Teri Chah Mein By Farwa Khalid Readelle50119 Episode 28
No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
★★★★★★★★★
”سویرا جس سپیڈ میں تم کام کررہی ہو۔ مجھے لگتا یہ ساڑھی میں نرمین آپی کے نکاح میں تو نہیں مگر اُن کے بچوں کے نکاح میں تو ضرور پہن پاؤں گی۔“
دل اپنے بلاؤزر کے ہک سے اُلجھتی سویرا پر چوٹ کرتے بولی۔ جو پچھلے دو گھنٹے سے صرف اِسی میں ہی لگی ہوئی تھی۔
یہ ڈارک پرپل کلر کی شیفون نفیس کام سے مزین انتہائی خوبصورت ساڑھی تھی۔ جو منزہ نے اُسے گفٹ کی تھی۔ دل کو سمجھ نہیں آرہا تھا۔ کونسا ڈریس پہنے، سب کی فرمائش پر اُس نے ساڑھی پہننا ہی ڈیسائیڈ کیا تھا۔ زورین نے تو ویسے بھی یہاں نہیں آنا تھا۔ اِس لیے وہ زیادہ کمفرٹیبل تھی اِسے پہننے میں۔
“تم اپنی یہ بڑ بڑ بند کر دو پانچ منٹ کے لیے، تو میرا کام ضرور ہوجانا ہے۔“
سویرا تنگ آکر اُس کے آگے ہاتھ جوڑتی اُسے باہر کا راستہ دیکھا گئی تھی۔
” اگلے پندرہ منٹ میں ٹھیک نہ ہوئی اِس کی ہک تو میں نے تمہارا آج کے فنکشن والا ڈریس پہن لینا ہے۔“
دل باہر نکلتے ہوئے بھی پہلے سے زچ ہوئی سویرا کو چڑھانہ نہیں بھولی تھی۔
مگر باہر آکر وہ تھوڑا سا ہی آگے بڑھی تھی۔ جب اچانک سامنے سے آتے سفیان سے اُس کا سامنا ہوا تھا۔ شادی کے بعد سے اُس کا سفیان سے یہ دوسری بار سامنا ہورہا تھا۔ جو اُسے پہلے سے کافی ویک لگا تھا۔
” دل مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔“
سفیان حسرت بھری نظروں سے اُس کے جگمگاتے چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے بولا تھا۔ اپنی بزدلی کی وجہ سے وہ اِس لڑکی کو کھو چکا تھا۔ مگر وہ اب اپنی غلطی سدھارنے کی آخری کوشش کرنا چاہتا تھا۔
دل کو وہ بچپن سے جانتا تھا۔ اِس لیے اُسے دیکھ کر بہت جلدی پہچان گیا تھا کہ دل خوش نہیں ہے۔ سب کے سامنے اپنی عزت رکھنے کے لیے صرف دیکھاوا کررہی ہے، خوش ہونے کا۔
”جی بولیں۔“
دل کو اُس کے دیکھنے کا انداز عجیب سا لگا تھا۔ اُس کے جواب پر سفیان اُسے اپنے ساتھ ٹیرس پر آنے کا اشارہ کرتا اُس جانب بڑھ گیا تھا۔
دل جزبز سی اُس کے پیچھے ہولی تھی۔
”دل تم چاہے سب سے کتنا بھی جھوٹ بولو۔ مگر میں اچھے سے جانتا ہوں تم زورین شاہ کے ساتھ خوش نہیں ہو۔“
سفیان کی بات کے آغاز پر دل نے جھٹکے سے سر اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔
”اور خوش ہوسکتی بھی کیسے ہو۔ جو شخص اپنے نوکروں کو بھی برینڈیڈ چیزیں پہناتا ہے۔ وہ بھلا اپنی لائف پارٹنر کے طور پر کسی ایسے انسان کا انتخاب کیسے کرسکتا ہے۔ جو اُس کے سٹینڈرڈ میں کہیں فٹ نہیں آتی۔ “
سفیان بولتا جارہا تھا، اور دل دکھ بھری نظروں سے اُس کی جانب دیکھتی خاموش کھڑی تھی۔
اُس کی ہر بات سچ تھی۔ مگر بے حد تلخ بھی۔
”مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی۔ جو میں پھوپھو اور ماں کی باتوں میں آکر تم سے دستبردار ہوگیا۔ مگر اب میں اپنی غلطی سدھارنا چاہتا ہوں۔ اب چاہے کچھ بھی ہوجائے۔ کسی کے دباؤ میں نہیں آؤں گا۔ ہمیشہ تمہاری ڈھال بن کر کھڑا رہوں گا۔
اپنے اُوپر سے زورین شاہ کے رشتے کا بوجھ ختم کردو۔ میں پوری عزت اور محبت سے تمہیں اپنانے کو تیار ہوں۔“
سفیان کا ہر الفاظ دل پر حیرت اور بے یقینی کے پہاڑ بن کر ٹوٹے تھے۔ سفیان اُسے زورین سے طلاق لینے کے لیے بول رہا تھا۔
”آپ کو کس نے اجازت دی میری زندگی کے بارے میں پلاننگ کرنے اور فیصلہ کرنے کا۔ زورین میرے ساتھ جیسے بھی رہیں۔ مگر میں بے پناہ محبت کرتی ہوں اُن سے۔ مرتے دم تک اپنے شوہر کو نہیں چھوڑوں گی۔
اور رہی بات عزت اور محبت کی تو اِس گھر میں اتنے سال رہنے کے باوجود یہ دونوں چیزیں میرے شوہر کی وجہ سے ہی ملی ہیں مجھے۔ آپ نے آج تو ایسی باتیں کی ہیں مگر آئندہ ایسا کچھ بولا تو اچھا نہیں ہوگا۔“
دل کو سب سے زیادہ غصہ زورین سے علیحدگی والی بات پر آیا تھا۔ یہ تصور ہی اُس کی راہ فنا کیے ہوئے تھا۔
”لگتا ہے زورین شاہ سے زیادہ اُس کی دولت سے عشق ہوگیا ہے تمہیں۔ جسے چھوڑنے کو تیار نہیں تم۔“
سفیان کو دل کا انکار آگ لگا گیا تھا۔
”ابھی تھوڑی دیر پہلے شاید آپ ہی مجھے جاننے کا دعواہ کررہے تھے۔ مگر آپ سے کہیں زیادہ تو زورین مجھے جانتے اور سمجھتے ہیں۔ “
دل اُس پر افسوس بھری طنزیا مسکراہٹ اچھالتے وہاں سے نکل آئی تھی۔ کیونکہ اُس کی پلکوں کی باڑ پر اٹکے آنسو دیوار توڑ کر باہر آگئے تھے۔
وہ بہت اعتماد سے سفیان کی باتیں ٹھکرا آئی تھی۔ مگر اُس کی کافی ساری باتیں سچ تھی۔ لیکن دل یہا عقلمندی کا ثبوت دیتی سب کچھ اپنے اندد پوشیدہ رکھ گئی تھی۔ وہ اپنی پرسنل باتیں باہر کرکے اپنی اور زورین کی عزت خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔
★★★★★★★
”یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑیں مجھے۔“
اُس کا دل دور سے ہی اِس شخص کو دیکھ کر دھڑک اُٹھتا تھا۔ اِس وقت اُس کے کسرتی سینے پر گرے اُس کا پورا وجود لرزنے لگا تھا۔
اُس نے ابتہاج کے اُوپر سے اُٹھنا چاہا تھا۔ مگر ابتہاج نے اُس کے گرد اپنی بانہوں کا حصار قائم کرتے ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔
”بدتمیزی نہیں نشہ ہے میرا، ابھی اِسی کی بات کررہی تھی نا تم۔ تو وہی بتانا چاہ رہا ہوں۔ مجھے دو ہی نشوں کی عادت ہے۔ ایک سگریٹ اور دوسرا نشہ ہو تم۔ پہلے وہ نشہ کرکے سویا ہوں۔ اب یہ کرکے سونا چاہتا ہوں۔“
سُلین کے بالوں سے کیچر نکال کر دور اُچھالتے، وہ اُس کی سیاہ زلفوں کی آبشار کو اپنے اُوپر بکھیر گیا تھا۔ سُلین پہلے اُس کے الفاظ اور اب حرکت پر شرم و حیا سے سُرخ ہوئی تھی۔ یہ شخص جب بے باکی پر آتا تھا تو ساری حدیں کراس کر جاتا تھا۔
