Teri Chah Mein By Farwa Khalid Readelle50119 Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
سُلین جو ڈرائنگ روم کی جانب بڑھ رہی تھی۔ ملازمہ کی پکار پر گھبرا کر واپس پلٹی تھی۔
” میرے لیے؟؟؟“
سُلین نے اُس کے ہاتھ میں موجود لفافہ دیکھ سوالیہ لہجے میں پوچھا تھا۔ مگر ساتھ ہی لفافے پر لکھا اپنا نام دیکھ وہ اُسے ریسیو کرتے ملازمہ کو وہاں سے جانے کا بول گئی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ابتہاج کے سارے ملازمین اُس کے کس قدر وفادار تھے۔ اُسے یہاں چھپ کر باتیں سنتا دیکھ اُس کی چغلی بھی کرسکتے تھے۔
لفافے کو تھامے وہ آگے بڑھی تھی۔ وہ ابھی دروازے کے قریب پہنچی ہی تھی۔ جب اندر سے آتی ابتہاج کی چنگارتی آواز اُس کے قدم وہیں جکڑ گئی تھی۔
”ابھی اور اِسی وقت دفعہ ہوجاؤ میرے گھر سے ورنہ جو حال میں تمہارا کروں گا۔ خود کو پہچاننے کے قابل بھی نہیں رہو گی۔“
سُلین کی ہمت نہیں ہوئی تھی دروازے تک جانے کی۔ اِس لیے وہ قدرے فاصلے پر کھڑکی کے پاس کھڑی ہوگئی تھی۔ جہاں سے وہ اُن کو باآسانی دیکھ اور سن سکتی تھی۔
ابتہاج کے سامنے ایک عورت سیاہ چادر میں خود کو لپیٹے کھڑی تھی۔ وہ اُس عورت کی شکل نہیں دیکھ پائی تھی۔ مگر ابتہاج کا بپھرا غضبناک رُوپ اُسے ضرور سہما گیا تھا۔ ابتہاج نے اُسے یہاں آنے سے منع کیا تھا۔ اگر اُس کی نظر سُلین پر پڑ جاتی تو اُس کی خیر نہیں تھی۔
”ابتہاج بیٹا تم اتنی نفرت کیوں کرتے ہو اپنی ماں سے۔ تمہارے سوا اب میرا اِس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ خدا کے لیے مجھ سے منہ مت موڑو۔ میں تمہاری اتنی بڑی غلطی معاف کرسکتی ہوں تو کیا تم پچھلی باتیں بُھلا کر واپس سے۔۔۔۔۔۔“
مسز لغاری بات کرتے اُس کے قریب آئی تھیں۔ اِس سے پہلے کے وہ ہاتھ بڑھا کر ابتہاج کا چہرا چھوتیں، ابتہاج نے پوری قوت سے اُنہیں خود سے دور جھٹکا تھا۔
وہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ پاتے ٹیبل پر جاگری تھی۔ اُن کا سر ٹیبل کے کونے سے لگنے کی وجہ سے پھٹ چکا تھا۔ یہ سب دیکھتی سُلین نے منہ پر دونوں ہاتھ جماتے بہت مشکل سے اپنی چیخ روکی تھی۔
اُسے تو لگا تھا ابتہاج صرف دشمنوں کے لیے ایسا تھا۔ مگر اُس کے علاوہ وہ تو ہر انسان کے لیے کسی درندے سے کم نہیں تھا۔
کوئی بھلا اپنی ماں کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کر ،کرسکتا تھا۔
”ابتہاج بیٹا اتنے ظالم اور سنگدل مت بنو۔ میں ماں ہوں تمہاری ۔۔۔۔۔“
سر سے بہتے خون کی پرواہ کیے بغیر وہ عورت اپنی جگہ سے اُٹھی تھی۔ اب اُس کا چہرا سُلین کے سامنے تھا۔ اُسے یہ عورت دیکھی دیکھی لگی تھی۔ مگر کہاں زہن ہر زور دینے کے باوجود وہ یاد نہیں کرپائی تھی۔
”بس اب اگر ایک بار بھی خود کو میری ماں بولا تو گدی سے زبان کھینچ لوں گا تمہاری میں۔۔“
