Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

”چھوڑیں میرا ہاتھ۔ آپ کے لیے تو یہ سب کرنا مذاق کی بات ہوگی نا۔ مجھے میرے گھر والوں کے سامنے اِس طرح پیش کرکے آپ کو زرا فرق نہیں پڑے گا۔ مگر میری زندگی برباد ہوجائے گی۔“
دل کا پورا موجود آنے والے لمحات کا سوچ کر لرز اُٹھا تھا۔ اُس کا آنسوؤں سے بھیگا چہرا دیکھ کر بھی اِس شخص کو رحم نہیں آرہا تھا۔
”اِس میں اتنا پریشان ہونے والی کونسی بات ہے۔ جب اُنہوں نے ہی بھیجا ہے تمہیں۔ تو یہ سب دیکھ کر کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے اُنہیں۔“
زورین شاہ ابھی بھی وہی بات دوہراتا اُسے بُری طرح زچ کرگیا تھا۔
”آپ کو میری بات سمجھ کیوں نہیں آرہی۔ مجھے کسی نے نہیں بھیجا میں خود آئی ہوں۔ “
دل کی حالت غیر ہوچکی تھی۔ وہ بے بسی سے زورین کی گرفت میں پھنسی اُسے اپنی بات کا یقین دلانے کی کوشش کررہی تھی۔
وہ مسلسل خود کو آزاد کروانے کے لیے مزاحمت کیے جارہی تھی۔ جب اچانک زورین نے اُس کی کلائی چھوڑ دی تھی۔ توازن برقرار نہ رکھ پاتے وہ دو قدم پیچھے لڑکھڑا گئی تھی۔
” باہر نکلنے سے پہلے ایک نظر وہاں ڈال لو۔ تمہارے غیرت مند گھر والے باہر ہی موجود ہیں۔“
دل کو سر پٹ باہر کی جانب بھاگتا دیکھ زورین اپنی کرسی کی طرف بڑھتے سامنے لگی ایل سی ڈی کی جانب اشارہ کرتے بولا تھا۔ اُس کی بات نے دل کے قدم وہیں جکڑ لیے تھے۔ سکرین پر نظر پڑتے اُس کا خون رگوں میں منجمند ہوا تھا۔ دل بند ہوتا محسوس ہوا تھا۔ وہ لوگ آفس کے باہر ہی موجود تھے۔ زورین کی ایک بیل بجانے کی دیر تھی۔ پین نے اُنہیں فوراً اندر بھیج دینا تھا۔
وہ بہت بُری پھنس چکی تھی۔
”میں کیا کروں اب۔ پلیز میری مدد کریں۔“
دل کچھ دیر پہلے جس سے بُری طرح لڑ رہی تھی۔ اور نجانے کن کن القابات سے نوازا تھا۔ اب پھر واپس کس احساس کے تحت اُسی سنگدل سے مدد کی طلبگار تھی۔
زورین جو بڑے ہی پرسکون انداز میں اپنی کرسی پر براجمان تھا۔ دل کے اِس طرح معصومیت بھرے انداز میں خوفزدہ آنکھوں سے دیکھ کر کہے جانے والی بات زورین شاہ کو اُس کی جانب متوجہ کر گئی تھی۔ ایک بھرپور نظر اِس ڈری سہمی پنک گڑیا پر ڈالتے زورین کو جیسے اُس پر رحم سا آگیا تھا۔
“ وہاں سٹنگ ایریا میں چلی جاؤ۔ کسی کو تمہاری یہاں موجودگی کا علم نہیں ہوسکے گا۔“
زورین نے اُسی جگہ کی جانب اشارہ کیا تھا۔ جہاں دل کے آنے سے پہلے وہ بیٹھا تھا۔
ایک سیکنڈ کی دیر کیے بغیر وہ فوراً اندر جاچکی تھی۔ جہاں رکھے صوفے کے عین سامنے ایل سی ڈی پر آفس کے چاروں کونوں پر لگے سی سی ٹی وی کیمراز کی فوٹیج چل رہی تھی۔ اُس کے دل کی دھڑکنیں ابھی تک معمول پر آنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ تو اِس شخص نے اُس کے اندر داخل ہوتے ہی اُس پر نظر رکھی ہوئی تھی۔
دل نے ایک غصے بھری نظر اُس مغرور شخص پر ڈالی تھی۔ نیوی بلو پینٹ اور وائٹ شرٹ پر ٹائی لگائے نفاست سے بالوں کو سیٹ کیے۔ چمکتی روشن پیشانی پر اپنے آفس میں داخل ہوتے لوگوں کو دیکھ بل واضح ہوئے تھے۔ جو اُس کی مغروریت اور خوبرو چہرے کی دلکشی میں مزید اضافہ کرگئے تھے۔ مگر اِس حُسن کے دیوتا میں دل کو کوئی انٹرسٹ نہیں تھا۔ جو خود پسند ، گھمنڈی اور انا پرست شخص ہونے کے ساتھ ساتھ انتہا کا سنگدل تھا۔
