Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

سُلین اپنی جگہ شاک کی کیفیت میں ابتہاج کا یہ جارحانہ عمل دیکھ رہی تھی۔
جو نہایت ہی سکون سے قاسم کی کال کاٹ کر اُس کا موبائل آف کرگیا تھا۔
”یہ کیا بدتمیزی ہے مسٹر ابتہاج۔ آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرا موبائل چھیننے کی۔“
سُلین سے اُس کا یہ حاکمانہ انداز برداشت نہیں ہوا تھا۔ نہ ہی وہ ایسے برتاؤ کی عادی تھی۔
” میری ہمت تو بہت کچھ کرنے کی ہے۔ بشرطیکہ آپ سہہ پائیں۔“
ابتہاج کے اِس بدلتے لب و لہجے پر سُلین کے خوف میں مزید اضافہ ہوا تھا۔ اُس نے نظریں اُٹھا کر ابتہاج کی جانب دیکھا تھا۔ جس کے چہرے کے تاثرات پہلے سے کافی ڈھیلے پڑ چکے تھے۔ مگر آنکھوں کی وحشت اب بھی ویسی ہی برقرار تھی۔
کچھ یاد آتے سُلین کی نظر اُس کے بازو کی جانب اُٹھی تھی۔ جس پر گولی لگی تھی۔ جہاں پٹی تو بندھی ہوئی تھی۔ مگر ابتہاج اِس بات کی پرواہ کیے بغیر اُسی بازو سے ڈمبل اُٹھانے کے لیے نیچے جھکا تھا۔
”آپ کو چوٹ لگی ہے۔ یہ کیا کررہے ہیں آپ۔ آپ کو تو بازو ہلانا بھی نہیں چاہیئے اور آپ یہ اتنا ویٹ اُٹھا رہے ہیں۔“
سُلین خود بھی سمجھ نہیں پائی تھی کہ اچانک اُسے کیا ہوا تھا۔ اپنے موبائل والی بات فراموش کرتی وہ بے اختیار اُس کی فکر میں بول پڑی تھی۔
جس پر ابتہاج نے کافی حیران نظروں سے اُسے گھورتے اچھا خاصہ شرمندہ بھی کردیا تھا۔
”میڈم میری آدھی سانس بھی رہ جائے گی۔ میں تب بھی اپنی ایکسرسائز کرنا نہیں چھوڑوں گا۔ یہ ایک گولی تو بہت ہی معمولی بات ہے۔ نشہ ہے یہ میرا۔“
ابتہاج نے اُسے تیکھے لہجے میں جواب دیتے اُسی ہاتھ سے ڈمبل اُٹھا لیا تھا۔ جسے دیکھ سُلین کو اپنے بازو میں درد ہونا شروع ہوچکا تھا۔
”پاگل انسان۔۔۔۔ لوہے کا تو نہیں بنا ہوا۔ اِسے درد بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔“
سُلین اُسے اپنے کام میں مصروف دیکھ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی تھی۔ جو کہ با آسانی ابتہاج کے کانوں میں پہنچ بھی گئی تھی۔ اُس کی سننے کی حِس کچھ زیادہ ہی تیز تھی۔
”ٹھیک کہا آپ بے۔ میرا وجود اب لوہے کا ہی بن چکا ہے۔ اور اِس کے سینے میں موجود دل پتھر کا۔“
ابتہاج کے جواب پر سُلین اُس کی آنکھوں میں ناچتی وحشت دیکھے گئی تھی۔ پچھلی تین ملاقاتوں میں اُس نے اِس شخص کی ایک بار بھی مسکراتے نہیں دیکھا تھا۔ جیسے مسکرانا جانتا ہی نہ ہو۔
”آپ کے بازو سے خون نکل رہا ہے۔ پلیز واپس رکھیں اِسے۔“
سُلین کو اِس عجیب و غریب انسان کی بالکل بھی سمجھ نہیں آرہی تھی۔ جو بے حس ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نمبر کا ضدی بھی تھا۔ سُلین کوشش کے باوجود خود کو اُس کی جانب متوجہ ہونے سے روک نہیں پارہی تھی۔
