Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

“کیوں اب آپ کے روم میں بیٹھ کر میں اپنی مرضی سے رو بھی نہیں سکتی۔“
دل زرا سے اندھیرے پر خوف کے مارے مرنے کے قریب ہوجاتی تھی۔ جبکہ زورین کو نیند ہی تب آتی تھی۔ جب فل اندھیرا چھایا ہوا زرا سی بھی روشنی میں اُسے بالکل بھی نیند نہیں آتی تھی۔
ابھی کچھ دیر پہلے اُس کے اندھیرا کرنے کی وجہ سے ہی دل بُری طرح سہمی کھڑی تھی۔
” نہیں رو سکتی۔“
دل نے جیسے بچوں کی طرح منہ پھلاکر جواب دیا تھا۔ زورین اپنی مسکراہٹ نہیں روک پایا تھا۔ پھولے سے گلابی گالوں والی یہ کیوٹ سی لڑکی نظرانداز کیے جانے کے قابل بالکل بھی نہیں تھی۔ اُس میں ایک ایسی کشش ضرور تھی کہ زورین کے لیے خود کو اُس سے دور رکھنا نہایت ہی مشکل لگ رہا تھا۔
“آپ اچھا نہیں کررہے میرے ساتھ۔ میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔“
دل کو اُس کی مسکراہٹ اپنا مذاق اُڑاتی محسوس ہوئی تھی۔ وہ آنکھوں میں اُمڈ کر آتا آنسوؤں کا سیلاب لیے اُس کے آگے سے ہٹتی دروازے کی جانب بڑھی تھی۔ جب زورین نے اُسے کلائی سے تھام کر اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔ وہ سیدھا اُس کے مضبوط سینے سے جا ٹکرائی تھی۔ دل نے مزاحمت کرتے پیچھے ہٹنا چاہا تھا۔ مگر زورین نے اُس کے گرد بانہوں کا حصار قائم کرتے ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔
“رونے کی وجہ بتاؤ۔“
زورین نے دل کو اُسی طرح اپنے حصار میں قید کیے پوچھا تھا۔ وہ خود بھی سمجھ نہیں پارہا تھا۔ اِس وقت وہ دل کے لیے کیا محسوس کررہا ہے۔
” نہیں بتاؤں گی۔“
دل بھی بضد ہوئی تھی۔ مگر زورین کا سہارا پاتے اُس کی آنکھوں سے ایک بار پھر آنسوؤں کی برسات جاری ہوچکی تھی۔ بچپن سے اُس نے اپنے اندر نجانے کتنے دُکھ اکٹھے کررکھے تھے۔ کہ زرا سی ہمدردی پر وہ آنسوؤں کے راستے بہہ نکلتے تھے۔
” تو اِس کے بعد اگر تمہارا ایک آنسو بھی نکلا تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔“
زورین کو اُس کے آنسوؤں سے اتنی تکلیف کیوں ہورہی وہ خود بھی اُلجھ گیا تھا۔ دل کے گرد اپنے بازو کا گھیرا تنگ کرتے وہ اُس کے کان کے قریب جھکتا گھمبیر لہجے میں وارن کرگیا تھا۔
جس کا نتیجہ یہ نکلا تھا۔ کہ دل سینے سے اُس کی شرٹ مُٹھیوں میں بھینچتے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔ وہ زورین جیسے بے حس انسان کے سامنے اپنی فیلنگز کا اظہار تو کر نہیں سکتی تھی۔ اِسی طرح ہی اپنے اندر کا اضطراب باہر نکالنا چاہتی تھی۔ ورنہ اُسے لگ رہا تھا۔ اتنی دھتکار سہتے سہتے اب اُس نے مر ہی جانا تھا۔
زورین کچھ بولا نہیں تھا۔ مگر اُس کے گرد اپنا مضبوط حصار کھینچتا اُسکا نازک وجود اپنے سینے میں بھینچ گیا تھا۔
کافی دیر بعد دل کی سسکیاں مدھم پڑتیں رُک گئی تھیں۔ اپنے سینے پر اُسکی سانسیں محسوس کرتے زورین نے بازو ہٹاتے اُسکا چہرا اپنے سامنے کیا تھا۔ دل روتے روتے اُس کے سینے پر ہی سو گئی تھی۔
