Teri Chah Mein By Farwa Khalid Readelle50119 Episode 34
No Download Link
Rate this Novel
Episode 34
”ایک سیکنڈ میں کردیا نا پرایا مجھے۔ نرمین آپی کو خاموشی سے رخصتی بھی کردی. اور اب سویرا کی بھی شادی ہورہی۔ مجھے کسی نے بتایا تک نہیں۔ اِس سویرا کو تو میں چھوڑوں گی نہیں کتنی گھنی میسنی نکلی یہ۔“
دل صوفیہ کے منہ سے اچانک طے پانے والی سویرا کی شادی کا سن کر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے بولی تھی۔
”دل تم یہاں آجاؤ۔ میں تمہیں سب بتا دوں گی۔ گھر کے حالات ٹھیک نہیں رہے۔ پتا نہیں تایا ابو کو ہو کیا گیا ہے۔ وہ ایسے ہی جلد بازی میں. فیصلے کرتے آرہے ہیں۔ اُن کے نزدیک اب صرف امیر دولت جائیداد کا مالک شخص ہی داماد بنانے کے لائق ہے۔ پھر چاہے وہ شرابی ہو، شادی شدہ بچوں کا باپ ہو یا ادھیڑ عمر شخص۔ اُنہیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اُن کے لیے اب بس یہی شرط ہے۔ کہ لڑکے کے پاس پیسے ہونے چاہئے۔ نرمین والا معاملہ تو تمہارے سامنے ہی ہے۔ وہ تو شکر ہے تم نے اور زورین بھائی نے مل کر اُنہیں بچالیا۔ مگر اب سویرا کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو رہا۔ وہ اِس شادی پر بالکل بھی خوش نہیں ہے۔“
صوفیہ آنسوؤں کے درمیان اُسے ساری کہانی سنا گئی تھی۔
جبکہ اُس کا دل اپنی عزیز کزن کے لیے پریشان ہو اُٹھا تھا۔ آخر اُن کے بڑوں کو ہو کیا گیا تھا۔ اُسے انہوں نے ہمیشہ سوتیلا سمجھا تھا۔ مگر سویرا اور نرمین تو اُن کی سگی اولادیں تھیں۔ کیا پیسہ اُن کی بیٹیوں کی خوشحال زندگی کی ضمانت ہوسکتا تھا۔
دل نسیمہ بیگم کو آگاہ کرتی فوراً زکریا منزل کے لیے نکل گئی تھی۔
★★★★★★★★★
سُلین شاور لے کر نکلی تھی۔ جب ابتہاج کو ہوش میں آتا دیکھ اُس کا دل لمحہ بھر کو کانپ گیا تھا۔ اگر اُسے زرا سا بھی شک پڑ جاتا تو سُلین کی خیر نہیں تھی۔
وہ خود کو اُس سے انجان ظاہر کرتی ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھ گئی تھی۔ مگر نظریں ابتہاج پر ہی ٹکی ہوئی تھیں۔ جو پوری طرح فون پر مصروف تھا۔
لیکن سانسیں تو اُس کی تب رُکیں۔ جب ابتہاج گہری نظروں سے اُس کی جانب دیکھتا اُس کے عین پیچھے آن کھڑا ہوا تھا۔
مرر میں اب دونوں کا عکس واضح تھا۔ سُلین دراز قد ہونے کے باوجود بھی اُس کے کندھے تک آتی تھی۔
”یہ تم نے کیا۔“
ابتہاج اپنے سینے پر موجود نشان کی جانب اشارہ کرتے اُس سے پوچھنے لگا تھا۔ سُلین نے نظریں اُٹھا کر جیسے ہی اُس جانب دیکھا۔ شرم کے مارے اُس کا چہرا سرخی مائل ہوا تھا۔ اُس کی لپسٹک کے ہونٹ کی شیپ کے نشان ابتہاج کے سینے کے مقام پر بنے ہوئے تھے۔ اُس کا دل چاہا تھا اپنا سر پیٹ لے۔ وہ بھلا اتنی بڑی ڈفر کیسے ہوسکتی تھی۔
