہٹاتا رکھائی سے بولا تھا۔
جس کے جواب میں منزہ نے کچھ بولے بنا سیڑھیوں سے اترتی دل کی جانب اشارہ کیا تھا۔
زورین نے فون کال کے دوران منزہ کے بار بار اِس طرح ڈسٹرب کرنے پر غصے سے اُس طرف دیکھا تھا۔ مگر وہاں سے جلوا انگیز ہوتی اُس پری پیکر کو دیکھ زورین کتنی ہی دیر نظریں ہٹانے کے قابل نہیں رہا تھا۔
“تمہاری ہی بیوی ہے. صرف گھورنے کی نہیں ہاتھ تھام کر سٹیج پر لے جانے کی بھی اجازت ہے۔ “
منزہ اُس کو دل آویز کے بے پناہ حُسن میں گم ہوتا دیکھ شوخی سے بولی تھی۔ دل نے اُن کے قریب سے ہی گزر کر سٹیج تک جانا تھا۔
“نو تھینکس مجھے ایسا کوئی شوق نہیں ہے۔“
منزہ کی آواز پر زورین ہوش میں آتا اپنی اِس بے اختیار حرکت پر حیران ہوا تھا۔
”تمہارے سوشل سرکل کے ساتھ ، بزنس ورلڈ کے تمام لوگ اور میڈیا بھی موجود ہے۔ تمہارے اِس روڈ بی ہیوئیر کو ہر بندہ ہی نوٹ کررہا ہے۔ بلکہ وہ دیکھو کچھ رپورٹرز تو تمہاری سیکرٹری کے پاس تمہارے اِس رشتہ کے حوالے سے پوچھ گچھ بھی شروع کر چکے ہیں۔ “
منزہ نے اُسے اُس کے مزاج اور پراؤرٹیز کے لحاظ سے ڈیل کرنا چاہا تھا۔ اُسے پورا یقین تھا۔ زورین سب کے سامنے اپنی رپوٹیشن خراب نہیں کرنا چاہے گا۔
” مطلب سب ٹھیک کہتے ہیں۔ زورین شاہ کا موڈ بدلنا صرف اُس کی بیسٹ فرینڈ منزہ شاہ کو ہی آتا ہے۔“
زورین اُس کی اتنی تمہید پر طنزیا مسکراہٹ اُس پر اُچھالتا آگے بڑھا تھا۔ جبکہ منزہ اُس کی بات پر خوشی سے کھلکھلاتی قریب آتی دل کی جانب دیکھنے لگی تھی۔
زورین شاہ کا اتنے کم حیثیت لوگوں میں شادی کا سن کر ہر شخص حیران اور متجسس تھا۔ جس کی وجہ سے کافی زیادہ تعداد ميں لوگ آئے ہوئے تھے۔ اور جانے مانے میڈیا اینکرز بھی مدعو کیے گئے تھے۔
زورین کو دل کی جانب بڑھتا دیکھ سب کی نظریں اُس جانب ٹک گئی تھیں۔
زورین اِس وقت کریم کلر کے پینٹ کوٹ میں ملبوس اپنی چارمنگ پرسنیلٹی کے ساتھ پوری محفل پر چھایا ہوا تھا۔ نجانے کتنے دلوں کی دھڑکن بنا وہ دل آویز کے آگے اپنی چوڑی ہتھیلی پھیلا گیا تھا۔ دل نے لرزتی پلکیں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔ اِس وقت اُس کا دل تیز رفتار سے دھڑکتا آوٹ آف کنٹرول ہوچکا تھا۔ رہی سہی کسر خود پر اُٹھتی زورین کی پُرشوق نظروں نے پوری کردی تھی۔
” دل۔۔۔۔“
نرمین نے اُسے سٹیچو بنا دیکھ آہستگی سے کہنی ماری تھی۔ دل نے مہندی اور گجرے سے سجا اپنا کپکپاتا نازک ہاتھ اُس کی چوڑی ہتھیلی پر رکھ دیا تھا۔ جسے اپنی گرفت میں لیتے زورین اُس مجسمہ حُسن کو لیے سٹیج کی جانب بڑھا تھا۔
