Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

”میم آپ یہ ڈریس پہنیں گی۔ میں آپ کو کوئی اور نکال دوں۔“
صبا سُلین کی جانب دیکھ کر جھجھکتے ہوئے بولی تھی۔ چاہے سُلین بہت نرم مزاج کی مالک تھی۔ مگر تھی تو اُس کی باس۔وہ اُسے کسی چیز کے لیے فورس نہیں کر سکتی تھی۔
ابھی کچھ دیر میں سُلین کا نکاح تھا۔ اور نکاح کے لیے اُس نے انتہائی سمپل سا بلیک ڈریس پہن رکھا تھا۔ پلین شرٹ اور ٹراؤزر میں ریشمی دوپٹہ سر پر اُوڑھے بالوں کو جوڑے کی شکل میں لپیٹے وہ سوگوار سے حُسن اور سادگی میں بھی بہت اٹریکٹو لگ رہی تھی۔ اُس سے نظریں ہٹانا کافی مشکل امر تھا۔
“نہیں میں اِس ڈریس میں زیادہ کمفرٹیبل ہوں۔“
سُلین کی طبیعت ابھی بھی سنبھلی نہیں تھی۔ کل رات شدید ٹینشن لینے کی وجہ سے اُس کا نروس بریک ڈاؤن ہوا تھا۔ ڈاکٹر نے اُسے ریسٹ کرنے کو کہا تھا۔ مگر وہ جب سے ڈسچارج ہوکر آئی تھی. ایک منٹ کے لیے بھی ٹک کر نہیں بیٹھی تھی۔
ریسٹورنٹ میں سب ٹھیک چل رہا ہے یا نہیں اُسے اِس بات کی بہت ٹینشن تھی۔ وہ مسلسل زاہد سے رابطے میں تھی۔ قاسم سے ابھی تک کوئی کانٹیکٹ نہیں ہوپایا تھا۔
“اوکے میم۔“
صبا بے چارگی سے اُس کی جانب دیکھتی خاموش ہوگئی تھی۔ اُسے قریشی صاحب سے ہی سننے میں ملا تھا۔ کہ نکاح کے ساتھ رخصتی بھی تھی۔ صبا اپنی زندگی میں پہلی بار کسی دلہن کو سیاہ لباس میں دیکھ رہی تھی۔ آج تک اُس نے ایسا سنا بھی کبھی نہیں تھا۔
مگر اپنی باس کے حکم کی پابند وہ کچھ نہیں کہہ سکتی تھی۔
نیچے مولوی صاحب اور باقی گواہان آچکے تھے۔ نکاح کا قریب آتا وقت سُلین کی سانسیں مدھم کیے جارہا تھا۔
”میم قریشی صاحب آپ کو بلارہے ہیں نیچے۔“
صبا کی بات اُسے اپنی موت کا پیغام لگ گئے تھی۔ مگر کچھ حقائق کے تحت اُسے اِس موت کے کنویں میں اُترنا پڑ رہا تھا۔
ابتہاج لغاری کا منجمد کرتا لہجہ، روح میں اُترتی لہو رنگ آنکھیں، اُس کی خود میں جکڑتی مسحور کن خوشبو۔ یہ سب کچھ اب اُسے برداشت کرنا تھا۔ چاہے کچھ ٹائم کے لیے ہی سہی۔ مگر اُسے اُسی شخص کے ساتھ رہنا تھا۔ جس کے لیے وہ اپنے دل میں فیلنگ محسوس کررہی تھی۔ مگر ابتہاج لغاری کے دھوکے نے اُن پھوٹتی کونپلوں کو مسل کر رکھ دیا تھا۔
قریشی صاحب کے ساتھ چلتے اُس نے ڈرائنگ روم کے اندر قدم رکھا تھا۔ یہاں آنے سے پہلے اُس نے خود ایک اور بڑی سی سیاہ چادر میں لپیٹ تھا۔
اُسے پورے ڈرائنگ روم میں نظریں دورانے کے باوجود ابتہاج لغاری کہیں نظر نہیں آرہے تھے۔ یہ خفیہ نکاح کی تکریب تھی۔ اِس لیے گواہان کے علاوہ اور کوئی بھی موجود نہیں تھا۔
“بیٹا آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔“
اُسے پوری طرح کپکپاتے دیکھ قریشی صاحب فکرمندی سے بولے تھے۔
” جی انکل میں ٹھیک ہوں۔“
سُلین خود کو مضبوط ظاہر کرتے بولی تھی۔
اُس وقت جب آپ کو اپنے قریبی رشتوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اُس کے پاس کوئی بھی نہیں تھا۔ ایک خونی رشتہ بھی نہیں۔ قریشی صاحب کی وائف اور بیٹی اُن کے بیٹے کی ناساز طبیعت کی وجہ سے رات کو ہی امریکہ چلی گئی تھیں۔
