Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

“ہم نے یہ سب کرکے سُلین کو ابتہاج سے بدگمان کرنا چاہا تھا۔ مگر وہ تو ہم سے ہی کھیل گیا۔“
قاسم کو جب سے ابتہاج اور سُلین کے نکاح کا پتا چلا تھا۔ وہ تب سے ایسے ہی غصے سے پاگل ہوا پھر رہا تھا۔
”ہم سے ہی بھول ہوئی ہے۔ ہم نے ابتہاج لغاری کی فطرت سے اچھی طرح آگاہ ہونے کے بعد بھی ایسا کچا کام کیا۔ ہمیں پہلے ہی سُلین کو اغوا کر لینا چاہیے تھا۔ جس کے بعد سونے کی چڑیا تو ہمارے قبضے میں ہوتی ہی۔ اُس کا دیوانہ بھی ہمارے قدموں میں آجاتا۔ ابتہاج لغاری کی ایک کمزوری اگر سُلین حبیب ہے تو دوسری اُس کا بے پناہ غصہ ہے۔ جس میں آکر آج تک اُس نے اپنی زندگی تباہ ہی کی ہے۔“
گلشن بیگم بھی قاسم کی طرح شدید پچھتاوے کا شکار تھی۔
“اب یہی ہوسکتا ہے۔ کہ سُلین کے قریب رہ کر تم اُسے ابتہاج کی ساری سچائی بتا کر اُس کے خلاف بدگمان کرو۔ میں اچھے سے جانتی ہوں۔ یہ سن کر کے ابتہاج لغاری قاتل ہے اور وہ جیل کاٹ کر آیا ہے۔ سُلین ایک پل بھی ضائع کیے بغیر اُسے چھوڑ دے گی۔“
گلشن آرا قاسم کو اپنا نیا پلان سمجھاتے بولی تھیں۔ اُن کا سب سے پہلا مقصد سُلین اور ابتہاج کو ایک دوسرے سے الگ کرکے کمزور کرنا تھا۔ جس کے لیے کی جانے والی اُن کی پہلی کوشش ابتہاج سُلین کو اپنے نکاح میں لے کر ناکام بنا چکا تھا۔
★★★★★★★★
” واٹ دل گھر سے مسنگ ہے۔ ایسا بھلا کیسے ہوسکتا۔“
زورین ابھی میٹنگ روم سے نکلا تھا۔ جب منزہ کی کال پر دی جانے والی اطلاع نے اُس کا دماغ گھما دیا تھا۔
“ہاں میں پورے گھر میں تلاش کرچکی ہوں اُسے۔ وہ کہیں نہیں ہے۔ ابھی واچ مین نے بتایا ہے۔ کہ دل کو باہر جاتے دیکھا ہے اُس نے۔“
منزہ کی آواز سے پریشانی صاف چھلک رہی تھی۔
“اپنے اُن فضول قسم کے رشتہ داروں کے پاس ہی گئی ہوگی۔ اور کہاں جاسکتی بھلا۔ تم اُدھر کال کرکے پتا کر لو۔“
زورین نے اُسے مشورے سے نوازتے فون بند کرنا چاہا تھا۔
“وہ وہاں پر بھی نہیں ہے۔تم سے پہلے میں اُدھر کی کال کرکے بہانے سے پوچھ چکی ہوں وہ نہیں ہے وہاں۔ سچ بتاؤ ابھی صبح ڈانٹ رہے تھے نا تم اُسے۔ اتنی معصوم اور پیاری سی تو ہے وہ۔ اُس کے ساتھ اتنی زیادتی کیوں کررہے ہو۔ مجھے تو اپنا آپ مجرم لگ رہا ہے۔ بہت غلط کیا میں نے اُس کی تم سے شادی کروا کے۔“
منزہ اُس کا اب بھی اتنا لاپرواہ انداز دیکھ بھڑک اُٹھی تھی۔
” تھینک گارڈ تمہیں احساس ہوا کہ تمہارا میرا شادی کروانے کا فیصلہ کتنا غلط تھا۔ زیادتی میں نہیں تم نے کی ہے، اپنی اُس معصوم لڑکی سے۔ تم مجھے اچھے سے جانتی تھی۔ میں ہمیشہ سے ایسا ہی بدلحاظ اور احساس سے عاری انسان ہوں۔ اب بھگتو تم خود ہی۔ “
