No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
اُسے خود کو بچارہ دیکھا کر دوسروں کی ہمدردیاں سمیٹنا بالکل بھی پسند نہیں تھا۔ بظاہر دل آویز کو دیکھ کر یہی لگتا تھا کہ اِس لڑکی کو کوئی غم نہیں ہے۔ وہ ہر وقت شرارتیں کرتی ہنستی مسکراتی رہتی تھی۔ مگر کوئی اُس کے دل سے پوچھتا وہ اندر سے کتنی ٹوٹی بکھری ہوئی تھی۔ اُس کی زندگی کی کوئی ایک رات بھی ایسی نہیں گزری تھی۔ جس میں وہ رو کر نہ سوئی ہو۔ رقیہ بیگم اور گھر کے باقی لوگوں کی باتیں اُس وقت تو وہ معمول کے مطابق لاپرواہ بن کر سن لیتی تھی۔ مگر یہ سب باتیں اُسے بہت بُری طرح افیکٹ کرتی تھیں۔
” ہم لوگ کچھ نہیں کرسکتیں کیا۔ اگر ہم لوگ کسی طرح جاکر اُس زورین شاہ سے بات کریں۔ اُسے منانے کی کوشش کریں تو کیا پتا وہ مان جائے۔“
دل بیڈ پر سیدھی ہوکر بیٹھتے بولی۔ اُس دن پیر میں آئی موچ سے اُسے بہت درد تھا۔ جس کی وجہ سے وہ دو دن تک بیڈ سے نیچے نہیں اُتر پائی تھی۔ مگر اب اتنے آرام کے بعد وہ کافی بہتر فیل کررہی تھی۔ یہ بھی اُن تینوں کی مسلسل نگرانی کی وجہ سے ہوا تھا۔ ورنہ دل نے خود تو ایک منٹ کے لیے بھی ٹک کے نہیں بیٹھنا تھا۔
دل کی ساتھ اگر گھر کے بڑوں کا رویہ بہت بُرا تھا۔ تو تمام کزنز اُس پر جان چھڑکتے تھے۔ سوائے ایک تقی کہ۔ جو ہر وقت اپنی ماں کی طرح اُس کے پیچھے پڑا رہتا تھا۔ حُسن کے معاملے میں اللّٰه نے اُسے جی بھر کر نوازہ تھا۔ جس کی وجہ سے اکثر اُسے بہت ساری مشکلات بھی فیس کرنی پڑتی تھی۔
اُس نے خود تو اپنے ماں باپ کو نہیں دیکھا تھا۔ مگر اُسے رقیہ بیگم کے طعنوں میں ہی سننے کو ملا تھا۔ کہ اُس کے ماں باپ دونوں ہی بہت خوبصورت تھے۔ اُن کا حُسن اور دلکشی ہی اُسے وراثت میں ملی تھی۔
” اچھا اور تمہیں لگتا ہے وہ شخص ہمارے انتظار میں ہی بیٹھا ہوگا نا۔ کہ سویرا اور دل میڈم آئیں اُن کے ایک بار کہنے پر اُن کی بات مان لوں۔“
سویرا دل کی بچکانہ بات پر اُس کا مذاق بناتے بولی تھی۔
”تم کبھی مجھے سیریس مت لینا۔ ٹرائے مارنے میں کیا حرج ہے۔ بات تو ویسے ہی بگڑی ہوئی ہے۔ اِس لیے مزید بگڑنے کا ڈر ہی نہیں ہے۔ کیا پتا ہمارے بات کرنے سے سدھر ہی جائے۔“
دل آگے ہوکر لیپ ٹاپ اُٹھاتی ابھی بھی اپنی بات پر قائم تھی۔
”معاملہ سدھرے گا یا نہیں۔ لیکن اگر گھر والوں کو تمہارے اِس کارنامے کا پتا چلا تو اِس بار رقیہ پھوپھو نے تمہاری ہڈیاں پسلیاں ایک کردینی ہیں۔“
سویرا نے اُسے باز رکھنا چاہا تھا۔
”وہ تو ایک نہ ایک دن اُنہوں نے کرنی ہی ہیں۔ تم مجھے زیادہ ڈراؤ مت۔ اِدھر آؤ پہلے زورین شاہ کے سوشل میڈیا اکاونٹس چیک کرتے ہیں کہ مسٹر ہیں کیسے۔ کوئی ادھیڑ عمر بڈھا ہے یا پھر کوئی سر پھرا نوجوان۔ اُسی کے لحاظ سے پلاننگ کرکے جائیں گے۔“
دل نے اُس کی کسی بھی بات کو خاطر میں لائے بغیر لیپ ٹاپ پر اپنی توجہ مرکوز کی تھی۔ سویرا بھی ہلکا سا کھسکتی اُس کے ساتھ آبیٹھی تھی۔ جب کچھ دیر بعد زورین شاہ کی پروفائل پر جو پکچر واضح ہوئی تھی۔ اُسے دیکھ وہ دونوں ہی اپنی جگہ ساکت رہ گئی تھیں۔ ایک اُس شخص کی شاندار پرسنیلٹی اور بے پناہ وجاہت سے جبکہ دوسری صدمے سے کیونکہ یہ وہی شخص تھا۔ جسے وہ پچھلے دو دنوں سے نجانے کتنی بار کوس چکی تھی۔ اِسی نے ہی تو کسی اچھوت چیز کی طرح اُسے اُٹھا کر بے دردی سے زمین پر پٹخا تھا۔