ابتہاج کا خون بہتا دیکھ سُلین کی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔ جب سے اُس نے اپنی ماما کا خون میں لت پت وجود دیکھا تھا۔ اُس وقت سے زرا سا خون دیکھ وہ بُری طرح خوفزدہ ہوجاتی تھی۔ اِس وقت بھی اُس کا یہی حال تھا۔
ابتہاج کا زخم تازہ تھا جس بے دردی سے وہ اُس کو اُوپر نیچے موو کررہا تھا۔ بینڈیج خراب ہوجانے کی وجہ سے خون نکل کر اُس کے بازو کو تر کر گیا تھا۔
” آر یو اوکے۔۔“
سُلین کو زرد چہرا لیے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر آنسو بہاتا دیکھ ابتہاج تشویش کے عالم میں اُس سے مخاطب ہوا تھا۔
” آپ کا خون۔۔۔۔“
سُلین سے بات پوری ہی نہیں ہوپائی تھی۔ اُس کا چہرا آنسوؤں سے بالکل بھیگ چکا تھا۔ جسے دیکھ اتنے سالوں بعد ابتہاج لغاری کو دل میں تکلیف محسوس ہوئی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں وحشت کی جگہ سُلین کے لیے فکر واضح ہوئی تھی۔
ہر بات میں اپنی منمانی کرنے والا اِن آنسوؤں کے آگے بے بس پڑتا ڈمبلز نیچے رکھ گیا تھا۔
” اٹس اوکے۔ میں اِسے صاف کرتا ہوں ابھی۔ آپ ریلیکس ہوجائیں۔“
ابتہاج اُس کی کنڈیشن کے پیشِ نظر نرمی سے بولا تھا۔ جو اُس کی بات سمجھنے کے بجائے ویسی ہی خوفزدہ نظروں سے دیکھتی باہر کی جانب بھاگ گئی تھی۔
اُسے ابتہاج سے اپنا موبائل لینے کا ہوش بھی نہیں رہا تھا۔ یہاں کھڑے اُسے یہی محسوس ہورہا تھا کہ وہ ابھی ہوش سے بیگانہ ہوکر گر جائے گی۔
ابتہاج لب بھینچتے خاموشی سے اُسے جاتا دیکھ ڈریسنگ روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔
★★★★★★★★
دل ہاتھ میں موبائل تھامے شش و پنج میں مبتلا تھی۔ کال کرے یا نہ کرے۔ کہیں اِس کی وجہ سے کوئی پرابلم نہ ہوجائے۔
” اِس سے بڑی پرابلم میری زندگی میں مزید کوئی آسکتی ہے بھلا۔ اللّٰه کا نام لے کر کرتی ہوں فون۔ جو ہوگا دیکھا جائے گا۔“
دل آخر کار ایک فیصلے پر پہنچتے نمبر ڈائل کرتی فون کان سے لگا گئی تھی۔ یہ نمبر اُسے زرینہ خالہ کی بیٹی صدف نے ہی چورا کر دیا تھا۔ زرینہ خالہ اپنی ڈائری میں ساری انفارمیشن رکھتی تھیں۔
”میں نے اِس شخص کا نام تو پوچھا ہی نہیں صدف سے۔ اُف ہو۔“
دل اپنے بھلکڑ پن پر خود کو کوستی دوسری جانب جاتی بیل سن رہی تھی۔
جب کچھ سیکنڈز بعد کال اٹینڈ ہوتے ہی بہت ہی مصروف سی آواز اُس کے کانوں میں گونجی تھی۔ جو دل کو کچھ جانی پہچانی سی لگی تھی۔ مگر پھر اِس خیال کو جھٹکتے وہ مقابل کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔ جو اتنی عجلت میں لگ رہا تھا۔ جیسے اُس کی ٹرین چھوٹ رہی ہو۔
”مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔ پلیز میری بات سنے بغیر کال مت کاٹیے گا۔ “
