Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

” ہمم جانتی ہوں۔ میرے مرنے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑنا۔“
دل نے اُس کا ہاتھ اپنے ماتھے سے ہٹانا چاہا تھا۔ جہاں سے اب خون رُک چکا تھا۔ زورین اُس کی بات کا کوئی خاص نوٹس لیے بغیر گاڑی سے فرسٹ ایڈ باکس نکالتے واپس اُس کے قریب آتا بینڈیج کرنے لگا تھا۔ اُس کے چہرے سے خون صاف کرتے اُس نے ماتھے پر آئے کٹ کا جائزہ لیا تھا۔ جو کہ زیادہ گہرا نہیں تھا۔
“گاڑی میں بیٹھو۔“
زورین نے اُسے روڈ کی جانب جاتا دیکھ ہاتھ پکڑ کر روکا تھا۔
“میں ٹیکسی سے چلی جاؤں گی۔ آپ کا پہلے ہی میرے اُوپر بہت سارا ٹائم برباد ہوچکا ہے۔“
دل نے اُس کی مضبوط گرفت سے اپنا ہاتھ نکالتے کہا تھا۔
”تم مجھے اتنے نخرے کس لیے دیکھا رہی ہو۔ مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے یہ سب کرنے کا۔ اَن چاہی ہی سہی مگر بیوی ہو تم میری۔ اُسی کے تحت یہ سب کررہا ہوں۔ اب خاموشی سے بیٹھ جاؤ۔ ورنہ مجھے اپنے طریقے سے بات منوانی آتی ہے۔“
زورین اُس کی کلائی پر گرفت سخت کرتے جتلاتے ہوئے لہجے میں بولا تھا۔
” مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے۔ آپ کو نخرے دیکھانے کا۔ بہت جلدی نہیں پلٹ رہے آپ اپنے الفاظ سے۔ بیوی نہیں آپ کے گھر کا شوپیس ہوں جسٹ۔ جس پر اتنی مہربانی جتانا کافی عجیب بات ہے۔ مجھے سمجھ یہ نہیں آرہی آپ یہ سب دیکھاوا یہاں کر کیوں رہے ہیں۔ جب کہ یہاں کوئی ایسا نہیں ہے۔ جس کے سامنے آپ کو میری کیئر کا ناٹک کرنا پڑے۔۔۔“
دل ابھی مزید بول ہی رہی تھی۔ جب زورین نے اُسے کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیئے بغیر اُس کے
نرم و نازک وجود کو بانہوں میں بھرلیا تھا۔
دل اِس حملے کے لیے بالکل تیار نہیں تھی۔ اپنا چہرا زورین کے چہرے کے اتنے قریب آجانے پر حیا سے لال ہوئی تھی۔ زورین کے دل میں نہ سہی مگر اُس کے دل میں زورین کے لیے فیلنگز پیدا ہوچکی تھیں۔ اُس کی زرا سی قربت دل پر بہت بھاری ثابت ہوتی تھی۔ اب بھی اُس کا دل زور زور سے دھڑکتا اُس کے ہاتھ پیر پُھلا گیا تھا۔ مزاحمت کرنا تو وہ بھول ہی چکی تھی۔ دل نے نظریں اُٹھا کر ایک نظر زورین کی جانب دیکھا تھا۔ جو گہری نظروں سے اُسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔ مگر اُس کے دیکھتے ہی وہ فوراً نظریں پھیر گیا تھا۔
مگر دل ٹھٹھک چکی تھی۔ زورین کے دیکھنے کا انداز عام بالکل نہیں تھا۔ اُس کا ابھی اتنا کیئرنگ انداز اور اب یہ دل ایک بار پھر خوشگمانیوں میں گھرنے لگی تھی۔
زورین اُسے فرنٹ سیٹ پر بیٹھاتا خود ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھ گیا تھا۔