زورین سے قدم سے قدم ملا کر چلتے اُسے اپنے دل کی کیفیت میں عجیب سا بدلاؤ محسوس ہوا تھا۔ ہمیشہ جن لوگوں کی ترس بھری ہمدردانہ نظریں خود پر اُٹھتی دیکھی تھیں۔ آج اُنہیں میں اُس کے لیے رشک اور ستائش بھری تھی۔ ابھی کچھ سیکنڈز ہی گزرے تھے اُسے اِس شخص سے جڑے ہوئے۔ اور اُس کی حیثیت بالکل بدل چکی تھی۔ دوسروں کی ٹھوکروں پر پلنے والی آج زورین شاہ کے محل کی شہزادی بن چکی تھی۔
دل نے اُنہیں سوچوں میں گم بے اختیار نظریں اُٹھا کر اپنے ساتھ چلتے شہزادوں کی آن بان رکھنے والے شخص کو دیکھا تھا۔ وہ آج تک ایسے ہی انسان کی خواہش کرتی آئی تھی۔ جو اُسے عزت دے اور لوگوں کی ترس بھری نظروں سے دور لے جائے۔ زورین شاہ نے وہی سب کردیکھایا تھا۔
دل کی نظریں اپنے چہرے پر محسوس کرتے اُس نے بھی نظریں جھکا کر دل کی آنکھوں میں جھانکا تھا۔ جب یہ بے پناہ حسین منظر کیمرے کی آنکھ میں ہمیشہ کے لیے قید ہوچکا تھا۔
” تم ٹھیک ہو۔“
دل کی آنکھوں میں چمکتی نمی دیکھ نجانے کس بات کے زیرِ اثر زورین نہایت نرمی سے بولا تھا۔
دل نفی میں سر ہلاتے فوراً نظریں پھیر گئی تھی۔ اُس کا دل زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔
زورین اُسے تھام کر سٹیج پر لایا تھا۔ زورین اُسے کسی کانچ کی گڑیا کی طرح ٹریٹ کررہا تھا۔ دل اِس دیکھاوے کی حقیقت جانے بغیر آہستہ آہستہ اُس کے سحر میں گرفتار ہورہی تھی۔ اُس کا دل اُس کے قابو سے باہر ہوچکا تھا۔
وہاں موجود ہر انسان کی نظریں اُس بے پناہ حسین کپل پر ٹکی ہوئی تھیں۔ منزہ نے بے اختیار اُن دونوں کی نظر اُتاری تھی۔
رقیہ بیگم اور باقی سب جنہوں نے ہمیشہ دل پر ظلم ہی ڈھائے تھے۔ اُس کی ایکدم بدلتی یہ شہزدایوں جیسی حیثیت پر حسد بھری نظروں سے دیکھنے کے علاوہ کچھ بھی کرنے سے بے بس تھے۔
” آپ کی بلاوجہ کی ضد نے۔ اِس ہیرے کو کسی اور کی جھولی میں ڈال دیا۔ اب لڑکی بھی گئی اور اِس کے نام پر موجود جائیداد بھی۔ کہا تھا شادی کروا دیں اِس سے میری۔ ساری عمر پیر کی جوتی نہ بنا کر رکھتا تو کہتیں آپ۔“
تقی سے اپنے اشتعال پر قابو پانا مشکل ہورہا تھا۔ سونے کی چڑیا اُس کے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔ صرف اور صرف اُس کی ماں کی بے جا ضد کی وجہ سے۔
” مان چکی ہوں میں ، بہت بڑی غلطی ہوچکی ہے مجھ سے۔ مگر اب میں ہی سدھاروں گی اپنی یہ غلطی۔ دیکھنا اب کیا کھیل کھیلتی ہوں میں۔ زورین شاہ جیسا عزت دار شخص اِس پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرے گا۔ کچھ دیر خوش ہو لینے دو۔ ہماری خوشیوں کی قاتل اُس بے حیا عورت کی بیٹی کو۔ اُس کے بعد ساری زندگی تمہارے قدموں کی ہی خاک چھانے گی یہ۔“
رقیہ بیگم اپنے لفظوں کے ذریعے دل میں بھرا زہر نکالتے ہوئے بولی تھیں۔ تقی دل پر خباثت بھری نظریں گاڑھے سٹیج کی جانب بڑھا تھا۔
” اسلام و علیکم سر۔ میں دل کا خالہ زاد ہوں تقی۔ بہت بہت مبارک ہو آپ کو۔“
