Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

دل بہت بور ہورہی تھی۔ اُسے شروع سے ہی فارغ بیٹھنے کی عادت بالکل بھی نہیں تھی۔ یا تو پورا دن سویرا لوگوں کے ساتھ مل کر کوئی نہ کوئی اُوٹ پٹانگ حرکتیں کرتی رہتی۔ یا پھر رقیہ بیگم کے عتاب کا نشانہ بنتے اُن کی دی گئی سزا کے مطابق گھر کے مختلف کاموں میں لگی رہتی۔ جن کے لیے خاص طور پر ملازمین رکھے ہوئے تھے۔ مگر دل کو تکلیف دینے کے لیے وہ ایسا کرتی رہتی تھیں۔ اُس کے ساتھ۔
اپنے ماضی کی بھول بھلیوں میں نجانے وہ کب تک کھوئی رہتی۔ جب سویرا کی کال پر ہوش میں آتے وہ اُس جانب متوجہ ہوئی تھی۔
وہ جانتی تھی ضرور سویرا نے اُس سے زورین کے حوالے سے شکوہ کرنے کے لیے کال کی ہوگی۔
” سویرا آئم سوری۔۔۔۔۔“
دل اُن لوگوں کی کوئی مدد نہ کر پانے کی وجہ سے شرمندہ سی ہوئی تھی۔ مگر اُس کا جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی سویرا نے اُسے ٹوک دیا تھا۔
” پاگل تم کیوں سوری بول رہی ہو۔ سوری تو مجھے بولنی چاہیئے۔ اُس دن پریشانی میں تم سے بہت روڈلی بات کر لی۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا۔ مگر تھینکیو سو مچ تم نے زورین بھائی کو مزید مہلت دینے کے لیے منا لیا۔ اُنہوں نے اِس بار پورے ایک سال کا ٹائم دیا ہے۔ زورین بھائی کے منیجر نے پاپا کو بتایا ہے کہ اتنی فیور وہ صرف تمہاری وجہ سے کر رہے ہیں۔ ورنہ اپنے رولز کے خلاف جانے والوں کے ساتھ بہت بُرا کرتے ہیں وہ۔ تم جانتی ہو، سب گھر والے بہت خوش ہیں اور تم دونوں کو بہت دعائیں بھی دے رہے ہیں۔“
سویرا کی چہکتی آواز دل کو حیرت کے سمندر میں ڈبو گئی تھی۔
زورین نے اُس کے گھر والوں کی مدد کی تھی۔ وہ بھی اُسی کی خاطر۔ دل کے لیے یہ بات ہضم کرنا نہایت مشکل ہورہا تھا۔
” ہیلو دل کہاں گم ہوگئی تم۔“
سویرا اُس کی خاموشی پر بولی تھی۔
” یہ سب کب کیا زورین نے۔“
زورین کل شام کو ہی کراچی کے لیے نکل گیا تھا۔ گھر ہوتے ہوئے تو اُس نے کوئی بات نہیں کی تھی۔
” کل صبح اُن کا منیجر آیا تھا۔ ایک منٹ تمہیں نہیں پتا اِس بات کا۔“
سویرا اُس کی لاعلمی پر فوراً چونکی تھی۔
” نہیں زورین نے سب بتایا ہے مجھے۔ تم یہ بتاؤ گھر میں اب سب ٹھیک ہے نا۔“
دل نے بہت مشکل سے بات سنبھالی تھی۔
” ہاں اب تم تمہارے ہبی نے سب ٹھیک کردیا ہے۔ اقر سچ ایک بات تو بتائی ہی نہیں تمہیں۔ نرمین آپی کا نکاح ہے دو چار دنوں میں اور پھر ہفتے بعد شادی۔ بڑے تو زورین بھائی کو سپیشلی انوائٹ کرنے آئیں گے ہی سہی۔ مگر نرمین آپی کا تمہارے لیے پیغام ہے۔ کہ تم نے تو لازمی آنا ہے۔ اور ایک دن پہلے آنا ہے۔“
