Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

”تھینکس۔ بہت اچھی کافی تھی۔ کیا روز یہ نوازش ہوسکتی ہے۔“
سُلین نے کافی جان بوجھ کر بہت کڑوی بنائی تھی۔ مگر ابتہاج کو وہ بھی پسند آگئی تھی۔
اُس کے اِس طرح تعریف کرنے پر سُلین نے مشکوک نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔ اِس قدر کڑوی کافی بھلا کسی کو پسند آسکتی تھی۔
”اوکے۔“
سُلین مصنوعی مسکراہٹ سے اُسے جواب دیتی سامنے پڑے صوفے پر جا بیٹھی تھی۔ ٹیبل پر پڑا میگزین اُٹھا کر اُس نے چہرے کے سامنے کرلیا تھا۔
قاسم کی ہدایت کے مطابق اُسے زیادہ ٹائم ابتہاج کے اردگرد ہی رہنا تھا۔ اُس کی پلاننگز سن کر قاسم کو اُس کے بارے میں انفارم کرنا تھا۔
جب اچانک ابتہاج کا موبائل بجا تھا۔ سُلین کے کان فوراً کھڑے ہوئے تھے۔ اُس نے ہلکا سا میگزین نیچے کرکے ابتہاج کی جانب دیکھا تھا۔ مگر اُسے اپنی طرف دیکھتا پاکر وہ فوراً گڑبڑاتی میگزین چہرے کے سامنے کر گئی تھی۔
ابتہاج کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری تھی۔
”تم ختم کردو اُن سب کو۔ کوئی ایک بھی زندہ نہیں بچنا چاہئے۔“
ابتہاج کے پتھریلے لہجے پر سُلین کا چہرا خوف کے مارے لال ہوا تھا۔ اگر اِسے قاسم سے ہوئی اُس کی ملاقات کا پتا چل جاتا تو اِس ظالم نے اُس کا بھی یہی حال کرنا تھا۔
وہ فون بند کرچکا تھا۔ سُلین نے میگزین زرا سا نیچے کیے تھا۔ لیپ ٹاپ اُسی طرح گود میں رکھے وہ اپنے پسندیدہ شغل سیگریٹ پینے میں مصروف ہوچکا تھا۔
“اِس بندے کا کوئی ایک جو سیدھا کام ہو۔ کڑوی کافی اور اِس قدر وافر مقدار میں سیگریٹ کون پیتا ہے بھلا۔“
سُلین اُسے منہ سے دھواں نکالتے دیکھ افسوس سے بولی تھی۔
دوسری طرف ابتہاج بظاہر خود کو انجان ظاہر کرتا اُس کی نظریں خود پر اچھے سے نوٹ کررہا تھا۔
”آپ یہ سیگریٹ کیوں پیتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں۔ یہ کتنے نقصان دہ ہیں آپ کی لائف کے لیے۔“
سُلین چاہنے کے باوجود خود کو یہ کہنے سے روک نہیں پائی تھی۔
”میرے دونوں نشے ہی میرے لیے جان لیوا ہیں۔ مگر اصل مسئلہ ہی یہی ہے کہ میں اِن دونوں کے بغیر ایک پل بھی نہیں جی سکتا۔“
ابتہاج گہری نظریں اُس پر مرکوز کرتے بولتا اُسے چونکنے پر مجبور کر گیا تھا۔
وہ اپنا دوسرا نشہ اُسے ہی تو کہتا تھا۔ تو کیا وہ اُس کے بارے میں سب جانتا تھا۔ کہ وہ اُسے مارنا چاہتی ہے۔
”کیا مطلب اِس بات کا۔۔۔۔۔“
سُلین کی رنگت ذرد پڑی تھی۔
”یہ قاتلانہ حُسن مجھ جیسے کمزور دل انسان کے لیے جان لیوا ہی تو ہے۔ جس کا میں صرف دور سے ہی دیدار کرسکتا ہوں۔“
