Teri Chah Mein By Farwa Khalid Readelle50119 Episode 32
No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
سُلین شدید غصے کے عالم میں آگے بڑھی تھی۔ وہ اب مزید دور کھڑے ہو کر سامنے کا منظر نہیں دیکھ سکتی تھی۔
ابتہاج غیض و غضب کی کیفیت میں کھڑا اپنے قدموں میں گری لڑکی پر برس رہا تھا۔ جو بہت بُری طرح سے روتی اُسے کوئی بات مان جانے کی منت کررہی تھی۔
“کیا ہورہا ہے یہ سب۔ آپ کو زرا شرم نہیں آرہی ایک معصوم لڑکی کے ساتھ یہ سب کرتے ہوئے۔“
سُلین اُونچی آواز میں چلاتی اُن کے قریب گئی تھی۔ اور جھک کر اُس بُری طرح کپکپاتی لڑکی کو ابتہاج کے آگے سے اُٹھایا تھا۔
“واٹ کیا بکواس ہے یہ۔“
سُلین کے الزام پر ابتہاج کا دماغ گھوم چکا تھا۔
”آپ بتائیں کیا بیہودگی چل رہی ہے یہاں۔ کیا کرنا چاہ رہے تھے آپ اِس لڑکی کے ساتھ۔ وہ تو شکر ہے میں ٹائم پر آگئی ورنہ آپ اِس لڑکی کے ساتھ بھی وہی کرتے۔ جو آج تک نجانے کتنی لڑکیوں کے ساتھ کر چکے ہیں۔“
سُلین بنا اردگرد موجود ابتہاج کے آدمیوں کی پرواہ کیے۔ جو منہ میں آرہا تھا بولی جارہی تھی۔ اُس کے ہر لفظ کے ساتھ ابتہاج کا غصہ آسمان کو چھو رہا تھا۔
دل نے اپنے پاس کھڑی اپنے سے بھی کہیں زیادہ جذباتی لڑکی کو افسوس بھری نظروں سے دیکھا تھا۔ معاملہ اصل میں تھا کیا اور وہ سمجھ کیا رہی تھی۔ اتنے لوگوں کے سامنے وہ اپنے شوہر پر اتنا بڑا الزام لگا رہی تھی۔
آصف سمیت وہاں موجود تمام لوگوں کے سر بالکل جھک گئے تھے۔ آصف کو اب ابتہاج کے ہاتھوں اپنی درگت بنتی صاف نظر آرہی تھی۔ آج اُس کی کوئی نہ کوئی ہڈی تو لازمی ٹوٹنے والی تھی۔ اُس نے ابتہاج کی اجازت کے بغیر سُلین کو یہاں لانے کی بہت بڑی غلطی کر دی تھی۔
”کیا بیہودگی کرتے دیکھا ہے تم نے مجھے اِس لڑکی کے ساتھ۔ اِس ساری بکواس سے پہلے زرا وہ بتانا پسند کرو گی تم مجھے۔“
ابتہاج بھی اردگرد موجود لوگوں کی پرواہ کیے بغیر سُلین کا بازو دبوچ کر اُسے اپنے قریب کرتے دبے لہجے میں دھاڑا تھا۔ اُس کی جھلستی سانسوں کی تپیش اور جارحانہ انداز پر سُلین لمحے بھر کو سہم کر خاموش ہوئی تھی۔
”تو پھر کون ہے یہ لڑکی۔ اور یہاں یوں روتی بلکتی کیا کررہی ہے۔“
سُلین سب کے سامنے ابتہاج کی اِس وحشی قربت پر خائف ہوئی تھی۔ ابتہاج کے اشارے پر آصف اور دل کے علاوہ باقی سب وہاں سے نکل گئے تھے۔ مگر ابتہاج نے سُلین کو ابھی بھی اپنی گرفت سے آزاد نہیں کیا تھا۔
”یہ لڑکی تو مجھ سے بھی زیادہ پاگل ہے۔ بھلا کوئی اتنے خطرناک شوہر سے ایسے پنگے لے سکتا ہے۔ یہ بھی کوئی میری ہی بہن ہے۔ جسے بنا سوچے سمجھے بولنے اور کرنے کی عادت ہے۔“
دل سُلین کی جانب دیکھتی افسوس سے سوچ کر رہ گئی تھی۔
”تم ہمیشہ الزام لگا کر، وضاحت کیوں مانگتی ہو۔ تم میری نرمی کا اب مزید ناجائز فائدہ نہیں اُٹھا سکتی۔ اب تمہیں میں بتاؤں گا، ابتہاج لغاری کتنا ظالم اور سفاک ہے۔“
ابتہاج سُلین کو جھٹکے سے خود سے دور کرتے دھاڑا تھا۔ سلین لڑکھڑائی تھی جب دل نے قریب آکر اُسے سہارا دیا تھا۔
“ایسا کچھ بھی نہیں ہے جیسا آپ سمجھ رہی ہیں۔ آپ کے شوہر میرے ساتھ کچھ غلط نہیں کرنے والے تھے۔ بلکہ اُنہوں نے تو میری بہت مدد کی ہے۔ وہ عزت کے محافظ ہیں لُٹیرے نہیں۔“
دل کی بات پر سُلین نے ٹھٹھک کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔ جس پر دل اُسے اپنے ساتھ ہوا تمام واقع بتانے لگی تھی۔
