Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

سُلین نے پورے ڈرائنگ روم پر نگاہیں دوڑائی تھیں۔ ہر طرف خاموشی کا راج تھا۔ آتے جاتے ملازمین کام بھی ایسے کررہے تھے جیسے روبورٹ ہوں۔ اُن سب کے چہروں پر بھی ابتہاج لغاری کی جیسے سرد تاثرات سجے ہوئے تھے۔
ملازمہ سُلین کے آگے لوازمات سے بھری ٹرے رکھ کر جاچکی تھی۔ اُس نے گھڑی پر ٹائم دیکھا تھا۔ آدھا گھنٹہ ہوچکا تھا اُسے یہاں بیٹھے۔ مگر ابتہاج لغاری کے آنے کے کوئی آثار نہیں تھے۔
”ایکسکیوزمی۔ آپ کے سر کی ابھی مزید کتنی دیر ہے۔ وہ کب تک فری ہونگے۔“
سُلین اتنی دیر سے انتظار کرتی تنگ آگئی تھی۔ اُسے یہاں بیٹھے گھنٹے سے اُوپر ہوچکا تھا۔
”میم ابھی تو شاید ایک دو گھنٹے مزید لگ جائیں۔ اُن کے فری ہونے میں۔“
ملازمہ کی بات پر سُلین کا موڈ سخت آف ہوا تھا۔ اتنی دیر مزید وہ رک نہیں سکتی تھی۔ اور ابتہاج لغاری سے ملے بغیر جانے پر اُس کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔
”کیا میں اُن کے وہیں جاکر مل سکتی ہو۔“
سُلین کو یہ بات زیادہ بہتر لگی تھی۔
”میم سر کو بالکل بھی پسند نہیں ہے ایسے کسی کا وہاں جانا اور ڈسٹرب کرنا۔ “
ملازمہ نے فوراً انکار کیا تھا۔ اِس سے پہلے کے سُلین کچھ بولتی ایک شخص اندر داخل ہوا تھا۔ جسے دیکھ ملازمہ نے فوراً آگے بڑھ کر سلام کیا تھا۔
”یہ سر آپ کی فائل۔“
دلاور جو وہاں بیٹھی سُلین کو دیکھ اپنی جگہ ٹھٹھک گیا تھا۔ ملازمہ کی آواز پر فائل تھامتے وہ اُس کی جانب متوجہ ہوا تھا۔
پاشا نے اُسے یہ فائل لینے کے لیے ہی یہاں بھیجا تھا۔ ابتہاج کو بالکل بھی پسند نہیں تھا۔ اُس کی ایکسرسائز کے ٹائم کوئی اُسے ڈسٹرب کرے۔ اِس لیے اُس نے پہلے ہی فائل ملازمہ کو دے دی تھی۔ مگر اب ابتہاج لغاری کے گھر کسی لڑکی کا پایا جانا۔ لڑکی بھی وہی ریسٹورنٹ والی جس کی خاطر ابتہاج اسلحہ سے لیس غنڈوں سے بھڑ گیا تھا۔ دلاور کے لیے یہ سب حیرانگی کی بات تھی۔ ابتہاج لغاری جیسا روکھا پھیکا سرد مزاج بندہ بھی لڑکی کے چکر میں پڑ سکتا تھا۔ دلاور کے لیے یقین کرنا مشکل تھا۔ اِس بات کی تصدیق کے لیے کچھ سوچتے اُس نے سُلین کے بارے میں پوچھا تھا۔
” تمہیں اپنی نوکری عزیز نہیں ہے کیا۔ جو اِس لڑکی کو ابتہاج سے ملنے نہیں دے رہی۔ “
دلاور کی بات پر ملازمہ نے خوفزدہ ہوکر اُس کی جانب دیکھا تھا۔
” بھیج دو اِسے جم میں ابتہاج سے ملنے کے لیے۔ ابتہاج کو یہ بات زیادہ ناگوار گزرے گی۔ کہ یہ لڑکی اُس سے ملے بغیر چلی گئی۔“