سُلین کے ایک جانب صبا بیٹھی تھی۔ جبکہ دوسری جانب جگہ خالی تھی۔ کچھ ہی فاصلے پر رکھی چیئر پر مولوی صاحب بیٹھے نکاح پڑھوانے کو تیار تھے۔ ابتہاج لغاری ابھی تک نہیں آیا تھا۔ سُلین کو یہ بات بہت غصہ دلا رہی تھی۔ کہ یہ شخص ابھی سے ہی احسان جتانا شروع ہوچکا تھا۔ کہ وہ اُس کی مدد کررہا ہے۔
قریشی صاحب کے کال کرنے کے کچھ ٹائم بعد وہ اُسے ایک درمیانی عمر کے شخص کے ساتھ اندر آتا دیکھائی دیا تھا۔ پیچھے تین چار لوگ اور بھی تھے۔ مگر اب وہ نظریں پھیر چکی تھی۔ ابتہاج اُس کے ساتھ آکر براجمان ہوا تھا۔ وہ فاصلہ رکھ کر ہی بیٹھا تھا۔ مگر پھر بھی اُسے جتانے کے لیے وہ اُس سے مزید فاصلہ برقرار رکھتی صبا کی جانب کھسک گئی تھی۔
ابتہاج نے اُس کی یہ حرکت بہت غور سے دیکھی تھی۔ مگر ہونٹ بھینچے اِس وقت بالکل خاموشی اختیار کیے ہوئے تھا۔
ابتہاج تو ہمیشہ کی طرح بلیک کپڑوں میں ہی ملبوس تھا۔ بلیک قمیض شلوار میں سلیوز کہنیوں تک فولڈ کیے وہ بے نیازی اور مغروریت بھرے تاثرات کے ساتھ بیٹھا۔ پورے ماحول پر چھایا ہوا لگ رہا تھا۔ صبا نے ستائشی نظروں سے اِس منفرد سے سیاہ لباس میں موجود کپل کو دیکھا تھا۔ دونوں ہی ایک ساتھ بیٹھے کمال کے لگ رہے تھے۔ جیسے ایک دوسرے کے لیے ہی بنے ہوں۔
مولوی صاحب نکاح پڑھوانا شروع ہوچکے تھے۔ نکاح کے ہر بول کے ساتھ سُلین کے دل کی حالت غیر ہوتی جارہی تھی۔
نکاح نامے پر سائن کرتے کتنی بار پین اُس کے ہاتھ میں لرز گیا تھا۔ اپنا آپ کسی ایسے شخص نام لگانا جس کے نام سے زیادہ آپ کچھ نہیں جانتے بہت مشکل امر تھا۔ جو صرف اپنے ماں باپ کی خاطر کڑوا گھونٹ اُسے پینا تھا۔
نکاح کی رسم ہوچکی تھی۔ سب مبارک دے رہے تھے۔ قریشی صاحب نے باپ جیسی شفقت بھرا ہاتھ اُس کے سر پر رکھا تھا۔ اب اُنہیں سُلین کی جانب سے بالکل بھی ٹینشن نہیں رہی تھی۔ اُن کے بیسٹ فرینڈ کی اکلوتی نشانی اب محفوظ ہاتھوں میں تھی۔
صبا نے بھی خوش ہوتے سُلین کو گلے لگایا تھا۔ جو بہت مشکل سے اپنے آنسو روکے بیٹھی تھی۔ قریشی صاحب کی باتوں میں آکر اُس نے اتنا بڑا قدم اٹھا تو لیا تھا۔ مگر اُس کے دل میں ایک انجانا سا درد بیٹھ گیا تھا۔ اوہ ابھی تک اِسی اُلجھن میں گرفتار تھی۔ کہ جس انسان کو وہ اپنا آپ سونپ چکی تھی۔ کیا وہ اُس کا محافظ ہی تھا یا کہیں اُس کی اصل بربادی کا زمہ دار۔ وہ جلد از جلد اِس حقیقت سے پردہ اُٹھانا چاہتی تھی۔ شاید نکاح کی بڑی وجہ بھی یہی تھی۔ اسٹامپ پیپر پر سائن کروانے کا اصل مقصد ہی یہی تھا۔ کہ جب وہ اِس شخص کی اصلیت دنیا کے سامنے لائے۔ تو آزادی کا پروانہ بھی اُس کے پاس ہو۔
“قاسم سے کوئی کانٹیکٹ ہوا۔“
سُلین کی سرگوشی نما آواز میں کہی بات بھی قریب بیٹھے ہونے کی وجہ سے باآسانی ابتہاج کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔ اُسے جتنی اِس بندے سے نفرت تھی۔ سُلین اُتنا ہی اُس کا نام لے کر ابتہاج کو جلا کر خاک کردیتی تھی۔
