Teri Chah Mein By Farwa Khalid Readelle50119 Episode 35
No Download Link
Rate this Novel
Episode 35
”قاسم ٹھیک سے چیک کرو۔ یہ فائلز کیوں نہیں چل رہیں۔ کہیں وہ لڑکی ہم سے کوئی گیم تو نہیں کھیل گئی۔“
گلشن آرا قاسم کو لیپ ٹاپ کے ساتھ اُلجھتے دیکھ غصے سے بولی تھیں۔
” یہ فائلز رن ہونا تو دور کی بات میرا لیپ ٹاپ ہی ہینگ ہورہا ہے۔ میری سب امپورٹنٹ فائلز اِسی لیپ ٹاپ میں ہیں۔ وہ بھی اوپن نہیں ہورہیں۔ اگر اُس لڑکی نے ہمارے ساتھ گیم کھیلا ہے تو میں اُسے چھوڑوں گا نہیں۔ ابتہاج سے بھی پہلے اُسے ختم ہونا ہوگا۔“
قاسم اپنا سارا ڈیٹا تباہ ہوتے دیکھ اپنے بال نوچنے کو آگیا تھا۔ پتا نہیں سُلین نے فائلز میں کونسا وائرس ڈال کر بھیجا تھا۔ کہ قاسم کے ٹرانسفر کرنے سے پہلے ہے۔ اُس کی ساری فائلز ضائع ہو گئی تھیں۔
“میم آپ کہاں ہیں اِس وقت مجھے بہت ارجنٹ ملنا ہے آپ سے۔“
قاسم سُلین کو کال کرکے اُس کی لوکیشن پتا کر چکا تھا۔ اگر سُلین نے اُسے دھوکا دیا تھا تو اب وہ اُسے کسی قیمت پر چھوڑنے والا نہیں تھا۔
★★★★★★★★
“سویرا تم۔۔۔۔ تم ٹھیک ہو۔ اتنا بڑا قدم اُٹھا لیا تم نے اور مجھے بتانا تک ضروری نہیں سمجھا۔ ایسا کونسا شاہکار مل گیا تھا تمہیں جس کے لیے تم نے گھر سے بھاگنے کا کارنامہ سرانجام دے دیا۔“
دل سویرا سے ملنے کے بعد اُس کی کلاس لگاتے بولی تھی۔
سویرا جو کچھ دیر پہلے کافی اُداس تھی۔ دل کو اب اپنے سامنے دیکھ وہ بھی مسکرا دی تھی۔
“تم جانتی ہو اُس کے بارے میں۔ میری بچپن کی محبت۔“
سویرا نے آنکھیں مٹکاتے جواب دیا تھا۔
“ایک منٹ کیا جو انسان میرے دماغ میں آرہا ہے۔ تم اُسی کی بات کررہی ہو۔ آصف کے ساتھ بھاگ کے آئی تم۔“
دل کا حیرت کے مارے منہ کھل گیا تھا۔
آصف انٹر تک اُن لوگوں کا کلاس فیلو رہا تھا۔ سویرا اور آصف کی شروع دن سے بہت دوستی تھی۔ یہ دوسری محبت میں کیسے بدلی وہ خود بھی نہیں جانتے تھے۔ مگر پھر اچانک نجانے کیا ہوا کہ آصف ایک دم سے غائب ہوگیا۔ اُس کا کہیں کچھ آتا پتا نہیں تھا۔ سویرا اُس کے لیے مہینوں روتی رہی۔ اتنے سال گزر جانے کے باوجود وہ اُسے بھلا نہیں پائی تھی۔ یہ اُس کے سچے جذبوں کا ہی نتیجہ تھا۔ کہ آج اُس کا نکاح اُسی انسان سے ہورہا تھا۔
”مگر آصف تمہیں ملا کہاں۔ اور یہ سب پاسبل کیسے ہوا۔“
دل کو حیرانی ملاحظہ کرتے سویرا مسکرا دی تھی۔
“جب مجھے پتا چلا بابا میری شادی مجھ سے بھی ڈبل عمر کے شخص سے کررہے ہیں۔ تو میں نے اُن کو ایسا ظلم کرنے سے روکنے کی بہت کوشش کی۔ پھوپھو کے آگے گڑگڑائی مگر کسی نے میری کوئی بات نہیں سنی۔ میں تو مایوس ہوکر اِس بے جوڑ شادی پر رضامند ہوگئی تھی۔ جب ایک دن میں نے شاپنگ مال کے باہر زورین بھائی کو آصف کے ساتھ کھڑے دیکھا۔ میں بتا نہیں سکتی آصف کو دیکھ میں کس قدر خوش تھی۔
میں خود پر ہوتے اِس ظلم کو روک سکتی تھی۔ تب میں نے زورین بھائی کو کال کی اور ساری حقیقت اُنہیں بتاتے اُن سے مدد مانگی۔ مجھے یقین نہیں آیا زورین بھائی جو ظاہری طور پر اتنے سخت اور اکڑو بنے رہتے ہیں۔ وہ اتنی آسانی سے میری مدد کے لیے مان جائیں گے۔ وہ آصف کو جانتے تھے۔ اُس کے بعد اُنہی کی مدد سے میں یہاں تک پہنچی ہوں۔
زورین بھائی نے مجھے پھوپھو اور بابا کی ساری حقیقت بتا دی ہے مجھے یقین نہیں آرہا کوئی اِس حد تک کیسے گر سکو ہے۔ اپنی ہی بہن کو زندگی برباد کردی۔ خیر جس شخص نے اپنی سگی بیٹی کا سودا کر ڈالا۔ اُس کے لیے بہن بیٹی کی کیا اہمیت۔“
سویرا کی آنکھیں بھرا گئی تھیں۔
“اچھا بس اب چھوڑوں اِن سب باتوں کو۔ اب رونا مت۔ پہلے ہی سارا کاجل بہہ گیا ہے۔ ایسے نہ ہو آصف اپنی دلہن کی شکل دیکھ ایک بار پھر غائب ہوجائے۔“