”مجھے کیا پتا۔ پلیز میں ایسی چھچھوری حرکتیں نہیں کرتی۔ کیا ہوگا آپ کی کسی گرل فرینڈ نے یہ کارنامہ۔“
سُلین خود کو کمپوز رکھنے کی کوشش کرتی صاف انکاری ہوئی تھی۔
”ایکسکیوزمی۔ میں کل رات کو گھر سے باہر کہیں نہیں گیا۔ میری گرل فرینڈز میرے گھر نہیں رہتیں۔“
ابتہاج اُسے کلائی سے پکڑ کر اپنی جانب موڑتے بولا۔ جو اِس وقت فریش پنک کلر کے سوٹ میں بالوں سے شبنم کے قطرے ٹپکاتی اُسے بھی خاصہ فریش کرگئی تھی۔
“اوہ تو مطلب گرل فرینڈز ہیں آپ کی۔ اُس دن جو لڑکیاں اُس گھر سے نکل رہی تھیں۔ وہ آپ کی گرل فرینڈز تو نہیں تھیں۔“
سُلین نے بہت چالاکی کا مظاہرہ کرتے بات بدلنی چاہی تھی۔
”اپنی گرل فرینڈز کی لسٹ تمہیں بعد میں سناؤں گا۔ پہلے یہ بتاؤ۔ تمہاری گردن پر کیا ہوا۔“
ابتہاج نے سُلین کی گردن سے بال پیچھے ہٹاتے وہاں سرخ ہوئے حصے کو دیکھا تھا۔
سُلین کا اُس وقت شرم سے ڈوب مرنے کو دل چاہا تھا۔ وہ نظریں جھکائے کھڑی کچھ بول ہی نہیں پائی تھی۔ اُسے کیا بتاتی کہ یہ اُسی کی مہربانی تھی۔
”کہیں رات کو تم کسی خاص مشن پر تو نہیں تھی۔“
ابتہاج نے اُس کی گردن کو نرمی سے سہلاتے عام سے لہجے میں پوچھا تھا۔ سُلین نے گھبرا کر نظریں اُٹھائی تھیں۔
”مذاق کررہا ہوں۔ شاید یہ سب میری کسی گرل فرینڈ نے ہی کیا ہو۔“
جھک کر اُس کی گال پر بوسہ دیتا شرارت سے آنکھ دباتا وہ واش روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔
”اُف الله جی کیا ہے یہ شخص۔ جان نکال کے رکھ دیتا ہے۔ شکر ہے اِسے پتا نہیں چلا۔“
سُلین دل پر ہاتھ رکھتی بے قابو ہوتی دھڑکنوں کو نارمل کرنے لگی تھی۔
★★★★★★★★
”زورین بھائی آئیں گے؟ بات ہوئی اُن سے۔“
سویرا صبح سے نجانے کتنی بار یہ بات اُس سے پوچھ چکی تھی۔
“ہاں کہہ رہے تھے کوئی امپورٹنٹ میٹنگ ہے۔ مگر آنے کی کوشش ضرور کریں گے۔“
دل اُسے ایسے ہی من گھڑت جوابوں سے بہلا رہی تھی۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ اُس نے ایک بھی زورین کو کال کرنا تو دور میسیج بھی نہیں کیا تھا۔
”تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔ اتنی مرجھائی سی کیوں لگ رہی ہو۔ تمہاری شادی ہے آج خوش ہونا چاہئے تمہیں۔ یہ دن روز روز تھوڑی نا ہوتا۔ “
دل دلہن بنی سویرا کا اترا چہرا دیکھ فکرمندی سے بولی تھی۔
”کاش ایسا دن کبھی نہ آئے۔“
سویرا بھرائی آواز میں بولی تھی۔ دل اُٹھ کر اُس کے قریب آئی تھی۔
”سویرا۔۔۔۔۔“
اُس نے سویرا کو تسلی دینی چاہی تھی۔
“دل پلیز کچھ دیر کے لیے مجھے اکیلا چھوڑ دو۔“
نیچے سے بارات کی آمد کا شور سنتے سویرا اُس کی بات ٹوکتی سرد لہجے میں بولی تھی۔
دل اُس کی کیفیت سمجھتی خاموشی سے وہاں سے نکل آئی تھی۔
