Teri Chah Mein By Farwa Khalid Readelle50119 Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
”دل بیٹا آپ بھی لو نا کچھ۔“
رقیہ بیگم چاشنی بھرے لہجے میں دل سے مخاطب ہوئی تھیں۔ جسے پہلے ہی زورین کی جانب سے شاک پر شاک مل رہا تھا۔ رقیہ بیگم کے لہجے نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی تھی۔
اُوپر کمرے میں سب کے سامنے زورین اُسے اتنی عزت سے لایا ہی تھا۔ مگر ڈائینگ ٹیبل پر آکر بھی زورین شاہ نے پہلے اُس کے لیے کرسی کھینچی تھی۔ پھر وہ خود بیٹھا تھا۔ دل کے لیے یہ عام بات بالکل نہیں تھی۔ وہیں باقی سب بھی اُس کی قسمت پر رشک کیے بنا نہیں رہ سکی تھیں۔ اُس کی ساری کزنز زورین کے اُس کے ساتھ رویے پر بہت خوش تھیں۔ دل نے بھی اُن کی غلط فہمی دور نہیں کی تھی۔ وہ اپنے دکھ ہمیشہ اپنے اندر ہی رکھنے کی عادی تھی۔ کسی کو اِن میں شریک کرکے ہمدردی بٹورنا اُسے پسند نہیں تھا۔
رقیہ بیگم کی بات پر دل نے مسکرا کر پلیٹ میں تھوڑا سا کھانا ڈال لیا تھا۔ اُسے تو خود پر ہی ہنسی آرہی تھی۔ جس کا قسمت نے مذاق بنا کر رکھ دیا تھا۔ اُس کے گھر والے اُس سے پیار کا ناٹک کررہے تھے زورین کو دیکھانے کے لیے۔ اور زورین ناٹک کررہا تھا اُس کے گھر والوں کو دیکھانے کے لیے۔ جبکہ حقیقت میں دونوں کے لیے ہی وہ زرا برابر بھی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ اُس کے ہونے نہ ہونے سے دونوں کو رتی برابر فرق نہیں پڑنا تھا۔
اپنی بے وقعتی کے خیال سے دل کی آنکھوں میں آنسو اُتر آئے تھے۔ اُس نے ہمیشہ یہی دعا کی تھی۔ اُس جیسی قسمت خدا دشمنوں کو بھی نہ دے۔
دل نے اپنی لامحدود سوچوں سے نکلتے اُس کی نظر اپنے موبائل کی سکرین پر پڑی تھی ۔
تقی صبح سے اُسے عجیب و غریب میسجز کررہا تھا۔ دھمکی آمیز، اُس کی سچائی زورین کے سامنے کھول دینے کی دھمکی۔
اِس وقت تقی کے یہاں آجانے کا سوچ دل کی حالت غیر ہوئی تھی۔ تقی جیسے گھٹیا شخص سے وہ کسی بھی بات کی توقع کرسکتی تھی۔ زورین شاہ کے اتنے بُرے رویے کے باوجود بھی اب اُس کا دل زورین سے رشتہ ختم ہوجانے کا سن کر عجیب بے چین سا ہوجاتا تھا۔ وہ اُسی کے ساتھ رہنے کا تمنائی بن چکا تھا۔ چاہے زورین شاہ کے آگے اُس کی اہمیت صفر ہی کیوں نہ ہوتی۔
“دل تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔“
زورین دل کا زرد پڑتا چہرا دیکھ حقیقت میں پریشان ہوا تھا۔ باقی سب نے بھی دل کی جانب دیکھا تھا۔
”نہیں میں بالکل ٹھیک ہوں۔“
دل نے سب کو یوں اپنی جانب متوجہ ہوتا دیکھ فوراً چہرے پر مسکراہٹ سجاتے تاثرات نارمل کیے تھے۔
دل کچھ دیر بعد گھٹن کے احساس سے نامحسوس طریقے سے وہاں سے ہٹ گئی تھی۔ باہر لان میں کھلی فزا میں آتے اُس نے اپنی بوجھل ہوتی سانسیں بحال کرنی چاہی تھیں۔ مگر گیٹ سے انٹر ہوتے تقی کو دیکھ اُس کی سانسیں رُک گئی تھیں۔ تقی کی نظر بھی اُس پر پڑ چکی تھی۔ وہ آنکھوں میں کمینگی بھری مسکراہٹ بھرے اُس کی طرف قدم بڑھا گیا تھا۔
