Teri Chah Mein By Farwa Khalid Readelle50119 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
” بیٹا کیسے ہیں آپ۔ آپ کو یہاں دیکھ بہت خوشی ہورہی ہے۔“
رقیہ بیگم آگے ہوتیں خوشدلی سے بولی تھیں۔
وہ وہاں موجود ہر شخص زورین شاہ کی شخصیت سے بہت متاثر نظر آرہا تھا۔
زورین نے صرف سر ہلا کر ہی اُنہیں اُن کی بات کا جواب دیا تھا۔ اُس کی متلاشی نظریں دل کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ جسے لے کر وہ جلد از جلد یہاں سے نکل جانا چاہتا تھا۔ جبکہ وہ سب اِس بےتابی کا کچھ اور ہی مطلب نکالتے دل کی اتنی اہمیت پر جیلس ہوئے بنا نہیں رہ پائی تھیں۔
” دل آویز کہاں ہے نظر نہیں آرہی۔“
زورین نے تنویر صاحب کے کہنے پر صوفے پر بیٹھتے دل کے بارے میں پوچھ ہی لیا تھا۔ یہاں آنے سے پہلے منزہ کی اُس کے آگے صرف ہاتھ جوڑنے کی کسر رہ گئی تھی۔ باقی اُس نے سب کچھ کیا تھا۔ وہ رشتوں کی اِن باریکیوں کو اچھی طرح سمجھتی تھی۔ وہ نہیں چاہتی تھی زورین کے بُرے بی ہیوئیر کی وجہ سے دل کو اپنے میکے والوں کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔
” وہ اُوپر اپنے روم میں ہے۔ میں اُسے بلا کر لاتی ہوں۔“
فاخرہ بیگم فوراً اپنی جگہ سے اُٹھی تھیں۔ تنویر صاحب کی اُن کو خاص ہدایت تھی کہ سب نے زورین کے سامنے دل سے بہت اچھا رویہ رکھنا ہے۔ وہ زورین سے رشتہ جُڑ جانے کے بعد سے اپنے بزنس کی ترقی کے الگ ہی خواب دیکھنے لگے تھے۔
” نہیں آپ رہنے دیں۔ میں خود ہی مل لیتا ہوں۔ روم کس سائیڈ پر ہے۔“
زورین اُن کو منع کرتا اپنی جگہ سے اُٹھا تھا۔ گھر کے سبھی افراد ہی وہاں موجود تھے۔ سوائے سفیان کے۔ جو نکاح کی ڈیٹ فائنل ہوتے ہی اپنے کسی دوست کی طرف چلا گیا تھا۔ اور اب تک نہیں لوٹا تھا۔
فاخرہ بیگم کے بتانے پر زورین اُس جانب بڑھ گیا تھا۔
” دیکھا کتنی میسنی اور چالاک ہے یہ لڑکی۔ ایک ہی دن میں کیسے قابو میں کرلیا ہے اپنے شوہر کو۔ اتنا باحیثیت آدمی اُس بے غیرت شہلا کی بیٹی کی جھولی میں ڈال دیا۔ مت ماری گئی تھی میری۔“
رقیہ بیگم کا پچھتاوا کسی طور کم ہونے کا نام ہی نہیں لیے رہا تھا۔
” آپا اچھی بات ہی ہے نا۔ اگر زورین شاہ دل کے قابو میں رہا تو فائدہ ہمارا ہی ہے۔ وہ بے وقوف لڑکی ہمارے پیار کی ترسی ہوئی ہے۔ زرا دو میٹھے بول بولنے پر ہمارا کام کردے گی۔ آپ لوگ سوچ بھی نہیں سکتے۔ زورین شاہ کی سپورٹ سے ہمارا کاروبار کہاں پہنچ سکتا ہے۔ بہت بڑا نام اور مقام ہے زورین شاہ کا بزنس کی دنیا میں۔ جس سے بھی ہاتھ ملاتا ہے وہ کمپنی راتوں رات ترقی کی منزل طے کر جاتی ہے۔ اور جس سے بگڑتی ہے اُس کا دیوالیہ نکل جاتا ہے۔ “
