No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
”کیا ہوا۔ لگتا ہے آپ کا آج کی رات اِسی روڈ پر گزارنے کا ارادہ ہے۔ “
سُلین کو بالکل سٹیچو بنا دیکھ ابتہاج ایک سرد نگاہ اُس پر ڈالتے طنزیا لہجے میں بولا تھا۔ جس سے سُلین کا ڈر مزید بڑھ گیا تھا۔ اِس شخص کے چہرے پر موجود کرختگی اور ڈارک براؤن آنکھوں میں تیرتے سُرخ ڈورے سُلین کا دل سہما رہے تھے۔ ابتہاج نے ایک دو بار ہی بات کرتے نظر اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔ پھر بھی اُس کی موجودگی کا احساس ہی سُلین پر کافی بھاری پر رہا تھا۔
”آپ پلیز اُتریں میری گاڑی سے۔ بہت شکریہ آپ نے میری مدد کی مگر اب میں خود چلی جاؤں گی۔“
سُلین نے بہت مشکل سے یہ الفاظ ادا کیے تھے۔ ورنہ ابتہاج کی سحر انگیز شخصیت کے آگے یہ کہنا اُسے بہت مشکل لگ رہا تھا۔ ابھی ابھی اُسے قاسم کا میسج موصول ہوا تھا۔ جس کے مطابق ریسٹورنٹ بالکل ٹھیک تھا۔ آگ لگنے والی بات کسی نے اُس سے جھوٹ کہی تھی۔ یہ بات تو سُلین کو بھی کلیئر ہوگئی تھی کہ کسی نے اُس کے خلاف سازش کی ہے۔ مگر کس نے۔۔۔۔ یہ سوچنے کا اُس کے پاس فلحال ٹائم نہیں تھا۔ قاسم کی بار بار آتی کال کاٹ کر اُس نے میسج پر اپنے واپس گھر جانے کا بتا دیا تھا۔ کیونکہ اِس وقت وہ کال پر بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔
ابتہاج اُس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر ہی بیٹھا تھا۔ سُلین کی بات پر اُس نے چہرا پھیر کر نگاہ اُس پر ڈالی تھی۔ جس کے خوف سے سُلین کا دل زور سے دھڑکا تھا۔ وہ بے حد کانفیڈنٹ اور نڈر لڑکی تھی۔ اپنے ریسٹورنٹ میں آنے والے ہر طرح کے لوگوں کو ڈیل کرتی تھی۔ کبھی اُسے اتنی پرابلم فیس نہیں کرنی پڑی تھی۔ جتنی اِس وقت اِس شخص کے سامنے کرنی پڑ رہی تھی۔ ابھی تو اُس کے لیے اچھی بات یہی تھی کہ وہ پوری طرح متوجہ نہیں تھا۔ اگر وہ اپنا رُخ سُلین کی جانب کرکے بات کرتا تو سُلین نے چند سیکنڈز میں ہی بے ہوش ہوجانا تھا۔ جس شخص بات کرتے اچھے بھلے مرد بھی گھبرا جاتے تھے۔ وہ تو پھر ایک لڑکی تھی۔ وہ بھی تنہا اُسی کے رحم و کرم پر۔
”اوکے محترمہ ایز یو وش۔ مجھے لگا آپ کو تھوڑی بہت عقل آگئی ہوگی۔ کہ اِس طرح رات کو اِن جنگلوں سے گزرنا خطرناک ہے آپ کے لیے۔ لیکن آپ ابھی یہاں جھاریوں میں چھپی باقی مخلوق سے ملاقات کرنا چاہتی ہیں۔ گڈ نائٹ۔“
ابتہاج اُسے اِس خطرناک جگہ کی سنگینی سے آگاہ کرتا لاپروائی سے کندھے اُچکاتے دروازہ کھولنے لگا تھا۔
”ایک منٹ۔۔۔۔آپ بیٹھ جائیں پلیز۔۔۔۔“
ابھی اُس کا ایک پیر ہی باہر گیا تھا۔ جب سُلین کے ایکدم بولنے پر وہ وہیں رُکا تھا۔ اگر کوئی اور وقت ہوتا تو جس طرح اِس لڑکی نے اُسے اپنی گاڑی سے اُتر جانے کو کہا تھا۔ وہ اُس پر ایک نظر ڈالنا بھی گوارہ کیے بغیر فوراً نکل جاتا۔ مگر بہت پتھر دل ہوجانے کے باوجود وہ خود کو اِس حد تک بے حس نہیں بنا پایا تھا۔
