Teri Chah Mein By Farwa Khalid Readelle50119 Episode 20
No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
”ویلڈن میں نے ابھی یہی کہنے کے لیے کال کی تھی۔ ابتہاج لغاری کو بھی سمجھ جانا چاہیے، اب ہم کمزور نہیں ہیں۔ اُس کی بہت بڑی کمزوری ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اب وہ ہم سے نہیں جیت سکتا۔“
قاسم کی بات نے اُنہیں بہت خوش کیا تھا۔
”اپنی محبت حاصل کرکے وہ جتنا مضبوط ہوا ہے۔ اُس کی اصلیت جان کر جب یہی محبت اُسے دھتکار کر جائے گی۔ تو تب شروع ہوگا ہمارا اصل کھیل۔ میں جانتا ہوں ابتہاج اِس کے بعد ایسا ٹوٹے گا۔ کہ ہم سے مقابلہ کرنا تو دور کی بات۔ وہ خود کو سنبھالنے کے قابل نہیں رہے گا۔ کیا پتا اپنے جنونی غصے میں آکر اپنے ہاتھوں اپنی محبت کا قتل ہی نہ کردے۔ غصے میں آکر لوگوں کو قتل کرنا تو بہت آسان ہے نا۔ اب میں دیکھتا ہوں کیا کرے گا ابتہاج لغاری۔ مار پیٹ اور دوسروں کو ذلیل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں سیکھا ابتہاج لغاری نے۔ اب بہت جلد اُس کا اصلی چہرا سُلین کے سامنے آجائے گا۔
پھر اِن دونوں کو برباد کرکے رکھ دوں گا میں۔ جو میرے خاندان کی بربادی کا سبب بنے ہیں۔ نہیں چھوڑوں گا اِن کو میں۔“
قاسم کے دل میں لگی آگ مقابل کی آنکھوں میں بھی شعلے بھڑکا گئی تھی۔ پہلے ابتہاج لغاری کا سزائے موت ہونے کے بجائے قید ہونا۔ پھر اُس کا رہاع ہونا۔ اور اپنی خوشحال محبت بھری زندگی شروع کرنا یہ سب دیکھنا اُن لوگوں کے بس سے باہر تھا۔ وہ اب ابتہاج لغاری کی ہر زیادتی کا بدلہ لینا چاہتے تھے۔
★★★★★★★★
” میں نے کہا چھوڑیں مجھے۔“
دل زورین کی گرفت سے نکلنے کے لیے مزاحمت کیے جارہی تھی۔ کچھ دیر خفگی سے اُسے گھورنے کے بعد زورین نے اُس کی دونوں کلائیاں تھام کر تکیے پر رکھتے اُسے اپنے قبضے میں لیتے بالکل بے بس کردیا تھا۔ اِس لڑکی کی وجہ سے وہ پہلے ہی رات کو لیٹ سویا تھا۔ اب صبح صبح پھر دل نے اُس کی نیند کا ستیاناس کردیا تھا۔
” تمہارے ساتھ پرابلم کیا ہے۔ تم سکون سے سو بھی نہیں سکتی۔ یہ کونسا ٹائم ہے اُٹھ کر لڑنے کا۔ خبردار جو اب ایک لفظ بھی منہ سے نکالا تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔“
زورین اُس کو اُسی طرح اپنے حصار میں قید کیے، اُس کے بالوں میں منہ دیئے آنکھیں موند گیا تھا۔ اب دل اُس کے چوڑے وجود کے نیچے بالکل دب چکی تھی۔ زورین کا یہ نیا انداز دیکھ کر اُس کی حیرت کے مارے آنکھیں پھٹ گئی تھیں۔
سینے میں الگ ہی شور برپا ہوچکا تھا۔ زورین شاہ جسے وہ ٹوٹ کر چاہنے لگی تھی۔ وہ اُس کے قریب تھا۔ اُسے اپنی قربت بخش رہا تھا۔ رات کو ایک مہربان ساتھی کی طرح اُس کا اتنا خیال رکھا تھا۔ دل سمجھنے سے قاصر تھی۔ یہ سب سچ تھا یا کوئی خوبصورت فریب جس میں پھنس کر ہمیشہ کی طرح خسارہ اور دل کا درد اُسی کے حصے میں آنا تھا۔