سویرا اُسے نرمین کے نکاح میں آنے کے لیے بار بار کہتی فون بند کرگئی تھی۔
جبکہ دل ہونقوں کی طرح بیٹھی خود کو اِسی اُلجھن کا شکار تھی۔ کہ زورین تو اُس سے اور اُس کے گھر والوں سے اتنی نفرت کرتا تھا۔ تو پھر اُس نے ایسا کیوں کیا تھا۔
★★★★★★★★
پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ مگر سامنے موجود ٹیرس پر کھڑی سیاہ پیروں تک آتے فراک میں دوپٹہ شانوں پر پھیلائے، سیاہ گھنیری ہوا سے لہراتی زلفوں کو نزاکت سے سنبھالنے کی کوشش کرتی وہ کوئی اپسرا ہی معلوم ہوئی تھی ابتہاج کو۔ وہ اپنا یہاں آنے کا مقصد بھولتے یک ٹک اُسے دیکھے گیا تھا۔ کوئی لڑکی بھلا اتنی حسین بھی لگ سکتی تھی اُسے۔ جس شخص کے مطابق محبت اِس دنیا میں ایگزیسٹ ہی نہیں کرتی تھی۔ اُسے خود چند سیکنڈز لگے تھے۔ پہلی نظر کی محبت میں گرفتار ہونے میں۔
بار بار پھسل کر بال چہرے پر آگرنے کی وجہ سے وہ اُس لڑکی کا پورا چہرا نہیں دیکھ پایا تھا۔ اُس کے دل نے شدت سے اِس اپسرا کا چہرا دیکھنے کی خواہش کی تھی۔ اپنے دل کی آواز پر سر خم کرتے وہ اُس کی جانب بڑھا تھا۔ تب تک اُس کا پیچھا کرتے آئے قاسم کے آدمی اُس پر اندھا دھند فائر کھول چکے تھے۔
ابتہاج اِس بات سے انجان تھا۔ کہ حبیب صاحب کے پاس کچھ ایسے راز موجود تھے۔ جو جعفر لغاری اور گلشن آرا حاصل کرنا چاہتے تھے۔ مگر حبیب صاحب اِن رازوں کو کسی صورت ملک دشمنوں کے حوالے نہیں کرسکتے تھے۔
وہ جانتے تھے حبیب صاحب کو مارتے ہی سارے راز بھی دفن ہوجائیں گے۔ اِس لیے اُنہیں زندہ رکھنا اُن لوگوں کی مجبوری تھی۔ قاسم صبح حبیب صاحب کو ابتہاج سے ملتے دیکھ چکے تھے۔ اِس لیے اب وہ ابتہاج کا پیچھا کرتے یہاں آن پہنچا تھا۔
مگر ابتہاج تو ٹیرس پر کھڑی سُلین حبیب کے سحر میں ایسا جکڑا تھا۔ کہ گولیوں کی بوچھاڑ کی پرواہ کیے بغیر صرف ایک نظر اُس کا حسین مکھڑا دیکھنے کی خواہش لیے وہ پائپ کی مدد سے دیوار چڑھتا اُس کے ٹیرس میں آن پہنچا تھا۔ جو گولیوں کی آواز سے خوفزدہ ہوتی اب اپنے روم میں بند ہوچکی تھی۔
ابتہاج کھڑکی کے راستے اندر داخل ہوا تھا۔ جب اُسے وہ سامنے ہی بیڈ پر آڑی ترچھی پڑی نظر آئی تھی۔ ابتہاج اندازہ نہیں لگا پایا تھا کہ وہ سوچکی ہے یا خوف سے بے ہوش ہوئی ہے۔
ابتہاج کی نظر جیسے ہی اُس حسین مکھڑے پر پڑی وہ اِس بے پناہ حُسن کی تباہ کاریوں سے اپنے دل کو تباہ ہونے سے نہیں بچا پایا تھا۔
اِس لڑکی کو دیکھنے کی اُسکی خواہش اب پوری ہوچکی تھی۔ وہ اِس لڑکی پر کوئی حق نہیں رکھتا تھا۔ اِس لیے بس چھپ کر یوں ایک نظر دیکھنے کی گستاخی کرتا واپس پلٹ گیا تھا۔