دلاور ملازمہ کو ہدایت دیتا وہیں سے واپس پلٹ گیا تھا۔
”میم آئیں میرے ساتھ میں آپ کو سر سے ملوا دیتی ہوں۔“
ملازمہ کی بات پر سُلین اُس کے مان جانے پر نرم سی مسکراہٹ سے اُسے دیکھتی اُس کی معیت میں آگے بڑھی تھی۔
ڈرائنگ روم سے نکل کر ایک راہداری عبور کرتے آگے بنے دروازے کی جانب اشارہ کیا تھا۔
سلین ملازمہ کا سر ہلا کر شکریہ ادا کرتی آگے بڑھ گئی تھی۔ اُس کے دل کی کیفیت عجیب سی ہورہی تھی۔ اُسے یہ بھی ڈر تھا کہ کہیں وہ اُکھڑ مزاج بندہ اُس کے اِس طرح آجانے پر بے عزت ہی نہ کردے۔
جم کے اندر قدم رکھتے ہی سُلین کی آنکھیں حیرت سے واں ہوئی تھیں۔
آج تک وہ کبھی کسی جم میں نہیں گئی تھی۔ ٹی وی پر ہی جم کا نظارہ دیکھا تھا۔ مگر اتنی ایکسر سائز کی اتنی عجیب و غریب قسم کی مشینیں اُس نے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ جتنا گھر وہ ابتہاج لغاری کا دیکھ چکی تھی۔ جم اُس سے تین گناہ تھا۔ اردگرد نظریں گھماتے آگے بڑھتے اُسے دائیں جانب ٹریڈمل پر بھاگتا نظر آیا تھا۔ وہ اِس قدر سپیڈ سے بھاگ رہا تھا کہ اُسے دیکھ کر ہی سُلین کو اپنا سر چکراتا محسوس ہوا تھا۔ بلیک ٹراؤذر پر بلیک بنیان پہنے اُس کے کسرتی بازو اور کندھے نمایاں تھے۔ اُس کے کشادہ سینے کے جھانکتے بال دیکھ سُلین نے خفت زدہ سا ہوتے فوراً نظریں جھکا لی تھیں۔ اُسے یہاں آنے سے پہلے ابتہاج کے ایسے حلیے کا اندازہ بالکل بھی نہیں تھا۔ ورنہ وہ کبھی نہ آتی۔ سُلین نے شکر ادا کیا تھا کہ وہ اُس کی موجودگی سے ابھی تک انجان ہے۔ مگر یہ اُس کی بھول تھی۔
سلین نے جلدی سے وہاں سے ہٹنا چاہا تھا۔ جب ہڑبڑاہٹ میں وہ پیچھے رکھے ڈمبلز نہیں دیکھ پائی تھی۔ اُن سے پیر اُلجھ کر وہ ٹھوکر کھاتی منہ کے بل گرنے کو تھی۔ جب آدھے میں ہی دو مضبوط بازوؤں نے اُسے اپنے حصار میں لیتے گرنے سے بچا لیا تھا۔
سلین جو اِس بُرے طریقے سے گرنے کے خوف سے سختی سے آنکھیں میچ گئی تھی۔ خود کو کسی کی بانہوں میں محفوظ پاکر اُس نے جھٹ سے آنکھیں کھول دی تھیں۔
جس شخص سے دوڑ بھاگنے کے چکر میں اُس نے اتنی پھرتی دیکھائی تھی۔ اِس وقت وہ اُسی کے ہی بہت قریب اُس کی گرفت میں قید تھی۔
سُلین کمر کے بل نیچے کو جھکی بالکل ابتہاج کے سہارے پر تھی۔ جس کا بازو اُس کی نازک کمر کے گرد لپٹا ہوا تھا۔