نیچے فنکشن میں انٹر ہوتے دل کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔ زورین اپنی چارمنگ پرسنیلٹی کے ساتھ پوری محفل پر چھایا ہوا تھا۔ بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس چہرے پر مسکراہٹ طاری کیے وہ تنویر صاحب کے پاس کھڑا تھا۔
دل اُسے یہاں دیکھ بہت خوش ہوئی تھی۔
زورین نے بھی باتوں کے دوران نظر اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔ شدید ناراضگی کے باوجود وہ کچھ پل کے لیے اُس کے قیامت خیز روپ سے نظریں نہیں ہٹا پایا تھا۔
مہرون اور گولڈن کنٹراسٹ کے شارٹ کامدار بھاری فراک کے نیچے کیپری پہنے بالوں کو جوڑے کی شکل میں باندھ کر اُسے خوبصورت بیٹس سے سجائے۔ بھاری بڑا سا دوپٹہ ایک طرف کندھے اور بازو پر گرائے وہ حُسن کا شاہکار معلوم ہورہی تھی۔ اُس کے ہونٹوں پر سجی ریڈ لپسٹک اور گالوں پر پھیلی لالی زورین کا ایمان خراب کرگئی تھی۔ سب سے بڑا ظلم اُس پر یہ تھا۔کہ وہ اپنی بیوی کو سراہ بھی نہیں سکتا تھا۔
دل اُس کے قریب آن کھڑی ہوئی تھی۔ مگر بولی کچھ نہیں تھی۔ اُس دن کے جھگڑے کے بعد آج وہ دونوں آمنے سامنے ہورہے تھے۔ زورین نے بھی اُسے مخاطب نہیں کیا تھا۔
دل کو سمجھ نہیں آرہا تھا۔ کہ وہ کیسے مخاطب کرے اُسے۔
”تایا ابو وہ ۔۔۔۔۔وہ سویرا اپنے روم میں نہیں ہے۔“
صوفیہ نے اُن کے قریب آکر سب کے سروں پر بم پھوڑا تھا۔
“کیا بکواس کررہی ہو۔ ایسا نہیں ہوسکتا سب جگہ چیک کرو تم۔ “
تنویر صاحب کے تو جیسے ہاتھ پھیر پھول گئے تھے۔
دل سمیت باقی سب کا بھی یہی حال تھا۔ سوائے زورین کے، جو اُن سب کی حالت سے محظوظ ہوتا چہرے پر مسکراہٹ لیے کھڑا تھا۔
اگلی کچھ دیر میں اُن سب نے مل کر گھر کا چپہ چپہ چھان مارا تھا۔ مگر سویرا اُس گھر میں موجود ہوتی تو ملتی نا۔
”بچارے، قسمت ایک بار پھر اِن کے ساتھ وہی دوہرا رہی ہے۔ جو بہت سالوں پہلے ہوا تھا۔“
زورین کے الفاظ جتنے افسوس بھرے تھے اُس کے لہجے اور چہرے پر اُس سے دوہری خوشی موجود تھی۔ دل ٹھٹھک کر اُس کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔
”آپ جانتے ہیں سویرا کہاں ہے۔“
دل نے کسی خیال کے تحت اُس کی جانب مُڑتے پوچھا تھا۔
”سویٹ ہارٹ تم اِس معاملے سے دور رہوں۔ اور خاموشی سے کھڑے ہوکر اُن لوگوں کا تماشا دیکھو۔ جنہوں نے اب تک ہمارے پیرنٹس کی زندگیوں کے ساتھ کھیلا ہے۔“
زورین نرمی سے اُس کا گال تھپتھپاتا باقی سب کی جانب بڑھ گیا تھا۔
”ہیلو لیڈیز اینڈ جینٹل مین۔ ایک امپورٹنٹ اناؤنسمنٹ کرنی تھی۔ انفارچونیلٹی اب یہ شادی تو نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ دلہن تو بھاگ گئی ہے۔ کیوں ٹھیک کہا نا میں نے تنویر صاحب۔“
