Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

”آپ پلیز ایک بار زورین شاہ سے بات تو کریں۔ میں اُن کا زیادہ ٹائم بالکل نہیں لوں گا۔“
سفیان اب کی بار زرا ملتجی لہجے میں بولا تھا۔ وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے مسلسل اِن لوگوں کی منتیں کررہا تھا۔ مگر وہ کسی صورت اُسے زورین شاہ سے ملوانے کو نہیں مان رہے تھے۔
“ سر ہم آپ کو بتا چکے ہیں۔ کہ ہمیں پرمیشن نہیں ہے۔ ایک دفعہ زورین سر منع کرچکے ہیں۔ اب دوبارہ اُن سے پوچھ کر ہم اپنی جاب داؤ پر نہیں لگا سکتے۔ آپ پلیز اب جائیں یہاں سے۔“
زورین شاہ کا پی اے اب قدرے سخت لہجے میں بولا تھا۔ وہ مزید بھی کچھ کہتا مگر سیڑھیوں پر نظر پڑتے وہ فوراً الرٹ ہوتے اُس جانب بڑھا تھا۔
” باس آگئے ہیں۔ آپ یہاں اُن سے بات کرنے کی کوشش مت کیجیئے گا۔ اُنہیں راستے میں خود کا روکا جانا سخت نا پسند ہے۔“
پی اے سفیان کو زورین کی جانب جاتا دیکھ ٹوکتے ہوئے بولا۔ جس پر سفیان اپنے قدم وہی روک گیا تھا۔ وہ معاملہ سنبھالنا چاہتا تھا۔ مزید بگاڑنا نہیں۔ پورے پروٹوکول کے ساتھ سیڑھیوں سے اُتر کر باہر کی جانب بڑھتے زورین شاہ کو دیکھ سفیان اُس کی شاندار پرسنیلٹی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پایا تھا۔
بلیک تھری پیس سوٹ میں سوٹڈ بوٹڈ ہاتھ میں پہنی قیمتی گھڑی اور کان سے لگا مہنگا ترین موبائل اُس کی عمارت کا پتا دے رہے تھے۔ وجاہت و دلکشی سے مالا مال وہ شخص دیکھنے سے ہی کافی گھمنڈی معلوم ہورہا تھا۔ خوبرو نقوش سے سجے چہرے اور سرمئی آنکھوں میں طاقت کا عجیب سا نشہ چھایا ہوا تھا۔ جو صاف ظاہر کررہا تھا۔ کہ زورین شاہ سے ٹکرانا آسان کام نہیں تھا۔ زورین شاہ کے اردگرد پانچ چھ لوگ بلیک پینٹ شرٹ میں ملبوس کانوں میں ائیر پیس لگائے مستعد سے ساتھ چلتے اُس کے آرڈر کے منتظر تھے۔ زورین شاہ نے اپنے ساتھ ساتھ اپنے سٹاف کی بہترین ڈریسنگ کا خیال رکھا ہوا تھا۔ جو بات اُس کی شان و شوکت میں مزید اضافہ کررہی تھی۔
زورین شاہ کی ایک جھلک دیکھ کر ہی سفیان کو اپنا کام بننا مشکل لگ رہا تھا۔ جتنا اُس کے بارے ميں سن رکھا تھا۔ دیکھنے میں وہ اُس سے بھی کہیں زیادہ بڑی چیز معلوم ہورہا تھا۔
زورین شاہ کے لیے پہلے ہی ایگزیٹ گیٹ اوپن کردیا گیا تھا۔ جس سے وہ تیز قدموں سے باہر نکل گیا تھا۔ جہاں باہر پارکنگ میں اُس کی گاڑیاں تیار کھڑی تھیں۔