زورین کی سانسیں اُسے اپنی گردن پر محسوس ہورہی تھی۔ اُس کے لیے یہ سب برداشت کرنا بہت زیادہ تھا۔
” پپ پلیز,۔۔۔۔ یہ آپ کیا کررہے ہیں۔ میں جانتی ہوں، آپ کسی کو معاف نہیں کرتے۔ میں نے آپ کی نیند خراب کی ہے۔ آپ یہ سب کرکے اُسی کی سزا دے رہے ہیں نا مجھے۔”
زورین جو دل کی مسحور کن خوشبو سانسوں میں بساتا رات کی طرح ایک بار پھر ایک بھرپور پرسکون سی نیند لینے کا تمنائی تھا۔ دل کی بات نے اُس کی نیند بھگ سے اُڑا دی تھی۔
یہ لڑکی اِس عنایت اور نرمی کے قابل ہی نہیں تھی۔ وہ اُس کے قریب آنے کو اپنی سزا سمجھ رہی تھی۔ اِس بات نے زورین کا دماغ خراب کردیا تھا۔ رات کو اُس کے دل میں اِس لڑکی کے لیے جو سافٹ کارنر بنا تھا۔ اُسے یہ لڑکی اپنے ہاتھوں گنوا گئی تھی۔
” ہاں اُسی کی سزا دے رہا ہوں۔ تاکہ آئندہ ایسی گستاخی کرنے سے پہلے ہزار بار سوچو تم۔“
زورین نے چہرا اُٹھاتے دل کی نم آلود آنکھوں میں جھانکا تھا۔ زورین کی قربت پر اُس کا چہرا خون چھلکا رہا تھا۔ زورین گہری نظریں محسوس کرتے وہ گھبراہٹ کے مارے اپنے لب کاٹنے لگی تھی۔
جو بات زورین کو مزید غصہ دل گئی تھی۔ اُس نے ہاتھ بڑھا کر دل کے ہونٹوں کو اِس ظلم سے آزادی بخشی تھی۔ مگر دل بھی اُس پر شدید غصے میں تھی۔ اُس نے فوراً زورین کا ہاتھ جھٹکتے اپنا کام جاری رکھا تھا۔
” مجھے کوئی شوق نہیں آپ کے قریب آنے یا آپ کی نیند خراب کرنے کا۔ آپ کیوں لے کر آئے مجھے یہاں۔ اور یہ سب، کیا مقصد ہے اِس سب کا۔“
زورین کے جواب نے دل کی کچھ دیر پہلے والی غلط فہمی دور کردی تھی۔ یہ سب وہ اُس کی چاہت میں نہیں بلکہ اُس کی غلطی کا جواب دینے کے لیے کیا تھا۔ دل نے اُس کے بے حد قریب ہونے کی جانب اشارہ کرتے کہا تھا۔ اگر دل غصے میں تھی۔ تو اُس کی باتوں سے زورین ڈبل غصے میں آچکا تھا۔
” نکلے نا آپ بھی وہی نفس پرست کمزور مرد۔ جو پورا دن سب کے سامنے اپنی بیوی کی عزت دو کوڑی کی کرکے، اُسے دھتکارتا رہتا ہے۔ اور رات کو نفس کا غلام بن کر اُسی کے قرب کی۔۔۔۔۔۔“
دل اُس کی رات والی باتوں اور جو کچھ وہ اُس کے گھر والوں کے ساتھ کررہا تھا۔ اُس پر غصے سے پاگل ہوچکی تھی۔ اور اب سے بڑی بات جس نے اُسے بالکل آؤٹ آف کنٹرول کردیا تھا۔ وہ تھی اتنے قریب آکر بھی زورین کا اُس کو ویسے ہی بے وقعت کردینا۔ وہ نہیں سمجھ پائی تھی۔ جذبات میں آکر وہ زورین کو کس قدر غلط بول گئی ہے۔
وہ تو ابھی مزید بھی نجانے کیا کچھ بول دیتی، اگر غضبناکی کہ انتہاؤں پر پہنچتے زورین اُس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر اُسے خاموش نہ کروا دیتا۔
”تم جانتی بھی ہو کس قدر گھٹیا بکواس کررہی ہو تم۔ میں نفس کا غلام کمزور شخص ہوتا تو اب تک تم اِس طرح نظریں ملا کر مجھ سے ایسے سوال نہ کررہی ہوتی۔ مگر لگتا ہے تمہیں ایک بار تو بتانا ہی پڑے گا۔ نفس کا پجاری عورت کو صرف ایک ہی مقصد کے لیے اپنے قریب کرنے والا شخص کیسا ہوتا ہے۔“