دل کو اِسی بات کا ڈر تھا۔ اِس لیے وہ جلدی سے بولی تھی۔
”ہو آر یو۔ “
دوسری جانب سے پہلے سے بھی زیادہ غصے سے پوچھا گیا تھا۔
” میرا نام دل ہے ۔۔۔۔میرا مطلب دل آویز ہے۔ میں وہی لڑکی ہوں۔ جس سے آپ کا رشتہ طے ہوا ہے۔ مگر پلیز مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی۔ دیکھیں آپ پلیز بُرا مت مانیئے گا۔ میں آپ کو ریجیکٹ بالکل نہیں کررہی۔ دراصل میں اپنے کزن کو لائیک کرتی ہوں. ہم لوگ ایک دوسرے سے ہی شادی کرنا چاہتے ہیں۔ پلیز آپ یہ رشتہ ختم کردیں۔ آپ کا بہت بڑا احسان ہوگا مجھ پر۔“
دل ایک ہی سانس میں بولتی اپنی ساری بات کہہ گئی تھی۔ جبکہ دوسری جانب اُس کی بات سن کر گہری خاموشی چھا گئی تھی۔
”ہیلو آپ سن رہے ہیں نہ میری بات۔“
دل نے موبائل کان سے ہٹا کر سکرین کی جانب دیکھا تھا۔
” اگر اپنے کزن سے اتنی محبت کرتی ہیں۔ تو خود انکار کیوں نہیں کردیتیں۔“
مقابل کا لہجہ اُسے مذاق اُڑاتا معلوم ہوا تھا۔
” میری بات یہاں کوئی سن ہی نہیں رہا۔ میں تو کتنی بار انکار کر چکی ہوں۔“
دل کا لہجہ بے چارگی بھرا تھا۔
” اگر میں انکار نہ کروں تو۔“
ایک اور سوال داغا گیا تھا۔ دل دانت پیس کررہ گئی تھی۔ عجیب فضول انسان تھا۔ پہلے بات سننے کو تیار نہیں تھا۔ اور اب اوٹ پٹانگ سوال کیے جارہا تھا۔
” تو کیا آپ ایک ایسی لڑکی سے شادی کرنا پسند کریں گے۔ جس کے دل میں کوئی اور ہو۔“
دل نے بھی اُس کی طرح جواب دینے کے بجائے سوال کیا تھا۔
”مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ مگر آپ ایک ایسے بزدل انسان کی خاطر یہ سب کررہی ہیں۔ جو اپنی محبت کے لیے سٹینڈ بھی نہیں لے سکتا۔ جس کی وجہ سے آپ کو اتنا بڑا رسک لینا پڑ رہا ہے۔“
اُس کے جواب نے دل کو جی جان سے جلا کر رکھ دیا تھا۔
” میرے لیے کیا اچھا ہے. اور کیا نہیں میں اچھی طرح سے جانتی ہوں۔ آپ کو صرف اتنا کہنے کے لیے کال کی ہے کہ آپ اِس رشتے سے انکار کردیں۔“
دل کو یہ انسان عجیب دماغ کا لگا تھا۔ اُسے اپنی بات بنتی نظر نہیں آرہی تھی۔
” سیم ہیئر۔ میں بھی جانتا ہوں میرے لیے کیا اچھا ہے۔ اِس لیے میں اِس رشتے سے انکار نہیں کروں گا۔ اب میری شادی آپ سے ہی ہوگی۔ ملتے ہیں پھر دو دن بعد نکاح میں۔ اور ہاں آج تک کسی کی ہمت نہیں ہوئی زورین شاہ کو ریجیکٹ کرنے کی۔ یہ نکاح اِسی گستاخی کی سزا ہوگا۔ تھوڑی دیر پہلے میں خود ہی اِس رشتے سے انکار ہی کرنے والا تھا مگر اب نہیں۔ اب تو اگر تمہارے گھر والے انکار کردیں تب بھی یہ نکاح ہوکر رہے گا۔“
دل یہ بات سنتی ساکت سی اپنی جگہ بیٹھی رہ گئی تھی۔ اُسے لگ رہا تھا کسی نے اُس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ اُنڈیل دیا ہو۔
