Teri Chah Mein By Farwa Khalid Readelle50119 Episode 33
No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
“بیگم صاحبہ سر آپ کو جم خانے میں بلا رہے ہیں۔“
سُلین نے اِس نئے آرڈر پر اپنا سر پکڑ لیا تھا۔ دو دن سے ابتہاج نے اُسے گھن چکر بنا کر رکھ دیا تھا۔ اپنا ہر کام وہ اُس کے ہاتھوں سے کروا رہا تھا۔
اُس کے کپڑے پریس کرنے سے لے کر کھانا بنانے اور یہاں تک کے کھلانے کی زمہ داری بھی سُلین کی ہی تھی۔ سُلین اُس وقت کو کوس رہی تھی۔ جب اُس نے ابتہاج کے آگے یہ سب کرنے کی حامی بھری تھی۔ کوئی شخص اِس قدر ٹف بھی ہوسکتا تھا۔
دن میں کوئی بیس ایک بار تو وہ کڑوی کافی اُس سے بنوا کر پیتا تھا۔ یہ سب تو سُلین پھر بھی خندہ پیشانی سے کر جاتی تھی۔ مگر اُس کی جذبے لُٹاتی گہری نظروں کا سامنا کرنا سُلین کے لیے بہت مشکل کام تھا۔
صبح سے سُلین اِسی بات کا ویٹ کررہی تھی کہ ابتہاج کب جم میں جائے گا۔ تو اُس کی شوخی بھری نظروں سے تو چھٹکارا ملے گا۔ مگر آدھے گھنٹے بعد ہی اُس کے بلاوے پر سُلین تپ اُٹھی تھی۔ اگر وہ بابا کی وجہ سے اِس شخص کے آگے مجبور نہ ہوتی تو اب تک اُسے سبق سیکھا چکی ہوتی۔
“جی بلایا آپ نے۔“
سُلین نے دانت پیستے اپنے لہجے کو حتی المکاں نارمل رکھنے کی کوشش کی تھی۔
ابتہاج حسبِ معمول بلیک ٹراؤزر اور بلیک بنیان میں ملبوس تھا۔ اُس کے کسرتی شانے نمایاں ہوتے سُلین کی نظریں مزید جھکا گئے تھے۔
”میرے ڈمبلز نہیں مل رہے۔ پتا نہیں کہاں رکھ دیئے ملازمین نے صفائی کرتے ہوئے۔“
ابتہاج کی بات سن کر سُلین نے چاروں طرف نظریں دوڑائی تھیں۔ مگر کہیں بھی اُس کے ڈمبلز کا نام و نشان تک نہیں تھا۔
”میں ڈھونڈ دیتی ہوں۔“
سُلین اُس کا پرسکون انداز دیکھ دانت پیستے بولی تھی۔ وہ یقین کررہی نہیں سکتی تھی۔ کہ ابتہاج کے ملازمین نے اُس کی اتنی ضروری چیز گم کر دی اور وہ اتنے سکون سے کھڑا رہے۔ یہ سب اُس نے اُسے بلانے کے لیے کیا تھا۔
“اوکے تھینکس۔“
ابتہاج نے شانے اُچکاتے جواب دیا تھا۔ اور بہت ہی دلچسپی سے سُلین کو دیکھنے لگا تھا۔ جو اُس کی اصل چال سمجھ ہی نہیں پائی تھی۔
”یہاں تو کہیں بھی نہیں ہیں۔“
سُلین ہر جگہ ڈھونڈنے کے بعد ناکام لوٹتے بولی تھی۔
”وہی تو میں کہہ رہا تھا۔ ڈمبلز پتا نہیں کہاں گم کردیئے اُنہوں نے۔ اب ایکسرسائز تو کرنی ہے مجھے۔ یہ تو میں ایک دن بھی مس نہیں کرسکتا۔“
ابتہاج معنی خیزی سے بولتا اُس کے بے حد قریب آن کھڑا ہوا تھا۔
“تو۔۔۔۔۔“
ابتہاج لغاری اور کسی بات کی تمہید باندھ رہا تھا۔
”تو۔۔۔جب تک میرے ڈمبلز نہیں مل جاتے۔ اُن کا کام بھی تم سر انجام دو گی۔“
ابتہاج نے بات کے اختتام ہر ہی سُلین کو کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیئے بغیر بانہوں میں اُٹھا لیا تھا۔ سُلین ہکا بکا سی یہ دیکھ رہی تھی۔ یہ شخص اُس کی سوچ سے کئی گنا زیادہ شاطر تھا۔ اُس کو اپنے قریب رکھنے کے کیسے کیسے بہانے ڈھونڈ لیتا تھا۔
“یہ کیا طریقہ ہے۔ پلیز نیچے اُتاریں مجھے۔“
سُلین گرنے کے ڈر سے اُس کی شرٹ کا کالر اپنی مُٹھی میں دبوچے خوفزدہ لہجے میں بولی تھی۔
“تم مجھے انکار کررہی ہو۔“
ابتہاج نے سوالیہ نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔ جس پر ناچار سُلین کو نفی میں سر ہلانا پڑا تھا۔
مگر جیسے ہی ابتہاج نے اپنی ایکسرسائز شروع کی سُلین کا دل اُچھل کر پیٹ میں جاگرا تھا۔ سُلین اِس پوزیشن میں تھی۔ کہ ہر بار ابتہاج کے بازو اُوپر لے جانے پر اُس کے ہونٹ سلین کی گال سے ٹچ ہوتے تھے۔ اُس کا چہرا بالکل لال ہوچکا تھا۔ جیسے ابھی سارا خون چھلک پڑے گا۔
سُلین اچھے سے سمجھ رہی تھی۔ ابتہاج یہ سب اُسے تنگ کرنے کے لیے کررہا ہے۔ اُس نے بھی خود کو محفوظ رکھنے کے لیے۔ اپنا دوپٹہ اُس جگہ چہرے پر رکھ لیا تھا۔ جہاں ابتہاج اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑ رہا تھا۔
اُس کے گریز پر ابتہاج کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔
”میں تھک گئی ہوں۔ پلیز مجھے اب نیچے اُتار دیں۔“
سُلین کا سلکی دوپٹہ بار بار پھسل جاتا تھا۔ جس سے وہ بُری طرح زچ ہوچکی تھی۔
“اوکے۔۔۔۔تھینکس۔“
ابتہاج نے اُس کی گال پر اُسی مقام پر اپنے ہونٹوں کا گہرا لمس چھوڑ کر اُسے آزاد کردیا تھا۔ سُلین نے جلن کے احساس سے سامنے لگے مرر کی جانب دیکھا تھا۔ ابتہاج کے اِس لو بائٹ پر اُس نے ٹاول گلے میں ڈال کر اُسے باہر کی جانب جاتا دیکھ سختی سے گھورا تھا۔
اُسی لمحے ابتہاج نے پلٹ کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔ دور سے ہی اُسے گال پر ہاتھ رکھا دیکھ وی شوخی سے آنکھ دبا کر اُسے مزید آگ بھگولا کرتا وہاں سے نکل گیا تھا۔
“وحشی ،ایڈیٹ، لوفر، دہشت گرد کہیں کا۔ اتنے سال جیل میں رہ کر یہی سیکھ کر آیا ہوگا۔ اب میں گھر میں اِسے چھپانے کے لیے سب ملازمین کے سامنے نقاب کرکے رہوں گی۔“
سُلین اپنے گال کا قریب سے معائنہ کرتی تیز ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ اُسے کوسنے لگی تھی۔ جب موبائل بجنے پر جلدی سے وہ اُس جانب متوجہ ہوئی تھی۔ ابتہاج نے اُسے خود میں ایسا اُلجھا رکھا تھا۔ کہ اُس کی قاسم سے بات ہو ہی نہیں پائی تھی۔
” بس مزید کچھ دنوں کی بات ہے۔ پھر ابتہاج اپنے وعدے کے مطابق مجھے میرے بابا سے ملوا دیں گے۔“
سُلین اُسے اپنی خیریت بتاتی پُر اُمید لہجے میں بولی تھی۔
”اور آپ کو لگتا ہے۔ وہ آپ کا حبیب سر سے ملوا بھی دے گا۔ آپ ہر انسان کو اپنے جیسا سمجھتی ہیں۔ اِس لیے اتنے آرام سے اُس دھوکے باز اور غدار انسان پر یقین کررہی ہیں۔“
قاسم اُس کی ناسمجھی پر تاسف سے بولا تھا۔
“کیا مطلب میں سمجھی نہیں۔“
سُلین نے اِس رُخ پر سوچا ہی نہیں تھا۔
“وہ صرف آپ کو بے وقوف بنا رہا ہے۔ کبھی بھی آپ کو اتنی آسانی سے سر کے پاس لے کر نہیں جائے گا۔ آپ کو خود ہی حبیب سر تک پہنچنے کے لیے کچھ کرنا ہوگا۔ آپ اُسی کے کھیل کو اُس پر پلٹ سکتی ہیں۔“
قاسم اُسے نیا سبق پڑھانے لگا تھا۔ جسے سُلین بہت غور سے سننے لگی تھی۔
”آپ وہ زہر ڈال رہی ہیں نا اُس کی کافی میں۔“
قاسم نے آخر وہ سوال پوچھ ہی لیا تھا۔ جو وہ کب سے پوچھنا چاہتا تھا۔
” ہاں صبح و شام دونوں ٹائم اُس کی کافی میں ملا رہی ہوں۔ میں اِس شخص کی اصلیت اچھی طرح جان چکی ہوں۔ اب کسی قیمت پر نہیں چھوڑوں گی اُسے۔“
سُلین پُر عزم لہجے میں بولی تھی۔ دوسری طرف قاسم کے ساتھ بیٹھی گلشن آرا کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔ ابتہاج لغاری بہت جلد اُن کے ہاتھوں مات کھانے والا تھا۔ اتنے سال اُن دونوں ماں بیٹے نے صرف اِسی دن کا انتظار کیا تھا۔
”ویری گڈ۔ میں اپنے آدمی کے ہاتھ آپ کی طرف ایک نشہ آور دوا بھیج رہا ہوں۔ جسے آپ نے ابتہاج کی کافی میں مکس کرکے اُسے پلانی ہے۔ اِس دوائی کا اثر کافی زیادہ دیر تک رہے گا۔ جس دوران ابتہاج کو کسی بات کا ہوش نہیں ہوگا۔ آپ اپنا کام آسانی سے کر سکتی ہیں۔ ابتہاج کے فون اور لیپ ٹاپ کا سارا ریکارڈ آپ نے اپنے پاس ٹرانسفر کرنا ہے۔ اُس کی ساری امپورٹنٹ فائلز کا ڈیٹا بھی۔ اگر آپ نے یہ سب کرلیا۔ تو ہمارے پاس اُس درندے کے خلاف بہت سارے ثبوت اکٹھے ہوجائیں گے۔ جس کے بعد اُس پر ہاتھ ڈالنا ناممکن بالکل بھی نہیں رہے گا۔“
قاسم سُلین کو ساری بات سمجھا کر فون بند کرگیا تھا۔ سُلین کچھ دیر کھڑی اِس سب کے بارے میں سوچتی رہی تھی۔ اگر اُسے ابتہاج کی اِس قید سے رہائی چاہی تھی تو اُسے یہ سب کرنا تھا۔
اِس نئے پلان کے لیے خود کو تیار کرتی وہ گہرا سانس بھرتی جم سے نکل آئی تھی۔
★★★★★★★