زورین غصے سے اُسے جواب دیتا فون بند کرکے ٹیبل پر پٹخ گیا تھا۔
اپنی پیشانی مسلتے وہ لیپ ٹاپ کھول کر کام میں مصروف ہوگیا تھا۔ مگر وہ کوشش کے باوجود کنسنٹریٹ نہیں کرپایا تھا۔
اندر کہیں دل میں بے چینی سی سر اُٹھانے لگی تھی۔ جسے وہ چاہنے کے باوجود دبا نہیں پارہا تھا۔
” آخر کہاں گئی ہوگی وہ بے وقوف لڑکی۔“
زورین گاڑی کی چابیاں لے کر اُٹھا ہی تھا۔ جب ڈرائیور کی آتی کال پر وہ فوراً الرٹ ہوا تھا۔
” سر وہ بیگم صاحبہ میرے ساتھ قبرستان پر آئی تھیں۔ مگر پچھلے ایک گھنٹے سے میں انتظار کررہا ہوں اُن کا۔ وہ ابھی تک واپس نہیں آئیں۔ میں اندر جاکر بھی دیکھ آیا ہوں۔ مگر وہ کہیں نہیں ہیں۔“
ڈرائیور کی تشویش زدہ آواز سن کر اب حقیقت میں زورین کو فکر ہوئی تھی۔
اُسے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔ کہ اُس کی کہی باتوں کا وہ اتنا اثر لے گی۔ وہ ڈرائیور کو ہدایت دیتا باہر نکل گیا تھا۔
★★★★★★★★
“صبا قاسم صاحب کو میرے آفس میں بھیجیں۔“
سُلین انٹر کام پر صبا کو ہدایت دیتی فون بند کر گئی تھی۔ اُن تصویروں والے سکینڈل نے اُس کے ریسٹورنٹ کو بہت متاثر کیا تھا۔ بہت سارے کلائنٹس جو اپنے ایونٹس ہمیشہ اِسی ریسٹورنٹ میں کرواتے تھے۔ وہ اپنی آگے کی بکنگز کینسل کروا چکے تھے۔ سُلین کے لیے یہ بہت تشویش کی بات تھی۔
وہ ابھی فائلوں پر جھکی اِنہی پرابلمز میں اُلجھی ہوئی تھی۔ جب درازہ کھلنے اور بند ہونے کے ساتھ اُسے قدموں کی چاپ سنائی دی تھی۔
“قاسم صاحب بغیر بتائے کہاں غائب تھے آپ۔“
سُلین یہی سمجھی تھی قاسم ہے۔ وہ فائلز پر جھکی مصروف سے انداز میں مخاطب ہوئی تھی۔ مگر قدموں کو ٹیبل کے اُس پار رُکنے کے بجائے قریب آتا دیکھ اور اپنے اردگرد بکھرتی خوشبو پر اُس نے جھٹکے سے سر اُٹھا کے اُوپر دیکھا تھا۔
پاس کھڑے ابتہاج لغاری کو اپنی جانب گہری نظروں سے دیکھتا پاکر سُلین کا دل زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔ وہ اِسی شخص سے فرار ہوکر اتنی جلدی آفس آگئی تھی۔ وہ یہاں بھی پہنچ گیا تھا۔
“گڈ مارننگ مائی لو۔“
ابتہاج نے اُس کی کرسی کا رخ اپنی جانب موڑتے جھک کر اُس کی پیشانی پر بوسہ دیا تھا۔ سُلین نے اُس کی اِس جسارت پر گڑبڑا کر سیدھا ہونا ہی چاہا تھا۔ جب ابتہاج اُس کی چیئرز کے دنوں طرف ہاتھ رکھتا اُس کی جانب پوری طرح جھک آیا تھا۔
سُلین سانس روکے اُسے دیکھ رہی تھی۔ جس نے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھتے اُسے کسی اور جانب دیکھنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا تھا۔
“میرے بارے ميں کچھ جاننا چاہتی ہیں تو مجھ سے پوچھیں نا۔ میرے بچارے ملازمین کو آزمائش میں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے۔“