دل ماحول پر چھائی اُداسی ختم کرنے کے لیے مسکراتے ہوئے بولی تھی۔ اُس کی بیسٹ فرینڈ کا نکاح تھا۔ اب مزید رونا دھونا نہیں چاہتی تھی وہ۔
“بی بی جی آپ کو زورین سر بلا رہے ہیں۔“
ملازمہ نے اندر آتے زورین کا پیغام دیا تھا۔
”جاؤ بھی زورین بھائی کے پاس تمہارے لیے ورلڈ کا سب سے بیسٹ سرپرائز ہے۔ جاؤ تو سہی.“
سویرا دل کو اُٹھتا نہ دیکھ جلدی سے بولی تھی۔ دل جانا نہیں چاہتی تھی۔ مگر سویرا کی ضد پر ناچار اُسے اُٹھنا پڑا تھا۔
ملازمہ کے بتائے گئے روم میں داخل ہوتے اُس نے خاموش نظروں سے اندر کا منظر دیکھا تھا۔ وہیل چیئر پر ایک درمیانی عمر کا شخص موجود تھا۔ جس کے ساتھ ہی صوفے پر اُسی عمر کی عورت بیٹھی تھی۔ جسے دیکھتے دل کی آنکھوں میں ہلکی سی شناسائی کی رمق اُبھری تھی۔
”آپ لوگ کون۔۔۔۔ آپ ۔۔۔۔ آپ بالکل میری طرح۔۔۔۔“
دل سے کوئی بھی جملہ پورا نہیں ہوپارہا تھا۔ الفاظ اُس کی زبان تک آکر دم توڑ رہے تھے۔
شہلا بیگم کی تصویر وہ اپنی نانو کے پاس دیکھ چکی تھی۔ مگر آج اتنے سالوں بعد وہ دل سے اُٹھتی سداؤں کے باوجود اِس بات پر یقین نہیں کر پارہی تھی کہ اُس کی ماں اُس کے سامنے موجود ہے۔
ذکریا منزل والوں کے طعنوں کی وجہ سے وہ جن لوگوں سے نفرت کرتی آئی تھی۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی یہ حقیقت اُس کے سامنے آئی تھی۔ کہ وہ دونوں تو بے قصور تھے۔ اُس کی ماں نے اُسے لاوارثوں کی طرح ذکریا منزل کے آگے نہیں پھینکا تھا۔ بلکہ اُسے اُس کی ماں سے چھینا گیا تھا۔
“ماما ۔۔۔۔۔“
دل کے منہ سے اِس لفظ کے ساتھ ایک سسکاری نکلی تھی۔
شہلا بیگم نے اُس کے قریب آتے اُس کی جانب اپنی بانہیں واں کردی تھیں۔ دل چھوٹے بچے کی طرح دوڑ کر اُن کی بانہوں میں جا سمائی تھی۔ اتنے سالوں میں پہلی بار اُسے اپنی ماں کا لمس محسوس ہوا تھا۔ ماں کی آغوش کی گرمی کیسی ہوتی ہے۔ یہ آج پتا لگا تھا اُسے۔
شہلا بیگم اُسے خود میں بھینچتی اُس کا چہرا والہانہ انداز میں چومنے لگی تھیں۔ اُن کی تڑپتی ممتا کو جیسے قرار مل گیا تھا۔
” پاپا۔۔۔۔“
دل نے شہلا بیگم سے مل کر پیچھے بیٹھے ہمایوں شاہ کی جانب اشارہ کیا تھا۔ جس کے جواب میں شہلا بیگم بھیگے چہرے کے ساتھ اثبات میں سر ہلاتیں مسکرا دی تھیں۔
دل ایک لمحہ ضائع کیے بنا اُن کے سینے سے جا لگی تھی۔ ہمایوں شاہ اُسے اپنے حصار میں قید کرتے اُس کا ماتھا چومنے لگے تھے۔
کچھ فاصلے پر صوفے پر بیٹھا زورین اِس خوبصورت ملن پر مسکرا دیا تھا۔ اُس نے خود سے کیا وعدہ پورا کر دیکھایا تھا۔ دل کے چہرے پر سچی خوشی دیکھ وہ آج بہت خوش تھا۔ دل کی ابھی تک اُس پر نظر نہیں پڑی تھی۔
★★★★★★★★
“یہ آپ مجھے کہاں لے کر آئے ہیں۔“
سُلین ابتہاج کو سیاہ رنگ کے بنگلے کے اندر گاڑی لے جاتے دیکھ حیرت سے بولی تھی۔
”تمہارے بابا کے پاس۔“
ابتہاج دوٹوک جواب دیتا گاڑی سے نکل آیا تھا۔ جبکہ اُس کی بات سن کر سُلین کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہا تھا۔
وہ جلدی سے گاڑی سے نکل کر ابتہاج کے مقابل آئی تھی۔ اُسے یقین نہیں آرہا تھا۔ ابتہاج اتنی آسانی سے اُسے بابا سے ملوا دے گا۔
ابتہاج کے پیچھے ہال عبور کرکے وہ ایک روم میں داخل ہوئے تھے۔ جہاں بیڈ پر لیٹے حبیب صاحب کو دیکھ سُلین بھاگ کر اُن کے قریب آئی تھی۔
اُن کے سینے پر سر رکھتے اُس نے ایسا رونا شروع کیا تھا۔ کہ کافی دیر تک ہونٹ بھینچ کر کچھ فاصلے پر کھڑے ہوکر خود پر پر کنٹرول نہیں رکھ پایا تھا۔ اور آگے بڑھ کر سُلین کو سیدھا کیا تھا۔
”یہاں میں تمہیں رونے کے لیے نہیں لایا۔ اُن کی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں ہے۔“