”مسٹر ابتہاج لغاری چھوڑیں مجھے۔ اور اپنی یہ بیہودگی بھری باتیں کسی اور سے جاکر کریں۔“
سُلین اپنا چہرا اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھنے کی ہمت نہیں کر پارہی تھی۔ اِس لیے اُس کے چوڑے سینے میں ہی منہ چھپائے بولتی، وہ ابتہاج کو اپنے ہونٹوں کا نرم گرم لمس بخش گئی تھی۔ اُسے اپنے تڑپتے دل میں ٹھنڈ سی اُترتی محسوس ہوئی تھی۔
”دیکھ لو تم خود مجھے کسی اور کے پاس جانے کی اجازت دے رہی ہو۔ بعد میں پھر مکرنا نہیں۔“
ابتہاج کروٹ بدل کر اُسے اپنے نیچے کرتا پوری طرح اُس پر حاوی ہوا تھا۔ سُلین اُس کا چہرا اتنے قریب دیکھ مزید سُرخ ہوئی تھی۔ وہ اُس لمحے کو کوس رہی تھی۔ جب اُس نے ابتہاج سے پوچھنے اُس کے روم میں آنے کا فیصلہ کیا تھا۔
”میری طرف سے، کسی کے بھی ساتھ جو مرضی کریں بس مجھ سے دور رہیں۔ “
چاہنے کے باوجود سُلین کا لہجہ اُس کی الفاظ کا ساتھ نہیں دے پارہا تھا۔
ابتہاج کی بےقرار نظریں اُس کے ایک ایک نقش کو چھوتیں اُس کو مزید پزل کررہی تھیں۔ سُلین کا دل چاہا تھا یا تو خود غائب ہوجائے یا پھر اِس شخص کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دے۔
”مجھے باہر جانا ہے اِسی کام سے۔ نیچے کھڑے کیے اپنے غنڈوں سے کہیں مجھے جانے دیں۔“
ابتہاج کو اپنے چہرے پر جھکتا دیکھ سُلین جلدی سے تیز لہجے میں بولی تھی۔ جبکہ اپنے آدمیوں کے لیے اتنا اچھا لفظ استعمال کرنے پر ابتہاج کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی۔ جو کہ لمحے کے ہزارویں حصے میں معدوم بھی ہوگئی تھی۔
“اگر میں نہ جانے دوں تو۔“
ابتہاج اُس کا جواب جاننا چاہتا تھا۔
”تو میں خود ہی یہاں سے بھاگ جاؤں گی۔ اور واپس کبھی آپ کو اپنی شکل نہیں دیکھاؤں گی۔“
سُلین کے الفاظ ابتہاج لغاری کا سویا غصہ جگا گئے تھے۔
جس لڑکی کو وہ اپنی کُل کائنات مان چکا تھا۔ جس سے اپنے مزاج کے خلاف جاکر پیش آیا تھا۔ اُس کے آگے اُس کی زرا برابر بھی اہمیت نہیں تھی۔ اُس سے وضاحت مانگنا تو دور چند کاغذ کے ٹکڑوں پر یقین کرکے وہ اُس سے ہر تعلق ختم کرنا چاہتی تھی۔
”یہ الفاظ بول کر تم نے بہت بڑی غلطی کردی ہے سُلین۔ اب تمہیں اِس کا حساب تو دینا ہی ہوگا۔“
ابتہاج کے سرد ترین تاثرات اور آنکھوں میں ناچتی وحشت دیکھ سُلین کی ہوائیاں اُڑی تھیں۔
”کک کیا مطلب۔۔۔۔۔“
سُلین سے بولا ہی نہیں گیا تھا۔ ابتہاج کا ہاتھ اپنے دوپٹے کی جانب بڑھتا دیکھ اُس کا دل خوف کے مارے حلق میں آن اٹکا تھا۔
”آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے۔ میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔“
سُلین نے اُس کے دونوں ہاتھ اپنے ملائم نازک ہاتھ میں تھامتے اُسے اُس کے ارادوں سے باز رکھنا چاہا تھا۔
”ایسا کرنے کا پورا حق رکھتا ہوں۔“
ابتہاج کو اُس کا خوفزدہ چہرا مزید اپنی جانب کھینچ رہا تھا۔ اُس نے نرمی سے اپنے ہاتھوں پر گرفت کیے ہاتھ چوم لیے تھے۔