ابتہاج کی دھاڑ پر وہ عورت اپنی بات مکمل بھی نہیں کر پائی تھی۔ جس کا چہرا ایک سائیڈ سے بالکل خون سے بھیگ چکا تھا۔
سُلین کو اُس عورت پر بہت ترس آیا تھا۔ اور ابتہاج پر جی بھر کر غصہ۔ کوئی اتنا سفاک اور بے حس کیسے ہوسکتا تھا بھلا۔ غصے میں اپنی ماں پر ہاتھ اُٹھا دے۔
وہ اندر جاکر ابتہاج لغاری کو جھنجھوڑ دینا چاہتی تھی۔ مگر پہلے دن جیسا ابتہاج سے اُس کا خوف واپس لوٹ آیا تھا۔ جو شخص اپنی ماں پر ہاتھ اُٹھا سکتا تھا۔ وقت آنے پر نجانے اُس کے ساتھ کیا سلوک کرتا۔
”دفع ہوجاؤ یہاں سے۔ اگر دوبارہ میرے گھر کی جانب نظر ڈالنے کی کوشش بھی کی تو تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کتوں کو ڈال دوں گا۔“
ابتہاج کا غصہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ چند لمحوں بعد ابتہاج کے گارڈز اندر آکر اُس عورت کو گھسیٹ کر باہر لے گئے تھے۔
سُلین بے بسی سے ہاتھ باندھے آنسو بہاتی وہیں کھڑی رہ گئی تھی۔ اُس نے غور سے ابتہاج کی جانب دیکھا تھا۔ جس کی لہو رنگ آنکھوں میں وحشتیں مزید بڑھ گئی تھیں۔ اُس نے غصے سے اپنا ہاتھ دیوار پر دے مارا تھا۔ جس میں لگا کیل بُری طرح اُس کے ہاتھ میں کھب گیا تھا۔
سُلین اُس کا لہولہان ہوتا ہاتھ دیکھ کرب سے کراہ کر رہ گئی تھی۔
★★★★★★★★★
”مجھے زورین شاہ سے ملنا ہے۔“
دل کاؤنٹر ہر موجود لڑکی سے مخاطب ہوئی تھی۔ جبکہ آفس میں اردگرد موجود لوگ اُسے دیکھ الرٹ ہوئے تھے۔ نکاح پر وہ سب انوائیٹڈ تھے۔ تقریباً سب لوگ ہی جانتے تھے کہ وہ زورین شاہ کی وائف ہے۔
”میم سر تو اِس وقت ایک امپورٹنٹ میٹنگ میں بزی ہیں۔ آپ آئیں میں آپ کو اُن کے آفس میں لے جاتی ہوں۔“
جس جگہ وہ ایک بار پہلے اِن سب سے چھپ کر گئی تھی۔ آج وہیں اُسے پوری عزت و احترام کے ساتھ لے جایا جارہا تھا۔ اُس کی ظاہری حیثیت بدل چکی تھی۔ مگر زورین کے نزدیک اُس کا اب بھی کوئی مقام نہیں تھا۔
زورین کی پی اے اُسے آفس میں چھوڑ کر واپس پلٹ گئی تھی۔ دل ایک نظر پورے آفس پر ڈالتی زورین کے ٹیبل کے قریب رکھی کرسی پر آبیٹھی تھی۔ وہ اِس وقت بہت ٹینشن میں تھی۔ وہ جانتی تھی زورین اُس سے شدید غصے میں تھا۔ اُس کی بات ماننا تو دور کی بات ، اُس کی شکل دیکھنے کا روادار نہ ہوتا۔ مگر اپنے گھر والوں کے احسانوں کا بدلہ چکانے کے لیے اُسے زورین شاہ سے یہ احسان لینا تھا۔ چاہے اُس کے لیے اُسے کچھ بھی کرنا پڑتا۔
دل کو زورین کا انتظار کرتے بہت دیر ہوچکی تھی۔ مگر ابھی تک اُس کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔ اُس نے گھڑی پر ٹائم دیکھا تھا۔ یہاں بیٹھے اُسے دو گھنٹے ہوچکے تھے۔
” کہیں وہ اکڑو شاہ چلا تو نہیں گیا۔ اور میں پاگلوں کی طرح یہاں بیٹھی اُس کا انتظار کررہی ہوں۔“
دل خود سے ہم کلام ہوتی باہر کی جانب بڑھی تھی۔ اُس نے دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا۔ جب عجلت میں دوسری جانب سے دروازہ کھولتے وہ اندر داخل ہوا تھا۔