تنویر صاحب نے اُن سب پر اپنی سوچ ظاہر کرتے دے سے اچھا برتاؤ کرنے کی ہدایت کی تھی۔
★★★★★★★★
سُلین کو سمجھ نہیں آرہا تھا۔ اِس اتنے بڑے بنگلے کا راستہ کس طرف تھا۔ ایک گول چکر کاٹ کر وہ پاس اُسی روم کے سامنے آن پہنچی تھی۔ جہاں سے وہ نکلی تھی۔ ابتہاج لغاری کی طرح اُس کی ہر چیز اُلجھی ہوئی ایک پہیلی ہی تھی۔ جو سُلین کو محسوس ہورہا تھا ، اُسے ہی حل کرنی تھی اب۔
“یہ راستہ ہے کس طرف۔ کہاں جاؤں میں۔“
سُلین بُری طرح اُکتا گئی تھی۔
جب اچانک کچھ فاصلے پر نظر پڑتے وہ خود کو کوس کررہ گئی تھی۔ سیڑھیاں یہیں پاس ہی تھیں۔ وہ غصہ ہونے کی وجہ سے دیکھ بھی نہیں پائی تھی۔
وہ ریلنگ تھام کر کافی چوڑائی میں بنائی گئی سیڑھیاں عبور کرتی نیچے اُتر رہی تھی۔ جب کافی نیچے آکر اُس کی نظر سامنے کے منظر پر پڑی تھی۔
اُس نے آنکھیں پھاڑے حیرت سے صوفے پر بیٹھے ابتہاج اور اُس کے قدموں میں بیٹھی لڑکی کی جانب دیکھا تھا۔ وہ لڑکی روتے ہوئے کچھ کہتی اُس کے پیروں کو ہاتھ لگانے کی کوشش کررہی تھی۔ مگر ابتہاج اُس کی صورت دیکھنے سے بھی گریزاں اُسے دور جھٹکتے اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔
سُلین کافی فاصلے پر ہونے کی وجہ سے کچھ سن نہیں پارہی تھی۔ مگر سامنے کا منظر اُسے ابتہاج کے حوالے سے مزید مشکوک کرگیا تھا۔
تو اِس شخص کا کردار بھی اِس جیسا گھٹیا ہی نکلا تھا۔ کوئی لڑکی بھلا کیوں اُس کے پیروں میں گر کر ایسا کرے گی۔ یقیناً کوئی بڑی بات ہی تھی۔
اگلے لمحے ابتہاج کے اشارے پر ایک ہٹی کٹی ملازمہ آکر اُس لڑکی کو دونوں بازو سے جکڑتے گھسیٹ کر وہاں سے باہر لے گئی تھی۔
سُلین اُس کے ساتھ اتنا بُرا سلوک کیے جانے پر منہ پر ہاتھ رکھتی صدمے کی کیفیت میں وہاں کھڑی رہ گئی تھی۔ اُس کا ابتہاج لغاری کے اِس قدر سفاکیت بھرے برتاؤ پر غم و غصے سے بُرا حال تھا۔
مگر اُس سے بھی کہیں زیادہ اُسے ابتہاج کی لال انگارہ آنکھوں سے خوف ہونے لگا تھا۔
ابتہاج کی نظر سُلین پر ابھی تک نہیں پڑی تھی۔ اِسی لیے اپنے جنونیت بھرے رُوپ میں غصے کا اظہار کرتے اُس نے سامنے پڑا لکڑی کا چھوٹا سا ٹیبل اُٹھا کر پوری شدت سے سامنے لگے وال سائز کے مرر پر دے مارا تھا۔ جو چھناکے سے ٹوٹتا چکنا چور ہوتا کئی ٹکڑوں میں بٹ گیا تھا۔
سُلین بہت زیادہ خوفزدہ ہوچکی تھی۔ وہ کپکپاتی ٹانگوں کے ساتھ واپس اُسی روم میں داخل ہوتی، دروازہ اندر سے لاک کرگئی تھی۔
★★★★★★★★