سُلین کی التجا پر وہ خاموشی سے واپس اندر بیٹھتا زور سے گاڑی کا دروازہ بند کر گیا تھا۔ سُلین نے دہل کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔ اُسی لمحے ابتہاج نے بھی نظریں اُٹھائی تھیں۔ نگاہوں کے اِس غیر متوقع تصادم پر سلین کی دھڑکنوں کی سپیڈ خطرناک حد تک بڑھ گئی تھی۔ اُس کی گہری سرد آنکھیں خود میں ایک طلسم سموئے ہوئے تھیں۔ جو مقابل کو ایک ہی نظر میں اپنے حصار میں جکڑنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ سُلین نے فوراً نظریں موڑ لی تھیں۔ اور دوبارہ ایسی کوئی بھی غلطی کرنے سے خود کو باز رکھا تھا۔
اِس شخص کو سُلین نے اِسی لیے روکا تھا۔کہ وہ دوبارہ یہاں سے اکیلا واپس جانے کا رسک نہیں لینا چاہتی تھی۔ یہ بندہ دیکھنے میں جتنا بھی سخت گیر اور برتاؤ سے جلاد ٹائپ لگ رہا تھا۔ مگر کہیں نہ کہیں سُلین کو اپنا آپ اِس شخص کے ہوتے محفوظ لگ رہا تھا۔
یہاں مزید اپنا ٹائم ویسٹ کیے بنا سُلین نے لرزتے ہاتھوں سے گاڑی ریورس کرتے واپس گھر کے راستے پر ڈالی تھی۔ اُس کی پوری توجہ ڈرائیونگ پر ہی تھی۔جب چند سیکنڈز بعد دھویں اور سگریٹ کی سمیل اُس کے نتھنوں سے ٹکرائی تھی۔ سُلین نے کن اکھیوں سے ساتھ بیٹھے شخص کو گھورا تھا۔ وہ اُس کی موجودگی کا خیال کیے بغیر ایک کے بعد دوسرا سگریٹ سلگھاتا آنکھیں موندے سکون سے پینے میں مصروف تھا۔
سُلین جھرجھری سی لیتی واپس سامنے کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔ ابتہاج کے سائیڈ کی ونڈو اوپن تھی۔ جس کے باوجود دھواں گاڑی کے اندر جمع ہورہا تھا۔ جس کی سمیل سے سُلین کو اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ مگر ابتہاج لغاری کی طبیعت پر زرا برابر بھی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے سفر میں وہ پانچ سے چھ کے درمیان سگریٹ پی چکا تھا۔
اچانک دھواں گلے میں چلے جانے کی وجہ سے سلین پر کھانسی کا دورہ پڑا تھا۔ جس وجہ سے اسٹیرنگ پر قابو نہ رکھ پاتے گاڑی ڈسبیلنس ہوئی تھی۔ ابتہاج نے اِس اچانک رونما ہونے والی ہلچل پر حیرت سے سلین کی جانب دیکھا تھا۔ اُس کے لیے یہ زرا سا دھواں ہی تھا۔ جس سے سلین کا اتنا کھانسنا اُس کے لیے حیران کن تھا۔ کیونکہ اُس کے لیے تو یہ سگریٹ اُس کی تنہائی اور دکھ سکھ کے ساتھی تھے۔ جیل میں پچھلے چھ سال تک اُس کا ٹک جانا اِنہی کی بدولت تھا۔ جیل میں سگریٹس یا ایسی کوئی بھی نشہ آور چیز لے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ مگر صرف اُس کی خاطر پاشا اپنے تمام اثر و سروخ استعمال کرکے اُس تک اُس کی جان سے عزیز یہ چیز پہنچاتا رہا تھا۔ ابتہاج ایک گھنٹے میں سگریٹس کی پوری پوری ڈبی ختم کردیتا تھا۔ اُس کے سیاہی مائل اعنابی ہونٹ اِس بات کے گواہ تھے۔ مگر سُلین جیسی لڑکی نے اپنے قریب رہنے والے مرد پہلے اپنے بابا اور پھر قاسم کو اِس فضول چیز کو آج تک ہاتھ لگاتے بھی نہیں دیکھا تھا۔ اِس لیے اُس کے لیے یہ سب برداشت کرنا کافی مشکل تھا۔ اُس کے کھانسنے کی وجہ سے وہ گاڑی پر بالکل کنٹرول کھو چکی تھی۔