زورین کی آفس بلنڈنگ بہت ہی خوبصورت ڈیزائن سے بنائی گئی تھی۔ آفس کے سامنے بڑے سے گراؤنڈ میں گھاس کے درمیان چلنے کے لیے روش بنائی گئی تھی۔ جہاں سے آگے جاکر درمیان میں بلیک کلر کا فوارہ لگا ہوا تھا۔ جس سے چاروں طرف راستے جاتے تھے۔ ایک راستہ سیدھا سامنے بنی سیڑھیوں کی جانب جاتا تھا۔ جہاں اُوپر گاڑیوں کے لیے پارکنگ ایریا بنایا گیا تھا۔
زورین شاہ موبائل کان سے لگائے اُسی جانب بڑھ رہا تھا۔ جب اچانک نسوانی چیخ کی آواز پر اُس سمیت اُس کے پیچھے چلتے باقی لوگوں نے بھی اُوپر کی جانب دیکھا تھا۔

★★★★★★★

” پتا نہیں اندر آفس میں کیا ہورہا ہوگا۔ سفیان نے اتنی دیر لگا دی۔“
دل گاڑی میں بیٹھے کب سے سفیان کا انتظار کرتے فکرمندی سے بولی۔ سفیان اُن چاروں کو کالج سے پک کر کے گھر لے جارہا تھا۔ جب زورین شاہ کا اپنے آفس میں ہونے کا سن کر وہ سیدھا یہی آگیا تھا۔ مسلسل اتنی کوششوں کے بعد آج اگر زورین شاہ سے ملاقات کرنے کا موقع مل رہا تھا تو وہ یہ گنوانا نہیں چاہتا تھا۔ اِس لیے اُنہیں گھر ڈراپ کرنے میں ٹائم ویسٹ کرنے کے بجائے ساتھ لے آیا تھا۔
وہ لوگ کافی دیر سے بیٹھیں اُس کے واپس لوٹنے کا انتظار کررہی تھیں۔
”بس دعا کرو وہ شخص مان جائے۔ گھر میں سب کتنے پریشان ہیں۔ اگر وہ نہ مانا تو پتا نہیں کیا ہوگا۔“
صوفیہ بھی پریشانی سے بولی تھی۔
آج کل ذکریا منزل میں ایک عجیب سی ٹینشن کا ماحول بنا ہوا تھا۔
” دل تم کہاں جارہی ہو۔ سفیان بھائی نے سختی سے منع کیا تھا۔ گاڑی سے مت نکلنا۔“
سویرا دل کو باہر نکلتا دیکھ روکتے ہوئے بولی۔
” میں کہیں دور نہیں جارہی۔ بس یہیں پارکنگ ایریا سے ہی کھڑے ہوکر نیچے دیکھنے لگی ہوں۔ سفیان آرہے ہیں یا نہیں۔“
دل اُس کو جواب دیتی گاڑی سے نکل کر پارکنگ ایریا سے باہر کی جانب بڑھی تھی۔ اتنی دیر ایک جگہ ٹک کر بیٹھنا اُس کے بس کی بات نہیں تھی۔
”واؤ کتنی خوبصورت جگہ ہے۔“
دل ڈھلوانی سطح پر بنے پارکنگ ایریا سے گزر کر سائیڈ پر لگی ریلنگ کی جانب بڑھتی اشتیاق بھری نظروں سے اردگرد کا منظر دیکھتے ہوئے بولی۔
”اِس بندے نے یہاں بلاوجہ کا خرچہ کیا ہوا ہے۔ مگر کسی کی مدد کرتے ہوئے نجانے کیا مسئلہ ہوتا ہے اِسے۔ انسان پیسوں سے جتنا امیر ہو دل سے اُتنا ہی غریب ہوتا ہے۔ یہ بات تو ماننے والی ہے۔“
ریلنگ زرا اونچی ہونے کی وجہ سے اُس پر دونوں پاؤں رکھ کر اُوپر چڑھتے وہ جھک کر نیچے کا نظارہ دیکھنے لگی تھی۔ اُس کی نظریں سامنے بنے سیاہ رنگ کے فاؤنٹین پر اٹک کر رہ گئی تھیں۔ وہ اُس کی خوبصورتی میں اِس قدر گم ہوچکی تھی۔ کہ سائیڈ سے ٹوٹی ریلنگ پر دھیان نہیں دے پائی تھی۔ اگلے ہی لمحے اُس کا پاؤں پھسلا تھا اور وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ پاتے سیدھی نیچے جاگری تھی۔