★★★★★★★★
” یہ سب کیا تھا۔ آپ مجھ سے پوچھے بغیر ایسا کیسے کرسکتے ہیں۔“
سُلین پارکنگ ایریا میں آتے خفگی بھرے لہجے میں ابتہاج سے مخاطب ہوئی تھی۔
” کیا کیا میں نے۔ “
ابتہاج نے ناسمجھی سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔ جبکہ اُس کے اتنے معصوم بننے پر سُلین عش عش کر اُٹھی تھی۔
” آپ مجھ سے پوچھے بغیر مجھے ہی میری سیٹ سے کیسے ہٹا سکتے ہیں۔ آپ کو ایسا حق کس نے دیا۔“
سُلین کو اُس کی لاپرواہی برتنا زہر لگا تھا۔ اِس شخص کو دوسروں کا خون جلانے میں مزا آتا تھا۔
” یہ حق تو تمہی نے دیا مجھے۔ نکاح پر سائن کرکے۔ میں تمہاری لائف کے سارے فیصلے لے سکتا ہوں۔ اور تم میری لائف کے۔ تمہارا بھی جب دل چاہے مجھے میرے گھر اور آفس سے بے دخل کر سکتی ہو۔ میں ہمیشہ تمہارے حکم کا تابیدار رہوں گا۔“
ابتہاج نے اب بھی اُسے کوئی خاص سیدھا جواب نہیں دیا تھا۔ سُلین کو خود پر ہی افسوس ہوا تھا۔ وہ بھلا کس کے ساتھ سر کھپا رہی تھی۔
”آپ آفس جاتے ہیں سہی۔ ہر وقت یا تو جم میں گھسے رہتے یا میرے سر پر سوار رہتے ہیں۔“
سُلین زیرِ لب بڑبڑاتی رُخ موڑ گئی تھی۔ یہ دھیان دیئے بغیر کے ابتہاج کی سماعتوں تک اُس کی بات پہنچ چکی ہے۔
“اِس کے علاوہ بھی ایک بہت اچھا کام آتا ہے مجھے۔“
ابتہاج اُسے پیچھے سے اپنی بانہوں کے حصار میں لیتا اُس کے کندھے پر چہرا ٹکاتے سرگوشی نما آواز میں بولتا سُلین کی دھڑکنیں منتشر کر گیا تھا۔
” یہ کیا کررہے ہیں آپ۔ یہ پبلک پلیس ہے۔ آپ کا بیڈ روم نہیں۔“
سُلین اُس کی بانہوں کا حصار توڑنے کی کوشش کرتی بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی تھی۔ اِس شخص کی اِنہیں بے باکیوں کی وجہ سے وہ اِس مقام تک پہنچ چکی تھی۔ مگر اِس انسان کو سمجھانا ناممکن تھا۔
” مطلب بیڈ روم میں پیار کرنے کی اجازت ہے۔“
ابتہاج اُس کا گال چوم کر مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرتا اُسے حصار سے آزاد کر گیا تھا۔ ورنہ سُلین کا سُرخیاں چھلکاتا لال چہرا اُسے شوخی بھری جسارت کرنے پر اُکسا رہا تھا۔ مگر پبلک پلیس کا ہی خیال کرتے وہ خود پر قابو پاتا سُلین کا ہاتھ تھامے گاڑی کی جانب بڑھا تھا۔
موبائل پر آتی ارجنٹ کال دیکھ وہ ایک دم الرٹ ہوتا غیر محسوس انداز میں سُلین کو اپنے بازو کے گھیرے میں لیتے اپنے چوڑے وجود کے پیچھے چھپا گیا تھا۔
کال پر دوسری جانب اُسے جو اطلاع دی گئی تھی۔ اگر وہ اکیلا ہوتا تو اُس کے لیے کوئی بڑی بات نہ ہوتی۔ مگر سُلین کی وجہ سے وہ فکرمند ہوا تھا۔
“سر آپ میم کو لے کر گاڑی میں بیٹھ جائیں ہم سب سنبھال لیں گے۔ اُن کے حملے کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں ہم۔“