اُس کا کندھا اتنی زور سے دل سے ٹکرایا تھا۔ کہ وہ بُری طرح لڑکھڑاتی زمین بوس ہونے کو تھی۔ مگر زورین نے اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتے اُسے سر کے بل گرنے سے محفوظ رکھا تھا۔
وہ اچانک سے پیش آنے والے اِس تصادم اور زورین کے ایک دم قریب آجانے کی وجہ سے گھبراتی اُس کا کوٹ مُٹھی میں جکڑ گئی تھی۔
” کیا کررہی ہو تم یہاں۔“
زورین نے اُس کے وجود کی لرزش محسوس کرنے کے باوجود اُسے کے گرد سے حصار ختم نہیں کیا تھا۔ بلکہ ایک ہلکا سا جھٹکا دیتے اُسے خود کے مزید قریب کرلیا تھا۔
”مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔“
دل اِس وقت اُسے غصہ دلا کر اپنا کام مزید خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اِسی لیے بنا مزاحمت کیے چپ چاپ اُس کے حصار میں قید رہی تھی۔
زورین پہلے حیران ہوا تھا۔ مگر اگلے ہی لمحے وجہ سمجھتے اُسے دیکھے گیا تھا۔ دل کا چہرا اُس کے قریب کھڑے ہونے کی وجہ سے لال اناڑی ہوچکا تھا۔ مگر وہ سانسں روکے لرزتی کانپتی ایسے کھڑی تھی۔ جیسے زرا سا بھی ہلی تو پتھر کی ہوجائے گی۔
”میں اچھے سے جانتا ہوں۔ تمہیں کیا بات کرنی ہے مجھ سے۔ میں قطحی نہیں مانوں گا۔ اِس لیے بولنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ میں نے تمہیں منع کیا تھا نا کہ تم اپنے اُن لالچی گھر والوں کے پاس نہیں جاؤ گی۔ پھر کیوں گئی تم وہاں۔”
زورین کا صبح والا غصہ ابھی کم نہیں ہوا تھا۔ دل اِس وقت مرجنڈا کلر کے لباس میں ملبوس بار بار سر سے ڈھلکتا دوپٹہ ٹھیک کرنے میں ناکام ہوتی، زورین شاہ کو اپنی جانب متوجہ کررہی تھی۔
زورین کو اُس کا یوں دوپٹے سے اُلجھنا کوفت میں مبتلا کررہا تھا۔ اِس لیے وہ اُس کی دونوں کلائیاں ہاتھ کی گرفت میں لیتا اُس کی توجہ پوری طرح اپنی جانب موڑ گیا تھا۔
” آئم سوری آئندہ آپ کی ہر بات مانوں گی۔ پلیز آپ میری یہ بات مان لیں۔ میں نے آج تک آپ کے سامنے جو بھی غلط بکواس کی میں اُس سب پر بہت شرمندہ ہوں۔ پلیز میری یہ پہلی اور آخری بات مان لیں۔ میں زندگی بھر آپ کی احسان مند رہوں گی۔ آپ جو بات کہیں گیں میں بنا کوئی اعتراض اُٹھائے مانوں گی۔ مگر پلیز میرے گھروالوں کو روڈ پر مت لائیں۔“
دل بات کررہی تھی۔ جب زورین اُسے زچ کرنے کے لیے اپنا چہرا اُس کے چہرے سے ہلکا سا ٹچ کر گیا تھا۔ جس پر دل جی جان سے لرز اُٹھی تھی۔ مگر پھر بھی اپنی بات جاری رکھی تھی۔ اِس شخص کی آزمائشوں پر کھڑا اُترنا آسان کام نہیں تھا۔ اِس لیے وہ پہلے سے خود کو تیار کرکے آئی تھی۔
”کچھ بھی مطلب کچھ بھی کرسکتی ہو۔ رئیلی؟“
زورین اُس کی بات کا مذاق اُڑاتا استہزایہ ہنسا تھا۔ جس پر دل کی آنکھوں میں نمی بھر گئی تھی۔ اِس شخص نے اُس کی لائف مذاق ہی تو بنا رکھی تھی۔