” ارے میری پیاری کزن گھر آئی ہوئی ہے اور مجھے کسی نے بتایا ہی نہیں۔ لگتا ہے ایک دن بھی میرے بغیر نہیں رہ سکی تم۔“
تقی اُس کو سر سے لے کر پیر تک دیکھتا طنزیا لہجے میں بولا تھا۔
” تمہیں تکلیف کیا ہے۔ شادی شدہ ہوں میں اب۔ اب تو میری جان چھوڑ دو۔ تم تو پہلے ہی بے غیرت تھے۔ مگر اب تو لگتا ہے رہی سہی بھی ختم ہوچکی ہے تم میں۔“
دل نے اپنا لہجہ کمزور نہیں پڑنے دیا تھا اُس کے سامنے۔ اگر تقی کو محسوس ہوجاتا کہ وہ خوفزدہ ہے تو تقی نے اُسے مزید بلیک میل کرنا تھا۔
” پہلے سے کہیں زیادہ ہمت آگئی ہے تم میں۔ زورین شاہ سے شادی کرکے۔ مگر ایسے رئیسوں کے بل بوتے پر اتنا نہیں اُچھلنا چاہیے۔ یہ کچھ دن دل بہلا کر واپس اصلی اوقات تک پہنچا دیتے ہیں۔“
تقی کو اُس کا لہجہ سخت ناگوار گزرا تھا۔
” تم چاہتے کیا ہو۔ “
دل سمجھ گئی تھی۔ اُس کے دماغ میں کچھ تو چل رہا ہے۔
” پانچ لاکھ۔۔۔۔ برا پیسہ ہے نا تمہارے شوہر کے پاس۔ اپنے کزن کی اتنی مدد تو کر ہی سکتی ہو۔ اُس کی دولت کے خزانوں میں زرا فرق نہیں پڑے گا۔ اتنی چھوٹی رقم نکلنے سے۔“
تقی کے لالچی انداز پر اُس کا دل چاہا تھا۔ اِس نیچ کا منہ توڑ دے۔
” میں ایسا کچھ نہیں کروں گی۔“
دل نے صاف انکار کردیا تھا۔
” تمہیں ایسا کرنا پڑے گا۔ ورنہ میں تمہارے شوہر کو تمہاری ساری سچائی بتا دوں گا۔“
تقی اُس کے صاف انکار پر غصے میں آتا اُس کی جانب بڑھا تھا۔
”کیسی سچائی۔۔۔۔۔“
اپنے پیچھے سے آتی آواز اور تقی کے جامد ہوتے قدم دیکھ دل نے زور سے آنکھیں میچ لی تھیں۔
” نہیں وہ ایسی کوئی بات نہیں۔ ہم تو ویسے ہی۔۔۔۔“
تقی کو بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔ کہ زورین بھی یہاں آیا ہوا ہے۔ زورین کے خطرناک تیور اُسے اچھا خاصہ خوفزدہ کر گئے تھے۔ جیسا کچھ دیر پہلے وہ دل کے ساتھ کررہا تھا۔
” دل گاڑی میں جاکر بیٹھو۔“
زورین کے سرد لہجے پر دل کا خون خشک ہوا تھا۔ وہ اندازہ نہیں لگا پارہی تھی۔ کہ زورین نے پوری بات سنی تھی۔ یا یہ شدید ری ایکشن صرف آخری بات پر تھا۔
” زورین میری بات۔۔۔۔۔“
دل ہولے سے منمنائی تھی۔ اُسے ڈر تھا کہیں پیچھے سے تقی اُسے ساری حقیقت نہ بتا دے۔
” میں نے کہا تم گاڑی میں جاکر بیٹھو۔“
زورین اُس کی بات کاٹتا سخت لہجے میں مخاطب ہوا تھا۔ دل خاموشی سے وہاں سے ہٹ گئی تھی۔
گاڑی کا رخ دوسری جانب تھا۔ اِس لیے وہ چاہ کر بھی نہیں دیکھ پائی تھی۔ کہ زورین نے تقی کے ساتھ کیا کیا تھا۔
دس منٹ بعد زورین اُس کے برابر ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھتا گاڑی فل سپیڈ میں گیٹ سے باہر نکال لایا تھا۔ زورین کے خطرناک تیور دیکھ دل میں کچھ پوچھنے کی ہمت ہی نہیں رہی تھی۔