ابتہاج آنکھوں میں استہزایہ مسکراہٹ لیے اُس کی جانب دیکھ رہا تھا۔ سُلین اُس کی بات پر خفت زدہ سی ہوتی چہرا موڑ گئی تھی۔ کیونکہ ابتہاج اب وہی نوٹ اپنی پاکٹ سے نکال کر سُلین کے ٹیبل پر رکھ رہا تھا۔ جو سُلین نے رضیہ کو آتے وقت دیئے تھے۔ سُلین اپنی حرکت پر شدید پیشمان ہوئی تھی۔ اگر رضیہ نے اُسے یہ سب بتایا تھا تو محبت والی بات تو لازمی بتائی ہوگی۔ یہ سوچ دل میں آتے اُس نے چور نظروں سے ابتہاج کی جانب دیکھا تھا۔
”میں کچھ نہیں جاننا چاہتی۔“
سُلین نے نظریں چراتے انکار کیا تھا۔
”آر یو شیور۔۔۔۔۔۔“
ابتہاج نے ایک بار پھر تسلی کی تھی۔ سُلین نے جواب میں ہولے سے سر ہلا دیا تھا۔ ابتہاج کی لوح دیتی نظروں سے اُسے اپنا آپ پگھلتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
دروازے پر ناک ہوا تھا۔ سُلین نے گھبرا کر ابتہاج کی جانب دیکھا تھا۔ جو اُس سے پیچھے ہٹتا جانے کے بجائے سامنے پڑی کرسی پر جا بیٹھا تھا۔
سُلین نے ایک نظر اُس کا شاہانہ انداز دیکھ باہر موجود نفوس کو اندر آنے کی پرمیشن دی تھی۔ اندر داخل ہوتے قاسم کو دیکھ ابتہاج کے چہرے کے تاثرات میں ایک دم برہمی آگئی تھی۔ جسے سُلین نے بہت غور سے نوٹ کیا تھا۔
“قاسم صاحب آپ پلیز بیٹھیں۔“
سُلین نے قاسم کو ابتہاج کے برابر والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔
”نوکروں کی اوقات مالکوں کے برابر بیٹھنے کی نہیں ہوتی۔“
ابتہاج نے قاسم کو کرسی کی جانب بڑھتا دیکھ کرسی کا ہی ٹانگ مار کر اُلٹ دیا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں قاسم کے لیے نفرت کا الاؤں بھڑک رہا تھا۔ سلین اُس کے ایسے ری ایکشن پر گھبرا کر اپنی جگہ سے اُٹھی تھی۔ اُس نے ابتہاج کو اپنے ملازمین کے ساتھ بہت اچھے سے پیش آتے دیکھا تھا۔ پھر اُسے بھلا قاسم سے کیا پرابلم تھی۔ سُلین کی اُلجھن میں مزید اضافہ ہوا تھا۔
قاسم کی آنکھوں سے بھی ابتہاج کے لیے خون ٹپک رہا تھا۔ جو ابتہاج کی جانب متوجہ ہونے کی وجہ سے سُلین نہیں دیکھ پائی تھی۔
” ابتہاج یہ سب۔۔۔۔“
سُلین نے قاسم کی موجودگی کا خیال کرتے بہت نرمی سے ابتہاج کو مخاطب کیا تھا۔ جو ابھی بھی ویسے ہی ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے ریلیکس بیٹھا تھا۔
” ریلیکس مائی لو۔ کچھ لوگوں کو کبھی کبھی اُن کی اوقات یاد دلانی پڑ جاتی ہے۔ “
ابتہاج پتا لگوا چکا تھا۔ اُن دونوں کی تصویریں بنوا کر بدنام کرنے کی کوشش کرنے والا قاسم ہی تھا۔ جس حرکت کی اُس نے ابھی قاسم کو کوئی سزا نہیں دی تھی۔ سُلین کا اپنے ہی مجرم کو اتنی عزت دیتا دیکھنا اُسے بالکل بھی ہضم نہیں ہوا تھا۔