زور سے چیخ مارتے اُس نے دل ہی دل میں کلمہ پڑھ لیا تھا۔ اتنے اُوپر سے گر کے اب اُس کا بچنا ناممکن تھا۔
زورین شاہ نے موبائل کان سے ہٹا کر اُوپر سے گرتی اُس سفید پری کو دیکھا تھا۔ جب نجانے کیا سوچتے اچانک وہ آگے ہوا تھا۔ اُس کو زمین پر گر کر اپنی ہڈیاں توڑوانے سے پہلے ہی اپنی بانہیں پھیلا کر تھام لیا تھا۔ دل اِس وقت سفید نیٹ کے فراک میں ملبوس تھی۔ جس کا دوپٹہ زورین کے بازو پر آن ٹھہرا تھا۔
دل کی چمکتی دودھیا رنگت خوف کے مارے لال ہوچکی تھی۔ کپکپاتے ہونٹوں کے اُوپری حصے پر موجود تل لرز رہا تھا۔ چھوٹی سی ستواں ناک بالکل سرخی مائل ہوچکی تھی۔دیکھنے والے کے لیے اِس حسین منظر سے نظریں چرانا آسان کام نہیں تھا۔ مگر اِس نسوانی وجود کی دلکشی زورین شاہ جیسے شخص کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔
زورین نے ناگواری سے اپنے حصار میں چیختی لڑکی کو دیکھا تھا۔ جو سختی سے آنکھیں میچے، اُس کے کوٹ کو وائٹ نیل پینٹ سے سجے نازک ہاتھ میں جکڑے ابھی بھی خوف سے کانپ رہی تھی۔ اُسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ بچ گئی ہے۔ زورین ہونٹ بھینچے ایک سرد نظر اُس کی بند مُٹھی میں قید اپنے کوٹ پر ڈالتے اُسے اُس کے بچ جانے کا یقین دلانے کے لیے بانہوں سے آزاد کرکے زمین پر پٹختا دو قدم پیچھے ہٹا تھا۔ پہلے ہی اِس لڑکی کو بچا کر وہ اِس پر بہت بڑا احسان کرچکا تھا۔ اِس سے زیادہ وہ کسی کو فیور نہیں دیتا تھا۔
”آؤچ ۔۔۔۔۔“
دل گیلے گھاس پر گرتی اپنی کمر زور سے نیچے ٹکرانے کی وجہ سے کراہی تھی۔ اور آنکھیں کھول کر سامنے موجود لوگوں کو دیکھا تھا۔ اُس کے دونوں ہاتھ اور کپڑے گھاس کی مٹی گیلی ہونے کی وجہ سے کیچڑ سے بھر گئے تھے۔
”آئم سوری۔۔۔“
سامنے موجود رعب دار سی شخصیت کے مالک شخص کو اتنے غصے سے خود کو گھورتا پا کر اُس کا خون خشک ہوا تھا۔ جس طرح اِس شخص نے اُسے نیچے پھینکا تھا۔ اُس کا پیر نیچے آنے کی وجہ سے بُری طرح مُڑ گیا تھا۔ جس میں اب درد سے ٹیسیں اُٹھ رہی تھیں۔ اُن سب کی عجیب نظریں اپنے وجود پر پڑتے دیکھ وہ مزید شرمندگی کا شکار ہوئی تھی۔ اُٹھنے کی کوشش کے باوجود بنا سہارے کے اُس سے پاؤں ہلایا بھی نہیں جارہا تھا۔