تقی نے زورین کی جانب مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا۔ جسے تھامتے وہ مروتاً شکریہ ادا کرتا مسکرایا تھا۔ تقی اُس سے مل کر سویرا کو دل کے قریب سے اُٹھتا دیکھ تصویر بنوانے کے بہانے بیٹھ گیا تھا۔
اُس کے بالکل ساتھ لگ کر بیٹھنے پر دل جلدی سے زورین کی جانب کھسکتی اُس کے کندھے سے جا لگی تھی۔ ساتھ والے صوفے پر بیٹھے اپنے دوست سے بات کرتے زورین نے حیرت بھری نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔ مگر اُس کے ساتھ بیٹھے تقی کو دیکھ وہ دل کا گریز سمجھتا اپنا بازو دل کے کندھے کے پیچھے سے گزارتا اُسے اپنے حصار میں لے گیا تھا۔ اُس کا بازو بیچ میں آجانے کی وجہ سے تقی خود بخود فاصلے پر ہوا تھا۔ زورین منہ سے کچھ نہیں بولا تھا۔ مگر اُس کی تنبیہہ کرتیں سرد نگاہیں دیکھ تقی گھبراتا وہاں سے اُٹھ گیا تھا۔
دل کتنے ہی لمحے زورین شاہ سے جڑی اُسے دیکھے گئی تھی۔ ہمیشہ تکی سے اُس نے اپنی عزت خود ہی محفوظ رکھی تھی۔ کئی بار گھر میں اکیلا ہونے کی وجہ سے وہ صرف تقی کے ڈر سے پورا پورا دن کمرے میں بھوکی قید رہتی تھی۔ مگر کبھی کسی نے تقی کے حوالے سے کہی جانے والی اُس کی باتوں کا یقین نہیں کیا تھا۔ یہاں تک کے اِس معاملے میں تو اُس پر جان چھڑکنے والی اُس کی کزنز نے بھی اُس کا یقین نہیں کیا تھا۔ کیونکہ تقی اُن کے سامنے بالکل شریف اور بھائیوں جیسا برتاؤ ہی کرتا تھا۔
لیکن آج پہلی بار کسی نے اُسے اِس شخص کی بُری نیت اور نظروں سے محفوظ کیا تھا۔ بنا اُس کے کچھ بولے ہی زورین اُس کی پریشانی سمجھ گیا تھا۔ دل آہستہ آہستہ اِس شخص کی اسیر ہوتی جارہی تھی۔ اُسے خود بھی یقین نہیں آرہا تھا۔ کچھ لمحوں میں ہی وہ اِس شخص کی گرویدہ کیسے ہوسکتی تھی۔ جو اُسے سخت ناپسند تھا۔ نکاح کا بندھن اپنے بولوں میں اتنی طاقت رکھتا تھا۔ کہ اُس کا دل اپنے مجازی خدا کے لیے موم ہونے کے ساتھ ساتھ اُس کا شیدائی ہونے لگا تھا۔
دل اُس کے حصار میں قید مضبوط کندھے سے لگی مسمرائز سی اُسے دیکھے گئی تھی۔ زورین نے بھی چہرا جھکا کر اُس کے ماتھے پر چمکتیں پسنے کی بوندوں کو دیکھا تھا. اُس کے لپسٹک سے سجے لرزتے ہونٹ اور گھنیری پلکوں کا رقص زورین شاہ کو مبہوت کرگیا تھا۔
وہ بنا اردگرد اپنے جانب دیکھتے لوگوں کا لحاظ کیے ہاتھ بڑھا کر اُنہیں محسوس کرنے ہی والا تھا۔ جب منزہ کی قریب سے آتی کھانسے کی آواز پر اُسے ہوش آیا تھا۔ وہ پیچھے ہوا تھا مگر دل کے گرد سے حصار ابھی بھی ختم نہیں کیا تھا۔
” فوٹوگرافر کا کہنا ہے وہ اِسی پوز میں آپ لوگوں کی فوٹو لینا چاہتا ہے۔“
منزہ نے آنکھوں میں شوخی بھرے زورین کی جانب دیکھا تھا۔
“اتنی دیر سے آپ کا فوٹوگرافر سویا ہوا تھا کیا۔ ہم پوز ہی تو دے رہے تھے۔“
زورین بنا شرمندہ ہوئے ڈھٹائی سے بھنویں اُچکا کر بولا تھا۔