اِس سے پہلے کے گاڑی سامنے موجود درخت سے ٹکراتی ابتہاج نے سُلین کی جانب جھکتے اُس کے ہاتھوں کے اُوپر سے اسٹیرنگ تھام کر گاڑی کا رخ دوسری جانب موڑا تھا۔ اُس کے مضبوط ہاتھوں کے لمس پر سُلین ساکت سی اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پائی تھی۔ یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا تھا۔ کہ دونوں ہی کچھ سمجھ نہیں پائے تھے۔
سُلین نے اسٹیرنگ سنبھالنے کے بجائے ہڑبڑا کر ہاتھ اُس کی گرفت سے نکال کر پیچھے کر لیے تھے۔ اِس بات کا خیال کیے بغیر کے ابتہاج لغاری آدھے سے زیادہ اُس کے اُوپر جھکا ہوا تھا۔ سُلین کے لرزتے ہاتھوں کی موومنٹ پر ابتہاج نے چہرا ہلکا سا موڑتے اُس کی جانب دیکھا تھا۔ دو ہرنی سی خوفزدہ آنکھیں اُس کی جانب ہی اُٹھی ہوئی تھیں۔ دودھیا پیشانی پر پسینے کے قطرے جگمگا رہے تھے۔ اِس سے پہلے کے ابتہاج کی نگاہیں اِس دلکش منظر میں گم ہوجاتیں۔ اُس نے فوراً خود کو سرزنش کرتے رُخ موڑ لیا تھا۔ اپنی اِس بے اختیار حرکت پر اُسے خود پر شدید غصہ آیا تھا۔
وہ اسٹیرنگ چھوڑتا فوراً پیچھے ہٹا تھا۔ جسے سُلین نے واپس کپکپاتے ہاتھوں سے تھام لیا تھا۔ اُس کے گھر کا آدھا راستہ تیس منٹ کی ڈرائیو پر تھا۔ جو اب اُسے صدیوں پر محیط لگ رہا تھا۔
اتنے فاصلے پر جس شخص کی موجودگی اُس کی جان مشکل میں ڈالے ہوئے تھی۔ اُس کا حادثاتی طور پر قریب آنا سُلین کے اُوسان خطا کر گیا تھا۔ اُس کی منتشر دھڑکنیں ابھی تک جگہ پر آنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔
” آر یو اوکے۔“
سُلین کی زرد پڑتی رنگت دیکھ نجانے کس احساس کے تحت ابتہاج اپنے مخصوص کھردرے لہجے میں مخاطب ہوا تھا۔ سُلین سے آج تک اتنے بُرے انداز سے کبھی کسی نے حال نہیں پوچھا تھا۔
وہ ایسے لہجے کا کبھی جواب نہ دیتی۔ اگر اِس وقت اِس بُری سچویشن میں اِس شخص کے رحم و کرم پر نہ ہوتی۔
سر اثبات میں ہلا کر اُس نے جواب دیا تھا۔ جسے سنتے ہی ابتہاج واپس سگریٹ سلگھا گیا تھا۔ جسے دیکھ سُلین بھی اندر سے سُلگھ اُٹھی تھی۔ اتنا عجیب بندہ اُس نے آج تک نہیں دیکھا تھا۔ جو بات بھی ایسے کرتا تھا جیسے مقابل پر احسان کررہا ہو۔ آنکھوں میں بھری وحشت کبھی کبھی چہرے پر بھی عیاں ہونے لگتی تھی۔
دیکھنے میں تو وہ اُسے اچھا خاصہ وجیہہ شخص لگا تھا۔ اُس کے انداز میں موجود رکھ رکھاؤ اور چہرے کے خوبصورت نقوش مقابل کو ناچاہتے ہوئے بھی اپنی جانب متوجہ کر دیتے تھے۔