کچھ لمحوں کے لیے ہی سہی مگر وہ سُلین حبیب کے سحر میں ایسا جکڑا تھا۔ کہ سامنے کھڑے قاسم کے خاص آدمی احمد کو خود پر نشانہ باندھے نہیں دیکھ پایا تھا۔
وہ سیدھا اُس کے دل پر نشانہ باندھے وار کرنے ہی والا تھا۔ جب قاسم نے عین وقت پر اُسے دھکا دیا تھا۔ اُس کا نشانہ چوکتا دل کے بجائے کندھے پر لگا تھا۔
”تم پاگل ہوگئے ہو کیا۔ ہم یہاں ابتہاج کو مارنے نہیں آئے۔ صرف اُسے یہاں دوبارہ نہ آنے سے باز رکھنے آئے ہیں۔ تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی ابتہاج کو جان سے مارنے کی کوشش کرنے کی۔“
قاسم جو بظاہر ابتہاج سے شدید نفرت کا پرچار کرتا تھا۔ اُس کو خطرے میں نہیں دیکھ پایا تھا۔ قاسم کے چلانے پر احمد خاموشی سے سر جھکائے کھڑا رہا تھا۔ اُسے گلشن آرا کی جانب سے اُن کا نام بولنے کی اجازت نہیں تھی۔
اُس کے بعد سے قاسم نے اکثر ابتہاج کو سُلین کے اردگرد پایا تھا۔ وہ ابتہاج کی آنکھوں میں سُلین کے لیے بے پناہ پیار دیکھ چکا تھا۔ ابتہاج کا حبیب صاحب کی بیٹی کے قریب جانا اُن کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا تھا۔ اِس لیے اُنہیں کسی طرح بھی ابتہاج کو اِس لڑکی سے دور رکھنا تھا۔
حبیب صاحب جانتے تھے ابتہاج ہی وہ واحد شخص ہے جو جعفر جیسے ناسور کو اِس ملک سے ختم کرسکتا ہے۔ اِس لیے اُنہوں نے بہت بار ابتہاج کو اُس کے خاندان والوں کا سچ اور اپنے پاس موجود وہ راز دینے کی کوشش کی تھی۔ جس سے جعفر اور گلشن آرا کے پورے گینگ کا خاتمہ کیا جاسکتا تھا۔ اور اگر یہی راز غلط ہاتھوں میں چلے جاتے تو ملک کی مزید تباہی ہونی تھی۔
لیکن قاسم اور جعفر صاحب کے اُنہیں سُلین کے حوالے سے دھمکانے پر ہی حبیب صاحب ابتہاج کو سارا سچ بتانے کی خواہش دل میں لیے راتوں رات اپنا گھر چھوڑ آئے تھے۔
ابتہاج نے اُسی رات اُن سے ملنا تھا۔ اُس نے اُنہیں بہت ڈھونڈا تھا۔ مگر وہ اُسے کہیں نہیں ملے تھے۔ جس لڑکی کی روز ایک جھلک دیکھ کر کی ابتہاج کو سانس آتی تھی۔ اُس لڑکی کے اِس طرح چلے جانے پر وہ پاگل ہو اُٹھا تھا۔
وہ کتنی ہی دیر سڑکوں پر مارا مارا پھرتا رہا تھا۔ اپنی ماں کے بعد سُلین ہی وہ واحد ہستی تھی۔ جسے دیکھ اُسے زندگی کا احساس ہونے لگا تھا۔ مگر اُس کی بدقسمتی ہی یہی تھی۔ کہ وہ اُس لڑکی کے آگے اپنی بے پناہ محبت کا اظہار بھی نہیں کر پایا تھا۔ وہ اُسے جانتی تک نہیں تھی۔