ساری زندگی محرومیوں میں گزارتے دل اپنا ہم سفر کوئی ایسا شخص چاہتی تھی۔ جو اُس سے بے پناہ محبت دے۔ اُس کی عزت کرے اور کروائے بھی۔ دل کی نگاہیں زورین سے ہٹ کر اُس کے سامنے کرسی پر بیٹھتے سفیان پر گئی تھیں۔
اُس کے چہرے پر ایک نرم سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔ سفیان نے باقی سب کزنز کی طرح بچپن سے اب تک اُس کا بہت خیال رکھا تھا۔ کبھی کبھار تو وہ رقیہ بیگم کے سامنے بھی اُسکی خاطر کھڑا ہوجاتا تھا۔ دل بھی باقی سب سے زیادہ سفیان سے اٹیچ تھی۔ دل کی ویران آنکھوں میں پہلی دفعہ رنگ اُس دن بھرے تھے۔ جب سفیان نے اُس سے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔ دل کے لیے یہ چیز بہت بڑی تھی۔ اُسے یقین ہی نہیں آیا تھا۔ کہ واقعی یہ سب سفیان نے بولا ہے اُس سے۔
دل ایسا شخص ہی تو اپنی زندگی میں چاہتی تھی۔ اُس کے دل میں بھی سفیان کے لیے محبت تھی۔ یا صرف ایک انسیت وہ نہیں جانتی تھی۔ مگر وہ بے پناہ خوش تھی۔ اُس کی زندگی میں اُسے چاہنے والا شخص آچکا تھا۔ جسے اُس کی پرواہ تھی۔ جو صرف اُسے خوش دیکھنا چاہتا تھا۔ گھر والوں کا اِس رشتے کے لیے کبھی رضامند نہ ہونے کا سوچ کر دل ایک بار کمزور پڑی تھی۔ وہ اپنی ماں کی طرح نہیں کرنا چاہتی تھی۔ چاہے گھر کے بڑوں نے ہمیشہ اُسے ذلیل ہی کیا تھا۔ مگر اُنہیں نے اُسے اتنے وقت سے پناہ بھی دی ہوئی تھی۔ وہ سفیان کو اپنی خاطر اپنے بڑوں کے آگے کھڑے ہوتے نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ دل نے سفیان سے سب سے پہلے اِسی بارے میں بات کی تھی۔ جس پر سفیان نے اُسے بھرپور یقین دلاتے مطمین کردیا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ وہ سب سنبھال لے گا۔ اُس پر ایک لفظ نہیں آنے دے گا۔ سفیان کے اِس اعتماد نے دل کو بھی کافی حد تک مطمین کردیا تھا۔
دل کی نظریں سفیان سے ہٹتیں ایک بات پھر زورین شاہ کی جانب اُٹھی تھیں۔ جس کی شاندار سحر انگیز پرسنیلٹی اور بے پناہ دولت کے آگے سفیان کہیں سٹینڈ نہیں کرتا تھا۔ مگر دل کو آج اُس محاورے کی اچھی طرح سمجھ آئی تھی۔ کہ واقعی ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔
مگر وہ یہ نہیں سوچ پائی تھی۔ کہ ایک ملاقات میں ہی وہ اُس شخص کے بارے ميں اتنی بڑی رائے قائم کررہی تھی۔ جس کے نام کے علاوہ وہ اُس کے بارے ميں کچھ نہیں جانتی تھی۔
دل نے اپنی سوچوں سے نکلتے واپس ایل سی ڈی پر نظریں مرکوز کی تھیں۔ وہ تینوں زورین کے سامنے پڑی کرسیوں پر جا بیٹھے تھے۔ خوف کے مارے دل کے پورے وجود پر لرزاہٹ طاری ہوچکی تھی۔ وہ لوگ اُس کی یہاں موجودگی سے انجان تھے۔ جبکہ دل اندر بیٹھی اُنہیں دیکھ اور سن پارہی تھی۔
” سر ہم پچھلے پندرہ دنوں سے آپ سے ملنے کی کوشش کررہے تھے۔ مگر آپ شاید اُن دنوں بہت مصروف تھے۔ اِس لیے آپ سے ملاقات نہیں ہوپائی۔“
تنویر صاحب دنیا جہاں کی خوش مزاجی لہجے میں سموئے اُس سے مخاطب ہوئے تھے۔
”جی جانتا ہوں۔ میں نے خود ہی ملنے سے منع کیا تھا۔“
