Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

سُلین کا پورا وجود تھر تھر کانپ رہا تھا۔ مگر ابتہاج کا چہرا بتا رہا تھا۔ کہ وہ اِس وقت کسی قسم کا رحم کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔
” چھوڑیں مجھے۔۔۔۔آپ جیسے ملک فروش درندے سے شدید نفرت کرتی ہوں میں۔ جو محافظ نہیں ایک لُٹیرا ہے۔ “
سُلین پورا دن جس اذیت میں رہی تھی۔ اِس وقت وہ بھی غصے اور دکھ سے نڈھال ہوتی ابتہاج پر اپنے اندر کی ساری بھڑاس نکالنے لگی تھی۔
” سُلین میری بات سنے، مجھ سے پوچھے بغیر تم وہاں سے کیوں آگئی۔ کیا میرے ساتھ رہنے کے باوجود تم ایک پرسنٹ بھی بھروسہ نہیں کر پائی مجھ پر، تمہاری نظر میں میں اتنا بے اعتبار اور گھٹیا انسان ہوں۔ کہ مجھ سے پوچھنے کے بجائے تم نے کسی غیر اور انجان شخص کے بھیجے اُس کاغذ کے ٹکڑے پر بھروسہ کرلیا۔“
ابتہاج بن پانی کی مچھلی کی طرح اپنے حصار میں تڑپتی سُلین کو اپنی آہنی گرفت میں بالکل بے بس کرتے لال آنکھوں سے گویا ہوا تھا۔
ابتہاج جانتا تھا۔ کہ ایک دن اُس کی حقیقت سُلین کے سامنے آنی تھی۔ مگر اُس کی اتنی محبت اور عزت دینے کے بعد سُلین کا ایسا ردعمل اُس بے حس انسان کو بھی ہرٹ کرگیا تھا۔ جس نے اُس سے کچھ پوچھنا تک گوارہ نہیں کیا تھا۔ کسی بھی بات کی تصدیق مانگے بغیر بس اُسے یوں چھوڑ آئی تھی۔
”تو وہ سچ نہیں ہے۔ اپنے ہی باپ کے قاتل نہیں ہیں آپ۔ اتنے سال جیل میں نہیں گزرے آپ کے۔ آپ منشیات سے کے کر انسانوں کی سمگلنگ میں ملوث نہیں ہیں کیا۔“
سُلین اُسے صفائی دینے کا موقع بھی دینے کی روادار نہیں تھی۔ کیونکہ سارے ثبوت اُس نے اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔
“کیا ہوا اب خاموش کیوں ہیں۔ کسی بات کا جواب نہیں ہے نا آپ کے پاس، یا پھر کوئی نئی پلاننگ کررہے ہیں، مجھے اپنے فریب میں پھنسانے کے لیے۔ آپ کو کیا لگتا ہے۔ آپ مجھے سے اپنی حقیقت چھپائیں گے تو کسی اور طرف سے پتا نہیں چلے گا مجھے۔“
سُلین اُس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کرتی مسلسل بازو ہلا رہی تھی۔ مگر ابتہاج کی گرفت سخت سے سخت تر ہوتی جارہی تھی۔ یہ سب ایسے نہیں ہونا چاہیے تھا۔ سُلین اُس سے دور نہیں جاسکتی تھی۔ اور نہ ہی وہ اُس کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت برداشت کرسکتا تھا۔
”سلین ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تم سمجھ رہی ہو۔“
ہر ایک کو ڈنکے کی چوٹ پر بنا پرواہ کیے کھری کھری سنانے والا آج صرف اپنی محبت کی خاطر اُسے وضاحت دینے لگا تھا۔