ابتہاج لیپ ٹاپ بند کرتا پوری طرح اُس کی جانب متوجہ ہوا تھا۔
”چھیچھورا انسان۔“
اُس کی بات سن کر سُلین جل کر بڑبڑاتی اپنی رکی ہوئی سانسیں بحال کر گئی تھی۔
”کچھ کہا مجھے۔“
ابتہاج کی آنکھیں شوخی سے مسکرائی تھیں۔ سُلین کا لال چہرا دیکھ اُسے بہت مزا آرہا تھا۔
”نہیں۔“
سُلین نفی میں جواب دیتی اپنی جگہ سے اُٹھی تھی۔ ابتہاج کی بدلتی نظریں اُسے کنفیوز کر رہی تھیں۔ اِس شخص کے پاس بیٹھنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ قاسم نے اُسے لائف کا سب سے مشکل کام سونپ دیا تھا۔
ابھی وہ ابتہاج کے قریب سے گزر ہی رہی تھی۔ جب بے دھیانی میں اُس کا پیر کارپٹ میں اُلجھا تھا۔ صوفے کا سہارا لے کر اُس نے خود کو گرنے سے بچایا تھا۔ ابتہاج اُسی صوفے پر براجمان خاموشی سے اُسے دیکھ رہا تھا۔
“تم کچھ دیر میرے ساتھ بیٹھ سکتی ہو۔“
ابتہاج نے صوفے پر رکھا اُس کا ہاتھ گرفت میں لیتے اُسے روکنا چاہا تھا۔
سُلین اُس کی نرم گرفت اور سرخی مائل آنکھوں کو دیکھ کر چاہنے کے باوجود انکار نہ کر پائی تھی۔
”کیا تمہیں واقعی یہ لگتا ہے۔ کہ میں بہت بُرا انسان ہوں۔ چند کاغذ کے ٹکڑوں پر یقین کر لیا تم نے۔ میری محبت نظر کیوں نہیں آئی تمہیں۔“
ابتہاج اپنے برابر صوفے پر بیٹھی سُلین کی آنکھوں میں جھانکتے شکوہ کناں لہجے میں بولا تھا۔
”اگر آپ بُرے انسان نہیں ہیں۔ تو کیا حقیقت ہے آپ کی۔ اوکے مان لیتی ہوں میں۔ وہ سب جھوٹ ہے۔ تو پھر سچ کیا ہے۔ سننا چاہتی ہوں میں۔ ابتہاج لغاری آپ اتنے سال جیل میں قید کیوں رہے۔ بول دیں آپ کو جھوٹے الزام کے تحت سزا دی گئی تھی۔ آپ قاتل نہیں ہیں۔ آپ نے اپنے فادر کا قتل نہیں کیا۔ آپ کے ہاتھ خون سے بالکل صاف ہیں۔ آج تک آپ نے کسی کی جان نہیں لی۔“
سُلین کا ابتہاج کی بات پر ایک بار پھر شدید غصہ اُمڈ آیا تھا۔ وہ اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے جھٹکتی آنکھوں میں نفرت بھرے ابتہاج سے مخاطب ہوئی تھی۔
” تم کچھ جاننا ہی نہیں چاہتی۔ تمہیں بس مجھ سے نفرت کرنی ہے۔ وضاحت دینے کی عادت نہیں ہے مجھے۔ مگر آج دوسری اور شاید آخری بار اپنی انا اور خودداری کو دبا کر میں نے تمہیں سچ بتانا چاہا تھا۔ لیکن تم مجھ سے نفرت کرنے میں زیادہ خوش ہو۔ تم اپنی نفرت کی جنگ جاری رکھو اور میں محبت کی۔ مگر اتنا ابھی سے بتا دوں جیت میری ہی ہوگی۔ مگر اُس کے بعد معافی نہیں ملے گی تمہیں۔ تمہیں میری ایک ایک اذیت کا جواب دینا ہوگا۔“
ابتہاج اُس کے قریب سے اُٹھا تھا۔