زورین کے دل پر اُس کی باتیں تیر بن کر چبھی تھیں۔ اُسے خود پر سب سے زیادہ غصہ آرہا تھا۔ بھلا کسی کو اپنے دل میں اتنی اہمیت دینے کا سوچا بھی کیوں تھا اُس نے۔ یہ لڑکی اِس قابل بالکل بھی نہیں تھی۔
زورین کے الفاظ اُس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ بن کر اُترے تھے۔ اُس نے خوفزدہ نظروں سے زورین کی جانب دیکھا تھا۔
جو اُس کی ٹھوڑی اُوپر کرتا اُس کی گردن پر جھکا تھا۔ دل کی سانس حلق میں ہی اٹک گئی تھی۔ اپنی گردن پر زورین کا دہکتا جھلساتا لمس محسوس کرتے دل کو لگا تھا اُس کی سانس نکل جائے گی۔
اُس نے زورین سے اپنی کلائیاں آزاد کروانے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ مگر ناکام رہی تھی۔ اِس سے پہلے کے شدید غصے کے زیرِ اثر زورین مزید کوئی گستاخی کرتا۔ دل کی آنکھوں سے بہتے سیلاب کی نمی اُسے واپس کھینچ لائی تھی۔ چاہنے کے باوجود وہ اِس لڑکی کے ساتھ کچھ غلط نہیں کرپایا تھا۔
”کیا ہوا اتنی جلدی ہار مان گئی۔ ابھی تو اِس نفس کے پجاری شخص کا ایک وار بھی برداشت نہیں کیا تم نے۔ ابھی تو تمہاری کسی ایک بات کا جواب نہیں دیا میں نے۔“
دل کا چہرا اپنے بے حد قریب کرتے بولتا وہ اُسے بُری طرح سہما گیا تھا۔ دل کو بہت جلد ہی احساس ہوچکا تھا۔ کہ وہ کس قدر غلط بول چکی ہے۔ جو بات کوئی عام مرد خود کے لیے سننا گوارہ نہیں کرتا۔ دل نے وہی بات دنیا کے سب سے زیادہ گھمنڈی اور خود پسند انسان زورین شاہ کو بول دی تھی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ایسا نہیں ہے۔ اُس پر پورا حق ہونے کے باوجود اُس نے لمٹس کراس کرنا تو دور کی بات ، لمٹ میں رہ کر بھی اُس پر اپنا حق استعمال نہیں کیا تھا۔
” آج جو الفاظ تم نے بولے ہیں۔ اُس کے بعد سے تم نے اپنی زندگی خود پر مزید تنگ کر لی ہے۔ میں لائف میں غلطیاں نہیں کرتا مگر تم پر اتنے دن رحم کھا کر اپنی لائف کی پہلی اور سب سے بڑی غلطی کی ہے۔ جسے اب بہت اچھے سے سدھاروں گا میں۔ آج رات تیار رہنا تمہیں بتاؤں گا۔ کہ ایک روایتی مرد کیسا ہوتا ہے۔“
زورین زہرخند لہجے میں بولتا اُس کے قریب سے اُٹھ گیا تھا۔ دل کتنے ہی لمحے اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پائی تھی۔ وہ جانتی تھی اُس نے زورین کو غصے میں بہت غلط کہہ دیا تھا۔ مگر زورین بھی تو اُسے اب تک نجانے کیا کچھ کہتا آیا تھا۔ اب جب خود پر بات آئی تھی تو اتنا غصہ کیوں آرہا تھا۔
وہ جذباتی بن اور اپنی دلی کیفیت کے زیرِ اثر اِس وقت اپنی غلطی نہیں دیکھ پارہی تھی۔ زورین نے اُسے جتنا غلط بھی بولا مگر آج تک اُس کے کردار پر سوال نہیں اُٹھایا تھا۔ مگر وہ بنا کسی ریزن کے زورین کو بہت غلط بول گئی تھی۔
وہ بیڈ سے اُٹھی تھی۔ جب زورین آفس کے لیے تیار ڈریسنگ روم سے باہر نکلا تھا۔ شاید اُس کی کوئی میٹنگ تھی اِس لیے وہ دل سے اپنے حساب واپس آکر پورے کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