اُس کا نکاح زورین شاہ سے ہورہا تھا۔ اُس گھمنڈی اور ایک نمبر کے کھڑ دماغ شخص سے۔ وہ بنا نام جانے کال کرنے کی اتنی بڑی غلطی کیسے کرسکتی تھی۔ دل اپنی بے وقوفی پر ہاتھوں میں چہرا گرائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔ وہ شخص اب صرف ضد میں اُس سے نکاح کرنے جارہا تھا۔ جس کی مدت ایک دن یا ایک ہفتہ بھی ہوسکتی تھی۔ کرب سے سوچتے اپنی بدقسمتی پر رونے کے سوا اُس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔
★★★★★★★
دل آویز کی اِس غیر متوقع کال نے اُسے ایک پل کے لیے حیران کردیا تھا۔ مگر اُس کی پوری کہانی سن کر زورین کو اُسے تپانے میں بہت مزا آیا تھا۔ وہ خود بھی سمجھ نہیں پایا تھا۔ کس لمحے کے زیرِ اثر وہ دل کو وہ سب باتیں بول گیا تھا۔
اُس نے کال بند کرتے منزہ سے لڑکی کی تصویر مانگی تھی۔ دل کی آواز اور انداز سے اُسے یقین تو ہوچکا تھا۔ یہ وہی لڑکی ہے۔ مگر وہ ایک بار تصدیق کرنا چاہتا تھا۔
اگلے کچھ سیکنڈز بعد منزہ کی بھیجی گئی تصویر دیکھ اُس کے ہونٹوں پر ایک پر اسرار سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔ پہلے دن سے ہی اُسے اِس لڑکی میں ایک اکڑ دکھی تھی۔ جسے ختم کرنے کا اُسے موقع مل چکا تھا۔ دل آویز نے ہر بار اُس کی ذات کی نفی کی تھی۔ اُس جیسے مغرور شخص کی انا کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی تھی۔
پچھلی بار نجانے کس احساس کے تحت اُس نے دل کی وجہ سے اُس کے گھر والوں کو ایک مہینے کی مہلت دے دی تھی۔ جو کہ اُس نے اپنے مزاج کے بالکل برخلاف جاکر کیا تھا۔
دل آویز کے بلیک دوپٹے کے ہالے میں مقید گلابی چہرے پر اُس کی نگاہیں بھٹک گئی تھیں۔ مگر فوراً تصویر کو بیک کرتے اُس نے منزہ کو اوکے کا میسج سینڈ کردیا تھا۔ ایک ایسی ہی مڈل کلاس لڑکی اُس کے ساتھ سوٹیبل تھی۔ جسے اُس میں کوئی انٹرسٹ نہ ہو۔ اور نہ ہی وہ اُس کی لائف میں دخل اندازی کرسکے۔ دل آویز اُسے شادی جیسی یہ فارمیلٹی نبھانے کے لیے بالکل پرفیکٹ لگی تھی۔
مگر وہ خود بھی اِس بات پر غور نہیں کرپایا تھا۔ کہ پہلے جس رشتے کے لیے وہ سختی سے انکار کر رہا تھا۔ اب اتنی جلدی کیسے مان گیا تھا۔ یہ فیصلہ صرف دل کی ایک فون کال پر ضد میں آکر کیا گیا تھا۔ یا اِس میں اُس کی کوئی دلی وابستگی شامل تھی۔
★★★★★★★
” میم وہ باہر ابتہاج لغاری ملنے آئے ہیں آپ سے۔“
سُلین پورے انہماک سے فائلوں پر جھکی اپنے کام میں مصروف تھی۔ جب صبا کی اطلاع پر پین اُس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گرا تھا۔ دل زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔
“وہ کیوں آئے ہیں یہاں۔“