سُلین کا دل اُس کے گھمبیر لہجے پر دھڑک اُٹھا تھا۔ وہ ایک دم اُٹھ کر ابتہاج کے راستے میں آئی تھی۔
”ایک منٹ۔۔۔۔پہلے میری بات کا جواب دیں۔ کیا آپ نے اپنے بابا کا قتل نہیں کیا؟؟؟ آپ کو جیل اِسی کی وجہ سے ہوئی نا۔ پھر آپ بے قصور کیسے ہوئے۔ آپ خود اپنے بابا کے قتل کا اقرار کر چکے ہیں۔ تو اب پھر یہ کونسی نئی سچائی ہے۔ یا پھر نیا فریب ہے، جس میں آپ مجھے پھنسانا چاہتے ہیں۔“
سُلین کا دماغ اُلجھ چکا تھا۔ اُس کا دل ابتہاج لغاری کے بے قصور ہونے کی گواہی دے رہا تھا۔ مگر ساری باتیں ابتہاج کے خلاف جارہی تھیں۔
وہ عجیب دوہرائے پر آن کھڑی ہوئی تھی۔
انجانے میں وہ ابتہاج کو بار بار اُس کا تکلیف دہ ماضی یاد دلا رہی تھی۔ ابتہاج جو شدید غصے کے عالم میں وہاں سے نکل جانا چاہتا تھا۔ سُلین کے اِس طرح ایک بار پھر سامنے آجانے اور اُلٹے سیدھے سوالوں پر وہ خود پر قابو نہیں رکھ پایا تھا۔
”ہاں کیا ہے قتل میں نے اپنے باپ کا۔ بہت بے دردی سے مارا ہے اُنہیں۔ اُسی کی جیل کاٹی میں نے۔ ناصرف اپنے باپ کو بلکہ اُس کے علاوہ بھی بہت سارے لوگوں کی جان لے چکا ہوں۔“
سُلین کو دونوں کندھوں سے تھام کر اُسے اپنے بے حد قریب کرتے ابتہاج بپھرے ہوئے لہجے میں بولتا سُلین کو اپنے مزید خلاف کر گیا تھا۔
“یہی سننا چاہتی تھی نا تم۔ میں نے ایسا کیوں کیا۔ یہ سچائی اب میں کبھی نہیں بتاؤں گا تمہیں۔ اور شاید تمہیں بھی یہ جاننے میں کوئی انٹرسٹ ہے بھی نہیں۔ اگر جاننا بھی چاہو گی تو اب میں کبھی نہیں بتاؤں گی۔ لیکن تمہیں اپنی ساری زندگی اب میرے ساتھ ہی گزارنی ہے۔ اِس گھر سے جانے کی غلطی مت کرنا۔ تم پر ہی بہت بھاری پڑے گا۔“
ابتہاج جھٹکے سے اُسے چھوڑتا وہاں سے نکل گیا تھا۔ جبکہ اُس کی گرفت اتنی سخت تھی۔ کہ سُلین کو اُس کی اُنگلیاں ابھی بھی اپنے بازوؤں میں کھبی محسوس ہورہی تھیں۔
ابتہاج نے اپنے منہ سے اپنی سفاکی کی داستان بتا کر اُس کی ساری اُمیدیں ختم کر دی تھیں۔ سُلین وہی صوفے پر بیٹھتی چہرا دونوں ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
اُسے اب شدت سے احساس ہورہا تھا۔ وہ بہت غلط انسان سے محبت کر بیٹھی تھی۔ اپنے ہاتھوں سے اُس نے اپنی دل کی دنیا اُجاڑ دی تھی۔
★★★★★★★
”زورین شاہ آپ اپنے حواسوں میں تو ہے۔ یہ کیا مذاق لگا رکھا ہے آپ نے۔ دور رہیں مجھ سے۔ مجھے یہ سب نہیں پسند۔ جانتی ہوں آپ کے مجھ پر بہت سارے احسانات ہیں۔ مگر اِس کا یہ مطلب نہیں آپ میری فیلنگز کے ساتھ کھیلیں گے۔“
دل اپنی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی دھڑکنوں سے گھبرا کر زورین کے ہاتھ دور جھٹکتی تلخی سے چلائی تھی۔