اُس نے سُلین کو سخت نظروں سے گھورتے وارن کیا تھا۔ جس پر سُلین نے جواباً ڈبل گھوری سے نوازا تھا۔ اب اُس کے بابا اُس کے پاس تھے۔ اُسے اِس شخص سے کوئی ڈر نہیں تھا۔
“مجھ پر مزید دھونس جمانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ جاسکتے ہیں یہاں سے۔ ورنہ پولیس کو بلوا کر اریسٹ کروا دوں گی۔ اب میرے بابا کی گواہی بھی میرے پاس ہے۔“
سُلین ایک نڈر ہوئی تھی۔ ابتہاج اُسے ایسے گھور رہا تھا۔ جیسے آنکھوں سے ہی نگل جائے گا۔ پہلے ہی گھر میں اُسے سُلین کا نیہا کی طرفداری کرنا سخت ناگوار گزرا تھا۔
“سُلین یہ کیا طریقہ ہے اپنے شوہر سے بات کرنے کا. کیا میں نے یہی تربیت کی ہے آپ کو۔“
حبیب صاحب ابتہاج کے سنجیدہ تاثرات دیکھ سُلین کی بدتمیزی پر اُسے جھڑکنے لگے تھے۔
“بابا آپ اِس شخص کی وجہ سے مجھے ڈانٹ رہے ہیں۔“
سلین نے اچنبھے سے اُن کی جانب دیکھا تھا۔
اُسی وقت ابتہاج کے فون پر کسی کی کال آئی تھی۔ جسے سنتے اُس کے تاثرات مزید پتھریلے ہوئے تھے۔ سُلین پر غضبناکی بھری نظر ڈالتا وہ انتہائی تیز قدموں سے باہر کی جانب بھاگا تھا۔
سُلین اُس کے خطرناک تیوروں سے سہی معنوں میں سہم سی گئی تھی۔
“بابا ابتہاج ۔۔۔۔۔“
سُلین نے اُنہیں ابتہاج کے بارے میں بتانے کے لیے مناسب الفاظ ڈھونڈنے چاہے تھے۔
“ابتہاج ایک بہت اچھا انسان ہے۔ میرے کوما سے باہر آتے ہی تاک میں بیٹھے میرے دشمنوں نے مجھ پر حملہ کردیا تھا۔ ابتہاج اُنہیں سے بچا کر مجھے یہاں لایا ہے۔“
حبیب صاحب کے منہ سے یہ انکشاف سنتے سُلین ساکت نظروں سے اُنہیں دیکھے گئی تھی۔
”بابا آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔۔۔ابتہاج نے آپ کو کڈنیپ کیا تھا۔“
سُلین نے اُنہیں حقیقت سے آگاہ کرنا چاہا تھا۔ اُس کی نا سمجھی پر حبیب صاحب دھیمے سے مسکرا دیئے تھے۔
”میری گڑیا آپ بہت سی باتوں سے لاعلم ہیں۔ جن کا اب آپ کے سامنے آجانا ہی بہتر ہے۔ میں سب بتاتا ہوں۔“
حبیب صاحب تکیے کے سہارے سیدھے ہوکر بیٹھتے سُلین کا ہاتھ تھامے اُس ابتہاج کی ماں کے قتل اور اُس کے خاندان کی ہر حقیقت سے آگاہ کرتے چلے گئیے تھے۔ سُلین شاک کی کیفیت میں بیٹھی سب سن رہی تھی۔
اُس نے ابتہاج کو کس قدر غلط سمجھا تھا۔ جبکہ حقیقت میں وہ کیا نکلا تھا۔ اور قاسم جس پر وہ اب تک بھروسہ کرتی آئی تھی۔ اُس نے کتنا بڑا دھوکا دیا تھا اُسے۔ ابتہاج نے کتنا روکا تھا اُسے قاسم سے رابطہ رکھنے سے۔ مگر اُس نے ابتہاج کو اپنا سب سے بڑا دشمن مانتے اُس کی ایک بھی نہیں سنی تھی۔
اُس کے بابا پر حملہ کرنے والا ابتہاج نہیں قاسم تھا۔
حبیب صاحب نے سُلین کو اُس کے حقیقی ماں باپ کے بارے میں بھی سب کچھ بتا دیا تھا۔
سُلین اتنے انکشافات پر بکھر سی گئی تھی۔
”بابا میں نے ابتہاج کو بہت ہرٹ کیا ہے۔ اُنہیں میری ضرورت تھی۔ مگر میں نے بھی اُن کے گھر والوں کی طرح اُنہیں صرف دُکھ ہی دیا۔“
سب باتوں میں سُلین کو زیادہ تکلیف اِسی گلٹ نے دے رکھی تھی۔
مگر ابھی بھی اُس کے پاس موقع تھا سب ٹھیک کرنے کا۔
جلدی سے قاسم کو میسج سینڈ کرتی وہ حبیب صاحب کو تھوڑی دیر میں آنے کا کہتی عجلت میں باہر کی جانب بڑھ گئی تھی۔
اُسی وقت اُسے قاسم کا جوابی میسیج موصول ہوا تھا۔ وہ اِس گھر کے بیسمنٹ میں موجود تھا۔ سُلین کے قدم تیزی سے نیچے جاتی سیڑھیوں کی جانب بڑھے تھے۔
★★★★★★★★★
”تمہاری ہمت بِھی کیسے ہوئی یہاں قدم رکھنے کی۔ میری بیوی کو بلیک میل کرکے تم جو کھیل کھیل رہے ہو۔ میں اُس سب سے آگاہ ہوں۔ مگر آج وہ سب ختم کردوں گا۔ “