زورین نے بنا ناک کیے دل کے روم میں قدم رکھا تھا۔ مگر اندر داخل ہوتے اُس کے قدم وہیں ساکت ہوئے تھے۔ دل بیڈ پر اُوندھے منہ گری بُری طرح ہچکیاں لیتے رو رہی تھی۔ اُس کا دھیان دروازے کی جانب بالکل بھی نہیں تھا۔ نہ ہی اُس کے وہم و گمان میں تھا۔ کہ زورین شاہ یہاں تک آسکتا ہے۔
زورین آنکھوں میں اُلجھن لیے اُس کی جانب بڑھا تھا۔ اُس کے گھر والوں میں تو سب کچھ ٹھیک تھا۔ تو پھر دل کا یوں بکھر کر رونا۔ اُسے بے اختیار اُس کی جانب متوجہ کر گیا تھا۔
دل کی ہچکیاں اب اُس کے ضبط سے باہر ہوچکی تھیں۔ اُس نے آگے بڑھ کر زرا سا جھکتے دل کو بازو سے پکڑ کر اُوپر کی جانب کھینچ لیا تھا۔ اِس اچانک اور جارحانہ حملے پر دل کے منہ سے ہلکی سی چیخ برآمد ہوئی تھی۔ مگر اگلے ہی لمحے سامنے کھڑے زورین شاہ کو دیکھ وہ شاک میں جاچکی تھی۔
اُس کے لیے زورین کی یہاں موجودگی کا یقین کرنا بہت مشکل امر تھا۔
وہ جس طرح بہتی آنکھوں اور بے یقینیت بھرے چہرے کے ساتھ گلابی ہونٹ واں کیے اُسے دیکھ رہی تھی۔ زورین شاہ کی ایک بیٹ مس ہوئی تھی۔ وہ چند پل کے لیے مبہوت ہی تو رہ گیا تھا۔ اِس دلفریب منظر کو دیکھ کر۔
” رو کیوں رہی ہو“
زورین نے شاید اب تک کے عرصے میں پہلی بار اُس سے اتنی نرمی سے بات کی تھی۔
زورین کو پہلے یہاں دیکھ خوشی کے احساس سے اور اب اُس کے اتنے نرمی بھرے لہجے پر دل کے آنسوؤں میں مزید شدت آگئی تھی۔ وہ بنا کچھ سوچے زورین کے سینے سے لگتی مزید شدت سے رونے لگی تھی۔
اُس کے اِس قدر استحقاق بھرے عمل پر زورین خود بھی لمحے بھر کو سمجھ نہیں پایا تھا ہوا کیا ہے۔
اُس کے کپکپاتے وجود کے گرد اپنے بازو کا حصار قائم کرتے زورین نے اُسے اپنے سینے میں بھینچ لیا تھا۔ نجانے یہ کونسا طلسم تھا جو اُسے دل کے ساتھ باندھے جارہا تھا۔ وہ کوشش کے باوجود اِس سحر سے خود کا نکالنے میں کامیاب نہیں ہو پایا تھا۔ مگر وہ اتنا جانتا تھا کہ یہ جو کچھ ہورہا تھا۔ وہ ہونا نہیں چاہئے تھا۔
کافی دیر بعد اپنے دل کا بوجھ زورین کے مضبوط سینے پر اُتارتے وہ ہوش کی دنیا میں واپس لوٹتی فوراً پیچھے ہوئی تھی۔ مگر زورین کا بازو ابھی بھی اُس کے گرد گھیرا کیے ہوئے تھا۔
“واٹ ہیپنڈ۔ کسی نے کچھ کہا ہے تم سے۔ “
زورین نے بغور اُس کا گھبراہٹ اور حیا سے لال پڑتا چہرا دیکھ سوال کیا تھا۔ جو اب کافی حد تک سنبھل جانے کے بعد کمزور لمحے میں سرزد ہوئی اپنی اِس بے اختیار حرکت پر خفت کا شکار ہوئی تھی۔ اِس شخص نے اب تک اپنی ہر بات سے اُس کی انسلٹ ہی کی تھی۔ پھر بھی اُس کا کا دل ہمک ہمک کر زورین شاہ کی جانب جاتا تھا۔
دوسری طرف اُس کی نظریں بھٹک کر دل کی بھیگی مترنم آنکھوں کا طواف کرنے لگی تھیں۔ جو بات دل کو مزید پزل کرگئی تھی۔