زورین دوزانو وہیل چیئر پر بیٹھے شخص کے قدموں میں آن بیٹھا تھا۔ اتنے دنوں کی مسلسل پیش رفت کے بعد اُس نے آخر کار اپنے عزیز از جان چچا کو ڈھونڈ ہی لیا تھا۔
”مجھے معاف کردیں۔ اتنے سالوں تک ایک فضول سی غلط فہمی کا شکار رہتے میں نے آپ کے معاملے میں اتنی کوتاہی برتی۔ آپ دونوں اتنے بُرے حالات میں نجانے کتنی مشکلات اور تکلیف کا شکار رہے۔ آپ کی مدد کرنا تو دور کی بات میں آپ سے نفرت کرتا رہا۔ آپ کو صرف محبت کرنے کے جرم میں اِس حال تک پہنچا دیا گیا۔ اور میں آپ کے حوالے سے بالکل غافل رہا۔ آئم رئیلی سوری۔۔۔“
زورین ہمایوں شاہ کے دونوں ہاتھ تھام کر ندامت سے چور لہجے میں بولا تھا۔ اتنی جائیداد کا مالک شخص کے بوسیدہ سے گھر میں لاوارثوں کی طرح پڑا تھا۔ یہ سب دیکھ زورین کو اپنی لاعلمی اور غفلت پر مزید غصہ آیا تھا۔
اُسے ملازمہ نے یہی بتایا تھا کہ ہمایوں شاہ اپنی یادداشت کھو چکے ہیں۔ مگر اُنہیں اپنے پورے ہوش و حواس میں دیکھ زورین بے پناہ خوش تھا۔
“نہیں بیٹا تم شرمندہ مت ہو اِس سب میں تمہاری کوئی غلطی نہیں۔ تمہارے سامنے بچپن سے جو سچائی رکھی گئی تمہیں تو اُسی پر ہی یقین کرنا تھا۔ مگر اب میں بہت خوش ہوں۔ میرا بیٹا مجھے ڈھونڈتے میرے پاس پہنچ گیا ہے۔ مجھے یقین ہے اب وہ میری ہر تکلیف کا ازالہ کردے گا۔“
ہمایوں شاہ کے چہرے پر موجود سکون زورین کو حیرت میں مبتلا کررہا تھا۔ عیش و عشرت کا عادی شخص بھلا ایسی جگہ پر اتنے سکون سے کیسے رہ سکتا تھا۔
وہ زیادہ دیر اِس حیرت میں ڈوبا نہیں رہ پایا تھا۔ اور اُن سے اِس بارے میں سوال کرگیا تھا۔
اُس کے سوال پر ہمایوں شاہ نے مسکرا کر کچھ فاصلے پر کھڑی شہلا بیگم کی جانب دیکھا تھا۔
”اپنی جس دنیا کے لیے میں پورے زمانے سے لڑ گیا۔ وہ میرے پاس ہے۔ تو میری لائف آسودہ کیوں نہیں ہوگی۔ آج کل لوگوں کے نزدیک محبت بہت عام سا جذبہ اور ٹائم پاس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ لیکن سچی محبت کرنا اور اُسے حاصل کرنا دنیا کا سب سے حسین اور انوکھا احساس ہے۔ لوگ صرف باتیں کرتے ہیں۔ مگر ہم دونوں نے تو ثابت بھی کردیا کہ محبت کے سہارے انسان مشکل سے مشکل وقت بھی بہت سکون اور آسودگی سے گزار سکتا ہے۔ “
ہمایوں شاہ کا چہرا سچی خوشی کے احساس سے جگمگایا تھا۔
زورین شہلا بیگم سے ملا تھا۔ دل بالکل اُن کا عکس تھی۔ وہ بہت محبت سے دھیمی مسکراہٹ لبوں پر سجائے زورین سے ملی تھیں۔ جہاں تک اُن سے ہوپایا تھا اُس کی خاطر مدارت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
”ایسا تو بالکل نہیں ہوگا۔ کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کی یاد کبھی نہ آئی ہو۔ آپ نے ایک بار بھی دل آویز سے ملنے کی کوشش نہیں کی۔ کیا اِس کی اصل وجہ جان سکتا ہوں میں۔“
زورین کافی دیر کی خوشگوار گفتگو کے بعد سنجیدہ پہلو کی جانب آیا تھا۔ اپنی بات پر اُس نے اُن دونوں کے چہروں پر سایہ سا لہراتے دیکھا تھا۔
”چچا جان آپ پرامس کرچکے ہیں مجھ سے کچھ نہیں چھپائیں گے۔ میں سب کچھ سچ سننا چاہتا ہوں۔“
زورین دوٹوک لہجے میں بولا تھا۔
”شہلا کے بڑے بھائی تنویر نے واضح طور پر ہم تک یہ دھمکی بھیجوائی تھی۔ کہ دنیا والوں کے سامنے ہم خود کو مرا ہوا ثابت کردیں۔ ورنہ وہ ہماری بیٹی کو نقصان پہنچائے گا، اُس کی زندگی تباہ کردے گا۔ میں اپاہج اُس کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔ اِس لیے صرف اپنی بیٹی کی خوشی کی خاطر ہم نے گمنامی کی زندگی گزارنے کو زیادہ ترجیح دی۔ اب تو پتا چلا ہے دل کی شادی ہوچکی ہے۔ ہم بالکل بھی نہیں چاہتے ہماری حقیقت اُس کے شوہر اور سسرال والوں کے سامنے آئے۔“
بہت مشکل سے آنسوؤں کے بیچ ہمایوں شاہ نے یہ بات ختم کی تھی۔ یہ بات وہی جانتے تھے کہ اپنی بیٹیوں سے دور رہ کر وہ کس قدر تکلیف میں تھے۔