وہ لڑکے دل کو اُٹھا کر لے جارہے تھے۔ جب اُس کی خوش قسمتی سے وہاں سے گزرتے ابتہاج نے اُس کی آواز سن لی تھی۔ جس پر ایک لمحے کی بھی دیر کیے بغیر اُس تک پہنچتے ابتہاج نے اُن تینوں لڑکوں کو دھنک کر رکھ دیا تھا۔
اُسی کے پوچھنے پر دل نے اُسے اپنے گھر چھوڑنے اور اِس سچویشن میں پھنسنے کی ساری بات بتا دی تھی۔ ابتہاج نے اُس کے انکار کے باوجود زبردستی زورین کا نمبر پوچھ کر اُسے کال کر دی تھی۔
دل زورین کے پاس واپس نہیں لوٹنا چاہتی تھی۔ اِس لیے وہ ابتہاج کو اُسے زورین کے حوالے نہ کرنے کی منت کررہی تھی۔ جسے دیکھ سُلین اِس ساری بات کو کسی اور ہی رُخ پر لے گئی تھی۔
ساری حقیقت جان کر سلین کا سر ندامت سے جھک گیا تھا۔ غصے میں وہ ابتہاج پر بہت بڑا الزام لگا گئی تھی۔ حبیب صاحب کی گمشدگی کی وجہ سے وہ اِس قدر پریشان اور زہنی اذیت کا شکار تھی۔ کہ وہ ایک لمحے کے لیے بھی سوچنے کی زحمت کیے بغیر اُس پر الزام داغ گئی تھی۔
”آئم سوری۔۔۔۔“
سُلین نے بہت دقت سے ابتہاج کے سامنے یہ الفاظ ادا کیے تھے۔
جس کا بنا کوئی جواب دیئے ابتہاج آصف کی جانب بڑھا تھا۔ ابتہاج کا اُٹھنے والا زور دار تھپڑ آصف کو ہوش بھلا گیا تھا۔ وہ لڑکھڑا کر نیچے جاگرا تھا۔ اپنے سُن ہوتے گال پر ہاتھ رکھے اُس نے رحم طلب نظروں سے سامنے کھڑے ابتہاج کی جانب دیکھا تھا۔
سلین اور دل ہکا بکا سی منہ پر ہاتھ رکھے یہ سب دیکھ رہی تھیں۔ سُلین کو ابتہاج کے اِس نئے رُوپ سے بہت ڈر لگنے لگا تھا۔
“اپنی بیوی کا غصہ مجھ غریب پر تو مت نکالو۔“
آصف تھپڑ کھانے کے باوجود بھی بولنے سے باز نہیں آیا تھا۔
ابتہاج اُسے خونخوار نظروں سے گھورتا وہاں سے نکل گیا تھا۔
”آئم سوری میری وجہ سے۔ آپ دونوں ہزبینڈ وائف کے درمیان پرابلمز آگئیں۔“
دل اپنی وجہ سے اُن دونوں کے دمیان مس انڈرسٹینڈنگ آتی دیکھ شرمندہ ہوئی تھی۔
”نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔ آپ کو گلٹی ہونے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے۔ ہم دونوں میں صرف پرابلمز ہی ہیں۔ اِس کے علاوہ کچھ نہیں۔“
سُلین کو وہ معصوم پیاری سی لڑکی بہت پسند آئی تھی۔ ایک اپنائیت سے محسوس ہورہی تھی اُس سے۔ وہ اُسے لیے صوفے پر آن بیٹھی تھی۔
“تم بتاؤ تم کیوں چھوڑ کر آئی اپنے ہزبینڈ کو۔ کیا وہ اچھا انسان نہیں ہے۔ تم کیوں اُس کے پاس واپس نہیں جانا چاہتی۔ مجھے بتاؤ اپنی ساری پرابلم۔ اُس شخص کی چھٹکارا دلوانے کے لیے میں تمہاری ہر ممکن حد تک مدد کرنے کی کوشش کروں گی۔“
سُلین نے شوہر کے ذکر پر دل کی آنکھوں میں نمی اُترتی دیکھی تھی۔ اِس لیے وہ ملائمت سے اُس کے ہاتھ تھامے بولی تھی۔
“بتائیں اِنہیں پلیز بہت اچھی طرح مدد کریں گی یہ آپ کی۔ دوسروں کا دل توڑنے کی اِن سے زیادہ اچھی ٹریننگ کوئی نہیں کروا سکتا۔ “
ابتہاج کی طنز میں ڈوبی آواز پر وہ دونوں چونک کر سیدھی ہوئی تھیں۔
”آپ کے ہزبینڈ آچکے ہیں۔ خاموشی سے بنا کوئی چوں چراں کیے اُس کے ساتھ چلی جاؤ۔ ورنہ میں واپس اُسی جگہ چھوڑ آؤں گا۔ جہاں سے لایا تھا۔“
دل زورین کے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی۔ مگر ابتہاج کے دھمکی آمیز انداز پر اُس نے مدد طلب نظروں سے سُلین کی جانب دیکھا تھا۔
“یہ کیا طریقہ ہے کسی کو اپنے گھر سے بھیجنے کا۔ اگر اِس لڑکی کی جگہ آپ کی سگی بہن ہوتی تو اُس کو بھی ایسے ہی دھمکی دے کر رخصت کرتے۔“
سُلین کو ابتہاج کا انداز بہت ناگوار گزرا تھا۔