سُلین کا شرم و خوف سے خطرناک حد تک لال پڑتا چہرا دیکھ ابتہاج نے نہایت ہی نرمی سے اُسے تھام کر سیدھا کھڑا کر دیا تھا۔ اُس کے چہرے پر جس قدر سخت اور برہمی بھرے تاثرات تھے۔ گرفت میں اُس سے کہیں زیادہ نرمی تھی۔ سُلین فوراً اُس سے دو قدم دور ہٹی تھی۔
”تھینکس۔۔۔“
سُلین کو سمجھ ہی نہیں آرہی تھی۔ اِن وحشت بھری سرد نگاہوں کے جواب ميں کیا بولے۔ اُوپر سے ابتہاج کا حلیہ اُس کی الگ حالت غیر کیے ہوئے تھا۔ ہاتھ کی اُنگلیاں مڑورتے وہ چہرا بالکل جھکائے کھڑی تھی۔
”آپ کیوں آئی ہیں یہاں۔“
ابتہاج کی گھمبیر بھاری آواز اُس کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔ سُلین کے ہاتھوں کی موومنٹ اُس کے اِس قدر روڈ انداز پر تھم گئی تھی۔ اُس نے حیرت بھری نظریں اُٹھا کر سامنے کھڑے بدلحاظ شخص کو دیکھا تھا۔ جو اب ٹاول اپنے کندھوں کے گرد ڈالے سینے پر بازو باندھے اُسے نہایت ہی فرصت سے گھور رہا تھا۔
اُس کے خوبرو چہرے پر مخصوص سرد اور ناقابلے فہم تاثرات تھے۔ سُلین کو اُس پر جی بھر کر غصہ آیا تھا۔ شاید اِس شخص کو خود پر کچھ زیادہ ہی غرور تھا۔
” مجھے تھینکس بولنا تھا آپ کو۔ آپ نے اُس دن اپنی جان پر کھیل کر جس طرح میری جان بچائی اور میرے ریسٹورنٹ کی ساکھ بچانے کے لیے جو کچھ کیا۔ میں شاید آپ کا یہ احسان کبھی نہ اُتار سکوں۔ تھینکو سو مچ۔ میں یہاں صرف اِسی لیے آئی تھی۔ یہ آپ کا چیک جو آپ نے میرے ریسٹورنٹ پر خرچ کیا۔“
سُلین اُس کے سخت لہجے کے باوجود نرمی سے بولتی چیک اُس کی جانب بڑھا گئی تھی۔
” سچویشن کے لحاظ سے مجھے جو ٹھیک لگا وہ میں نے کیا۔ اِس میں کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے۔ اور رہی بات اِس چیک کی تو آپ کا وہ سارا نقصان میری وجہ سے ہوا تھا۔ میں نے صرف اُس کی بھرپائی کی ہے۔“
ابتہاج نے ہونٹ بھینچتے سخت نظروں سے اُسے اپنی مخروطی اُنگلیوں پر ستم ڈھاتے دیکھا تھا۔ جو اُس کے مسلسل مڑورنے کی وجہ سے اب بالکل سُرخ ہوچکی تھیں۔
وہ جتنا اِس لڑکی سے گریز برتنے کی کوشش کررہا تھا۔ یہ ہر بار اُس کے سامنے آن کھڑی ہوتی تھی۔ جس کی کشش کے آگے ابتہاج لغاری خود کو بے بس پاتا تھا۔
اِس سے پہلے کے سُلین اُسے اُس کی بات کا جواب دیتی ہاتھ میں موجود موبائل پر آتی قاسم کی کال پر وہ اُس جانب متوجہ ہوئی تھی۔
جبکہ موبائل سکرین پر جگمگاتے نام کو دیکھ ابتہاج سختی سے ہونٹ بھینچتا اُس کے کال پک کرنے سے پہلے ہی موبائل اُس کے ہاتھ سے چھین گیا تھا۔
★★★★★★★