”ہاں جو آپ کہیں گے میں کرنے کو تیار ہوں۔“
دل اُس کی جانب سے رسپانس پاکر جلدی سے بولی تھی۔
”آج صبح مجھے نفس کا غلام بولا تھا نا تم نے۔ اِسی لیے اب میں تمہارے قریب نہیں تم میرے قریب آؤ گی۔ اور جو میں کہوں گا وہ کرنا ہوگا۔“
زورین اُس کی کمر سے بازو ہٹاتا دو قدم کے فاصلے پر جاکر کھڑا ہوا تھا۔ جس پر دل نے ہونقوں جیسی شکل بنائے اُسے دیکھا تھا۔ دل کو یہ بات بولتے ایک پرسنٹ بھی اندازہ نہیں تھا۔ کہ زورین اِس قسم کی بھی کوئی ڈیمانڈز بھی کرسکتا ہے۔
”انکار کرنے سے پہلے سوچ لینا، یہ تمہارا پہلا اور آخری چانس بھی ہوسکتا ہے۔ “
زورین اُسے پہلے ہی قدم پر کمزور پڑتا دیکھ وارن کرتے بولا تھا۔ صبح دل نے اُسے جتنا غصہ دلایا تھا۔ اِس وقت وہ اُسے زچ کرکے اپنا حساب برابر کرنا چاہتا تھا۔
دل لرزتے قدموں سے درمیانی فاصلہ طے کرتی زورین کی جانب بڑھی تھی۔
دل نے نظریں اُٹھا کر زورین کی جانب دیکھا تھا۔ جو پہلے سے اُسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔ دونوں کی نظریں ملتیں کچھ لمحوں میں دونوں کو ہی ساکت کرگئی تھی۔ دل اُس کے قریب آچکی تھی۔ دونوں آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کچھ پل کے لیے کھو سے گئے تھے۔
یہ شخص اُسے زبان سے نجانے کتنی بار دھتکار چکا تھا۔ مگر اِس کی آنکھیں تو کچھ اور ہی کہہ رہی تھیں۔
زورین نے اُس کے دونوں بازو اپنے کندھوں پر ٹکاتے اُسے اپنے بالکل قریب کر لیا تھا۔ جس کی وجہ سے زورین کا چہرا دل کے نہایت قریب ہوتا اُس کے گال بُری طرح دہکا گیا تھا۔
دل کا پورا وجود ایسے لرزنے لگا تھا۔ جیسے وائبریشن پر لگا دیا گیا ہو۔
” تم اتنی معصوم واقعی میں ہو یا صرف میرے سامنے ظاہر کرتی ہو۔ تمہیں لگتا ہے میں اتنی آسانی سے تمہاری بات مان لوں گا۔“
دل جو زورین کق اپنی گردن پر جھکتا دیکھ آنکھیں سختی سے موندتی ہونٹ بھینچ گئی تھی۔ اُس کے اِس طرح کان میں سرگوشی کرنے پر اُس نے پٹ سے آنکھیں کھولتے زورین کی جانب دیکھا تھا۔
جس کی مذاق اُڑاتی نظریں دل پر پڑتی اُسے شرم سے پانی پانی کرگئی تھیں۔ یہ شخص اُس کے ساتھ گیم کھیل رہا تھا۔ اور وہ ایک بار پھر اُس کے ہاتھوں کھیلونا بن چکی تھی۔
” کک کیا مطلب۔۔۔۔“
دل کے لب ہولے سے پھڑپھڑائے تھے۔ جبکہ آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری ہوچکی تھی۔
“تم نے صبح جو الفاظ مجھے بولے تھے۔ ابھی بھی اُن پر قائم ہو۔ ہوس کا مارا شخص سمجھتی ہو مجھے۔ کہ تمہاری قربت میں بہک کر تمہاری ہر بات مان جاؤں گا۔ میں صرف دیکھنا چاہتا تھا۔ کہ اپنے لالچی اور خودغرض گھر والوں کی خاطر کیا کیا کرسکتی ہو تم۔ تم نے تو حیران کرکے رکھ دیا مجھے۔ میں تمہاری زندگی کا ناپسندیدہ ترین انسان ہوں نا۔ مگر اُن لوگوں کی خاطر میرے قریب آنا بھی بُرا نہیں لگا تمہیں۔“
