No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
لاہور سینٹرل جیل کی بلند و بالا درودیوار پر ڈھلتے سورج کی کرنیں بکھری وہاں کی اُداسی اور بوجھل سی خاموشی میں مزید اضافہ کررہی تھیں۔ جہاں کئی قیدی اپنے جرموں کی قید کاٹتے اپنی سزا ختم ہونے کے منتظر تھے۔
“ماننا پڑے گا تمہیں۔ اتنی کم خوراک کے باوجود تم نے اپنے کسرتی جسم کو کیسے فٹ رکھا ہوا ہے۔“
اِس وقت جیل کے اِس کمرے میں چار قیدی موجود تھے۔ اتنے سال ایک ساتھ ایک ہی جگہ بند رہ کر اُن کے درمیان بہت محبت اور بھائی چارہ قائم ہوچکا تھا۔ فرش پر پڑی سخت سی میلی چٹائی میں دو لوگ دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ جبکہ اُن کے عین سامنے کچھ ہی فاصلے پر ہتھیلیاں اور پیروں کے پنجے زمین پر ٹکائے سیاہ بنیان میں پسینے سے شرابور اپنی کمر پر ستر کلو کے نوجوان کو بیٹھائے وہ پُش اپس لگانے میں مصروف تھا۔ اپنے سامنے بیٹھے شخص کی بات پر اُس کے چہرے پر ہلکی سی تلخ مسکراہٹ اُبھر کر معدوم ہوئی تھی۔ اِس سے پہلے کے وہ بات کا جواب دیتا جیل کے باہر آکر کھڑے ہوتے جیلر کی آواز پر وہ سب اُس کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔
”کیا ہوا جیلر صاحب آج بے وقت کی انٹری۔ سب خیریت تو ہے نا۔“
دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھے شایان نے حیرت کا اظہار کرتے کہا تھا۔ کافی عرصہ گزر جانے کی وجہ سے اُن کی آپس میں اچھی سلام دعا ہوگئی تھی۔
” ہاں ہاں سب خیریت ہی ہے۔ ابتہاج لغاری ملاقات آئی ہے تمہاری۔“
جیلر کی غیر یقینی بات پر کسرت کرتے ابتہاج کے بازو ایک پل کے لیے ساکت ہوئے تھے۔ مگر پھر فوراً ہی لب بھینچتے اُس نے اپنا کام جاری رکھا تھا۔
” مجھے کسی سے نہیں ملنا۔ میرا بارے ميں کسی کو کچھ بھی بتانے کی ضررورت نہیں ہے۔“
سرد تاثرات اور ہر احساس عاری پتھریلے لہجے میں کہتے اُس نے وہاں موجود باقی افراد کو بھی اپنی جانب دیکھنے پر مجبور کر دیا تھا۔
”وہ تمہاری رہائی کی تاریخ پوچھ رہے تھے۔“
جیلر بھی اچھے سے واقف تھا کہ پچھلے چھے سالوں سے اُس کے گھر والے ایک یا دو بار سے زیادہ نہیں آئے تھے۔ اِس لیے اِس خوبرو نوجوان سے اُسے ایک الگ قسم کا لگاؤ تھا۔ اُس کی وجیہہ شخصیت کا اندازہ قیدیوں کے یونیفارم میں ملبوس بڑھی ہوئی شیو کے باوجود لگایا جاسکتا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا خود میں جکڑ لینے والا سحر موجود تھا۔ جو مقابل کو خودبخود ہی اپنے رعب میں لے آتا تھا۔ اُس کے بات کرنے کا انداز اور رکھ رکھاؤ اُس کا کسی اچھے خاندان سے ہونے کا پتا دیتے تھے۔ اِس سب کے باوجود اُس کا یہاں ہونا دیکھنے والوں کے دلوں میں بہت سے سوال پیدا کردیتا تھا۔ جن کا جواب دینا ابتہاج لغاری نے کبھی ضروری نہیں سمجھا تھا۔