” امی آپ لوگ بھلا ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔ بچپن سے لے کر اب تک اُس پر ظلم ہی ڈھاتے آئیں ہیں۔ اور اب تو آپ لوگوں نے حد ہی کردی۔ شادی شدہ شخص اور ایک بچے کے باپ سے شادی طے کردی ہے۔ جس کے بارے میں آپ لوگ بھی کچھ نہیں جانتے۔ پھوپھو نے نام تک نہیں پوچھا اور رشتہ طے کردیا۔ یہ بہت غلط ہے میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔“
سفیان کو جب سے دل کے رشتہ طے ہوجانے کا پتا چلا تھا۔ وہ ایسے ہی غصے سے بھرا پھر رہا تھا۔
”سفیان آہستہ بولو۔ اگر تمہاری یہ باتیں آپا یا تمہارے ابو نے سن لی تو بہت ناراض ہونگے۔ اور تمہیں آخر اتنی ہمدردی کیوں ہے اُس لڑکی سے۔ کیوں ہر وقت اُس کے وکیل بنے پھرتے رہتے ہو۔“
فاخرہ بیگم کو سفیان کا اِس طرح دل کے لیے بولنا سخت ناگوار گزرا تھا۔
”کیونکہ محبت کرتا ہوں اُس لڑکی سے۔ اور شادی بھی اُسی سے ہی کرنا چاہتا ہوں۔ آپ پھوپھو سے بولیں یہ رشتہ ختم کردیں۔“
سفیان آج پہلی بار اتنا نڈر ہوکر دل کی خاطر اپنی ماں کے سامنے بولتا محبت کا اظہار کرگیا تھا۔ جو منہ پر ہاتھ رکھے ہکا بکا سی اُسے دیکھے گئی تھیں۔ اُنہیں سفیان سے اِس بات کی اُمید قطعی نہیں تھی۔ ایسا ہی کچھ حال دروازے کے بیچوں بیچ کھڑیں رقیہ بیگم کا تھا۔
” دیکھا فاخرہ اُس بے حیا عورت کی بیٹی اپنا جادو چلا گئی ہمارے بچے پر۔ کہتی تھی میں تمہیں دور رکھو سفیان کو اُس سے۔ وہ معصوم بن کر اندر سے یہ گُل کھلاتی رہی اور ہمیں پتا بھی نہ چلا۔“
رقیہ بیگم صدمے کی کیفیت میں بولتیں اندر داخل ہوئی تھیں۔
” پھوپھو پلیز دل کا اِس میں کوئی قصور نہیں ہے۔ اُس کے بارے میں ایسی باتیں مت بولیں۔ میں محبت کرتا ہوں اُس سے۔ کوئی چھوٹا بچہ نہیں ہوں کہ کسی کے بھی جال میں پھنس جاؤں گا۔“
سفیان کو سارا معاملہ ہاتھ سے نکلتا معلوم ہورہا تھا۔ اُس کی اپنی ماں اور بے پناہ پیار لوٹانے والی پِھوپھو ہی اُس کی محبت نہیں سمجھ رہی تھیں۔
” سفیان بس بہت ہوگیا۔ جو تم نے کہنا تھا کہ دیا اور ہم نے سن بھی لیا۔ اب اِس کے بعد میں اِس بارے تمہارے منہ سے ایک لفظ بھی نہ سنوں۔ ہمارے جیتے جی تو تمہاری شادی اُس لڑکی سے نہیں ہوسکتی۔ اور اگر تم نے اُس منحوس شہلا کی طرح کوئی غلط قدم اُٹھانے کی کوشش کی تو میرا مرا منہ دیکھو گے۔ اب یہ تم پر ہے اپنی ماں کو چنتے ہو یا اُس بے شرم لڑکی کو۔“
فاخرہ بیگم سفیان کو ایموشنل بلیک میل کرتیں وہاں سے نکل گئی تھیں۔ جبکہ کچھ فاصلے پر کھڑی رقیہ بیگم اپنی بھاوج کو داد دیئے بنا نہیں رہ سکی تھیں۔