ابتہاج کے آدمی قاسم کو اِس بنگلے میں داخل ہوتے دیکھ پکڑ چکے تھے۔ جس کے بعد ابتہاج اب اُس کی چمڑی اُدھیڑنے کے در پہ تھا۔ قاسم کے مطابق اُسے یہاں کا ایڈریس سُلین نے دیا تھا۔ جو بات ابتہاج کا دماغ مزید خراب کر گئی تھی۔
پچھلے دنوں سُلین اُس کے ساتھ جو بھی کرتی رہی تھی۔ وہ سب باتوں سے آگاہ تھا۔ سُلین اُس کے آگے اپنا اعتبار کھو چکی تھی۔
“تمہاری بیوی نے تمہارے خلاف کیے جانے والے ہر پلان میں میرا ساتھ دیا ہے۔ بولو کیا اُس کا بِھی یہی حال کرو گے مسٹر ابتہاج لغاری۔ میری باتوں پر اُس اتنی آسانی سے یقین نہیں کرو گے نا تم۔ تو آج لائیو سب کچھ دیکھا اور سنوا دیتا ہوں میں تمہیں تمہاری بیوی کا اصلی رُوپ۔“
قاسم کی بات کے جواب میں ابتہاج نے اُس کے منہ پر مکا رسید کرنا چاہا تھا۔ مگر قاسم نے موبائل سکرین پر جگمگاتا سُلین کا میسج اُس کے سامنے کیا تھا۔ ابتہاج کا ہاتھ اپنی جگہ ساکت ہوا تھا۔
” پڑھ لو تمہاری بیوی تمہارا کوئی اور راز کھولنا چاہتی ہے میرے آگے۔ تم بھی سنو گے۔“
ابتہاج کی خون آشام آنکھوں میں جھانکتے قاسم نے اُس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا۔ ابتہاج اِس گیم پلان کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا۔ مگر بے قرار تڑپتے بلکتے دل کی سدا پر وہ وہاں موجود بڑے سے پلر کے پیچھے جا کھڑا ہوا تھا۔
اُس کا دل کہتا تھا۔ اُس کی سُلین اتنی غلط نہیں ہوسکتی تھی۔ جتنا قاسم اُسے بنا رہا تھا۔ چاہے باقی ہر کام کرتی مگر وہ اُسے زہر نہیں دے سکتی تھی۔
آصف کے تھرو اُسے شروع دن سے ہی کافی میں زہر ملانے والی بات کا علم تھا۔ یہ بات جانتے ہوئے بھی وہ بنا ایک سوال بھی کیے سُلین کی جانب سے بڑھائی کافی پی جاتا تھا۔ کیونکہ اُسے سُلین پر پورا ٹرسٹ تھا۔ اُس نے سُلین کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھی تھی۔
وہ جانتا تھا چاہے کچھ بھی ہوجائے سُلین اُسے نقصان نہیں پہنچائے گی۔
وہ اِنہی سوچوں میں گھرا دروازے پر نگاہ رکھے ہوئے تھا۔ جب اُسے سُلین دروازے سے اندر داخل ہوتی دیکھائی دی تھی۔
”میم آپ نے یہ کیسا ڈیٹا سینڈ کیا میرا پورا لیپ ٹاپ ہی۔۔۔۔۔“
قاسم کی بات ابھی پوری ہی نہیں ہوئی تھی۔ جب سُلین کے ہاتھ سے پڑنے والا زناٹے دار تھپڑ اُس کا رخ موڑ گیا تھا۔
وہ ہکا بکا منہ پر ہاتھ رکھے سُلین کی یہ جسارت دیکھ رہا تھا۔ اُس نے ابھی اپنا اصل گیم شروع کرنا تھا۔ مگر سُلین تو پہلے سے کی کافی بھری ہوئی لگ رہی تھی۔
“تم اتنے گھٹیا انسان نکلو گے مجھے اندازہ نہیں تھا۔ میں نے تم پر آنکھیں بند کرکے ٹرسٹ کیا اور تم نے مجھے کٹپتلی کی طرح اپنے ہر پلان میں استمال کیا۔ میرے ہاتھوں، میرے شوہر کے کھانے میں زہر ملوائی تم نے۔ مجھ سے اُسے بے ہوش کروا کر اُس کا سارا ڈیٹا حاصل کیا۔ تمہیں کیا لگا یہ سب کرکے تم کامیاب ہوگئے۔ ابتہاج لغاری سے جیت گئے تم۔“
سُلین کے منہ سے اِن سب باتوں کا اقرار سن کر ابتہاج کا دل چکنا چور ہوا تھا۔ اُسے زہر دی گئی تھی۔ اِس بات کی قطعاً پرواہ نہیں تھی اُسے۔ اُس کی بدقسمتی تو یہی تھی کہ جس لڑکی کو اُس نے زندگی مانا تھا۔ سب سے زیادہ بھروسہ کیا تھا۔ اُسی نے ہی اُس کی زندگی کی ڈور کاٹ دی تھی۔
ابتہاج ہارے ہوئے قدم اُٹھاتا سُلین کے پیچھے جا کھڑا ہوا تھا۔
”ٹھیک ہی تو لگا تھا اُسے۔ ہرا تو دیا ہے اُس نے مجھے۔ اِس سے بڑی اور کیا ہار ہوسکتی۔ کہ میری زندگی ہی مجھے موت کے گھاٹ اُتار دے۔“
ابتہاج کی گھمبیر آواز پر سُلین جھٹکے سے پلٹی تھی۔
قاسم اپنا تیر ایک دم نشانے پر لگتا دیکھ بہت خوش ہوا تھا۔ جو باتیں وہ سُلین کے منہ سے ابتہاج کو سنانا چاہتا تھا۔ سُلین وہ خود ہی بول گئی تھی۔ ابتہاج کی آنکھوں میں چھائی وحشت دیکھ وہ اپنی جیت کو بہت قریب محسوس کرنے لگا تھا۔ وہ ابتہاج کو ایسے ہی کمزور اور بے بس کرکے ختم کرنا چاہتا تھا۔ وہ سب ہورہا تھا اور اِس کی زمہ دار تھی ابتہاج کی چہیتی بیوی سُلین۔