سُلین نے فوراً اپنے ہاتھ واپس کھینچے تھے۔
”آپ نے بولا تھا چاہے کچھ بھی ہوجائے آپ مجھ پر غصہ نہیں کریں گے۔”
سُلین کو سمحھ نہیں آرہی تھی کیسے روکے اُسے۔ مگر یہ بھی سچ تھا کہ سُلین حبیب کے معاملے میں اُس کا واقعی بہت نرم تھا۔ وہ نہ ہی اُس پر غصہ کرسکتا تھا۔ اور نہ ہی سزا دے سکتا تھا۔
اُوپر سے خوفزدہ ہوکر جو حرکتیں وہ کررہی تھی۔ ابتہاج کا رہا سہا غصہ بھی ختم کرگئی تھیں۔
”تم کیا چاہتی ہو۔“
ابتہاج نے اُس کی ٹھوڑی کو ٹچ کرتے سوال کیا تھا۔ جبکہ سُلین اُس کی گستاخیوں پر خود میں سمٹنے میں علاوہ کچھ نہیں کرسکتی تھی۔ اُس کا اِس بُری طرح دھڑک رہا تھا۔ کہ اُس کے بے حد قریب موجود ابتہاج لغاری بھی سن پارہا تھا۔
مگر وہ پہلے کی طرح کچھ اُلٹا سیدھا بول کر ابتہاج کے غصے کو پھر سے نہیں جگانا چاہتی تھی۔
”مجھے بس تھوڑے ٹائم کے لیے باہر جانا ہے۔ اِس گھر میں قید رہ کر مجھے۔۔۔۔ میرا دم گھٹتا محسوس ہورہا ہے۔ “
سُلین نے بے چارگی سے اُسے اپنا پرابلم بتایا تھا۔
”تو میں ساتھ لے چلتا ہوں۔“
ابتہاج کی گہری نگاہیں سُلین کو کنفیوز کررہی تھیں۔ اُس سے جھوٹ بولنا مزید مشکل ہوگیا تھا۔
”نن نہیں میں کچھ ٹائم اپنے ساتھ اکیلے گزارنا چاہتی ہوں۔“
ابتہاج سے گھبرا کر سُلین کے ماتھے پر پسینے کی ننھی موندے نمودار ہوئی تھیں۔ جسے ابتہاج نے ہونٹوں پر دھیمی مسکراہٹ سجائے اپنی ہتھیلی سے صاف کیا تھا۔ اُس کے نرم لمس پر سُلین کی سانسیں تیز ہوئی تھیں۔
”نیچے گاڑی موجود ہے تم جاسکتی ہو۔ ڈرائیور کو ساتھ لے کر جانا یا نہ لے جانا تمہاری چوائس ہے۔ کوئی تمہیں نہیں روکے گا۔“
ابتہاج اپنی بات مکمل کرتا پیچھے ہٹ گیا تھا۔
سُلین نے بیڈ سے اُٹھ کر اُس سے دور ہونے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگایا تھا۔
ابتہاج کے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔
”ایک منٹ رکو۔“
ابتہاج کی سنجیدہ بھاری آواز پر سُلین کے قدم زمین میں جکڑے گئے تھے۔ وہ جلد از جلد اِس گھر سے، اِس شخص کی قید سے بہت دور چلی جانا چاہتی تھی۔ مگر ابتہاج لغاری اُس کا امتحان پر امتحان لیے جارہا تھا۔
سُلین اُسکی پکار پر دھیرے سے پلٹی تھی۔ جب ابتہاج چلتا اُس کے عین سامنے آن کھڑا ہوا تھا۔
اب وہ بلیک ٹراؤزر کے اُوپر بلیک سلیو لیس،بنیان پہن چکا تھا۔ دراز قد کسرتی وجود لیے یہ حسین مرد صرف اُس کا تھا۔ مگر وہ خود ہی اُس کی ہونے سے انکاری تھی۔
روشن گھنے بالوں سے سجی کشادہ پیشانی، کھڑی مغرور ناک، سیاہی مائل اعنابی لب، جن میں زیادہ تر سگریٹ ہی دبا رہتا تھا۔ مضبوط کسرتی شانے اور چوڑا سینہ ہمیشہ کی طرح تان کر کھڑے وہ سُلین کی ہارٹ بیٹ تیز کرگیا تھا۔