” کہنا اب تا عمر رہائی ممکن نہیں میری۔ “
ابتہاج کی بات پر وہ گہرا سانسں خارج کرتا وہاں سے ہٹ گیا تھا۔
” ایک بار مل تو لیتے۔“
باقی سب تو اُس کے تاثرات دیکھ کر خاموش ہی رہے تھے۔ جبکہ اُس کے اُوپر بیٹھے آصف کے منہ میں ہمیشہ کی طرح کھجلی ضرور ہوئی تھی۔ جس کا جواب ابتہاج نے اگلے ہی لمحے اُسے زمین پر پٹختے ہوئے دیا تھا۔
” آہ ظالم شخص میری کمر توڑ دی۔۔۔۔“
آصف کمر پر ہاتھ رکھتے کڑاہتے ہوئے بولا۔ جبکہ باقی دونوں کا قہقہ برآمد ہوا تھا۔
” تمہاری بکواس کا اِس سے اچھا جواب اور کوئی نہیں ہوسکتا تھا۔“
ابتہاج تولیہ سے اپنا پسینے سے شرابور چہرا اور گردن خشک کرتے ہوئے بولا۔
اُن سب سے وہ بہت اچھے سے بات کرتا تھا۔ مگر اِن چھے سالوں میں اُنہوں نے ایک بار بھی اُسے ہنستے نہیں دیکھا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں ناچتی وحشت کبھی کبھی اُنہیں بھی خوفزدہ کردیتی تھی۔
وہ چاروں اِس جیل میں ہفتوں کے فرق سے تقریباً آگے پیچھے ہی آئے تھے۔ پچھلے چھے سالوں سے وہ ایک دوسرے کے مشکل وقت میں سائے کی طرح ساتھ بنے رہے تھے۔ اگر کوئی ایک بیمار ہوتا تھا تو باقی سب کی رات آنکھوں میں کٹتی تھی۔ وہ سگے رشتوں سے بڑھ کر ایک دوسرے کو عزیز ہوچکے تھے۔ سب نے اپنے یہاں آنے کی وجہ اور اپنے غم شیئر کیے تھے۔ جنہیں ابتہاج نے سن کر اُنہیں بانٹنیں کی پوری کوشش کی تھی۔ مگر کبھی اپنے دل کا حال نہیں بتایا تھا۔ نہ ہی اُن کے بہت پوچھنے کے باوجود یہاں آنے کی وجہ بتائی تھی۔ گھر والوں کے نام پر ہمیشہ اُس کا ری ایکشن ایسا ہی ہوتا تھا۔ جس کی وجہ سے اب اُنہوں نے پوچھنا ہی چھوڑ دیا تھا۔
”اللّٰه کرے آج پھر اُس آئی جی کی بیٹی آئے تمہیں ملنے۔ پچھلی بار پانچ گھنٹے گھور کر گئی تھی۔ اِس بار دس گھنٹے بعد جائے۔ تمہاری وہ سڑی ہوئی شکل دیکھنے کا اپنا ہی مزا ہے۔“
آصف اپنی کمر توڑوانے کے بعد بھی باز نہیں آیا تھا۔ باقی سب ابتہاج کی سنجیدہ طبیعت کی وجہ سے اُس سے کم ہی مذاق کرتے تھے۔ مگر آصف ابتہاج کے زیادہ کلوز تھا۔ جس کی وجہ سے وہ کوئی بھی بات بنا سوچے سمجھے اُسے بول دیتا تھا۔ آصف کے چچا نے اُس کے بھائی کا قتل کرکے اُسے جھوٹے کیس میں پھنسا کر جیل بھیج دیا تھا۔ جس صدمے کی وجہ سے وہ یہاں آکر ہر وقت چپ چاپ ایک کونے میں پڑا رہتا ہے۔ ابتہاج نے اُس کی حالت پر ہمدردی محسوس کرتے اُس کا بہت خیال رکھا تھا۔ اُسی کو کوشش کی وجہ سے آصف زندگی کی طرف واپس لوٹ آیا تھا۔ ابتہاج نے دل میں یہی ارادہ باندھ رکھا تھا کہ یہاں سے نکل کر اُسے سب سے پہلے آصف کا انصاف دلانا تھا۔