“ابتہاج آپ۔۔۔۔“
سُلین نے آگے بڑھ کر ابتہاج کا بازو پکڑنا چاہا تھا۔ مگر ابتہاج نے سختی سے اُس کا ہاتھ دور جھٹک دیا تھا۔ سُلین اُس کے اِس جارحانہ عمل پر بے یقینی سے اُسے دیکھے گئی تھی۔
ابتہاج کا چہرا صاف بتا رہا تھا۔ وہ اُس کی آدھی بات سن کر غلط مطلب اخذ کر چکا ہے۔ سُلین کا دل اُس کے سنگین تیوروں ست گھبرا کر لرز اُٹھا تھا۔
” ابتہاج ایسا کچھ نہیں ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں۔ اِس گھٹیا شخص نے آپ کو مجھ سے بدگمان کرنے کے لیے یہ ساری چال چلی ہے۔ میں نے ابھی جو کہاں ہے وہ سچ نہیں ہے۔“
سُلین ابتہاج کے دھتکارنے کے باوجود اُس کے قریب آئی تھی۔
”تمہیں مزید کوئی بھی جھوٹ بولنے یا صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہے۔میں یہ سب پہلے سے جانتا تھا۔ ہاں بس فرق اتنا پڑا ہے کہ پہلے یہ دل یقین کرنے سے انکاری تھا۔ کہ میری سُلین دھوکے باز ہوسکتی۔ مگر اب تمہارے منہ سے اقرار سن کر زندگی کی واحد خوش فہمی بھی دور ہوگئی۔ میری لائف میں اب ایسا کوئی انسان نہیں بچا جس پر میں اعتبار کرسکوں۔ یا جس کی خاطر زندگی گزارنا چاہوں۔
اُس انسان کو دیکھ رہی ہو۔ آصف نام ہے اِس کا۔ اِسے تو بہت اچھے سے جانتی ہوگئی۔ آخر کو قاسم نے اِسے تمہیں مجھ سے محفوظ رکھنے کے لیے جو تمہارے آس پاس چھوڑ رکھا تھا۔
یہ قاسم کا نہیں میرا آدمی تھا۔ ایک ساتھ جیل کاٹی ہے ہم نے۔مجھے آصف نے تمہارے اور قاسم کے یر پلان سے آگاہ رکھا۔ اُس دن قاسم نے تمہاری طرف جو نشہ آور دوا بھیجوائی تھی۔ اُس کو آصف نے پہلے ہی بدل دیا تھا۔ میں رات نشے میں نہیں تھا میں نے تمہارا ہر عمل اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اب بھی کہو کیا وہ سب جھوٹ تھا۔ تم نے میرا سارا امپورٹنٹ ڈیٹا قاسم کو سینڈ نہیں کیا۔“
ابتہاج کی لہو رنگ آنکھوں سے سُلین کو خوف آنے لگا تھا۔ اتنے ٹائم بعد آج اُس نے ابتہاج کو پہلی ملاقات والے رُوپ میں دیکھا تھا۔ اُس کی آنکھوں کی وحشت اور ویرانیاں پھر سے جاگ اٹھی تھیں۔
”میری لائف میں دھوکے باز انسان کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ میں تم سے اپنے سارے تعلق ختم کرتا ہوں۔ تمہیں طلاق چاہیئے تھی نا مجھ سے۔ بہت جلد آزاد کردوں گا میں تمہیں۔“
ابتہاج سفاکیت سے اپنا فیصلہ سناتا وہاں سے پلٹا تھا۔ یہ لفظ ادا کرتے اُس کے دل کا کتنی بار خون ہوا تھا۔ یہ وہی جانتا تھا۔ مگر اِس سے زیادہ تکلیف میں اُس نے آج تک خود کو محسوس نہیں کیا تھا۔
یہ اُس کی زندگی کا سب سے بڑا درد تھا۔
ابتہاج کے فیصلے نے سُلین کے جسم سے روح کھینچ لی تھی۔ اُس نے کرب سے آنکھیں میچی تھیں۔ مگر وہ اتنی جلدی ہار نہیں مان سکتی تھی۔
اب محبت کی جنگ لڑنے کی باری اُس کی تھی۔ وہ کسی قسم کی انا یا ضد میں آکر ابتہاج لغاری کو کھونے کا حوصلہ نہیں رکھتی تھی۔
”آپ آخر خود کو سمجھتے کیا ہیں۔ ہر بار وہی ہوگا جو آپ چاہیں گے۔ آپ نے میرے منہ سے آدھی بات سنی۔ اُس کا اپنی مرضی کے مطابق مطلب اخذ کیا اور چل پڑے مجھ سے رشتہ توڑ کر۔ امیزنگ۔
مگر اب ایسا میں نہیں ہونے دوں گی۔ آپ میری پوری بات سنے بغیر یہاں سے جا نہیں سکتے سنا آپ نے۔“
سُلین ابتہاج کے راستے میں آتی اُس کا گریبان دونوں مُٹھیوں میں جکڑتی شیرنی کے جیسے دھاڑتی سب کو اپنی جگہ سن کر گئی تھی۔
ابتہاج کو اپنے کافی قریب کھڑی سُلین کا پورا وجود لرزتا محسوس ہوا تھا۔ مگر وہ اپنی جگہ سٹل کھڑا رہا تھا۔ نہ ہی اُسے سہارا دیا تھا۔ نہ ہی اُسے دور جھٹکا تھا۔