” ابِھی تو آپ نے کہا۔ آپ لوگوں نے محبت کی اور اُسے حلال طریقے سے آگے بڑھایا۔ اِس میں غلط کیا ہے۔ میرے خیال میں آپ کی ایسی کوئی حقیقت نہیں جو آپ کی بیٹی کو اپنے شوہر کے سامنے شرمندہ کردے۔ ویسے آپ کی بیٹی کا شوہر اتنا بُرا بھی نہیں ہے۔“
زورین آخری جملہ ادا کرتا مسکرایا تھا۔
“بیٹا آپ جانتے ہو میری دل آویز کا شوہر کون ہے کیسا انسان ہے وہ۔“
شہلا بیگم بے قراری سے بولی تھیں۔ جب سے اُنہیں دل کی شادی کا پتا چلا تھا۔ یہی ٹینشن کھائے جارہی تھی اُنہیں۔
”یہ تو آپ ہی بتا سکتی ہیں۔ کہ آپ کا داماد کیسا انسان ہے۔ جانتی ہیں آپ اُسے۔“
زورین کو اُن دونوں کی ایکسائٹمنٹ دیکھ کر بہت مزا آرہا تھا۔
“میں کیسے جانتی ہوں اُسے۔ میں سمجھی نہیں آپکی بات۔“
شہلا بیگم کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ کس طرف اشارہ کررہا ہے۔
“زورین شاہ نام ہے آپ کے داماد کا۔ کیا آپ اب بھی نہیں جانتیں آپ اُسے۔“
زورین کی بات پر وہ دونوں ہونقوں کی طرح اُسے دیکھے گئے تھے۔
”زورین تم۔۔۔۔تم ہو دل کے شوہر تم سچ کہہ رہے ہو۔“
اُن دونوں کا خوشی کے مارے بُرا حال تھا۔ اُن کو ایک دم اتنا پرسکون اور خوش ہوتا دیکھ زورین کھل کر مسکرا دیا تھا۔
”اب جلدی سے پیکنگ کریں۔ اور چلیں میرے ساتھ۔ آپ کے داماد کو آپ کی حقیقت جان کر بالکل بھی کوئی پرابلم نہیں ہے۔“
زورین کے اِس قدر خوش کن انکشاف پر شہلا بیگم نے آگے بڑھ کر اُس کی پیشانی چوم لی تھی۔ اُن کو زورین میں ایک ساتھ داماد اور بیٹا دونوں مل گئے تھے۔ زورین نے اُن سے وعدہ کیا تھا۔ وہ بہت جلد اُنہیں سلین کا بھی پتا لگوا کر دے گا۔
★★★★★★★★
“میم یہ قاسم سر نے بھیجی آپ کے لیے۔“
آصف نے قاسم کی بھیجی گئی نشہ آور دوا سُلین کی جانب بڑھائی تھی۔
”آئم سوری میری وجہ سے اُس دن ابتہاج نے آپ کے ساتھ بُرا برتاؤ کیا۔ “
آصف کے چہرے پر ابھی تک ابتہاج کے اُس دن والے تھپڑ کا نشان دیکھ وہ شرمندہ ہوئی تھی۔
” ارے بھابھی یہ تو بہت معمولی تھپڑ ہے۔ آپ کے اُس جلاد کے ہاتھوں آپ کی خاطر اِس سے زیادہ بھی کھا چکا ہوں میں۔ یہ میرے ہاتھ کی اُنگلی ٹیڑھی دیکھ رہی ہیں۔ یہ اُنہی کے مرہون منت ہے۔“
اُس کے زرا سے نرمی سے پوچھتے ہی آصف پٹری سے اُتر چکا تھا۔
”آج آپ مجھے بتا ہی دیں۔ یہ کس رشتے سے بھابھی لگتی ہوں میں آپ کی۔ اور میری وجہ سے ابتہاج نے آپ کو کیوں مارا۔“
سُلین کو اُس کی اُوٹ پٹانگ باتیں اچھا خاصہ تپا گئی تھیں۔
“فلحال آپ کو کچھ بھی بتا کر مجھے اپنے دوسرے گال پر نشان نہیں ڈلوانا۔ عنقریب میری شادی ہونے والی ہے۔ میں نہیں چاہتا میری دلہن میری شکل دیکھ کر ہی بھاگ جائے۔“
آصف اُس کی سیدھی بات کا اُلٹا جواب دیتا وہاں سے رفو چکر ہوگیا تھا۔
”یہ کیسا سرپھرا انسان بھیجا ہے قاسم نےمیری سیکورٹی کے لیے۔ جو اپنا خیال بھی ٹھیک سے نہیں رکھ سکتا۔“
سُلین دانت پیستی اندر کی جانب بڑھ گئی تھی۔
★★★★★★★★
“ماما آپ کو بھی یہ کارٹون پسند ہیں۔“
دل جو غائب دماغی کے عالم میں ٹی وی سکرین پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ میرا کے مخاطب کرنے پر چونک کر اُس کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔ سامنے آتے عجیب و غریب کارٹونز دیکھ وہ مسکرا دی تھی۔
”میرا آپ کے پاپا کہاں ہیں۔“
اُس رات کے بعد سے زورین کو دل نے ایک بار بھی گھر پر نہیں دیکھا تھا۔ شاید وہ بہت زیادہ غصے میں تھا۔
مگر ابھی پورچ میں اُس کی گاڑی کھڑی دیکھ وہ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور میرا سے پوچھ بیٹھی تھی۔
“میرے پاپا تو لندن میں ہیں۔“
میرا اپنی گڑیا کے بال ٹھیک کرتی مصروف سے انداز میں بولی تھی۔
”واٹ۔ لندن کب گئے وہ۔“
دل کو جھٹکا لگا تھا۔
“ارے آپ کو نہیں پتا۔ میرے پاپا تو مما کے پاس کس سے لندن میں ہی ہیں۔ میں اُن سے ویڈیو کال پر بات کرتی ہوں۔ بہت مزا آتا ہے۔ “