”نہیں تب یہاں تک نوبت ہی نہ آتی۔ کیونکہ اُس کو میں اپنے گھر گھسنے بھی نہ دیتا۔“
ابتہاج کی بات پر سُلین کے ساتھ ساتھ دل بھی حیرت زدہ رہ گئی تھی۔ ابتہاج سے موازنے میں دل کو زورین لاکھ درجہ بہتر لگا رہا تھا۔ جتنا بھی اکڑو سہی مگر وہ اِس شخص جتنا بے حس اور سنگدل بالکل بھی نہیں تھا۔
“دل۔۔۔“
اُسی لمحے زورین نے وہاں قدم رکھا تھا۔ دل کو سہی سلامت اپنے سامنے دیکھ جہاں اُس کے رگ و پے میں طمانیت اُتر گئی تھی۔ وہیں ابتہاج سے ساری حقیقت جان کر اُس کی دھڑکنیں ابھی تک جگہ پر نہیں آپائی تھیں۔ اگر ابتہاج بروقت دل کی مدد نہ کرتا اور اُسے خدانخواستہ کچھ ہوجاتا تو۔۔۔۔اِس سے آگے کا تصور کرتے ہی زورین کو اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہورہی تھی۔
اُسے دل پر بھی بہت غصہ تھا۔ مگر اِس وقت وہ ہر چیز بھلائے صرف اُسے اپنے سینے سے لگا کر اُس کے سہی سلامت ہونے کا یقین کرنا چاہتا تھا۔
زورین کی پکار پر دل اپنے قدم اُس کی جانب اُٹھنے سے روک نہیں پائی تھی۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ جس حادثے کا شکار ہوتے بچی تھی۔ اُس کے بعد ایموشنلی وہ بالکل بھی سٹیبل نہیں تھی۔ جس شخص کی دوبارہ کبھی صورت نہ دیکھنے کا ارادہ کرچکی تھی۔ اُسے یوں سامنے دیکھ خود پر سے اختیار کھوتی وہ اُس کے قریب کرنے پر سینے سے لگتی بُری طرح رو دی تھی۔ زورین نے کسی قیمتی متاع کی طرح اُسے پوری طرح خود میں سمو لیا تھا۔
“تھینکیو سو مچ مسٹر ابتہاج۔ آپ نے آج جو احسان مجھ پر کیا ہے۔ وہ میرے لیے میری زندگی سے بڑھ کر ہے۔ اگر آئندہ کبھی کسی قسم کی مدد درکار ہو تو آپ کی ایک کال پر حاضر ہونگا میں۔ تھینکس اگین۔“
زورین دل کو اُسی طرح سینے میں بھینچے بولتا اُسے ساتھ لگائے وہاں سے نکل آیا تھا۔
سُلین اُس معصوم سی لڑکی کا اتنا پروٹیکٹو شوہر دیکھ ابتہاج کے آگے ایک بار پھر اپنی بات غلط ہوجانے پر شرمسار ہوئی تھی۔ مگر یہ شرمندگی بہت تھوڑے ٹائم کے لیے ہی تھی۔ اگلے ہی لمحے اپنے بابا کا خیال زہن میں آتے وہ طیش کے عالم میں ابتہاج کی جانب بڑھی تھی۔
”میرے بابا کہاں ہیں۔ کدھر غائب کیا ہے اُنہیں۔ آخر آپ کی اُن سے دشمنی ہے کیا۔ کیوں مارنا چاہتے ہیں آپ اُنہیں۔“
ابتہاج کا گریبان پکڑے طیش کے عالم میں بولتی وہ اُس کا خوف بھول چکی تھی۔
”میں تمہارے کسی بھی سوال کا جواب دینے کا پابند نہیں ہوں۔“
ابتہاج اُس کی لال سوجی آنکھوں سے نظریں چراتے بولتا اُس کے ہاتھ جھٹک گیا تھا۔
”پابند ہیں آپ میری ہر بات کا جواب دینے کے۔ جیسے آپ نے مجھے اپنا پابند کررکھا ہے۔ ویسے ہی آپ کو بھی میرا پابند ہونا پڑے گا۔“
ابتہاج کا دماغ سُلین کی الزام تراشی پر پہلے ہی بہت اُبل رہا تھا۔ جبکہ دوسری طرف سُلین کو بھی اُس کا یوں روڈ بی ہیو کرنا غصہ دلا گیا تھا۔ جو کچھ اُس کی لائف میں چل رہا تھا۔ وہ بہت زیادہ زہنی ٹینشن کا شکار تھی۔
دونوں غیض و غضب میں بپھرے آمنے سامنے کھڑے ایک دوسرے کو گھور رہے تھے۔
”اوہ ریئلی، کیا واقعی میں نے تمہیں اپنا پابند کررکھا ہے؟“
ابتہاج دو قدم آگے بڑھاتا درمیانی فاصلہ ختم کرتا اُس کے بے حد قریب آن کھڑا ہوا تھا۔
اُس کی معنی خیزی پر سُلین کا چہرا لال ہوا تھا۔ اُس کی اِس قدر نزدیکی پر گھبرا کر وہ فوراً پیچھے ہٹی تھی۔ مگر ابتہاج نے اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتے اُسے اپنے مزید قریب کھینچ لیا تھا۔