” کب ملنے جانا ہے اِس بندے سے۔ میں بھی تمہارے ساتھ آؤں گی۔“
سویرا کی نظریں سکرین سے ہٹنا مشکل ہورہی تھیں۔ جس پر دل نے اُسے شرم دلاتی نظروں سے گھورا تھا۔
” رہنے دو تم ٹھیک کہہ رہی تھی۔ اِس نے کونسا ہماری بات ماننی ہے۔ جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ “
دل بے دلی سے لیپ ٹاپ بند کرتے بولی تھی۔
”یہ کیا بات ہوئی۔ ابھی تو تم بضد تھی جانے کے لیے۔ پھر اچانک کیا ہوا۔ تم ٹھیک کہہ رہی تھی۔ ہمیں ایک بار جانا تو چاہیئے کیا پتا لڑکیاں دیکھ وہ پسیج جائے اور ہماری بات مان لے۔“
زورین شاہ کی ایک جھلک دیکھنے کے بعد اب سویرا کسی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھی۔ جس کے بعد دل کو اِس بات کے لیے راضی کرکے ہی دم لیا تھا اُس نے۔
★★★★★★★
“زاہد صاحب سب ارینجمنٹس ہوگئے نا۔ آپ نے ایک بار دوبارہ چیک کرلیا سب۔“
سُلین عجلت میں اندد داخل ہوتے بولی۔
آج اُس کے ریسٹورنٹ میں سیمنار منعقد کیا گیا تھا۔ جو کچھ کچھ گھنٹوں بعد شروع ہوجانا تھا۔ اِس سب کی تیاری وہ پچھلے ایک ہفتے سے کررہی تھی۔ ابھی حبیب صاحب سے ملنے جانے کی وجہ سے وہ تھوڑا لیٹ ہوگئی تھی۔
” جی میم سب کچھ پرفیکٹ ہے۔ میں نے اور قاسم سر نے سب کچھ چیک کرلیا ہے۔“
زاہد سُلین کا فکرمند چہرا دیکھ تسلی دیتے بولا تھا۔
” مگر قاسم ہے کہاں۔“
سُلین کو قاسم اپنے کیبن میں بھی نظر نہیں آیا تھا۔ ورنہ اُس کے ریسٹورنٹ آتے ہی سب سے پہلے وہ ہی اُس کے سامنے حاضر ہوتا تھا۔
” میم وہ اُنہیں کسی ضروری کام سے جانا تھا۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی نکلے ہیں۔ کہہ رہے تھے آدھے گھنٹے تک آجائیں گے۔“
زاہد اُسے تفصیل بتاتے بولا تھا۔
”اوکے آپ ایک بار جاکر اندر چیک کرلیں۔ کھانے کی تیاری کہاں تک پہنچی۔“
زاہد کو اندر بھیج کر سُلین نے ایک طائرانہ نظر ہال میں بیٹھے لوگوں پر دوڑائی تھی۔ جب اُس کی نگاہ ایک ٹیبل پر جاکر ٹھہر گئی تھی۔ اُس نے آنکھیں جھپک کر دوبارہ اُس جانب دیکھا تھا کہ کہیں یہ اُس کی نظر کا دھوکا تو نہیں تھا۔ مگر ایسا نہیں تھا۔
وہی اجنبی شخص آج یکسر بدلے سے حلیے میں اُس کے ریسٹورنٹ میں بیٹھا تھا۔ جسے اُس ایک ملاقات کے بعد سے سُلین اپنے زہن سے نکال نہیں پائی تھی۔
سیاہ قمیض شلوار میں ملبوس کف کہنیوں تک فولڈ کیے۔ سیاہ گھنے بالوں کو جیل کی مدد سے ماتھے پر سیٹ کیے سُلین کو وہ اُس دن سے کہیں زیادہ ہینڈسم اور ڈیشنگ لگا تھا۔ مگر چہرے کے نقوش ویسے ہی سرد اور کھردرے سے تھے۔ اپنے سامنے بیٹھے شخص سے بات کرتے خود پر کسی کی نظروں کی تپیش برادشت کرتے اچانک اُس نے اپنی مقناطیسی نگاہیں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔ سُلین جو پورے انہماک سے اُس کا جائزہ لینے میں مگن تھی۔ ہڑبڑا کر فوراً اُس نے نظروں کا زاویہ بدلتے رُخ موڑ لیا تھا۔ دل زور زور سے دھڑکتے باہر آنے کو تیار ہوگیا تھا۔ اپنے مزاج کے خلاف کی جانے والی اِس حرکت پر شرمندگی نے الگ گھیرے میں لے لیا تھا۔