زورین اُونچی آواز میں بولتا وہاں موجود لوگوں میں کھلبلی سی مچا گیا تھا۔ دل سمیت باقی سب گھر والے شاک کی کیفیت میں زورین کو دیکھ رہے تھے۔
”زورین بیٹا یہ کیا کررہے ہیں آپ۔ پلیز ہمارا تماشہ مت بنوائیں۔“
رقیہ بیگم جلدی سے زورین کے قریب آتے ہاتھ جوڑتے منت بھرے لہجے میں بولی تھیں۔
”کیوں آپ کو صرف دوسروں کا تماشا بنانے میں ہی مزا آتا ہے کیا۔ زرا آج خود بھی تماشا بننے کا مزا چکھیں نا۔
اور تنویر صاحب کیا آپ اپنی بیٹی کے اتنے بڑے جرم پر اُس کا بھی وہی حال کریں گے جو اپنی بہن کا کیا تھا۔ یا بیٹی کو تھوڑی سے رعایت مل جائے گی۔ اوہ سوری اِس بارے میں تو بعد میں بات کرتے ہیں۔ پہلے آپ اِن انکل جی کو اُن کے پیسے تو واپس کردیں جو آپ نے اپنی معصوم بیٹی کی شادی اِس چار بیویوں والے شرابی سے کرنے کے لیے لیے ہیں۔“
زورین کے الفاظ نے وہاں موجود تمام افراد پر سکتہ طاری کردیا تھا۔
کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک باپ پیسے کی خاطر اِس حد تک گر سکتا ہے۔
“یہ جھوٹ ہے الزام لگایا جارہا ہے مجھ پر۔ میں نے صرف ایک امیر آدمی سے اپنی بیٹی کی شادی کروا کر اُسکا مستقل محفوظ کرنا چاہا تھا۔ میں نے کسی سے کوئی پیسے نہیں لیے۔“
تنویر صاحب سب کی نظریں خود پر محسوس کرتے اپنی صفائی میں چلائے تھے۔
“اچھا تو نے بے وقوف سمجھ رکھا ہے مجھے۔ پچاس لاکھ روپیہ اپنی بیٹی سے نکاح کروانے کے عوض ہی بٹورا تھا نا تونے۔ نکال میرے پیسے ورنہ ابھی کہ ابھی پولیس کے حوالے کردوں گا۔ میری پہنچ سے اچھی طرح واقف ہے توں۔“
دولہے کی شیروانی پہنے کھڑا وہ تنویر صاحب سے چند سال چھوٹا شخص اُن کے ایک دم پیسوں سے مکر جانے پر غصے سے قریب آتے بولا تھا۔ اور ساتھ ہی پولیس کو کال ملا دی تھی۔
“زورین بیٹا پلیز مدد کرو میری۔ میں تمہیں بعد میں سب کچھ بتاؤں گا۔ پلیز اِس وقت میری مدد کرو۔“
تنویر صاحب ہاتھ جوڑ کر گڑگڑاتے زورین کے سامنے آئے تھے۔
دل اذیت کے زیرِ اثر یہ سب دیکھ رہی تھی۔
”اوکے اوکے تنویر صاحب میں آپ کی مدد کرنے کو تیار ہوں۔ پچاس لاکھ کیا میں بلینک چیک کاٹ کر دینے کو تیار ہوں۔ مگر میری ایک شرط ہے، آپ کو پہلے میرے پیرنٹس مجھے واپس لاکر دینے ہونگے جنہیں کار ایکسیڈنٹ میں بے دردی سے مروا دیا تھا تم نے اور تمہاری اِس بہن نے۔“
زورین بات کے اختتام پر اِس قدر زور سے دھاڑا تھا۔ کہ وہاں موجود ہر شخص اُس کی جنونی کیفیت دیکھ سہم گیا تھا۔