وہ نجانے کیسے غصہ ضبط کرتا وہاں سے اُٹھ گیا تھا۔ اُس کے یوں جھٹکے سے اُٹھ جانے پر سُلین کے ہونٹوں پر محظوظ کن مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔
اِس انسان نے اُسے زہنی ٹارچر کرنے کی کوشش کی تھی۔ اب وہ اِس سے سارے بدلے لینا چاہتی تھی۔ اُسے ایسا محسوس ہورہا تھا۔ کہ اصل کلپریٹ ابتہاج لغاری ہی تھا۔
” میم ابھی کچھ دیر میں آپکی رخصتی ہے۔ اِن سے تو آپ کو نیند آجائے گی۔“
سُلین صبا کے ساتھ روم میں آچکی تھی۔ اور ڈاکٹر کی دی گئی دوائیاں ، جو اِس ٹائم بالکل بھی نہیں لینی تھیں۔ سُلین بہت ہی آرام سے اُنہیں پانی سے نگل گئی تھی۔
” آج رخصتی ہو یہ پتھر پر لکیر تو نہیں بن گئی نا۔ نکاح ہوچکا ہے، رخصتی کل یا پرسوں ہوجائے گی۔“
سُلین دوائیوں کے زیرِ اثر بولتی بیڈ پر لیٹ چکی تھی۔ اگلے چند لمحوں بعد وہ غنودگی میں جاچکی تھی۔
صبا بے چارگی سے اُسے دیکھتی پلٹ گئی تھی۔ وہ خود نہیں جانتی تھی کہ اب کیا ہونے والا تھا۔
★★★★★★★★
روم میں دبیز پردے گرے ہونے کی وجہ سے بالکل اندھیرا ہوچکا تھا۔ دل اپنی عادت کے مطابق لائٹ آن کرکے سوئی ہوئی تھی۔ جو زورین نے سونے سے پہلے آف کردی تھی۔ کیونکہ اُسے زرا سی بھی روشنی میں نیند نہیں آتی تھی۔
دل نیند میں ہوتے ہوئے بھی زرا لائٹ آپ ہونے پر جاگ جاتی تھی۔
اِس وقت بھی کسی انجانے احساس کے تحت دل کی آنکھ کھلی تھی۔ اجنبی نظروں سے ہر طرف نظر دوڑاتے اُسے اپنے ہاتھ پر کوئی بوجھ سا محسوس ہوا تھا۔ جیسے ہی چہرا گھمانے پر اُس کی نظر اپنے سامنے سوئے زورین شاہ پر پڑی اُس کا دل بے قابو ہوتا زور سے دھڑکنے لگا تھا۔
زورین کروٹ کے بل لیٹے اُس کے کافی قریب تھا۔اُس کا وزنی ہاتھ دل کے ہاتھ کے اُوپر رکھا تھا۔ جس سے وہ بالکل دب سا گیا تھا۔ دل آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھے گئی تھی۔ سوتے وقت تو وہ اکیلی تھی۔ پھر زورین شاہ کب آیا تھا۔ ہر وقت آگ اُگلتی اور دوسروں کو نیچا دیکھاتی مغرور آنکھیں موندے وہ بے خبر سویا، دل کی حالت غیر کرگیا تھا۔ وہ فوراً نظریں پھیر گئی تھی۔ اِس شخص کے نزدیک وہ اپنی اہمیت سے واقف تھی۔ اِس لیے کسی قسم کی خوش فہمیاں پال کر بعد میں اپنے آپ کو ہرٹ نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔
دل گھبراہٹ اور عجیب سی کیفیت کا شکار ہوتی۔ اُس کا ہاتھ جھٹکتی پیچھے ہٹی تھی۔
اُس کے یوں جھٹکا دینے سے زورین کی آنکھ بھی کھل گئی تھی۔
” واٹ نان سینس۔ یہ کیا طریقہ ہے۔“
زورین جو ابھی کچھ دیر پہلے سویا تھا۔ اپنی نیند یوں خراب کیے جانے پر، یہ بات بھلائے کہ یہ اُس ایک دن کی نئی دلہن ہے، غصے سے اُونچی آواز میں اُس سے مخاطب ہوا تھا۔ اُسے نیند میں اِس طرح ڈسٹرب کیے جانے پر شدید غصہ آتا تھا۔ کئی بار میرا کو بھی ڈانٹ پڑ چکی تھی۔
زورین کی نیند کے خمار سے لال پڑتی آنکھیں خود پر گڑھی دیکھ اُس کا دل زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔ مگر فوراً اپنی نظروں پر قابو رکھتے اُس نے زورین شاہ کو اُسی جیسے غصے بھرے تاثرات سے گھورا تھا۔
” آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ ورنہ مجھے کوئی شوق نہیں آپ کے قریب آنے کا۔“
اُس کی نظروں سے دل کی گھبراہٹ میں اضافہ ہورہا تھا۔ وہ بات کہتی بیڈ سے اُٹھنے ہی والی تھی۔ جب زورین نے اُس کی کلائی گرفت میں لیتے وہیں روک دیا تھا۔
”اوہ میں تو بھول ہی گیا تھا۔ آئی تھینک کل رات نکاح ہوا ہے ہمارا۔ تم اُسی وجہ سے میرے روم میں موجود ہو اِس وقت۔ ایسا ہی ہے نا۔ یا میں کوئی بھیانک خواب دیکھ رہا ہوں۔ جس میں تم بیوی کی حیثیت سے میرے کمرے میں موجود ہو۔“
دل جو اُس کی گرفت سے اپنی کلائی آزاد کروانے کی کوشش کر رہی تھی۔ زورین کے ہتک آمیز لہجے پر دل نے آنکھوں میں بھر جانے والی نمی کو پیچھے دھکیلتے نظریں اُٹھا کر اُس سنگدل ترین انسان کی جانب دیکھا تھا۔
” آپ کا تو پتا نہیں مگر میرے لیے واقعی کسی بھیانک خواب سے کم نہیں ہے۔ اگر میرے بس میں ہوتا تو یہ نکاح کبھی نہ کرتی۔ مگر میرے پاس کسی نے ایسا کوئی آپشن ہی نہیں چھوڑا تھا۔ “
دل نے اپنی کلائی اُس کے ہاتھ سے آزاد کروانے کے ساتھ ساتھ اپنا حساب بھی بے باک کیا تھا۔
جبکہ اُس کی بات زورین کو بالکل بھی پسند نہیں آئی تھی۔ اتنی دیر میں اُس نے پہلی بار ایک بھرپور نظر دل کے سراپے پر ڈالی تھی۔ کل نکاح کے وقت وہ جتنا غضب ڈھا رہی تھی۔ اِس وقت اُتنی ہی سادگی کی مورت بنی ہوئی تھی۔ مہرون کلر کے سادہ سے سوٹ میں بالوں کو کیچر میں مقید کرنے کی ناکام کوشش کیے وہ اِس وقت سادگی میں بھی بے انتہا خوبصورت لگ رہی تھی۔ اُس کا فریش چہرہ مقابل کو بھی تازہ دم کر جاتا تھا۔ جیسا اِس وقت زورین کے ساتھ بھی ہوا تھا۔ دل کا چاہے خون ہی جلاتے مگر وہ اُس سے باتیں کرتا اب کافی حد تک فریش ہوچکا تھا۔
دل کے سیدھے سلکی بال اُس کے چہرے کے گرد ہالہ بنائے اُس کے چہرے کی شادابی میں مزید اضافہ کررہے تھے۔ زورین کے لیے نظریں ہٹانا مشکل ثابت ہورہا تھا۔
وہ خود بھی سمجھ نہیں پارہا تھا۔ کہ اگر یہ لڑکی صرف اُس کی ضد تھی، اُس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔ تو اِس وقت اُس کے بیڈ روم میں بیوی کی حیثیت سے کیاکررہی تھی۔
دل کے الفاظ کے جواب میں زورین نے بنا کچھ بولے اُس کی کلائی کو جھٹکتے اپنی جانب کھینچا تھا۔ دل جو پہلے ہی بازو چھڑوانے کے لیے مزاحمت کرتی اُس کے قریب آگئی تھی۔ زورین کے اِس حملے پر کوشش کے باوجود سنبھل نہیں پائی تھی۔
وہ سیدھا اُس کے سینے پر جاگرتی مگر دل نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے درمیان میں فاصلہ برقرار رکھا تھا۔ دل کا یہ گریز بھرا انداز زورین نے بہت غور سے نوٹ کیا تھا۔
“ہممہ۔ تم تو اپنے کزن کے سہانے خواب دیکھتی ہوگی۔ قسمت نے لاکر یہاں پٹخ دیا۔ مجھ جیسے جذبات سے عاری انسان کے پاس۔“
زورین کی کہی جانے والی ہر اگلی بات اُسے پہلے سے زیادہ ہرٹ کررہی تھی۔ اُس کی آنکھوں سے آنسو لڑھک کر گال پر پھسلا تھا۔ جسے زورین نے گرنے سے پہلے ہی اپنی پوروں میں جذب کرلیا تھا۔
زورین کے ہاتھ کا لمس اپنے چہرے پر محسوس کرتے اُس کی حالت مزید غیر ہوئی تھی۔