زورین کو یہ بات آگ لگا گئی تھی۔ وہ لوگ دل کے لیے اتنے اہم کیوں تھے۔ وہ یہ بات سوچتا اندر سے شدید جلن کا شکار ہوا تھا۔
” زورین میری بات۔۔۔۔۔“
دل کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے۔ زورین نے اُسے بالوں کی گدی سے تھام کر اُس کا چہرا اپنے بے حد قریب کیا تھا۔
”آئندہ اگر تم کسی اور کی خاطر اِس طرح میرے قریب آئی تو چھوڑوں گا نہیں میں تمہیں۔“
زورین کی گرم سانسیں دل کا چہرا جھلسا رہی تھیں۔ وہ تو سب کچھ زورین کی بات مانتے ہوئے کر رہی تھی۔ پھر اچانک وہ اتنے غصے میں کیوں آگیا تھا۔ ایسی کیا چیز تھی جو اُسے اِس بُری طرح سے چبھ گئی تھی۔
” اب یہ آنسو کس لیے۔“
زورین اُس کی بھیگی پلکیں دیکھ دانت چبھاتے بولا تھا۔
” آپ اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں مجھ سے۔“
دل نے یہ بات کرتے سسکی لی تھی۔ زورین نے ابھی تک اُس کے بالوں کو آزاد نہیں کیا تھا۔ گردن ہلکی سی مُڑی ہونے کی وجہ سے اُس کو اب درد ہونے لگا تھا. مگر وہ بنا مزاحمت کیے کھڑی رہی تھی۔
” میں تم سے نفرت نہیں کرتا۔“
زورین اُس کے چہرے پر تکلیف کے آثار دیکھ اُسے آزاد کرگیا تھا۔ جبکہ اُس کے الفاظ دل کے لیے خوشگواریت بھرا احساس پیدا کرگئے تھے۔ اُس نے گھنیری بھیگی پلکیں اُٹھا کر زورین کی جانب دیکھا تھا۔ جس کے اگلے الفاظ اُس کی ساری خوش فہمی غارت کرگئے تھے۔
”تمہیں اور تمہارے خاندان کو ہمیشہ کے لیے ختم کردینا چاہتا ہوں۔ تمہیں کیا لگتا ہے، تم جیسی لڑکی کو اپنی زندگی میں کسی لگاؤ یا محبت کے تحت شامل کیا ہے میں نے۔”
زورین کے حقارت بھرے انداز پر دل کی آنکھیں ایک بار پھر جھلملا اُٹھی تھیں۔
” تو پھر کس لیے کی آپ نے یہ شادی۔“
اُس کا دل ڈوب کر اُبھرا تھا۔
” کیونکہ تمہیں مہرا بنانا تھا میں نے۔ تمہارے لالچی اپنوں کو اذیت دینے کے لیے۔“
زورین کی کہی بات پر دل کے لبوں پر زخمی مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔ اُسے اِس حال میں دیکھ اُس کے گھر والوں کو اذیت نہیں خوشی ہونی تھی۔
” کیا کیا ہے میرے گھر والوں نے ایسا۔“
دل کچھ دنوں سے جس خوش فہمی میں گھوم رہی تھی کہ شاید زورین بھی کہیں نہ کہیں اُسے چاہنے لگا ہے وہ اب ختم ہوچکی تھی۔
مگر وہ ایک بار زورین کی نفرت کی وجہ جاننا چاہتی تھی۔ اِس لیے مسلسل گریہ زاری سے سُرخ ہوئی اپنی دکھتی پلکیں اُٹھا کر اُس نے زورین کی جانب دیکھا تھا۔ جو اِس وقت اُسے اپنی پہنچ سے کوسوں دور لگا تھا۔
” قاتل ہیں وہ میرے اپنوں کے۔ قتل کیا ہے اُنہوں نے میرے ماں باپ کا۔ اُن سب کو ایسا عبرت کا نشانہ بناؤں گا کہ ساری دنیا یاد رکھے گی۔ اب تک میں ایسا کر بھی گزرتا۔ مگر۔۔۔۔۔“
دل جو اِس انکشاف پر پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھ رہی تھی۔ اُس کی بات ادھوری چھوڑنے پر سوالیہ نظریں اُوپر اُٹھائی تھیں۔