زورین کو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے بال بناتے دیکھ دل کو اچانک سویرا کی کچھ دیر پہلے کی گئی فون کال یاد آئی تھی۔ جس پر دوبارہ غصے میں آتے وہ زورین کی جانب بڑھی تھی۔
” آپ میری فیملی کے ساتھ اتنا غلط نہیں کرسکتے۔ اُن کی فیکٹریز واپس کردیں اُنہیں۔ دوسروں کی زندگیوں میں مشکلات پیدا کرنے کے علاوہ کچھ نہیں آتا آپ کو۔“
دل جانتی تھی فیکٹریز ہی واحد معاشی ذریعہ تھا اُس کے گھر والوں کا۔ جن کے چھن جانے کے بعد وہ روڈ پر آسکتے تھے۔
دل کے لہجے میں ابھی بھی ویسی ہی اکڑ اور دھونس زورین کو مزید آگ لگا گئی تھی۔ وہ واپس پلٹا تھا۔
” ابھی یہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔ اِس سے کہیں زیادہ مشکلات تمہاری اور تمہارے گھر والوں کی راہ میں لانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ مجھے سکون تب ہی ملے گا جب میں اُن سب کو برباد کرکے رکھ دوں گا۔“
زورین کی آنکھوں میں اپنے لیے بے انتہا سرد بن اور غصہ دیکھ دل کے منہ سے بے آواز سسکی نکلی تھی۔ اُسے اِس شخص کی محبت چاہئے تھی۔ نفرت نہیں۔ آج تک اُسے ہمیشہ ہر طرف سے نفرت اور دھتکار ہی ملی تھی۔ مگر اُس نے کبھی اُن کی محبت حاصل کرنے کی خواہش یا دعا بھی نہیں کی تھی۔ مگر زورین شاہ ایسا اُس کے دل و جان میں بس چکا تھا کہ وہ ہر نماز میں اپنے رب سے اُسے مانگنے لگی تھی۔
لیکن دوسری جانب اپنی ہی بے وقوفیوں سے اُسے خود سے دور بھی کیے جارہی تھی۔
” آپ ہمیں برباد کیوں کرنا چاہتے ہیں۔“
دل نے پہلے دن سے اپنے دماغ میں گھومتا سوال پوچھ ہی لیا تھا۔ وہ جاننا چاہتی تھی آخر زورین اُسے اور اُس کے گھر والوں کو اتنا ناپسند کیوں کرتا تھا۔
”کیونکہ میں شدید نفرت کرتا ہوں۔ تمہارے گھر والوں سے بھی اور تم سے بھی۔ تمہارے خاندان والوں نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا۔ میرے اتنے سال جس تکلیف میں گزرے ہیں۔ اُس کے ایک ایک پل کا حساب دینا ہوگا تم لوگوں کو۔“
زورین سختی سے اپنی مُٹھیاں بھینچے اُس کی آنسوؤں سے تر آنکھوں میں اپنی لال نظریں گاڑھے اُس کو اندر تک کانپنے پر مجبور کر گیا تھا۔
جبکہ دل اُس کے غضبناکی پر سن سی رہ گئی تھی۔ اُس کی فیملی والوں نے زورین جیسے شخص کے ساتھ آخر ایسا کیا کیا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ اُن سے اتنی نفرت کرتا تھا۔
★★★★★★★★
سُلین اور ابتہاج صبح صبح ہی مری سے لاہور واپس آگئے تھے۔ ابتہاج کا وہاں سٹے ہمیشہ ایک دن کا ہی ہوتا تھا۔
ابتہاج اپنے روم میں آفس جانے کے لیے تیار ہورہا تھا۔ جبکہ سُلین ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی اُس کا انتظار کیے بغیر جلدی جلدی ناشتہ کررہی تھی۔ کل سے ابتہاج کی اپنے قریب موجودگی اور اُس کی پوری توجہ خود پر ہونے کی وجہ سے سُلین کے حواس معطل ہی رہے تھے۔ اُس شخص کی گہری لوح دیتی نظروں سے گھبرا کر وہ ٹھیک سے کھا بھی نہیں پائی تھی۔ اِس لیے اب پورے زور و شور سے کھانے میں مصروف تھی۔