دل کا چہرا رونے کی شدت سے گلابی ہوچکا تھا۔ نم آلود پلکیں جو پر وقت شکوہ کناں سی ہی رہتی تھیں۔ اِس وقت بند تھیں۔ بے حد گلابی ملائم ہونٹ اور لال ہوتی ستواں ناک یہ منظر اِس قدر دلفریب تھا کہ زورین کی نگاہیں بھٹک کررہ گئی تھیں۔
دل اِس وقت مکمل طور پر اُسی کے سہارے کھڑی تھی۔ جس ستمگر نے اُسے اتنا رولایا تھا۔ اُسی کے کندھے سے سر ٹکائے وہ پرسکون سی نیند کی وادیاں گھوم رہی تھی۔
زورین اُسے نرمی سے بانہوں میں بھرتا بیڈ کی جانب بڑھا تھا۔ بیڈ پر لیٹا کر کمبل اوڑھاتے اُس کی نظر دل کی گردن پر پڑی تھی۔ جہاں کچھ دیر پہلے اُسی کا دیا زخم ابھی تازہ تھا۔
زورین الماری سے میڈیکل باکس نکال کر لاتا واپس اُس کے قریب آبیٹھا تھا۔ ہاتھ بڑھا کر اُس نے دل کے بالوں کو گردن سے ہٹایا تھا۔ اُس کی نازک شفاف گردن اب واضح اُسکی نظروں کے سامنے تھی۔
زورین نے اپنی بھٹکتی نگاہوں پر قابو پاتے اُس کے زخم پر کریم لگا کر بینڈیج کردی تھی۔
دل کے آنسوؤں آج کہیں نہ کہیں زورین کے دل پر اثر انداز ہوئے تھے۔ جس کا ازالہ اب وہ اُس کے سونے کے بعد کررہا تھا۔ شاید دل کے سامنے اپنا یہ رُوپ دکھانے کی ہمت نہیں تھی اُس میں۔
وہ ابھی اِسی کشمکش میں تھا۔ جب موبائل کی میسج ٹیون نے اُسے اپنی جانب متوجہ کیا تھا۔ سکرین پر جگمگاتا میسج دیکھ زورین نے سختی سے ہونٹ بھینچ لیے تھے۔
” یہ لوگ ایسے نہیں ماننے والے”
زیرِ لب بڑبڑاتے اُس نے کچھ ٹائپ کیا تھا۔ جسے سینڈ کرتے اُس کے چہرے پر ایک پُر اسرار مسکراہٹ تھی۔ موبائل رکھتا وہ واپس دل کی جانب متوجہ ہوا تھا۔
زورین اُس کے قریب سے اُٹھنا چاہتا تھا۔ مگر نجانے کیوں اِس وقت اِس روتی بسورتی معصوم لڑکی سے دور جانے کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔
زورین اپنی اندر پلتے غصے اور نفرت کے تمام جذبات سائیڈ پر رکھتا دل کے پُرزور اصرار پر دل کا سر اپنے شانے پر رکھتا اُس کے قریب نیم دراز ہوگیا تھا۔ دل کی مخروطی لانبی اُنگلیاں زورین نے اپنے مضبوط ہاتھ کی اُنگلیوں میں پھنساتے اُنہیں اپنے ہونٹوں کا نرم گرم لمس بخشا تھا۔ جسے محسوس کرتے دل کسمسائی تھی۔
زورین کچھ پل اُس کا سُندر مُکھڑا آنکھوں میں بسائے گہری نظروں سے دیکھنے کے بعد ہاتھ بڑھا کر سائیڈ لیمپ آف کر گیا تھا۔ پورا کمرہ ایک بار پھر تاریکی میں ڈوب گیا تھا۔ جسے دل گہری نیند میں بھی محسوس کرتے خوف زرہ سی زورین کے قریب کھسکتی اُس کے سینے میں چہرا چھپا گئی تھی۔
دل کی یہ حرکت پہلے سے اُلجھے زورین کو مزید مشکل میں مبتلا کرگئی تھی۔
مگر کہیں نہ کہیں اندر دل کے کسی کونے میں اِس لڑکی کو اپنے قریب پاکر اک طمانیت سی رگ و پے میں سرایت کر گئی تھی۔ دل کو مکمل طور پر اپنے حصار میں قید کرتے زورین آنکھیں موند گیا تھا۔