ابتہاج پوری رات روڈ پر ہی گزار دیتا جب اُس کی نظر پاس سے گزرتی جعفر صاحب کی گاڑی پر پڑی تھی۔ نیہا والے واقع کے بعد سے اُس کی سب گھر والوں سے بول چال بند تھی۔ جس سے اُن میں سے کسی کو فرق پڑ بھی نہیں رہا تھا۔
”بابا آدھی رات کو اِس طرح کہاں جارہے ہیں۔“
ابتہاج حیرت کا اظہار کرتا گاڑی اُن کے پیچھے لگا چکا تھا۔ شہر سے بہت دور آبادی سے باہر آکر جعفر صاحب کی گاڑی بڑے بڑے درختوں سے گھرے راستے کو طے کرتی آگے بڑھ رہی تھی۔ ابتہاج بہت ہی ہوشیاری سے اُن کا پیچھا کررہا تھا۔ تاکہ اُن کو زرا سا بھی شک نہ ہوسکے۔
اُسے اپنے خاندان کا ہر فرد ہی بہت پُر اسرار سا لگا تھا۔ جیسے اُس سے کچھ بہت بڑی بات چھپائی جارہی ہو۔ وہ آج ہر راز جان لینا چاہتا تھا۔
اُس کو حیرت کا شدید جھٹکا اُس وقت لگا تھا۔ جب اُس نے جنگل کے بیچوں بیچ موجود ایک انتہائی عالی شان بنگلہ دیکھا تھا۔ جس کے چپے چپے پر گارڈز ہاتھ میں اسلحہ لیے کھڑے تھے۔
ابتہاج نے اپنی گاڑی درختوں کے ایک جھنڈ میں چھپا کر کھڑی کردی تھی۔ دبے پاؤں چلتا وہ گیٹ کھلنے کا انتظار کرتی جعفر صاحب کی گاڑی کی ڈگی میں گھس گیا تھا۔ جعفر صاحب سمیت کسی کا بھی اِس طرف کوئی دھیان نہیں تھا۔
جعفر صاحب پورچ میں گاڑی روک کر اندر جاچکے تھے۔ ابتہاج اتنی سیکیورٹی میں بہت مشکل سے وہاں سے نکلتا اندر کی جانب بڑھا تھا۔ یہاں کی ایک اچھی بات یہی تھی۔ کہ ہر طرف لائٹس آف کی گئی تھیں۔ لائٹس صرف اُسی جگہ آن ہوتی تھیں۔ جو حصہ استعمال کیا جارہا ہوتا۔
اِس لیے ابتہاج کو مین ہال تک پہنچنے میں آسانی ہوئی تھی۔ جہاں ویٹرز لوازمات کی ٹرے بھر کر لے جارہے تھے۔ جن میں موجود وائن اور ایسی ہی نشہ آور چیزیں دیکھ ابتہاج سن کھڑا رہ گیا تھا۔ مگر زیادہ شاک تو اُسے اُس وقت لگا تھا۔ جب پردے کی اوٹ سے ہوکر دیکھنے پر اُس کی نظر اندر بیٹھے نفوس پر پڑی تھی۔ اندر صرف جعفر لغاری ہی نہیں بلکہ گلشن آرا ، نیہا اور قاسم بھی موجود تھے۔ اُن سب کے ہاتھوں میں وائن کے گلاس دیکھ اور اُن کے منہ سے نکلنے والے الفاظ سن کر ابتہاج کو اِس عمارت کی چھت اپنے سر پر گرتی محسوس ہوئی تھی۔
وہ لوگ آج پوری دو سو لڑکیوں کو بیرونے ملک سمگل کرنے کا جشن منا رہے تھے۔ شراب کے نشے میں دھت وہ ابتہاج کی وہاں موجودگی سے انجان نجانے کیا کیا انکشاف کرتے چلے گئے تھے۔ کب سے ضبط کرتا یہ سب سنتا ابتہاج اپنی ماں کے ذکر پر اپنے آپے میں نہیں رہ پایا تھا۔
اتنے سالوں بعد آج پہلی بار جعفر لغاری اور گلشن آرا نے سندس کا زکر کیا تھا۔ جو نشے میں جھولتا قاسم تو نہیں سن پایا تھا۔ مگر ابتہاج اچھی طرح سب جان اور سمجھ چکا تھا۔