سفیان کا زلزلے کی زد میں آئے چہرے پر ایک نظر ڈالتی وہ بھی وہاں سے نکل آئی تھیں۔ تاکہ زرینہ کو ہفتے کے بجائے دو دنوں کے اندر نکاح کا کہہ سکیں۔
★★★★★★★
زورین شاہ کی گاڑی دیکھتے ہی شاہ پیلس کا مین گیٹ کھول دیا گیا تھا۔ جس سے گزر کر گاڑی گول شیپ میں بنی پتھروں کی روش کا چکر کاٹتی پورچ میں آن رکی تھی۔
ڈرائیور کے دروازہ کھولتے ہی زورین شاہ سن گلاسز لگائے کوٹ بازو پر ڈالے کف کہنیوں تک فولڈ کیے باہر نکل کر شاہانہ چال چلتا اندر کی جانب بڑھ گیا تھا۔ جہاں دروازے میں کھڑی ملازمہ نے آگے بڑھ کر اُس کے ہاتھ سے کوٹ تھام لیا تھا۔
” اسلام و علیکم. میری پرنسز کہاں ہے۔ “
زورین ڈرائنگ روم ميں اپنے انتظار میں بیٹھی نسیمہ بیگم کو سلام کرتے نظریں بے قراری سے پورے لاؤنج پر دوڑاتے بولا تھا۔
“وعلیکم اسلام۔ بیٹا میرا اپنے کمرے میں ہے۔ بہت ناراض ہے آپ سے۔“
نسیمہ بیگم اُسے دیکھ کر احتراماً اپنی جگہ سے اُٹھتے بولیں۔ جبکہ اُن کی بات پر زورین کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔
”اچھا جی۔ تو اِس کا مطلب ہے آج کا لنچ کینسل۔ “
زورین اِس مصنوعی ناراضگی کی وجہ اچھے سے جانتا تھا۔ اور یہ بھی کہ اُس کی لاڈلی پرنسز صوفے کے پیچھے چھپی اُس کی باتیں سن رہی ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ وہ آفس سے آئے اور اُس کی چھوٹی سی پرنسز اُس کا انتظار کرتی لاؤنج میں نہ پائی جائے۔
وہ نسیمہ بیگم کی نشاندہی پر اُسی صوفے پر آبیٹھا تھا۔ جبکہ اُس کی بات سن کر میرا کی ناراضگی غائب ہوچکی تھی۔ زورین نے آج اُسے آئس کریم کھلانے کا وعدہ کیا تھا۔ جو میٹنگ میں مصروف ہونے کی وجہ سے وہ پورا نہیں کر پایا تھا۔ مگر اب آئس کریم کی جگہ باہر لنچ کا سن کر میرا خوش ہوتی باہر نکلی تھی۔ اور اپنے ننھے منے ہاتھوں سے اُس کا چہرا تھام کر معمولی کے مطابق اُس کی پیشانی پر بوسہ دیا تھا۔
میرا ہر روز آفس سے واپسی پر اُس کا ویلکم ایسے ہی کرتی تھی۔
” ارے میری پرنسز تو یہی موجود ہے۔ “
زورین اُسے اُٹھا کر اپنی گود میں بیٹھاتے اُس کا گال چوم گیا تھا۔
”کیونکہ میں جانتی ہوں میرے بابا کو سرپرائیزز بہت پسند ہے۔“
میرا نے اُس کے گلے میں بازو ڈالتے پیار سے کہا تھا۔
” میں نے سنا ہے میری میرو ناراض ہے مجھ سے۔“
زورین نے اُس کا روئی جیسا گال کھینچتے پوچھا تھا۔ وہ آج مسلسل کام کرتے بہت تھک گیا تھا۔ مگر میرا کا مرجھایا چہرا دیکھنا اُسے کسی قیمت پر منظور نہیں تھا۔ اِس لیے وہ بنا ایک منٹ بھی ریسٹ کیے اُس کی خوشی کی خاطر اُسے باہر لے جانے کو تیار ہوگیا تھا۔