سُلین نے ہمیشہ کے لیے اُسے چھوڑ کر جانے سے پہلے اُس کا چہرا اپنے زہن پر نقش کرنا چاہا تھا۔ اب چاہے حالات بدل گئے تھے۔ مگر ایک وقت میں اُس نے بھی ابتہاج لغاری سے محبت کی تھی۔ جو اب بھی کبھی کبھار اُس کے دل میں سر اُٹھا جاتی تھی۔ مگر سُلین اِس شخص کی اصلیت یاد کرتے ہر بار اُسے واپس سے کہیں اندر دبا دیتی تھی۔
کاش تم اتنے ظالم اور سفاک نہ ہوتے، تو آج سب کچھ کتنا اچھا اور خوبصورت ہوتا۔
سُلین کے دل سے وہی صدا نکلی تھی۔ جو اب وہ دن میں نجانے کتنی بار مانگنے لگی تھی۔
”بس میری ایک بات یاد رکھنا جتنی محبت کرتا ہوں تم سے۔ اُس سے بھی کہیں زیادہ اعتبار ہے تم پر۔ اور یہ بھی یقین ہے۔ کہ میری بیوی کبھی کچھ غلط، کچھ ایسا نہیں کرے گی۔ جس کے بعد اُسے پچھتانا پڑے۔“
ابتہاج اُسے دونوں کندھوں سے تھام کر بولتا اُس کے ماتھے پر ہونٹوں کا گہرا لمس چھوڑتا واش روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔
جبکہ سُلین کتنی ہی دیر اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پائی تھی۔
یہ شخص اُسے کیسے طلسم میں باندھ گیا تھا۔ وہ وہاں سے جانا چاہتی تھی۔ مگر اُس کے قدم نہیں اُٹھ پارہے تھے۔
“ابتہاج لغاری آپ واقعی بہت ظالم انسان ہیں۔ باقی لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل کر اُنہیں تباہ کرتے ہیں۔ مگر میرے تو دل کو ہی اپنی محبت کا عادی بنا کر، اِس میں ہمیشہ کے لیے ویرانیاں بھر دی ہیں۔ جو اب آگے کبھی آباد نہیں ہوپائے گا۔ کبھی نہیں۔”
سُلین آنکھوں میں آئے آنسو بے دردی سے رگڑتی وہاں سے نکل گئی تھی۔
★★★★★★★★
”ماشاءاللّٰه کتنی حسین لگ رہی ہو۔ دل یہ تم ہی ہونا۔ یار بالکل ایسا لگ رہا ہے کوئی ماڈل ریمپ واک کرنے کو تیار کھڑی ہے۔“
صوفیہ لان میں داخل ہوتی دل کو ستائشی نظروں سے دیکھتے بولی تھی۔
فنکشن کا سارا انتظام گھر کے لان میں ہی کیا گیا تھا۔ اقر ڈیکوریشن بھی بہت اچھی کی گئی تھی۔ بڑا سا لان مہمانوں سے بھر چکا تھا۔
بہت سے لوگوں کی حسد اور رشک بھری نظریں بیش قیمت ساڑھی اور ڈائمنڈ سیٹ پہنے نک سک سے تیار کھڑی دل پر پڑی تھیں۔
اُس نے اپنے لمبے بالوں کو سٹریٹ کرکے نیچے سے ہلکا ہلکا کرل کررکھا تھا۔ ساڑھی کا بہت اچھے سے کیری کیے، لائٹ ریڈ لپسٹک ہونٹوں پر سجائے ہلکے پھلکے سے اپنی ہوش رُبا حُسن کو مزید دو آتشہ کیے وہ آج ہمیشہ سے ہٹ کر بے پناہ دلکش لگ رہی تھی۔ اُس سے نظریں ہٹانا آج سب کے لیے ہی مشکل ہورہا تھا۔
ہمیشہ خاندان کے فنکشنز میں سب لوگوں سے زیادہ سستا اور معمولی ڈریس پہننے والی لڑکی، آج اُن سب میں شان و شوکت کے حوالے سے سب سے اُونچی اور اعلی لگ ریی تھی۔
“تمہیں کیا ہوا ہے۔ تمہاری شکل پر بارہ کیوں بج ریے۔ کہیں زورین بھائی کو مس تو نہیں کررہی۔“
سویرا اُسے چھیڑتے ہوئے بولی۔
”ہاں اُنہیں کا مس کررہی ہوں میں۔ کاش میرے سامنے ہوں۔ اور وہ خوبصورت منہ توڑ دوں میں اُنکا۔“
دل نے آخری جملہ نہایت ،آہستگی سے بولا تھا۔ وہ سب دوبارہ اُس کا سر کھانے لگی تھیں۔ جس پر وہ جان چھڑواتی آگے کی جانب بڑھ گئی تھی۔