”کیا ہوا بھول گئے۔ میں یاد دلا دیتا ہوں۔ سکندر شاہ کا بیٹا اور ہمایوں شاہ کا بھتیجا ہوں۔ جن کی ایک چھوٹی سی غلطی پر تم نے اُن سے جینے کا حق چھین لیا۔ اُن کی اولاد اُن کا سب کچھ چھین لیا۔ اُن کی زندگیاں برباد کرکے رکھ دیں۔ تمہیں کیا لگتا ہے۔ تمہیں تمہارے کرموں کی سزا کبھی نہیں ملے گی۔ ایسے ہی بچ جاؤ گے تم۔ اور معاشرے کے سامنے ایک معزز شخصیت بن کر رہو گے۔ مگر تمہاری اوقات تو دیکھ لی ہوگی نا آج سب نے۔ تمہاری اپنی اولاد تمہاری عزت دو کوڑی کی کرکے چلی گئی۔ اب اُس کو مارنے بھی اُس کے پیچھے جاؤ گے۔ اُس کے ساتھ بھی وہی سلوک کرو گے جو اپنی معصوم بہن کے ساتھ کیا تھا۔“
زورین کا بس نہیں چل رہا تھا۔ ابھی کھڑے کھڑے اِس شخص کے ٹکڑے کردے جس نے اُس کے خاندان کو برباد کرکے رکھ دیا تھا۔
“زورین بیٹا آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ ایسا کچھ۔۔۔۔۔”
رقیہ بیگم نے معاملے کو سنبھالنے کی ایک آخری کوشش کی تھی۔ مگر زورین کی دھاڑ اُن کی بھی بولتی بند کرگئی تھی۔
“آپ جیسی بہن سے تو ڈائن ہزار گنا بہتر ہے۔ کوئی اتنا سفاک اور خود غرض کیسے ہوسکتا ہے۔ اپنے مفاد کی خاطر اپنی سگی بہن کو اُس اندھے کنویں میں دھکیلنا چاہا۔ جہاں آپ خود کھل کر سانس نہیں لے پارہی تھیں۔ جب اُس نے انکار کیا اور اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کی خاطر بغاوت کی تو اُس کو دوہرے عذاب میں مبتلا کردیا آپ نے۔“
زورین کے منہ سے ساری حقیقت سنتے دل سے اپنے قدموں پر کھڑا رہنا مشکل ہوگیا تھا۔ وہ چکراتے سر کے ساتھ لڑکھڑائی تھی۔ جب زورین نے جلدی سے اُس کی جانب بڑھتے اُسے تھام لیا تھا۔
“دل کے ساتھ آج تک آپ نے جو سلوک کیا ہے۔ اُس سب کا حساب دینے کا وقت آگیا ہے آپ لوگوں کا۔ اب میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔“
دل کو اپنے مضبوط حصار میں مقید کرتے وہ شعلہ لپکتی نظروں سے اُن سب کو گھورتے بولا تھا۔
اُسی لمحے پولیس اندر داخل ہوئی تھی۔ جنہیں زورین پہلے ہی سب کچھ سمجھا چکی تھی۔ اور اتنے دنوں کی کوششوں کے بعد جو ٹھوس ثبوت اُس کے ہاتھ لگے تھے۔ اُن کی بنا پر تنویر صاحب اور رقیہ بیگم کو بہت لمبی سزا ملنی تھی۔
“زورین بیٹا پلیز ایک بار ہماری بات تو سنو۔ ہمیں ایک بار صفائی دینے کا موقع دے دو۔ ہم بے قصور ہیں۔ دل میری بچی تم تو جانتی ہو نا میں اُوپر سے غصہ کرتی تھی تجھ پر۔ مگر میں دل کی بُری نہیں ہوں۔ ورنہ زورین جیسا جیون ساتھی کیوں چنتی تمہارے لیے۔“
رقیہ بیگم نے دل کے آگے فریاد کی تھی۔ مگر اُن کی اصلیت جاننے کے بعد دل کو اُن کی صورت سے بھی نفرت ہوچکی تھی۔ زورین کے سینے پر سر ٹکاتے اُس نے اُن کی جانب سے رُخ موڑ لیا تھا۔
اُن کی آہو بکا کسی کام نہیں آئی تھی۔ پولیس اُن دونوں کو وہاں سے کے جاچکی تھی۔ جس گھر میں کچھ دیر پہلے خوشیوں کی شہنائی بج رہی تھی۔ وہاں اِس وقت ماتم چھا چکا تھا۔
لوگ اُن پر تھو تھو کر ریے تھے۔ کچھ جاچکے تھے اور کچھ ابھی مزید تماشہ دیکھنے کے خواہاں وہاں کھڑے ہوئے تھے۔