“نہ نہیں کسی نے کچھ نہیں کہا۔۔۔۔۔ یہاں تو سب بہت پیار کرتے ہیں۔ مجھے میرے ۔۔۔۔۔۔۔پیرنٹس کی یاد آرہی تھی۔ اِس لیے میں تھوڑی ایموشنل ہوگئی۔ آئم سوری۔“
دل اپنی بے وقوفی پر جی بھر کر پچھتائی تھی۔ اِس شخص کی نظر میں تو اُس کی پہلے بھی کوئی وقعت نہیں تھی۔ اگر اُسے گھر والوں کے رویہ کا پتا چل جاتا تو زورین نے اُس کی جانب نگاہ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھنا تھا۔ کیونکہ زورین اور اُس کے گھر والے دل کے پیرنٹس کے بارے میں یہی جانتے تھے۔ کہ اُن کی ایک ایکسیڈنٹ میں ڈیتھ ہوچکی ہے۔
” تم جھوٹ بول رہی ہو۔“
زورین کے سرد لہجے پر دل نے جھٹکے سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔ کہیں وہ اُس کی سچائی سے واقف تو نہیں ہوگیا تھا۔
“رونے کی وجہ کچھ اور ہے۔لیکن جو بھی ہے آئندہ میں تمہیں روتے نہ دیکھوں۔ سخت ناپسند ہیں مجھے یوں روتی بسورتی لڑکیاں۔“
زورین اُسے اپنے حصار سے آزاد کرتا پیچھے ہٹا تھا۔
دل جو کچھ دیر پہلے اُس کے نرمی برتنے پر ایک بار پھر اُس کی اسیری کے زیرِ اثر آگئی تھی۔ اب اچانک واپس سے زورین کا یوں روڈ ہوجانا اُسے خوابوں سے نکالتا حقیقت میں پٹخ گیا تھا۔
” آپ صاف یہ کیوں نہیں کہہ دیتے، آپ کو میں ہی سخت ناپسند ہوں۔ “
دل اِس وقت بہت دل برداشتہ ہو رہی تھی۔ اِس لیے زچ ہوتی غصے سے بول گئی تھی۔
“امپریسو، تم تو سب جانتی ہو۔ اتنی بے وقوف نہیں ہو جتنا میں سمجھتا ہوں۔“
زورین کو اُسے تنگ کرنا اچھا لگتا تھا۔ دل کی غصے سے پھولی چھوٹی سی ناک مزید پھول گئی تھی۔
” آپ اتنے گھمنڈی اور۔۔۔۔,۔۔۔“
دل ابھی مزید کچھ کہتی جب زورین اچانک اُسے کمر سے تھام کر دیوار سے لگاتا اُس کے کافی قریب ہو آیا تھا۔
دل پھٹی پھٹی نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی تھی۔ ابھی تو وہ لڑ رہا تھا۔ پھر اچانک اُسے کیا ہوا تھا۔ دل کی بولتی تو ویسے ہی بند ہوچکی تھی۔ اُس نے زورین کے کندھوں پر دباؤ ڈالتے اُسے پیچھے ہٹانا چاہا تھا۔ جب زورین اُس کی دونوں کلائیاں اپنی گرفت میں جکڑ کر دیوار کے ساتھ لگاتے اُس کے کان کے قریب جھکا تھا۔
” تمہاری فیملی ممبرز دروازے پر کھڑے ہماری باتیں سننے کی کوشش کررہے ہیں۔ مجھے لگا تھا مینرز کی کمی صرف تم میں ہے۔ مگر تمہاری تو پوری فیملی ایسی ہے۔“
زورین کی طنز میں ڈوبی سرگوشی نما آواز پر دل نے حیرت بھری نظروں سے دروازے کی جانب دیکھا تھا۔ وہاں پڑتے سائے دیکھ وہ زورین کے سامنے شرمندگی سے گڑھ گئی تھی۔
” اِنہیں اِس کا سبق تو ملنا چاہیئے تاکہ آئندہ ایسی غیر اخلاقی حرکت کرنے سے پہلے ہزار بار سوچیں۔“