سلین کن اکھیوں سے اُس کا جائزہ لیتی دل ہی دل میں اُس کی ظاہری متاثر کن پرسنیلٹی اور لہجے کی حد درجہ بدلحاظی پر غوروفکر کرنے میں مصروف تھی۔ اِس بات سے انجان کے بظاہر سگریٹ ہونٹوں میں دبائے باہر کی جانب دھواں چھوڑتا ابتہاج لغاری اُسکی بار بار خود پر اُٹھتی نگاہوں سے باخبر تھا۔
کچھ ہی لمحوں بعد سامنے نظر آتا اپنا گھر دیکھ سلین کی رکی سانسیں بحال ہوئی تھیں۔ اُس نے جان بوجھ کر اُسے صرف گمراہ کرنے کے لیے گاڑی اپنے گھر سے دو گھر چھوڑ کر پیچھے روکتے یہی ظاہر کیا تھا کہ یہ سامنے والا گھر اُسی کا ہے۔ اور اب وہ اُس کی گاڑی سے اُتر جائے۔ مگر اُن مسٹر کو اُسی شاہانہ انداز میں بیٹھے سگریٹ نوشی کرتے دیکھ سلین جل کر رہ گئی تھی۔ یہ شخص تھا ہی ایسا یا صرف اُس کا خون جلانے کے لیے ایسا کررہا تھا۔ وہ اُس کو مخاطب نہیں کرنا چاہتی تھی۔ مگر بنا کہے اُس کے گاڑی سے باہر نکلنے کے ارادے بھی نہیں لگ رہے تھے۔
” میرا گھر آچکا ہے۔ بہت شکریہ یہاں تک میرے ساتھ آنے کا۔“
اپنا گھر اور سامنے کھڑا واچ مین دیکھ کر اُس کی ساری بہادری واپس آچکی تھی۔ اِس لیے وہ ابتہاج کو گھورتی لفظ چبا چبا کر بولی تھی۔
لیکن سُلین کی بات پر اُس کے کان پر جوں تک نہیں رینگی تھی۔ اُسی طرح بیٹھے اُس نے اپنی وہی مقناطیسی خود میں جکڑنے والی نگاہیں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔
سُلین اُس کے دیکھنے کے انداز پر گڑبڑا سی گئی تھی۔
” آپ کیا واقعی اتنی بے وقوف ہیں۔یقین نہیں آرہا مجھے۔ پہلے آدھی رات کو تن تنہا لانگ ڈرائیو پر نکل جانا اور اب صرف مجھ سے اپنا گھر پوشیدہ رکھنے کے لیے کسی دوسرے کے گھر گاڑی لے جانے کی کوشش کرنا۔ پہلی دفعہ کسی کو مصیبت کو خود اپنی طرف دعوت دیتے دیکھا ہے۔ گاڑی وہاں لے کر جائیں آپ کا واچ مین آپ کا انتظار کر رہا ہے۔ “
ابتہاج سُلین کو اچھی طرح شرمندہ کرنے کے بعد اُس کے واچ مین کی جانب اشارہ کرتے بولا تھا۔ جو دور سے ہی اُس کی گاڑی دیکھ دروازہ کھول چکا تھا۔ اور جس طرح وہ سُلین کی گاڑی کی جانب دیکھ رہا تھا۔ ابتہاج جیسے بندے کے لیے معاملہ سمجھنا زیادہ مشکل نہیں تھا۔
سُلین کا چہرا اُس کی بات سن کر شرمندگی کے مارے لال ہوچکا تھا۔ زندگی میں پہلی بار اِس طرح منہ کے اُوپر اُس کا جھوٹ پکڑا گیا تھا۔
کتنا شاطر تھا یہ شخص۔
کتنی زیرک نگاہ رکھتا تھا۔
سُلین دور کھڑے اپنے واچ مین کو گھورتی مرے مرے ہاتھوں سے گاڑی آگے بڑھا گئی تھی۔ گیٹ کے سامنے پہنچتے اُس کے بنا کہے ابتہاج گاڑی سے نکل گیا تھا۔
سلین نے زرا سا سر نیچے کرکے اُس کے چوڑے شانوں کو گھورا تھا۔ جب اچانک اُس کے پلٹ کر دیکھنے پر سلین گڑبڑاہٹ کا شکار ہوتی ایک بار پھر خود کو کوستی گاڑی اندر لے گئی تھی۔ مگر وہ گاڑی اندر لے جاکر بیک ویو مرر سے گیٹ کے باہر کے منظر پر نظر ڈالنا نہیں بھولی تھی۔