سُلین کی آنکھوں کے سامنے آج صبح والا سارا منظر گھوم گیا تھا۔
“میم یہ تو نہیں بتایا اُنہوں نے۔ “
صبا کے جواب پر سُلین اُسے ابتہاج کو اندر لانے کا کہتی ماتھے سے پسینا خشک کرنے لگی تھی۔ ابتہاج کی خود پر اُٹھتی نظریں اُسے ہر بار بہت کنفیوز کر دیتی تھیں۔
تھوڑی ہی دیر بعد وہ ناک کرتا اُس کے آفس میں داخل ہوا تھا۔ پچھلی بار کی طرح آج بھی وہ سیاہ لباس میں ہی ملبوس تھا۔ وہ اِس میں اِس قدر وجیہہ اور پرکشش لگ رہا تھا۔ جیسے یہ رنگ خاص اُسی کے لیے بنایا گیا ہو۔ سُلین کے دل نے بے اختیار اُس کی بے پناہ وجاہت کا اقرار کیا تھا۔
” کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں۔“
سُلین کو سٹیچو بنا خود کو گھورتا پاکر ابتہاج نے گھیبیر آواز میں اُسے مخاطب کرتے اپنے خیالوں سے باہر کھینچا تھا۔
” یس پلیز ۔۔۔“
سُلین اپنی حرکت پر بُری طرح خجالت کا شکار ہوئی تھی۔
” آپ کا فون۔۔ صبح وہیں چھوڑ آئی تھیں آپ۔“
پاکٹ سے موبائل نکال کر اُس کی جانب بڑھاتے ابتہاج کی گہری نظریں اُس کے دلکش چہرے کا طواف کرنے لگی تھیں۔ آج اُس کے اِس بدلے انداز پر سُلین کو اپنی سانسیں اٹکتی محسوس ہوئی تھیں۔ لرزتے ہاتھ سے اُس نے موبائل تھام لیا تھا۔ جب اُس کی نظریں بے اختیار ابتہاج کے بازو کی جانب اُٹھی تھیں۔
“بینڈیج کرلیا ہے میں نے۔“
ابتہاج نے اپنا بازو اُس کے سامنے کیا تھا۔ سُلین اِدھر بھی اپنی نگاہوں کی چوری پکڑے جانے پر اُسے دیکھ کررہ گئی تھی۔ اِس بندے کی نظروں سے بچنا آسان کام نہیں تھا۔
”آپ کون ہیں۔ ہر بار اتنی بہادری سے غنڈوں کا مقابلہ کیسے کرلیتے ہیں۔ پیٹھ پیچھے سے چلائی گئی اِس گولی کے علاوہ آپ کو کبھی کوئی چوٹ بھی نہیں لگی۔ اتنا پرفیکٹ بھلا کوئی کیسے ہوسکتا ہے۔“
سُلین نے آخر وہ سوال پوچھ ہی لیا تھا۔ جو ہر بار ابتہاج کو دیکھ اُس کے زہن میں آتا تھا۔
” آپ کیوں جاننا چاہتی ہیں میرے بارے ميں۔“
ابتہاج اچھے سے سمجھ چکا تھا۔ کہ سُلین حبیب اُس کی ذات میں کافی انٹرسٹ لینے لگی تھی۔
“نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔“
اُس کے پوری طرح اپنی جانب متوجہ ہوجانے پر سُلین نے لرزتے ہاتھ سے اپنے چہرے پر پھسل آنے والی لٹ کو پیچھے ہٹایا تھا۔ جب ابتہاج کی نظر اُس کے ہاتھ میں پہنی رنگ پر گئی تھی۔
“بچپن سے یہی کرتا آیا ہوں میں۔ اِس لیے اب کافی ایکسپرٹ ہوچکا ہوں۔“
ابتہاج کی بات پر سُلین نے آنکھوں میں تغیر سموئے اُس کی جانب دیکھا تھا۔ حلیے سے وہ فورسز کا آدمی بالکل بھی نہیں لگتا تھا۔ تو پھر کیا وہ کوئی غنڈہ تھا۔