”اپنے سب سے عزیز ترین انسان کی قسم کھا کر بتائیں جھوٹ ہے یہ سب۔ آپ نے اپنے باپ کا قتل نہیں کیا۔ اور نہ ہی آپ نے اتنے سال جیل میں گزارے ہیں۔“
سُلین اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولتی اُس کے منہ سے صرف ہاں یا نہ سننے کی خواہاں تھی۔
”یہ سچ ہے۔ ہاں کیا ہے قتل میں نے اپنے باپ اور سات سال جیل میں بھی سزا کاٹی ہے میں نے۔ مگر۔۔۔۔۔“
ابتہاج اُس کے سامنے سب کچھ کلیئر کرنا چاہتا تھا۔ مگر سُلین اُس کے منہ سے اتنی سی بات سن کر ہی مزید اذیت سے دوچار ہوئی تھی۔ دل میں موجود موہم سی اُمید بھی ختم ہوچکی تھی۔ تو وہ سب سچ تھا۔ اِس وجاہت اور حُسن کے شاہکار کے پیچھے اُس نے اپنا کتنا بھیانک رُوپ چھپا رکھا تھا۔
”بس مجھے اِس سے زیادہ کچھ نہیں سننا مسٹر ابتہاج لغاری۔۔۔۔۔۔“
سُلین پوری قوت لگا کر اُس کا ڈھیلا پڑتا حصار توڑتی دور ہوئی تھی۔
” آپ کو کیا لگتا ہے۔ یہ سب سننے کے بعد اب میں ایک پل بھی آپ کے ساتھ رہوں گی۔ گھن آرہی ہے مجھے آپ سے۔ نفرت محسوس کررہی ہوں میں خود سے۔ کہ چند دن ہی سہی مگر آپ کے ساتھ کیوں رہی۔ مجھے اب آپ کے ساتھ نہیں رہنا۔ مجھے طلاق چاہیئے۔ ابھی اور اِسی وقت آزاد کردیں مجھے اِس اَن چاہے رشتے سے۔“
سُلین آنکھوں میں آنسو بھرے زہر خند لہجے میں بولتی ابتہاج لغاری کا ضبط ختم کرگئی تھی۔
طلاق کے نام پر اُس کا غصہ عود آیا تھا۔ جس سے اُس نے ہمیشہ سُلین کو بچا کررکھا تھا۔
”بس اب مزید ایک لفظ اور نہیں۔ بہت بول لی تم اور میں نے سن بھی لیا۔ میں نے ابتہاج لغاری نے، زندگی میں پہلی بار اپنے زندگی کے سب سے اہم فرد کو وضاحت دینی چاہی۔ مگر تم میری سنا بغیر اپنے دماغ میں پہلے ہی سب ڈیسائیڈ کر چکی ہو تو ٹھیک ہے۔ اب میں تمہیں کوئی وضاحت نہیں دوں گا۔ تم مانگو گی تب بھی نہیں۔ ابھی مجھ سے طلاق مانگ کر جو الفاظ تم نے ادا کیے ہیں۔ اب تمہاری یہی سزا ہے کہ جب تم چاہو گی بھی سہی تب بھی میں تمہیں کچھ نہیں بتاؤں گا۔
تمہیں شک کرنا ہے مجھ پر۔ بدگمان ہونا ہے مجھ سے۔ جو مرضی کرنا ہے کرو۔ مگر رہنا تمہیں اب ہمیشہ کے لیے میرے ساتھ ہی ہے۔ مجھ سے دور جانے اور خلع لینے کا خیال بھی اب اپنے دماغ سے نکال دو۔“
ابتہاج اپنے بھاری قدم اُٹھاتا اُس کے قریب آیا تھا۔ سُلین اُس کے اچانک بدلتے تیوروں پر مزید خوفزدہ ہوتی پیچھے موجود دیوار سے جالگی تھی۔
”میں کورٹ میں کیس کروں گی آپ کے خلاف۔ آپ مجھے کمزور سمجھ کر مجھ سے یوں زبردستی نہیں کرسکتے۔“
سُلین کے وجود پر خوف کے مارے لرزا طاری ہوچکا تھا۔
”میں کچھ بھی کرسکتا ہوں۔ ویسے ابھی خود ہی تو بولا ہے تم نے۔ یہاں کا سب سے بڑا سمگلر اور قاتل ہوں میں۔ تو سوچوں جو شخص ایک قتل کرسکتا ہے۔ وہ اور بھی کیا کچھ نہیں کرسکتا۔ اُس کی پاور کا مقابلہ کیسے کرسکتی ہو تم۔“