زورین اُنہیں ابھی تک وہیں جما دیکھ دل کو چھوڑتا دروازے کی جانب بڑھا تھا۔
” پلیز۔ ۔۔۔۔۔“
دل فوراً اُس کے راستے میں آتی اُسے دونوں بازوؤں سے تھامتی وہیں روک گئی تھی۔
” میں تمہاری طرح اتنا فراح دل کا نہیں ہوں۔ ایسی باتوں پر تو کبھی نہیں بخشتا۔“
زورین اُسے سائیڈ پر کرتا آگے بڑھ کر آدھ کھلا دروازہ پورا کھول گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں رقیہ بیگم کی بھیجی گئیں۔ دل کی دونوں ممانیاں جو بالکل دروازے کے سہارے آگے ہوکر کھڑیں اُن کی باتیں سننے کی کوشش کررہی تھیں۔ اپنا توازن برقرار نہ رکھ پاتیں لڑکھڑاتی اندر آچکی تھیں۔
جبکہ اُنہیں ایسی غیر اخلاقی حرکت کرنے سے روکنے کی کوشش کرنے کے لیے پیچھے کچھ فاصلے پر کھڑی سویرا اور لائبہ نے منہ پر ہاتھ رکھتے بہت مشکل سے اپنا قہقہ روکا تھا۔
“جی فرمائیں۔ آپ یہاں دروازے سے کان لگا کر کونسا ضروری کام کررہی تھیں۔“
زورین اپنے مزاج کے خلاف زرا سی بات ہوجانے پر ایسے ہی بنا لحاظ کیے اگلے بندے کی کر کے رکھ دیتا تھا۔ وہ دونوں زورین کی خوشمگی نظروں پر مزید شرمندگی سے ڈوب چکی تھیں۔
دل زورین کے پیچھے کھڑی خود بھی شرمسار ہوئی تھی۔ یہ اُس کے لیے بہت آکورڈ سچویشن تھی۔
“وہ ہم یہاں کھڑی نہیں تھیں۔ بلکہ ناک کرکے آپ کو ڈنر لگ جانے کا انفارم کرنے آئی تھیں۔“
فاخرہ بیگم نے جلدی سے بات بنائی تھی۔ مگر زورین کے کچھ جتلاتے تاثرات دیکھ وہ فوراً نظریں جھکا گئی تھیں۔ یہ امیر زادہ اُن کی سوچ سے کہیں زیادہ سخت گیر اور اُکھڑ مزاج تھا۔ اُنہیں اب اِس بات پر شک ہونے لگا تھا۔ کہ بھلا یہ دل کے ساتھ اتنی جلدی اتنا اچھا ریلیشن کیسے بنا سکتا تھا۔
“ارے بیٹا آپ لوگ ابھی اِدھر ہی کھڑے ہیں۔ آجائیں نیچے کھانا لگ چکا ہے۔ آپ ہی کا ویٹ ہورہا ہے۔“
سویرا کے بلانے پر رقیہ بیگم بھی جلدی سے وہاں پہنچ کر بات سنبھالنے کی کوشش کرنے لگی تھیں۔
” نو تھینکس۔ میں صرف دل کو لینے آیا تھا۔ کھانا ہم گھر جاکر ہی کھائیں گے۔ اب ہم نکلتے ہیں چلو دل۔“
زورین کا موڈ اچھا خاصہ خراب ہوچکا تھا۔ اُس کے دوٹوک انکار پر رقیہ نے اُس کے پیچھے کھڑی دل کو آنکھوں سے اشارہ کرتے زورین کو روکنے کو کہا تھا۔ وہ زورین کو یوں ناراض بھی نہیں جانے دینا چاہتی تھیں۔ اور یہ بھی دیکھنا چاہتی تھیں۔ کہ زورین کے نزدیک دل کی بات کی کس قدر اہمیت ہے۔
دل رقیہ بیگم کے اشارے پر مرے مرے قدم اُٹھاتی زورین کے قریب آئی تھی۔ زورین کا موڈ خراب تھا۔ دل کو لگا تھا اُس کی بنائی گئی عزت کا فالودہ نکلنے والا ہے۔