”بہت چلاک بنتے ہو نا تم دیور صاحب۔ آج تک اپنی ماں کے ہاتھوں بے وقوف بنتے آئے ہو۔ اور چلے ہو مجھ سے کھیل کھیلنے۔“
سُلین کا رُخ اب قاسم کی جانب تھا۔ جو ابتہاج کے آدمیوں کے درمیان کھڑا پھٹی پھٹی آنکھوں سے سُلین کا یہ رُوپ دیکھ رہا تھا۔ دھیمے مزاج کی مالک اُس کی باس اتنی جلدی اُس کے جلاد صفت بھائی کی صحبت میں آکر اُسی کا رُوپ دھاڑ لے گی اُسے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔
سُلین نے ایک بار پھر قاسم کے منہ پر تھپڑ جڑا تھا۔ جس نے اُس کے ساتھ ایک بار پھر کھیل کھیلنے کی کوشش کی تھی۔ قاسم کے ساتھ کھڑے آصف نے نا محسوس طریقے سے اپنے گال پر ہاتھ رکھا تھا۔ ابھی تھوڑی دیر میں اُس کا نکاح تھا۔ وہ اب چہرے پر کوئی ڈیزائن بنتا افورڈ نہیں کرسکتا تھا۔
“آپ مجھ پر آپ کا ڈیٹا چوری کرنے کا الزام لگا رہے تھے نا۔ تو دیکھیں یہ سینڈ کیا ہے میں نے اِسے۔“
سُلین نے قاسم کے ہاتھ سے لیپ ٹاپ چھین کر ابتہاج کے سامنے کیا تھا۔ وہ ایک سافٹ وئیر انجینئر تھی۔ اُس نے قاسم کو جو فائل میل کی تھی۔ اُس کے ساتھ ایسا وائرس اٹیچ تھا۔ جس نے نہ قاسم کی ساری فائلز ڈیمیج کردی تھیں۔ بلکہ اُس کے لیپ ٹاپ کا ساری سینسٹو انفارمیشن بھی سُلین نے سافٹ وئیر کے ذریعے ہیک کر لی تھی۔ اُس نے قاسم کی ہر بات پر ہاں صرف اُسکا ٹرسٹ جیتنے کے لیے بولی تھی۔ اُس نے نشہ آور دوا تو دی تھی ابتہاج کو کیونکہ وہ خود بھی ابتہاج کے بارے میں ساری انفارمیشن حاصل کرکے اُسی کی مدد کے لیے استعمال کرنا چاہتی تھی۔
مگر قاسم کی دی گئی سلو پوائزن اُس نے ایک بار بھی ابتہاج کی کافی میں نہیں ملائی تھی۔
اُسے قاسم پر اُسی دن شک ہوگیا تھا۔ جب اُس نے قاسم کو اپنے گھر مدد کے لیے بلایا تھا۔ قاسم کے لہجے کی گڑبڑاہٹ اُسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرگئی تھی۔
اُس کا شک یقین میں اُس وقت بدلہ تھا۔ جب قاسم نے اُس کے بابا پر حملہ کا زمہ دار ابتہاج کو ٹھہرایا تھا۔ کیونکہ کورٹ کے پیپرز کے مطابق اُس وقت ابتہاج جیل میں تھا۔
سُلین نے جتنا ٹائم ابتہاج کے ساتھ گزارا تھا۔ اُس کا دل ایک پرسنٹ بھی یقین کرنے کو تیار نہیں تھا کہ ابتہاج اتنا غلط اور بے رحم انسان ہوسکتا ہے۔ اُس نے ابتہاج کو آج تک جتنی غلط باتیں کہیں تھیں۔ ریزن صرف اُس کا وہ رُوپ اُجاگر کرنا تھا۔ جس کا ذکر قاسم کرتا تھا۔ مگر ابتہاج کا ویسا روپ تھا ہی نہیں تو سامنے کیسے آتا۔ اُس نے ابتہاج سے محبت کی تھی۔ تو اُس پر بھروسہ بھی کیا تھا۔ جو بہت بار ڈگمگایا بھی تھا ۔لیکن آخر میں اُس کے یقین کی جیت تو ہوگئی تھی۔ مگر اِس چکر میں اُس نے ابتہاج کا خود پر سے یقین کھو دیا تھا۔
“کیا اب بھی آپ کو میری ساری باتیں جھوٹ لگ رہی ہیں۔ اب بھی میں آپ کے لیے دھوکے باز ہوں۔ آپ کو یہی لگتا ہے سچے دل سے ہمیشہ آپ ہی محبت کرسکتے ہیں۔ دوسرا کوئی اِس قابل نہیں ہے۔ آپ مجھ سے تعلق توڑنا چاہتے ہیں۔ تو توڑ دیں۔ لیکن اُس کے بعد نہ میں خود زندہ رہوں گی نہ آپ کو رہنے دوں گی۔ پہلے تو زہر نہیں دی۔ مگر اب ضرور دوں گی۔ میں نے ہمیشہ آپ کو اپنی باتوں اور الزاموں سے ہرٹ کیا۔ مگر آپ نے تو ایک پل میں ہی سارا حساب بےباک کردیا۔ “
ابتہاج کی تعلق توڑنے والی بات سلین کے دل پر ابھی بھی کسی نوکیلے خنجر کی طرح کھبی ہوئی تھی۔ جس کا درد کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
اُس کی آنکھوں سے لڑیوں کی طرح بہتے آنسو دیکھ ابتہاج کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا۔
وہ اپنی عزیز از جان ہستی کو ایک بار بھی صفائی کا موقع دیئے بغیر سزا کیسے سنا گیا تھا۔ سُلین کے معاملے میں اُس کا دل سخت کیسے ہوگیا تھا۔
