Teri Chah Mein By Farwa Khalid Readelle50119 Episode 27
No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
سُلین کے اتنے بار ٹرائے کرنے کے بعد اُس کا آخر کار قاسم سے کانٹیکٹ ہو ہی گیا تھا۔
“میم مجھے پہلے دن سے ہی وہ شخص مشکوک لگا تھا۔ وہ جانتا تھا، میرے آپ کے ساتھ ہونے کی وجہ سے اُس کا پلان کامیاب نہیں ہوسکتا اِس لیے اُس نے پہلے مجھے آپ سے دور کیا۔ میم وہ بہت شاطر پاور فل ہے۔ اُس کا مقابلہ کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ مگر آپ فکر مت کریں۔ میں ہر حال میں آپ کا ساتھ دوں گا۔ حبیب انکل سے وعدہ کیا تھا میں نے۔ کسی بھی پرابلم میں آپ کو اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔“
قاسم گلشن آرا کے پڑھائے گئے سبق کے مطابق سُلین کو اپنے پلان میں استعمال کرنے کے لیے اُس کے گرد لفظوں کا جال بننے لگا تھا۔ جس میں سُلین آرام سے پھنس بھی گئی تھی۔
”میں اِس شخص پر ٹرسٹ کرنے کے اپنی لائف کی بہت بڑی غلطی کرچکی ہوں۔ ایسے بے رحم اور سفاک انسان کے ساتھ میں اب ایک پل بھی نہیں گزارنا چاہتی تھی۔ قاسم آپ پلیز کچھ بھی کرکے مجھے یہاں سے نکلوا لیں۔“
یہ الفاظ ادا کرتے سُلین کی زبان لڑکھڑائی تھی۔ اُسے خود بھی علم تھا۔ کہ اِس گھر میں زیادہ وہ اِس ڈر کی وجہ سے ہی نہیں رہنا چاہتی تھی۔ کہ کہیں پھر سے اِس ساحر کا طلسم اُسے اپنی لپیٹ میں لے کر بے بس نہ کردے۔
”آپ فکر مت کریں۔ میں کچھ کرتا ہوں۔ اور یہ دھیان رکھئے گا۔ کہ آپ کے شوہر کو اِس بات کا علم نہیں ہونا چاہیے کے آپ مجھ سے کانٹیکٹ میں ہیں۔“
قاسم ابھی ابتہاج کی پچھلی پیٹائی نہیں بھولا تھا۔ اِس لیے اُسے ہدایت دیتے بولا تھا۔ جس پر سُلین اثبات میں جواب دیتے فون بند کرگئی تھی۔
وہ بہت نرم دل کی مالک تھی۔ اُس سے کسی سے روڈ رویہ اختیار نہیں کیا جاتا تھا۔ اُسے ڈر تھا کہ کہیں وہ دوبارہ ابتہاج کے بہکاوے میں نہ آجائے۔ اِس لیے وہ قاسم کی مدد لیتے یہاں سے نکلنا چاہتی تھی۔ تاکہ باہر نکل کر ابتہاج کے خلاف پراپر سے کیس کرکے اُسے اُس کے گناہوں کی سزا دلوا سکے۔
★★★★★★★★
”صاحب میں آپ کو سب بتانے کو تیار ہوں۔ مگر آپ وعدہ کریں آپ اُس کے بعد ہمایوں سر اور شہلا میڈم کے ساتھ کچھ غلط نہیں کریں گے۔ پہلے ہی اُن دونوں کے ساتھ بہت کچھ غلط ہوچکا ہے۔“
فضیلہ زورین کو سب بتانا بھی چاہتی تھی۔ مگر اُس پر اعتبار بھی نہیں کر پارہی تھی۔
” میں وعدہ نہیں کرسکتا مگر کوشش کروں گا۔ مجھے جلد از جلد سچ جاننا ہے۔“