اُس کی سوری کے جواب ميں زورین نے اپنے ہاتھ میں موجود دوپٹے کا گولا بنا کر اُس کی جانب اُچھال دیا تھا۔
” کون ہے یہ لڑکی اور کیا کررہی ہے یہاں۔“
زورین کے بھاری سرد لہجے پر اُس کے پیچھے کھڑے آدمی دل کو گھور کررہ گئے تھے۔ کیونکہ اب اُس کی وجہ سے شامت اُن لوگوں کی آنی تھی۔ وہ سب اچھی طرح جانتے تھے کہ اگر اُن کے باس زورین شاہ کو ضروری کام کے لیے جاتے یوں درمیان میں روکا جائے تو اُسے کتنا غصہ آتا تھا۔ جو کہ اب اِس وائٹ بلی نے اُس کا راستہ کاٹ کر اُس کا موڈ مزید خراب کردیا تھا۔
” آپ اِن کو بعد میں ڈانٹیے گا۔مجھ سے اُٹھا نہیں جارہا پلیز میری ہیلپ کردیں۔ مجھے پیر میں بہت درد ہورہا ہے۔“
اِس سے پہلے کے زورین کے پیچھے کھڑے آدمیوں میں سے کوئی کچھ بولتا۔دل آویز درد کی وجہ سے آنکھوں میں اُتر آئی نمی پیچھے دھکیلتی سامنے کھڑے شخص کی جانب ہاتھ بڑھاتے بولی۔ جس کے تیور اُس کا کیچڑ بھرا ہاتھ دیکھ کر اِس قدر خوفناک تھے جیسے ابھی اُس کا گلا دبا دے گا۔
جس شخص کا زرا سی بھی گندگی دیکھ پارہ چڑھ جاتا تھا۔ دل کا کیچڑ میں لتھڑا ہاتھ تھامنا تو ناممکنات میں سے تھا۔ اُوپر سے اِس لڑکی کا اجنبی ہونے کے باوجود ایسے ہی اُس کی جانب مدد کے لیے ہاتھ بڑھانا زورین کو سخت ناگوار گزرا تھا۔
”ایسے لوگ اگر آئندہ مجھے میرے ایریا میں نظر آئے تو اِن سب سمیت تم لوگوں کو بھی اُٹھا کر باہر پھینک دوں گا۔ میرا اتنا ٹائم ویسٹ کردیا۔ فُلش گرل۔“
زورین آبرو اُچکا کر بے پناہ غصیلے لہجے میں اپنے پیچھے کھڑے لوگوں کو وارن کرتا ایک ناگواریت بھری نظر زمین پر بیٹھی دل پر ڈالتا اپنے مخصوص مغرور انداز میں سن گلاسز چڑھاتے وہاں سے نکل گیا تھا۔
اِس قدر ہتک آمیز رویے پر دل منہ کھولے حیرت سے اُس شخص کو جاتا دیکھ رہی تھی۔ اُس کے پاؤں میں بہت سخت لگی تھی۔ اُٹھنا محال ہورہا تھا۔ ورنہ وہ کبھی بھی ایسے گھمنڈی شخص کی جانب ہاتھ بڑھانے کی غلطی نہ کرتی۔
” اللّٰه جی کتنے بے حس لوگ ہیں اِس دنیا میں۔ اب اگر غلطی سے گرنے سے بچا ہی لیا تھا تو اتنی سی مدد اور کر دیتا۔ مگر چھوڑو دل تمہیں تو عادت ہے ایسی بے حسی برداشت کرنے کا۔ پھر شکوہ کس بات کا۔ شکر ہے ٹانگے ٹوٹنے سے بچ گئیں۔“
دل دوسرے پیر پر دباؤ ڈالتے اُٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔ مگر ناکام ہوتے تکلیف کے مارے آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے۔
” تم یہاں کیا کررہی ہو۔“