سُلین کی آنکھوں میں اُبھرتی تحریر پڑھتے ابتہاج کی آنکھیں نجانے کتنے عرصے بعد مسکرائی تھیں۔ سُلین بھی کچھ پل کے لیے مبہوت رہ گئی تھی۔ اُس کی مسکراتی آنکھیں سُلین کو اپنے سحر میں جکڑ گئی تھیں۔ وہ کچھ اور دیکھنے کے قابل ہی نہیں رہی تھی۔ آج اُسے اِس بات پر یقین ہوگیا تھا کہ یہ انسان نہیں کوئی جادوگر تھا جو کسی کو بھی اپنے طلسم جکڑ سکتا تھا۔
“اُس سے کہیں زیادہ خطرناک ہوں میں۔ جتنا آپ سمجھ رہی ہیں۔ “
ابتہاج نے اُس کی خوفزدہ آنکھوں میں جھانکتے مزید ڈرایا تھا۔ اِن ہرنی آنکھوں نے اُس کے پتھر دل پر پہلا وار کردیا تھا۔
سُلین اِس سے پہلے کے اُس کی بات کا جواب دیتی جب دروازہ ناک ہونے کی آواز آئی تھی۔ سُلین کی اجازت دینے پر قاسم اُسے سلام کرتا اندر داخل ہوا تھا۔
پیچھے کھڑے ہونے کی وجہ سے قاسم کی نظروں سے ابتہاج کا چہرا اوجھل تھا۔ مگر ابتہاج جان چکا تھا کہ اندر کون آیا ہے۔
” میم آپ نے فائل سائن کردیئے۔“
قاسم نظریں جھکائے سُلین سے مخاطب تھا۔ جب سُلین نے ٹیبل پر رکھی دو فائلز اُٹھا کر کھولی تھیں۔
“جی سائن تو میں نے کر دیئے تھے۔ مگر یہ ایک دو پوائنٹس مارک کردیئے ہیں میں نے۔ آپ اِنہیں ریڈ کرلیں۔“
سُلین نے اُسے اپنے ٹیبل کے قریب دائیں جانب بلاتے فائلز پر نشاندہی کرتے کہا تھا۔
جبکہ قاسم تو وہاں بیٹھے ابتہاج لغاری کو دیکھ شاک میں جاچکا تھا۔ سُلین کچھ بتا رہی تھی۔ مگر اُس کی آگ اُگلتی نظریں ابتہاج پر جمی ہوئی تھیں۔ ایسا ہی کچھ حال ابتہاج کا بھی تھا۔ جبکہ دونوں کی کیفیت سے بے خبر سُلین اپنی ہدایت دینے میں مصروف تھی۔
” آپ لے جائیں اِنہیں۔ اور فائنل کرکے ایک بار مجھے دیکھا دیجیئے گا۔“
سُلین نے فائلز قاسم کی جانب بڑھائی تھیں۔ جب صرف ابتہاج کو دیکھانے کی خاطر قاسم نے فائل کے ساتھ ساتھ سُلین کے ہاتھ کو بھی ٹچ کیا تھا۔ جسے سُلین تو غیر ارادی حرکت سمجھ کر ہاتھ کھینچ گئی تھی۔ مگر ابتہاج کو قاسم کی یہ گھٹیا حرکت آگ بھگولا کر گئی تھی۔
قاسم نے ابھی وہاں سے ہٹنے کے لیے قدم بڑھائے ہی تھے۔ جب ابتہاج نے کچھ سیکنڈز پہلے ویٹر کی لائی گرم اُبلتی چائے ہاتھ مار کر پاس سے گزرتے قاسم کے ہاتھوں پر اُلٹ دی تھی۔
” اوہ نو۔ قاسم آپ ٹھیک ہیں۔“
سُلین یہ نہیں دیکھ پائی تھی۔ کہ یہ کیسے ہوا ہے۔ مگر قاسم کا ہاتھ دیکھ وہ فکرمندی سے اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی۔ اُس کا یہ بے اختیار انداز ابتہاج کو آگ لگا گیا تھا۔ ہونٹ بھینچے وہ سُلین کو قاسم کے لیے فکرمند ہوتے دیکھ رہا تھا۔ کیسے ضبط کیے بیٹھا تھا۔ یہ وہی جانتا تھا۔
” اتنے بڑے شخص کی آنکھوں میں اتنی چھوٹی سی تکلیف پر آنسو کافی مضحکہ خیز بات ہے۔“
ابتہاج کرسی کی بیک سے پشت ٹکاتا قاسم کا لال چہرا دیکھ تمسخرانہ لہجے میں بولا تھا۔ جس پر سُلین کے سامنے قاسم نے کیسے ضبط کیا تھا۔ یہ وہی جانتا تھا۔
” اٹس اوکے میم میں ٹھیک ہوں۔“