زورین کے سخت انداز پر فضیلہ بولنا شروع ہوئی تھی۔ مگر وہ جیسے جیسے انکشاف کرتی جارہی تھی۔ زورین کے ماتھے کی شکنوں میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔
ہمایوں اور شہلا دونوں کے ہی گھر والوں نے اُن کی مدد کرنے سے انکار کردیا تھا۔ کوئی بھی اُن کی محبت سمجھنے کو تیار نہیں تھا۔ جبکہ وہ دونوں ہی اپنی محبت قربان کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ ایک دوسرے کے بغیر جینے کا تصور کرنا اُن کے لیے محال تھا۔
اِسی بنا پر اُنہوں نے گھر سے بھاگ کر نکاح کرنے کا انتہائی قدم اُٹھایا تھا۔ محبت کا راستہ آج تک بھلا کب کسی کے لیے آسان رہا تھا۔ جو اُن کے لیے ہوتا۔
رقیہ بیگم اور تنویر صاحب کو شہلا کے عین بارات والے دن بھاگ جانے پر جو بدنامی ہوئی تھی۔ وہ دونوں اُسی وقت شہلا کو ڈھونڈ کر اُسے ختم کردینا چاہتے تھے۔ مگر شہلا تک تو نہیں پہنچ پائے تھے۔ لیکن ہمایوں اور شہلا کو واپس بلانے کے لیے تنویر صاحب نے ایک چال چلی تھی۔
کرائے غنڈوں کو پیسے دے کر اُنہوں نے ہمایوں کے بھائی بھابھی کی گاڑی کی بریکس فیل کروا دی تھی۔ مقصد صرف اُن کا معمولی ایکسیڈنٹ کروانا تھا۔ تاکہ ہمایوں اُن سے ملنے آئے اور وہ لوگ اُنہیں پکڑ سکیں۔
مگر بریکس فیل ہوجانے کے بعد گاڑی بے قابو ہوتی پاس سے گزرتے ٹرک سے ٹکرا گئی تھی۔ اُن کی بدقسمتی سے اگر ٹرک بیچ میں نہ آتا تو شاید اتنا سیریس ایکسیڈنٹ نہ ہوتا۔
تنویر صاحب نے دو لوگوں کے قتل کا گناہ تو اپنے سر لے لیا تھا۔ مگر ہمایوں اور شہلا تک نہیں پہنچ پائے تھے۔ وہ دونوں بہن بھائی شہلا کا قصور کسی صورت معاف کرنے کو تیار نہیں تھے۔
اِس واقع کو چار سال گزر گئے تھے۔ جب ایک دن تنویر صاحب کو ایبٹ آباد کے ایک شہلا ایک شاپنگ مال میں نظر آئی تھی۔ وہ شہلا کے سامنے جانے کے بجائے اُس کا پیچھا کرتے اُس کے گھر تک آن پہنچے تھے۔ اُن کے دماغ میں کوئی اور ہی منصوبہ چل رہا تھا۔
نکاح کے فوراً بعد وہ دونوں ملائیشیا چلے گئے تھے۔ جس کی وجہ سے ہمایوں اپنے بھائی بھابھی کی موت کا سن کر چاہنے کے باوجود وہاں نہیں پہنچ پائے تھے۔ ایک مہینے بعد واپس آکر اُنہوں نے ثاقب اور زورین سے ملنا چاہا تھا۔ مگر ثاقب نے اپنے ماں باپ کا قصور وار اُن دونوں کو سمجھتے اُن سے قطع تعلق کرلیا تھا۔
جس کے بعد شہلا اور ہمایوں نے ایبٹ آباد میں اپنی ایک الگ دنیا بسا لی تھی۔ شادی کے ایک سال بعد اُن کے ہاں پہلی بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی۔ جس کا نام اُنہوں نے سُلین رکھا تھا۔ اُس سے کچھ عرصے بعد ایک بار پھر شہلا نے اُنہیں اپنے اُمید سے ہونے کی خوش خبری دی تھی۔ دوسری بِھی بیٹی ہے یہ جان کر ہمایوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہا تھا۔ وہ دونوں بےپناہ خوش تھے۔