سفیان اپنی پریشانی میں پارکنگ ایریا کی جانب بڑھ رہا تھا۔ جب اُس کی نظر ایک سائیڈ پر گھاس پر بیٹھی دل پر پڑی تھی۔ وہ حیرت زدہ سا اُس کے قریب آیا تھا۔
” میں آپ کو بلانے جا رہی تھی۔ میرا پاؤں سلپ ہوگیا اور میں بُری طرح گر گئی۔ مجھے پیر میں بہت درد ہورہا ہے۔”
دل زورین شاہ کے بُرے رویے کی وجہ سے دل برداشتہ تھی۔ سفیان کو اپنے لیے فکرمند ہوتا دیکھ اُس کی آنکھوں میں آنسو بھر گئے تھے۔ اصل بات دانستہ طور پر وہ چھپا گئی تھی۔ زورین شاہ جیسے لوگ اُس کی زندگی میں بہت زیادہ تھے۔ جن کے لیے اُسے بے عزت کرنا معمولی بات تھی۔ مگر سفیان جیسے لوگ بہت ہی کم تھے۔ جنہیں اُس کی پرواہ تھی۔ جو اُس کی تکلیف پر پریشان ہو اُٹھتے تھے۔
” منع کیا تھا نا تمہیں۔ مگر بات تو ماننی نہیں ہوتی تم نے۔ زیادہ درد ہورہا ہے کیا۔“
سفیان اُسے سہارا دے کر اُٹھاتا فکرمندی سے بولا تھا۔ اُس کے انداز میں اپنے لیے اتنی فکر دیکھ دل اپنا درد بھولتی مسکرا دی تھی۔ سفیان ہمیشہ اُس کا ایسے ہی خیال رکھتے آیا تھا۔ یہی بات دل کو آہستہ آہستہ اُس کے قریب لے آئی تھی۔
اُوپر پارکنگ ایریا میں اپنی گاڑی کی جانب بڑھتے زورین شاہ کی غیر ارادی نظر نیچے کی جانب اُٹھی تھی۔ جہاں دل کو کسی شخص کی بانہوں کے سہارے اُٹھتا دیکھ اُس نے ایک سخت نگاہ ڈال کر نظروں کا زاویہ بدل دیا تھا۔

★★★★★★★

سُلین اپنے بیڈ پر اردگرد فائلوں کا ڈھیر لگائے کام کرنے میں مصروف تھی۔ وہ اکثر ایسے ہی کام میں لگ کر آدھی رات گزار دیتی تھی۔ صبح سے مشین کی طرح کام کرتے اب اُسے کندھوں میں درد محسوس ہونے لگا تھا۔ سائیڈ ٹیبل پر پڑا چائے کا مگ اُٹھا کر لبوں سے لگاتے وہ بیڈ کراؤن سے سرٹکا گئی تھی۔
سُلین اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔ کچھ عرصہ پہلے ایک کار ایکسیڈنٹ میں اُس کی مدر کی ڈیتھ ہوگئی تھی۔ جس کے بعد وہ اور اُس کے بابا حبیب احمد نے بہت مشکل سے ایک دوسرے کو سنبھالتے اِس غم سے نکالا تھا۔ وہ پہلے ہی اپنے بابا کی آنکھ کا تارا تھی۔ اِس سب کے بعد تو وہ اُس کے معاملے میں مزید پروٹیکٹو ہوگئے تھے۔ وہ لوگ شروع سے ہی کراچی میں مقیم تھے۔ مگر نجانے اچانک ایسا کیا ہوا تھا۔ کہ حبیب صاحب راتوں رات اُسے لے کر لاہور آگئے تھے۔ سُلین اِس بات سے واقف تھی کہ وہ ایک سائنٹسٹ تھے۔اُنہیں اپنے کام سے بے حد پیار تھا۔ مگر لاہور آکر اُنہوں نے وہ کام چھوڑ کر ریسٹورنٹ اوپن کر لیا تھا۔ سُلین کے لیے یہ سب بہت حیران کن تھا۔ اُس نے کئی بار اپنے بابا سے اِن سب تبدیلیوں کے بارے ميں پوچھنا چاہا تھا۔ مگر ہر بار وہ اُسے صحیح وقت پر سب کچھ بتانے کا کہہ کر ٹال دیتے تھے۔ جس پر سُلین نے پوچھنا ہی چھوڑ دیا تھا۔ وہ اُن کے خود ہی بتانے کی منتظر تھی۔ لیکن اچانک حبیب صاحب کے ساتھ پیش آنے والے واقع نے اُس کی زندگی یکسر بدل دی تھی۔ اُس کے بابا کو کسی نے مارنے کی کوشش کی تھی۔ چار گولیاں لگی تھیں اُنہیں۔ سُلین کی دعاؤں سے اُن کی سانسیں تو بچ گئی تھیں۔ مگر بدقسمتی سے وہ کوما میں چلے گئے تھے۔ پچھلے چار سالوں سے اُنہیں آرمی ہاسپٹل میں فُل سیکیورٹی میں رکھا گیا تھا۔ قاسم نے ہی سُلین کو بتایا تھا کہ اُن کی جان کو خطرہ ہے۔ کیوں اور کس سے۔ سُلین کے یہ بات پوچھنے پر قاسم نے بھی اُس سے صاف لاعلمی کا اظہار کردیا تھا۔ قاسم پچھلے چھ سال سے اُن کے ساتھ تھا۔ اُس وقت سے جب سے وہ کراچی سے لاہور شفٹ ہوئے تھے۔
قاسم نے سُلین سے کبھی زیادہ بات نہیں کی تھی۔ مگر وہ ہر وقت سائے کی طرح اُس کے ساتھ رہنے کی کوشش کرتا تھا۔
نجانے کتنی ہی دیر وہ اپنی تکلیف دہ سوچوں میں کھوئی رہتی جب موبائل پر انجان نمبر سے آتی کال نے اُسے اپنی جانب متوجہ کیا تھا۔
”ہیلو سُلین حبیب اسپیکنگ۔“
سُلین اپنے مخصوص دھیمے لہجے میں مخاطب ہوئی تھی۔ مگر دوسری جانب سے جو خبر اُسے دی گئی تھی۔ اُس کے ہوش اُڑانے کے لیے کافی تھی۔
”کک کیا کب کیسے لگی آگ۔۔۔۔شام تک تو سب ٹھیک تھا۔۔۔۔“
سُلین اپنے ریسٹورنٹ کے سیکورٹی گارڈ کی گھبرائی آواز پر جلدی سے بیڈ سے اُٹھتی باہر کی جانب بھاگی تھی۔ اُس کے مطابق شارٹ سکرٹ کی وجہ سے ریسٹورنٹ کے ایک حصے میں آگ لگ گئی تھی۔ جس نے اب پورے ریسٹورنٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ سُلین کے لیے اُس کا ریسٹورنٹ اُس کی زندگی سے بڑھ کر تھا۔ کیونکہ یہ اُس کے بابا نے بہت ہی محنت ومحبت سے کھڑا کیا تھا۔
سُلین بنا کسی بھی بات پر دھیان دیئے ڈرائیور کے آنے کا انتظار کیے بغیر گاڑی میں بیٹھتی گھر سے نکل آئی تھی۔ شدید پریشانی کے عالم میں اُسے یہ خیال بھی نہیں آیا تھا کہ وہ قاسم اور صبا کو انفارم کردے۔
رات کے اڑھائی بج رہے تھے۔ ہر طرف ہو کا عالم چھایا ہوا تھا۔ روڈ بالکل سنسان پڑے تھے۔ دور دور تک کسی زی روح کا نام ونشان تک نہیں تھا۔ ایک پل کے لیے سُلین کو اپنے اِس طرح اکیلے نکل آنے کا فیصلہ بالکل غلط لگا تھا۔ مگر ریسٹورنٹ کے بارے ميں سن کر اُس کی جان آدھی ہوچکی تھی۔ عقل مندی کا تھوڑا سا ثبوت دیتے اُس نے جلدی سے قاسم کو میسج سینڈ کردیا تھا۔