ابتہاج کے دھمکی آمیز انداز پر سُلین کو اپنا خون خشک ہوتا محسوس ہوا تھا۔
”کک کیا مطلب۔۔۔۔۔“
سُلین سے بولنا محال ہوگیا تھا۔
”چلو میرے ساتھ سارے مطلب سمجھا دوں گا۔“
ابتہاج نے بہت مشکل سے سُلین کا خیال کرتے اپنے الفاظ اور لہجہ کو نارمل رکھا ہوا تھا۔ مگر اُس کے چہرے کے پتھریلے تاثرات سُلین کی سانسیں روکے ہوئے تھے۔
”مجھے آپ کے ساتھ کہیں نہیں جانا۔“
سُلین اُسے اپنی جانب ہاتھ بڑھاتا دیکھ نفی میں سر ہلاتی چلائی تھی۔
مگر وہ اُس کی مزاحمت کو کسی کھاتے میں لائے بغیر اُسے کسی بے جان گڑیا کی طرح پکڑ کر اپنے کندھے پر ڈال گیا تھا۔ سُلین اُس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرتی مسلسل ٹانگیں ہلاتے، اُس کے کندھوں پر مکوں اور ناخنوں سے حملہ کرتی رہی تھی۔
مگر ابتہاج کو تو جیسے فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا۔
باہر آکر سلین کی مزاحمت دم توڑ گئی تھی۔ اُس کے ہٹے کٹے گارڈر ابتہاج کو اندر جانے پر رُوکنے کے جرم میں رسیوں سے بندھے بے ہوش پڑے تھے۔ جب یہ شخص اِن لوگوں کا یہ حال کرسکتا تھا تو وہ کہاں اب باڈی بلڈر کا مقابلہ کر سکتی تھی۔
ابتہاج نے اُسے لاکر گاڑی میں بیٹھا دیا تھا۔ فرنٹ سیٹ پر خاموشی سے ٹکتے اُس کا دماغ ابتہاج لغاری سے نبٹنے کے بارے میں منصوبہ تیار کرنے لگا تھا۔
★★★★★★★★★
”کیا ہوا یہ گھر میں اتنی خاموشی کیوں ہے۔ سب لوگ کہاں ہیں۔“
زورین دس بجے ہی ہر طرف چھائی خاموشی اور گھر کی لائٹس آف دیکھ ملازمہ سے مخاطب ہوا تھا۔
” سر وہ سب لوگ سو گئے ہیں۔ منزہ بھابھی نے صبح چار بجے کی فلائٹ سے واپس جانا ہے۔ اِس لیے آج وہ جلدی اپنے روم میں چلی گئیں۔“
ملازمہ کی اطلاع پر زورین کو جھٹکا لگا تھا۔ منزہ کا صبح تک تو ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ پھر اچانک بھلا کیا ہوگیا تھا۔
ملازمہ کو بھیجتا وہ اپنے روم میں جانے کے بجائے منزہ کے روم کی طرف بڑھ گیا تھا۔
ایک دو بار ناک کرنے کے بعد منزہ کی آواز پر وہ اندر داخل ہوا تھا۔ دونوں بچے بیڈ پر سورہے تھے۔ جبکہ منزہ صوفے پر بیٹھی کچھ کھوئی کھوئی سی لگی تھی۔
” اچانک واپس جانے کا پلان کیوں بن گیا تمہارا۔ ابھی تو ایک ویک اور رہنا تھا تم نے۔“
زورین کو دیکھ منزہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی اُس کے مقابل آئی تھی۔
”جس کام کے لیے آئی تھی۔ وہ ہوگیا ہے، اب میں واپس جانا چاہتی ہوں۔ ویسے بھی تمہارے پاس تو اب اپنی فیملی کے لیے کوئی ٹائم ہے ہی نہیں۔ جب تمہاری نئی نویلی دلہن کے لیے وقت نہیں تمہارے پاس ہمارا نمبر تو پھر اُس کے بعد آتا ہے۔ تمہارے بھائی سہی کہہ رہے تھے ، تم نے بزنس میں گم ہوکر خود کو بالکل مشین بنا لیا ہے۔ تم خود ہی اپنی خوشیوں کے دشمن بن چکے ہو۔“