مگر اِس بات سے انجان تھے کہ اُن کی خوشیوں کی مدت بہت کم تھی۔ شہلا کا آخری مہینہ چل رہا تھا۔ جب بدقسمتی سے ایبٹ آباد کسی کام سے آئے تنویر صاحب کی نظر شہلا پر پڑ گئی تھی۔ شہلا اور ہمایوں اِس سب سے انجان اپنی ہی خوشیوں میں مگن اگلی شام سُلین کو لیے باہر ڈنر پر نکلے تھے۔ جب تنویر صاحب کے ہائر کیے گئے لوگوں نے اُن کی گاڑی پر گولیوں کی برسات کردی تھی۔
ہمایوں نے فوری طور پر ڈھال بنتے اُن دونوں کو تو محفوظ رکھا تھا۔ مگر خود شدید زخمی ہوتے ہوش و خرد سے بیگانہ ہوتے اُنہیں بے یارو مدد گار کرگئے تھے۔
اُن کے فرشتوں کو بھی علم نہیں تھا۔ کہ یہ سب کس نے کیا تھا اُن کے ساتھ۔ شہلا اپنے گھر والوں پر تو اِس بارے پر زرا برابر بھی شک نہیں کرسکتی تھی۔ اُس کے مطابق اُس کے بھائی اتنے سفاک نہیں ہوسکتے تھے۔
شہلا کی اپنی حالت کافی تشویش ناک تھی۔ یہ افسوس ناک خبر سن کر ہمایوں شاہ کے بیسٹ فرینڈ اور اُن کے کلاس فیلو حبیب جو اُن دونوں کی محبت کے گواہوں میں سے ایک تھے۔ فوری طور پر وہاں پہنچ گئے تھے۔
شہلا کے ہاں ایک ننھی پری دل آویز نے جنم لیا تھا۔ اُس نے بھی اپنی بڑی بہن کی طرح اپنے بے حد حسین ماں باپ کے نقش چرائے تھے۔
ہمایوں کی حالت کس قدر نازک تھی یہ بات شہلا بھی جانتی تھی۔ اُسے نہیں معلوم تھا کہ اُس کے دشمن کون تھے۔ اور کہیں وہ اُن کی بچیوں کا نقصان نہ پہنچا دیں۔ شہلا نے سُلین کو حبیب اور اُن کی بیوی کی گود میں دے دیا تھا۔
وہ دونوں پہلے ہی بے اُولاد تھے۔ بیٹی جیسی نعمت پاکر بے انتہا خوش ہوئے تھے۔ جبکہ دل آویز کافی ویک تھی۔ جس کی وجہ سے اُسے ابھی آبزرویشن میں رکھا گیا تھا۔ شہلا چاہنے کے باوجود اُسے اُن کے ساتھ نہیں بھیج پائی تھی۔
ہمایوں کو سر پر گولی لگی تھی۔ جس کی وجہ سے اُنہیں ہوش نہیں آرہا تھا۔ اور ڈاکٹرز کے مطابق جب تک اُنہیں ہوش نہیں آجاتا تھا۔ اُن کی جان خطرے میں تھی۔ شہلا اپنی وجہ سے حبیب صاحب اور اُن کی بیوی کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔ اِس لیے اُس کے بےحد اصرار پر وہ دونوں سلین کو اپنے ساتھ لیے وہاں سے چلے گئے تھے۔
مگر اگلے دن جو قیامت شہلا پر ٹوٹی تھی۔ اُس نے اُن کی ساری حسیات کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ اُن کی بربادی کا سبب کوئی اور نہیں اُن کا اپنا سگا بھائی تھا۔