جہاں اُسے واچ مین کی رکھی کرسی پر بیٹھتے دیکھ سلین کا دل زور سے دھڑکا تھا۔ وہ یہاں کیوں بیٹھ رہا تھا۔ سُلین ایک بار پھر خوفزدہ ہوئی تھی۔ جلدی سے اندر آکر انٹر کام پر واچ مین کو گیٹ لاک کرکے اندر آنے کا کہتی وہ اپنے روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔
جہاں ریسٹورنٹ والی بات جھوٹ ہونے پر اُس کا دل سکون سے بھر گیا تھا۔ وہیں اِس پیش آنے والے واقع اور اِس شخص سے ہونے والی ملاقات نے اُس کا دماغ گھما کر رکھ دیا تھا۔ وہ بیڈ پر بیٹھے اِسی بارے ميں سوچ رہی تھی۔ جب کسی خیال کے تحت وہ اُٹھ کر ٹیرس کی جانب بڑھی تھی۔ جہاں سے گیٹ کے باہر کا منظر واضح نظر آتا تھا۔
واچ مین کی کرسی خالی پڑی تھی۔ وہ وہاں موجود نہیں تھا۔ سُلین گہری سانس ہوا میں خارج کرتی واپس پلٹی تھی۔ جب اُس کی غیر ارادی نظر روڈ کے دائیں جانب کھڑی انتہائی بیش قیمت گاڑی اور اُس میں بیٹھتے اُسی شخص پر پڑی تھی۔ جس کے لیے ڈرائیور بیک سائیڈ کا دروازہ کھولے کھڑا تھا۔ ابتہاج کے گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ پھرتی سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتا گاڑی وہاں سے نکال کر لے گیا تھا۔
سُلین حیرت سے آنکھیں پھاڑے یہ سب دیکھ رہی تھی۔ آخر یہ شخص تھا کون۔ پہلے سنسان روڈ پر پیدل چلتے اُس کا اکیلے پایا جانا اور اب اتنی بڑی گاڑی میں بیٹھ کر جانا۔ یہ شخص سُلین کا دماغ پوری طرح گھما چکا تھا۔ وہ اِس کے بارے ميں نہیں سوچنا چاہتی تھی۔ مگر دماغ بار بار بھٹک کر اِسی کی جانب جارہا تھا۔
★★★★★★★★
”کیا کہہ رہے ہیں سب۔ مسئلہ حل ہوا۔“
دل سویرا کو اندر آتا دیکھ اُمید بھرے لہجے میں بولی تھی۔
” نہیں کچھ نہیں بنا۔ وہ شخص اپنی کسی میٹنگ کے سلسلے میں ملک سے باہر چلا گیا ہے۔ اُس کے مینجر نے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے۔ جس کے دوران پیسوں کا ارینج ہوتا ہے تو ٹھیک ورنہ وہ دونوں فیکٹریوں پر اپنا قبضہ کر لیں گے۔ بڑے ماموں کی طبیعت بہت سخت خراب ہے۔ اُن کے اتنے سالوں کی محنت اور جمع پونجی اِس طرح آرام سے اُن کے ہاتھوں سے نکل رہی ہے۔ اور وہ کچھ بھی نہیں کرپارہے۔ “
سویرا نم آلود لہجے میں بولتی دل کے پاس آبیٹھی تھی۔ اُس کی بات سن کر دل کے چہرے پر بھی افسردگی اور پریشانی پھیل گئی تھی۔
دل کے ساتھ گھر والوں کا رویہ جیسا بھی سہی مگر اُس نے سب کو دل سے اپنا مانا تھا۔ کسی ایک کو بھی مشکل میں دیکھ وہ پریشان ہو اُٹھتی تھی۔