اُس کا خاص آدمی فیروز جو ہر وقت اُس کے لیے جان دینے کو بھی تیار رہتا تھا۔ جلدی سے بولا تھا۔
“ہممہ وہ تو ٹھیک ہے۔ مگر زیادہ خون خرابہ نہیں ہونا چاہئے۔ میری بیوی کو خون سے بہت ڈر لگتا ہے۔ خاص احتیاط کرنا اِس بات کی۔“
ہمیشہ سُلین کی بات کرتے ابتہاج کے انداز میں ایک نرمی سی اُتر آتی تھی۔ اِس وقت بھی وہ جس طرح چھوٹی سی بات پر بھی سُلین کے لیے ہدایت دیتا بولا تھا۔ فیروز چاہنے کے باوجود اپنی مسکراہٹ نہیں روک پایا تھا۔ خون سے ہولی کھیلنے والے شخص کی بیوی خون دیکھ کر بے ہوش ہوجاتی تھی۔ ابتہاج کو جانتے لوگوں کے لیے کافی مضحکہ خیز بات تھی۔
ابتہاج کال بند کرتا گاڑی میں بیٹھ گیا تھا۔ اُس کی ہدایت کے مطابق ریسٹورنٹ میں ہونے والی ہر کال سافٹ وئیر کے تحت ریکارڈ کی جارہی تھی۔ جس سے ہی ابتہاج کے آدمیوں تک قاسم کی ساری سازش پہنچ گئی تھی۔ قاسم کے آدمی یہی آس پاس چھپے ہوئے تھے۔ ابتہاج کے گاڑی نکالتے ہی اُنہوں نے پیچھا کرکے سنسنان جگہ پر آتے ہی اُن پر حملہ کردینا تھا۔ مگر اب ابتہاج کے آدمی اُنہیں ایسا کوئی موقع نہیں دینے والے تھے۔
ابتہاج گاڑی روڈ پر ڈالتا بیک ویو مرر سے پیچھے کی جانب نظر رکھے ہوئے تھا۔ تین گاڑیاں مسلسل اُن کے تعاقب میں تھیں۔ وہ ریسٹورنٹ کے ایریے سے کافی دور آگیا تھا۔ تاکہ اِس حملے میں سُلین کے ریسٹورنٹ کو نہ گھسیٹا جائے۔
وہ ابِھی قدرے سنسان روڈ پر پہنچے ہی تھے۔ جب اُس کے آدمیوں کی دو گاڑیاِں اچانک جھاڑیوں سے نکلتیں۔ ابتہاج اور قاسم کے آدمیوں کی گاڑیوں کے درمیان آگئی تھیں۔
ابتہاج نے جلدی سے میوزک پلیئر کی جانب ہاتھ بڑھاتے فل والیوم میں سانگ پلے کردیا تھا۔ گاڑی کے شیشے بند تھے۔ آواز یہاں تک نہیں پہنچنی تھی۔ مگر پھر بھی ابتہاج کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔
وہ جلد بازی میں اِس بات پر دھیان نہیں دے پایا تھا۔ کہ کتنا رومینٹک سانگ شروع ہوچکا تھا۔ گانے کے بے باک بولوں پر سُلین کی کانوں کی لوح تک سُرخ ہوگئی تھی۔
اُسے میوزک آف کرنے کے لیے ہاتھ بڑھاتا دیکھ ابتہاج نے گانے پر دھیان دیا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں مسکراہٹ کھیل گئی تھی۔ اُس نے فوراً سُلین کا ہاتھ تھامتے اُسے گانا بند کرنے سے روکا تھا۔
” کیا ہوا اتنا زبردست گانا تو ہے۔“
ابتہاج ایک نظر بیک ویو مرر پر ڈالتا سُلین کی مخروطی اُنگلیوں میں اپنی اُنگلی پھنسا کر بولتا اُسے مزید دہکا گیا تھا۔
” آپ پلیز شرافت سے یہ سانگ بند کریں۔“