” مگر تمہارے ماں باپ کے ملنے کا انتظار ہے مجھے۔ میں جانتا ہوں بہت جلد ڈھونڈ لوں گا میں اُنہیں اور پھر شروع ہوگی۔ تمہارے ماں باپ سمیت ، تمہارے خاندان والوں کی اصل تباہی۔“
زورین کی آنکھیں اِس وقت آگ اُگل رہی تھیں۔ جیسے اُس سمیت اُس کے پورے خاندان کو جلا کر راکھ کردینا چاہتا ہو۔
”تو آپ بھی باقی سب کی طرح ہی نکلے۔ میرے ماں باپ کے کیے کی سزا مجھے دینا چاہتے ہیں۔“
دل زورین سے یہ شکوہ کرنا چاہتی تھی۔ مگر اِس وقت دل میں یہ بات سوچنے کے علاوہ کچھ نہیں کرپائی تھی۔
اب منزہ ہی تھی جو اُسے ساری حقیقت بتا سکتی تھی۔
” میں آپ کی ہر سزا سہنے کو تیار ہوں۔ مگر آپ میرے بڑوں کے کیے کی سزا۔ اُن کے بچوں کو نہیں دے سکتے۔ پلیز اُن لوگوں کا اِس میں کوئی قصور نہیں ہے۔ اُن کو سزا مت دے، اُن کا کسی چیز میں کوئی جرم نہیں ہے۔ آپ پلیز اپنی ساری نفرت سارا غصہ مجھ پر نکال دیں۔ میں اُف تک نہیں کروں گی۔ پوری زندگی آپ کی احسان مند رہوں گی۔ مگر سویرا لوگوں کی زندگی مشکلات میں گھرنے سے بچا لیں۔ پلیز ۔۔۔۔۔“
دل زورین کے منہ سے اپنے لیے اتنی نفرت سن کر اذیت کی حدوں کو چھو چکی تھی۔ زورین کے سامنے ہاتھ جوڑ کر التجا کرتی۔ وہ اگلے ہی لمحے وہاں سے نکل گئی تھی۔ جبکہ زورین اپنی جگہ سُن کھڑا رہ گیا تھا۔
اپنی نفرت اِس نازک لڑکی پر اُنڈیل دینے کے باوجود وہ ریلیکس نہیں ہوپایا تھا۔ بلکہ اُس کے دل میں مزید بے چینی سی بھر گئی تھی۔
★★★★★★★★★
اُس عورت کے جانے کے بعد ابتہاج بھی گھر سے نکل گیا تھا۔ سُلین عجیب سی اُلجھی سوچوں کا شکار اپنے روم میں آگئی تھی۔ اُس کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔
وہ عورت ابتہاج کی ماں تھی تو ابتہاج نے اُسے اتنا بُرا سلوک کیوں کیا تھا۔ چاہے جتنی بھی ناراضگی سہی مگر کوئی بیٹا بھلا اپنی ماں کے ساتھ ایسا کیسے کرسکتا تھا۔ مگر دوسری جانب سُلین کا دل اِس بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھا۔ اُس نے اپنے لیے ابتہاج کا جو محبت بھرا اور مہربان رُوپ دیکھا تھا۔ وہ بھی تو نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیں تھا۔
” اُف میرے خدا اِس شخص کے آخر کتنے رُوپ ہیں۔ اصل چہرا کونسا ہے اِس کا۔ “
سُلین اپنی دکھتی کنپٹیاں مسلتے بولی تھی۔ جب اُس کی نظر اپنے پاس رکھے لفافے پر پڑی تھی۔ ابتہاج کے گھر بھلا کون اُس کے لیے یہ بھیج سکتا تھا۔ سُلین نے جلدی سے لفافہ کھولتے اُس میں موجود ڈاکومنٹس باہر نکالتے تھے۔ سب سے اُوپر ایک لیٹر رکھا گیا تھا۔ جس پر لکھی لمبی چوڑی تحریر سُلین کے لیے بے حد حیرانی کی باعث تھی۔
مگر جیسے جیسے اُس نے وہ پڑھنا شروع کی اُس کی آنکھیں غیر یقینی حد تک پھیلتی چلی گئی تھیں۔