دوسری جانب اُن کے ساتھ موجود شایان اور فرحان عادی مجرم تھے۔ چوری چکاری، ڈاکا ڈالنا اور پیسہ لے کر لوگوں کو پیٹنا یہی کام تھا اُن کا۔
★★★★★★★
فاران رائل ریسٹورنٹ میں اِس وقت کافی رش لگا ہوا تھا۔ یہ ریسٹورنٹ شہر کے رونق میلے اور شور شرابے سے دور ایک نہایت ہی پرسکون سی لوکیشن پر بہت ہی خوبصورت انداز میں تعمیر کیا گیا تھا۔ مکمل لکڑی سے تیار کیا گیا یہ ریسٹورنٹ دیکھنے والوں کو اپنی جانب متوجہ ضرور کردیتا تھا۔ لکڑی کے بڑے سے گیٹ سے اندر داخل ہوتے منفرد قسم کے رنگ برنگے پھولوں کی کیاڑیوں کے درمیان اُسی طرح کے مختلف رنگوں کے پتھروں کی روش تھی۔ روش کے دونوں اطراف گراؤنڈ موجود تھا۔ جہاں پر لکڑیوں کی بہت ہی منفرد سی بغیر ہینڈ والی کرسیاں رکھی گئی تھیں۔ اُس رنگوں بھری خوبصورت پتھروں کی روش کو طے کرتے سامنے ہال کا بڑا سا دروازہ تھا۔ جبکہ باہر کی طرف ہی دائیں جانب سے اُوپر جاتیں لکڑی کی بنیں سٹائلش سی سیڑھیاں تھیں۔ جہاں پر اسپیشل ارینجمنٹس برتھ پارٹیز یا چھوٹے موٹے فنکشنز کیے جاتے تھے۔ یہ ریسٹورنٹ اپنی خوبصورت بناوٹ سے لے کر لذیز کھانوں تک ہر چیز میں اپنی مثال ایک تھا۔ اِس لیے ایک بار آنے کہ بعد لوگ اکثر یہاں پائے جاتے تھے۔ چاہے وہ کتنے ہی ماڈرن کیوں نہ ہو یا پھر تھوڑی سی تنخواہ پر گزارہ کرنے والا معمولی پرائیویٹ ملازم۔ یہاں کے کھانے ہر طرح کے لوگ افورڈ بھی کرسکتے تھے۔ اور کھانے کے معیار پر اپر کلاس ماڈرن لوگوں کو کبھی کوئی اعتراض بھی نہیں ہوا کرتا تھا۔
”ہر ٹیبل پر ڈیلیوری ٹھیک سے ہورہی ہے؟“
ریسٹورنٹ کا منیجر قاسم ویٹرز کے ہیڈ کے قریب آکر اردگرد پورے ہال پر نگاہ دوڑاتے ہوئے بولا۔
”جی سر۔ سب کچھ اچھے سے مینج ہورہا ہے۔“
زاہد ویٹرز کو ہدایت دینے کے ساتھ ساتھ اُسے جواب دیتے ہوئے بولا۔ اِدھر سے مطمئین ہوکر وہ شام کو ہونے والے فنکشن کی ڈسکشن کررہے تھے۔ جب ایک زور دار آواز کے ساتھ پورے ہال میں سناٹا چھا گیا تھا۔
ویٹر ٹرے لے کر جاتے سامنے سے آتی کسی عورت سے ٹکرا گیا تھا۔ اُسی کے نتیجے میں ٹرے سمیت اُس میں سجے تمام برتن اور کھانا زمین بوس ہوچکا تھا۔
”اندھے ہو کیا۔ دیکھائی نہیں دیتا تمہیں۔ میری قیمتی ساڑھی برباد کرکے رکھ دی۔“
وہ درمیانی عمر کی عورت انتہائی سٹائلش اور قیمتی ساڑھی میں ملبوس فل میک اپ کیے اپنی عمارت اچھی طرح واضح کررہی تھی۔ جوس کے کچھ چھینٹے ساڑھی پر گر جانے کی وجہ سے وہ بے انتہا غصے کا شکار ہوتی چلائی تھی۔
“ایکسکیوزمی میم۔۔۔۔۔وی آر رئیلی سوری۔۔۔“
قاسم جلدی سے بھاگتے اُن کے قریب آیا تھا۔