سلین پیچھے مچے خون خرابے اور برستی گولیوں سے انجان ابتہاج کی جانب دیکھتی خفگی سے بولی تھی۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ بظاہر سرد اور سنجیدہ دکھنے والا یہ شخص اصل میں کس قدر رومینٹک تھا۔
” میں شریف انسان ہوں ہی نہیں۔ تو شرافت بھلا کہاں سے لاؤں۔“
ابتہاج نے ہمیشہ کی طرح اُلٹا جواب ہی دیا تھا۔
ابتہاج اب گاڑی کی سپیڈ بڑھاتا وہاں سے نکال لایا تھا۔
” یہ ہم کہاں جارہے ہیں۔“
سُلین کو ابتہاج کے گھر کا راستہ پتا تھا۔ مگر اُسے گاڑی دوسری جانب ٹرن کرتے دیکھ اُس نے سوالیہ نظروں سے ابتہاج کی جانب دیکھا تھا۔
” بتایا تو تھا آفس سے نکلتے وقت۔ ہنی مون پر جارہے ہم۔“
ابتہاج اُس کی پھولی ناک دبا کر اُسے پھر سے چڑھاتا مزے لیتے بولا تھا۔
سُلین اب خود سے ہی توبہ کرچکی تھی۔ کہ اِس اُلٹی کھونپڑی والے شخص سے کوئی بات نہیں پوچھے گی۔
★★★★★★★★
” دل زورین صرف تمہارے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ اُس کی نیچر ہی ایسی بن چکی ہے۔ شروع سے ہاسٹلز میں فیملی کے بغیر رہنے کی وجہ سے وہ ایسا ہوگیا ہے۔ ورنہ دل کا اُس سے اچھا انسان شاید کوئی نہیں ہوگا۔“
منزہ زورین کو تو سمجھا نہیں سکتی تھی۔ اِس لیے اُس کا ارادہ اب دل کو سمجھا کر اُن کے رشتے میں کچھ حد تک سدھار لانے کا تھا۔
دل خاموشی سے اُن کی باتیں سن رہی تھی۔ زورین شاہ کے بارے میں جاننا اُسے اچھا لگ رہا تھا۔ اُس کے سامنے چاہے جتنا بھی اُس سے لڑتی۔ مگر حقیقت یہی تھی۔ کہ وہ اُس گھمنڈی اور مغرور شخص کو چاہنے لگی تھی۔
“کیا وہ اپنی پہلی وائف سے بہت محبت کرتے تھے۔ وہ ہے کہاں اب۔ رقیہ خالہ نے بتایا تھا۔ ابھی اُن کی سیپریشن نہیں ہوئی۔”
کب سے یہ سوال اُس کے دل میں کھٹک رہا تھا۔ جو اب موقع ملتے ہی آخر کار اُس نے پوچھ ہی لیا تھا۔ منزہ اُس کے ایک ہی سانس میں اتنے سوال پوچھنے پر مسکرائی تھی۔
” میں نے نہیں دیکھا اُس کی پہلی وائف کو۔ اُس نے لندن میں اپنی کسی کلاس فیلو سے لو میرج کی تھی۔ اور نہ ہی میں یہ جانتی ہوں۔ کہ اُن کی طلاق ہوئی ہے یا نہیں۔ زورین شاہ اپنی لائف کے معاملات میں کم ہی کسی کو انوالو کرتا ہے۔
میں اور ثاقب نجانے کب سے اُس کی منتیں کررہے تھے۔ شادی کرنے کے لیے۔ ابھی جو اُس نے رضامندی دی۔ مجھے تو اُس وقت تک یقین نہیں آیا۔ جب اُس نے نکاح نامے پر سائن نہیں کردیئے۔“
منزہ دل کو کوئی بھی جھوٹی کہانی نہیں سنانا چاہتی تھی۔ اُسے جتنی بات کا علم تھا۔ اُس نے بتا دیا تھا۔
منزہ کی اتنی حیرانی پر دل پھیکا سا مسکرا دی تھی۔ وہ اُسے کیا بتاتی کہ یہ شادی اُس نے صرف ضد میں آکر کی تھی۔
زورین اپنی پہلی بیوی سے اب بھی کتنی محبت کرتا تھا۔ اِس بات کا اندازہ تو دل کو اُسی وقت ہوگیا تھا۔ جب میرا کے دل کو ماما کہنے پر زورین اُس پر بھڑک گیا تھا۔