“جانتی ہو اپنا پابند کیسے کیا جاتا ہے۔“
سُلین کا چہرا ٹھوڑی سے تھام کر اُونچا کرتے ابتہاج اُس کی آنکھوں میں جھانکتا گھمبیر تپیش زدہ لہجے میں بولا تھا۔
سُلین کو بالکل بھی اندازہ نہیں تھا اُس کا بولا گیا لفظ اُسی پر بھاری پڑ جائے گا۔
”آپ بات کو غلط رُخ پر لے کر جارہے ہیں۔“
سُلین اُس کی اتنی قربت پر کپکپانے لگی تھی۔ ابتہاج کا چہرا اُس کے اتنے قریب تھا۔ کہ اُس کے بولنے پر اُس کے لب سُلین کی ناک سے ٹچ ہورہے تھے۔ مُٹھیاِں بھینچے وہ بہت مشکل سے یہ سب برداشت کررہی تھی۔
جب بھی وہ ابتہاج سے نفرت کرنا چاہتی تھی۔ یہ شخص ہر بار اُس کے اتنے قریب آکر اُس پر اپنا سحر پھونک دیتا تھا۔ وہ چاہ کر بھی اُس سے دور نہیں جا پاتی تھی۔
”ابھی ہی تو اپنے سیدھے رُخ پر آرہا ہوں میں۔“
ابتہاج نے اُس کے کان کی لوح پر شدت بھرا لمس چھوڑتے اپنے اندر لگی آگ کو کم کرنا چاہا تھا۔ وہ زندگی میں اب صرف اِس لڑکی کی محبت، اِس کے ساتھ کا خواہشمند تھا۔ مگر وہ اُس کا دکھ سمجھنے کے بجائے ہر روز اُس پر نیا الزام لگا کر اُس کی تکلیف میں مزید اضافہ کر جاتی تھی۔ اگر سُلین کی جگہ کوئی اور یہ سب کرتا تو ابتہاج اب تک اُسے سزا دے چکا ہوتا۔ مگر سب سے بڑا ستم ہی یہی تھا اُس کے لیے، اِس لڑکی کے معاملے میں وہ ہمیشہ بےبس ہوجاتا تھا۔
سُلین اُس کے دھکتے لمس پر لرز سی گئی تھی۔ ابتہاج لغاری کی قربت برداشت کرنا اُس کے بس کی بات نہیں تھی۔
”میرے بابا کہاں ہیں۔“
سُلین لرزتی آواز میں بمشکل اتنا بول پائی تھی۔
”میرے پاس ہیں۔ اگر تم چاہتی ہو وہ سہی سلامت رہیں۔ اور اگر ملنا چاہتی ہو تو تمہیں ایک ہفتے کے لیے میرا پابند رہنا ہوگا۔ اُس کے بعد جو تم کہو گی وہی ہوگا۔“
ابتہاج کے ہونٹوں نے اب سُلین کی سوجی آنکھوں کو نرمی سے چھوا تھا۔ سُلین کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گال پر پھسلا تھا۔ جسے ابتہاج نے بے مول ہونے سے پہلے ہی اپنے لبوں سے چن لیا تھا۔
سلین کا وجود لرزنے لگا تھا۔ اگر وہ ابتہاج کے سہارے پر نہ کھڑی ہوتی تو اب تک زمین بوس ہوچکی ہوتی۔
وہ اکیلے لڑتے لڑتے تھک چکی تھی۔ اُس کا دل اِسی شخص کی محبت کا طلبگار تھا۔ اِس کی اصلیت اِس کے منہ سے سن لینے کے باوجود وہ یقین نہیں کرپارہی تھی۔ کبھی کبھی تو وہ ابتہاج کی وکالت کرتے اپنے دل سے اُلجھ جاتی تھی۔
”آپ کیوں کررہے ہیں یہ سب۔ میں نے اور میرے بابا نے آخر کیا بگاڑا ہے آپ کا۔ وہ بیمار ہیں پلیز اُنہیں اپنی اِس دشمنی میں مت گھسیٹے۔ آپ مجھ سے اپنا ہر بدلہ نکال لیں۔ جیسا چاہے سلوک کریں میں کچھ نہیں کروں گی۔ مگر پلیز میرے بابا کو کچھ مت کیجئے گا۔“
سُلین اپنے بابا کا سن کر آنسو نہیں روک پائی تھی۔ ابتہاج اب بار اُس کے آنسوؤں کے آگے کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا۔ بہت مشکل سے اُس نے اپنے دل کو مضبوط رکھا تھا۔
“تو پھر اِس ایک ہفتے تمہیں میرا پابند ہوکر رہنا پڑے گا۔ جو میں کہوں گا تم وہی کرو گی۔ یہی شرط ہے اگر تم اپنے بابا سے ملنا چاہتی ہو تو۔ بولو منظور ہے۔“
سُلین کے آنسو صاف کرتے اُس نے ہتھیلی اُس کی جانب بڑھائی تھی۔ جس پر ایک سیکنڈ کے لیے بھی سوچے بغیر سُلین نے اپنا کپکپاتا ہاتھ رکھ دیا تھا۔
“تھینکس یہ ایک ہفتہ میری زندگی کا سب سے حسین وقت ہونے والا ہے۔ اِس کے بعد میں سکون سے موت کو اپنے گلے لگا سکتا ہوں۔“
ابتہاج اُس کو محبت پاش نظروں سے دیکھتا اُسے لیے وہاں سے نکل گیا تھا۔