ابتہاج لغاری ایک قاتل تھا۔ وہ بھی اپنے باپ کا جسے اُس نے بہت ہی بے دردی سے مارا تھا۔ سُلین سے آگے کچھ پڑھا ہی نہیں گیا تھا۔ تحریر کے شروع میں ہی لکھا گیا تھا۔ کہ اِس لیٹر میں جو کچھ بھی لکھا ہے اُس کا ثبوت بھی ساتھ بھیجا گیا ہے۔ اِسی لیے سُلین نے آگے کچھ پڑھنے کے بجائے ساتھ بھیجے گئے عدالت کے پیپرز چیک کیے تھے۔ جہاں واضح طور پر یہ ثابت کررہے تھے۔ کہ ابتہاج نے نہ صرف اپنے باپ کا نہ صرف قتل کیا تھا۔ بلکہ اپنے جرم کا اقرار کرتے اتنے سال جیل میں بھی گزار کر آچکا تھا۔
سُلین کو اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہورہی تھی۔ وہ ایک عادی مجرم ایک ظالم و جابر شخص کے ساتھ اُس کی بیوی بن کر رہ رہی تھی۔ جس نے اپنے ہی باپ کا قتل کیا تھا۔
سُلین نے بھیگتی خوفزدہ آنکھوں کے ساتھ تحریر دوبارہ پڑھنی شروع کی تھی۔
وہ جیسے جیسے آگے سب پڑھتی جارہی تھی۔ اپنا آپ اُسے زمین میں دھنستا محسوس ہورہا تھا۔ ابتہاج لغاری نہ صرف ایک بہت بڑا سمگلر تھا۔ بلکہ ایسے ہی نجانے کتنے ملک فروشوں کا دوست بھی تھا۔ وہ اسلحہ اور منشیات کی ہی نہیں بلکہ انسانوں کی سمگلنگ بھی کرتا تھا۔ اور اب تک نجانے کتنے گھر اُجاڑ چکا تھا۔ پاشا جو کہ ایشیا کا نمبر ون ڈان مانا جاتا تھا۔ وہ ابتہاج کا قریبی ساتھی تھا۔
ابتہاج کے کریمنل ریکارڈ کی ایک ایک چیز ثبوت کے ساتھ اُسے بھیجی گئی تھی۔
ابتہاج کے والد جعفر لغاری کو جب ابتہاج کی سچائی کا پتا چلا تو اُنہیں نے اُسے روکنے کی بہت کوشش کی تھی۔ بات نہ ماننے پر اُسے پکڑوانے کی دھمکی بھی دی تھی۔ جس پر اپنا کام خطرے میں پڑتا دیکھ غصے اور جذبات میں آکر اُس نے اپنے باپ کو اپنے اڈے پر بلوا کر موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا۔
اُس کی ماں نے اپنے شوہر کق انصاف دلانے کے لیے بیٹے کے خلاف گواہی دی تھی۔ جس کی وجہ سے وہ اُن سے بھی بے پناہ نفرت کرنے لگا تھا۔ اور مارنے کی دھمکی بھی دے چکا تھا۔
جس کی ایک جھلک تو سُلین خود بھی دیکھ چکی تھی۔ اُس کے ہاتھ سے خط چھوٹ کر فرش پر جاگرا تھا۔
★★★★★★★★
زورین ریوالونگ چیئر پر جھولتا اپنے اندر کے اضطراب پر قابو پانے کی کوشش کررہا تھا۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے جو روتی بلکتی لڑکی اُس کے پاس سے گئی تھی۔ اُس کا ہر آنسو زورین شاہ کو اپنے دل پر گرتا محسوس ہورہا تھا۔
اُس نے آج تک خود کو اتنا بے بس محسوس کبھی نہیں کیا تھا۔ جتنا اِس وقت کررہا تھا۔ جس لڑکی کو اپنی زندگی میں اُس نے نفرت کرنے اور اُس کے ماں باپ سے انتقام لینے کے لیے شامل کیا تھا۔ وہ لڑکی دن بدن اُسے عزیز تر ہوتی جارہی تھی۔ جسے وہ صرف رُلانے کی خواہش رکھتا تھا۔ اُس کی تکلیف پر اذیت میں مبتلا وہ خود ہوجاتا تھا۔
چاہتے ہوئے بھی خود کو اُس سے دور نہیں رکھ پارہا تھا۔ اُس کا دل اُسی لڑکی کی قربت کا خواہاں ہونے لگا تھا۔ جسے وہ دھتکارنا چاہتا تھا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