ابتہاج قدم اندر بڑھانے ہی والا تھا۔ جب اُسے موبائل نوٹیفیکیشن میں حبیب صاحب کی ایک ای میل موصول ہوئی تھی۔ جس میں جعفر صاحب کے بارے میں وہی ساری حقیقت بتائی گئی تھی۔ اور ساتھ یہ بھی، کہ اِس ملک کے معصوم اور بے گناہ لوگوں کو جعفر لغاری کے قہر سے بچانے سے یہاں کی پولیس بے بس تھی۔ جعفر لغاری پر بیرونے ملک کے ایسے بڑے لوگوں کا ہاتھ تھا۔ کہ اگر یہاں کی پولیس کچھ کرتی تو وہ ملک میں مزید تباہی پھیلا سکتے تھے۔ اِس سب کا ایک ہی حل تھا۔ کسی عام آدمی کے ہاتھوں جعفر لغاری کی موت، جو کرنے کی ہمت کوئی نہیں کرتا تھا۔ کیونکہ ہر وقت جعفر لغاری کے گرد گارڈز کی مضبوط سیکیورٹی موجود ہوتی تھی۔
مگر ابتہاج لغاری اپنے باپ کا اتنا گھٹیا رُوپ دیکھ اور اپنی بے قصور ماں پر ہوا ظلم جان کر غصے سے پاگل ہو اُٹھا تھا۔
حبیب صاحب کی اِس معلومات اور اپنے کانوں سے سب کچھ سن لینے کے بعد شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں بچی تھی۔
اُسے چند سیکنڈز لگے تھے فیصلہ کرنے میں۔
پردے کے پیچھے سے نکلتا وہ تیر کی تیزی سے جعفر لغاری کے سر پر جا پہنچا تھا۔ اپنی فیملی گیدرنگ کی وجہ سے اُنہوں نے اِس وقت تمام گارڈز کو ہال سے باہر ہی کھڑا کررکھا تھا۔
” میری ماں کو صرف جائیداد کی خاطر قتل کردیا تم نے، گھٹیا لالچی شخص۔ اِسی ملک کا کھاتے اِس سے غداری کرتے زرا شرم نہیں آئی تجھے۔ کتنے معصوم لوگوں کے گھر اُجاڑ کر رکھ دیئے۔ یہاں کی حکومت اور پولیس تو بنا کسی ثبوت کے تم پر ہاتھ نہیں ڈال سکتی۔ مگر میرے ہاتھ کسی ثبوت کے محتاج نہیں ہیں۔ چھوڑوں گا نہیں میں تمہیں۔“
ابتہاج کسی کو بھی کچھ سمجھنے کا موقع دیئے بغیر قاسم کی جیب سے گن نکالتا جعفر لغاری پر فائر کھول دیئے تھے۔
گارڈز کے بھاگ کر آنے اور باقی سب کے ہوش سنبھال کر اُٹھنے تک جعفر لغاری کی روح پرواز کرچکی تھی۔ گارڈز نے ابتہاج کو مارنا چاہا تھا۔ مگر گلشن آرا نے ہاتھ اُٹھا کر اُنہیں باز رکھا تھا۔
اپنی آنکھوں کے سامنے پڑی شوہر کی لاش کے باوجود اُسے صرف پرواہ تھی تو اب بھی اُس دولت و جائیداد کی۔ جو سندس کی وصیت کے مطابق اُن کی جائیداد کا اکلوتا وارث ابتہاج لغاری ہی تھا۔ اُس کے مرنے کے بعد ساری پراپرٹی چیریٹی میں چلی جانی تھی۔
ساری زندگی جعفر لغاری نے جس عورت کے اشاروں پر چل کر اپنی زندگی اور آخرت دونوں برباد کردی تھیں۔ اُسے اُن کی موت سے زیادہ ساری پراپرٹی چلی جانے کا دکھ تھا۔