” میم آئی تھنک ہم یہ بعد میں ڈسکس کر لیتے ہیں۔“
قاسم سُلین کے سامنے فلحال اپنا امیج بالکل بھی منفی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اِس لیے ابتہاج کی طرف سے کی جانے والی اتنی بے عزتی کے بعد بھی اُس نے خود پر کنٹرول نہیں کھویا تھا۔
” ایک منٹ مسٹر قاسم علی۔ اتنی بھی کیا جلدی ہے جانے کی۔ مینیجر ہو نا تم اِس ریسٹورنٹ کے تو اپنے نیو باس سے ملتے جاؤ پہلے۔ اور باقی سٹاف سے بھی متعارف کروا دینا۔“
ابتہاج کی بات پر قاسم کے ساتھ ساتھ سُلین نے بھی ٹھٹھک کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔ ابتہاج نے سُلین کو آنکھوں کے اشارے سے فل وقت چپ رہنے کا اشارہ کیا تھا۔ جبکہ قاسم خاموش نظروں سے ابتہاج کی چلی جانے والی چاک سمجھنے کی کوشش کررہا تھا۔
ابتہاج ہاتھ بڑھا کر سُلین کے ٹیبل پر پڑی بیل بجائی تھی۔ جس کے اگلے ہی لمحے دروازہ کھولتے پینٹ کوٹ میں ملبوس ایک انتہائی سٹائلش سی لڑکی ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے اندر داخل ہوتی ابتہاج کے قریب آکھڑی ہوئی تھی۔
سُلین کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ ابتہاج آخر کرنا کیا چاہتا ہے۔
” یہ ہیں تمہاری نیو باس۔ آج سے یہی اِس ریسٹورنٹ کو اون کریں گی۔ یو نو ہماری نئی نئی شادی ہوئی ہے۔ ہم کچھ ٹائم ساتھ میں گزارنا چاہتے ہیں۔“
ابتہاج قاسم کی چھپ چھپ کر سُلین کا کاروبار ڈبونے کے لیے چلنے والی چالیں اُسی پر اُلٹ دی تھیں۔ سُلین اُس پر اندھا اعتماد کرتی تھی۔ ابتہاج جانتا تھا اُس کے خلاف سلین بنا کسی ثبوت کے کوئی بات نہیں سنے گی۔ اِس لیے اُس نے اپنی ایک بہت خاص دوست رمشا کو یہ کام سونپ دیا تھا۔ جو بزنس میں بہت ماہر تھی۔ اتنے سالوں سے ابتہاج کا سارا کاروبار اُسی نے نہ صرف بہت اچھے سے سنبھالا تھا۔ بلکہ دشمنوں کی سازشوں سے بچا کر اُسے ترقی کی منزلیں بھی طے کروائی تھیں۔
” سُلین آپ یہاں سائن کردیں۔“
ابتہاج نے رمشا کو یہاں کے ڈائریکٹر کی پوسٹ پر فائز کیا تھا۔ جبکہ سُلین سی ای او کی پوسٹ پر تھی۔
سلین ابتہاج کا خود ہی اتنا بڑا فیصلہ کرنے پر اندر ہی اندر تلملا کر رہ گئی تھی۔ مگر یوں سب کے سامنے سائن کرکے انکار کرکے وہ اُسے شرمندہ بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اِس لیے خاموشی سے سائن کر دیئے تھے۔ اُسے اِس طرح ایک بار کے کہے پر سائن کرتا دیکھ ابتہاج کو اپنی کیوٹ سی بیوی پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔ جو غصے سے بھرے لال گالوں کے ساتھ بھی اُس کی بات مان گئی تھی۔ وہی دوسری جانب قاسم کو آگ لگ چکی تھی۔