”زرا میرے ساتھ آؤ،ضروری بات کرنی ہے تم سے۔“
زورین دل کے قریب سے اُٹھتا منزہ کو ساتھ آنے کا اشارہ کرتا سٹیج سے اُتر گیا تھا۔
” کیا ہوا سب خیریت ہے۔“
منزہ اُس کے اِس طرح سائیڈ پر لانے پر حیران ہوتے بولی تھی۔
” میں چاہتا ہوں رخصتی بھی آج ہی ہو۔ تم اِن لوگوں کو بتا دو۔ ابھی کچھ دیر بعد نکلنا ہے ہمیں۔“
زورین کے منہ سے نکلنے والی بات پر منزہ آنکھیں پھاڑے اُس کی جانب ہونقوں کی طرح دیکھ رہی تھی۔
” مطلب تم دل آویز کو آج ابھی اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہو۔“
منزہ کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔
” میرے مطابق تو رخصتی کا یہی مطلب ہوتا ہے۔“
زورین اُس کے ری ایکشنز دیکھ دانت پیس کر بولا تھا۔
” تو آخر اُس پیاری سی لڑکی کا جادو چل گیا تم پر۔ واؤ مجھے یقین نہیں آرہا۔ کتنے مزے کی بات ہے نا یہ۔“
منزہ دل سے خوش ہوئی تھی۔
” نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں ابھی کچھ دنوں بعد تم لوگوں کی جانب سے رخصتی کا ڈرامہ شروع ہوجانا ہے۔ میں اتنا فارغ انسان بالکل بھی نہیں ہوں کہ روز اپنی کروڑوں کی میٹنگز چھوڑ کر یہاں سٹیج پر شوپیس بن کر بیٹھوں۔ تو بہتر یہی ہے آج ہی رخصتی ہوجانی چاہیئے۔ تاکہ یہ قصہ ہی ختم ہو۔“
زورین اُسے دوٹوک جواب دیتا وہاں سے ہٹ گیا تھا۔ جبکہ منزہ کی ساری خوشی دھری رہ گئی تھی۔ زورین سے اُس کی بچپن سے دوستی تھی۔ وہ ایک ساتھ کھیلتے بڑے ہوئے تھے۔ زورین اُن دونوں میاں بیوی کو بہت عزیز تھا۔ وہ اُس کا گھر بستے اُسے ایک خوشحال زندگی گزارتے دیکھنا چاہتے تھے۔ اِسی وجہ سے ہی وہ پچھلے اتنے عرصے سے زورین کے پیچھے لگے ہوئے تھے۔ اب اچانک اُس کے مان جانے پر اُنہیں زرا سی بھی دیر کرنا مناسب نہیں لگا تھا۔ زورین کا بھائی ثاقب تو ٹائیفائڈ کی وجہ سے نہیں آپایا تھا۔ مگر منزہ اُس کی خوشیوں میں پوری طرح شریک تھی۔
” قصہ ختم نہیں ہوا میرے بھائی، اب شروع ہوا ہے. دیکھتی ہوں کب تک بچتے ہو تم۔“
منزہ پیار بھری نظروں سے سٹیج پر بیٹھی دل کو دیکھ کر سوچتی رقیہ بیگم کی جانب بڑھ گئی تھی۔ اپنے دیور جی کا جاری کیا گیا آرڈر اُس نے ہر حال میں پورا کرنا تھا۔
” دل تمہارے حُسن کا جادو چڑھ گیا تمہارے شاہ صاحب پر۔ وہ آج ہی رخصتی کروا رہے ہیں تمہاری۔“
سویرا کے قریب آکر سرگوشی کرنے پر دل جی جان سے لرز اُٹھی تھی۔
” کیا۔۔۔”
کپکپاتی آواز میں وہ صرف اتنا ہی کہہ پائی تھی۔ اُس کے حواس تو ابھی تک جگہ پر نہیں آرہے تھے۔ اُوپر سے یہ نئی آزمائش، وہ بالکل چکرا کر رہ گئی تھی۔
★★★★★★★★
سُلین گہری نیند میں سوئی ہوئی تھی۔ جب پورے کمرے میں گونجتی موبائل کی آواز پر اُس کی نیند میں خلل پیدا ہوا تھا۔
“صبا رات کے اِس وقت کال کیوں کررہی ہو۔ سب ٹھیک ہے۔“
