Teri Chah Mein By Farwa Khalid Readelle50119 Last updated: 26 July 2025
Rate this Novel
Teri Chah Mein
By Farwa Khalid
اُس کی شرٹ کو پورے استحقاق سے تھامے وہ اِس لمحے اُسے
کوئی چھوٹی سی بچی معلوم ہوئی تھی۔ جیسے نیند میں بھی اُس کے دور جانے کا ڈر ہو۔ زورین بغور اُس کی جانب دیکھ رہا تھا۔ جب نیند میں ہی دل مسکرائی تھی۔ اُس کے چہرے
پر ایک الوہی سی مسکان بکھری ہوئی
تھی۔ خواب میں جیسے اپنی کوئی من پسند شے دیکھ لی ہو۔ وہ اِس وقت لائٹ پرپل کلر کے سوٹ میں ملبوس اپنے بے پناہ حُسن کی رعنائیاں بکھیر رہی تھی۔ دوپٹہ فولڈ کرکے تکیے
کے قریب رکھا تھا۔ جبکہ بال کھلے چھوڑ رکھے تھے۔
جو بار بار اُس کے چہرے پر بکھرتے زورین کے دیکھنے میں خلل پیدا کررہے تھے۔ زورین نے ہاتھ بڑھاتے اُس کے چہرے سے بالوں کی گھنی لٹیں ہٹاتے کان کے پیچھے اڑسی تھیں۔ اُس کی گہری نظروں کا ارتکاز تھا کہ دل کے گال گلابی ہوئے تھے۔
وہ ایک دم کسمسائی تھی۔ اُس کی نیند زورین شاہ خراب کرچکا تھا۔ دل کو آنکھیں کھولتے دیکھ زورین جان بوجھ کر سوتا بن گیا تھا۔ دل کو بھی آنکھیں کھولتے شاک لگا تھا۔ میرا کا تو دور
دور تک کہیں نام و نشان بھی نہیں تھا۔ زورین شاہ کا چہرا اپنے بے حد قریب دیکھ اُس کا دل زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔ اُس کی گرم سانسیں دل کے چہرے
پر پڑتیں اُسے دہکا گئی تھیں۔ اُس کا دل صبح شام اِس شخص کی خواہش کرتا تھا۔ مگر آج اُسے اپنے اتنے قریب دیکھ اُس کے دل کو خوشی
نہیں ہوئی تھی۔ وہ جانتی تھی جیسے ہی زورین شاہ جاگے
گا۔ اُسے پھر سے ویسے ہی دھتکار دے گا۔ ”آپ بہت بُرے ہیں۔ آئی ہیٹ یو زورین شاہ۔ آپ کے لیے میں صرف ایک کھلونا ہونا۔ جسے صرف
اپنے مطلب کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ خود کو بہت عقل مند سمجھتے ہیں نا۔
مجھے اپنا مہرہ بنانے سے پہلے یہ ہی نہیں جان پائے۔ کہ کس کو اذیت دینے کے لیے میرا استعمال کریں گے۔ میں اِس دنیا میں
کسی کے لیے امپورٹنٹ نہیں ہوں۔ مجھے اذیت دینے سے میرے گھر والوں کو تکلیف نہیں ہوگی۔ بلکہ خوشی ملے گی۔ “ دل ااذیت ناک لہجے اور الفاظ پر زورین کے دل کو کچھ ہوا تھا۔
اُسے دل کی آواز میں نمی گھلتی محسوس ہوئی تھی۔ ”آپ نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ بہت بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر، اپنی زندگی میں شامل کرکے۔
میرے دل کا جو نقصان ہوا ہے۔ اُس کے لیے میں آپ ہو کبھی معاف نہیں کروں گی۔“ دل نے شکوہ کناں لہجے میں بولتے چہرا اُوپر اُٹھایا تھا۔ وہ ابھی تک یہی سمجھ رہی تھی۔
کہ زورین سو رہا ہے۔ اِس لیے اِس وقت اتنی دلیری کا مظاہرہ کرتے اُس نے اُس مغرور
نقوش سے سجے چہرے کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے جھک کر اپنے نازک لگ زورین کی کشادہ پیشانی پر رکھ دیئے تھے۔ اب دھڑکنیں تھمنے کی باری زورین کی تھی۔ دل کے الفاظ سے تو وہ یہی سمجھا تھا۔ کہ وہ اُسے
اِس طرح زبردستی شادی کرنے اور
اُسے اُس کی محبت جو کہ وہ اپنے کزن سے کرتی تھی۔ سے دور جانے
والی بات پر کبھی بہ معاف کرنے کا کہہ رہی تھی۔ مگر اُس کا یہ کپکپاتا نرم گرم لمس ایک ہی لمحے میں زورین شاہ کی ساری کنفیوژن کلیئر کرگیا تھا۔ دل کی آنکھ سے آنسو گر کر زورین کے چہرے پر گرا تھا۔ جس پر دل اُس کے جاگ جانے کے خوف سے فوراً گھبراتی پیچھے ہٹی تھی۔ کچھ دیر بعد زورین کو دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی تھی۔ مضطرب سا وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اُٹھ بیٹھا تھا۔ ” مجھ سے کہیں کچھ غلط تو نہیں ہوگیا۔“ زورین شاہ کا دل مزید بے چین ہوا تھا۔ بیڈ سے اُٹھتے اُس نے اپنے ماتھے پر کچھ دیر پہلے بخشے اُس نرم گرم لمس کو ہاتھ پھیرتے محسوس کیا تھا۔ عام حالات میں اُس کی جانب نظر اُٹھا کر نہ دیکھنے والی اپنی چھوئی موئی سی بیوی کا اپنی غفلت میں یہ نیا رُوپ اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر گیا تھا۔ جو بھی تھا مگر یہ احساس اُسے بہت انوکھا اور خوبصورت لگا تھا۔ ★★★★★★★★★★