” تم میں کچھ تو خاص ہے۔ جو زورین نے ایک نظر تمہاری تصویر دیکھتے ہی ہاں بول دی۔ تم تیار رہا کرو۔ اُسے اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کرو۔ ورنہ یہاں سوسائٹی کی لڑکیاں تو ایسے مکھیوں کی طرح اُس پر منڈلاتی رہتی ہیں۔ جیسے اپنے ساتھ اُڑا کر لے جائیں گیں۔ وعدہ کرو تم مجھ سے زورین کے سخت رویے کے آگے ہار نہیں مانو گی۔ اُسے جیت کر ہی رہو گی۔“
منزہ اپنے دیور کا گھر بستا دیکھنا چاہتی تھی۔ جس کے لیے وہ جو کرسکتی تھی کررہی تھی۔
” میں پوری کوشش کروں گی۔“
دل نے منزہ کے آگے حامی تو بھر لی تھی۔ مگر وہ جانتی تھی۔ یہ بہت مشکل تھا۔ اُس کھٹور شخص کی دل چیرنے والی باتیں برداشت کرنا بہت مشکل تھا۔
★★★★★★★
سُلین خوشگوار تاثرات کے ساتھ لمحے بہ لمحے بدلتے خوبصورت نظارے دیکھ رہی تھی۔ یہ مری کی جانب جاتے راستہ میں آتا ایک چھوٹا مگر بے حد دلکش نظاروں سے سجا گاؤں تھا۔
ڈھلوانی روڈ سے گاڑی نیچے کی جانب جاتی دیکھ اُسے ڈر لگنے کے ساتھ ساتھ مزا بھی آنے لگا تھا۔ اُس کی نظر سامنے برف سے ڈھکے سکول کی نہایت ہی منفرد سی بلڈنگ پر پڑی تھی۔ وہ اِس حسین وادی میں پہلی بار آئی تھی۔ مگر اُسے محسوس ہورہا تھا۔ شاید سکول جیسی بلڈنگ اُس نے پہلے کہیں دیکھی تھی۔ مگر کہا یہ اُسے یاد نہیں آرہا تھا۔
ابتہاج گاڑی سے اُتر کر فوراً سُلین کے لیے دروازہ کھولا تھا۔ وہ سُلین کے لیے کسی اور کو دروازہ کھولنے کی اجازت نہیں دیتا تھا جس بات سے اُس کے آدمی اچھی طرح واقف تھے۔ اِس لیے کبھی بھی کوئی آگے نہیں آیا تھا۔
” ہم یہاں کیوں آئے ہیں۔“
سُلین کا موڈ اتنی خوبصورت جگہ دیکھ کافی بہتر ہوچکا تھا۔ جس کے زیرِ اثر وہ سوال پوچھ گئی تھی۔
” یہاں میرے بچے رہتے ہیں۔ اُنہیں سے ملنے آئیں ہیں ہم۔“
ابتہاج نے اُسے لیے سکول کی جانب بڑھتے بتایا تھا۔
” آپ کے بچے؟؟؟؟ آپ پہلے سے شادی شدہ ہیں۔؟؟؟؟“
سلین کو یہ شخص آج جھٹکے پے جھٹکا دے رہا تھا۔ سُلین کے اِس طرح حیرت بھری بے یقینی سے دیکھنے پر ابتہاج کی آنکھوں میں وہی کبھی کبھی جھلک دیکھنا والی سحر انگیز سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔
” اندر تو آئیں مسز آپ کو سب پتا چل جائے گا۔“
ابتہاج اپنی مرضی اور مزاج کے علاوہ کبھی کسی بارے میں سہی بات نہیں کرتا تھا۔ جس پر اکثر سُلین کو چڑ ہوجاتی تھی۔ اِس وقت بھی وہ اُس کی چوڑی پشت کو گھورتی اُس کے ہاتھ کا اشارہ کرنے پر گیٹ سے اندر داخل ہوچکی تھی۔
ابتہاج ہمیشہ اُسے خود سے ایک قدم آگے رکھتا تھا۔