“اور تم قاسم لغاری بہت عقلمند یہاں ڈان بنے پھرتے ہو۔ یہ بات جانتے بھی ہو۔ کہ تمہاری ماں صرف ابتہاج کو مروانے کے لیے تمہیں ایک کٹپتلی کی طرح استعمال کررہی ہے۔“
سُلین نے قاسم کی جانب پلٹتے اُسے وہ حقیقت بتانی چاہی تھی۔ جس کے بارے میں بیسمنٹ کی جانب آتے نیہا نے کال پر اُسے آگاہ کیا تھا۔
”میری ماں کے بارے میں ایک لفظ بھی مت بولنا۔ ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔ میری ماں ابتہاج سے صرف میرے پاپا کے قتل کا بدلہ لینا چاہتی ہیں۔“
قاسم اپنی ماں کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں سن پایا تھا۔
”اچھا تو یہ بات جانتے ہو۔ ابتہاج نے تمہارے فادر کو کیوں مارا۔“
سُلین کیا کرنا چاہ رہی تھی۔ ابتہاج خود بھی سمجھ نہیں پارہا تھا۔
”نہیں جانتے تم۔ “
سُلین اُس کے ایک دم بلینک ہوجانے پر استہزایہ ہنسی تھی۔
“تمہارے ماں باپ نے مل کر ابتہاج کی ماں کا نہایت بے دردی سے قتل کیا تھا۔ وہ بھی صرف اِس لیے کہ وہ اُن کے گھناؤنے دھندوں کے بارے میں جان چکی تھیں۔ تمہاری ماں کے غیر مردوں سے ناجائز تعلقات تھے۔ جس کے بارے میں ابتہاج کو پتا چل چکا تھا۔ ابتہاج نے جب اُنہیں اِس سے باز رہنے کو کہا۔ تو صرف اُسے آپ دونوں کی نظروں میں گرانے کے لیے اُنہوں نے نیہا کو بلیک میل کرکے اپنے مقصد میں استعمال کیا۔ جس کے بعد سے تم ابتہاج سے نفرت کرنے میں اُس قدر اندھے ہوگئے کہ ٹھیک غلط کی پہچان بھول گئے۔ اگر میری بات پر یقین نہیں ہے تو نیہا کو کال کرکے سب کچھ پوچھ سکتے ہو۔ اور زرا ایک نظر اُن گھٹیا کاموں کی جانب بھی دوڑانا جو تمہارے پیٹھ پیچھے تمہاری ماں کررہی ہے۔
جو الزام تم نے ابتہاج کے سر ڈالے تھے۔ وہ تو اُس سب کے آگے کچھ نہیں جو اب تک تمہاری ماں کرتی آرہی ہے۔“
سُلین قاسم کو اچھی طرح آئینہ دیکھاتی پلٹی تھی۔ جبکہ یہ سچائی جان کر کے گلشن آرا بھی اُس کی ماں کے قتل میں ملوث ہے۔ ابتہاج کے دماغ کی نسیں غصے کی کیفیت میں اُبھر آئی تھیں۔
“ہمارے درمیان تعلق تو ختم نہیں ہوگا۔ مگر اب ہم ساتھ بھی نہیں رہیں گے۔ مجھے آپ جیسے خود پسند انسان کے ساتھ ایک پل بھی نہیں رہنا۔ نہ ہی شکل دیکھنی ہے آپ کی۔“
سُلین اِس وقت ابتہاج پر بہت غصہ تھی۔ اُس کا بس نہیں چل رہا تھا۔ اِس شخص کی یہ وجیہہ صورت بگاڑ کے رکھ دے۔
وہ اُسے اُنگلی اُٹھا کر اُس کی سزا سنائی تھی۔ اور اُسی تیزی سے وہاں سے نکل گئی تھی۔
”بھائی۔۔۔۔“
ابتہاج قاسم پر ایک سرد نگاہ ڈالتا وہاں سے نکلنے والا تھا۔ جب قاسم کی پکار اُس کے قدم وہیں جکڑ گئے تھے۔
اتنے سالوں بعد آج وہ یہ لفظ سن رہا تھا۔ اُس نے قاسم کو سگے بھائیوں سے بڑھ کر پیار دیا تھا۔ مگر قاسم نے اُس کی قدر نہیں کی تھی۔
قاسم اُس کے آدمیوں سے ہاتھ چھڑواتا ابتہاج کے قدموں میں آن گرا تھا۔
★★★★★★★★
سُلین کے لیے آپ کا دن انکشافات سے بھرا ہوا تھا۔ وہ ابھی پچھلے شاک سے نہیں سنبھلی تھی۔ کہ شہلا بیگم اور ہمایوں شاہ کو اپنے حقیقی ماں باپ کے رُوپ میں دیکھ اتنے دکھوں کہ بعد اُس کا دل سکون سے بھر گیا تھا۔
سب سے زیادہ خوشی اُسے یہ جان کر ہوئی تھی۔ کہ اُس کی ایک پیاری سی بہن بھی ہے۔ جو دیکھنے میں معصوم سی لگ رہی تھی۔ مگر اُس گول مٹول آنکھیں بتا رہی تھیں کہ وہ اتنی معصوم ہے نہیں۔
“تم جانتی ہو میں الله سے کتنا شکوہ کرتی تھی۔ کہ میری فرینڈز کی طرح میرے پاس بہن کیوں نہیں ہے۔ جس سے میں اپنا ہر غم اپنے دل کی باتیں شیئر کرسکوں۔ مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔ کہ میری یہ دعا ایسے بھی قبول ہوسکتی ہے۔“