“میں اپنے ماضی کے حوالے سے آپ کو جواب دینے کی پابند نہیں ہوں۔ وہ جیسا بھی گزرا ہو یا جس سے بھی محبت کی ہو میں نے۔“
دل نے بلاوجہ زچ کرنے کی کوشش کرتے زورین کا ہاتھ جھٹکنا چاہا تھا۔ جب اُس کا دوسرا ہاتھ بھی زورین کی گرفت میں آگیا تھا۔
دل سے اُس کا چہرا کافی قریب دیکھ اپنی دلی حالت پر قابو پانا مشکل ہوگیا تھا۔ اُس کے دل کی دھڑکنیں بُری طرح دھک دھک کرنے لگی تھیں۔ مگر وہ اِس بارے میں زورین کو محسوس نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔کیونکہ پھر اس سنگدل ترین انسان نے اُس کا مذاق بنا کر جینا حرام کر دینا تھا۔ کہ وہ اُس کی محبت میں گرفتار ہورہی ہے۔
”کافی خوبصورت ہو تم۔ “
زورین نے اُس کے ہاتھ ابھی بھی آزاد نہیں کیے تھے۔اور نہ ہی اُسے خود سے دور کیا تھا۔ دل کا چہرا اپنی گہری نظروں کی گرفت میں لیے بولتا وہ اُسے پزل کررہا تھا۔
”مگر مجھے تم میں بالکل بھی انٹرسٹ نہیں ہے۔ تم اچھے سے جانتی ہو میں نے یہ شادی کیوں کی ہے۔ صرف اپنی ضد پوری کرنے اور دنیا کے سامنے شادی شدہ ہونے کا دکھوا کرنے کے لیے۔ اِس سے زیادہ میرے نزدیک تمہاری کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یہ بات ہمیشہ اپنے زہن میں واضح رکھنا۔“
زورین اُسے خود سے دور جھٹکتا کروٹ لے کر واپس لیٹ گیا تھا۔
اُس کا دل چاہا تھا۔ اِس بے حس انسان کو جھنجھور کر رکھ دے۔ جس نے اُس کی پہلے سے برباد زندگی کو مزید خراب کردیا تھا۔
★★★★★★★★
”صبا آپ جائیں سُلین کو لے آئیں۔ رخصتی کا ٹائم ہوچکا ہے۔“
قریشی صاحب ابتہاج کے ساتھ صبا کے قریب آتے بولے تھے۔ جو شرمندہ سی اُن کی جانب دیکھے گئی تھی۔ وہ کیسے بتاتی کہ اُس کی کی باس صاحبہ گدھے گھورے بیچ کر سو چکی ہیں۔ اُس نے ہیوی ڈوز لی تھی، جس سے اگلے کئی گھنٹے کسی کے جھنجھوڑنے پر بھی اُسکا کی آنکھ نہیں کھلنی تھی۔
” کیا ہوا مس صبا۔ کوئی پرابلم تو نہیں ہے۔ سُلین ٹھیک تو ہے نا۔“
قریشی صاحب فوراً فکرمند ہوئے تھے۔ ابتہاج نے بھی جانچتی نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔
” نو سر میم بالکل ٹھیک ہیں۔ مگر وہ۔۔۔۔۔
وہ سوگئی ہیں۔ اپنی میڈیسن لے کر۔۔۔تو رخصتی ابھی تو پاسبل نہیں ہوسکتی۔“
صبا نے بات کرتے ڈرتے ڈرتے ابتہاج کی جانب دیکھا تھا۔ اُس پہلے دن سے ہی ابتہاج سے بہت ڈر لگتا تھا۔ جس کے سرد ترین تاثرات رگوں میں خون جما دیتے تھے۔ لیکن اُسے حیرت کا شدید جھٹکا تو اُس وقت لگا تھا۔ جب سُلین کی اِس حرکت کے بارے میں سن کر غصہ ہونے کے بجائے ابتہاج کی آنکھوں میں ایک مسکراہٹ سی اُبھر کر معدوم ہوئی تھی۔ جس کا دورانیہ چند سیکنڈز سے زیادہ نہیں تھا۔
مگر ابتہاج کی دلکش مسکراہٹ نے اُسے بہت متاثر کیا تھا۔ اُس کی نرم جذبوں میں گُندھی پیاری سی باس کے لیے یہ وجیہہ انسان بالکل پرفیکٹ تھا۔
” اوہ اب پھر۔۔۔۔۔۔“
قریشی صاحب کو سُلین سے اِس غیر زمہ داری کی اُمید بالکل بھی نہیں تھی۔ وہ ابتہاج کے سامنے شرمندہ سے ہوگئے تھے۔