★★★★★★★★
”کیا ہوا آج سونے کا ارادہ نہیں ہے آپ کا۔“
ابتہاج روم میں داخل ہوتے سُلین کو صوفے پر بیٹھے دیکھ کر بولا تھا۔ جو صوفے پر ہی کمبل میں لپٹی بیٹھی تھی۔ اُس کی جانب دیکھ ابتہاج کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔
سُلین جو ٹھنڈ کی شدت سے کانپ رہی تھی۔ ابتہاج کی سمائل دیکھ اُس کی نگاہیں ساکت ہوئی تھیں۔ وہ اب سمجھی تھی۔ یہ شخص مسکرانے میں اتنی کنجوسی کیوں کرتا تھا۔ یہ اپنی دل لوٹ لینے والی مسکراہٹ سے اچھی طرح واقف تھا۔ جس سے ابتہاج لغاری آرام سے کسی کو بھی زیر کرسکتا تھا۔
” مجھے بہت ٹھنڈ لگ رہی ہے۔ اتنی ٹھنڈ میں،میں نہیں سو سکتی۔“
سُلین کی نوز بالکل ریڈ ہوچکی تھی۔ ٹھنڈ سے کپکپاتے ہونٹوں سے بولتی وہ ابتہاج کو مبہوت کرگئی تھی۔ گھٹنے سینے سے لگا کر بیٹھی کمبل کو سر پر دوپٹے کی شکل میں لپیٹے وہ ابتہاج لغاری کی فیلنگز کو اچھا خاصہ چھیڑ گئی تھی۔
”اوہ ہو۔ آپ کو ٹھنڈ لگ رہی ہے۔ کیا اِسے کم کرنے میں، میں آپکی کوئی ہیلپ کرسکتا ہوں۔“
ابتہاج گھمبیر لہجے میں بولتا اُس کے قریب آبیٹھا تھا۔ جبکہ اُس کی آنکھوں کے بدلتے شوخ رنگ دیکھ سُلین کو اپنے گرد خطرے کی گھنٹی بجتی محسوس ہوئی تھی۔
”کک کیا مطلب ۔۔۔۔۔“
سُلین اُس کے قریب بیٹھنے پر فوراً پیچھے کھسکی تھی۔ کیونکہ ابتہاج ہلکا سا اُس کے اُوپر جھک آیا تھا۔
”میں آپ کی ہیلپ کرنا چاہتا ہوں۔“
سُلین اُس کے خمار آلود بوجھل لہجے پر گھبرا کر پیچھے ہوتی صوفے کے ہینڈ پر پہنچ چکی تھی۔ ابتہاج چاہنے کے باوجود خود کو روک نہیں پایا تھا۔ وہ اُس کے اُوپر حاوی ہوتا اُس کے سُرخ ناک سے اپنا ناک ٹچ کرتا اُسے حرارت بخشنے لگا تھا۔ جبکہ سُلین کی دھڑکنوں کا شور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتا جارہا تھا۔
“مجھے کوئی ہیلپ نہیں چاہی۔“
سُلین ٹھنڈ تو بالکل بھول ہی چکی تھی۔ پہلے جہاں وہ ٹھنڈ کی وجہ سے کپکپا رہی تھی۔ اب وہیں ابتہاج کی قربت نے اُس کے پورے وجود پر لرزاہٹ طاری کر دی تھی۔
” مگر مجھے چاہیے تمہاری ہیلپ۔ آئی نیڈ یو بیڈلی۔“
ابتہاج کا چہرا سُلین کے چہرے کے نہایت قریب تھا۔ سُلین بالکل لال ہوچکی تھی۔ اِس شخص کی قربت جان لیوا ثابت ہورہی تھی اُس کے لیے۔ اُس نازک جان کے لیے یہ سب برداشت کرنا بہت مشکل تھا۔
مگر ابتہاج کا قریب آنا اُسے بُرا نہیں لگ رہا تھا۔ اُس کے گال شرم و حیا سے دھک اُٹھے تھے۔ اُس کی سانسوں میں ابتہاج لغاری کی خوشبو مہکنے لگی تھی۔ دھڑکنیں اُسی کی محبت کا راگ الاپنے لگی تھیں۔
” آپ پلیز دور رہیں مجھ سے۔“
سُلین کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی۔ وہ اتنی جلدی اِس ساحر کے طلسم میں نہیں پھنسنا چاہتی تھی۔ مگر اب بُری طرح جکڑی جاچکی تھی۔