اِس آٹھ سال کی معصوم گڑیا میں اُس کی جان بستی تھی۔
میرا اُسے دس منٹ میں کپڑے بدل کر آنے کا کہتی ملازمہ کے ساتھ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی۔
“خالہ بی آپ کو کوئی بات کرنی ہے مجھ سے۔“
زورین نسیمہ بیگم کو کب سے شش و پنج میں مبتلا دیکھ خود ہی استفسار کرگیا تھا۔ نسیمہ بیگم اُن کی بہت پرانی ملازمہ تھیں۔ جب سے اُس نے ہوش سنھبالا تھا۔ تب سے وہ اُنہیں اِس گھر میں کام کرتے دیکھ رہا تھا۔ وہ اُنہیں بے حد عزت دیتا تھا۔ اور ایک طرح سے گھر کا فرد ہی مان لیا تھا۔ مگر پھر بھی نسیمہ بیگم کو ایک جھجھک رہتی تھی۔
”بیٹا وہ منزہ نے رشتے کے حوالے سے بات کی تھی آپ سے۔ اور آپ نے اُن کو ساری زمہ داری سونپتے حامی بھر لی تھی۔ “
نسیمہ بیگم کو ڈر تھا کہ کہیں پوری بات سن کر وہ بھڑک ہی نہ جائے۔ اِس لیے نہایت تحمل سے اُسے اُس کی بھابھی منزہ کا حوالہ دیتے بولی تھیں۔ جو زورین کی بھابھی ہونے کے ساتھ فرسٹ کزن بھی تھی۔ اور اُس سے کافی کلوز بھی۔ زورین کے بھائی بھابھی چاہتے تھے وہ شادی کرلے۔ پہلے تو وہ ہر بار انکار ہی کرتا آیا تھا۔ مگر ایک دن آخر کار تنگ آکر اُس نے حامی بھر لی تھی۔ کہ وہ صرف میرا کی خاطر ہی شادی کرے گا۔ جو اُس کی بیوی نہیں صرف میرا کی ماں بن کر ہی رہے گی۔
اُس کے قریبی لوگ یہی سمجھتے تھے کہ وہ شادی کرچکا ہے اور میرا اُس کی سگی اولاد ہے جبکہ حقیقت اِس کے بالکل برعکس تھی۔ جو زورین کسی کو بتانے کے حق میں نہیں تھا۔ اُس کے شادی سے انکار کرنے کی بڑی وجہ یہی تھی۔ کہ وہ نہیں چاہتا تھا میرا سے اُس کی زرا سی بھی توجہ ہٹے یا اُس کی محبت میں زرا سی بھی کمی آئے۔ مگر یہ بات اپنے بھائی، بھابھی اور خالہ بی کو سمجھانا اُس کے لیے مشکل تھا۔ اںس لیے صرف اِن لوگوں کی خوشی کی خاطر وہ اُن کی پسند کی کسی بھی لڑکی سے شادی کرنے کو تیار ہوگیا تھا۔ جس کی جانب وہ کبھی بھی متوجہ نہ ہوسکے۔
“جی خالہ بی مجھے وہ ساری بات اچھی طرح سے یاد ہے۔ کیوں کیا ہوا۔۔۔۔۔ کہیں منزہ کو کوئی لڑکی مل تو نہیں گئی۔ یہ لڑکی لندن بیٹھ کر بھی میرے پیچھے ہی پڑی ہوئی ہے ۔“
زورین نسیمہ بیگم کے تاثرات سے ساری بات سمجھ گیا تھا۔
” بیٹا مل بھی گئی ہے۔ اور وہ اُن کے ساتھ آپ کا رشتہ طے کرچکی ہیں۔ اِس جمعہ کو نکاح ہے آپ کو۔“
نسیمہ بیگم نے بات ختم کرتے خوفزدہ نظروں سے زورین کی جانب دیکھا تھا۔