” سوری کا کیا مطلب ہے۔ میرا ایک لاکھ کا نقصان کردیا۔۔۔۔۔کہاں ہے اِس ریسٹورنٹ کا اونر بلاؤ اُسے۔ کیسے جاہل لوگوں کو رکھا ہوا ہے کام پر یہاں۔“
وہ عورت غیض و غضب کی تصویر بنی اُس ویٹر کو مار دینے کے در پے لگ رہی تھی۔ ریسٹورنٹ میں موجود باقی تمام لوگ بھی اِس جانب متوجہ ہوتے اِس ڈرامے سے بہت ڈسٹرب ہوتے لگ رہے تھے۔
” کہا ہے اونر اِس ریسٹورنٹ کا۔“
وہ عورت قاسم پر چلاتے بولی۔ جب اُس نے بائیں جانب سے سیڑھیاں اُتر کر نیچے آتی لڑکی کی جانب اشارہ کیا تھا۔
بلیک کلر کے سادہ سے سوٹ میں شیفون کا باریک کڑاہی والا دوپٹہ بہت ہی سلیقے سے سر پر اوڑھے سفید ملائی جیسے دودھیا پیروں میں بلیک کھسے پہنے وہ دھیمی چال چلتی قریب آرہی تھی۔ اُس عورت سمیت کتنے ہی لوگوں کی نظریں اُس حُسن و سادگی کے پیکر پر جم سی گئی تھیں۔ اُس کے ہونٹوں پر سجی دلفریب سی نرم مسکراہٹ اُس کے پرکشش چہرے کو مزید دلکش بنا رہی تھی۔
”میم میں پرسنلی آپ سے اِس ناخوشگوار واقعہ کے حوالے معذرت کرتی ہوں۔ یہ سب غیر ارادی طور پر ہوا اِس میں کسی کی کوئی غلطی نہیں ہے۔“
بہت ہی مہذب لہجے میں چہرے پر پروفیشنل سی مسکراہٹ سجائے وہ سامنے کھڑی خاتون سے مخاطب تھی۔ جس نے اپنی ایک لاکھ کی ساڑھی پر پڑنے والے چند چھینٹوں کی وجہ سے اُس کے پورے ریسٹورنٹ کا ماحول خراب کرکے رکھ دیا تھا۔
” تو تمہارے مطابق اِس ویٹر نے جو مجھ پر ڈرنک گرائی ہے۔ اُس میں میری غلطی ہے۔“
ریسٹورنٹ کی اونر کو دیکھ پہلے جہاں اُس عورت کے تاثرات ٹھیک ہوئے تھے۔ وہی اُس کی بات سن کر وہ پھر سے بھڑک اُٹھی تھی۔
”میم میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔ جب یہ ٹکراؤ ہوا تو میں وہاں اُوپر کھڑے سب دیکھ رہی تھی۔ ویٹر پورے دھیان میں ہی آرہا تھا۔ پیچھے سے کسی کے پکارنے پر وہ رکا تھا۔ جب آپ فون پر بات کرتیں بنا آگے دیکھ کر چلتیں غلطی سے ویٹر سے ٹکرا گئیں۔ اِس سب کے باوجود میں اور میرا سٹاف آپ سے معذرت کرچکے ہیں۔ اِس لیے بہتر ہوگا کہ آپ یہ سب ختم کردیں۔ باقی لوگ ڈسٹرب ہورہے ہیں۔“
وہ لڑکی بہت ہی شائستہ لہجے مگر صاف لفظوں میں بولتی اُس عورت کو اُس کی غلطی واضح کر گئی تھی۔
“تم جانتی بھی ہو تم کس سے بات کررہی ہو۔ گلشن آرا نام ہے میرا۔ ایک جھٹکے میں تمہارا یہ ہوٹل بند کروا سکتی ہوں۔ ابھی اور اِسی وقت اپنے اِس ویٹر کو نوکری سے فارغ کرو ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔“
گلشن بیگم کے لیے تو یہ بات اب عزت بے عزتی کا مسئلہ بن چکی تھی۔ اُس کی دھمکی پر سامنے کھڑی ریسٹورنٹ کی اونر سُلین حبیب تو بالکل ویسے ہی نرم تاثرات لیے کھڑی رہی تھی۔ مگر اُس کے پیچھے کھڑا اُس کا منیجر قاسم غصے سے آگے بڑھا تھا۔ مگر سُلین نے ہاتھ کے اشارے سے اُسے ریلیکس رہنے کو کہا تھا۔ اُس کے ایک اشارے پر ہی قاسم کے قدم وہیں جم گئے تھے۔