“سب نے بہت محبت سے ڈنر تیار کیا ہے۔ وہ سب اتنا فورس بھی کررہی ہیں۔ اُن کا دل رکھنے کے لیے تھوڑی دیر رُک جاتے ہیں۔“
دل زورین کے قریب آکر اُسے بازو سے تھام کر چہرے پر اپنی دلکش مسکان سجائے بولتی زورین کو اِس لمحے بہت پیاری لگی تھی۔ اُس نے زورین کے بازو پر ہاتھ کا دباؤ ڈالتے پلیز کرتے رک جانے کو کہا تھا۔
”اوکے اگر تم بھی یہی چاہتی ہو تو ٹھیک ہے۔ ہم ڈنر کرکے ہی جائیں گے۔“
زورین نے اُس کی مسکراہٹ پر نجانے کیسے اپنا قیمتی ٹائم قربان کردیا تھا۔ باقی سب نے تو حسد بھری نظروں سے اُن کی جانب دیکھا ہی تھا۔ دل خود بھی یہ بات ہضم نہیں کر پائی تھی۔
زورین اُس کا ہاتھ تھامے اُن سب کے بیچ سے نکلتا باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔ اُن سب کی ہونقوں جیسی شکلیں دیکھ دل کو اُس لمحے بہت مزا آیا تھا۔ ایک عورت کے لیے شوہر کا ساتھ کتنا ضروری اور قابلے عزت ہوتا ہے۔ یہ بات وہ اب جان پائی تھی۔ ورنہ ہمیشہ اُس کے لیے شادی مرد کے آگے غلام بننے سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔ شوہر کی مرضی سے اُٹھنا، بیٹھنا ، کھانا اور پینا۔
اُس کا اور زورین کا ریلیشن اچھا نہیں تھا۔ ہزبینڈ وائف جیسا تو بالکل بھی نہیں۔ مگر اب اُس کے اندر ایک خواہش سی پیدا ہوچکی تھی۔ اگر یہ شخص صرف دیکھوا کرتے اتنا کیئرنگ ہوسکتا تھا۔ تو اگر حقیقت میں اُس کی محبت دل کو مل جاتی تو وہ دنیا کی سب سے زیادہ خوش قسمت لڑکی ثابت ہوسکتی تھی۔
لیکن پھر وہ اپنے کبھی نہ تکمیل پانے والے خواب پر اپنا ہی تمسخر اُڑاتی ہنس دی تھی۔ زورین شاہ اُس سے محبت کرے یہ ناممکن بات تھی۔ اور نہ ہی وہ اتنی خوش نصیب تھی کہ اُس کی لائف میں ایسا کوئی معجزہ ہوپاتا۔
★★★★★★★
اتنی توڑ پھوڑ کے بعد بھی ابتہاج کا غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ اُس کا دل چاہ رہا تھا، ہر شے تہس نہس کرکے رکھ دے۔
اُس کے اِس جنونی رُوپ میں ملازمین بھی اُس کے قریب آنے سے خوف کھاتے تھے۔ رضیہ اور شاکر دونوں میاں بیوی اُس کے بہت پُرانے ملازم تھے۔ جیسے ہی اُنہیں ابتہاج کے رہاع ہونے کا پتا چلا تھا۔ وہ واپس اُس کے پاس نوکری کے لیے آگئے تھے۔ کیونکہ اُن کے مطابق ابتہاج سے اچھا باس اُنہیں آج تک کوئی نہیں ملا تھا۔
رضیہ سُلین کو بھاگ کر اُوپر جاتا دیکھ چکی تھی۔ اِس لیے وہ اور شاکر ابتہاج کو بتانا چاہتے تھے۔ مگر ابتہاج کے قریب جانے سے بہت ڈر بھی لگ رہا تھا۔ کہیں غصے میں اُنہیں ہی نہ کچھ دے مارے۔ جیل سے آنے کے بعد اُس کے غصے کی شدت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی تھی۔