★★★★★★★★★
پورا راستہ زورین نے اُس سے کوئی بات نہیں کی تھی۔ تنے ہوئے تاثرات کے ساتھ لب بھینچے وہ خاموشی سے ڈرائیونگ کرتا رہا تھا۔
دل بھی اُس سے پوری پوری ناراضگی ظاہر کرتی اُس کی جانب سے رُخ موڑ کر گاڑی سے باہر دیکھتی رہی تھی۔ مگر دھیان سارا زورین کی جانب ہی تھا۔
اچانک کسی خیال کے آتے وہ زورین کی جانب پلٹی تھی۔
”آئم سوری۔ میری وجہ سے آپ ڈسٹرب ہوئے۔ آپ کی فیانسی کو تو بہت بُرا لگا ہوگا نا۔ آپ اِس طرح اُسے چھوڑ کر آگئے۔ اب واپس مجھے گھر دیکھ کر وہ آپ سے مزید ناراض ہوجائے گی۔ یہاں قریب ہی میری فرینڈ کا ہاسٹل ہے۔آپ پلیز مجھے وہاں ڈراپ کردیں۔“
دل بہت سوچ سوچ کر بولتی زورین کو راضی کرنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔ اُسے اِس وقت زورین کے اتنے سنجیدہ انداز سے ڈر بھی بہت لگ رہا تھا۔
“جسٹ کیپ کوائٹ۔ “
زورین کی سرد و سپاٹ آواز پر دل خاموش ہوکر واپس سیدھی ہوکر بیٹھ گئی تھی۔
گھر پہنچ کر بھی زورین نے اُس سے کوئی بات نہیں کی تھی۔ گاڑی سے اُسے ہاتھ تھام کر نکالتے وہ اُسے لیے اندر کی جانب بڑھ گیا تھا۔
“جاؤ جلدی سے فریش ہوکر آؤ۔ میں ویٹ کررہا ہوں تمہارا۔“
دل کو اپنے بیڈ روم میں لاکر اُس نے الماری سے کپڑے نکال کر اُسے تھمائے تھے۔ دل نے ایک نظر اپنے ملگجے حلیے کی جانب دیکھا تھا۔ اور خاموشی سے لباس اُس کے ہاتھ سے تھامتی وہ واش روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔ اِس وقت وہ صرف زورین کی گہری نظروں سے دور جانا چاہتی تھی۔
جان بوجھ کر واش روم میں ٹائم لگاتی وہ پونے گھنٹے بعد زورین کے چلے جانے کی تسلی کرتی باہر نکلی تھی۔ مگر اُسے باہر ہی صوفے پر براجمان دیکھ دل دانت پیس کر رہ گئی تھی۔
وہ اُسے اتنی اہمیت کیوں دے رہا تھا۔ وہ لڑکی نتاشا کہاں گئی تھی۔ جو خاص طور پر اُس کی خاطر لندن سے آئی تھی۔
دل کی موجودگی کا احساس کرنے کے باوجود زورین نے موبائل سے نظریں نہیں ہٹائی تھیں۔ وہ جانتا تھا دل پہلے ہی بہت پزل ہورہی ہے۔ وہ اُسے مزید پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔
دل مرر کے سامنے کھڑے گیلے بال سلجھاتے ہر سیکنڈ بعد اُس پر نظر ضرور ڈالتی تھی۔
زورین کے رویے سے وہ بُری طرح اُلجھ رہی تھی۔ نہ وہ اُسے اِس طرح گھر سے نکل جانے پر ڈانٹ رہا تھا۔ نہ ہی اُسے کوئی اور بات کہہ رہا تھا۔ اتنا اچھا اور اِس طرح صبر کرنے والا یہ شخص کبھی نہیں رہا تھا۔
”چلو۔۔۔۔۔“
بال سُلجا کر وہ ابھی برش رکھ ہی رہی تھی۔ جب زورین اُس کے سر پر آن پہنچا تھا۔
اُس کی گہری نظریں پوری فرصت سے دل کے وائٹ ڈریس میں روشنیاں بکھیرے حسین سراپے کا جائزہ لے رہی تھیں۔ دل نے پہلے سے اوڑھا ریڈ دوپٹہ اپنے گرد مزید درست کیا تھا۔
زورین نے بہت غور سے اُسکی یہ حرکت دیکھی تھی۔ بہت مشکل سے اُس نے اپنے ہونٹوں پر اُمڈ آنے والی بے ساختہ مسکراہٹ کو ہونٹ بھینچ کر روکا تھا۔
“مجھے ابھی بال خشک کرنے ہیں۔ اور مجھے بہت نیند بھی آرہی ہے۔ مجھے آرام کرنا ہے۔“
دل دراز کھول کر ڈرائیر نکالتی فوراً انکار کر گئی تھی۔
“مے آئی ہیلپ یو۔“
زورین نے اُس کی کلائی اپنی گرفت میں لیتے ڈرائیر اُس کے ہاتھ سے لے لیا تھا۔ دل ہکا بکا سی اُس کی شوخی ملاحظہ کررہی تھی۔
جو اب سوئچ آن کرتا ڈرائیر کا رُخ اُس کے بالوں کی جانب موڑ بھی چکا تھا۔
“پلیز میں خود کر لوں گی۔۔۔۔“