وہ سُلین کو اتنے ٹائم سے بے وقوف بناتا آیا تھا۔ اُس کے قریب رہ کر اُس کے آفس اور گھر پر پورا کنٹرول بھی رکھا تھا۔ مگر اب رمشا جیسی شاطر لڑکی کے ہوتے وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا۔ بلکہ اِس نے تو اِنویسٹی گیٹ کرکے اُس کا سارا کچا چھٹا کھول کر سامنے رکھ دینا تھا۔
” رمشا مجھے پورا یقین ہے۔ تم اِس ریسٹورنٹ کو ویسے ہی سنبھالو گی جیسے تم نے میرے بزنس کو سنبھالا۔ دشمنوں کی پے در پے سازشوں کے باوجود۔“
ابتہاج رمشا کے مقابل آتا نہایت ہی فخریہ لہجے میں بولا تھا۔ اتنی نرمی سے سُلین نے اُسے صرف اپنے ساتھ ہی بات کرتے دیکھا تھا۔ کسی اور کو ابتہاج کے نزدیک اپنے جیسا مقام ملتا دیکھ سُلین کو بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔ وہ ہونٹ بھینچے اُسے دیکھے گئی تھی۔ ابتہاج کو رمشا سے مصافحہ کرتا دیکھ اُسے مزید آگ لگی تھی۔
اُسے کسی مرد کے سامنے دیکھ کر بھی محترم غصے سے پاگل ہو اُٹھتے تھے۔ مگر خود نجانے کون کون سی لڑکیوں کو جانتے تھے۔ اُس دن وہ روتی پیر پکڑتی لڑکی اور آج یہ رمشا جسے وہ بے انتہا یقین کا اظہار کررہا تھا۔
” ابتہاج ڈونٹ وری اب میں سب سنبھال لوں گی۔ آپ لوگ بے فکر ہو کر انجوائے کریں۔ ہیو آ نائس ڈے۔“
رمشا خوش دلی سے بولی تھی۔ اُسے ابتہاج کی وائف بہت پسند آئی تھی۔
” سیم ٹو یو ڈئیر۔“
ابتہاج کا لہجہ رمشا کے لیے شائستگی بھرا تھا۔ سُلین کا موڈ سخت آف ہوچکا تھا۔ جس کا اظہار اُس کا غصے سے تمتماتا چہرا کر بھی رہا تھا۔
” چلیں۔“
ابتہاج نے سُلین کا نازک ہاتھ اپنی گرفت لیتے اپنے ساتھ آنے کو کہا تھا۔ جس پر وہ اُسے خفگی سے گھورتی مگر ساتھ چل پڑی تھی۔
” مسٹر قاسم آپ پچھلے تین منتھس کی ساری فائلز میرے ٹیبل پر پہنچا دیں۔“
رمشا قاسم کو آرڈر دیتی سُلین والی کرسی پر جا بیٹھی تھی۔
” اوکے میم۔“
قاسم رمشا کو خونخوار نظروں سے دیکھتا باہر نکل گیا تھا۔ رمشا اُس کی اُڑی رنگت دیکھ اپنی ہنسی نہیں روک پائی تھی۔
قاسم سُلین کو ابتہاج کے خلاف بدگمان کرنے کے لیے اُس کے قریب رہنا چاہتا تھا۔ مگر ابتہاج اُس کی ساری پلاننگ دریا میں اُنڈیل گیا تھا۔
” ابتہاج لغاری اور اپنی بیوی کے ساتھ باہر نکلا ہے۔ اُس پر حملہ کر دو۔ پر دھیان رکھنا وہ جان سے نہیں جانا چاہیئے ابھی بہت سارا حساب کتاب رہتا ہے اُس سے۔ اور نہ ہی اُس کی بیوی کو کوئی خراش آنی چاہئے۔ جلد از جلد ابتہاج لغاری کی خون میں لت پت تصویر سینڈ کرو میں۔ میرے سینے میں لگی آگ اُسی سے ہی بجھ سکتی ہے “
قاسم باہر آکر فون پر اپنے خاص آدمی کو ہدایت دیتا زہرخند لہجے میں بولا تھا۔ ابتہاج لغاری کی ہر بار جیت نہیں ہوسکتی تھی۔
★★★★★★★★