”میم مجھے اپنے سٹاف میں کس کو رکھنا ہے اور کس کو نہیں یہ میں اچھی طرح جانتی ہوں۔ اگر آپ خواہ مخواہ ایشو بنا کر کچھ بھی کرنا چاہتی ہیں تو آپ کی مرضی۔“
سُلین اُس خاتون کی دھمکی کے باوجود نہایت مہذب لہجے میں جواب دیتی واپس پلٹ گئی تھی۔
”بھولوں گی نہیں میں اِس بے عزتی کو۔ گلشن آرا کے ساتھ اِس طرح پیش آنے کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ ایک معمولی ویٹر کی وجہ سے تم نے میرے ساتھ ایسے بات کی۔“
وہ عورت واپس پلٹتی سُلین کو غصے بھرے لہجے میں وارن کرتی وہاں سے نکل گئی تھی۔
سُلین بنا اِس بات کا زیادہ نوٹس لیتی سر جھٹکتی کاؤنٹر کی جانب بڑھ گئی تھی۔
”میم آئم سوری میری وجہ سے آپ کو اتنی باتیں سننی پڑیں۔ مگر آپ یقین۔۔۔۔“
وہی ویٹر سرجھکائے اپنی انتہائی نرم دل اور مہربان سی مالکن کے قریب آتے بولا۔ جس نے کبھی اُنہیں اپنا ملازم نہیں سمجھا تھا۔ نہ خود کبھی کسی بات پر بے عزت کیا تھا نہ ہی کسی کو ایسی کوئی اجازت دی تھی۔ وہ اپنے پورے سٹاف کو بالکل اپنی فیملی کی طرح عزیز رکھتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہاں موجود تمام لوگ اُس سے بہت زیادہ مخلص اور اُس کی بہت عزت کرتے تھے۔
” کامران آپ کیوں سوری کررہے ہیں۔ میں جانتی ہوں آپ کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ آپ کو کسی بات کے لیے بھی شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔“
سُلین نے اُسے ندامت زدہ دیکھ فوراً ریلیکس کرتے وہاں سے بھیج دیا تھا۔
”اور قاسم صاحب آپ کو غصہ کچھ زیادہ نہیں آنے لگا آج کل۔“
سُلین کڑے تیوروں سے پیچھے کھڑے اپنے منیجر کاظم غصے گھورتے ہوئے بولی۔
”سوری میم مگر وہ آپ سے بہت غلط لہجے میں بات کررہی تھیں۔۔۔۔۔۔“
لمبا چوڑا قاسم علی اِس وقت سُلین کے سامنے سرجھکائے کھڑا اپنے غصہ کرنے پر سوری کرنے کے بعد وجہ بھی بتا گیا تھا۔
” کنٹرول رکھیں خود پر۔ اِس طرح ہائیپر ہونا اچھی بات بالکل بھی نہیں ہے۔“
سُلین اُس کے ریزن پر بنا کوئی جواب دیئے اُسے نصیحت کرتی آگے بڑھ گئی تھی۔ اُسے دور جاتا دیکھ قاسم نے ایک نظر اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔ اور اگلے ہی لمحے نگاہیں فوراً جھکا لی تھیں۔ سُلین حبیب نے بہت ہی کم عمری میں اپنے بابا کی چھوڑی زمہ داری سنبھال لی تھی۔ پورے ریسٹورنٹ کو اپنی قابلیت کے بل بوتے پر اُس نے آج اِس مقام پر پہنچا دیا تھا۔ جس میں قاسم علی نے اُس کا پورا ساتھ دیا تھا۔