تنویر صاحب اپنی آنکھوں سے اپنی مجرم بہن کا انجام دیکھنے ہاسپٹل آئے تھے۔ اور بیڈ پر پڑی شہلا کے سامنے اُس پر کیے جانے والے حملے کا اقرار بھی کر دیا تھا۔ جس نے شہلا کو مزید توڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ ہمایوں پر دوبارہ حملہ کروا کر اُس کی بچی کچی سانسیں بھی چھین لینا چاہتے تھے۔ مگر اِس بار شہلا اپنے شوہر کی ڈھال بن گئی تھی۔
اُس نے راتوں رات ہمایوں کو دوسرے ہاسپٹل شفٹ کروا دیا تھا۔ اور خود بھی دل آویز کو لیے وہاں سے نکل جانا چاہتی تھی۔ مگر تب تک تنویر صاحب اُس تک پہنچ گئے تھے۔ اُنہوں نے دل آویز کو شہلا سے ہمایوں کے بارے میں پوچھا تھا۔ اور نہ بتانے پر دل آویز کو اُس سے چھیننے کی دھمکی دی تھی۔
شہلا ہمایوں کے بارے میں اُنہیں مر کر بھی نہیں بتانا چاہتی تھی۔ اُنہوں نے دل آویز کو اُس سے چھین لیا تھا۔ اور اُسے بھی زبردستی وہیں لے آئے تھے۔ جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے۔
ہمایوں کا علاج جلد از جلد شروع کروانا بہت ضروری تھا۔ اِس لیے وہ دل پر پتھر رکھتی دل آویز کو وہیں چھوڑ کر وہاں سے بھاگ نکلی تھی۔
تنویر صاحب نے اُسے ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی تھی۔ مگر تلاش نہیں کر پائے تھے۔
دل آویز کو گھر ساتھ اِسی مقصد سے لے کر گئے کہ شہلا ایک دن اُسے لینے ضرور آئے گی۔ تب وہ اُسے اور اُس کے شوہر کو نہیں چھوڑے گا۔
گھر والوں سے اُس نے جھوٹ بولا تھا۔ کہ دل آویز کو اُس نے گیٹ کے باہر سے اُٹھایا ہے۔ مگر سچ یہ تھا کہ وہ اُس روتی بلکتی ایک دن کی بچی کو اُس کی ماں سے چھین کر لایا تھا۔
رقیہ بیگم بھی باقی گھر والوں کی طرح اصل حقیقت سے ناواقف تھیں۔
تنویر صاحب نے اپنی مردانہ انا کو سکون پہنچانے کے لیے اپنی سگی بہن کی زندگی اُجاڑ کے رکھ دی تھی۔ جس کا اُنہیں اب بھی زرا برابر پچھتاوا نہیں تھا۔
فضیلہ یہ ساری حقیقت بتاتے اُن دو محبت کرنے والوں کی زندگی کی تلخیوں پر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
“وہ دونوں کہاں ہے اب۔”
زورین ہونٹ بھینچے پتھریلے تاثرات سے سجے چہرے کے ساتھ بولا تھا۔ اُس کی سنسناتی آواز ہی ایسی تھی۔ کہ فضیلہ نے خاموشی سے ایک چٹ اُسے پکڑائی تھی۔
” ہمایوں صاحب سر پر گولی لگنے کی وجہ سے اپنی یاداشت کھو بیٹھے تھے۔ جس کے بعد شہلا بی بی جی نے اپنی سچی محبت کا ثبوت دیتے اُنہیں تنہا نہیں چھوڑا۔ پچھلے اکیس سالوں سے وہ اپنے شوہر کی خدمت کررہی ہیں۔ جو اُنہیں پہنچاننے سے بھی انکاری ہے۔ کاش کہ اُن کی محبت میں رُکاوٹ بننے والے اُس کی ایک پرسنٹ سچائی سے واقف ہوپاتے۔ کہ محبت کرنا گناہ نہیں ہے۔ اگر سمجھا جائے تو یہ دنیا کا سب سے پاکیزہ اور پائیدار رشتہ ہے۔ لیکن کچھ لوگوں نے اِسے بدنام کرکے رکھ دیا ہے۔“