منزہ بھری بیٹھی تھی۔ اُس کے زرا سا چھیڑنے پر اپنی ساری بھڑاس نکالتی چلی گئی تھی۔
”ہمہ لگتا ہے کسی نے تمہیں میرے خلاف ورغلایا ہے۔ اور یہ کیسی بات کہی تم نے۔ تم اور بھائی میری لائف میں سب سے زیادہ امپورٹنٹ ہو۔ جس کی بات تم کررہی ہو۔ وہ میری لائف میں بالکل بھی سٹینڈ نہیں کرتی۔“
زورین سینے پر ہاتھ باندھے لاپرواہی سے بولتا منزہ کو آگ لگا گیا تھا۔
یہ خود سر شخص کسی کی نہیں سننے والا تھا۔ اِس کے ساتھ سر کھپانا بیکار تھا۔
”میں کوئی چھوٹی بچی نہیں ہوں کیا۔ جو ایسے ہی کسی کی بھی باتوں میں آجاؤں گی۔ مجھ سے کسی نے کچھ نہیں کہا۔ میں خود بھی آنکھیں اور کان سلامت رکھتی ہوں۔“
منزہ کے تپ کر بولنے پر زورین کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی۔
” تم جانتے ہو۔ آج کل میں اپنے رب کی مزید شکرگزار ہوگئی ہوں۔“
منزہ کی بات پر زورین نے سوالیہ نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔
”کہ میرے پروردگار نے میری زندگی میں ثاقب جیسا سُلجھا ہوا، بے پناہ عزت اور محبت دینے والے انسان کا ساتھ لکھا ہے۔ دل کی طرح تم جیسے ظالم، سنگدل اور اُکھڑ شخص کے ساتھ قسمت نہیں پھوٹی میری۔“
منزہ کے جل کر بتانے پر زورین کا بے ساختہ قہقہ چھوٹا تھا۔
”بس اِسی طرح شکرگزار رہنا۔ میرے بھائی واقعی بہت اچھے ہیں۔ میں تمہیں یہاں مزید رُکنے کا کہنے آیا تھا۔ مگر تمہاری باتوں سے لگ نہیں رہا کہ اب مزید تم یہاں رُکنا چاہتی ہو۔ اوکے گڈ نائٹ صبح ملاقات ہوگی۔“
زورین جیسے دل کے ٹاپک پر بات ہی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اِس لیے اُسے ٹکا سا جواب دیتا وہاں سے نکل گیا تھا۔
”اللّٰه جی پلیز اِس انسان کو ہدایت دے دیں اور دل آویز کے لیے آسانیاں پیدا کردیں۔ ورنہ اِن شاہ صاحب نے تو اُس کا خون بھی پی جانا ہے۔“
منزہ اُس پر افسوس کرکے رہ گئی تھی۔
★★★★★★★★
زورین نے اپنے بیڈروم میں داخل ہوتے لائٹس آن کی تھیں۔ خالی پڑے بیڈ کو دیکھ اُس کی نظر صوفے کی جانب اُٹھی تھی۔ وہ بھی خالی پڑا دیکھ وہ ٹھٹھک گیا تھا۔ دل یہاں موجود کیوں نہیں تھی۔
اُس کی متلاشی نگاہوں نے روم کا ہر حصہ چھان مارا تھا۔ مگر دل وہاں ہوتی تو ملتی نا۔
وہ چینج کرنے کے بجائے ماتھے پر شکنوں کا جال بُنے اُنہی قدموں پر واپس لوٹا تھا۔
ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے اُس نے اُسی پہلی والی ملازمہ کو بُلا کر دل کے بارے میں پوچھا تھا۔