قاسم سُلین کے اِس قدر فکرمند انداز پر نرمی سے کہتا غصیلی نظروں سے ابتہاج کو دیکھتا وہاں سے نکل گیا تھا۔
” آپ کو اگر درد نہیں ہوتا تو اِس کا مطلب۔ ہر انسان آپ کی طرح بے حس ہے۔“
سُلین کو ابتہاج کا قاسم کی تکلیف پر مذاق بنانا بہت بُرا لگا تھا۔ ابتہاج نے بہت غور سے اُس کے پھولے گال اور نتھنوں کو دیکھا تھا۔ وہ اِس لمحے غصہ کرتی اُسے بے حد کیوٹ لگی تھی۔
”میں نے کب کہا مجھے درد نہیں ہوتا۔“
ابتہاج اپنی جگہ سے اُٹھتا سُلین کی جانب بڑھا تھا۔ جو ابھی تک اُسی طرح کھڑی ہوئی تھی۔ ابتہاج کو اپنے قریب آتا دیکھ وہ فوراً دو قدم پیچھے ہٹی تھی۔ کیونکہ ابتہاج نے درمیان میں ایک قدم کا فاصلہ بھی نہیں چھوڑا تھا۔
” ابھی کچھ دیر پہلے ہی یہاں بہت درد ہوا ہے۔“
سُلین کا وہی ہاتھ جو قاسم نے چھوا تھا۔ اپنے ہاتھ کی مضبوط گرفت میں لیتے ابتہاج کا لہجہ بھاری ہوا تھا۔ دوسرے ہاتھ سے اُس کی اُنگیوں کو چھوتے اُس نے قاسم کا لمس وہاں سے ہٹانا چاہا تھا۔ اُس کے اِس عمل پر سُلین جی جان سے لرز گئی تھی۔
” یہ کیا کررہے ہیں آپ۔ پلیز سٹے اوے۔“
سُلین اُس کی گرفت سے اپنا ہاتھ نکالنے کی کوشش کرتے حیرت سے اُس کا یہ بدلہ انداز دیکھ رہی تھی۔ ابتہاج کی گرفت اُس کے ہاتھ پر جتنی نرم تھی آنکھیں ضبط کے احساس سے اُتنی ہی لال ہوچکی تھیں۔
” یہی الفاظ اپنے اُس دوٹکے کے ملازم کو بولنا۔ اگر وہ دوبارہ تمہارے قریب آیا تو اُس کو کاٹ کے رکھ دوں گا۔ میں صرف ایک بار بولتا ہوں۔ اگلی بار عمل کرتا ہوں۔ سو دھیان رکھنا۔“
ابتہاج اُس کے ہاتھ کی پشت پر ہونٹ رکھتے نہایت ہی نرمی سے اُس کا پھولا ہوا گال سہلاتے بھرپور نظر اُس پر ڈالتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکل گیا تھا۔ وہ اِس وقت اتنے شدید غصے کے باوجود سُلین سے اتنی نرمی سے بات کیسے کر گیا تھا۔ اگر یہی چیز پاشا یا اُس کا کوئی اور ساتھی دیکھ لیتا تو غش کھا کر گر پڑتا۔ اتنا بے رحم انسان کے کسی کے لیے ایسے جذبات نا قابلے یقین بات تھی۔
جبکہ سُلین کی حالت ایسی تھی کہ وہ اب زندگی بھر اِس جگہ سے ہل بھی نہیں پائے گی۔ اُس کا ہاتھ ابھی بھی ہوا میں اُسی جگہ معلق تھا۔ جہاں ابتہاج چھوڑ کر گیا تھا۔ اِس دھکتے آتش فشانی لمس پر اُس کا پورا وجود پسینے سے نہا گیا تھا۔ دل کا شور ابس قدر بڑھ گیا تھا۔ جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر نکل آیا تھا. سُلین بے جان ہوتے وجود کے ساتھ پیچھے پڑی کرسی پر ڈھے گئی تھی۔
ابتہاج کی دی جانے والی دھمکی ابھی تک اُس کے چاروں اوڑر گردش کر رہی تھی۔ یہ شخص کون تھا۔ اور کیا تھا۔ آہستہ آہستہ اُس کے گرد یہ کیسا حصار باندھ رہا تھا۔ سُلین کا دماغ بالکل ماؤف ہوچکا تھا۔
★★★★★★★

جاری ہے۔۔۔۔۔