وہ اتنا تو جانتی تھی اِس شخص کے دل میں اُس کا کوئی مقام نہیں تھا۔ پھر وہ یہ سب کرکے اُس کو مزید ہرٹ کیوں کررہا تھا۔ کہیں وہ جان تو نہیں گیا تھا کہ وہ اُسے چاہنے لگی ہے۔ اور اب وہ اُسی بات کا مذاق بنا کر اُسے یوں زچ کررہا تھا۔
”ارے تم تو ناراض ہی ہوگئی۔ میں تو وہی کررہا تھا۔ جو تم چاہتی ہو۔“
زورین کی شوخی سے پُر لہجے پر دل نے حیرت بھری سوالیہ نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔
”ابھی اپنی کزن سے یہی کہا نا تم نے۔ کہ مجھے پیار کرنا نہیں آتا۔ ایک خشک مزاج سڑیل انسان ہوں میں۔ میں تو صرف تمہاری وہی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کررہا تھا۔“
زورین دور ہوکر ریلنگ سے لگی دل کی جانب قدم بڑھاتا اُس کا سہانا رُوپ آنکھوں کے راستے دل میں اُتارتے بولا تھا۔
جبکہ اُس کے الفاظ دل کی آنکھیں نم کرگئے تھے۔ اُس کے دل میں سر اُٹھاتی خوش فہمی دم توڑ گئی تھی۔ اُسے خود پر شدید غصہ آنے لگا تھا۔ بھلا ایسے بے حس انسان سے دل لگایا ہی کیوں تھا۔
” آپ کو بہت مزا آتا ہے نا۔ اِس طرح میرا مذاق اُڑا کر۔ مجھے ہرٹ کرکے۔ کبھی شدید نفرت جتاتے اور دھتکارتے ہیں۔ تو کبھی یہ محبت کا جھوٹا ناٹک کرنے آجاتے ہیں۔ آپ کو آخر اِس بات کا احساس کیوں نہیں ہوتا۔ میں بھی انسان ہوں۔ میں بھی
کچھ احساسات اور جذبات رکھتی ہوں۔ مزید یہ سب برداشت کرنے کی ہمت نہیں ہے مجھ میں۔ بہت جلد چلی جاؤں گی۔ آپ سب کی زندگیوں سے۔ پھر آپ کو بھی مجھ جیسی نفرت کے قابل لڑکی کی شکل نہیں دیکھنی پڑے گی۔“
دل کے آنسو اُس کا پورا چہرا بھیگو گئے تھے۔ ہچکیوں کے درمیان بمشکل بولتی وہ زورین شاہ کو بالکل خاموش کروا گئی تھی۔
زورین ساکت سا اپنی جگہ کھڑا اُسے روتے بلکتے دیکھ رہا تھا۔ جو ابھی کچھ دیر پہلے کتنی خوش تھی۔مگر اُس کا قریب آنا اور چھونا دل کو اتنا ناگوار گزرا تھا۔ جو وہ ایسے ری ایکٹ کر رہی تھی۔
جو بھی تھا۔ لیکن زورین شاہ ایسے رویوں کا عادی نہیں تھا۔ اُوپر سے دل کا اِس بُری طرح سے رونا اور اُس کے الفاظ دونوں ہی اُسے بُری طرح تپا گئے تھے۔
دل وہاں سے ہٹ جانا چاہتی تھی۔ مگر زورین نے اُس کی راہِ فرار بند کردی تھی۔
“تم مجھے چھوڑ کر جاؤ گی۔ آج تو یہ بات کی ہے۔ لیکن اگر آئندہ ایسا بیہودہ خیال تمہارے دماغ میں بھی آیا تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔“
زورین اُس کے اردگرد ریلنگ پر ہاتھ رکھ کر ہلکا سا جھکتے بولا تھا۔ دل نے دور جانے والی بات کرکے اُس کا اچھا بھلا موڈ غارت کردیا تھا۔