”صاحب وہ بیگم صاحبہ میرا بی بی کے روم میں ہیں۔“
ملازمہ کی بات پر زورین کا چہرا غصے سے مزید تن گیا تھا۔
وہ اُسے بھیج کر سیدھا میرا کے روم کی جانب بڑھا تھا۔ وہ آج کی ہیکٹک روٹین کے بعد بہت زیادہ تھک گیا تھا۔ مگر اُس کے باوجود دل کی بیڈروم میں کمی اُسے بُری طرح کھل رہی تھی۔ وہ خود اپنی اِس کیفیت سے انجان بس ایک نظر دل کو دیکھنے کا خواہاں تھا۔
میرا کے روم میں داخل ہوتے ہی، سامنے کا منظر دیکھتے اُس کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے تھے۔ دل میرا کے ساتھ ایک ہی کمبل میں گھسی اُس کا سر اپنے بازو رکھے اُسے اپنی آغوش میں لیے گہری نیند سورہی تھی۔
سوتے میں بھی اُس کے چہرے پر پھیلی ویرانی دیکھ زورین نے خود سے نظریں چراائی تھیں۔
کتنے ہی لمحے وہ اپنی جگہ پر کھڑا اُسے دیکھے گیا تھا۔ وہ دل کو اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتا تھا۔ مگر وہ جس طرح میرا کے ساتھ چپک کر سوئی ہوئی تھی۔ ایسا کرنے سے میرا کی نیند خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اُس کے مطابق دل اُس کے لیے اتنی اہمیت نہیں رکھتی تھی کہ اُس کی نیند خراب ہونے کی پرواہ نہیں تھی۔
اِس سارے چکر میں وہ میرا کو بھی بالکل ٹائم نہیں دے پارہا تھا۔ میرا کے معصوم چہرے کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے وہ واپس پلٹا تھا۔
“بابا جانی۔۔“
میرا کی نرم سی پکار پر وہ جھٹکے سے پلٹا تھا۔ وہ دل کے قریب اُسی پوزیشن میں لیٹے آنکھیں کھولے مسکراتے ہوئے اُسے ہی دیکھ رہی تھی۔
”میری پرنسز جاگ رہی ہے۔“
زورین نے قریب آکر اُس کی جانب بانہیں وا کی تھیں۔ دل کا بازو ہٹا کر میرا ایک سیکنڈ کی بھی دیری کیے اُن میں سما گئی تھی۔
میرا کے اُٹھنے پر دل کی آنکھ بھی کھل چکی تھی۔ مگر زورین سے سامنا نہ کرنے کا سوچتے اُس نے آنکھیں موندے رکھی تھیں۔
”بابا جانی، آئم مس یو سومچ۔ آپ کے پاس میرے لیے زرا ٹائم نہیں بچا۔ آپ مجھے اب آئس کریم کھلانے بھی نہیں لے کر جاتے اب۔ میں بہت سخت ناراض ہوں آپ سے۔“
زورین نے میرا کو اُٹھا رکھا تھا۔ وہ جس طرح آنکھوں میں آنسو بھرے شکوہ کررہی تھی۔ اُس کے دل کو کچھ ہوا تھا۔
” نہیں رونا نہیں ہے میری پرنسز نے۔ بابا سوری کرتے ہیں۔ اب آئندہ روز آئس کریم کھلانے لے کر جائیں گے آپ کو۔ اب اپنی پیاری سی سمائل دے میرا بچہ۔ آپ جانتی ہونا۔ بابا آپ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کتنا ہرٹ ہوتے ہیں۔“
زورین نے اُس کے آنسو آنکھوں سے باہر آنے سے پہلے ہی روک دیئے تھے۔
کسی اور کی بیٹی کو صبح شام رُلا کر اُسے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔ مگر اپنی بیٹی کا ایک آنسو بھی تکلیف میں مبتلا کرگیا تھا۔