میرا کی بات سن کر دل حیرت زدہ سی اُسے دیکھے گئی تھی۔
”کیا نام ہے آپ کے پاپا اور مما کا۔“
دل اِس نئے انکشاف پر ششدر تھی۔
”پاپا کا نام ہے فراز اور مما کا نام ہے ہما۔۔۔۔ میرے پاپا بہت اچھے ہیں اور مما بھی۔ مگر مما بول نہیں سکتیں۔ اور نہ ہی میری طرف دیکھتی ہیں۔“
یہ بات کہتے اُس چھوٹی سی بچی کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی۔ ماں باپ سے دوری کتنی جان لیوا ہوتی ہے۔ یہ اُس سے بہتر بھلا کون جان سکتا تھا۔
”تو مطلب زورین شاہ آپ کے پاپا نہیں ہیں۔“
یہ سوال پوچھتے اُس کا دل زور سے دھڑکا تھا۔
”وہ پاپا نہیں بابا جانی ہیں میرے۔ فراز پاپا کے بیسٹ فرینڈ ہیں۔ ورلڈ کے بیسٹ بابا۔“
میرا کی باتیں اُس کا دماغ بالکل گھما گئی تھیں۔ مگر اُس کی باتوں سے جو نتیجہ وہ اخذ کر پائی تھی۔ وہ دل کے لیے کافی خوش کن تھا۔
میرا کو پیار کرتی وہ اُٹھ کر نسیمہ بیگم کے روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔
“کیا میں اندر آسکتی ہوں۔“
دل نے دستک دیتے اجازت مانگی تھی۔
“جی بی بی جی آپ اندر آئیں پلیز ۔۔۔۔۔“
نسیمہ بیگم اُسے دیکھ خوشدلی سے بولی تھیں۔
“مجھے آپ سے ایک بہت اہم بات پوچھنی ہے۔ میں جانتی ہوں آپ منزہ بھابھی سے بھی زیادہ زورین کے کلوز ہیں۔ آپ ہی ہیں جو میری کنفیوژن کلیئر کر سکتی ہیں۔ پلیز انکار مت کیجئے گا۔ میں بہت اُمید لے کر آئی ہوں آپ کے پاس۔“
دل کی اِس طرح تمہید باندھنے پر نسیمہ بیگم پوری سنجیدگی سے اُس کی جانب متوجہ ہوئی تھیں۔ ایک گھر میں رہتے وہ اُن دونوں کی ازدواجی زندگی کے بارے میں سب کچھ جانتی تھی۔ وہ خود بھی دل کی مدد کرنا چاہتی تھیں۔ کیونکہ اُنہوں نے پہلی بار زورین کی نظروں میں کسی کے لیے چاہت دکھی تھی۔
اُن کے اثبات میں حامی بھرنے پر دل کی ہمت مزید بڑھی تھی۔
“میرا اگر زورین کی سگی بیٹی نہیں ہے تو وہ کس کی بیٹی ہے۔ اگر اُس کے سگے ماں باپ زندہ ہیں تو وہ اُن سے الگ یہاں کیوں رہ رہی ہے۔“
دل نے ایک ہی سانس میں. سارے سوالات پوچھ ڈالے تھے۔ وہ جلد از جلد یہ جان لینا چاہتی تھی۔ کہ کیا واقعی زورین نے اُس سے پہلے کسی سے شادی نہیں کی تھی۔
دل کے بے قراری بھرے لہجے پر نسیمہ بیگم مسکرا دی تھیں۔
”جی یہ سچ ہے۔ میرا زورین شاہ کی بیٹی نہیں ہے۔ اور نہ ہی اُنہوں نے آپ سے پہلے کسی سے شادی کی ہے۔ آپ ہی انکی پہلی اور اکلوتی وائف ہیں۔
میرا اُن کے بیسٹ فرینڈ اور جان سے عزیز دوست فراز کی بیٹی ہے۔ فراز اور زورین شاہ لندن میں ایک ساتھ رہتے تھے۔ فراز کو وہاں ایک مسلم لڑکی سے محبت ہوئی اور پھر وہیں اُنہوں نے شادی بھی کر لی۔ مگر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ابھی اُن کی شادی کو دو سال ہی گزرے تھے۔ جب ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں فراز اور اُس کی بیوی بُری طرح زخمی ہوگئے۔ فراز نے تو جلد ریکور کرلیا مگر ہما کی حالت اب تک سنبھل نہیں پائی۔ وہ بچاری اتنے سالوں سے مشینوں کے سہارے سانسیں لے رہی ہے۔ جب یہ حادثہ پیش آیا تب میرا ایک سال کی تھی۔ فراز ہما کی دیکھ بھال میں میرا کا دھیان نہیں رکھ پارہا تھا۔ اُس کی اِس مشکل گھڑی میں دوستی کا فرض نبھاتے زورین نے ہما کے ٹھیک ہونے تک میرا کی ساری زمہ داری اُٹھانے کا فیصلہ کیا۔ اُس وقت سے زورین میرا کو اپنی سگی اولاد سے بڑھ کر چاہتا ہے۔ اُسے بالکل سینے سے لگا کر رکھا ہوا ہے۔ اُس کے معاملے میں وہ کسی کی زرا سی بھی کوتاہی برداشت نہیں کرسکتے۔“
زورین کے دوست کے بارے میں سن کر دل کو بہت دکھ ہوا تھا۔ مگر ایک بات اُس کے دل میں سکون بھر گئی تھی۔ زورین صرف اُس کا شوہر تھا۔ اُس سے زیادہ زورین پر کسی کا حق نہیں تھا۔
“جو شخص محبت نام سے بھی نفرت کرتا تھا۔ وہ بھلا شادی جیسے بندھن میں کیسے بندھ سکتا تھا۔“