کاؤنٹر پر پڑی فائلز کھول کر اُن میں خود کو مصروف ظاہر کرتے کافی دیر بعد اُس نے پلٹ کر اُس جانب دیکھا تھا۔ مگر اب وہ اُس کی جانب متوجہ نہیں تھا۔
سُلین کو اپنی اِس بے اختیاری کی خود بھی سمجھ نہیں آرہی تھی۔ کہ آخر وہ کیوں بار بار اِس شخص کی جانب متوجہ ہورہی ہے۔ ابھی وہ وہاں سے ہٹنے کا سوچ ہی رہی تھی۔ جب ریسٹورنٹ کی مین انٹرنس سے چار پانچ غنڈے نما شخص کو اسلحہ اُٹھائے اندر آتا دیکھ سُلین کی حالت غیر ہوئی تھی۔ وہ بنا اردگرد بیٹھے لوگوں پر دھیان دیئے سیدھا سُلین کی جانب بڑھے تھے۔
حال میں بیٹھے لوگ اپنی جگہ سہم گئے تھے۔ کیونکہ اُن کا ایک ساتھی انٹرنس میں راستہ روکے کھڑا ہوگیا تھا۔ کوئی شخص باہر بھی نہیں نکل سکتا تھا۔
“کون ہو تم لوگ۔ “
سُلین ابھی اتنا ہی بولی تھی۔ جب اُن لوگوں میں سے ایک نے اُس کی کنپٹی پر بندوق رکھتے اُس کے باقی الفاظ وہیں روک دیئے تھے۔
★★★★★★★
” ہمیں زورین شاہ سے ملنا ہے۔“
دل نک سک سے تیار نہایت مہذب لہجے میں ریسپشن پر بیٹھی انتہائی سٹائلش سی لڑکی سے مخاطب ہوئی تھی۔ جس کے آگے دل کو اپنی تیاری صفر لگ رہی تھی۔
” میم کیا آپ کی کوئی اپائنٹمنٹ ہے سر سے۔“
وہ لڑکی پروفیشنل لہجے میں گویا ہوئی تھی۔ دل نے پلٹ کر اپنے پیچھے کھڑی سویرا اور لائبہ کو دیکھا تھا۔ جنہوں نے اُسے ہاں میں جواب دینے کا اشارہ کرتے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
“جج جی اپائنٹمنٹ لے کر ہی آئے ہیں ہم۔ آپ پلیز اُن سے ملوا دیں۔ ہمیں بہت امپورٹنٹ بات کرنی ہے اُن سے۔“
دل اپنے لہجے کو نارمل رکھتے صفائی سے جھوٹ بول گئی تھی۔
” اوکے میں چیک کرتی ہوں۔ آپ اپنا نیم بتائیں پلیز۔“
دل آویز کے نام بتانے پر وہ لڑکی ناقدانہ نظروں سے اُس کے حلیہ کا جائزہ لیتی فائلز پر زورین شاہ کی آج کی اپائنٹمنٹس دیکھنے لگی تھی۔
لائٹ پنک پرنٹڈ فراک میں ہم رنگ دوپٹہ سر پر اوڑھے وہ حُسن کی مورتی سادگی کے باوجود نظرین بھٹکانے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ اُس کی گول مٹول سی آنکھیں بہت ہی منفرد اور دلکشی بھری تھیں۔ جن میں چھپی اُداسی اور ویرانیاں مقابل کو اپنی جانب متوجہ کردیتی تھیں۔ پنک لبوں کے اُوپری حصے پر سجے سیاہ تِل کی تو چھب ہی نرالی تھی۔ چہرے پر سجی شفاف ہنسی اور آنکھوں کی سوگواریت مل کر دل آویز کے حُسن کو
مزید دو آتشہ بنا دیتی تھیں۔
” آئم سوری میم۔ آپ کی آج سر کے ساتھ کوئی اپائنٹمنٹ نہیں ہے۔“
ریسپشنسٹ معذرت خواہ انداز میں بولی تھی۔ وہ اِن لڑکیوں کے حلیے دیکھ کر ہی سمجھ گئی تھی۔ کہ زورین شاہ کی اِن سے کوئی اپائنٹمنٹ نہیں ہوگی۔ اپنے باس کے سٹینڈرڈ سے وہ اچھی طرح واقف تھی۔
” آپ پلیز ہمیں ایک بار اُن سے ملنے دیں۔ ہم اُن کا زیادہ ٹائم نہیں لیں گی۔ پلیز بہت ضرروی بات کرنی ہے اُن سے۔“
اب کی بار سویرا آگے ہوتی ملتجی لہجے میں بولی تھی۔
” آئم سوری میم اِس معاملے میں، میں آپ کی کوئی ہیلپ نہیں کرسکتی۔“
وہ لڑکی دو ٹوک لہجے میں کہتی رُخ پھیر گئی تھی۔ سویرا نے نااُمیدی بھری نظروں سے دل کی جانب دیکھا تھا۔ جس کے چہرے پر ابھی بھی کچھ سوچتے چمک برقرار تھی۔