”دو دن ہیں تم لوگوں کے پاس۔ یہ گھر خالی کردو۔ ورنہ میں خود اُٹھوا کر باہر پھینکوا دوں گا تم لوگوں کو۔“
زورین اُن سب پر قہر برساتی نظر ڈالتا دل کو لیے وہاں سے نکل گیا تھا۔
★★★★★★★★
”میں نےسارا ڈیٹا آپ کو میل کردیا ہے۔ آپ پلیز جلدی کوئی حل نکالیں میں اب مزید اِس شخص کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔“
سُلین ابتہاج کی فرمائش پر سجی سنوری اب چوڑیاں پہن رہی تھی۔ اُس نے آج زندگی میں پہلی بار چوڑیاں پہننی تھیں۔ اُسے چوڑیاں بالکل بھی پسند نہیں تھیں۔ مگر ابتہاج لغاری نے اب تک کہاں اُس کی چلنے دی تھی جو اب چلنے دیتا۔
“ویلڈن۔ مجھے آپ سے یہی اُمید تھی۔ آپ فکر مت کریں میں بہت جلد آپ کو وہاں سے نکال لوں گا۔“
قاسم جلدی سے بات ختم کرتا گلشن آرا کے اشارے پر لیپ ٹاپ کی جانب بڑھا تھا۔
”اُف کیا مصیبت ہے۔ اچھا بھلا ریسٹورنٹ چلا رہی تھی۔ سادہ سی لائف تھی میری۔ یہ کہاں پھنس گئی میں۔“
سلین ساری چوڑیوں سے بھری کلائیاں دیکھ چڑھ کر بولی تھی۔
ابتہاج نے اُسے آج کہیں لے کر جانا تھا۔ جس کی وجہ سے خاص طور پر اُس کی خواہش پر سُلین نے گرے کلر کا نفیس سے کام سے سجا گرے فراک پہنا تھا۔ بالوں کو آگے سے پن اپ کرکے کمر پر آزاد چھوڑے وہ حُسن کا مجسمہ معلوم ہورہی تھی۔ اُس کی سادگی پر فدا ہو اُٹھنے والے ابتہاج لغاری کی خیر نہیں تھی۔
سُلین نیٹ کے گرے ایمبرائڈری سے مزین دوپٹہ کو اچھے سے سر پر سیٹ کرتی باہر کی جانب بڑھی تھی۔ اُس نے نیچے آتے ابھی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا ہے تھا۔ جب ڈرائنگ سے آتی ابتہاج کی چنگارتی آواز پر اُس کا دل دہل گیا تھا۔
“اُف الله جی یہ شخص پھر کس پر برس رہا ہے۔ دوسروں پر چلانے اور سزا دینے کے علاوہ اِسے کچھ آتا ہے کیا۔“
سُلین تپ کر سوچتی اُسی جانب بڑھی تھی۔ مگر سامنے کا منظر دیکھ ایک پل کے لیے اُس کے قدم زمین میں جکڑ چکے تھے۔ سامنے کھڑی لڑکی زارو قطار روتی ابتہاج کے پیروں پر جھکی اُس سے معافی مانگ رہی تھی۔ جبکہ ابتہاج اُسے دور جھٹکتا وہاں کھڑے گارڈز کو اُسے اُٹھا کر باہر پھینکنے کا حکم دینے لگا تھا۔ سُلین کو یاد آیا تھا۔ اِس لڑکی کو وہ پہلے بھی یہاں دیکھ چکی تھی۔
سُلین کو ابتہاج کی اِس بے رحمی پر شدید غصہ آیا تھا۔ جس پر قابو نہ رکھ پاتے وہ آگے بڑھی تھی۔
” ایک منٹ۔۔۔۔۔کیا ہورہا ہے یہ سب۔ آپ کے لڑکی کے ساتھ ایسا بی ہیویر کیسے رکھ سکتے ہیں۔ خبردار جو آپ لوگوں میں سے کسی نے اِنہیں ہاتھ بھی لگایا تو۔“
سُلین اُس لڑکی کی ڈھال بنتی اُس کے آگے جا کر کھڑے ہوتے ابتہاج کے گارڈز کو اُنگلی اُٹھا کر وارن کرتے بولی تھی۔
“سلین بہتر ہوگا تم اِس معاملے سے دور رہو۔ تم جاؤ اپنے روم میں۔“