دل بنا اُس سے ڈرے اُس کی آنکھوں میں جھانک رہی تھی۔ یہ شخص انجانے میں یا شاید جان بوجھ کر کئی بار اُس کے دل کا خون کرچکا تھا۔ وہ اب مزید یہ سب برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی۔
“مگر مجھے آپ۔۔۔۔۔“
دل نے غصے میں کچھ بولنا چاہا تھا جب زورین نے اُس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر مزید کچھ اُلٹا سیدھا بولنے سے روک دیا تھا۔
”یہ سب بول کر تم اپنے لیے مشکلات پیدا کررہی ہو۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا، چاہے کچھ بھی ہوجائے اب ساری زندگی کے لیے رہنا تمہیں میرے ساتھ ہی ہے۔ اِس میں تمہاری خوشی ہو یا نہ ہو۔ مگر تم زورین شاہ سے کسی قیمت پر دور نہیں جاسکتی۔“
زورین اُس کی کلائی اپنی مضبوط گرفت میں دبوچتا اُسے لیے باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔
وہ اپنی مزاج کے برعکس جاکر اپنی ایگو سائیڈ پر رکھ کر اُس کی جانب بڑھا تھا۔ مگر اِس لڑکی نے ایک منٹ میں اُس کا موڈ غارت کر کے رکھ دیا تھا۔ دل اُس کی گرفت سے اپنا ہاتھ نکالنے کی کوشش کرتی واپس اُس کے ساتھ جانے سے انکاری تھی۔ مگر زورین اُس کی ہر بات اَن سنی کرتا اُسے لیے وہاں سے نکل گیا تھا۔
★★★★★★★★
وہ گہری نیند میں تھی۔ جب موبائل کی وائبریشن پر اُس کی آنکھ کھلی تھی۔ صبح کے سات بج رہے تھے۔ رات کو بھی روتے روتے وہ بہت لیٹ سوئی تھی۔ جس کے باعث فجر کی نماز بھی قضا ہوگئی تھی۔
موبائل پر قاسم کا نمبر دیکھ اُس نے جلدی سے کال اٹینڈ کی تھی۔ مگر دوسری جانب سے جو خبر اُسے دی گئی تھی۔ اتنے دنوں بعد سُلین کا چہرا سچی خوشی سے جگمگا اُٹھا تھا۔
“آپ سچ کہہ رہے ہیں۔ پاپا کو ہوش آگیا ہے۔ وہ کوما سے باہر آچکے ہیں۔ میں بتا نہیں سکتی میں کس قدر خوش ہوں۔“
سُلین اُسے جلدی سے حبیب صاحب کے پاس پہنچنے کا کہتی بیڈ سے اُٹھی تھی۔ اتنے دنوں کی زہنی ٹینشن کے بعد اِس خوشی کی خبر نے اُس کا دماغ بالکل ریلیکس کردیا تھا۔
وہ جلد از جلد اُن کے پاس پہنچ جانا چاہتی تھی۔ ہاسپٹل جانے کی تیاری کرتے ساتھ اُس نے ڈاکٹرز کو کال کرکے اُن کی سیکیورٹی مزید بڑھانے کی ہدایت کی تھی۔ وہ اب کسی قسم کا رسک نہیں لینا چاہتی تھی۔
★★★★★★★★
“میم سر آپ کو نیچے ناشتے کے لیے بلا رہے ہیں۔“
دل جو بیڈ پر اُوندھی لیٹی تکیے میں منہ دیئے پڑی تھی۔ ملازمہ کی بات اب کی بات پھر اُن سنی کرتی آنکھیں موند گئی تھی۔