” ایک آئیڈیا ہے میرے پاس۔“
وہاں سے ہٹ کر ویٹنگ روم میں صوفے پر آکر بیٹھتے دل پُر اسرار مسکراہٹ سے اُن دنوں کی جانب دیکھتے بولی تھی۔
” بیٹا تمہارے آئیڈیاز پر عمل کرکے گھر میں تو کسی نہ کسی طرح بچت ہوجاتی ہے۔ لیکن اگر یہاں پکڑے گئے تو اِن لوگوں نے بنا دوسری بات کیے پولیس کے حوالے کر دینا ہے۔“
لائبہ اُس کا آئیڈیا سننے سے پہلے ہی انکاری ہوئی تھی۔
” ایک منٹ اُس کی سن تو لو پہلے۔“
سویرا لائبہ کو چپ کرواتی دل کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔
” کسی طرح زورین شاہ کے آفس روم کا پتا لگواتے ہیں۔ اُس میں چھپ کر کیسے گھسنا ہے۔ یہ میں بتاؤں گی۔ کیونکہ جب یہ لوگ زورین شاہ سے سفیان اور ماموں لوگوں سے نہیں ملنے دے رہے تو ہمارا ملنا ناممکن سی بات ہے۔ ایک بار اُس تک پہنچ گئی ہم۔ پھر اُس کے پیر پکڑ کر منانا پڑا وہ بھی کر لیں گے۔“
دل نے بات ختم کرتے اُن دونوں کی جانب دیکھا تھا۔ جن کے چہرے صاف بتا رہے تھے کہ وہ اُس کا ساتھ دینے کے حق میں ایک پرسنٹ بھی نہیں تھیں۔
” دل واپس چلو۔ ہر طرف کیمرے لگے ہوئے ہیں۔ تمہیں کیا لگتا ہے۔ یہاں بے وقوف لوگ بیٹھے اتنا بڑا آفس چلا رہے ہیں۔ ایک سیکنڈ میں پکڑ لینا ہے اِنہوں نے ہمیں۔ “
سویرا اُس کا ہاتھ کھینچ کر اُٹھتے ہوئے بولی۔
” کتنی ڈرپوک ہو تم لوگ۔ وہ بے وقوف نہیں ہونگے۔ مگر دل آویز جتنے عقل مند بھی نہیں ہیں۔ تم لوگ ساتھ نہیں آسکتی یہاں بیٹھ تو سکتی ہو نا۔“
دل اُن دونوں کو وہیں بیٹھنے کا اشارہ کرتی اپنی جگہ سے اُٹھی تھی۔
” دل تم پاگل ہوگئی ہو کیا۔ پلیز مت جاؤ۔ اگر پکڑی گئی تو بہت بُرا ہونا ہے۔“
سویرا نے اُسے ضد پر اڑا دیکھ باز رکھنے کی کوشش کی تھی۔
” اچھا۔ آج تک تو جیسے بہت اچھا ہوتا آرہا ہے میرے ساتھ۔ کیا فرق پڑتا ہے تھوڑا سا اور بُرا ہوجائے گا۔ عادت ہوچکی ہے مجھے اب یہ سب برداشت کرنے کی۔ کیا پتا میری وجہ سے باقی سب گھر والوں کا اچھا ہوجائے۔ تم لوگ یہیں بیٹھنا۔ مجھے چھوڑ کر بھاگ مت جانا۔“
دل تلخی بھری مسکراہٹ چہرے پر سجائے اُن دونوں کو وہیں خاموش کر گئی تھی۔ آخر میں اپنی مخصوص مسکراہٹ سے اُنہیں کو ہدایت دیتی وہ آگے کی جانب بڑھ گئی تھی۔
اردگرد بنے کیبنز میں بیٹھے کام کرتے لوگوں کو دیکھتی وہ خود کو پوری طرح کانفیڈنٹ ظاہر کرتی گزر کر آگے جارہی تھی۔ اتنی دیر سے مٹر گشت کرنے کے بعد بھی اُسے کہیں زورین شاہ کے آفس کا نام و نشان تک نظر نہیں آرہا تھا۔
” صابر صاحب آپ کو باس اُوپر اپنے آفس میں بلا رہے ہیں۔“
وہ نا اُمید ہوکر واپس پلٹنے لگی تھی۔ جب یہ آواز اُس کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔
” کتنی بڑی گدھی ہو تم دل۔ یہ کیسے بھول گئی کہ اِس بلڈنگ میں اور بھی پورشنز موجود ہیں۔ تو اِس کا مطلب ہے اُس زورین شاہ کا آفس اُوپر والے پورشن پر ہے۔“
دل خود کو ڈپٹتی کچھ فاصلے پر بنی سیڑھیوں کا جائزہ لینے لگی تھی۔ جہاں ابھی کافی لوگ آ جارہے تھے۔ وہ باآسانی اُن کے درمیان سے گزر کر جاسکتی تھی۔ ہزاروں کی تعداد میں موجود ورکرز میں سے بھلا اُسے کس نے پہچاننا تھا۔