” نہیں رہ سکتا تم سے دور۔ ناممکن ہے یہ بات۔ سانسوں سے زیادہ ضروری ہے سُلین حبیب ابتہاج لغاری کے لیے۔ اپنی پوری زندگی میں کسی کو اتنی شدت سے کسی نے نہیں چاہا ہوگا۔ جتنا میں تمہیں چاہتا ہوں۔ بے پناہ محبت کرتا ہوں تم سے۔ مجھ سے دور جانے کی کوشش کبھی مت کرنا۔ کیونکہ ایسا میں کبھی ہونے نہیں دوں گا۔ اب ساری زندگی تمہیں میرے ساتھ ہی رہنا ہوگا۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔“
ابتہاج نجانے کس احساس کے تحت سُلین کے آگے اپنی جنونی محبت کا اظہار کر گیا تھا۔ شاید وہ اُسے باور کروانا چاہتا تھا۔ کہ اُس کی دور ہونے کی کوشش کرنا ناکام ہے۔
ابتہاج جیسے سرد و بے حس انسان کے لبوں سے ایسے الفاظ کا اظہار سننا نہایت ہی مشکل اور انوکھی بات تھی۔ مگر وہ ایسا کررہا تھا۔ کیونکہ وہ آگے درپیش آنے والے حالات سے اچھی طرح واقف تھا۔ کچھ بھی غلط ہونے سے پہلے وہ سُلین کو اپنے قریب کرلینا چاہتا تھا۔ تاکہ اگر وہ اُسے چھوڑ کر جانا بھی چاہے تو نہ جا پائے۔
”مگر ہمارا کانٹریکٹ ہوا ہے۔۔۔آپ ایسا۔۔۔۔“
سُلین کے باقی الفاظ ابتہاج نے اُس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر وہیں روک دیئے تھے۔
”کاغذ کے ٹکڑے میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔“
ابتہاج نے شہادت کی اُنگلی اُس کے ہونٹوں پر پھیرتے بوجھل بھاری لہجے میں کہتے اُسے مزید کچھ بولنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔
” آپ دھوکا کررہے مجھ سے۔“
سُلین کی ٹھنڈ تو کہیں دور ہی بھاگ چکی تھی۔ بلکہ اب تو ماتھے پر پسینے کی ننھی بوندے نمودار ہوچکی تھیں۔ وہ کچھ اُلٹا سیدھا بول کر ابتہاج کی توجہ خود سے ہٹانا چاہتی تھی۔ مگر یہ شخص تو اُس کی قربت میں بہکتا ہی جارہا تھا۔
ابتہاج کی محبت کے اظہار نے اُس کے دل میں پھول کھلا دیئے تھے۔ وہ اُسے کیا بتاتی وہ خود بھی اِس مضبوط پناہ گاہ سے دور نہیں ہونا چاہتی تھی۔
مگر اِس وقت جو کیفیت تھی اُس سے وہ بہت زیادہ گھبراہٹ کا شکار تھی۔ ابتہاج لغاری کی ایک شوخ نظر ہی بہت بھاری پڑتی تھی اُس پر۔ ابتہاج کا یہ انداز اُس کی جان نکال رہا تھا۔
” نہیں صرف محبت کررہا ہوں۔“
ابتہاج اُس کے چہرے پر بکھرتے رنگ دیکھ چکا تھا۔ اُس کی نظریں سُلین کے رسیلے سُرخ ہونٹوں پر تھیں۔ اِس سے پہلے کے وہ اُن سے کوئی گستاخی کرتا موبائل فون پر آتی کال نے اُن کے حسین پلوں میں خلل پیدا کردیا تھا۔
ابتہاج کے چہرے سے لگ رہا تھا۔ اُسے اپنا ڈسٹرب کیا جانا کتنا بُرا لگا ہے۔ سُلین فل وقت جان بخشی ہوجانے پر فون کرنے والے کی مشکور ہوئی تھی۔
ابتہاج کال اٹینڈ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ مگر سکرین پر جگمگاتا نمبر اُسے ایسا کرنے کے لیے مجبور کرگیا تھا۔
وہ سُلین کے قریب سے اُٹھتا کھڑکی کی جانب بڑھ گیا تھا۔ سُلین نے بہت غور سے ابتہاج کے اچانک سے سرد اور وحشت ناک ہوتے تاثرات دیکھے تھے۔