وہ کھڑکی کے ساتھ چپک کر بیٹھتی باہر اندھیرے میں نظریں گاڑھ گئی تھی۔ اُسے محسوس ہورہا تھا۔ اب اُس کی زندگی پہلے سے بھی ٹف ہونے والی تھیم کیونکہ زورین نے خود اُسے بتایا تھا۔ وہ ایسی باتوں پر کبھی نہیں بخشتا تھا۔
★★★★★★★★
“پپ پلیز۔۔۔م مجھے۔۔۔۔ مجھے کچھ وقت چاہئے میں ابھی مینٹلی طور پر اِس رشتے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ یہ ۔۔۔۔۔سب بہت جلد بازی میں۔ ایکسیپٹ نہیں کر پارہی اِسے۔“
سُلین کو اِس وقت نجات کے لیے اِس بات کے علاوہ اور کوئی ریزن دماغ میں نہیں آیا تھا۔ وہ بس فل وقت ابتہاج کو کوئی بھی پیشِ قدمی کرنے سے روکنا چاہتی تھی۔ ابھی کچھ دیر پہلے اُس نے ابتہاج کا جو رُوپ دیکھا اُس کی بعد تو دل میں اِس انسان کے لیے تھوڑی بہت فیلنگز ہونے کے باوجود وہ اُس سے کوئی بھی تعلق استوار نہیں کرنا چاہتی تھی۔
” اوکے۔ جتنا وقت چاہتی ہیں آپ لے سکتی ہیں۔ مگر اُس کے بعد اِن آنکھوں میں میرے لیے اِس خوف کی جگہ محبت بھرے جذبات ہونے چاہئے۔“
ابتہاج نے سُلین کی دونوں حیرانی بھری آنکھوں پر باری باری لب رکھتے محبت پاش لہجے میں کہا تھا۔ جس انسان کا ہمیشہ اُس نے سرد اور بے حسی بھرا انداز دیکھا تھا۔ آج اُس کا یہ محبت سے لبریز رُوپ سُلین کے لیے حیران کن تھا۔
اُس کی شدت بھرے لمس پر سُلین کی جان ہوا ہوچکی تھی۔ اُس کا ابتہاج کی گرفت میں لرزتا وجود اب پوری طرح اُسی کے سہارے پر تھا۔ اگر ابتہاج اپنا حصار ہٹا لیتا تو اُس نے فوراً گر جانا تھا۔
”نکاح کے فوراً بعد سٹامپ پیپر سائن کرنے کی شرط تھی۔ اور یہ بھی کہ وہ پیپرز میرے حوالے کیے جائیں گے۔“
سُلین نے اُس کی پُرتپیش نظروں سے گھبرا کر جلدی سے اپنی بات بدل دی تھی۔
”میں آپ کے سامنے سائن کرنا چاہتا ہوں۔“
ابتہاج اپنی پاکٹ سے وہ پہ یپپر نکالتا ٹیبل کی جانب بڑھا تھا۔ سُلین کی آنکھوں کے سامنے سگنیچر کرکے ابتہاج نے پیپرز اُس کی جانب بڑھا دیئے تھے۔
سُلین نے بہت غور سے پیپر پڑھا تھا کیونکہ اُسے ابتہاج کا اتنی تابیداری سے سائن کرنا تھوڑا مشکوک لگا تھا۔
”آپ کو کچھ دینا ہے میں نے۔“
ابتہاج جھک کر دراز سے کچھ نکالتا وہاں سے جاتی سُلین کی کلائی ایک بار پھر گرفت میں لیتے اُسے روک گیا تھا۔
”یہ کیا ہے۔“
لمبائی میں بنی مخملی ڈبیا اُس کے ہاتھ میں دیکھ سُلین نے سوالیہ نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔
“آپ کی منہ دیکھائی۔“
ابتہاج اُس میں سے ایک نازک سی بیش قیمت پائل نکالتے بولا تھا۔ جبکہ سُلین کی آنکھیں حیرت سے کھل گئی تھیں۔ وہ خود سمجھ نہیں پارہی تھی یہ انسان بھلا اُس کے بارے میں اتنا کیسے جانتا تھا کہ سُلین کو جیولری میں صرف پائل ہی پہنتی تھی۔ یہ اُسے بہت پسند تھی۔
”میں خود پہن لوں گی۔“