نسیمہ بیگم اُس کی جانب دیکھتی دھیمے سے مسکرائی تھیں۔
دل اُن کا شکریہ ادا کرتی وہاں سے نکل آئی تھی۔ بے شک زورین کو وہ خود سے بہت دور کرچکی تھی۔ مگر یہ بات اُسے آسودہ کر گئی تھی کہ زورین شاہ کی بیوی کا درجہ صرف اُسی کو ملا تھا۔ اگر نتاشا سے وہ محبت کرتا بھی تھا۔ تب بھی اُس کا مقام نتاشا سے بہت اُوپر تھا۔
★★★★★★★★★
“آپ کی کافی۔“
سُلین قاسم کی بھیجی گئی نشہ آور دوا ابتہاج کی کافی میں مکس کرکے اُس کے پاس لائی تھی۔
اُسے قاسم کی ہدایت کے مطابق سارا ڈیٹا جلد از جلد ابتہاج سے حاصل کرنا تھا۔
“رکو۔۔۔۔کہاں جارہی ہو۔“
ابتہاج نے کافی کے ساتھ ساتھ سُلین کی کلائی بھی اپنی گرفت میں جکڑ لی تھی۔
” آپ کی فیورٹ بلیک شرٹ پریس کرنے۔“
سُلین چبا چبا کر بولی تھی۔ نوکروں کی پوری فوج گھر میں موجود ہونے کے باوجود ابتہاج کو اُس سے اپنے کام کروا کر زیادہ مزا آرہا تھا۔
“پہلے میرا سر دباؤ۔ سر میں بہت درد ہورہا ہے۔“
ابتہاج نے نئی فرمائش ظاہر کی تھی۔ سُلین جل کر رہ گئی تھی۔ مگر اِس وقت انکار کرنا اُس کے بس میں نہیں تھا۔
سُلین ناچار اُس کے قریب صوفے پر آکر بیٹھتی اپنے ملائم ہاتھوں سے اُس کے سر کا مساج کرنے لگی تھی۔ سُلین کا پورا دھیان اُس کے ہاتھ میں تھامے کافی کے مگ پر تھا۔ جسے وہ ایک سانس میں ہی ختم کرتا سائیڈ ٹیبل پر رکھتا سیگریٹ سُلگھا گیا تھا۔
سُلین نے اُس کے اِس عمل کو ناگواری سے دیکھا تھا۔ یہ شخص سیگریٹ پی پی کر تھکتا بھی نہیں تھا۔ کوئی اتنا دھواں اپنے حلق کے اندر کیسے اُتار سکتا تھا۔ ابتہاج آنکھیں موندے صوفے کی بیک سے سر ٹکائے ہوئے تھا۔
سُلین اُس کے سر کو مساج کرتی بے دھیانی میں مبہوت سی اُسے دیکھے گئی تھی۔ کھڑے مغرور نقوش سے سجا چہرا بے پناہ وجیہہ تھا۔ ایک بار نظر ڈالنے کے بعد ہٹانا مشکل ہوجاتا تھا۔ آنکھیں کھولے سرد سپاٹ لہجے میں بولتا وہ جس طرح جلاد بنا پھرتا تھا۔ اِس وقت آنکھیں موندے نرمی سے لب آپس میں پیوست کیے وہ خاموش لیٹا سُلین کو بہت پیارا لگا تھا۔ کاش جیسا وہ نظر آتا تھا۔ حقیقت میں بھی ایسا ہی ہوتا۔ سُلین اُس کے سحر میں کھوتی مساج کی جانب سے ہاتھ روک گئی تھی۔
ابتہاج کب سے اپنے اُوپر سُلین کی نظریں محسوس کررہا تھا۔ اُس کے مساج روکنے پر اُس نے سیگریٹ کا گہرا کش لیتے چہرا سُلین کی جانب موڑتے سارا دھواں اُس کے چہرے پر چھوڑ دیا تھا۔
سُلین اِس عمل کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھی۔ منہ دوسری جانب موڑتی وہ کھانسسنے لگی تھی۔
”یہ کیا بیہودگی ہے۔۔۔۔۔آپ میں مینرز نام کی چیز نہیں ہے کیا۔“
سُلین ہاتھ ہلا کر چہرے کے آگے سے دھواں ہٹاتی چڑھ کر بولی تھیں۔ اور زرا سا جھک کر آگے ہوتے ابتہاج کے ہاتھ سے سیگریٹ چھینتے ایش ٹرے میں مسل دیا تھا۔
ابتہاج کو اُس سے اتنی جرأت کی قطعی اُمید نہیں تھی۔ سیگریٹ چھیننے کی اجازت اُس نے کسی کو بھی نہیں دی تھی۔
” تمہاری ہمت کیسے ہوئی ایسا کرنے کی۔ اب تم ہی مجھے نیا سیگریٹ سلگھا کر دو گی۔ اور میرے منہ میں رکھو گی۔“
ابتہاج نے اُسے بھاگنے کے لیے پر طولتے دیکھ اُس کی کلائی دبوچ کر غصے سے حکم دیا تھا۔ اُس کے اِس غصے سے مقابل کی ٹانگیں کانپنے لگ جاتی تھیں۔مگر سُلین کو زرا فرق نہیں پڑا تھا۔ وہ اپنے حوالے سے ابتہاج کی کمزوری سے آگاہ ہوچکی تھی۔ شدید غصے میں بھی اُسے سلین کا خیال رہتا تھا۔
اُوپر سے اب تو وہ اُسے نشہ آور دوا بھی دے چکی تھی۔ جس سے بہت جلد ابتہاج لغاری بے بس ہونے والا تھا۔
”تم نے مجھ سے میرا نشہ چھینا ہے، اِس کی سزا تو تمہیں ملے گی۔“
بات کرتے ابتہاج کی آواز لڑکھڑا گئی تھی۔ اُس پر سُلین کی دی گئی نشہ آور دوا اثر کرنا شروع کرچکی تھی۔
سُلین کی کیچر سے نکلی بالوں کی لٹوں کو اپنی مٹھی میں مقید کرتے۔ وہ اُس کا چہرا اپنے قریب کرگیا تھا۔