ابتہاج لب بھینچتے بہت مشکل سے اپنے غصے پر قابو پاتا سُلین سے مخاطب ہوا تھا۔
”نہیں جاؤں گی۔ اور آپ یہ غصہ کرکے باقی سب کو تو خوفزدہ کرسکتے ہیں۔ پر مجھے نہیں۔ میں بھی مسز ابتہاج لغاری ہوں نہیں ڈرتی آپ سے۔“
سُلین ابتہاج کے مقابل آتی اُسے اپنی پاور سے آگاہ کرتے بولی تھی۔ اُس کے اِس کے جملے نے ابتہاج کی بولتی بند کردی تھی۔ وہ اِس چھٹانک بھر کی لڑکی کی ہمت اور زہانت کو داد دیئے بنا نہیں رہ پایا تھا۔ عین وقت پر کیا بول کر اُسے کنٹرول کرنا ہے وہ اچھی طرح جان گئی تھی۔
”بھابھی آپ پلیز میری وجہ سے بھائی سے مت لڑیں۔ میں تو صرف یہاں اُن سے معافی مانگنے آئی تھی۔ مگر وہ تو میری شکل دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے۔“
نیہا اپنی وجہ سے اُن دونوں کو آمنے سامنے آتا دیکھ جلدی سے بول پڑی تھی۔ وہ سُلین کے بارے میں سب کچھ جانتی تھی۔ اور ابتہاج کے نزدیک اُس کی اہمیت سے بھی آگاہ تھی۔
اُس لڑکی کے بھابھی کہنے پر سُلین حیران ہوئی تھی۔ آصف نے بار بار اُسے بھابھی کہہ کہہ کر اُس کے کان پکا دیئے تھے۔ یا واقعی اِس لڑکی نے بھی اُسے بھابھی ہی بولا تھا۔
”آپ کون ہیں۔ “
سُلین ابتہاج کی سُرخ پڑتی آنکھوں کی پرواہ کیے بغیر نیہا کے قریب آتی نرمی سے بولی تھی۔
”میری سوتیلی بہن ہے یہ۔ جس سے میں بے پناہ نفرت کرتا ہوں۔ اِس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔ دھوکے باز ہے یہ۔ میری لائف میں دھوکے بازوں کی کوئی جگہ نہیں۔ میں لائف میں ہر انسان پر صرف ایک بار ہی ٹرسٹ کرتا ہوں۔ ایسے لوگوں کو بار بار موقع دینا پسند نہیں مجھے۔“
نیہا کے بولنے سے پہلے ہی ابتہاج کا نفرت میں ڈوبا لہجہ سُلین کی سماعتوں سے ٹکراتا اُسے ساکت کر گیا تھا۔ اُس کا دل انجانے خوف سے زور سے دھڑکا تھا۔
نیہا نے دکھ بھری نظروں سے سامنے کھڑے اپنے جان سے عزیز بھائی کو دیکھا تھا۔ آج زندگی میں پہلی بار ابتہاج نے اُسے اپنی سوتیلی بہن کہا تھا۔ اُس نے اپنے ہاتھوں سے خود پر جان چھڑکنے والا بھائی کھو دیا تھا۔ اتنے سال گزر گئے تھے اُس واقع کو مگر اب تک ایک گھڑی کے لیے بھی اُس کا دل پرسکون نہیں ہوپایا تھا۔
”میں جانتا ہوں تمہیں یہاں تمہاری ماں نے پھر ایک نئی سازش سے بھیجا ہے۔ مگر اب کی بار تم لوگ مجھے ایموشنلی ویک سمجھنے کی غلطی کرکے خود کا ہی نقصان کرو گے۔“
ابتہاج سُلین کو ساتھ آنے کا اشارہ کرتا۔ اُس پر ایک قہر بھری نظر ڈالتا وہاں سے نکل گیا تھا۔
“میں نے ہمیشہ کے لیے اپنے بھائی کو کھو دیا۔ اُن کے پیار کا مان نہیں رکھ پائی میں۔“
نیہا کی قابلے رحم حالت دیکھ سُلین کو اُس پر بہت ترس آیا تھا۔ مگر وہ اُس کی فلحال کوئی مدد نہیں کرسکتی تھی.