★★★★★★★★
”دل میں اب بھی کہہ رہی ہوں سوچ لو۔ بڑی اماں کو پتا چل گیا تو بہت مشکل ہوجائے گی۔“
سویرا اُسے مسلسل روکنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔ جبکہ اُن کے پیچھے آتی لائبہ اور صوفیہ کے چہرے کے تاثرات بھی کچھ ایسے ہی تھے۔
” تم لوگوں کو کس بات کی ٹینشن ہے۔ میرے ساتھ ہوتے تم لوگوں کو کچھ نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ اُن کا سارا نزلہ مجھ پر گرنا ہے۔ ہڈیاں ٹوٹیں گی تو صرف میری۔“
دل آویز اُن سب کو ڈرا دیکھ فخریہ انداز میں بولی تھی۔ وہ چاروں دن کے اڑھائی بجے تپتی دوپہر میں دبے پاؤں ذکریا منزل سے نکل کر مین گیٹ کے بجائے دائیں جانب بنے چھوٹے سے دروازے کی جانب بڑھی تھیں۔ جو زیادہ تر لاک رہتا تھا۔ مگر آج دل آویز نے بہت ہی ہوشیاری سے اِس دروازے کی چابیاں اپنی سگی خالہ اور باقی سب کی پھوپھو رقیہ بیگم جن کو گھر کے سب بچے بڑی ماں کہہ کر پکارتے تھے کے کمرے سے اُٹھا لائی تھی۔
ذکریا منزل کے بالکل برابر میں ہی بہت بڑے رقبے پر باغ بنایا گیا تھا۔ جہاں مختلف پھلوں کے درخت لگے ہوئے تھے۔ مگر کافی ٹائم سے وہاں ہوتے کام کی وجہ سے اُنہیں وہاں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ ٹیرس سے کھڑے ہوکر نجانے کتنے دنوں سے وہ آم کے درخت پر لگی کیریوں کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ آج دوپہر میں سب کے سونے کے بعد آخر ہمت کرکے اُنہوں نے کیریوں سے لطف اندوز ہونے کا پلان بنا ہی لیا تھا۔ مگر اب اُس طرف جاتے اُن لوگوں کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ لیکن دل آویز اتنے آگے آکر اب واپس پلٹنے کی بے وقوفی نہیں کرنا چاہتی تھی۔
” دل اُسی بات کی تو ٹینشن ہے غلطی ہم سب کی ہوگی۔ اور بڑی ماں سے ڈانٹ صرف تمہیں پڑے گی۔ ابھی دو دن پہلے بھی تو تمہیں کتنی بڑی طرح ڈانٹ کر تمہارا دو ٹائم کا کھانا بند کردیا تھا اُنہوں نے۔ چھوڑوں ہمیں نہیں کھانے آم تم واپس چلو۔“
صوفیہ دل آویز کو لاک کھول کر آگے جاتا دیکھ فکرمندی سے بولی تھی۔
”یار کتنی ڈرپوک ہو تم لوگ۔ اور اللّٰه جی نے یہ دو کان اِسی لیے دیئے ہیں۔ تاکہ ایسی باتیں ایک سے سن کر دوسرے سے نکال دی جائیں۔ اور رہی بات کھانا بند کرنے کی۔ تو بھلا ایک منٹ بھی تم لوگوں نے مجھے بھوکا رہنے دیا۔ میری طرف دونوں ٹائم کا کھانا پہنچا دیا نا۔ اِس بار بھی ایسے ہی کرنا۔ پر پلیز اِس وقت میرا بہت دل کررہا ہے۔ کیریاں کھانے کو۔ آج ہی مزدور نہیں ہیں کل سے پھر اُنہوں نے آجانا ہے۔”
دل آویز تیز تیز بولتی اپنی بے فکری سے اُن تینوں کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گئی تھی۔