”مما بھی چلیں گی ہمارے ساتھ۔ پرامس کریں۔“
میرا کو فوراً دل کا خیال آیا تھا۔
”مما؟؟؟؟؟ مما نہیں ہیں وہ آپ کی۔“
زورین کے ماتھے پر فوراً بل پڑے تھے۔
” وہی میری مما ہیں۔ مجھے وہ بہت اچھی لگتی ہیں۔ اور اب وہ میرے ساتھ رہیں گی۔“
میرا کی بات سن کر دل کی سماعتیں اُس سنگدل کا جواب سننے کی منتظر تھیں۔ مگر اُس جانب ایک دم خاموشی چھا گئی تھی۔
”اوکے۔ اب آپ جاکر سوجاؤ۔ میں نے آپ کی نیند ڈسٹرب کر دی۔“
زورین کی نظریں بھٹک بھٹک کر دل کی لرزتی پلکوں پر جارہی تھیں۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ دل جاگ چکی ہے۔
“مجھے اب دوبارہ نیند تب ہی آئے گی جب آپ میرے پاس سوئیں گے۔ وہ دیکھیں مما بھی اُٹھ گئیں۔ آپ نے اُن کی نیند بھی خراب کر دی۔ اب آپ ہم دونوں کو سُلائیں گے۔“
میرا کی نظر بھی آنکھیں کھولتی دل پر پڑچکی تھی۔ جبکہ اُس کی فرمائش پر زورین شاہ فہمائشی نظروں سے اُسے گھور رہ گیا تھا۔
مگر وہ بھی اُسی کی بیٹی تھی۔ اپنی ضد تو منوا کر ہی دم لیا تھا۔ زورین کو ناچار بیڈ پر دل کے برابر لیٹنا پڑا تھا۔ جو خود اِس سب سے گریزاِں نظر آرہی تھی۔ میرا زورین کے پھیلے بازو پر سر رکھتی دونوں کے درمیان میں لیٹ گئی تھی۔
“مما آپ اُدھر ہوکر کیوں سورہی ہیں۔ آپ بھی بابا کے بازو پر سر رکھ کر سوئیں نا۔“
میرا کو اچانک خیال آیا تھا۔ وہ رُخ موڑ کر دل سے مخاطب ہوئی تھی۔ دل نے گھبرا کر زورین کی جانب دیکھا تھا۔ جس نے فوراً میرا کے سر کے نیچے سے گزار کر اُس کے گرد لپٹا بازو دل کے لیے کھول دیا تھا۔
دل جو اُس سے فرار اختیار کرکے یہاں چھپی تھی۔ یہ سب اُس پر مزید بھاری پڑ گیا تھا۔ کوئی بہانہ نہ بن پاتے ناچار اُسے سر رکھنا ہی پڑا تھا۔ جب اُس سے نفرت کرنے کے باوجود زورین ایسا کررہا تھا۔ تو اُسے بھلا کیا پرابلم ہوسکتی تھی۔
زورین کافی تھکا ہوا تھا اِس لیے سر رکھتے ہی وہ سوگیا تھا۔ کچھ ایسا حال دل کا بھی تھا۔ آج کا دن اُس کے لیے بہت مشکل تھا۔ جسے عارضی طور پر ہی سہی مگر کچھ دیر اُن جان لیوا باتوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی خاطر اُس نے بھی نیند کی پناہ ڈھونڈی تھی۔
مگر اُن تینوں میں سے ایک نفوس ایسا تھا۔ جو صرف سونے کا ناٹک کررہا تھا۔
میرا کو جیسے ہی یقین ہوا وہ فوراً سے زورین کا بازو خود پر سے اُٹھاتی بیچ میں سے نکل آئی تھی۔ خود پر رکھا زورین کا ہاتھ اب اُس نے پوری احتیاط سے پکڑ کے دل گرد لپیٹ دیا تھا۔
اور ہلکا سا رینگتی بیڈ سے اُتر گئی تھی۔ اب زورین اور دل جس پوزیشن میں سورہے تھے۔ کوئی بھی دیکھ کر اندازہ نہیں کر سکتا تھا۔ کہ یہ دونوں الگ الگ ہی سوئے تھے۔