”میں نے کہا تھا تمہیں۔ شدید نفرت کرتا ہوں تم سے۔ تمہارا نام تک نہیں سننا چاہتا۔ مگر لگتا ہے تم سے نرمی سے پیش آکر بہت غلط کیا ہے میں نے۔ تم اِس قابل ہی نہیں ہو۔ میرے قریب آنے کی کوشش مت کرو۔ برباد کرکے رکھ دوں گا۔“
کچھ دیر پہلے جو شخص محبت کے خمار میں ڈوبا ہوا تھا۔ اِس وقت اُس کے لہجے میں نفرت کے شرارے پھوٹ رہے تھے۔ اُس کی پیشانی پر شکنوں کا جال بنا ہوا تھا۔
سُلین بہت غور سے اُس کے تاثرات کا جائزہ لینے لگی تھی۔ جو نوٹ کرتے ابتہاج رُخ موڑ گیا تھا۔
ابتہاج کی بات کے جواب ميں فون کے سپیکر پر سسکیوں کی آواز اُبھری تھی۔ جس سے ابتہاج کو ایک پرسنٹ بھی فرق نہیں پڑا تھا۔
”آئندہ اگر مجھے فون کرنے یا میرے گھر آنے کی کوشش کی تو میرے قہر سے تمہیں کوئی نہیں بچا پائے گا۔ سمجھی تم۔ “
ابتہاج کھردرے نفرت آمیز لہجے میں کہتا فون بند کرگیا تھا۔ سُلین فاصلے پر ہونے کی وجہ سے اُس کی بات تو نہیں سن پائی تھی۔ مگر ابتہاج کے چہرے کے غضبناک تاثرات اُسے خوفزدہ کر گئے تھے۔
کمبل ہٹا کر وہ اپنی جگہ سے اُٹھی تھی۔
”آپ ٹھیک ہیں؟“
سُلین کی آواز پر مُٹھیاں بھینچے ضبط کے کڑے مراحل سے گزرتے ابتہاج کے اعصاب ڈھیلے پڑے تھے۔ سُلین حبیب اُس کے پاس تھی۔ اپنی عزیز از جان ہستی کے قریب ہوتے ہوئے ضبط کھونا ابتہاج لغاری کو زیب نہیں دیتا تھا۔
جس شخص کی زندگی میں نفرت کرنے کے سوا کچھ نہیں بچا تھا۔ سُلین حبیب کے آگے اُسکا ایک الگ ہی رُوپ تھا۔ جو شخص باقی دنیا والوں کے لیے درندہ، ظالم اور جابر شخص تھا۔ وہ سُلین حبیب کے عشق میں پاگل ایک دیوانہ تھا۔ سُلین کی جانب غصے بھری تیز نگاہ بھی ڈالنا اُسے گناہ لگتا تھا۔
اِس وقت بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ سُلین کی ایک پکار پر ابتہاج اپنا غصہ بھول گیا تھا۔
”نہیں میں ٹھیک نہیں ہوں۔ بہت شدید بیمار کردیا ہے تمہاری محبت نے مجھے۔ مریض بن گیا ہوں تمہارا۔“
ابتہاج کچھ فاصلے پر کھڑی سُلین کے قریب آتے بولا۔ اُس کی گہری نگاہیں سُلین کے چہرے کا طواف کررہی تھیں۔
”اور کسی چیز کا تو نہیں پتا مگر آپ کو فضول باتیں کرنے کی بیماری ضرور ہوگئی ہے۔ مجھے سخٹ نیند آرہی میں سونے لگی ہوں۔“
سُلین اُس کی نظروں سے گھبراتی جلدی سے بیڈ پر چڑھ کر کمبل میں گھس گئی تھی۔ سُلین کی یہ بچکانہ حرکت ابتہاج کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔
سُلین نے خود کو سر سے لے کر پیر تک کور کر لیا تھا۔ جیسے کسی بھی طرح ابتہاج کی نظروں سے بچنا چاہتی ہو۔
”مگر تمہیں تو ٹھنڈ کی وجہ سے نیند ہی نہیں آرہی تھی۔ پھر اچانک کیسے آگئی۔“
ابتہاج کی آواز سُلین کو اپنے بہت قریب سے محسوس ہورہی تھی۔ جس کا مطلب تھا وہ اُس کے پاس ہی کھڑا تھا۔
”اب ٹھنڈ نہیں لگ رہی۔ آپ پلیز سونے دیں مجھے۔“
سُلین کمبل کو مضبوطی سے اپنی مُٹھیوں میں جکڑے بولی تھی۔ اُسے ڈر تھا کہ کہیں ابتہاج کمبل کھینچ ہی نہ لے۔ اِس بندے سے وہ کسی بھی چیز کی توقع کرسکتی تھی۔