رات سے ہی اُس نے زورین کے ساتھ سے اپنا کمرہ علحیدہ کر لیا تھا۔ وہ دوسرے کمرے میں سوئی تھی۔ زورین بالکل خاموش رہا تھا۔ اُس نے دل کو اِس کے لیے بالکل بھی نہیں ٹوکا تھا۔ مگر اُسے ناشتے کے لیے نہ آتا دیکھ وہ تین بار ملازمہ کو بھیج چکا تھا۔ لیکن ہر بار دل کا یہی خاموش انکار ہی ہوتا تھا۔
“پتا نہیں اب کیوں پھر یہ سب ڈرامہ کررہے ہیں۔ اگر اتنی ہی فکر ہے۔ تو خود کیوں نہیں بلانے آجاتے۔ مگر کیا کریں بچارے اکڑ جو اتنی ہے۔ اُسے کیسے سائیڈ پر رکھیں۔“
دل خود سے ہی کڑھتی شدید بھوک ہونے کے باوجود ایسے ہی پڑی رہی تھی۔ وہ بھی دل میں اب زورین شاہ کی کوئی بھی بات نہ ماننے کا ارادہ کرچکی تھی۔ تاکہ وہ خود ہی تنگ آکر اُسے چھوڑ دے۔
وہ ابھی انہی سوچوں میں مگن تھی۔ جب دروازہ کھلنے کے ساتھ بھاری قدموں کی آواز گونجی تھی۔ کمرے میں پھیلتی اُس کی سحر انگیز خوشبو پر دل نے اپنی سانسیں روکی تھیں۔
زورین نے بنا کچھ بولے بیڈ کے قریب پہنچ کر اُس کی جانب جھکتے اُس کا بازو تھام کر کھینچا تھا۔ دل اِس اچانک حملے کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھی۔ لڑکھڑاتے قدموں سے کھڑی ہوتی وہ اُس کے سینے سے جاٹکرائی تھی۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے۔ آپ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے آخر۔“
دل اُس کی سینے پر ہاتھ رکھ کر فاصلہ برقرار رکھنے کی کوشش کرتے بولی۔
”ناشتہ کرو چل کر۔“
زورین اُس کا ہاتھ تھامے باہر کی جانب بڑھا تھا۔
“مجھے نہیں کرنا۔“
دل بضد تھی۔
“تم مجھے سختی کرنے پر مجبور کررہی ہو۔“
زورین نے غصے سے اُسے گھورا تھا۔
”مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا۔ پلیز جانے دیں مجھے۔“
دل اُس کے بے حد قریب کھڑے ہونے پر نظریں چراتے بولی تھی۔ زورین نے بہت غور سے اُس کا گلابی پڑتا چہرا دیکھا تھا۔ اُس کے بدلے بدلے انداز تو زورین کافی دنوں سے نوٹ کررہا تھا۔
” یہ اچانک تم مجھ سے اتنا گریز کیوں برتنے لگی ہو۔ کہیں محبت تو نہیں ہوگئی مجھ سے۔“
دل کا گلابی پڑتا ناک کھینچتے وہ اُس کی دکھتی رگ چھیڑ کیا تھا۔
”میں ابھی اتنی پاگل بھی نہیں ہوئی۔ جو آپ جیسے پتھر سے محبت کروں۔“
دل اُس سے ہاتھ چھڑاتی رُخ پھیر کر کھڑی ہوگئی تھی۔ زورین کی مسکراتی نظریں اُسے پزل کررہی تھیں۔
”اب چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں میں جانتا ہوں۔ تم خود کو مجھ سے محبت کرنے سے نہیں روک پائی۔“
دل کو لگا تھا جیسے زورین اُس کا مذاق اُڑا رہا ہے۔
وہ ایکدم واپس پلٹی تھی۔ اور بھیگی شکوہ کناں نظروں سے اُس کی جانب دیکھتے اُس کے گریبان کو دونوں مٹھیوں میں جکڑ لیا تھا۔