فضیلہ بی بی نے سر اُٹھا کر زورین کی جانب دیکھا تھا۔
”کیا آپ جانتے ہیں۔ ہمایوں صاحب کی چھوٹی بیٹی کیسی ہے۔ اُن ظالموں نے اُن کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا۔ وہ زندہ بھی ہے یا۔۔۔۔۔”
فضیلہ بی بی کی آخری بات پوری ہونے سے پہلے ہی زورین نے سختی سے کاٹ دی تھی۔
”وہ بالکل ٹھیک ہے۔ بیوی ہے اب وہ میری۔ کسی کی جرأت نہیں ہے اُس کے ساتھ غلط کرنے کی۔“
یہ بات کہتے زورین کی آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح وہ تمام سینز چلنے لگے تھے۔ جب جب اُس نے دل کے ساتھ غلط کیا تھا۔
زورین ایک بار پھر اُس سے ایڈریس کنفرم کرتا وہاں سے نکل آیا تھا۔
اُس کے ماں باپ اُس سے ہمایوں شاہ کی وجہ سے ہی چھن گئے تھے۔ کہیں نہ کہیں قصوروار وہ بھی تھے۔ مگر اُنہیں تو اپنی غلطی سے کہیں بڑی سزا مل چکی تھی۔ پھر وہ بھلا کیوں کر اُن کے ساتھ غلط کرتا۔
اُسے بس اِسی بات کا پچھتاوا ہورہا تھا کہ کاش وہ اُسے پہلے مل جاتے تو وہ اُن کی پہلے کوئی مدد کرپاتا۔ مگر تنویر کو اُس کے ہر گناہ کی سزا سود سمیت دینے کا عہد کر چکا تھا وہ۔ دل نے اُس سے سہی کہا تھا۔ وہ ایک شخص کے کیے کی سزا سب کو دے کر غلط کررہا تھا۔ اُسے باقی سب رشتوں کے ساتھ اب جلد از جلد دل کے حصے کی ساری خوشیاں اُسے لُٹانی تھیں۔ وہ اُسے اُس کے ماں باپ اور بہن سے ملوا کر اُس کی ویران اُداس آنکھوں میں روشنی بھرتے دیکھنا چاہتا تھا۔
★★★★★★★★
دل اگلے دن بھی زورین کے آنے کا ویٹ کرتی رہی تھی۔ مگر نہ ہی وہ خود آیا تھا اور نہ ہی اُس کی کال۔ کل نرمین کا نکاح تھا، جسے دل کسی طور مس نہیں کرنا چاہتی تھی۔ نرمین نے ہمیشہ اُسے بہت محبت اور مان دیا تھا۔ اُس کی ہر چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کا خیال رکھا تھا۔ وہ باقیوں کے رویے کی وجہ سے نرمین کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔ نرمین صبح سے اُسے نجانے کتنی بار کالز کر چکی تھی۔ جس پر آخر دل نے زورین کی پرمیشن کے بغیر خود ہی جانے کا ڈیسائیڈ کرلیا تھا۔
ویسے بھی یہاں ہوتے زورین نے کونسا اُس کے ساتھ آنا تھا۔ جو وہ اُس کے لوٹنے کا انتظار کرتی۔
”مجھے پتا تھا،میری گڑیا ضرور آئے گی۔ دل پلیز ہمیں معاف کردو۔ اُس دن ہم سب نے بھی تم سے بہت روڈلی بالکل رقیہ پھوپھو کی ٹون میں بات کی۔ اُس وقت سچویشن ہی ایسی تھی۔ اور پھوپھو نے تمہارے خلاف بول بول کر ہمارے دماغ ویسے ہی بہت خراب کردیئے تھے۔ تمہارے ساتھ بہت غلط طریقے سے بات کی پلیز ہمیں معاف کردو۔ جب تک تم معاف نہیں کرو گی۔ ہم خود بھی خود کو معاف نہیں کر پائیں گی۔“