”آنی میں نے اپنا کام کردیا۔ جیسا آپ نے کہا تھا ویسا ہی کیا۔“
میرا دبے قدموں باہر نکل کر باہر موجود منزہ سے مخاطب ہوئی تھی۔
”ویری گڈ میرا ذہین بچہ۔“
منزہ اُس کا گال چوم کر شاباشی دیتے بولی تھی۔
”یہ آپ کا انعام۔۔۔۔“
میرا کو اُس کی فیورٹ چاکلیٹ پکڑا کر گود میں اُٹھاتے وہ اپنے روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔ اُسی کے کہنے پر ہی میرا نے یہ سب کیا تھا۔
منزہ خود تو زیادہ دیر یہاں رہ کر اُن دونوں کا ریلیشن بہتر بنایے کے لیے کچھ نہیں کرسکتی تھی۔ زورین اگر کسی کے آگے قابو آتا تھا۔ کسی کی بات سنتا تھا تو وہ میرا ہی تھی۔ اِس لیے اُس نے یہ سارا کام میرا کو سونپ دیا تھا۔
جو خود بھی دل اور زورین کو اپنے فرینڈز کے پیرنٹس کی طرح ہیپی کپل دیکھنا چاہتی تھی۔ اُس نے منزہ سے پرامس کیا تھا۔ جو منزہ اُسے کہے گی وہ ویسا ہی کرے گی۔
★★★★★★★★
” آپ کب تک مجھے ہوں ہی زبردستی اپنے گھر میں قید رکھیں گے۔ آپ جیسے ملک فروشوں کی جگہ صرف جیل میں ہے۔ میں آپ کو آپ کے انجام تک پہنچا کر رہوں گی۔“
ابتہاج نے سُلین کے چیخنیں چلانے کی پرواہ کیے بغیر اُسے اُٹھا کر روم میں لاکر بیڈ پر ڈالا تھا۔ پورا راستہ وہ ایسے ہی اُلٹی سیدھی باتیں کرکے اُس کا دماغ مزید خراب کرتی آئی تھی۔
”میں اپنے انجام کو پہنچنے کو تیار ہوں۔ مگر شرط یہ ہے کہ میرا انجام تمہارے ہاتھوں سے ہی ہونا چاہیے۔ تاکہ مرنے میں مجھے بھی تو لُطف حاصل ہوسکے۔“
سُلین ابھی اُسی پوزیشن میں بیڈ پر گری ہوئی تھی۔ جب ابتہاج اُس کے اُوپر ہلکا سا جھک کر بولتا اُس کا گال چھوتے پیچھے ہٹا تھا۔
اُس کے لمس نے سُلین کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی۔ اُس کا بس نہیں چل رہا تھا۔ ابھی اور اِسی وقت اِس شخص کو پولیس کے حوالے کر دے۔
سُلین نے فوراً چہرا پیچھے کرلیا تھا۔
ابتہاج نے بہت غور سے سے اُس کی یہ حرکت دیکھی تھی۔ اُس کے ہونٹوں پر تلخ سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔
” یہ محبت بھی کتنی بےرحم شے ہے۔ کاش میں اِس کے وار سے بچ پاتا۔ تو آج تمہارے آگے یوں بے بس نہ ہوتا۔ “
ابتہاج ہی جانتا تھا۔ کہ اِس وقت سلین کے آگے وہ ضبط کے کن مراحل سے گزر رہا تھا۔ اُس نے کتنی مشکل سے اپنے جنونی غصے پر قابو کررکھا تھا۔ اگر یہ لڑکی اُس کی محبت نہ ہوتی تو اب تک وہ اپنے غصے کے بہاؤ میں آکر نجانے اِس کے ساتھ کیا کرچکا ہوتا۔
ابتہاج اُسکے پاس سے ہٹتا واپس پلٹ گیا تھا۔ سُلین کتنے ہی لمحے اپنی جگہ ساکت بیٹھی رہ گئی تھی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