” سر وہ بیگم صاحبہ۔۔۔۔۔۔“
شاکر ابھی اتنا ہی کہہ پایا تھا۔ جب ابتہاج ہوش میں آتے اُس کی جانب پلٹا تھا۔
” کیا ہوا سُلین کو۔۔۔۔“
ابتہاج کا غصہ اُڑن چھو ہوچکا تھا۔ اور چہرے پر پریشانی کی لہر دوڑ گئی تھیں۔
” بیگم صاحبہ شاید یہ سب کچھ دیکھ چکی ہیں۔ آپ کا غصہ کرنا بھی اور کافی خوفزدہ ہوکر اپنے روم میں گئی ہیں۔ اُنہوں نے اپنا روم بھی اندر سے لاک کر لیا ہے۔“
شاکر ابتہاج کے ایک بار پھر غصے سے بدلتے تاثرات دیکھ خود بھی خوفزدہ ہوچکا تھا۔
” تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔ ڈیم ایٹ۔“
ابتہاج اُس پر غضبناک نظر ڈالتا بھاگتے قدموں سے اُوپر کی جانب بڑھ گیا تھا۔
” سلین دروازہ کھولیں۔“
ابتہاج نے دروازہ پیٹتے ساتھ اُسے آواز دی تھی۔ مگر اُس کے کافی دیر کوشش کرنے کے بعد بھی اندر ایسی ہی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ ابتہاج کو فکر ہونے کے ساتھ ساتھ سُلین کے اِس بچپنے پر شدید غصہ بھی آرہا تھا۔ سُلین کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ اگر کہیں زیادہ بگڑ جاتی تو۔
ملازمہ کے ڈوپلیکیٹ کیز لاکر دینے پر ابتہاج فوراً دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا تھا۔ جہاں صوفے پر خوفزدہ سی بیٹھی سلین کو بالکل ٹھیک دیکھ ابتہاج کی سانس میں سانس آئی تھی۔ جبکہ سُلین اُسے دیکھ کر مزید خوفزدہ ہوچکی تھی۔ اُس کا چہرا بالکل زرد پڑ گیا تھا۔
ابتہاج کو اپنے قریب آتا دیکھ وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
”آپ نے دروازہ کیوں لاک کیا۔ آپ جانتی ہیں میں کتنا پریشان ہوگیا تھا۔“
سُلین کا چہرا دونوں ہاتھوں میں بھرتے ابتہاج نے انگوٹھے سے اُس کا گال سہلایا تھا۔ وہ اپنے حوالے سے اُس کا خوف کم کرنا چاہتا تھا۔
” دور رہیں۔ آپ بہت بُرے انسان ہیں مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔ ڈر لگ رہا ہے مجھے آپ سے۔ میں آپ کو اپنے ساتھ ویسا بُرا سلوک نہیں کرنے دوں گی۔ جیسا آپ نے اُس لڑکی کے ساتھ کیا۔ میں سُلین حبیب ہوں نہیں ڈرتی کسی سے۔“
سُلین نے یہ آخری الفاظ لرزتے کپکپاتے لہجے میں کہا تھا۔ اُس کا انداز ہی ظاہر کررہا تھا۔ کہ وہ کس قدر خوفزدہ تھی اُس سے۔ اُس کے سخت الفاظ پر ابتہاج کی آنکھیں مسکرائی تھیں۔ سُلین کو اُس کی مسکراہٹ سے بھی اب خوف آنے لگا تھا۔ یہ اُسے خود میں جکڑ لیتی تھی۔ وہ اِس ساحر کے طلسم میں قید نہیں ہونا چاہتی تھی۔