” ڈونٹ وری قریشی صاحب رخصتی تو ابھی بھی ہوسکتی ہے۔ نکاح ہوچکا ہے ،دشمن اب پہلے سے زیادہ الرٹ ہونگے میں نہیں چاہتا۔ سُلین کو وہ مزید کوئی نقصان پہنچائیں۔ رخصتی اپنے مقررہ ٹائم پر ہی ہوگی۔ آپ پلیز مجھے اُن کا روم دیکھا دیں۔“
ابتہاج کی بات قریشی صاحب کو بالکل ٹھیک لگی تھی۔ وہ صبا کی راہنمائی میں سُلین کے روم کی جانب بڑھا تھا۔
جہاں وہ بیڈ پر کمبل سینے تک اوڑھے خوابِ خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی۔ اُس نے ابتہاج سے بچنے کے لیے نیند کا سہارا لیا تھا۔ یہ بات کافی محظوظ کن تھی اُس کے لیے۔ سُلین کو اِس بات کا اندازہ تھا شاید وہ اُس کے روم میں آئے، اِس لیے اُن نے سوتے وقت بھی دوپٹہ اچھے سے اوڑھ رکھا تھا۔
ابتہاج نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر اُس کے اُوپر سے کمبل ہٹاتے اُسے اپنی بانہوں میں اُٹھا لیا تھا۔ صبا خاموشی سے ایک سائیڈ پر کھڑی اپنی مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کررہی تھی۔ سُلین اگر سیر تھی تو ابتہاج اُس کے لیے سوا سیر ثابت ہوا تھا۔ اُس کی ساری پلاننگ ناکام بناتے وہ اُسے اُٹھائے روم سے باہر نکل آیا تھا۔
صبا نے ایسا انوکھا کپل اور اُس سے بھی کہیں زیادہ انوکھی رخصتی آج تک نہیں دیکھا تھا۔
★★★★★★★
” زورین کہاں ہو تم۔ میں پچھلے کتنے گھنٹوں سے کال کررہی ہوں تمہیں۔ اٹینڈ کیوں نہیں کررہے تم۔“
منزہ اچھی خاصی بھڑکی ہوئی تھی۔ وہ کئی سو بار کال کرچکی تھی۔ مگر زورین اپنی میٹنگ میں بزی ہر چیز فراموش کر جاتا تھا۔ ابھی بھی اُس سے بات نہیں ہوپانی تھی۔ اگر منزہ اُس کی سیکرٹری کا ڈانٹ کر فون میٹنگ روم میں لے جانے کو نہ کہتی تو۔
” کیا ہوا سب خیریت ہے۔ میرا تو ٹھیک ہے نا۔“
زورین کو فوراً میرا کی فکر ہوئی تھی۔
” میرا ٹھیک ہے سب خیریت ہے۔ مگر تم ابھی اور اِسی وقت آفس سے نکلو۔“
منزہ کو اُس کا دل کو یکسر فراموش کر جانا پسند نہیں آیا تھا۔
“آپ وجہ بتانا پسند کریں گی۔ اپنی اتنی امپورٹنٹ میٹنگ چھوڑ کر کس لیے آؤں میں۔“
زورین نے اُسی کے انداز میں جواب دیا تھا۔
” کیونکہ تمہاری اب ایک عدد بیوی بھی ہے۔ جسے کل ہی اپنے ساتھ رُخصت کروا کر آئے ہو تم۔ جیسے تمہیں اپنے باقی فیملی ممبرز سے محبت ہے۔ اُن کی عزت اور مان رکھتے ہو۔ ویسا ہی برتاؤ اب تمہیں اپنی بیوی کے ساتھ بھی کرنا ہوگا۔ جو صرف تمہاری وجہ سے ہی اپنے سارے رشتے چھوڑ کر آئی ہے۔
آج رسم کے مطابق دل آویز صبح اپنے گھر والوں کے ساتھ مکلاوے میں گئی ہے۔ تمہیں ابھی اُسے لینے جانا ہوگا۔ رسم کے مطابق تو شوہر کو بھی رات وہی ساتھ رُکنا ہوتا ہے۔ مگر تمہارے مزاج کے پیشِ نظر میں نے رات کو ہی تم دونوں کے واپس آنے کی بات کر لی ہے اُن سے۔ “
منزہ رسانیت سے سمجھاتے ہوئے بولی تھی۔
” واٹ ربش۔ تمہیں لگتا ہے میں ایسی فضول رسموں کا حصہ بنوں گا۔ آپ جائیں لے آئیں اُسے۔”
زورین نے اُس کی سوچ کے عین مطابق ری ایکشن دیا تھا۔
” جب شادی تم نے کی ہے۔ تو اُس کی ساری رسمیں بھی تمہیں ہی نبھانی پڑیں گی۔“