ابھی وہ آدھے راستے میں ہی پہنچی تھی۔ جب روڈ کے عین درمیان میں اُسے بڑے بڑے پتھر پڑے نظر آئے تھے۔ جیسے کسی نے یہاں کا راستہ بند کرنے کی کوشش کی ہو۔ کسی گڑبڑ کے احساس کے تحت سُلین کا دل خوف سے کانپ اُٹھا تھا۔ وہ روز صبح اِسی راستے سے آتی جاتی تھی۔ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ ناچاہتے ہوئے بھی اُسے گاڑی روکنی پڑی تھی۔
جب اچانک سڑک کے کنارے جھاڑیوں سے تین شخص برآمد ہوتے اُس کی جانب بڑھے تھے۔ سُلین کا دل خوف سے بند ہونے لگا تھا۔ اسٹیرنگ تھامے اُس کے ہاتھ کانپ گئے تھے۔
”اے میڈم باہر نکلو فوراً۔“
زور دار طریقے سے گاڑی کا شیشہ بجاتے اُنہوں نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی تھی۔ جو سُلین ہڑبڑاہٹ میں لاک کرنا بھول گئی تھی۔ اُس نے اندر سے دروازہ اپنی جانب کھینچتے لاک کرنا چاہا تھا۔ مگر تب تک وہ اُسے کھول گئے تھے۔
”چھوڑو مجھے۔ کون ہو تم لوگ۔“
اُن میں سے ایک شخص نے سُلین کو گھسیٹ کر باہر نکالا تھا۔ سُلین کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا۔ مگر اب پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔
” چھوڑو مجھے۔ پلیز کوئی مدد کرو میری۔ “
سُلین اُن سے اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کرتی زور زور سے چلائی تھی۔
”خبردار۔ خاموشی سے ہمارے ساتھ چلو۔ ورنہ یہیں حشر بگاڑ دوں گا تمہارا۔“
اُن میں سے ایک لمبا چوڑا سیاہ فام سا شخص سُلین کی جانب غصے سے دیکھتا غرایا تھا۔ اُن لوگوں نے اُس کا پرس یا موبائل چھیننے کی کوشش نہیں کی تھی۔ نہ ہی اُسے کوئی نقصان پہنچانا چاہا تھا۔ جیسے اُنہیں صرف اُسے اپنے ساتھ لے جانے کا آرڈر تھا۔
”کون ہو تم لوگ۔ کہاں لے کر جارہے ہو مجھے۔“
سُلین اُس شخص کے بازو پر ناخن کھبوتے بولی تھی۔ مدد کے لیے چلانا اُس نے ابھی تک بند نہیں کیا تھا۔
” حرام زادی۔ لگتا ہے تیری عقل یہیں پر ہی ٹھکانے لگانی پڑے گی۔“
اُس غنڈے نما شخص نے سُلین کی حرکت پر رکتے پلٹ کر ایک تھپڑ اُس کے چہرے پر رسید کرنا چاہا تھا۔ مگر اُس کے ایسا کرنے سے پہلے ہی کسی نے درمیان میں آتے اُس شخص کا ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں جکڑتے سُلین کو پیچھے کی جانب دھکیلا تھا۔
سُلین سمیت وہ لوگ بھی اِس طرح اچانک کسی کو نازل ہوتا دیکھ اُس جانب متوجہ ہوئے تھے۔
”لڑکی کو گالی دیتے اور اُس پر ہاتھ اُٹھاتے زرا شرم نہیں آئی تمہیں۔ “