” مجھ سے کوئی پیار نہیں کرتا۔ اِس دنیا میں کوئی میرا اپنا نہیں ہے۔ سب لوگوں کے لیے میں صرف ایک کھلونا ہوں۔ جس کا جب دل چاہتا ہے۔ میرے جذبات سے کھیل جاتا ہے۔ آپ لوگ کس کے سہارے چھوڑ کر چلے گئے مجھے۔“
دل اپنے نانا نانی کی قبروں کے درمیان بیٹھی آنسو بہاتی اپنے دل کا غبار نکال رہی تھی۔ ہمیشہ جب بھی وہ رقیہ بیگم کے رویے سے بہت زیادہ دالبرداشتہ ہوتی تھی۔ تو یہاں آجاتی تھی۔ گھنٹوں یہاں بیٹھ کر وہ ایسے ہی اپنی اندر کا دکھ اُن سے شیئر کرتی تھی۔
وہ نجانے کتنی ہی دیر وہاں بیٹھی رہتی۔ جب خود پر پڑتی کسی کی نظریں محسوس کرتے وہ چونک کر سیدھی ہوئی تھی۔ لیکن کچھ ہی فاصلے پر کھڑے شرابی شخص کو دیکھ اُس کی سانس حلق میں ہی اٹک گئی تھی۔ وہ اُسے عجیب نظروں سے گھورتا قریب آرہا تھا۔
دل خوفزدہ ہوتی وہاں سے اُٹھ کر بھاگی تھی۔ مُڑ کر اُس شخص کو اپنے پیچھے آتا دیکھ دل کے قدم میں مزید تیزی آئی تھی۔ اُس کا دل سوکھے پتے کی طرح کانپ رہا تھا۔ قبرستان میں بھی لوگ اِس وقت نہ ہونے کے برابر تھے۔ اور جو تھے وہ بھی دور تھے۔ دل کو ایسی سچویشن کا پہلے کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ یہ بہت بڑا قبرستان تھا۔ جس کے ایک سے زیادہ دروازے تھے۔ دل ہڑبڑاہٹ میں یہ بھول گئی تھی کہ ڈرائیور کس طرف کھڑا تھا۔ اندھا دھند سامنے کی جانب بھاگتے اُس کی ٹانگیں مزید چلنے سے انکاری ہوچکی تھی۔
مُڑ کر پیچھے دیکھتے وہ اپنی راہ میں آنے والا پتھر نہیں دیکھ پائی تھی۔ جس سے ٹھوکر کھاتے وہ کنٹرول کھوتی لہرا کر زمین پر جاگری تھی۔ منہ کے بل گرنے کی وجہ سے اُس کا ماتھا درخت کے تنے سے ٹکراتا زخمی ہوگیا تھا۔ لیکن اِس سے زیادہ اِس وقت اُسے اپنے پیچھے آتے شخص کا خوف تھا۔ جو اب اُس کے سر پر پہنچ چکا تھا۔
“دیکھو قریب مت آنا۔ دور رہو مجھ سے۔“
اُس شخص کو اپنے قریب آتا دیکھ دل گڑگڑاتے ہوئے بولی تھی۔ اُسے لگ رہا تھا جیسے دنیا کے سارے دکھ اور مصیبتیں اُسی کے نام لکھ دی گئی تھیں۔
اِس سے پہلے وہ شخص اُس کی جانب ہاتھ بڑھاتا کسی نے درمیان میں آتے اُس شخص پر وار کرتے اُسے دور اُچھالا تھا۔
دل نے بھیگی پلکیں اُٹھا کر زورین شاہ کی جانب دیکھا تھا۔ جو اُس شخص کو بُری طرح پیٹ رہا تھا۔
وہ نشے میں دھت شخص کچھ ہی لمحوں میں ڈھیر ہوگیا تھا۔
” دل تمہارے ماتھے پر یہ چوٹ کیسے لگی۔ تم ٹھیک ہو۔“
زورین اپنے قیمتی کپڑوں کی پرواہ کیے بغیر دل کے قریب دوزانو بیٹھتا فکرمندی سی بولا تھا۔ جس کے جواب میں دل نے اُسے اجنبی نظروں سے دیکھ کر نگاہیں پھیر لی تھیں۔
” میں بالکل ٹھیک ہوں۔ یہاں کوئی نہیں ہے۔ اِس لیے آپ کو بلاوجہ دیکھاوا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔“