کچھ دیر بعد اُسے ابتہاج سیڑھیاں اُترتا دیکھائی دیا تھا۔ جوس کے گلاس کی جانب ہاتھ بڑھاتے اُسے کا ہاتھ لرز اُٹھا تھا۔ وہ خود پریشان تھی کہ اِس ساحر کے ساتھ وہ اپنی پوری زندگی کیسے گزار پائے گی۔ جس کی ایک نظر ہی اُس پر لرزا طاری کر دیتی تھی۔
” مجھے بھی جوس پینا ہے۔“
سُلین کے ساتھ کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے ابتہاج نے اُس کی کیفیت سے محظوظ ہوتے اپنی فرمائش ظاہر کی تھی۔
”جی سر جوس؟؟؟“
ملازمہ خاصی حیران ہوئی تھی۔ کیونکہ ابتہاج کو جوس بالکل بھی پسند نہیں تھا۔ بلکہ اُسے تو کوئی بھی میٹھی چیز پسند نہیں تھی۔
مگر ابتہاج نے ملازمہ کی بات کا جواب دیئے بغیر اُسے وہاں سے جانے کا اشارہ کردیا تھا۔
”مجھے یہ والا جوس پینا ہے۔“
ابتہاج کی شوخ نظریں سُلین کے گلاس پر تھیں۔ جو اپنے گلاس میں موجود آدھا جوس پی چکی تھی۔
”مگر یہ میرا جھوٹا ہے، میں آپ کو اور لادیتی ہوں۔“
ابتہاج ٹیبل پر بازو پھیلائے اُس کی کرسی کی جانب بالکل جھکا ہوا تھا۔ اُس کی نظریں اپنے ہونٹوں کے اُوپر لگے جوس پر محسوس کرتے سُلین نے جلدی سے ٹشو پیپر کی جانب ہاتھ بڑھایا تھا۔ مگر اُس سے بھی پہلے ابتہاج نے اُس کی ٹھوڑی تھامتے انگوٹھے کی مدد سے اُس کا جوس صاف کردیا تھا۔ سُلین کے ہاتھ میں گلاس لرز اُٹھا تھا۔
کیونکہ ابتہاج نے ہاتھ ابھی بھی ہٹایا نہیں تھا۔ اُس کا انگوٹھا سُلین کے ہونٹ کے اُوپری حصے پر موجود تل کو چھو رہا تھا۔ سُلین میں اتنی ہمت نہیں تھی۔ کہ وہ اُسے خود سے دور کر پاتی۔
سُلین کو خود پر بہت حیرت ہونے لگی تھی۔ وہ ایسی تو کبھی نہیں تھی۔ اتنے سال اُس نے اکیلے نہ صرف خود کو بلکہ اپنے ریسٹورنٹ کو بھی بہت اچھے سے سنبھالا تھا۔ کسی کی جرأت نہیں تھی۔ اُس کے آگے بولنے یا اُس کو کسی قسم کا آرڈر دینے کی۔ سُلین ہمیشہ سے ایک کانفیڈنٹ لڑکی رہی تھی۔ مگر ابتہاج لغاری نے آتے ساتھ ہی اُس کج بینڈ بجا دی تھی۔
اپنے پورے سٹاف کو اپنے اشاروں پر چلانے والی اب خود ہی ابتہاج لغاری کی آنکھوں کے اشاروں پر چلنے لگی تھی۔ ابتہاج لغاری کی سحر انگیز شخصیت کے آگے بڑے بڑے گھٹنے ٹیک دیتے تھے۔ وہ تو پھر ایک نرم دل جذبوں سے گندھی ایک نازک سی لڑکی تھی۔ مگر اِن سب ميں سے اہم بات ایک یہی تھی۔ کہ وہ ابتہاج لغاری کے آگے اُس کی شخصیت کی وجہ سے زیر نہیں ہوئی تھی۔ بلکہ اِس سرد و سپاٹ بندے کی محبت بھرے انداز نے زیر کیا تھا اُسے۔
ابتہاج نے اُس کی آنکھوں میں جھانکتے اُسے جوس پلانے کا اشارہ کیا تھا۔ ابتہاج کا ہاتھ اب اُس کی گال پر ٹکا ہوا تھا۔
” یہ کیا کررہے ہیں آپ۔ ملازمین میں سے کوئی بھی یہاں آسکتا ہے۔ پلیز دور رہیں۔“
سُلین نے لرزتے کانپتے ہاتھوں سے اُس کی جانب جوس کا گلاس بڑھاتے اُسے اپنی شوخ جسارتوں سے باز رہنے کا اشارہ کیا تھا۔
جس پر حیرت انگیز طور پر ابتہاج لغاری باز بھی آگیا تھا۔