سُلین دل کو اپنے ساتھ لگائے خوشی سے لبریز لہجے میں بولی تھی۔ شہلا بیگم اور ہمایوں شاہ اپنی فیملی پوری ہوتے دیکھ مسکرا دیئے تھے۔ اُن کی دونوں بیٹیاں ہنستی مسکراتی اُن کی آنکھوں کے سامنے تھیں۔ اِس سے زیادہ اُنہوں نے لائف میں کبھی کچھ نہیں مانگا تھا۔
” میں کپڑے بدل لوں گیا۔ کیونکہ یہاں حالات دیکھ کر مجھے اپنے نکاح کے چانسز کم ہی لگ رہے ہیں۔“
سویرا اندر اپنا لہنگا تھام کر اندر داخل ہوتی منہ بسور کر بولی تھی۔ جس پر وہ چاروں اپنا قہقہ نہیں روک پائے تھے۔
سویرا کے یاد دلانے پر ہی سب کو ہوش آیا تھا۔ کہ یہ سب سے ضروری کام تو وہ بھول ہی گئے۔
کچھ ہی دیر میں نکاح خواں کے آتے ہی سب لوگ ڈرائنگ روم میں اکٹھے ہوئے تھے۔ شہلا بیگم اور ہمایوں شاہ کو اپنے دونوں داماد ہی بہت پسند آئے تھے۔ دونوں ایک دوسرے سے بڑھ کر شاندار اور لاجواب تھے۔
مگر شہلا بیگم ایک نظر میں ہی بھانپ گئی تھیں۔ دونوں کے درمیان معاملات کچھ ٹھیک نہیں تھے۔
زورین کو سویرا کے بھائی کا کردار ادا کرتا دیکھ دل کے ہونٹوں پر دلکش سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔ زورین نے اُس کو اُس کی ساری خوشیاں دے دی تھیں۔ لیکن دل اُسے یہ نہیں بتا پائی تھی۔ کہ اُس کی سب سے بڑی خوشی زورین کے ساتھ میں تھی۔ اُس کے بغیر وہ ادھوری تھی۔
مگر شاید وہ اُس کا ہوکر بھی اُس کا نہیں تھا۔ دل نے حسرت بھری نظروں سے اُس شاندار شخص کی جانب دیکھتے ایک بوجھل سانس ہوا کے سپرد کی تھی۔
”کوئی ناراضگی چل رہی ہے کیا۔“
اُس کے ساتھ کھڑی سُلین اُسے کب سے زورین کی جانب ٹکٹکی باندھے کھڑا دیکھ آخر پوچھ بیٹھی تھی۔
”کبھی دوستی ہوئی ہی نہیں کہ ناراضگی کی نوبت آتی۔ “
دل نے زخمی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا تھا۔ سُلین نے اُس کی آنکھوں میں تیرتی اُداسی بہت غور سے دیکھی تھی۔ زورین کی نگاہوں میں اُس نے واضح طور پر دل کا عکس دیکھا تھا۔ پھر آخر ایسا کیا تھا۔ جو دل کو ڈسٹرب کیے ہوئے تھا۔ سُلین اُس سے اِس ٹاپک پر تفصیلی بات کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔
” میری چھوڑیں آپ بتائیں۔ ابتہاج بھائی نے ایک پل کے لیے بھی آپ کی جانب سے نظر نہیں اُٹھائی اور آپ ہیں کے اُن کو کوئی لفٹ ہی نہیں کروا رہی۔ اتنے نائس تو ہیں۔“
دل کو اپنے سنجیدہ مزاج بہنوئی کافی پسند آئے تھے۔ مگر اپنی بہن کے تیور کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔
” وہ صرف دیکھنے میں ہی اتنے شریف ہیں۔ اُس بندے کی صورت پر بالکل بھی مت جانا۔ دنیا کا سب سے زیادہ شاطر انسان ہے یہ۔ دوسروں کو بے وقوف بنا کر اپنی انگلیوں پر کیسے نچایا جاتا۔ کیسے دھونس جما کر اپنی ہر بات منوائی جاتی ہے۔ انسان اِن سے سیکھے۔“
سُلین ابتہاج کی جانب سے بھری بیٹھی تھی۔ وہ تو اُس وقت سے یہی سوچ کر شرم سے پانی پانی ہورہی تھی۔ کہ ابتہاج اُس وقت نشے میں نہیں تھا۔ اور بڑے ہی سکون سے اُسے اُلو بناتا اُس کی حرکتیں ملاحظہ کررہا تھا۔
بے ہوشی کا فائدہ اُٹھاتے اُس نے جو جسارتیں کرتے اُس کا خون خشک کیا تھا وہ۔
صبح کس قدر معصوم اور انجان بنتے وہ اُس سے اِس بارے میں پوچھ رہا تھا۔ سُلین کا ہاتھ بے اختیار اپنی گردن کی جانب اُٹھا تھا۔ ساتھ ہی اُس کی غیر ارادی نظر ابتہاج کی جانب اُٹھی تھی۔ جو اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔ سُلین نے فوراً گردن پر دوپٹہ ٹھیک کرتے ہاتھ واپس کھینچا تھا۔
مگر ابتہاج کی آنکھوں میں موجود شوخی بھری مسکراہٹ صاف بتا رہی تھی۔ کہ وہ اُس کے دماغ میں آتی سوچ سے واقف ہے۔ سلین غصے اور ناراضگی بھری نظر اُس پر ڈالتی وہاں سے ہٹ گئی تھی۔
★★★★★★★★
جاری ہے۔۔۔۔