“سمجھتے کیا ہیں آپ خود کو۔ نفرت کرتی ہوں میں آپ سے شدید نفرت۔ آپ کے ساتھ رہ کر جتنی تکلیف برداشت کی ہے میں نے۔ اتنی تو میرے خاندان والوں کی وجہ سے بھی نہیں ہوئی۔ اُنہیں مجھ سے نفرت تھی تو ہمیشہ نارواں سلوک ہی رکھا مجھ سے۔ آپ کی طرح دو رُخ نہیں تھے اُن کے۔ کبھی قریب آکر نرمی برتنا، سب کے سامنے مجھے عزت دینے کا دکھاوا کرکے میرے جذبات کے ساتھ کھیلنا اور کبھی مجھے بے عزت کرکے میری اوقات یاد دلا دینا۔ میں تنگ آگئی ہوں آپ کے کھیل سے۔ میرے ماں باپ مجرم ہیں نا آپ کے۔ تو آپ ایسا کریں مجھے ختم کردیں۔ اِس طرح آپ کے انتقام کی آگ بھی بجھ جائے گی اور میری اذیت بھی ختم ہوجائے گی۔“
دل اُس کے ہاتھ تھام کر اپنی گردن پر رکھتی اِس وقت اُسے اپنے حواسوں میں نہیں لگی تھی۔
زورین کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا۔ اُس نے کسی اور کے کیے کی سزا اِس معصوم لڑکی کو دینی چاہی تھی۔ جو بے قصور تھی۔ اور نجانے کب سے ناکردہ گناہوں کی سزا سہتی آرہی تھی۔
زورین شاہ کو لگا تھا۔ وہ اِس پیاری سی لڑکی کا دل بہت آرام سے جیت لے گا۔ اُس کی مایوسی بھری زندگی میں اپنی محبت سے خوشیوں بھرے رنگ بھر دے گا۔ مگر آج دل کی حالت دیکھ کر اُسے لگا تھا وہ بہت ٹوٹ چکی ہے۔ جسے اب زورین نے بہت نرمی اور محبت سے جوڑنا تھا۔
لیکن اُس سے بھی پہلے زورین یہ جاننا چاہتا تھا۔ کیا واقعی ہی وہ اُس سے محبت کرتی تھی۔ یا وہ بلاوجہ ہی کسی خوش فہمی میں مبتلا ہورہا تھا۔
“اگر تم مجھ سے محبت نہیں بھی کرتی۔ تو اب اپنے دل کو اِس نئے روگ کے لیے تیار کر لو۔ کیونکہ زورین شاہ بے پناہ محبت کرنے لگا ہے تم سے۔ اب ساری زندگی میرے ساتھ ہی رہنا ہے تم نے۔ تو اُس کے لیے محبت ہونا تو لازم ہے۔“
زورین اپنی پلاننگ کے بارے میں سوچتا مسکرایا تھا۔ اُس نے بنا دل سے اپنا گریبان آزاد کروائے اُس کے گرد حصار کھینچا تھا۔ مگر بولا کچھ نہیں تھا۔
“دور رہیں مجھ سے۔“
دل نے مزید طیش میں آتے اُس سے دور ہونا چاہا تھا۔ اِس سے پہلے کے زورین کچھ بولتا جب دروازہ ناک ہوا تھا۔ دل جھٹکے سے اُس سے دور ہوئی تھی۔
”سر نتاشا بی بی جی آئی ہیں آپ سے ملنے کے لیے۔“
ملازمہ اطلاع دیتی پلٹ گئی تھی۔
جبکہ اُس لڑکی کا نام سنتے ہی زورین کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔ جسے دل نے بہت غور سے دیکھا تھا۔
زورین بنا کچھ بولے وہاں سے نکل گیا تھا۔ جو بات دل کو مزید تپا گئی تھی۔ اِس انسان کی زندگی میں اور لڑکیاں بھی تھیں۔ مطلب اب تو اُس کی کہیں کوئی جگہ بچتی ہی نہیں تھی۔
★★★★★★★★

جاری ہے۔۔۔۔۔۔