نرمین سمیت وہ سب اُس کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑی تھیں۔ دل تو کبھی بھی اتنی کھٹور نہیں رہی تھی۔ اُن سب کو اتنا شرمندہ دیکھ وہ اپنے دل میں اُن کے لیے آئی میل دھو گئی تھی۔
گھر کے باقی سب افراد بھی اُس سے بہت ہی محبت اور عزت سے ملے تھے۔ کیونکہ زورین شاہ نے اُس کی حیثیت بدل دی تھی۔ سب کی نظروں میں اب وہ وہی سب سے جھڑکیاں کھانے والی دل نہیں تھی۔ بلکہ مسز زورین شاہ تھی، جس کے آگے گھر کے اکثر افراد احسان مند ہوکر نظریں جھکائے ہوئے تھے۔
”آپی آپ کا دولہا کیسا ہے ، کون ہے۔ مجھے بھی تو پتا چلے۔ آخر اتنی سگھڑ ،سمجھدار ،سلیقہ شعار ، پیاری سی لڑکی کس کے گھر چاند بن کر اُتر رہی ہے۔“
دل کا واپس پہلے جیسا چہکتا لہجہ سن کر سب کے چہروں پر طمانیت بھری مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔
”بہت زیادہ ہینڈسم اور رچ فیملی سے ہے۔ اور اِس قدر مہذب انسان ہیں۔ کہ بندہ بس بیٹھ کر سارا ٹائم اُن کی باتیں ہی سنتا رہے۔
ویسے پریشان نہ ہو، اتنا ہینڈسم ہونے کے باوجود وہ تمہارے شاہ صاحب کو ٹکر نہیں دے پائے گا۔“
صوفیہ کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ جب سویرا نے اُسے چھیڑنے کے لیے لُقمہ لگایا تھا۔ سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔ جبکہ وہ تو ٹھیک سے مسکرا بھی نہیں پائی تھی۔
جو شخص اُس کا تھا ہی نہیں، تو اُس کے حوالے سے وہ خود کو کیسے خوش نصیب گردانتی۔
زورین نے اُسے واضح لفظوں میں کہہ دیا تھا۔ کہ وہ اُس سے شدید نفرت کرتا ہے۔ اور میرا کے اُسے مما پکڑانے پر زورین جس قدر غصے میں آجاتا تھا۔ وہ اِسی بات کی گواہی تھی۔ کہ زورین اب بھی اپنی پہلی بیوی سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔ زورین شاہ کے دل اور زندگی کہیں بھی اُس کی جگہ نہیں تھی۔
دل کی آنکھوں میں نمکین پانی بھر گیا تھا۔ جسے باقی سب سے چھپانے کے لیے وہ فون آجانے کا بہانہ کرتی وہاں سے اُٹھ گئی تھی۔
★★★★★★★
سُلین کی قاسم سے بات ہوئی تھی جس کے مطابق ابتہاج کی مرضی کے بغیر اُسے اُس گھر نکالنا ناممکن تھا۔ اِس لیے سُلین خود ہی کوئی طریقہ سوچ کر اُس کی اجازت سے ہی وہاں سے نکل سکتی تھی۔
سُلین پہلے تو ابتہاج کے پاس جاکر اُس سے بات کرنے سے ہی صاف انکاری ہوگئی تھی۔ مگر پھر قاسم کے سمجھانے پر مرتے کیا نہ کرتے مے مصداق اُسے وہاں جانا پڑا تھا۔ اُس نے ابتہاج سے کمرہ علیحدہ کرلیا تھا۔ وہ اپنے بیڈروم میں ہی جبکہ سُلین نیچے والے ایک روم میں شفٹ ہوگئی تھی۔