مندی مندی آنکھوں سے فون آن کرکے کان سے لگاتے وہ نیند کے خمار میں بولی تھی۔
“میم جلدی سے ٹی وی آن کریں آپ کے لیے بہت بُری نیوز ہے۔“
صبا کی پریشانی میں ڈوبی آواز پر سُلین کی نیند بھگ سے اُڑ گئی تھی۔ اب پھر اُس کے لیے کیا بُری خبر تھی۔ ریمورٹ اُٹھا کر ٹی وی آن کرتے اُس کا دل بُری طرح لرزنے لگا تھا۔
مگر ٹی وی پر نظر پڑتے ہی اُسے اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئی تھیں۔ وہاں جو تصویریں ایک کے بعد دوسری سکرین پر جگمگا رہی تھیں۔ اور اُن کے نیچے لکھی تحریر پڑھ کر سُلین کا دل شرم سے ڈوب مرنے کو چاہا تھا۔
ابتہاج لغاری کے سینے پر ہاتھ رکھے اُس کی بانہوں میں سمائے کھڑی تھی۔ کہیں وہ اُس کے بالوں کو تھامے کھڑا تھا۔ تو کہیں وہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں نگاہیں گاڑھے کھڑے تھے۔
اِس قدر بدنامی پر سُلین کا دل چاہا تھا خود کو ختم کردے۔ ابتہاج لغاری اُس کے ساتھ اتنا بڑا کھیل کھیلے گا اُسے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔
اُس نے جلدی سے ٹی وی آف کردیا تھا۔ اپنے کردار کے بارے میں اتنی غلیظ باتیں سننا اُس کے بس سے باہر تھا۔
” نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔ “
اپنے بالوں کو دونوں مُٹھیوں میں جکڑے وہ ہزیانی انداز میں چلائی تھی۔ کچھ ہی لمحوں میں اُس نے بیڈ طیش کے عالم میں کمرے کا حلیہ بگاڑ دیا تھا۔ جس شخص کو اُس نے اپنا محافظ سمجھا تھا وہ اُس کے ساتھ اتنا بڑا گیم کھیل گیا تھا۔ آخر اُس نے کیا بگاڑا تھا ابتہاج لغاری کا۔ اُس کے ایک بات سے انکاری ہونے پر وہ اُسی کی عزت کے پرخچے اُڑا گیا تھا۔ زمین پر گرتے اِس طرح کی کئی باتیں سوچتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
اُس کا فون ایک بار پھر سے بجنے لگا تھا۔ مگر اُسے اِس بات کا ہوش ہی نہیں رہا تھا۔
مسلسل آتی پندرہ بیس کالز کے بعد آخر سُلین نے کال پک کرلی تھی۔
مگر صبا کے منہ سے سننے والی اگلی خبر نے اُسے زلزلوں کی لپیٹ میں لیا تھا۔ وہ ماؤف ہوتے دماغ کے ساتھ صبا کے کہنے پر ایک بار پھر ٹی وی آن کرگئی تھی۔ یہ اُس کے ساتھ ہوکیا رہا تھا۔
سامنے ہی سکرین پر اُس کا نکاح نامہ چل رہا تھا۔ جو ابتہاج نے میڈیا پر دے کر سب کے منہ بند کروا دیئے تھے۔ سُلین پر اُٹھنے والی اُنگلیاں تو اُن دونوں کا نکاح نامہ دیکھ بند ہوچکی تھیں۔ مگر یہ نیا انکشاف سُلین پر بہت بھاری تھا۔ اُس کا نکاح بھلا کیسے ہوسکتا تھا. اِس انسان سے۔ شاید یہ بھی اُس کی چال کا کوئی حصہ تھا۔
سلین کو لگا تھا وہ بہت غلط انسان کے چنگل میں پھنس چکی ہے۔۔
چکراتے دماغ کے ساتھ وہ خواس کھوتی زمین بوس ہوئی تھی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