ابتہاج کو اپنے پیروں کی جانب جھکتا دیکھ سُلین فوراً پیچھے ہٹ گئی تھی۔
ابتہاج کو اُس کی یہ حرکت بالکل بھی اچھی نہیں لگی تھی۔
اگلے ہی لمحے اُس کا ہاتھ تھام کر اُسے بیڈ پر بیٹھاتے ابتہاج پنجوں کے بل اُس کے سامنے بیٹھتے سُلین کا پیر تھام کر اپنے گھٹنے پر رکھا تھا۔
سُلین دم سادھے خاموشی سے اُس کا یہ عمل دیکھ رہی تھی. ابتہاج نے پائل اُس کے پیر میں پہناتے گہری نظروں سے سُلین کا گلابی پڑتا چہرا دیکھا تھا۔ وہ جتنا بھی چھپانے کی کوشش کرتی مگر ابتہاج جان گیا تھا۔ کہ اُس کی موجودگی سُلین کو بہت افیکٹ کرتی تھی. اُس کے زرا سا قریب آنے پر سُلین کی لرزتی پلکیں اور گالوں کی سُرخی ابتہاج لغاری کو بہت کچھ باور کروا جاتی تھی۔
جو اُس کی وحشت زدہ ویران آنکھوں میں زندگی کا احساس جگانے کے لیے کافی تھا۔
” آج کا دن میری لائف کا حسین ترین دن ہے۔ کیونکہ آج میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی اِس میں شامل ہوچکی ہے۔ جب تک ہم ساتھ ہیں میں آپ کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا چاہتا ہوں۔ آئی ریلی لو یو۔“
سُلین کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگاتا وہ اُس کے گرد اپنے لفظوں کا جال بنتا، اُس جذبات سے گندھی نازک لڑکی کو اپنے ساتھ باندھ رہا تھا۔
ابتہاج اُس پر اپنا سحر پھونکتا وہاں سے جاچکا تھا۔
مگر سُلین کا دماغ مزید اُلجھ گیا تھا۔ ابتہاج کی آنکھوں میں موجود اپنے لیے محبت کو کوشش کے باوجود وہ جھٹلا نہیں پارہی تھی۔ اُن میں اُسے سچائی صاف نظر آرہی تھی۔ اُس کے ہر مشکل وقت میں یہی انسان اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اُس کے لیے لڑنے آیا تھا۔ تو پھر وہ بنا ثبوت کہ ہر بات کا قصوروار اُسے کیسے ٹھہرا رہی تھی۔ سُلین کا دماغ جلدی سے چلنے لگا تھا۔ وہ جاننا چاہتی تھی۔ اگر واقعی اُس کا دشمن ابتہاج لغاری نہیں تھا تو پھر کون ایسا تھا۔ جو اُسے اور اُس کے بابا کو مارنا چاہتا تھا۔
★★★★★★★★
” کون ہو تم لوگ۔ چھوڑ دو مجھے۔ میں نے بھلا کیا بگاڑا ہے تمہارا۔“
اندھیرے کمرے میں اُس شخص کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ مگر کوئی سننے والا نہیں تھا۔ اُسے پیچھلے پانچ گھنٹوں سے بھوکا پیاسا یہاں پر باندھا گیا تھا۔
اب تو چلا چلا کر اُس کا گلا بھی رندھ چکا تھا۔
کافی دیر بعد دروازے پر ہوتی آہٹ پر اُس کے خوف میں مزید اضافہ ہوا تھا. پتا نہیں آنے والے لوگ اُس کے ساتھ کیا سلوک کرنے والے تھے۔
کمرے میں ہر طرف اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ صرف اُس کے سر کے اُوپر ایک پیلا بلب لٹک رہا تھا۔ اِسی لیے وہ آنے والے کو دیکھ نہیں پایا تھا۔ مگر بھاری قدموں کی چاپ اُسے مزید سہما گئی تھی۔
” کون ہو تم۔ کیوں لائے ہو مجھے یہاں۔“