ابتہاج نے اپنی حرکتوں سے اُس کی ٹھنڈ تو پہلے ہی بھگا دی تھی۔
کافی دیر بعد خاموشی چھائے رہنے پر سُلین کو یہی لگا تھا۔ کہ ابتہاج شاید پیچھے ہٹ گیا ہے۔ اُس نے کمبل پر گرفت نرم کرتی آنکھوں سے ہٹا کر باہر جھانکا تھا۔ سامنے کا منظر دیکھ اُس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں۔ ابتہاج اُس کے پاس ہی کھڑا تھا۔ سُلین کے دیکھنے پر شوخ مسکراہٹ آنکھوں میں سجائے اُس کے اُوپر جھکا تھا۔
”اگر دوبارہ ٹھنڈ لگے تو بتانا مجھے۔ ٹھنڈ ختم کرنے کے ساتھ ساتھ سلانا بھی بہت اچھے سے آتا ہے مجھے۔“
ابتہاج اُس کے ماتھے اور گال پر اپنا لمس چھوڑتا پیچھے ہٹ گیا تھا۔ جب سُلین ساکت سی اُسے دیکھے گئی تھی۔ جو اُس کے دل کی دنیا میں طوفان برپا کرتا بیڈ کی دوسری طرف جاکر سوگیا تھا۔ سُلین کو جب لگتا تھا۔ وہ ابتہاج لغاری کو سمجھنے لگی ہے۔ پھر کچھ ایسا ہوجاتا تھا۔ کہ وہ اپنے دماغ کو اُلجھن میں مبتلا ہونے سے روک نہیں پاتی تھی۔
وہ جاننا چاہتی تھی ابھی کچھ دیر پہلے ابتہاج کس سے بات کرتے غصے سے بپھر گیا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں بھڑکتے شعلے نظر انداز کرنے والے بالکل بھی نہیں تھے۔
اُس نے ایک نظر اپنے سے کچھ فاصلے پر کروٹ کے بل سوئے ابتہاج کی جانب دیکھا تھا۔ اُس کا دل زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔ وہ ابتہاج کے بارے میں سب کچھ جاننا چاہتی تھی۔ مگر اُس سے ایسا کوئی بھی سوال پوچھنے کی ہمت نہیں کر پارہی تھی۔ ابتہاج کے اتنے نرم رویے کے باوجود ڈرتی تھی وہ اُس سے۔
★★★★★★★★
دل نے آنکھیں کھولتے حسبِ عادت انگڑائی لینی چاہی تھی۔ مگر وہ ایسا نہیں کر پائی تھی۔ اُسے خود پر کوئی وزنی سا بوجھ محسوس ہوا تھا۔
ایک ہی جھٹکے سے اُس کا غافل زہن بیدار ہوا تھا۔ اپنے اُوپر رکھے مضبوط کسرتی بازو اور آدھے سے زیادہ خود کو اِس شخص کے نیچے قید دیکھ اُس کی سانس سینے میں اٹکی تھی۔ چہرا نہ دیکھ پانے کے باوجود وہ زورین شاہ کی خوشبو سے اچھی طرح واقف تھی۔ اور یہ بھی جانتی تھی کہ اُس کے علاوہ اِس روم میں آنے کی کوئی جرأت بھی نہیں کرسکتا۔
زورین کی گرم سانسیں اپنے ماتھے پر محسوس کرتے اُس نے اُس کے حصار سے نکلنا چاہا تھا۔ مگر وہ نازک جان زورین کا خود پر رکھا بازو بھی نہیں ہٹا پائی تھی۔
یہ سوچ کر اُس کی دھڑکنوں نے الگ اُودھم مچا رکھا تھا۔ کہ وہ صوفے سے بیڈ پر زورین کی بانہوں میں آئی کیسے تھی۔ جب اچانک رات کو اپنا زورین کے سینے سے لگ کر رونے والا واقع یاد کرتے وہ خود کو ڈھیروں گالیوں سے نواز گئی تھی۔ آخر کیوں وہ اِس شخص کے آگے کمزور پڑی تھی۔ پتا نہیں اب پھر وہ اُس کا کتنا مذاق بناتا۔ اُس کے آنسوؤں کو ناٹک کا نام دے کر نجانے پھر کونسا الزام لگاتا۔
ابھی وہ اپنی اِنہیں سوچوں میں اُلجھی ہوئی تھی۔ جب تکیے کے نیچے وائبریٹ ہوتے موبائل فون نے اُسے اپنی جانب متوجہ کیا تھا۔