دل نے گھبرا کر اُس سے ڈرائیر واپس لینا چاہا تھا۔
مگر زورین اُس کا ہاتھ اپنی گرفت میں قید کرتا اپنے کام میں مصروف رہا تھا۔
زورین کے ہاتھ اپنے بالوں میں چلتے محسوس کرتے اُس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔ وہ تو پہلے ہی اپنا سب کچھ اِس شخص پر قربان کرچکی تھی۔ یہ سب کرکے وہ اب نجانے پھر کونسا ستم ڈھانا چاہتا تھا اُس پے۔
بال خشک کرکے زورین اُسے اپنے ساتھ لیے کمرے سے نکل گیا تھا۔ اُس کا رُخ ڈائینگ ٹیبل کی جانب تھا۔ دل بے جان گڑیا کی طرح اُس کے ساتھ کھینچتی جارہی تھی۔ اُس کے انکار کرنے پر کونسا زورین نے اُس کی سن لینی تھی۔
“بیٹھو اور یہ سارا کھانا ختم کرو۔ جب تک تم یہ نہیں کھاؤ گی۔ یہاں سے اُٹھ نہیں سکتی۔”
زورین اِس بات سے آگاہ تھا کہ دل نے صبح سے ایک لقمہ بھی نہیں لیا تھا۔ اُسے تو یہ سمجھ نہیں آرہی تھی۔ بنا کھائے پیے یہ دھان پان سی لڑکی چل پھر کیسے رہی تھی۔
زورین کے اِس نئے آرڈر پر دل کا ضبط جواب دے گیا تھا۔اُسے اب یہی محسوس ہورہا تھا۔ اُس کی حالت کے پیشں نظر زورین اُس پر ترس کھا کر یہ سب کررہا ہے۔
وہ ایک ایک جھٹکے سے کرسی سے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
“مجھے نہیں کھانا۔ آپ نے مجھے چابی سے چلنے والی گڑیا سمجھ رکھا ہے۔ جیسے مجھے چلائیں گے میں ویسے ہی کروں گی۔ مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا۔ طلاق چاہ۔۔۔۔۔۔۔“
دل کی بات ابھی پوری بھی نہیں ہوئی تھی۔ جب زورین نے اُسے اپنی جانب کھینچا تھا۔ وہ سیدھی اُس کی گود میں جاگری تھی۔
“کیا بدتمیزی ہے یہ چھوڑیں مجھے۔“
زورین نے اُسے پوری طرح اپنے حصار میں قید کرلیا تھا۔ دل اُس کے بازو پر ناخن گاڑھے اُس کا حصار توڑنے کی سر توڑ کوششیں کر رہی تھی۔ اُسے خود سمجھ نہیں آرہا تھا۔ آخر زورین اب اُس سے کیا چاہتا ہے۔ جب اُس کے پاس اُس کی محبت آچکی ہے۔
”جب تک کھانا نہیں کھاؤ گی۔ اِسی طرح میری گود میں بیٹھنا پڑے گا۔ اب یہ تمہاری چوائس ہے۔ تم کیا کرنا چاہتی ہو۔“
زورین ریلیکس ہوکر چیئر سے ٹیک لگا کر بیٹھتے بولا تھا۔ اپنے بازو میں گڑھے دل کے ناخنوں کی بھی کوئی پرواہ نہیں تھی اُسے۔
دل نے غصے سے گھور کر اُسے دیکھا تھا۔ وہ جانتی تھی یہ شخص کتنا ضدی ہے۔ اُس کی ایک نہیں سنے گا۔ اِس لیے کافی دیر کی مزاحمت کے بعد آخر کار ہار مانتے اُس نے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔
زورین نے اپنے ہاتھوں سے اُسے کھانا کھلانا چاہا تھا۔ جس پر دل نے پہلے دو نوالوں میں اُس کی اُنگلیوں پر اپنے دانت گاڑھے تھے۔
”تم تو میری سوچ سے زیادہ جنگلی ہو۔“
زورین پہلے اپنے بازو اور اب اُنگلیوں کا حال دیکھ کر اُسے مزید چڑھاتے بولا تھا۔
”بہت جلدی پچھتاوا ہورہا۔ مجھے دوبارہ اِس گھر میں لانے کا فیصلہ کرکے۔“
دل نے طنزیا نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔
”نہیں تمہاری یہ حرکتیں مجھے مزید تمہارے قریب کررہی ہیں۔“
زورین نے ہاتھ بڑھا کر اُسے کے ہونٹ پر لگا چاول ہٹایا تھا۔ دل نے فوراً اپنا چہرا پیچھے کیا تھا۔
”بس میں بہت کھا چکی ہوں۔ اب اِس سے زیادہ نہیں کھا سکتی میں۔ “
دل نے اب کی بار بےچارگی سے زورین کی جانب دیکھا تھا۔ جس پر آخر کار رحم کھاتے وہ مان گیا تھا۔ دل اپنے روم کی جانب بڑھی تھی۔ زورین کو بھی اپنے پیچھے آتا دیکھ اُس کا دل زور سے دھڑکا تھا۔ اُسے خطرے کی بو آنے لگی تھی۔ زورین کے بدلے انداز اُسے خوف میں مبتلا کررہے تھے۔