وہ آدمی آنکھیں پھاڑ کر گھپ اندھیرے میں کھڑے شخص سے مخاطب ہوا تھا۔ قدموں کی چاپ سے وہ اتنا ہی اندازہ لگا پایا تھا۔ کہ وہ شخص اُس کے قریب آن کھڑا ہوا ہے۔
” اگر اپنی اور اپنے خاندان والوں کی سلامتی چاہتے ہو تو میری بات کا سچ اور سیدھا جواب دینا۔ ورنہ نتائج کے زمہ دار تم خود ہوگے۔“
اپنی گردن پر اُس شخص کی اُنگلیوں کا دباؤ محسوس کرتے اور منجمند کردینے والے اِس سرسراتے لہجے پر اُسے اپنی سانسیں اٹکلتی محسوس ہوئی تھیں۔
اُس کی آواز ہی نہیں نکل پارہی تھی۔ جب اگلے سوال پر اُسے لگا تھا۔ پوری دنیا اُس کی نظروں میں گھوم گئی ہو۔
”ہمایوں اور اُس کی بیوی کے ساتھ کیا کیا تھا تم نے۔ کہاں ہیں وہ لوگ۔“
اُس کا دماغ اِن الفاظ پر بالکل چکرا گیا تھا۔
” میں کچھ نہیں جانتا۔ میں قسم اُٹھانے کو تیار ہوں۔ میں اُن لوگوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا۔“
اُس نے گڑگڑاتے نفی میں سر ہلاتے انکار کیا تھا۔ گردن پر بڑھتا اُس شخص کے ہاتھ کے دباؤ پر اب اُس کا دم گھٹنے لگا تھا۔
“میں نے کہا تھا جھوٹ مت بولنا مجھ سے تم ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔“
اُس شخص نے گردن بالکل دبا دی تھی۔ جب وہ تڑپتا ہاتھ پاؤں مارتا اُسے اب بتانے کو تیار ہوگیا تھا۔ وہ پھولی سانسوں کے ساتھ اُس کے ہر سوال کا جواب دینے لگا تھا۔
★★★★★★★★
سُلین کو ملازمہ سے ہی پتا چلا تھا۔ کہ ابتہاج اِس وقت جم میں ہے۔ اِس لیے وہ اُس سے سامنا کیے بغیر جلدی سے ریسٹورنٹ کے لیے نکل جانا چاہتی تھی۔ کہ کہیں وہ پھر نہ ہوئی رول لاگو کر دے۔
رات اُس کے روم سے جانے کے بعد سے اُن دونوں کا سامنا نہیں ہوا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی ابتہاج گھر میں موجود ہی نہیں تھا۔ یا ویسے ہی اُس کے روم میں نہیں آیا تھا۔
لیکن کل والی لڑکی کے بارے میں جاننے کا تجسس ابھی بھی سُلین کے اندر موجود تھا۔اور کہیں نہ کہیں تھوڑی بہت جلن بھی۔ وہ ابتہاج سے خوفزدہ ہونے کے باعث وہ پوچھ نہیں پائی تھی۔
باہر کی جانب قدم بڑھاتے کچھ سوچ کر وہ واپس پلٹی تھی۔ کچن کی جانب جاتی رضیہ اُس کے پکارنے پر جلدی سے اُس کے قریب آئی تھی۔
” وہ لڑکی کون ہے جو کل یہاں آئی تھی۔ جس کے بعد سے تمہارے صاحب بہت سخت غصے میں آگئے تھے۔“
سُلین کچھ دیر نرمی سے اُس سے گفتگو کرنے کے بعد اصل بات کی جانب آئی تھی۔ جسے سنتے رضیہ کی رنگت بدلی تھی۔ اُس نے چونک کر سُلین کی جانب دیکھا تھا۔ سُلین جو بہت غور سے اُس کے چہرے کا جائزہ لے رہی تھی۔ اُس کے اِس طرح بوکھلانے پر سُلین سمجھ گئی تو کہ وہ اُس لڑکی کے بارے میں سب جانتی ہے۔
” بیگم صاحبہ ہم تو ملازم ہیں ہمیں نہیں معلوم یہاں کون لوگ آتے جاتے ہیں۔ “
رضیہ نے سنبھلتے جواب دیا تھا۔