منزہ کو اب خود پر ہی افسوس ہورہا تھا۔ کہ اپنے اِس نک چڑھے دیور کے ساتھ کسی معصوم لڑکی کو پھنسا کر کتنی بڑی زیادتی کی تھی۔
” تمہیں ہی شوق چڑھا ہوا تھا، میری شادی کروانے کا۔ اب بھگتو سب اور ویسے بھی جب وہ مجھ سے پوچھے بغیر گئی ہے۔ تو میں اُسے لینے کیوں جاؤں۔“
زورین نے انکار کی ایک اور وجہ ڈھونڈی تھی۔
کیونکہ صبح جب وہ سویا ہوا تھا۔ دل اپنے گھر والوں کے ساتھ چلی گئی تھی۔
” تم کیسی ٹیپیکل مردوں والی بات کررہے ہو۔ بے وقت تم سوئے ہوئے تھے۔ اگر وہ تمہیں جگا کر جانے کی اجازت لیتی تو تم نے الگ ہی بھڑک جاناتھا۔ میں نے ہی کہا تھا اُسے چلے جانے کو۔ اور تم جانتے ہو اُس کے گھر والوں کے سامنے ہمیں کتنی شرمندگی اُٹھانی پڑی۔ تمہارے وہاں نہ آنے کی وجہ سے۔“
منزہ کو صبح والی بات ایک بار پھر غصہ دلا گئی تھی۔
” اب تم صرف میرا ٹائم ویسٹ کررہی ہو۔ اِس وقت میری بہت امپوٹنٹ میٹنگ چل رہی ہے۔ میں۔کسی صورت نہیں جاسکتا۔ تم ڈرائیور کو بھیج دینا لے آئے گا اُسے۔“
زورین اُس کی مزید کچھ بھی سنے بغیر کال کاٹ گیا تھا۔
اُسے زہر سے بھی بُرے لگتے تھے دل کے گھر والے۔ وہاں قدم نہ رکھنے کی وجہ سے ہی تو اُس نے ہال میں نکاح کا فنکشن ارینج کروایا تھا۔ پھر اب وہ بھلا کیسے چلا جاتا وہاں۔
★★★★★★★★
بھرپور نیند لے کر اُس نے انگڑائی لیتے آنکھیں کھولی تھیں۔ وہ خوش تھی ، اُس نے نکاح ہوتے ہی ابتہاج لغاری کی ایک بات تو رد کر ہی دی تھی۔ رخصتی نہ کروا کر۔ اب وہ آگے بھی مزید ایسا سب کرنے کا ارادہ ہی رکھتی تھی۔
تکیے کے سہارے اُٹھ کر بیٹھتے اُس کی نظر سامنے لگے سیاہ پردوں کو دیکھا تھا۔ اُسے بلیک کلر پسند تھا مگر اتنا بھی نہیں کہ روم میں بھی ہر جگہ یہی یوز کرتی۔ نکاح میں بھی سیاہ رنگ صرف ابتہاج لغاری سے نکاح کے سوگ میں پہنا تھا۔
پردے سے نظریں ہٹاتے اُس نے اردگرد کا جائزہ لیا تھا۔ یہ اُس کا روم نہیں تھا۔ سُلین کا سر چکرا گیا تھا۔
اُس نے بے اختیار اپنے حلیے پر نظر دوڑائی تھی۔ باقی سب تو ٹھیک تھا مگر سوتے وقت اپنے گرد لپیٹا دوپٹہ اِس وقت تکیے کے ساتھ پڑا تھا۔ اور بالوں سے کیچر نکال کر سائیڈ ٹیبل پر رکھا گیا تھا۔ بظاہر اُس کے آرام کا مکمل خیال رکھا گیا تھا۔ مگر سُلین کو یہ بات آگ لگا گئی تھی۔ ابتہاج لغاری واقعی ایک انتہا کا ضدی اور خود سر شخص تھا۔ اپنی منوا کر ہی رہا تھا۔
وہ ابھی اِسی غم و غصے کا شکار تھی۔ جب سائیڈ ٹیبل پر پڑا اپنا موبائل بجتا دیکھ پہلے تو وہ حیران ہوئی تھی۔ مطلب اُس کی ہر چیز پہلے سے ہی یہاں پہنچا دی گئی تھی۔
“میم آپ اُٹھ گئیں۔ طبیعت کیسی ہے اب آپ کی؟“
صبا کی آواز میں پوشیدہ شوخ پن اُسے مزید تپا گیا تھا۔
“میں اِس وقت کہاں ہو؟“
سُلین کو خود بھی یہ بات پوچھتے عجیب لگ رہا تھا۔ مگر آگے سے سُلین کو جو بات صبا نے بتائی تھی۔ اُس کا چہرا شرم و حجالت سے تپ اُٹھا تھا۔ وہ انسان اُس کی سوچ سے بھی کہیں زیادہ بے باک اور شاطر تھا۔ جس کے لیے کبھی بھی کچھ بھی کر جانا مشکل نہیں تھا۔