جب اچانک لڑکے والوں کے آنے کا شور مچا تھا۔ چند سیکنڈز بعد مردوں اور عورتوں کے بھرپور پروٹوکول میں جو شخص دلہے کے طور پر اندر داخل ہوا تھا۔
اُسے دیکھ دل پر غم و غصے کی کیفیت طاری ہوگئی تھی۔
“یہ گھٹیا شخص یہاں بھی پہنچ گیا۔ آ ج تو نہیں چھوڑوں گی۔“
دل اردگرد موجود لوگوں کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھی تھی۔ سب نے حیرت سے دل کی جانب دیکھا تھا۔
“دل تم۔۔۔۔“
روقیہ پھوپھو نے اُسے آنکھوں کے اشارے سے دور رہنے کا اشارہ کیا تھا۔
مگر دل کی اگلی حرکت سب کو بھونچکا کر رکھ گئی تھی۔ اُس نے کس کے ایک تھپڑ نرمین کے ہونے والے شوہر کے منہ پر رسید کیا تھا۔
جو پہلے ہی دل کو یہاں دیکھ اچھا خاصہ فکرمند ہوچکا تھا۔
”خالہ یہ شخص دھوکے باز اور فراڈ ہے۔ آپ نرمین آپی کے نکاح اِس سے کیسے کرسکتے ہیں۔ اِس نے میری فرینڈ ایشا کی بہن کے ساتھ بھی ایسے ہی جھوٹا نکاح کیا تھا۔ یہ نام بدل بدل کر لڑکیوں سے نکاح کرکے اُنہیں بیچ دیتا ہے۔ آپ پلیز ایسے انسان کے ساتھ نرمین آپی کی زندگی برباد نہیں کرسکتیں۔“
دل سب کو اپنی بات کا یقین دلاتے بولی تھی۔ مگر جو لوگ اُس کی چھوٹی سی معمولی بات ہر بھی یقین نہیں کرتے تھے۔ وہ بھلا اتنے بڑے سچ کو کیسے تسلیم کرلیتے۔
رقیہ بیگم دل کے اِس طرح ڈرامہ کرنے پر اپنا غصہ اور نفرت کنٹرول نہیں کر پائی تھیں۔ اور زورین کے ساتھ شادی کے بعد ہواؤں میں اُڑتی دل کو واپس زمین پر پٹخنے کے لیے سب کے سامنے ایک زور دار تھپڑ اُس کے چہرے پر مارنا چاہا تھا۔
مگر دل تک پہنچنے سے پہلے کی کسی نے بیچ میں آتے رقیہ بیگم کا ہاتھ اپنی مضبوط ہتھیلی میں جکڑ لی تھی۔ وہ بھی اتنی سختی سے کہ رقیہ بیگم کی چیخیں نکل گئی تھیں۔
دل نے بے یقینی سے اپنے سامنے ڈھال بن کر کھڑے ہوتے زورین کی جانب دیکھا تھا۔ پورے تین دن بعد اُسے سامنے پاکر دل کے گال خوشی کے مارے لال ہوچکے تھے۔ وہ ایک پل کے لیے موجودہ سچویشن بھول ہی گئی تھی۔
اُس نے زورین کی چوڑی پشت کو مسکراتی نظروں سے دیکھتے ایک جتاتی نظر کچھ فاصلے پر کھڑے اپنی جانب تکتے سفیان پر ڈالی تھی۔ اور اُسے باور کروایا تھا۔ کہ ڈھال بننا یہ ہوتا ہے۔ صرف باتیں کرنا بہت آسان ہے۔
”میری بیوی پر ہاتھ اُٹھانے کی ہمت بھی کیسے کی۔“
زورین کی چنگارتی آواز اُسے ہوش کی دنیا میں واپس لے آئی تھی۔
زورین کی آنکھوں میں اتنا غصہ دیکھ وہاں سب کو ہی سانپ سونگھ گئے تھے۔ زورین شاہ کے بارے میں زیادہ تر جانتے تھے۔ اور یہ بھی کہ اُس سے اُلجھنا اپنی بربادی کو آواز دینا تھا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
Agly 4 din epi nai De paun g. Dada Abu Ki death ky bad ye pehli eid hai. Sab ne hamary ghr Ana hai. Boht busy hn g. Aj BHi boht mushkil sy ye epi De pai hn.