جس شخص کو دوسرے آدمی نے صابر صاحب کہہ کر پکارا تھا۔ اُسے اُوپر جاتا دیکھ دل اُس کے پیچھے ہولی تھی۔
ایک دو راہداریاں عبور کرنے کے بعد اُسے وہ شخص ایک دروازے کی جانب جاتے دیکھائی دیا تھا۔ جس کے اُوپر لگا بورڈ دیکھ دل کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔ وہ اپنی منزل کے کافی قریب پہنچ چکی تھی۔ اب بس اندر جاکر اُس حد درجہ بدمزاج اور کھڑوس شخص سے بات کرنی تھی۔ جس بارے میں سوچ کر ہی اب اُس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ جس شخص نے بیچ راستے میں اُسے زمین پر پٹخ دیا تھا۔ اور نہایت بُرے طریقے سے بات کی تھی۔ اب پتا نہیں وہ اُس کے ساتھ کیا سلوک کرنے والا تھا۔ جب وہ چوری چھپے اُس کے آفس میں گھس رہی تھی۔
ایک بار اُس کا دل چاہا تھا یہیں سے پلٹ جائے۔ لیکن سب گھر والوں کو اِس مشکل سے نکالنے کی وہ ایک کوشش ضرور کرنا چاہتی تھی۔ زورین شاہ کے اُس دن والے خونخوار اور بے رحم تاثرات یاد کرکے دل ہی دل میں کلمہ پڑھ چکی تھی۔ خود کو نارمل کرنے کے لیے ابھی اُسے مزید وقت چاہئے تھا۔ مگر صابر صاحب کو باہر نکلتا دیکھ وہ گہری سانس خارج کرتی مرے مرے قدموں سے اُس جانب بڑھی تھی۔ آفس کے آس پاس کسی کو نہ پاکر دل بنا ایک لمحے کی بھی دیر کیے دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی تھی۔
اتنا بڑا اور شاندار آفس دیکھ دل کی آنکھیں پوری واں ہوئی تھیں۔ اُس نے فوراً نظریں گھما کر سامنے پڑے شیشے کے بڑے سے ٹیبل کے پیچھے پڑی خالی کرسی کی جانب دیکھا تھا۔ وہاں زورین شاہ کو موجود نہ پاکر اُس کا دل کسی حد تک پرسکون ہوا تھا۔ مگر ساتھ تشویش بھی بڑھی تھی۔ کہ اگر یہاں نہیں تھا تو آخر وہ شخص تھا کہاں۔ پورے کمرے میں نظریں گھمانے کے باوجود وہ اُسے کہیں بھی نظر نہیں آیا تھا۔
اُس کی اشتیاق بھری نظریں آفس میں موجود ایک ایک چیز کا جائزہ لے رہی تھیں۔ جب اچانک اُس کی نظر زورین کی کرسی کے سائیڈ ٹیبل پر رکھی ایک بہت ہی کیوٹ سی بچی کی تصویر کی جانب اُٹھی تھی۔ پنک بےبی فراک میں ملبوس بالوں کی دو پونیاں کیے پھولے پھولے گالوں والی وہ بچی بےفکری سے مسکراتی دل کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ بکھیر گئی تھی۔ خود بخود ہی اُس کے قدم اُس تصویر کی جانب اُٹھے تھے۔
اُس نے قریب پہنچ کر ہاتھ بڑھا کر تصویر کو اُٹھانا ہی چاہا تھا۔ جب کمرے میں گونجتی گھمبیر آواز اُس کا خون منجمند کرگئی تھی۔
”ہاتھ مت لگانا اُسے۔ ورنہ اِس غلطی کی بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی تمہیں۔“
دل نے فوراً ہاتھ واپس کھینچتے گھبرا کر آواز کی سمت کا تعین کرنا چاہا تھا۔ زورین شاہ آفس میں ہی بیٹھ کر اُسے دیکھ رہا تھا۔ مگر کہاں سے ہر طرف نظریں دوڑانے کے باوجود بھی دل جان نہیں پائی تھی۔
وہ ابھی اِسی شش و پنج میں مبتلا تھی۔ جب بھاری قدموں کی دھمک پر اُس نے جھٹکے سے سر اُٹھا کر دائیں جانب دیکھا تھا۔ دیوار کے پینٹ کے ڈیزائن کے بنے کرٹن جنہیں وہ دیوار کا ہی حصہ سمجھ رہی تھی ہٹاتا وہ باہر نکلتا دیکھائی دیا تھا۔