“آپ مجھ پر ٹرسٹ کرکے بتا سکتی ہیں۔ میں پرامس کرتی ہوں ابتہاج کو کچھ پتا نہیں چلے گا۔ مگر میں اُن کی لائف کے بارے ميں سب جاننا چاہتی ہوں۔ بہت محبت کرتی ہوں اُن سے۔ اُنہیں پریشان نہیں دیکھ سکتی۔ مجھے آپ کی ہیلپ کی ضرورت ہے۔“
سُلین تو اب اُس سے پوچھنے کا ارادہ کر چکی تھی۔ اِس لیے چہرے پر ابتہاج کے لیے فکر ظاہر کرتے اُس نے ملازمہ کو نرم کرکے بات نکلوانی چاہی تھی۔
ملازمہ کشمکش کا شکار ہوئی اُسے دیکھے گئی تھی۔
” تم اچھے سے سوچ لو۔ اِس میں تمہارے صاحب کی ہی بھلائی ہے۔“
سُلین اُس کے ہاتھ میں کچھ پیسے تھماتی اُس سے بات اُگلوانے کا ہر حربہ آزماتی وہاں سے نکل آئی تھی۔ اُس کے لیے ابتہاج کا سچ جاننا بہت ضروری تھا۔
★★★★★★★★
“مجھے بات کرنی ہے آپ سے۔“
دل آفس کے لیے تیار ہوتے زورین کے قریب آتے بولی۔ اُنگلی چٹخاتے وہ زورین کو پریشان سی لگی تھی۔ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوکر ٹائی لگاتے اُس نے مرر سے ایک نظر دل پر ڈالی تھی۔ پیرٹ کلر کے کپڑوں میں بالوں کی چٹیا کیے وہ چہرے پر گرتی لٹوں کو بار بار کانوں کے پیچھے اڑستی اُسے اپنی جانب متوجہ کررہی تھی۔
” میرے پاس تمہارے خاندان کی کہانیاں سننے کے لیے ٹائم نہیں ہے۔“
زورین اپنا کوٹ اُٹھاتے باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔ اُس کے انداز پر دل کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی۔ پہلے بھی وہ اُس کے لیے کوئی خاص اہمیت کی حامل نہیں تھی۔ مگر کل واپسی کے بعد سے تو وہ اُس کی جانب دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔ دل کو لگا رہا تھا وہ تقی کی کسی گھٹیا بات پر یقین کرچکا ہے۔ دل کو زورین پر غصہ بھی بہت آرہا تھا۔ اُس نے ایک بار بھی اُس سے کچھ کیوں نہیں پوچھا تھا۔ ایک بار اُس نے یہی سوچا تھا۔ اِس شخص کو اِسی کے حال پر چھوڑ دے۔ مگر پھر نجانے دل کیوں سکون میں نہیں آپا رہا تھا۔ جب تک وہ اُس سے کلیئر نہ کر لے۔
دل سیڑھیاں اُتر کر نیچے آگئی تھی۔ جہاں اُس کی بات سنے بغیر عجلت میں آنے والا اب بہت ہی آرام سے میرا کے پاس صوفے پر بیٹھا اُس کی باتیں سن رہا تھا۔ دل کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر نیچے گال پر پھسل آیا تھا۔ جسے وہ بے دردی سے صاف کرتی چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے میرا کے بلانے پر اُن کے قریب آئی تھی۔
میرا بہت ہی پیاری بچی تھی۔ دل سے ایک دن میں ہی کافی اٹیچ ہوگئی تھی۔
” ماما آپ جانتی ہیں میرے بابا کتنے اچھے ہیں۔“
میرا کے اِس طرح ماما کہنے پر زورین نے سخت نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔ اُس کے چہرے سے ظاہر تھا۔ اُسے یہ بات کتنی ناگوار گزری ہے۔ اُسے یہی لگا تھا یہ ماما لفظ دل نے خود کہلوایا ہے میرا سے۔ جبکہ دل کے لیے تو خود یہ بات نئی تھی۔