ذکریا منزل میں دل کا پورا ننھیال آباد تھا۔ نانا نانی کی بہت پہلے ڈیتھ ہوچکی تھی۔ جن کے بعد اِس گھر کے سربراہ اُس کے بڑے ماموں تنویر صاحب تھے۔ جن میں اُن کے فیصلوں سے بھی زیادہ اُن کی بڑی بہن رقیہ بیگم کی مرضی شامل ہوتی تھی۔ رقیہ بیگم بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ جو شادی کے تین سال بعد اپنے ماتھے پر طلاق کا داغ لگوا کر اپنے اکلوتے بیٹے تقی کے ساتھ میکے واپس لوٹ آئی تھیں۔
اُن سے چھوٹے تنویر صاحب اور فاخرہ بیگم کی چار اولادیں تھیں۔ سفیان،نرمین، لائبہ اور حمزہ۔ تیسرا نمبر ندیم صاحب کا تھا۔ جن کی شادی اُن کی خالہ زاد شبانہ بیگم سے ہوئی تھی۔ اُن کے بھی تین بچے تھے۔ سویرا،زوہیب اور صوفیہ۔ دل آویز کی مام شہلا بیگم بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھیں۔ وہ بچپن سے اپنے ماموں زاد کزن اور رقیہ بیگم کے دیور اکرام سے منسوب تھیں۔ جس رشتے سے بچپن سے لے کر بڑے ہونے تک مسلسل وہ انکاری ہی کرتی آئی تھیں۔ اُنہیں اکرام بالکل بھی پسند نہیں تھا۔ شہلا بیگم کے اِس انکار نے زور اُس وقت پکڑا جب ایک دن یونیورسٹی میں اُن کی ملاقات ہمایوں سے ہوئی تھی۔ وہ امیر کبیر بے انتہا حسن اور وجاہت کا شاہکار شخص پہلی نظر میں ہی اُن کا دل چرا کر لے گیا تھا۔ شہلا بیگم خود بھی غیر معمولی حُسن کی مالک حسین دوشیز تھی۔ جس پر ایک بار پڑنے والی نظر واپس پلٹنا بھول جاتی تھی۔ وہ دونوں خود بھی سمجھ نہیں پائے تھے۔ کب وہ ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوتے چلے گئے تھے۔ دونوں ہی ایک دوسرے کے معاملے میں بہت مخلص تھے۔ ہمایوں شہلا کے گھر رشتہ بھیجنا چاہتے تھے۔ مگر شہلا اپنے انگیج ہونے کی وجہ سے اُسے اِس بات سے روکے ہوئے تھی۔ اُس نے ہمایوں کو کچھ دن رُک جانے کا کہتے پہلے خود گھر بات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ شہلا نے اپنی اکلوتی بڑی بہن کو اپنا ہم راز بناتے ساری سچائی سے آگاہ کردیا تھا۔ اور اُس سے ساتھ دینے کی مدد مانگی تھی۔ مگر رقیہ بیگم اپنی بہن کی خوشی کی خاطر اپنا گھر داؤ پر لگانے کو کسی صورت تیار نہیں تھیں۔ اُنہوں نے بجائے شہلا کا ساتھ دینے کے اپنے ماں باپ اور بھائی کے سامنے شہلا کی ساری سچائی کھول کر رکھ دی تھی۔ جس کے بعد شہلا کے لیے زندگی تنگ کردی گئی تھی۔ اُس کا نہ صرف یونیورسٹی جانا بند کردیا گیا تھا۔ بلکہ صبح شام گھر والوں کی حقارت آمیز نظریں اور باتیں بھی برداشت کرنا پڑتی تھیں۔ رقیہ بیگم کو شہلا کی حرکات مشکوک لگنے لگی تھیں۔ جس کی وجہ سے ایک سال بعد ہونے والی شادی اُنہوں نے ایک ہفتے کے اندر اندر رکھاوا لی تھی۔ شہلا اِس سب پر بوکھلا کر رہ گئی تھی۔ بہت مشکلوں سے چھپ کر اُنہوں نے ہمایوں سے رابطہ کیا تھا۔ جب اور کوئی حل نہ ملتے بارات سے ایک دن پہلے وہ ہمایوں کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی تھیں۔
اِس قدر بدنامی اور دھوکے پر رقیہ بیگم کے سسرال والوں نے شہلا کے کیے کا بدلہ اُن سے لیتے اُنہیں طلاق دے کر گھر سے نکال دیا تھا۔