”کون ہو تم۔ کس کی اجازت سے میرے آفس میں قدم رکھا ہے تم نے۔“
زورین شاہ کے چہرے کے خطرناک تاثرات دیکھ اُس کی جان ہوا ہوئی تھی۔
”مجھے آپ سے بات۔۔۔۔“
دل بہت دقتوں سے اتنا ہی بول پائی تھی۔
”جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔ تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میرے آفس میں گھسنے کی۔ زورین شاہ تم جیسے لوگوں سے بات کرے گا۔ سوچ بھی کیسے لیا تم نے۔ اتنا گرا ہوا سٹیٹس بالکل بھی نہیں ہے میرا۔“
آج تک زورین کے قریبی ترین لوگوں نے بھی بنا اجازت اُس کے آفس میں آنے کی گستاخی نہیں کی تھی۔ اِس لڑکی کا اِس طرح چھپ کر آفس میں داخل ہونا اور اِس طرح اُس کی پرسنل چیزوں کو چھونے کی کوشش کرنا اُسے بے حد غصہ دلا گیا تھا۔
جبکہ دوسری جانب اپنے گھر والوں کی ہر طرح کی کڑوی کسیلی باتیں سننے والی دل آویز کسی غیر کے منہ سے اپنے لیے ایسے حقارت آمیز جملے نہیں سن پائی تھی۔
”لڑکیوں سے بات کرنے کی زرا تمیز نہیں ہے آپ کو۔ آپ کا سٹینڈرڈ کس حد تک گرا ہوا ہے وہ تو نظر آہی رہا ہے۔ مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے آپ جیسے انسان سے بات کرنے کا۔ مجبوری تھی اُسی کے تحت آئی ہوں۔“
اُس کا دل اندر سے سوکھے پتے کی طرح کانپ اُٹھا تھا۔ مگر بظاہر ایسا کچھ ظاہر نہ ہونے دیتے اُس نے اپنا حساب برابر کیا تھا۔ اپنے بڑوں کے علاوہ وہ کم ہی کسی کی سنتی تھی۔
زورین اِس چھٹانک بھر کی لڑکی کی اتنی جرأت پر کچھ پل کے لیے حیرت زدہ رہ گیا تھا۔ مگر اگلے ہی لمحے غصے سے بپھڑتا وہ آگے بڑھا تھا۔
”تو تم مجھے بتاؤ گی میرے سٹینڈرڈ کے بارے میں۔ زورین شاہ کو۔“
زورین شاہ کے جارحانہ تیور دیکھ دل کو اچانک خیال آیا تھا۔ کہ وہ یہاں معاملہ بگاڑنے نہیں سنبھالنے آئی ہے۔
”آئم ریلی سوری سر میرا وہ مطلب نہیں تھا۔ آپ پلیز ایک بار تحمل سے میری بات سن لیں۔“
دل گھبرا کر ٹیبل کے ساتھ لگتی اپنا لہجہ نرم کرتے بولی تھی۔ کیونکہ وہ اب اُس کے سر پر آن پہنچا تھا۔
”تم خود ہی آرام سے میرے آفس سے نکل جاؤ گی یا گارڈز کو بلا کر دھکے دے کر نکلواؤں۔“
زورین شاہ دانت پیستے بہت مشکل سے اُسے برداشت کیے ہوئے تھا۔ اگر وہ صنفِ نازک نہ ہوتی تو اب تک زورین شاہ اُسے اُس کی اِن گستاخیوں کا سبق سیکھا چکا ہوتا۔
دل نے اِس سے پہلے بھی بہت سارے سخت گیر لوگ دیکھے تھے۔ مگر ایسا گھمنڈی اور اُکھڑ مزاج انسان سے اُس کا پہلی بار پالا پڑ رہا تھا۔ وہ سمجھ ہی نہیں پارہی تھی۔ کیسے اِس بدلحاظ شخص کو ہینڈل کرے۔
جب اچانک اُس کی نظر واپس اُسی بچی کی تصویر پر پڑی تھی۔
” دیکھیں پلیز ایک بار ٹھنڈے دماغ سے میری بات سن لیں۔ پھر میں چلی جاؤں گی یہاں سے۔ آپ کو آپ کی اِس پیاری سی گڑیا کا واسطہ پلیز میری بات سن لیں۔“
دل زورین شاہ کا اُس تصویر کو دیکھ کر آنکھوں میں اُبھرنے والا نرم تاثر دیکھ چکی تھی۔ اِس لیے وہ اُس بات کا سہارا لیتے بولی تھی۔ اِس کے علاوہ اِس سچویشن میں اُسے اور کچھ سمجھ ہی نہیں آیا تھا۔
” تم۔۔۔۔۔“
زورین نے اُس کی اتنی جرأت پر نجانے کیسے ہونٹ بھینچتے خود پر ضبط کیا تھا۔ یہ لڑکی مسلسل اُس کا صبر آزما رہی تھی۔
”پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس۔ اُس کے بعد اگر تم یہاں سے نہ نکلی تو میں خود تمہیں اُٹھا کر اِس کھڑکی سے باہر پھینکوں گا۔“
زورین اپنی کرسی پر جاکر بیٹھتے اُس کو اپنی آگ اُگلتی نظروں کے حصار میں لیے بولا تھا۔ جو دیکھنے میں خود بھی کسی گڑیا سے کم نہیں تھی۔سر پر لیا پنک دوپٹہ سلکی بالوں سے پھسل کر کندھوں پر آن گرا تھا۔ ڈھیلی ڈھالی چٹیا سے نکلے بال اُس کے چہرے کے اردگرد پھیلے اُس کی معصومیت میں مزید اضافہ کررہے تھے۔ گول مٹول سی باربی جیسی آنکھیں زرا زرا سی بات پر پوری واں ہوتیں مقابل کو ہپنوٹائز سا کردیتی تھیں۔ ٹینش کی وجہ سے پنک ہونٹ دانتوں کا ظلم سہتے سہتے زخمی ہوچکے تھے۔
زورین شاہ نے ایک نظر اُس پر ڈال کر واپس موڑ لی تھی۔ وہ خود بھی سمجھ نہیں پارہا تھا کہ وہ کیوں اِس لڑکی کو برداشت کررہا ہے۔ تھی تو یہ عام سی لڑکی پھر کیوں وہ اُسے یہاں سے نکال نہیں پارہا تھا۔ زورین شاہ پہلی بار ایسی کسی کیفیت کا شکار ہوا تھا۔ یہ اِس لڑکی سے اُس کی دوسری ملاقات تھی۔ اور دونوں بار ہی وہ اپنے مزاج کے خلاف جارہا تھا۔ ورنہ اجنبی لوگوں کے لیے وہ اِس سے بھی زیادہ بُرا انسان تھا۔ جتنا اِس وقت دل کو لگ رہا تھا۔
”آپ پلیز ذکریا انڈسٹری اینڈ سنز کو۔۔۔۔“
دل ابھی اتنا ہی بولی تھی۔ جب وہ چہرے پر طنزیا مسکراہٹ سجائے اُسے بیچ میں ہی ٹوک گیا تھا۔
” اوہ تو اب وہ لوگ یہ ہتھکنڈا اپنانے پر اُتر آئے ہیں۔ جب مردوں سے بات نہیں بن پائی تو گھر کی لڑکی کو میرے آگے پیش کردیا۔۔۔۔امیزنگ۔۔۔۔۔میری سوچ سے بڑھ کر بے غیرت ثابت ہوئے ہیں تمہارے گھر کے مرد۔“
زورین شاہ زہر خند لہجے میں بولا تھا۔ اُس کے نفرت میں ڈوبے لہجے پر دل ساکت سی اُسے دیکھے گئی تھی۔ مطلب وہ اُن کے ساتھ یہ سب جان بوجھ کر کررہا تھا۔
”مجھے نہیں معلوم تھا اتنی بڑی عمارت میں باس کی کرسی پر براجمان شخص کی سوچ اتنی گھٹیا ہوگی۔ اللّٰه کے کرم سے میرے خاندان کے مرد بہت ہی غیرت مند ہیں۔ اُن کے لیے صرف اپنے خاندان کی عورتیں ہی نہیں بلکہ ہر عورت قابلے عزت ہے۔ مجھے افسوس ہورہا ہے کہ میں یہاں آئی ہی کیوں۔ پہلی ملاقات میں ہی مجھے اندازہ ہوجانا چاہیے تھا کہ آپ جیسا بے حس اور خودغرض انسان بھلا کیسے کسی کی مدد کرسکتا ہے۔ جس کی سوچ اتنی گھٹیا اور گری ہوئی ہے۔“
دل بنا ڈرے بپھری ہوئی شیرنی بنی زورین شاہ پر چلائی تھی۔ جس کی طاقت کے آگے ایک دنیا اُسے جھک کر سلام کرتی تھی۔ جس سے صرف اُس کے مزاج کے خلاف بات کرنے والے لوگ سزا کے حقدار ٹھہرتے تھے۔ دل تو پھر اتنی دیر سے اُس کے سامنے نجانے کیا کچھ بول چکی تھی۔ مگر اُس کی اب کی کہی بات زورین شاہ کا ضبط ختم کرگئی تھی۔
”ہاؤ ڈئیر یو۔۔“
زورین اپنی جگہ سے اُٹھتا دل کی جانب بڑھا تھا۔ جسے اُس کے خطرناک تیور دیکھ سانپ سونگھ گیا تھا۔
وہ دو قدم پیچھے ہٹی تھی۔ مگر اُس کے مزید دور جانے سے پہلے ہی زورین شاہ اُس کی کلائی دبوچ کر اُسے اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔ دل کا سر سیدھا زورین کے فولادی کندھے سے ٹکراتا اُس کے چودہ طبق روشن کرگیا تھا۔ اِس افتاد پر اُس کا دل سینے میں لرز اُٹھا تھا۔