سُلین اُس کی اِس جسارت پر لمحہ بھر کو لرزی تھی۔
”پلیز مجھے درد ہورہا ہے۔“
بہت مشکل سے اُس کی گرفت سے اپنے بال چھوڑاتے سُلین نے فاصلہ قائم کیا تھا۔
سُلین اُس کے بہت قریب بیٹھی تھی۔ کچھ دیر بعد حواس سے بیگانہ ہوتے ابتہاج نے سلین کے کندھے پر اپنا سر ٹکا دیا تھا۔ ابتہاج کے پرفیوم کی دلفریب خوشبو اُس کے نتھنوں سے ٹکراتی اُسے اپنے حصار میں جکڑنے لگی تھی۔ اُس کے لیے الگ ہی آزمائش شروع ہوچکی تھی۔
سُلین نے نرمی سے ابتہاج کا سر اپنے کندھے سے ہٹا کر صوفے کی بیک پر رکھ دیا تھا۔
ایک بھرپور نظر اُس نے ابتہاج کے چہرے پر ڈالی تھی۔ اُس کے ہوش میں ہوتے تو سُلین ایسی بہادری نہیں دیکھا سکتی تھی۔ وہ واقعی وجاہت و مردانگی کا شکار تھا۔ ایسا پاسبل ہی نہیں تھا کہ اُس سے اتنے قریب رہتے، اُس سے محبت نہ ہوپاتی۔
“جنگلی، وحشی انسان۔۔۔۔۔۔۔پتا نہیں تم میں ایسا کیا ہے۔ کہ ميں خود کو تمہیں چاہنے سے روک نہیں پائی۔ لائف میں شاید پہلی اور آخری بار بتا رہی ہوں۔ آئی لو یو آئی رئیلی لو یو۔ تمہاری اصلیت جاننے کے باوجود، تم سے ہر بار نفرت کا اظہار کرنے کے باوجود نفرت کرنا تو دور کی بات۔ اپنے دل سے تمہاری محبت بھی ختم نہیں کر پائی۔ اتنا بے بس آج تک خود کو کبھی محسوس نہیں کیا۔ جتنا اِس معاملے میں کررہی ہوں۔ تم کیوں آئے میری زندگی میں۔ اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دی۔ تمہارے باقی جرم معاف ہو بھی جائیں مگر اِس جرم کے لیے معاف نہیں کروں گی۔ یہ سوچ کر ہی دم گھٹنے لگتا ہے۔ کہ کچھ دنوں بعد جب تم میرے ساتھ نہیں ہوگے۔ تو میں کیسے رہوں گی۔“
اُس کے کان میں سرگوشی کرتے سُلین نے اُس کی چوڑی پیشانی پر بکھرے بال ہاتھ سے پیچھے ہٹاتے اُن باتوں کا اقرار کیا تھا۔ جنہیں وہ اپنے سامنے کہنے سے ڈرتی تھی۔
کیا اِس شخص کو سدھارنے کی اُسے ایک کوشش کرنی چاہیئے تھی۔
سُلین کے دل نے فوراً اِس بات کی وکالت کی تھی۔ مگر شاید اب یہ ممکن نہیں تھا۔
ابتہاج کی گرفت سے اپنی کلائی نکالتی وہ اُس کے قریب سے اُٹھی تھی۔ اِس سے پہلے کہ ابتہاج ہوش میں آجاتا یا اُس کا کوئی خاص آدمی اُسے بلانے پہنچ جاتا سلین کو اُس سے پہلے اپنا کام پورا کرنا تھا۔
اُس کی متلاشی نظروں نے سب سے پہلے ابتہاج کا موبائل ڈھونڈنا چاہا تھا۔ ٹیبل، صوفہ اور بیڈ سمیت اُس نے ساری جگہیں چھان ماری تھیں۔ مگر موبائل اُسے کہیں سے بھی نہیں ملا تھا۔
“آخر موبائل کہاں ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔“
ڈیٹا کولیکٹ کرنے کی سب سے امپورٹنٹ چیز موبائل ہی تھی۔ ادھر اُدھر نظریں دوڑاتے اچانک سُلین کے زہن میں خیال آیا تھا۔
وہ جلدی سے ابتہاج کے قریب آئی تھی۔ ابتہاج کی پاکٹس ہی واحد جگہ رہ گئی تھی۔
ابتہاج اِس وقت خلافِ معمول وائٹ قمیض شلوار میں ملبوس تھا۔ سُلین نے اُس کی قمیض کی دائیں سائیڈ والی پاکٹ تو آرام سے چیک کر لی تھی۔ جس میں سے اُسے کچھ نہیں ملا تھا۔ مگر اب مسئلہ بائیں سائیڈ والی پاکٹ چیک کرنے کا تھا۔ اُسے پورا یقین تھا موبائل اُسی پاکٹ میں تھا۔
ابتہاج اِس رُخ پر بیٹھا تھا کہ اُس کی پاکٹ تک ہاتھ لے جانے کے لیے سُلین کو اُس کے اُوپر سے جھکنا پڑتا۔ پہلے تو سُلین ہار مانتی پیچھے ہٹ گئی تھی۔ مگر پھر اندر سے آتی آواز پر کہ وہ اُس کا شوہر ، اُس کا محرم ہے۔ اور سب سے اچھی بات اِس وقت اپنے حواسوں میں نہیں ہے۔ وہ آرام سے یہ کرسکتی ہے۔
سلین گہرا سانس ہوا میں خارج کرتی آگے ہوئی تھی۔ ابتہاج کے کندھے پر ہاتھ جما کر دوسرا ہاتھ اُس کی پاکٹ میں ڈالتے موبائل نکال لیا تھا۔ اِس چکر میں اُس کے ہونٹ ابتہاج کے سینے سے ٹچ ہوئے تھے۔ مگر فلحال وہ اِس سب پر دھیان نہیں دے رہی تھی۔ اُس کی ساری توجہ ایک ہی جانب مرکوز تھی۔یہی سب ابتہاج کے ہوش میں ہوتے کرنے کا سوچنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی وہ۔