وہ شرافت کا مظاہرہ کرتا اُس کے ہاتھ سے جوس پینے لگا تھا۔ گلاس بار بار ہلتا دیکھ سُلین کے ہاتھوں کی لرزش محسوس کرتے ابتہاج نے اُس کا ہاتھ تھام لیا تھا۔ جوس پلانے کے لیے سُلین ہلکا سا ابتہاج کے قریب جھکی ہوئی تھی۔ اپنی پوزیشن کا خیال کرتے اُس کا چہرا بالکل لال ہوچکا تھا۔ ابتہاج نے اُس کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔ اِس لیے وہ پیچھے بھی نہیں ہوسکتی تھی۔ اُوپر سے جوس کا آدھا گلاس ابتہاج جیسے چھوٹے چھوٹے گھونٹ بھر کر پی رہا تھا۔ اُسے دیکھ کر یہی لگ رہا تھا۔ آج رات تک تو وہ اِسے بمشکل ختم کرپائے گا۔
”میرے خیال میں آپ کو آفس جانا تھا۔“
سُلین اچھے سے سمجھ رہی تھی۔ وہ صرف اُسے تنگ کررہا ہے۔ اُس نے جس طرح دانت پیس کر یہ بات کہی تھی۔ ابتہاج اپنا قہقہ نہیں روک پایا تھا۔
سُلین مبہوت سی اُس کا یہ نیا رُوپ دیکھے گئی تھی یہ شخص ہنستے ہوئے کس قدر پیارا لگتا تھا۔ اُس کی یہ خوبصورت گہری آنکھیں وحشت سی سجی نہین بلکہ خوشی سے جگمگاتی حسین لگتی تھیں۔ سُلین نے اُس لمحے دل سے یہ ہنسی ہمیشہ قائم رہنے کی دعا کی تھی۔
وہ بھول چکی تھی کہ اِس وقت وہ اُس کے کتنے قریب بیٹھا اُسے کس قدر غور سے دیکھ کے ہے۔ وہ ہر لحاظ و شرم سائیڈ پر رکھتی ہونٹوں پر دلفریب سی مسکراہٹ سجائے اُسے دیکھے گئی تھی۔
”لگتا ہے میری بیوی کو مجھ پر بہت پیار آرہا ہے۔“
ابتہاج نے اُس کے چہرے پر آئے بالوں کو اُنگلی پر لپیٹتے انتہائی قریب ہوکر اُس کے کان میں سرگوشی کی تھی۔
سُلین ہوش کی دنیا میں لوٹتی فوراً گھبرا کر پیچھے ہٹی تھی۔
”ایسا کچھ نہیں ہے۔“
سُلین نے اپنے اُوپر ایسا کوئی الزام نہیں آنے دیا تھا۔
” ہاہاہاہاہاہا میں جانتا ہوں۔ ابھی میں اتنا خوش نصیب بھی نہیں ہوا۔“
اب کی بار ابتہاج کی ہنسی میں ایک عجیب سا خالی پن تھا۔ سُلین نے ٹھٹھک کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔
” تھینکس مائی لو۔ آج پورے سات سال بعد مجھے میرا ہی قہقہ سنوانے کے لیے۔ میری زندگی کی واحد خوشی ہو تم۔ کبھی مجھ سے دور مت جانا۔“
ابتہاج سُلین کے ماتھے پر بوسہ دیتے اپنی جگہ سے اُٹھا تھا۔ جبکہ سُلین اُس کی سال سات والی بات پر مزید اُلجھی تھی۔ اِس سے پہلے کے وہ کچھ پوچھتی۔ ملازمہ نے ڈائینگ ہال کا دروازہ بجاتے اُن دونوں کو اپنی جانب متوجہ کیا تھا۔
” سر وہ مسز لغاری ملنے آئی ہیں آپ سے۔ میں نے بہت روکنے کی کوشش کی اُنہیں مگر وہ بضد ہیں کہ آپ سے ملے بغیر نہیں جائیں گی۔ اور بہت رو بھی رہی ہیں۔“
ملازمہ کا سُلین کے سامنے اِس طرح سب بول دینے پر ابتہاج اُسے سخت نظروں سے سرزنش کرتے واپس بھیج دیا تھا۔ جبکہ مسز لغاری کا نام سن کر وہ واپس پہلے والا ابتہاج لغاری بن گیا تھا۔
” یہ ملازمہ کس کی بات کررہی تھی۔”
سُلین نے سوالیہ نظروں سے ابتہاج کی جانب دیکھا تھا۔
” کوئی نہیں ہے وہ۔ کوئی بھی نہیں۔ تم کافی تھک گئی ہوگی۔ جاؤ جاکر فریش ہوجاؤ اور آرام کرو۔“