” تھینکس بتانے کے لیے۔ مگر یہ بات میں پہلے سے جانتا ہوں، بہت بُرا انسان ہوں میں۔ پر اب کیا ہوسکتا۔ اب تو میں صرف تمہارا ہوچکا ہوں۔ اگر اِس طرح خوفزدہ ہونے کی بجائے مجھے سدھارنے کی کوشش کرو گی۔ تو ساری زندگی احسان مند رہوں گا تمہارا۔“
ابتہاج نے اُس کے بالوں سے کیچر نکالتے اُس کی حسین زلفوں کو آبشار کی طرح کندھوں پر پھسلتے دیکھا تھا۔ سُلین اُس کی حرکت اور الفاظ کی نوعیت سمجھتی مجسمے کی طرح اپنی جگہ سن سی کھڑی رہ گئی تھی۔
ابھی کچھ دیر پہلے وہ کیسا حیوانوں جیسا بی ہیو کررہا تھا۔ اور اب ایک نرم مزاج محبت کرنے والے انسان میں ڈھل چکا تھا۔
یہ شخص کون تھا ؟ کس ہنر سے واقف تھا آخر؟
اِس کے پھونکے جانے والے سحر سے نکل پانا سُلین کو ناممکن لگ رہا تھا۔
” کیا ہوا کہیں یہ بُرا انسان اچھا تو نہیں لگنے لگا گیا۔“
ابتہاج نے سرگوشی نما آواز میں اُس کے کان کے قریب جھکتے گہرا سانس اندر کھینچتے اُس کے بالوں سے اُٹھتی مہک سے اپنی سانسیں معطر کی تھیں۔ سلین اُس کی گرم سانسیں اپنی گردن پر محسوس کرتی جی جان سے لرز اُٹھی تھی۔ اُسے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔ کہ ہر ٹائم چہرے پر سرد تاثرات سجائے رکھنے والا شخص ایسی حرکتیں بھی کر سکتا ہے۔
” پلیز ۔۔۔۔دور رہیں مجھ سے۔۔۔۔آپ اِس طرح میرے قریب نہیں آسکتے۔ یہ نکاح صرف مجبوری اور ضرورت کے تحت کیا گیا ہے۔ جو بہت جلد ختم ہوجائے گا۔ آپ کے پاس کوئی حق نہیں ہے اِس طرح میرے قریب آنے کا۔“
سُلین اُس کی بے باک نظروں کا فوکس اپنے ہونٹوں پر محسوس کرتی اب کی بار خاموش نہیں رہ پائی تھی۔ پوری ہمت مجتعم کرتے اُس سے دور ہونے کی کوشش کرتی بول گئی تھی۔ اُسے اِس شخص سے کسی بھی بات کی اُمید نہیں تھی۔ یہ کبھی بھی کچھ بھی کر سکتا تھا۔
اُس کی بات ابھی ختم ہی ہوئی تھی۔ جب ابتہاج نے اُسے کلائی سے دبوچتے پورا اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔ سُلین کٹی پتنگ کی طرح اُس کی بانہوں کا حصہ بنی تھی۔
ابتہاج اُسے اچھے سے سمجھانا چاہتا تھا۔ اُسے خود سے دور رہنے کا بول کر وہ بہت بڑی غلطی کر گئی ہے۔
“میں تم پر کتنا حق رکھتا ہوں۔ یہ بات لگتا ہے تمہیں خود ہی باور کروانی پڑے گی مائی لو۔ ہمارے نکاح میں صرف ایک ہی شرط رکھی گئی تھی۔ یہ پرابلم ختم ہوتے ہی میں تمہیں تمہاری مرضی کے مطابق آزاد کر دوں گا۔ اِس کے علاوہ تو میرے خیال میں کوئی شرط نہیں رکھی گئی۔ یہ تو بالکل بھی نہیں، کہ میں اپنی وائف سے پیار نہیں کرسکتا۔ اپنا حق استعمال نہیں کرسکتا۔ سو میری شدتیں سہنے کے لیے خود کو تیاد کرلو۔“
سُلین کے ہونٹوں کے اُوپر حصے پر موجود لرزتے سہمے ہوئے تل کو سہلاتے وہ اُس کی دھڑکنیں منتشر کرگیا تھا۔
جاری ہے۔