مگر زورین کو غصہ کرنے کے بجائے قہقہ لگاتا دیکھ وہ حیران ہوئی تھیں۔
“منزہ پاگل ہوچکی ہے۔ اُس کی باتوں کو سیریس مت لیا کریں۔ آپ ریسٹ کریں۔ میں بات کر لوں گا اُس سے۔“
زورین اِس بات کو ہنسی میں اُڑاتے نسیمہ بیگم کو اتنا پریشان دیکھ نرمی سے بولا تھا۔
وہ آفس کی نسبت گھر میں ایک بالکل مختلف انسان تھا۔ اپنے قریبی رشتوں کا خیال رکھنا اُسے بہت اچھی طرح آتا تھا۔ وہ اپنوں کے لیے جتنا اچھا اور محبت کرنے والا تھا۔ غیروں کے لیے اُتنا ہی سنگدل اور سفاک تھا۔
★★★★★★★
” پھوپھو یہ ٹھیک نہیں کررہیں۔ کسی اور سے رائے لینا تو دور کی بات، تم سے بھی تمہاری مرضی تک پوچھنا گوارہ نہیں کیا۔ یہ غلط بہت غلط ہے۔ تم ہر بار کی طرح بار خاموش نہیں رہو گی۔ یہ تمہاری پوری زندگی کا معاملہ ہے۔“
اُن لوگوں کو جب سے اِس بات کا پتا چلا تھا۔ وہ سب ہی غم و غصے کا شکار تھیں۔ سویرا کا بس نہیں چل رہا تھا۔ جاکر رقیہ بیگم کو جھنجھوڑ کر رکھ دے۔
“میں خاموش نہیں رہنا چاہتی۔ مگر میرے بولنے کا کیا فائدہ ہوگا۔ کونسا میری سنی جائے گی۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کیا کروں۔ مجھے نہیں کرنی کسی بھی ایسے ویسے شخص سے شادی۔ لیکن گھر میں کون میری بات سنے گا بھلا۔ سب نے میرا انکار سن کر دوہرا ذلیل کرنا ہے مجھے۔ بلکہ اُسی وقت نکاح پڑھوا کر کسی ایرے غیرے کے ساتھ رخصت کردینا ہے مجھے۔“
دل کی حالت قابلے ر حم تھی۔
”ہر بات کا چٹکیوں میں حل ڈھونڈنے والی آج اتنی نااُمیدی کا شکار کیوں ہے۔ تمہاری شاگردی میں رہ کر میں بھی کافی ذہین ہوچکی ہوں۔ مے پاس ایک بہت زبردست آئیڈیا ہے۔“
لائبہ کی بات پر وہ تینوں اُس کی جانب متوجہ ہوئی تھیں۔
” تمہارے انکار کرنے سے مسئلہ بنے گا نا. اگر لڑکے والے ہی انکار کردیں پھر۔“
لائبہ کے آئیڈیا پر اُن سب کی آنکھیں روشن ہوئی تھیں۔
”یہ تو واقعی کمال کا آئیڈیا ہے۔ جب دل خود اُسے انکار کر گی. تو وہ بھی آگے سے انکار کردے گا۔ دل کا کہیں کوئی نام نہیں آئے گا۔
” نمبر کہاں سے آئے گا۔ تم لوگ بھی نجانے کیا کیا پلاننگ کررہی ہو۔“
دل نے مایوسی سے چہرا جھکا لیا تھا۔
”تم نمبر کی ٹینشن مت لو۔ وہ میں لاکر دوں گی۔ تم بس یہ سوچوں کہ تمہیں اُس شخص سے بات کیا کرنی ہے۔ “
لائبہ اُس کی مشکل آسان کرتی اُسے نمبر لانے کا یقین دلاتی باہر نکل گئی تھی۔ زرینہ خالہ کی بیٹی سے اُس کی اچھی دوستی تھی۔ وہ باآسانی نمبر نکلوا سکتی تھی۔
★★★★★★

جاری ہے۔۔۔۔۔