” دل تمہارا واقعی کچھ نہیں ہوسکتا۔“
وہ لوگ جلدی سے باغ کے احاطے میں داخل ہوتی درختوں کے پیچھے چھپتی آگے بڑھی تھیں۔
” واؤ اِنہیں تو دیکھ کر ہی میرے منہ سے پانی آگیا ہے۔“
دل آویز آم کے درخت کے قریب پہنچتے خوشی سے چہکتے ہوئے بولی تھی۔ اُسے ایسی کھٹی چیزیں بہت پسند تھیں۔ جن کی وجہ سے اکثر اُس کا گلا اتنا خراب ہوجاتا تھا کہ آواز بھی نہیں نکل پاتی تھی۔ مگر اُس کو کسی کام سے روکنا آسان نہیں تھا۔ ہر وقت ڈانٹ کھانے کے باوجود وہ اپنی کرنے سے باز نہیں آتی تھی۔
اگلے ہی لمحے دل آویز اور سویرا بندروں کی طرح اُچھلتیں درخت کے اُوپر چڑھ چکی تھیں۔ دونوں نے مل کر ٹہنیاں ہلاتے زمین پر کیریوں کی برسات کردی تھی۔ جس کے بعد صوفیہ اور لائبہ انتہائی پھرتی کا مظاہرہ کرتیں سارے آم اپنے دوپٹے میں ڈالنے لگی تھیں۔
”اوہ نو۔ مجھے لگتا ہے کوئی اِس طرف آرہا ہے۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔“
قریب سے آتی قدموں کی آواز پر اُن کے چہروں کے رنگ اُڑ چکے تھے۔
” تم دونوں بھاگو یہاں سے۔ میری کیریاں نہیں پکڑی جانی چاہئیں۔ “
درخت سے اُترتی دل آویز کو اِس وقت بھی اپنی کیریوں کی فکر تھی۔ لائبہ اور صوفیہ جلدی سے ساری کیریاں سمیٹتی وہاں سے نکل گئی تھیں۔
” کیا کررہی ہو تم دونوں یہاں۔“
سویرا کے بعد دل آویز درخت کی نچلی ٹہنی سے چھلانگ لگاتی سامنے کھڑے شخص کے قدموں کے قریب جاگری تھی۔
” دیکھا جس کی جہاں اوقات ہوتی ہے۔ وہ وہی پہنچتا ہے۔“
تقی دل آویز کو اپنے قدموں میں گرتا دیکھ طنزیا لہجے میں بولا تھا۔
“تقی بھائی پلیز آپ کسی کو مت بتائیے گا ورنہ ہمیں بہت ڈانٹ پڑے گی۔“
سویرا اپنے چچا زاد تقی کو وہاں آتا دیکھ ملتجی لہجے میں بولی تھی۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ایسے چھچھورے لوگوں کی منتیں کرنے کی۔ اِسے کہنے سے تو زیادہ بہتر ہے میں خود جاکر کر بڑی ماں کو بتا دوں۔“
تقی کے الفاظ دل آویز کو زہر سے بھی بُرے لگے تھے۔ جس کا وہ اُسے اچھی طرح جواب دیتی سویرا کا ہاتھ تھامے وہاں سے نکل گئی تھی۔
اُس کی بات پر تقی کا چہرا غصے سے لال ہوا تھا۔ جبکہ سویرا اب آنے والے وقت کا سوچتی افسوس سے سرہلا کررہ گئی تھی۔ اُسے کسی نے کچھ نہیں کہنا تھا۔ مگر دل آویز کو کسی نے چھوڑنا نہیں تھا۔
”بہت پر نکل آئے ہیں تیرے دل بی بی۔ اب تو کاٹنے ہی پڑیں گے۔“
تقی اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے بولتا اُن کے پیچھے بڑھ گیا تھا۔ ابھی اُسے بڑی ماں سے دل آویز کو بے عزت کروا اپنی زندگی کا سب سے پسندیدہ منظر بھی تو دیکھنا تھا۔
★★★★★★★
جاری ہے۔۔۔۔