موبائل اوپن کرتے اُس نے سارا ڈیٹا اپنے موبائل میں شفٹ کیا تھا۔ اُس کے بعد اُس کا اگلا اٹیک ابتہاج کے لیپ ٹاپ پر تھا۔
کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ابتہاج لغاری جیسے انسان کو یوں بے سدھ کرکے اُس کی اتنی امپورٹنٹ انفارمیشن چرائی جاسکتی تھی۔
یہ پلان سُلین کو سمجھاتے قاسم کو بالکل بھی اُمید نہیں تھی۔ کہ وہ واقعی میں ایسا کر گزرے گی۔
فائلز کی پکچرز لیتے سُلین کو خود پر کسی کی نظریں محسوس ہوئی تھیں۔ اُس نے جھٹکے سے سر اُٹھا کر خوف کے عالم میں ابتہاج کی جانب دیکھا تھا۔ مگر اُسے اُسی طرح اپنی جگہ ساکت پڑا دیکھ سلین واپس اپنے کام کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔ سارا ڈیٹا لے کر سلین نے ساری چیزیں واپس جگہ پر رکھ دی تھیں۔ اب باری موبائل رکھنے کی تھی۔ وہ نہیں چاہتی تھی ابتہاج کو بعد میں اُس پر کسی قسم کا شک ہوسکے۔
اُس کا ایک بازو ہی جگہ سے ہٹاتے سُلین پسینے سے شرابور ہوئی تھی۔ اُس نے جھک کر پاکٹ میں موبائل رکھتے واپس سیدھا ہونا چاہا تھا۔ جب ابتہاج کا بازو اُس کے کندھے پر آن گرا تھا۔
وہ ایک طرح سے اُس کے سینے سے لگتی اُس کے حصار میں پھنس کررہ گئی تھی۔
ابتہاج کی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرتے سُلین کا دل لرزنے لگا تھا۔ یہ شخص اپنے حواسوں میں نہ ہوتے ہوئے بھی اُسے حواس باختہ کرگیا تھا۔
“ابتہاج لغاری یہ اتنا وزنی بازو کسی انسان کا تو ہو نہیں سکتا۔ پتا نہیں کھاتے کیا ہیں آپ۔“
سُلین اُس کے حصار سے نکلتے بُری طرح ہانپ گئی تھی۔
وہ صوفے سے اُٹھنے ہی والی تھی جب اُسے اپنی کلائی ابتہاج کی گرفت میں قید محسوس ہوئی تھی۔ ایک لمحے کے لیے سُلین کا خون خشک ہوا تھا۔ اگر وہ ہوش میں تھا۔ اور اُس کی ساری کاروائی ملاحظہ کرچکا تھا تو اب اُس کی خیر نہیں تھی۔
“کہاں جارہی ہو مجھے چھوڑ کر۔۔۔۔“
ابتہاج کی نشے میں ڈوبی آواز سُلین کی سماعتوں سے ٹکرائی تو اُس کی جان میں کچھ جان آئی تھی۔ وہ یہ کیسے بھول گئی تھی کہ اُس نے ابتہاج کو نشہ آور دوا دی ہے۔ وہ کچھ دیر کے لیے بے ہوش ہوا تھا۔ اب بیدار تو ہوچکا تھا۔ مگر ہوش میں ااب بھی نہیں تھا۔
“میں کہیں نہیں جارہی۔ آپ پلیز میرا ہاتھ چھوڑیں۔“
ابتہاج نے ہمیشہ اُسے بہت نرمی سے چھوا تھا۔ مگر اِس وقت اُس کی گرفت اتنی سخت تھی۔ کہ سُلین کو اپنی کلائی میں درد ہوتا محسوس ہوا تھا۔
“تم کہیں جا بھی نہیں سکتی۔ اگر تم نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو میں سب کچھ تباہ و برباد کردوں گا۔“
ابتہاج دور جاتی سُلین کو جھٹکے سے اپنے سینے پر گراتا لال آنکھیں اُس کے چہرے پر گاڑھتے بولا تھا۔
نشے کی حالت میں بھی اُس کی ایسی شدت پسندی پر سُلین فکرمند ہوئی تھی۔ آنے والے وقت سے اُسے ڈر لگنے لگا تھا۔
“ایسا کچھ نہیں ہوگا۔“
سُلین اُس کے سینے سے اُٹھنے کی کوشش کرتے کمزور سی آواز میں بولی تھی۔
”تم مجھے کبھی دھوکا نہیں دو گی۔“
ابتہاج نے اپنے کنٹرول کھوتے ہاتھوں سے سُلین کے کیچر سے نکلے بالوں کو کان کے پیچھے اڑاسا تھا۔ جس چکر میں ابتہاج کی اُنگلی نے اُس ے گال اور کان کی لوح کو ٹچ کیا تھا۔ سُلین اُس کے شدت بھرے لمس پر کانپ سی گئی تھی۔
”نہیں کبھی نہیں۔“
سُلین نے اُس کے ساتھ بیٹھ کر یہ الفاظ ادا کرتے خود سے بھی نظریں چرائی تھیں۔
“کبھی سوچنا بھی مت۔ ورنہ ابتہاج لغاری میں یہ تھوڑی سی انسانیت بھی ختم ہوجائے گی۔ میرے اندر کی درندگی کو تمہی نے سلایا ہے۔ اور جگا بھی تم ہی سکتی ہو۔“
ابتہاج یہ الفاظ ادا کرتا اپنا چہرا اُس کی گردن میں چھپا گیا تھا۔ سُلین نے آنکھیں موند کر اُس کے لمس کی سختی کو برداشت کیا تھا۔
★★★★★★★★
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