ابتہاج سُلین کو کندھوں سے تھام کر سرد لہجے میں بولا تھا۔ سُلین اچانک ابتہاج کے اِس بدلتے انداز پر حیرت زدہ سی اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پائی تھی۔ جن آنکھوں میں کچھ دیر پہلے محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر آباد تھا۔ وہاں اب نفرت کے شرارے پھوٹ رہے تھے۔ سُلین بہت چاہنے کے باوجود ابتہاج سے کچھ بھی پوچھنے کی ہمت نہیں کر پائی تھی۔ وہ خاموشی سے ابتہاج کی بات مانتی اپنے روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔
★★★★★★★★
”دیکھا دی نا تم نے اپنی اصلیت۔ لے لیا نا ہم سے بدلہ آخر۔ ہمارے سارے احسان بھول گئی تم۔”
رقیہ بیگم دل پر بُری طرح برس رہی تھیں۔ ڈرائنگ روم میں گھر کے سبھی لوگ جمع تھے۔ جن سب کے آگے دل سرجھکائے مجرموں کی طرح کھڑی تھی۔ جیسے یہ سب اُسی نے کیا ہو۔
زورین نے آفس جانے کے بعد اُسے کال کی تھی۔ کہ وہ اُس کی اجازت کے بغیر اپنے میکے نہیں جائے گی۔ دل تو پہلے ہی یہاں آنے کے لیے تیار تھی۔ زورین کی ضد میں ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیے بغیر وہ گھر سے نکل آئی تھی۔ مگر یہاں آکر گھر والوں نے تو اُسے اپنی ٹھوکروں پر ہی رکھ لیا تھا۔
سب اُسے ہی الزام سے رہے تھے۔ کہ وہ زورین کو روک سکتی تھی۔ مگر اُس نے جان بوجھ کر نہیں روکا۔ ہمیشہ اُسے سپورٹ کرنے والیں۔ اُس کی ہر بات پر یقین کرنے والے اُس کی بہنوں جیسی کزنز بھی آج خاموش سی ایک کونے میں کھڑی تھیں۔
بےشک وہ باقی سب گھر والوں کی طرح اُس پر الزام نہیں لگا رہی تھیں۔ مگر اُن کی آنکھوں میں موجود بگ اعتباری دل کو لہولہان کر گئی تھی۔
زورین شاہ کے لیے اُس کا غصہ مزید بڑھ گیا تھا۔
” پھوپھو پلیز میرا یقین کریں۔ میں نہیں جانتی تھی زورین ایسا کچھ کررہے ہیں۔ اگر مجھے پتا ہوتا تو میں ایسا کبھی نہ ہونے دیتی۔“
دل اُن سب کو یقین دلانے کی کوشش کرتے بولی۔
” اب تو پتا چل چکا ہے۔ ابھی بھی سب کچھ تمہارے شوہر کے ہاتھ میں۔ وہ چاہے تو اب بھی اب کچھ بالکل ٹھیک کرسکتا ہے۔ ابھی بات کرو زورین شاہ سے۔ ماہرانی بنا کر رکھا ہوا ہے۔ اُس نے تمہیں اپنے محل کی۔ اتنی تو تمہاری بات سنے گا ہی۔“
رقیہ بیگم کی نظریں اُس کی کلائیوں میں موجود گولڈ کے بھاری کنگھن ، کانوں اور گلے میں موجود ڈائمنڈ سیٹ پر تھیں۔ جو سب منزہ نے یہاں آتے زبردستی اُسے پہنایا تھا۔ اُن کی نظروں سے تو ابِھی وہ اتنی بڑی شاندار گاڑی نہیں ہٹ رہی تھی۔ جس پر دل یہاں آئی تھی۔
جس لڑکی کو وہ اپنی نوکرانی بنا کر رکھنا چاہتی تھیں۔ اُسے یوں عیش کرتے دیکھ اُن کے دل پر چھڑیاں چلنے لگی تھیں۔
”پھوپھو ٹھیک کہہ رہی ہیں دل۔ تم ایک بار بات تو کرو اپنے شوہر سے۔ جو شخص تمہیں اتنی اہمیت دیتا ہے وہ تمہاری بات مان جائے گا۔“
نرمین نے بھی اُس کی جانب دیکھتے بہت عجیب لہجے میں بات کی تھی۔