کرسی کی بیک سے ٹیک لگاتے وہ کافی روڈ لہجے میں بولا تھا۔ اندر بیٹھی دل دانت پیس کر رہ گئی تھی۔ جبکہ زورین کے سامنے بیٹھے وہ تینوں اپنی جگہ خفیف سے ہوگئے تھے۔
” اِس سے پہلے کے آپ لوگ کچھ کہیں میں ہی آپ کو یاد دلا دیتا ہوں۔ کہ آپ لوگوں کو پہلے ہی ایک مہینے کی مہلت دی جا چکی ہے۔ مگر ابھی تک ہاف اماؤنٹ تو دور کی بات آپ ٹونٹی پرسنٹ بھی ادا نہیں کر پائے۔ جس کے باوجود آپ لوگوں کو میں نے ابھی تک وہاں سے نہیں نکلوایا۔ اب بھی آپ لوگ کس بنا پر مجھ سے مزید ٹائم مانگ رہے ہیں۔ کیا آپ کا یہ بی ہیوئیر پروفیشنل ہے۔ “
زورین کی اپنے مخصوص سخت لہجے میں کہی جانے والی بات نے اُنہیں کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا تھا۔ سفیان کا زرد پڑتا چہرا دیکھ دل زورین کو غصے سے گھور کررہ گئی تھی۔ اتنا دولت مند ہونے کے باوجود دل کا کتنا غریب تھا یہ شخص۔ دل افسوس سے سوچ کررہ گئی تھی۔
”سر ہم آپ کے بہت احسان مند ہیں۔ کہ آپ نے اب تک ہمارے ساتھ اتنا کاپریٹ کیا۔ مگر سر ہم اِس وقت بہت مجبور ہیں۔ ہمارا پورا خاندان سڑک پر آجائے گا۔ پلیز بس ایک آخری بار ایک مہینے کی مہلت اور دے دیں۔ ہم کچھ نہ کچھ ارینج کر لیں گے۔“
تنویر صاحب نہایت ہی پریشانی کے عالم میں بولے تھے۔ اندر بیٹھی دل جس سےایک بار بھی پیار سے بات کرنا تو دور آج تک اُنہوں نے شفقت بھری نظر تک نہیں ڈالی تھی۔ اُنہیں اِس طرح کسی کے آگے گڑگڑاتے دیکھ اُس کی آنکھوں میں نمی بھر گئی تھی۔
” دیکھیں تنویر صاحب میں نے آپ کا خاندان سنبھالنے کا ٹھیکا بالکل بھی نہیں اُٹھایا ہوا۔ آپ خاندان روڈ پر آتا ہے یا نہیں۔ یہ میرا ہیڈک نہیں ہے۔ ایک مہینے میں جو ارینج کرنا ہے آپ نے وہ دو دنوں میں کر لیں۔ کیونکہ اِس کے بعد جو ہوگا اُس کا زمہ دار میں نہیں ہونگا۔ اب آپ لوگ جاسکتے ہیں۔“
زورین شاہ دوٹوک لہجے میں اُن پر اپنی بات واضح کرتا سامنے رکھی فائل کی جانب متوجہ ہوا تھا۔ وہ لوگ بے بسی کی تصویر بنے خاموشی سے اُٹھ گئے تھے۔ کیونکہ زورین شاہ کے سامنے مزید بولنا یہ دو دن کی مہلت بھی گنوانے والی بات تھی۔ دل نے افسردگی سے اُنہیں یوں مایوس لوٹتے دیکھا تھا۔
زورین شاہ کے حوالے سے اُس کی ناپسندیدگی اور غصہ مزید بڑھ گیا تھا۔
اُن لوگوں کے چلے جانے کا یقین کرتے دل غصے سے باہر نکلتی زورین کے ٹیبل کے قریب آن کھڑی ہوئی تھی۔ جو اُس کا ضبط سے لال ہوتا چہرا دیکھ فائل بند کرتا مزید ریلیکس ہوکر بیٹھ گیا تھا۔
زورین شاہ اپنا قیمتی ٹائم صرف اپنے بہت خاص لوگوں کے لیے ہی مختص کرتا تھا۔ اپنا زرا سا بھی ٹائم ویسٹ کرنا اُسے بالکل بھی پسند نہیں تھا۔ مگر نجانے اِس لڑکی کو زچ کرنے میں اُسے اتنا مزا کیوں آرہا تھا۔ جو اُس کے معیار پر پورا بھی نہیں اُترتی تھی۔ اور اُس کے لیے وہ الفاظ بھی استعمال کرچکی تھی۔ جسے آج تک کسی کی بھی زورین کے سامنے بولنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی۔
” زورین شاہ آپ جیسا دل کا اتنا غریب اور چھوٹا شخص میں نے آج تک نہیں دیکھا۔ اتنی دولت اور شہرت اکٹھی کرنے کا کیا فائدہ جب انسان کسی کے مشکل کے وقت اُس کے کام نہ آسکے۔“