وہ سائیڈ پر رکھے دوپٹے اور کیچر کو دیکھ کر ہی شرم و غصے سے لال ہورہی تھی کہ ابتہاج نے اُسے چھوا تھا۔ وہ ایک بار پھر اُس کے قریب آیا تھا۔ لیکن اب تو وہ ایسا کرنے کا حق رکھتا تھا۔ وہ اُس کی بیوی بن کر اُس کے گھر میں آچکی تھی۔ اُس ہٹ دھرم انسان کو بھلا وہ کیسے روک سکتی تھی۔ سُلین کی دھڑکنوں کی رفتار تیز ہوئی تھی۔
اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔ نکاح والا فیصلہ ٹھیک تھا یا غلط۔ اپنے بابا کے دشمن کے ساتھ یہ رشتہ جوڑ کر کہیں اُس نے اپنی زندگی برباد تو نہیں کردی تھی۔
اِنہی باتوں میں اُلجھے اُس کا دل چاہا تھا۔ اِس خوبصورتی سے سجے کمرے کا حشر بگاڑ دے۔ کمبل اپنے اُوپر سے ہٹاکر دوپٹہ اُٹھاتی وہ باہر نکل آئی تھی۔
★★★★★★★
”تو اپنے شوہر کے میں بھی یہی اوقات ہے تمہاری۔ ظاہر سی بات ہے، دولت سے کھیلنے والے اُس رئیس زادے کی نظر میں تمہاری اہمیت کسی نوکرانی سے زیادہ تو ہوگی نہیں۔“
رقیہ بیگم کے زہر میں ڈوبے الفاظ دل کو بُری طرح چھلنی کر گئے تھے۔ اُس نے نکاح کے بعد زورین کا اتنا اچھا سلوک دیکھ جو سپنے دیکھنے شروع کیے تھے۔ وہ ایک ایک کر کے ٹوٹتے اُسے لہولہان کر رہے تھے۔ مگر وہ اِس میں بھی سارا قصور اپنا ہی مان رہی تھی۔ جب اُس کو پتا تھا کہ وہ کتنی بدنصیب ہے تو پھر کیا سوچ کر اُس نے زورین شاہ سے کوئی اُمیدیں وابستہ کر لی تھیں۔
صبح بھی صرف اُس کا گھر دیکھنے اور باقی کی سن گن لینے اُس کی خالہ اور ممانیاں اُسے لینے گئی تھیں۔ منزہ کو یہی لگا تھا کہ وہ سب دل کی محبت میں کھینچی چلی آئی ہیں۔ اُس وقت بھی زورین اُوپر سویا رہا تھا۔ اُن سے نہیں ملا تھا۔ اور اب بھی منزہ اُسے زورین کا انکار بتا چکی تھی۔ مگر دل کو سمجھ نہیں آرہی تھی، وہ کیسے بتائے سب کو یہ بات۔ یہاں تو پہلے ہی اُس کی عزت کی دھجیاں اُڑائی جارہی تھیں۔
آنکھوں میں اُترتی نمی پیچھے دھکیلتے وہ مزید اُن کی جلی کٹی باتیں سننے کا حوصلہ نہ رکھ پاتے وہاں سے اُٹھ گئی تھی۔
” پھوپھو، ماما۔ بابا کہہ رہے ہیں۔ جلدی سب سیٹ کریں زورین شاہ باہر آچکے ہیں۔ وہ کسی بھی لمحے یہاں ڈرائنگ روم میں داخل ہوسکتے ہیں۔“
صوفیہ ہڑبڑاہٹ کا شکار بہت مشکل سے اپنی بات کمپلیٹ کر پائی تھی۔ جبکہ اُس کی بات پر وہاں موجود تمام خواتین کے رنگ اُڑ گئے تھے۔ اُنہیں ایک پرسنٹ بھی یقین نہیں تھا کہ زورین شاہ یہاں آئے گا۔ وہ اُونچی ناک رکھنے والا رئیس زادہ صرف دل کی خاطر یہاں تک آگیا تھا۔
یہ بات اُن سب کو جلا کر خاکستار کرنے کے لیے کافی تھی۔ ڈرائنگ روم کا حلیہ جو کہ اُن سب کے اودھم مچانے سے اچھا خاصہ بگڑا ہوا تھا۔ کچھ ہی سیکنڈز میں سب کچھ سیٹ کردیا گیا تھا۔
اندر داخل ہوتے زورین شاہ کی چارمنگ پرسنیلٹی اور چہرے کے مغرور وجیہہ نقوش دیکھ رقیہ بیگم دل کی اتنے اچھے نصیب پر ایک بار پھر پچھتا کر رہ گئی تھیں۔ زورین کی پہنی ایک ایک چیز انتہائی بیش قیمت تھی۔ جس لڑکی کی زندگی وہ برباد کرنا چاہتی تھیں۔ وہ اب عیش کرنے والی تھی۔
مگر اتنی آسانی سے یہ سب ہونے دینا اُنہیں منظور نہیں تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