جبکہ اُس کا دل چاہا تھا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔ کیا اِس دنیا میں کوئی ایک انسان بھی ایسا نہیں تھا۔ جو اُسے سمجھ پاتا۔
وہ کیسے بتاتی اُن سب کو۔ کہ زورین شاہ کے آگے اُس کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ وہ اُس سنگدل اور بے حس انسان کے لیے کسی کھلونے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ جب وہ اُسے بیوی مانتا ہی نہیں تھا۔ تو بھلا کیسے اُس کی بات کو اہمیت دیتا۔
دل اُسی طرح سب کے سامنے سر جھکائے کھڑی تھی۔ جب اُس کی نظر اپنے موبائل سکرین پر پڑی تھی۔زورین اُسے کال کررہا تھا۔ موبائل سائلنٹ موڈ پر ہونے کی وجہ سے وہ دیکھ نہیں پائی تھی۔
اُس کا دل زورین شاہ کا نام دیکھ کر ہی دھڑک اُٹھا تھا۔ وہ جانتی تھی زورین کو اب تک اُس کے یہاں آنے کا پتا چل چکا ہوگا۔
”ضرور اب کوئی نئی سزا سنانی ہوگی۔ اپنی بات نہ مانی جانے پر۔“
دل تصور میں اُس کا غصے سے سُرخ چہرا سوچتی اتنی دور ہوتے ہوئے بھی خوفزدہ سی ہوئی تھی۔
”دل بات کرو گی نا تم زورین بھائی سے۔“
سویرا نے اُس کے ہاتھ تھامتے اُمید بھری نظروں سے دیکھتے پوچھا تھا۔
” سویرا وہ۔۔۔۔۔“
اُس کے ہونٹ پھڑپھڑائے تھے۔ وہ کیسے بتاتی اُنہیں۔ اُس شخص کے لیے وہ اتنی اہمیت کی حامل نہیں تھی کہ وہ اتنے آرام سے اُس کی اتنی بڑی بات مان جاتا۔ آج صبح ہی تو وہ اپنی شدید نفرت کا اظہار کرکے گیا تھا وہ۔
”پلیز۔۔۔۔ہماری خاطر دل پلیز۔۔۔آج تک تم سے کبھی کچھ نہیں مانگا۔ ہمیشہ گھر والوں سے تمہاری خاطر لڑی ہیں۔ کیا اُس سب کے بدلے تو اتنا بھی نہیں کرسکتی ہمارے لیے۔“
سویرا کی بات پر دل نے جھٹکے سے سر اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں زخمی مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔ وہ بھلا کیسے بھول سکتی تھی۔ اِس دنیا میں ہر انسان خود غرض تھا۔ سب کو صرف اپنی خوشیوں ، اپنی زندگی کی پرواہ تھی۔ اُسے اب تک یہی لگتا آیا تھا کہ کسی کے لیے نہ سہی مگر اپنی جان سے عزیز کزنز کے لیے اہمیت رکھتی ہوگی وہ۔ مگر وہ سب تو اب تک اُس پر ترس کھا کر احسان کرتی آئی تھیں۔ جس کا حساب آج سویرا نے اُس سے مانگ لیا تھا۔
”میں بات کرتی ہوں۔“
دل کو ایک سیکنڈ لگا تھا فیصلہ کرنے میں۔ اپنے آنسو دل پر گراتے وہ بہت مشکل سے خود پر قابو پاتے بولی تھی۔
★★★★★★★
”میم یہ آپ کے لیے آیا ہے۔ آپ پلیز اِس پر سائن کر دیں۔“
سُلین ابتہاج کی بات مان کر ایک بار تو روم میں چلی گئی تھی۔ مگر چند سیکنڈز بعد باہر نکلتی ڈرائنگ روم کی جانب بڑھی تھی۔ جہاں مسز لغاری نامی عورت موجود تھی۔
آخر یہ عورت تھی کون۔ مسز لغاری مطلب ابتہاج کی ماں۔ مگر ابتہاج نے تو کہا تھا۔ اُس کی ماں پر چکی ہے۔ پھر یہ کون تھی۔ سُلین کا دماغ بالکل اُلجھ چکا تھا۔ یہی گتھی سلجھانے وہ ابتہاج کی بات نہ مانتے باہر آگئی تھی۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