ابتہاج نے صرف اتنا ہی نہیں کیا تھا۔ بلکہ جعفر لغاری کے گینگ میں شامل سارے اہم اہم لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا۔ وہ اِس ناسور کو جڑ سے اُکھاڑنا چاہتا تھا۔ سب کو ختم کرنے کے باوجود وہ اِس گینگ کی ریڑھ کی ہڈی گلشن آرا کو مارنے میں چوک گیا تھا۔ کیونکہ وہ ابتہاج کے خود تک پہنچنے سے پہلے ہی فرار اختیار کرچکی تھی۔ ابتہاج ابھی اِس سچائی سے واقف نہیں تھا۔ کہ گلشن آرا ہی سب سے زیادہ اُس کی ماں کے قتل کی زمہ دار تھی۔ ورنہ وہ اُسے عورت کو اُس کے انجام تک پہنچانے کے لیے کہیں سے بھی ڈھونڈ نکالتا۔
قاسم جو پہلے ہی نیہا کی وجہ سے ابتہاج سے بدظن تھا۔ اپنے باپ کے قتل کے بعد سے تو اُسے ابتہاج سے نفرت ہوگئی تھی۔ کیونکہ وہ ابھی تک اِس بات سے انجان تھا کہ ابتہاج کی ماں کا قتل اُس کے ماں باپ نے کیا تھا۔ اُس کے ماں باپ نے اُسے اور نیہا کو اپنے کام کے بارے میں آگاہ تو کر رکھا تھا۔ مگر یہ نہیں بتایا تھا کہ کس حد تک پستی میں گر چکے تھے۔
ابتہاج نے اپنے باپ کے قتل کا اقبالِ جرم کرتے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔ قاسم اور گلشن آرا نے اُسے زیادہ سے زیادہ سزا دلوانے کی کوشش کی تھی۔ مگر جعفر لغاری کا پچھلا ریکارڈ کافی مشکوک ہونے کی وجہ سے ابتہاج کو سزائے موت کے بجائے پچیس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ جو کہ بعد میں پاشا نے اپنے سورسز لگا کر آدھی معاف کروادی تھی۔
گلشن آرا کے کہنے پر ہی قاسم فل ٹائم سُلین اور حبیب صاحب پر نظر رکھنے کے لیے اُن کے آس پاس رہنے لگا تھا۔ حبیب صاحب کو سخت دھمکایاں گیا تھا۔ کہ اگر اُنہوں نے اگر سُلین کو بھی کچھ بتانے کی کوشش کی تو وہ اُن کی بیٹی کو مار دیں گے۔ حبیب صاحب دن رات یہ ٹارچر سہتے بیمار پڑنے لگے تھے۔ کیونکہ سارے راز دشمنوں کے حوالے کرنے کے لیے دھمکیوں کی شدت دن بدن بڑھتی جارہی تھی۔
سُلین اِس بات سے بالکل انجان تھی کہ جس انسان کو وہ اپنا محافظ سمجھتی ہے۔ وہ ہی اُس کے بابا کا سب سے بڑا دشمن تھا۔
حبیب صاحب کسی نہ کسی طرح یہ راز جیل میں قید ابتہاج تک پہنچانا چاہتے تھے۔ اِس لیے اُنہوں نے اپنے کچھ سورسز لگاتے جیل میں ابتہاج سے رابطہ کیا تھا۔ مگر اُن پر پل پل نظر رکھنے والے قاسم کو جیسے ہی اُن کی اِس ہوشیاری کا پتا چلا۔ شدید غصے میں آتے اُس نے اپنے ہی آدمیوں سے حبیب صاحب کو روکنے کے لیے اُن پر حملہ کروا دیا تھا۔ اُس کے آدمیوں کی چوک کی وجہ سے حبیب صاحب کو چار گولیاں لگی تھیں۔
حبیب صاحب کو وہ لوگ مرنے نہیں دینا چاہتے تھے۔ اِس لیے فوری طور پر ہاسپٹل پہنچانے پر اُن کی جان تو بچ گئی تھی۔ مگر وہ کوما میں چلے گئے تھے۔ قاسم نے سُلین کو پوری طرح سے اپنے ہاتھ میں کر رکھا تھا. اُسی کے کہنے پر ہی سُلین نے اُسے قاسم کے قابلے اعتماد گارڈز کی سیکیورٹی میں رکھا ہوا تھا۔ اِس حقیقت سے انجان کے وہ اپنے باپ کے دشمنوں کو ہی اُن کی زمہ داری سونپ رہی ہے۔