اُس نے ہر طرف سے ہی ابتہاج کو قطع تعلق کرلیا تھا۔ مگر حیرت انگیز طور پر ابتہاج نے اُسے کچھ بھی نہیں کہا تھا۔
سُلین نے لرزتے قدموں اور بے تحاشہ دھڑکتے دل کے ساتھ ابتہاج کے روم کے سامنے کھڑے ہوتے ناک کیا تھا۔ مگر کافی دیر کے بعد بھی کوئی جواب نہ پاکر ناچار اُسے خود ہی آگے بڑھنا پڑا تھا۔ اتنی ہمت کرکے یہاں آکر اب سی واپس نہیں پلٹنا چاہتی تھی۔
مگر اندر قدم رکھتے ہی سگریٹ کے دھوئے سے وہ بُری طرح کھانسنے لگی تھی۔
جب اُس کی نظر سامنے پورے بیڈ پر پھیل کر سوئے ابتہاج لغاری پر پڑی تھی۔ جو منہ کے بل سویا تکیہ اپنے سینے کے ساتھ دبوچے ہوئے تھا۔ وہ شرٹ لیس تھا۔ سُلین بے اختیار اُس کے چوڑے مضبوط شانوں سے نظریں چُراتی اپنا رُخ موڑ گئی تھی۔ وہ بار بار خود سے ہی اُلجھ جاتی تھی کہ اب بھی بھلا اِس شخص کو دیکھ اُسے تحفظ کا احساس کیوں ہوتا تھا۔ وہ ابتہاج کے بارے ميں اتنا غلط سننے کے بعد اُس سے نفرت کیوں نہیں کر پارہی تھی۔ وہ اِنہیں سب باتوں سے گھبرا کر اِس سحر انگیز شخص سے دور چلی جانا چاہتی تھی۔
”اُف اللّٰه جی کیسا انسان بنایا ہے آپ نے یہ۔ بھلا اِس گھٹن زدہ ماحول میں کون سانس لے سکتا ہے۔“
سُلین خود سے بڑبڑاتی کھڑکی کی جانب بڑھ گئی تھی۔
پردے ہٹا کر کھڑکی کھولتے اُس نے روم آکسیجن کی کمی پوری کرنی چاہی تھی۔ یہ کام کرکے وہ واپس ابتہاج کی جانب پلٹی تھی۔ ہاتھوں کی اُنگلیاں آپس میں مڑورتے وہ اِسی کشمکش میں تھی۔ کہ ابتہاج کو جگائے کیسے اور اُس سے بات کیسے کرے۔ بیڈ کے قریب آتے، اُس کی نظر جلے ہوئے سیگریٹس سے بھری ایش ٹرے پر پڑی تھی۔
”پتا نہیں اور بھی نجانے کون کون سے نشے کرتا ہوگا یہ شخص۔“
وہ افسوس سے سر ہلاتی اپنی اُلجھن میں گم کچھ زیادہ ہی اُونچا بول گئی تھی۔
بیڈ کے قریب ابتہاج کے سر پر کھڑے اُس سے فیصلہ نہیں ہو پارہا تھا کہ ابتہاج کو جگا کر اُس سے بات کرے۔ یا پھر اُس کے اُٹھنے کا انتظار کرے۔
ابتہاج کے اُلٹے ہوکر سونے کی وجہ سے وہ اُس کا چہرہ دیکھنے سے قاصر تھی۔ اُسے اِس طرح جگانا سُلین کو خطرے سے خالی نہیں لگا تھا۔ اِس لیے وہ اُس کے اُٹھنے کا انتظار کرنے کا فیصلہ کرتی واپس پلٹی تھی۔
مگر ابھی وہ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ پائی تھی۔ جب ابتہاج نے ایکدم کروٹ بدلتے اُس کی کلائی پکڑ کر اپنی جانب کھینچا تھا۔ سُلین اِس حملے کے لیے قطحی تیار نہیں تھی۔ سیدھی اُس کے سینے پر آن گری تھی۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