دل اُس کی صبح والی باتوں سے بہت زیادہ ہرٹ تھی۔ اِس لیے اُس کا اپنے ماتھے کی جانب بڑھا ہاتھ زخم تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
” تمہارا خون کافی زیادہ بہہ رہا ہے۔“
زورین اُس کے اٹیچیوڈ دیکھانے پر نجانے کیسے ضبط کرتے بولا تھا۔
” یہ میرا پرابلم ہے آپ کا نہیں۔ شکریہ میری اتنی مدد کرنے کے لیے۔“
دل کو لگ رہا تھا۔ اگر مزید اُس کے سامنے کھڑی رہی تو رو پڑے گی۔ اِس لیے اُسے اُسی کے انداز میں ٹکا سا جواب دیتی باہر کی جانب بڑھ گئی تھی۔
وہ سامنے کھڑی زورین کی گاڑی اگنور کرتی ٹیکسی کی جانب بڑھنے والی تھی۔ جب زورین نے پیچھے سے آتے اُس کی کلائی تھام کر اُس کی کمر گاڑی کے دروازے سے ٹکاتے اُس کا رُخ اپنی جانب موڑا تھا۔
ماتھے سے خون بہہ کر اب اُس کے چہرے پر پھیل رہا تھا۔
زورین نے ٹشو اُس کے زخم پر رکھنا چاہا تھا۔ مگر دل نے چہرا سائیڈ پر کرتے اُسے اپنے زخم کو چھونے نہیں دیا تھا۔
“واٹس رانگ ود یو۔ تمہارا خون بہہ کر ہے۔ یہ نخرے تم بعد کے ٹائم کے لیے رکھ دینا ابھی صاف کرنے دو یہ زخم۔“
زورین مزید ضبط نہیں کرپایا تھا۔ اب کی بار اُس کا لہجہ کافی سختی لیے تھا۔
” میں نخرے نہیں کررہی۔ آپ پلیز جائیں یہاں سے مجھے آپ کی شکل بھی نہیں دیکھنی۔“
دل آنسوؤں پر کنٹرول نہ رکھ پاتے غصے سے بولی تھی۔ اُسے اب بھی زورین کا یہ احسان جتاتا انداز بہت ہرٹ کررہا تھا۔
“شکل تو تمہیں اب زندگی پر میری ہی دیکھنی ہوگی۔ چاہے روؤ یا ہنسو۔ تم اب صرف میری پابند رہو گی۔ مجھے ضد دلا کر ہر بار نقصان اپنا ہی کرواؤ گی۔“
زورین اُسے کمر سے جکڑ کر اپنے مضبوط حصار میں تھامتا بالکل اپنے قبضے میں لے گیا تھا۔ دل اب کوئی مزاحمت نہیں کر پارہی تھی۔ ٹشو اُس کے زخم پر رکھتے زورین نے مسلسل گریہ زاری سے سوجے اُس کے لال پپوٹوں کو دیکھا تھا۔
دل غصے سے لرزتے ہونٹوں اور پھولے نتھنوں سے اُسے دیکھ رہی تھی۔ نکاح والے دن اُس کے دل نے اِس بے حس انسان کے حوالے سے نجانے کیا کیا خواب دیکھ لیے تھے۔ جو اب اُس کے بُرے رویے کی وجہ سے ٹوٹ کر اُسے ہی لہولہان کررہے تھے۔
“مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ۔ آپ بہت بُرے ہیں۔ آپ کے ساتھ رہنے سے بہتر ہے۔ انسان خود کشی کرلے۔“
دل کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔ اُسے اب مزاحمت نہ کرتا دیکھ زورین نے اُس کی کمر کے گرد سے اپنا بازو ہٹا لیا تھا۔
“تو کر لینا۔ روکا کس نے ہے۔“
زورین نے اُس کی بات کا تمسخر اُڑاتے جواب دیا تھا۔ اُس کی اتنی سنگدلی پر دل اُس کا خوبرو چہرا دیکھ کے رہ گئی تھی۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