” آپ پلیز روئیں مت۔ یہ شخص ہے یہ ایسا۔ اپنے علاوہ کسی کی فیلنگز نظر نہیں آتیں اِسے۔ یہ میرا کارڈ رکھ لیں۔ اور بعد میں مجھ سے کانٹیکٹ ضرور کیجیئے گا۔“
سُلین اُس کا ہاتھ تھام کر نرمی سے بولی تھی۔
”نہیں میرے بھیا بُرے نہیں ہیں۔ دنیا کے سب سے اچھے اور محبت کرنے والے انسان ہیں وہ۔ اُنہیں اگر ایسا پتھر ہم لوگوں نے بنایا ہے۔ اُن کے اپنے خونی رشتوں نے۔ ہم سب نے اُن کا اِس بُری طرح سے اعتبار توڑا ہے۔ اُنہیں اتنا ہرٹ کیا ہے کہ اب دنیا میں کسی پر بِھی بھروسہ کرنا بہت مشکل ہے اُن کے لیے۔
آپ بہت خوش نصیب ہیں کہ وہ آپ پر یقین کرتے ہیں۔ پورا بھروسہ ہے اُنہیں آپ پر۔ آپ کبھی اُن کا یقین مت توڑییے گا ورنہ اب کی بار اُن کا جڑ پانا ناممکن ہوجائے گا۔ آپ جن لوگوں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہیں۔ جن کو بہت اچھا سمجھ رہی ہیں. حقیقت میں وہ ایسے بالکل بھی نہیں ہیں۔ پلیز سوچ سمجھ کر عقلمندانہ فیصلہ کیجیے گا۔“
نیہا اُسے مخلصانہ مشورے سے نوازتی وہاں سے نکل گئی تھی۔
★★★★★★★★
”اِس بے موسمی برسات کی وجہ جان سکتا ہوں میں۔ اب اگر تم چپ نہ ہوئی تو میں تمہیں گاڑی سے اُتار دوں گا۔“
زورین دل سے سخت ناراض تھا۔ اور کوئی بات بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ مگر اُسے گاڑی میں بیٹھنے کے بعد مسلسل روتا دیکھ زورین کی ہمت جواب دے گئی تھی۔
”تو اُتار دیں انتظار کس بات کا کررہے ہیں۔ ویسے بھی میں جانتی ہوں میرا وجود صرف بوجھ ہے آپ پر۔“
دل اُس کی دھمکی پر چڑھ کر بولی تھی۔
”سویرا پتا نہیں کس کے ساتھ گئی ہے۔ نجانے کس حال میں ہوگی وہ۔“
دل ہولے سے بڑبڑائی تھی۔ مگر اُس کی آواز زورین کی سماعتوں تک باآسانی پہنچ گئی تھی۔
”بالکل ٹھیک ہے وہ۔ میں نے ہی ہیلپ کی ہے اُس کو بھگانے میں۔ ابھی تھوڑی دیر میں اُس کا نکاح ہے۔ وہیں جارہے ہیں ہم۔ لیکن اگر تم اِسی طرح آنسو بہاتی رہی تو میں گاڑی واپس موڑ لوں گا۔“
زورین کو دل کے آنسوؤں سے تکلیف ہورہی تھی۔ ساری زندگی بہت درد جھیلا تھا اُس نے۔ وہ اب مزید اُسے روتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اُس کا قریب آنا دل کو پسند نہیں تھا۔ اِس لیے وہ اب دور سے ہی اُسے دھمکی آمیز لہجے میں رونے سے باز رکھ رہا تھا۔
”آپ۔۔۔۔۔۔آپ نے مدد کی سویرا کی۔وہ بھی بھاگنے میں۔“
دل کو گہرا دم شاک لگا تھا۔
“آپ کے مطابق تو محبت دنیا کا سب سے جھوٹا جذبہ ہے۔ تو پھر یہ اچانک کیا ہوگیا۔ اوہ سچ میں تو بھول ہی گئی۔ آپ کو بھی تو نتاشا سے محبت ہے۔ اِسی لیے اب آپ محبت کا درد سمجھتے ہونگے۔“
دل پہلے خود ہی سوال کرکے پھر اُس کا جواب دیتی زورین کو بہت کیوٹ لگی تھی۔ وہ اِس وقت لگ بھی اتنی پیاری رہی تھی۔ کہ زورین کا دل ہی جانتا تھا۔ وہ کیسے خود پر ضبط کے پہرے جمائے بیٹھا ہے۔
“ہممہ سہی کہا تم نے۔ محبت کا بہت گہرا درد ملا یے مجھے۔ اُسی نے ہی تو مجھے باقی سب کی محبت سے روشناس کروایا ہے۔“
زورین کے اقرار کرنے پر دل کی آنکھوں میں ایک بار پھر نمی اُتر آئی تھی۔ وہ ابِھی بھی یہی سمجھ رہی تھی۔ کہ زورین نتاشا کی بات کررہا ہے۔
★★★★★★★★
جاری ہے ۔۔۔۔