مگر دل کو اپنی کہی جانے والی بات پر بالکل بھی پچھتاوا نہیں تھا۔ اِس شخص کی اتنی گھٹیا بات کا اِس سے اچھا جواب کوئی نہیں ہوسکتا تھا۔ لیکن اُس کے اِس لمبے چوڑے وجود کا مقابلہ کرنا بھی دل کے بس کی بات بالکل بھی نہیں تھی۔ اِس خوف کے زیرِ اثر اُس کا چہرا زرد پڑا تھا۔
”چھوڑیں مجھے مسٹر زورین شاہ یہ کیا بدتمیزی ہے۔ آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی۔“
دل چہرا اُوپر کرتی اُس کی گرفت سے اپنا بازو نکالنے کی کوشش کرتے بولی تھی۔
”کیوں اتنا بُرا کیوں لگ رہا ہے تمہیں۔ اِسی کام کے لیے ہی اِس طرح تن تنہا میرے آفس بھیجا گیا تھا نا تمہیں۔“
زورین اُس کے بازو پر اپنی گرفت مضبوط کرتا اُسے اپنے قریب کرتے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ سجائے اُس کو مزید سہما گیا تھا۔
”پپ پلیز ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔“
دل کی ساری بہادری اُس کے تیور دیکھ ہوا ہوئی تھی۔
” ویسے اتنی بُری بھی نہیں ہو تم۔ اِس آفر کے بارے ميں سوچا جاسکتا ہے۔“
زورین نے اُس کے بالوں کی لٹ چھونے کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا۔ جسے اپنا چہرا فوراً پیچھے کرتے دل نے جھٹک دیا تھا۔ اپنے حوالے سے اُس کی اتنی غلط بات سن کر دل کی دلفریب آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرتے زورین شاہ کو ایک لمحے کے لیے ہی سہی مگر اپنی جانب متوجہ کرگئے تھے۔
اِس سے پہلے کے وہ اُسے اِس بات کا کوئی جواب دیتی دروازے پر ہونے والی دستک پر اُس کی حالت مزید خراب ہوئی تھی۔ اگر کوئی اُسے اِس طرح اِس شخص کی بانہوں میں دیکھ لیتا تو اُس کی عزت کا جنازہ نکل جانا تھا۔ اُسے اِس طرح کسی غیر اور انجان شخص کی آفس میں اکیلے آنے والی اپنی سنگین غلطی پر شدت سے پچھتاوا ہوا تھا۔
“کم اِن ۔۔۔“
دل کو لگا تھا زورین منع کر دے گا۔ مگر اُس کے ادا کیے جانے الفاظ پر دل نے نم آنکھوں سے اُس کی جانب دیکھتے سر نفی میں ہلایا تھا۔ لیکن زورین شاہ کے چہرے کی پر اسراریت میں زرا فرق نہیں پڑا تھا۔ وہ ویسے ہی اُسے اپنی گرفت میں لیے کھڑا رہا تھا۔
جب اگلے ہی لمحے زورین کا پرسنل سیکرٹری اندر داخل ہوا تھا۔ تب دل نے اپنی پوزیشن پر غور کیا تھا۔ زورین کی پشت دروازے کی جانب تھی۔ اُس کے آگے کھڑی دل کا نازک سراپا زورین کے چوڑے وجود کے پیچھے بالکل چھپا ہوا تھا۔
دروازے سے اندر داخل ہونے والے شخص کی نظروں سے دل بالکل اوجھل تھی۔ اِس بات کا یقین کرتے دل کی سانسیں کچھ حد تک بحال ہوئی تھیں۔ مگر زورین کے پی اے کی بات سن کر اُسے اپنا آپ ہوا میں معلق ہوتا محسوس ہوا تھا۔
”سر ذکریا انڈسٹریز اینڈ سنز کے مالک تنویر ذکریا، ندیم ذکریا اور اُن کے بیٹے سفیان کو آپ کے کہنے کے مطابق کال کردی تھی۔ وہ باہر آچکے ہیں۔“
دل کا چہرا لٹھے کی مانند بالکل سفید پڑ چکا تھا۔ اُس نے رحم طلب نظروں سے زورین کی جانب دیکھا تھا۔
” بھیج دیں اُن کو۔“
زورین نے دل پر ثابت کردیا تھا۔ کہ اُس جیسے سنگدل انسان نے رحم کرنا سیکھا ہی نہیں تھا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