جب اچانک دل کو اپنی دعا قبول ہوتی محسوس ہوئی تھی۔ زورین کا فون بجا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ دوسری جانب بڑھ گیا تھا۔
دل زرا سی بھی دیر کیے بغیر روم میں داخل ہوکر اندر سے لاک کرگئی تھی۔ دروازے کے ساتھ سر ٹکا کر گہرے گہرے سانس لیتے وہ بستر کی جانب بڑھ گئی تھی۔ وہ آج بہت تھک گئی تھی۔ اب صرف آرام کرنا چاہتی تھی۔
مگر بہت سی باتیں اُس کے زہن میں گڈمڈ ہوتیں۔ اُسے سکون نہیں لینے دے رہی تھیں۔
کافی دیر گزر چکی تھی۔ مگر نیند آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ جب اُسے دروازے پر کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تھا۔ اُس نے تو روم لاک کیا تھا پھر یہ۔
وہ بیڈ سے اُٹھنے ہی والی تھی۔ جب زورین کیز سے لاک اوپن کرتا اندر داخل ہوا تھا۔ دل جلدی سے آنکھیں بند کرتی سوتی بن گئی تھی۔
قدموں کی چاپ اُسے اپنے قریب آتی محسوس ہونے لگی تھی۔ زورین اُس کے قریب آن کھڑا ہوا تھا۔ جھک کر اُس کی پیشانی سے بال سمیٹتے اُس نے اپنے لبوں کا لمس چھوڑا تھا۔ دل بہت مشکل سے سانس روکے پڑی رہی تھی۔
زورین شاہ اتنا مہربان کیوں ہوا تھا اُس پر۔ جب وہ اُس سے محبت بھی نہیں کرتا تھا۔ پھر کیا تھا یہ سب۔
زورین اُس پر کمبل درست کرتا واش روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔ دل نے دروازہ بند ہونے کی آواز پر آنکھیں کھول کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔
منتشر ہوتی سانسوں کے ساتھ کتنی ہی دیر وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پائی تھی۔
اُس کے ساتھ یہ سب کیا ہورہا تھا وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔
کچھ لمحے بعد زورین کو باہر آتا دیکھ وہ واپس اُسی پوزیشن میں لیٹ گئی تھی۔ حقیقت میں دل کی سانسیں تو اُس وقت رکی تھیں۔ جب زورین نے اُس کے قریب بیڈ پر لیٹتے ہاتھ بڑھا کر اُسے اپنے قریب کھینچا تھا۔ دل کے لیے مزید سونے کا ناٹک کرنا مشکل ہوگیا تھا۔ مگر وہ جس سچویشن میں اب تھی۔ اِس میں آنکھیں کھول کر زورین کا سامنا کرنا بھی دوبھر تھا۔
دل کا سر اپنے بازو پر ٹکاتے زورین نے اُس کا گلابی پھولا گال چوم لیا تھا۔ جس پر دل کا سارا خون چہرے پر سمٹ آیا تھا۔ زورین کے سامنے اُس کی چوری پکڑی گئی تھی۔ زورین کا زور دار قہقہ برآمد ہوا تھا۔ وہ پہلے سے ہی جانتا تھا دل جاگ رہی ہے۔ یہ ساری حرکتیں وہ اُسے تنگ کرنے کے لیے ہی کررہا تھا۔
”تم آنکھیں کھول سکتی ہو۔ اِس میں شرمندہ ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔“
زورین کی شوخی میں ڈوبی آواز پر دل نے خفیف سا ہوکر آنکھیں کھول دی تھیں۔ اور دونوں ہاتھ اُس کے سینے پر جماتے اُسے غصے سے دور دھکیلنا چاہا تھا۔ مگر اِس چکر میں زورین اُس کے مزید قریب آگیا تھا۔
”یہ کیا کررہے ہیں آپ۔ جب آپ کے نزدیک میری کوئی اہمیت ہی نہیں۔ آپ کی ساری محبت آپکی پہلی بیوی اور آپ کی بچپن کی دوست نتاشا کے لیے ہے تو پھر آپ یہ سب کیوں کررہے ہیں۔ میں جانتی ہوں۔ شوہر ہونے کی حیثیت سے آپ مجھ پر پورا حق رکھتے ہیں۔ مگر جب آپ مجھے اپنے ساتھ رکھنا ہی نہیں چاہتے تو پھر یہ سب کیوں کررہے ہیں۔ کیا اِس اذیت سے دوچار کرکے آپ مجھ سے میرے پیرنٹس کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔
اگر یہی بات ہے تو ٹھیک ہے۔ آپ جو مرضی کریں میں آپکو نہیں روکوں گی۔ آپ کو پوری زندگی جتنی اذیت ملی ہے۔ آپ اُس کا حساب لینے کا پورا حق رکھتے ہیں۔“
دل اپنی مزاحمت ترک کرتی زورین کے آگے اپنی سوچ رکھ گئی تھی۔
زورین کتنے ہی لمحے سپاٹ نظروں سے اُس کی جانب دیکھے گیا تھا۔ اگر وہ اِس وقت پہلے والا زورین ہوتا تو دل کے منہ سے اپنے بارے میں ایسے خیالات سننے کے بعد اُسے اِس کی سزا سنا چکا ہوتا۔ مگر اب ایسا نہیں تھا۔ دل جو کچھ بھی بول رہی تھی۔ یہ سارا اُس نے ہی اپنے عملوں سے دل کے دماغ میں بھرا تھا۔ اب اپنی محبت سے ہی اُس نے یہ سب ختم کرنا تھا۔
”میں نے اپنی پوری زندگی صرف ایک لڑکی سے ہی محبت کی ہے۔ جو کہ اِس وقت میرے بے حد قریب بیوی کی حیثیت سے میری بانہوں میں موجود ہے۔ یہی ایک لڑکی حقیقت ہے زورین شاہ کی۔ نہ تم سے پہلے کچھ تھا۔ نہ آگے کچھ ہوگا۔ دل آویز ہمایوں تم ہی میری محبت ہو۔ تمہیں بے پناہ چاہنے لگا ہوں میں۔ نہیں رہ سکتا اب تمہارے بغیر۔“
زورین بول رہا تھا جبکہ دل سکتے کے عالم میں اُسے دیکھے گئی تھی۔ یہ خواب تو وہ کئی بار دیکھ چکی تھی۔ اُسے یقین کرنا مشکل ہورہا تھا۔ کہ وااقعی یہ حقیقت تھی یا کوئی پُر فریب خواب۔ زورین شاہ اُس جیسی معمولی لڑکی سے محبت کیسے کرسکتا تھا۔
وہ اپنی چند لمحوں کی خوش فہمی پر تلخی سے مسکرائی تھی۔
”حیرت ہورہی ہے مجھے۔ زورین شاہ جس کی ایک کال پر شہر کی خوبصورت ترین لڑکیاں ٹاپ ماڈلز تک اُس کے قدموں میں ڈھیر ہوجائیں۔ اُسے آج مجھ جیسی ایک معمولی مڈل کلاس کی طلب کیسے ہوگئی۔ میں سمجھ نہیں پارہی آپ یہ سب بول کیوں رہے ہیں۔ آپ تو مجھے زبردستی حاصل بھی کرسکتے ہیں۔ پورا حق رکھتے ہیں مجھ پر۔“
دل اتنے دنوں سے اپنے اندر اکٹھی کی گئی تلخی اُس پر اُنڈیلنے لگی تھی۔
”دل تم ہوش میں تو ہو۔ کیا بکواس کررہی ہو تم۔ تم مجھے اتنا گھٹیا سمجھتی ہو۔ “
زورین کی گرفت دل کے گرد ڈھیلی پڑ چکی تھی۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ دل اِس سب کو اتنے غلط انداز میں لے گی۔
”نہیں آپ کو گھٹیا نہیں سمجھتی۔ لیکن اپنی اوقات کے بارے میں اچھے سے جانتی ہوں۔ زورین شاہ کی طلب ہوسکتی ہوں محبت نہیں۔ آپ کی آنکھوں میں آج تک اپنے لیے جتنی نفرت دیکھی ہے۔ اُس کے بعد محبت نامی فریب پر یقین کرنا ناممکن ہے میرے لیے۔ میرے دل نے آپ سے محبت کرکے مجھے پہلے ہی کسی قابل نہیں چھوڑا۔ آپ کی یہ چند لمحوں کی قربت مجھے بالکل ختم کردے گی۔ مگر آپ کے سکون کی خاطر میں اِس کے لیے بھی تیار ہوں۔“
دل کس قدر اذیت کا شکار تھی۔ زورین اُس کے بہتے آنسوؤں کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتا تھا۔ وہ پہلے ہی اِس لڑکی ہو اِس قدر توڑ چکا تھا۔ کہ اب ایک پل میں جوڑنا ناممکن تھا۔ زورین کا بس نہیں چل رہا تھا۔ وہ اپنے ساتھ کیا کر ڈالے۔ ایک معصوم ہنستی بستی لڑکی کا دل توڑ کر بہت بڑا گناہ کیا تھا اُس نے۔ جس کی سزا صرف اُسے ملنی تھی۔ دل آویز کو بالکل بھی نہیں۔
”تمہارے وجود سے نہیں تمہاری روح سے محبت کرنے لگا ہوں میں۔ جس کا میں تمہیں بہت جلد یقین دلا کر رہوں گا۔“
زورین دل کی آنکھوں میں جھانک کر اُسے یقین دلاتا اُس کے قریب سے اُٹھ گیا تھا۔ وہ دل کو اپنی محبت کا یقین دلا کر اُسے اپنا بنانا چاہتا تھا۔ جس کے لیے ابھی اُسے کچھ وقت مزید انتظار کرنا تھا۔
زورین کے روم سے نکلتے ہی دل پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
★★★★★★★★
جاری ہے ۔۔۔۔