سکول کی بلڈنگ باہر سے جتنی خوبصورت تھی۔ اندر سے اُس سے کہیں زیادہ سبزے اور مختلف قسم کے رنگ برنگے پھولوں سے سجی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔
لمبا سا کوریڈور عبور کرتے وہ دونوں آفس کی جانب بڑھے تھے۔ یہ شاید بریک کا ٹائم تھا۔ جس کی وجہ سے بچے آگے کے گراؤنڈ میں کھیل رہے تھے۔
” آپ کے بچے کہاں ہیں۔“
سُلین متجسس لہجے میں بولی تھی۔ ابتہاج نے نوٹ کیا تھا۔ اُس کے انداز میں اب پہلی جیسی ایکسائٹمنٹ نہیں تھی۔ ابتہاج کی شادی اور بچوں کا سوچتے اُس کا چہرا بوجھ سا گیا تھا۔
” یہ سب میرے ہی بچے ہیں۔“
گراؤنڈ میں کھیلتے بچوں کی نظر جیسے ہی ابتہاج پر پڑی وہ سب خوشی سے لبریز چہروں کے ساتھ اُس کی جانب بھاگے تھے۔
سُلین نے اُلجھ کر ابتہاج کی جانب دیکھا تھا۔ جس کے چہرے پر ایک دلفریب سی مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔ سُلین کتنے ہی لمحے اُس سے نظریں نہیں ہٹا پائی تھی۔ کتنا خوبصورت تھا یہ شخص۔ اُس کی مسکراہٹ نے سُلین کے دل ے تار چھیڑ دیئے تھے۔ ابتہاج بچوں کی جانب بازو پھیلاتا دوزانوں نیچے بیٹھ گیا تھا۔ بچے اُس کی بانہوں میں سماتے بے پناہ خوش لگ رہے تھے۔ سُلین کتنی ہی دیر اِسی حسین ترین منظر میں کھوئی رہتی جب سکول کی پرنسپل میڈم عفت کی آواز پر چونک کر اُن کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔
“آپ ابتہاج سر کی مسز ہیں۔“
سلام دعا کے بعد اُنہوں نے آنکھوں میں اشتیاق بھرے سُلین سے سوال کیا تھا۔ کیونکہ ابتہاج تو اب پوری طرح بچوں میں مگن ہوچکا تھا۔ یہ پہلی بار ایسا ہوا تھا۔ کہ سُلین کے قریب ہوتے ہوئے بھی ابتہاج کی توجہ اُس سے ہٹ کر کسی اور جانب تھی۔
“جی۔۔۔“
سُلین نے اثبات میں سر ہلا کر جواب دیا تھا۔
” یہ سکول ابتہاج سر کا ہے۔ بہت سال پہلے اِس سکول کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ ابتہاج تقریباً ہر مہینہ یہاں آتے تھے۔ مگر بیچ میں کچھ عرصہ نجانے کس وجہ سے نہیں آپائے۔
لیکن اب باقاعدگی سے آتے ہیں۔ بچے بہت اٹیچ ہیں سر کے ساتھ۔ سر اِن کا ہر طرح سے خیال رکھتے ہیں۔ یہ سب یتیم بچے ہیں۔ جو اپنا سب کچھ سر کو ہی مانتے ہیں۔“
میڈم نصرت جیسے جیسے ابتہاج کے اِس نیک عمل کے بارے میں بتائی جارہی تھیں۔ سلین کے دل میں ابتہاج کا مقام کہیں زیادہ بڑھ گیا تھا۔ بظاہر لاپرواہ اور روڈ دکھنے والا یہ شخص اندر سے کتنا سافٹ اور خیال رکھنے والا تھا۔ ابتہاج کا ہت بار سامنے آتا رُوپ سُلین کو اُس کا اسیر بنا رہا تھا۔
اِس شخص نے اپنی پہلی جھلک سے ہی اُس کے دل میں اپنی جگہ تو بنا دی تھی۔ جو اب آہستہ آہستہ مزید زور پکڑ گئی تھی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