جیل سے نکل کر ابتہاج سب سے پہلے سیدھا سُلین سے ملنے ہی گیا تھا۔ جہاں اُسے گلشن آرا کے بھیجے گئے غنڈو میں گھرا دیکھ آپے سے باہر ہوتا وہ اُن پر ٹوٹ پڑا تھا۔ اور سُلین کے اِس طرح تن تنہا آدھی رات کو باہر موجود ہونے کی وجہ سے اُس کے ساتھ بھی روڈ رویہ اختیار کیا تھا۔
وہ پاشا سے پہلے ہی سُلین کے حوالے سے ایک ایک خبر لے چکا تھا۔ اُس نے جیل میں ہر پل سُلین کو یاد کیا تھا۔ اُسی کا احساس ہی تھا جس نے اُس ٹوٹے پھوٹے شخص کو سنبھالے رکھا تھا۔
باہر آکر اُس نے یہی سوچا تھا۔ کہ سُلین سے دور ہی رہے گا۔ کیونکہ وہ ایک قاتل تھا۔ سُلین یہ اصلیت جان لینے کے بعد کبھی اُس کے ساتھ نہ رہتی۔ مگر سُلین سے دور رہنا بھی اُس کے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔ دوسری بات جو اُس کے سُلین سے نکاح کرنے کی وجہ بنی تھی۔ وہ تھی قاسم کا سائے کی طرح سُلین کے ساتھ رہنا۔ ابتہاج سُلین پر ایسے لوگوں کا سایہ بھی نہیں پڑنے دینا چاہتا تھا۔ اِس لیے اُس نے اپنی ہر حقیقت پش پُست ڈالتے سُلین کو اپنا لیا تھا۔ یہ احساس ہی اتنے سالوں سے تڑپتے اُس کے دل میں روشنیاں بھر گیا تھا۔
کہ اُس کی زندگی کی واحد خوشی سُلین حبیب اب صرف اُس کی تھی۔ اُس کے ہوتے قاسم اور گلشن آرا سُلین کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتے تھے۔
ابتہاج سُلین کو اپنی ساری حقیقت بتانا چاہتا تھا۔ مگر اُسے ڈر تھا کہ کہیں سُلین اُس سے نفرت نہ کرنے لگ جائے۔ اِس لیے ہر بار وہ یہ ارادہ ترک کردیتا تھا۔ وہ پہلے سُلین کو بہت سا پیار اور اعتبار دے کر اپنا بنانا چاہتا تھا۔ تاکہ سُلین چاہ کر بھی اُس سے دور نہ جا پائے۔ مگر قاسم نے جھوٹ سچ کا ملاپ کرتے جو حقیقت سُلین کے سامنے رکھی تھی۔ اور سُلین جس طرح ایک لفظ بھی پوچھے بغیر اُسے چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ اِس سب نے ابتہاج لغاری کو سُلین کی محبت میں ڈوبے اُس نرم خو شخص سے واپس بے حس اور وحشت ناک ابتہاج لغاری میں بدل دیا تھا۔
اب سُلین ہی تھی جو اپنی محبت سے اُسے ٹھیک کرسکتی تھی۔ مگر سُلین اُس کی دلی کیفیت سے انجان اُس کی جانب دیکھنے کی روادار بھی نہیں تھی۔
★★★★★★★★

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھی ماضی کے بارے میں لکھ رہی ہوں۔ تو اِس بات پر شکوہ مت کریں۔ کہ ہیرو ہیروئنز کے سینز کم کیوں ہیں۔ 😊