زورین کے اُٹھنے سے پہلے ہی اُس نے جلدی سے فون آن کرتے کان سے لگایا تھا۔
مگر دوسری جانب سے ملنے والی خبر نے اُس پر سکتا طاری کر دیا تھا۔ اُس نے غصے اور دکھ بھری آنکھوں سے اپنے بے حد قریب موجود شخص کو دیکھا تھا۔
” سویرا تم پلیز رو مت۔ میں کچھ کرتی ہوں۔“
سویرا کی روتی آواز سن کر وہ خود بھی روہانسی ہوئی تھی۔
زورین شاہ نے اُس کے گھر والوں سے فیکڑیاں چھین لی تھیں۔ اُس لی دی گئی مہلت سے ٹائم اُوپر ہوچکا تھا۔ وہ لوگ تو زورین سے رشتہ جُڑ جانے کی وجہ سے ریلیکس ہوگئے تھے۔ اُنہیں بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ زورین اب بھی ایسا کچھ کرے گا۔
” دل تم پلیز زورین بھائی سے بات کرو۔ وہ ایسا کیسے کرسکتے۔ اگر یہ خبر میڈیا تک پہنچ گئی تو بہت بدنامی ہوگی۔ ہم لوگ روڈ پر آجائیں گے۔ ہمارے پاس کچھ نہیں بچے گا۔“
سویرا بُری طرح رو رہی تھی۔ جسے سن کر دل کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہوچکے تھے۔ چاہے اُس کے بڑوں نے اُس کے ساتھ جیسا بھی سلوک کیا تھا۔ مگر وہاں بہت سے ایسے لوگ بھی رہتے تھے۔ جو اُس کے دل کے انتہائی قریب تھے۔ جن کے لیے وہ کچھ بھی کرسکتی تھی۔
سویرا کو تسلی دیتے اُس نے فون بند کردیا تھا۔ اور غصے سے پاگل ہوتے زورین کا بھاری ہاتھ اپنے اُوپر سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی تھی۔
” چھوڑیں مجھے۔۔۔ مسٹر زورین شاہ۔ میرے گھر والوں کو اتنی تکلیف میں مبتلا کرکے۔ آپ چین کی نیند نہیں سوسکتے۔“
دل اُس کے سینے اور کندھے پر پنچ کرتی اُس کے حصار سے نکلنے کے لیے تڑپ رہی تھی۔ زورین کی نیند تو اُس فون کال نے ہی خراب کردی تھی۔ جاگ چکا تھا۔ اور اب دل کی ساری حرکتیں ملاحظہ کررہا تھا۔ اپنی نیند خراب کرنے والے انسان کو چھوڑتا نہیں تھا وہ۔ اب دل کی بھی خیر نہیں ہونے والی تھی۔
★★★★★★★★★
”قاسم یہ سب کیا ہورہا ہے۔ ہمارا ہر پلان ناکام کیوں ہورہا ہے۔ ہر بار ابتہاج لغاری کا بازی جیتنا مجھ سے برداشت نہیں ہورہا۔ کچھ کرتے کیوں نہیں ہو تم۔“
قاسم سپیکر سے اُبھرتی جھنجلائی آواز سن کر مسکرایا تھا۔
”بڑی کامیابی تک پہنچنے کے لیے اِن چھوٹی موٹی ناکامیوں کا سامنا تو کرنا ہی پڑتا ہے۔“
قاسم کا پرسکون انداز مقابل کو ٹھٹھکا گیا تھا۔
”کیا مطلب میں سمجھی نہیں۔“
دوسری جانب سے سوال کیا گیا تھا۔
”میں نے ابتہاج لغاری کی زندگی کی تمام حقیقت سُلین حبیب کے نام پر کورئیر کردی ہے۔ جسے جاننے کے بعد وہ اُس شخص کے ساتھ رہنا تو دور کی بات اُس کی شکل دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گی۔“
قاسم زہر خند لہجے میں بولتا دوسری جانب موجود انسان کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ بکھیر گیا تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