رقیہ بیگم دن رات اُٹھتے بیٹھتے شہلا کو بد دعائیں دیتے نہ تھکتی تھیں۔ یہ واقعہ گزرے ابھی دو سال ہی ہوئے تھے۔ جب ایک صبح نماز کے لیے جاتے تنویر صاحب کو گیٹ کے سامنے ایک چھوٹی سی نومولود بچی کمبل میں لپٹی نظر آئی تھی۔ جسے خدا ترسی میں اُٹھا کر وہ اندر لے آئے تھے۔ بچی کے کمبل سے فاخرہ بیگم کو ایک خط ملا تھا۔ جس پر لکھی تحریر اُن سب کے چہروں پر غم و غصے کی لہر دوڑا گئی تھی۔
یہ بچی شہلا کی بیٹی دل آویز تھی۔ شہلا کسی شدید مصیبت کا شکار تھی۔ اُس نے اپنے ماں باپ اور بھائیوں سے دل آویز کو پناہ دینے کی بھیک مانگی تھی۔ یہ سب پڑھتے رقیہ بیگم نے سختی سے انکار کرتے اپنے بھائی سے بچی کو فوراً باہر پھینک دینے کا کہہ دیا تھا۔ وہ اُس عورت کی بیٹی کو ایک پل کے لیے بھی اِس گھر میں برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔ وہ سب لوگ ایسا کر بھی گزرتے مگر شہلا کے فادر ذکریا صاحب نے دل آویز کو سینے سے لگاتے سب کے منہ وہیں بند کردیئے تھے۔ اُن کے مطابق شہلا کا قصور ناقابلِ معافی تھا۔ مگر اُس سب میں اِس معصوم بچی کا کوئی قصور نہیں تھا۔
جب تک دل آویز کے نانا نانی زندہ رہے تھے۔ سب کا رویہ اُس کے ساتھ اچھا نہیں تو بُرا بھی نہیں تھا۔ مگر اُن کے آنکھیں موندتے ہی دل آویز کے بُرے دن شروع ہوئے تھے۔ رقیہ بیگم نے تو اُسے اپنی ٹھوکروں پر ہی رکھ لیا تھا۔ ہر وقت وہ اُسے اُس کی ماں کے حوالے سے طعنے دیتے نہ تھکتی تھیں۔ اکثر اوقات تو اُس کے کردار پر بھی انگلی اُٹھانے سے بھی باز نہیں آتی تھیں۔ دل آویز شروع سے ہی بہت حساس بچی تھی۔ اپنی اکلوتی خالہ اور ماموں ممانیوں کا نارواں سلوک اُس کے معصوم دل کو زخمی کرکے رکھ دیتی تھی۔ مگر وہ اپنی ساری سچائی سے واقف تھی۔ اُس کے مطابق اُسے یہاں پناہ دے کر اِن لوگوں نے بہت بڑا احسان کیا تھا اُس پر۔ جسے وہ زندگی بھر نہیں اُتار سکتی تھی۔ لیکن ایک حقیقت سے وہ ناواقف تھی۔ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ ذکریا صاحب نے مرنے سے پہلے جائیداد کا کچھ حصہ اُس کے نام کر دیا تھا۔ شاید وہ جانتے تھے کہ اُن کے بعد دل آویز کا کوئی ٹھکانا نہیں ہوگا۔ رقیہ بیگم سمیت باقی سب گھر والے صرف اِسی جائیداد کی وجہ سے مجبور ہوکر اُسے اپنے گھر میں برداشت کیے ہوئے تھے۔ دل آویز کے بیس سال کا ہونے تک اُس کی جائیداد اُس کے نام سے نہیں اُتاری جاسکتی تھی۔
شہلا بیگم کا اُس کے بعد کوئی اتا پتا نہیں تھا۔ اور نہ ہی دل سمیت اُن کے بارے میں کوئی پتا لگوانا چاہتا تھا۔ دل آویز اپنی پوری زندگی محرومیوں میں گزارنے کے بعد بھی اپنے چہرے پر اپنا غم نہیں لانے دیتی تھی۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