” جی بہت اچھے ہیں۔“
دل اُس کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام کر قریب بیٹھتی زورین پر ایک ناراضگی بھری نظر ڈال کر بمشکل جواب دے پائی تھی۔ زورین کے بھی دیکھنے کا انداز کچھ ایسا ہی تھا۔ میرا کی موجودگی کی وجہ سے وہ دونوں زبان سے کچھ بھی نہیں بول پارہے تھے۔
میرا زورین کا گال چومتی اپنی سکول وین آجانے ملازمہ کے ساتھ باہر نکل گئی تھی۔
” صرف نام دے دینے سے رشتہ نہیں بن جاتا۔ تم اُس کی ماں نہیں ہو اِس لیے بننے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ میری بیٹی سے دور رہنا۔“
زورین کافی روڈ لہجے میں دل کو وارن کرتے بولا تھا۔ جس پر اب کی بار دل بھی خاموش نہیں رہ پائی تھی۔
” مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے۔ آپ جیسے خود غرض اور خود پسند انسان کے رشتوں کو نبھانے کا۔ میں نے میرا کو یہ بولنے کو نہیں کہا۔ نہ ہی میں جانتی ہو اُسے کس نے ایسا بولنے کو کہا ہے۔“
دل بات کرنے کے دوران چاہنے کے باوجود آنکھوں میں آئی نمی چھپا نہیں پائی تھی۔
جبکہ اُس کے الفاظ زورین کو مزید غصہ دلا گئے تھے۔
” اگر میں خود غرض ہوتا تو کل اپنا اتنا وقت تمہارے اُن فضول رشتہ داروں میں ضائع نہ کرتا۔ میرا مجھے بہت زیادہ عزیز ہے۔ اُس سے بڑھ کر اِس دنیا میں میرے لیے کوئی نہیں ہے۔ اُس سے دور رہنا، تم اِس گھر میں صرف ایک شوپیس کے طور پر لائی گئی ہو۔ اُس سے زیادہ کچھ بننے کا سوچنا بھی مت۔“
زورین درمیان موجود دو قدموں کا فاصلہ بھی طے کرتا اُس کے انتہائی قریب آتا ایک ایک لفظ چبا کر بولتا اپنی نظروں میں اُس کی اوقات واضح کر گیا تھا۔ دل نے چہرا اُٹھا کر اُس کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔ جو غصہ برساتی نظروں سے اُسے گھور رہا تھا۔ دل سمجھ نہیں پارہی تھی۔ بغیر کسی وجہ کہ بھلا کوئی کسی کو اتنا ناپسند کیسے کرسکتا تھا۔
دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب کھڑے نظریں ملائے ایک اُن دیکھی آگ میں جل رہے تھے۔ دونوں ہی ایک دوسرے کی اندرونی کیفیت سے انجان تھے۔
” آہم آہم۔۔۔۔لگتا ہے میں غلط وقت پر آگئی۔“
منزہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوتی اُن دونوں کو دیکھ کچھ اور ہی اخذ کرتی خوشگواریت سے بولی تھی۔
دل کے لال چہرا پر اُس ایک معنی خیز نظر ڈال کر اُس نے زورین کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا۔
” او پلیز منزہ۔۔۔۔۔۔ڈونٹ بی سو سلی۔“
زورین اُس کو بھی غصے سے جھاڑتا وہاں سے نکل گیا تھا۔ جبکہ منزہ نے اُس کے شدید ری ایکشن پر حیرت سے پلٹ کر دل کی جانب دیکھا تھا۔ جو خاموش نظروں سے اُس کی جانب دیکھتی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی.
★★★★★★★★
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