ابتہاج لغاری کی چنگارتی آواز اور آنکھوں سے نکلتے شعلے دیکھ سُلین مزید خوفزدہ ہوتی پیچھے ہٹی تھی۔
مضبوط مردانہ کلائی میں سیاہ دھاگا باندھے وہ غصے کی شدت سے اُس غنڈے کا ہاتھ توڑ دینے کے موڈ میں لگ رہا تھا۔ ڈارک براؤن آنکھیں قہر برسانے کو تیار تھیں۔ وجیہہ چہرے کے نقوش خطرناک حد تک تنے ہوئے تھے۔
” تجھے اتنی تکلیف کیوں ہورہی ہے۔ تو کیوں بیچ میں آرہا ہے۔ بہن لگتی ہے کیا تیری۔“
ساتھ کھڑے دوسرے آدمی نے ابتہاج پر حملہ آور ہوتے نہایت عامیانہ لہجے کا استعمال کرکے اُس کے غصے کو مزید ہوا دے دی تھی۔ جس کے بعد ابتہاج بھول چکا تھا کہ وہ کون ہے اور کہاں کھڑا ہے۔
اُس کا ڈھائی کلو کا ہاتھ اُس شخص کے چہرے پر پڑتا اُس کا جبڑا ہلانے کے ساتھ ساتھ آگے کے دانت بھی توڑ گیا تھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ جیل سے نکل کر آزاد فضاؤں میں آیا تھا۔ اِن لوگوں نے اُسے غلط ٹائم پر چھیڑنے کی غلطی کر دی تھی۔
اُس نے چند سیکنڈز میں ہی تینوں غنڈوں کو بُری طرح دھو ڈالا تھا. وہ بچارے اُس کے آگے ہاتھ جوڑتے لنگڑاتے وہاں سے بھاگ نکلے تھے.
جب وہ واپس ڈری سہمی اپنی گاڑی کے ساتھ لگی کھڑی لڑکی کی جانب بڑھا تھا.
” محترمہ جانتا ہوں عورت کو بھی پوری آزادی ہے اپنی مرضی سے کہیں بھی آنے جانے کی. مگر اِس ملک کے آج کل کے بگڑتے حالات تو آپ جانتی ہی ہیں. اُس کے باوجود اتنی رات کو آپ اکیلی کونسا مشن سر کرنے نکلی ہیں.”
جتنا وہ شخص دیکھنے میں اُکھڑ لگ رہا تھا. لہجہ اُس سے بھی کہیں زیادہ سرد تھا. سُلین کو اب اپنے اِس محافظ کی ہی خود پر گڑھی اِن لال آنکھوں سے خوف محسوس ہورہا تھا.
سُلین بنا اُس کی بات کا جواب دیئے جلدی سے واپس گاڑی میں بیٹھی تھی. مگر اُس سے بھی پہلے وہ اجنبی گاڑی کا دروازہ کھول کر فرنٹ سیٹ پر اُس کے برابر میں بیٹھ چکا تھا.
سلین کو اب اِس شخص سے خوف محسوس ہورہا تھا. اُس کا تو آج وہی حال تھا. آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا. غنڈوں سے تو بچ گئی تھی. مگر اِس شخص سے بچنا اُسے مشکل لگ رہا تھا. جو بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ گلے میں چین پہنے سیاہ لباس میں سیاہ گرم شال اپنے گرد اوڑھے رات کے اِس پہر روڈ پر تنہا موجود کوئی شریف آدمی تو بالکل بھی نہیں معلوم ہو رہا تھا.
اور اگر سلین کو یہ پتا چل جاتا کہ یہ شخص ابھی ایک گھنٹہ پہلے جیل سے چھے سال کی قید کاٹ کر رہا ہوا ہے تو اُس نے تو خوف کے مارے ویسے ہی اُوپر پہنچ جانا تھا.

جاری ہے