دل غصے سے نجانے اور بھی کیا کیا بول دیتی جب زورین شاہ کے چہرے پر آتی محظوظ کن مسکراہٹ پر اُس کی زبان کو بریک لگی تھی۔ اُس کی گول گول آنکھیں غصے سے پوری کھلتیں مزید دلکش لگنے لگی تھیں۔
”مس دل آویز اُتنا ہی بولیں۔ جتنا آپ کی یہ نازک جان برداشت کرسکے۔ ایک ایک لفظ کا حساب دینا کافی مشکل ہوجائے گا۔“
زورین اپنی جگہ سے اُٹھتا اُس کے مقابل آتے بولا۔ وہ کچھ ہی دیر میں دل کا سارا بائیو ڈیٹا پتا لگوا چکا تھا۔ جو کہ اُس کے لیے زرا بھی مشکل نہیں تھا۔
اُس کی دھمکی پر دل کی آنکھوں میں ایک خوف کی جھلک دور گئی تھی۔ جو زورین کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہ سکی تھی۔
” میں نے جو بھی کہا ہے۔ سو فیصد سچ ہے وہ۔ ابھی بھی میں اپنے الفاظ پر قائم ہوں۔ اور آپ جیسے لوگ دوسرا کے ساتھ بُرا کرنا ہی جانتے ہیں صرف۔ کسی کا بھلا کرنا آپ کے بس کی بات بالکل بھی نہیں ہے۔“
دل اُس کے مقابل آجانے پر دو قدم پیچھے ہٹی تھی۔
“باقیوں کا تو پتا نہیں۔ مگر فلحال تم مجھے اپنے ساتھ بُرا کرنے پر اُکسا رہی ہو۔ آج تک اتنی اکڑ میرے سامنے کسی نے نہیں دیکھائی۔ کیونکہ سب ہی اِس کے نتائج سے اچھی طرح واقف ہیں۔ مگر تمہارا میرے سامنے اتنا کانفیڈنس قابلے دید ہے۔ کافی ٹائم سے کوئی ایسا انسان ملا نہیں۔ لیکن اب تمہاری اکڑ ختم کرنے میں کافی مزا آئے گا۔ “
زورین کے بظاہر نارمل لہجے میں کہی جانے والی بات میں چھپے سرد پن پر دل کو اپنے گرد خطرے کی گھنٹیاں بجتی سنائی دی تھیں۔ وہ اپنی نادانی اور جذباتی پن میں نہایت غلط بندے کو چھیڑ گئی تھی۔ جس شخص کی ڈکشنری میں معافی نام کا لفظ بالکل بھی موجود نہیں تھا۔
” کک کیا مطلب ۔۔۔“
دل کو احساس ہوا تھا۔ وہ زورین شاہ جیسے پاور فل شخص سے اُلجھ کر بہت غلط کررہی تھی۔ جو ایک جھٹکے میں اُس کی زندگی برباد کرسکتا تھا۔ زورین کو قریب آتے دیکھ اُس نے پیچھے ہٹنا چاہا تھا۔ جب بے دھیانی میں پیچھے پڑی کرسی سے اُس کا پیر اُلجھا تھا۔ اِس سے پہلے کے وہ لڑکھڑا کر زمین بوس ہوتی اُس نے لاشعوری طور پر گرنے سے بچنے کے لیے زورین کی جانب مدد کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا۔ جسے تھامنا شاید زورین شاہ کو اپنی شان کے خلاف لگا تھا۔ اُس کا ہاتھ تھامنے کے بجائے وہ نہایت سکون سے سینے پر بازو لپیٹ گیا تھا۔
دل کوشش کے باوجود توازن برقرار نہ رکھ پاتے پیچھے پڑے ٹیبل پر جاگری تھی۔ جس پر رکھا کانچ کا ڈیکوریشن پیس اُس کی ہتھیلی پر لگنے کی وجہ سے اُسے لہولہان کرگیا تھا۔
زورین کو یہ سب ہوجانے کا قطحی اندازہ نہیں تھا۔ دل کا زخمی ہاتھ دیکھ وہ چند قدم آگے بڑھا تھا۔ مگر اُس سے پہلے ہی وہ سیدھی ہوتی اپنے زخمی ہاتھ کو دوپٹے کے نیچے چھپا گئی تھی۔ اُسے ہمدردیاں سمیٹنے کی عادت شروع سے نہیں رہی تھی۔ اُس کے یہاں پر بھی اپنی اکڑ دیکھانے پر زورین نے اپنے بڑھے ہاتھ کی مُٹھی بھینچتے واپس پہلو میں گرا دیا تھا۔
” میں آپ کے نام سے زیادہ آپ کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ اور نہ ہی آج کی ملاقات کے بعد آئندہ کبھی آپ کی شکل دیکھنا چاہوں گی۔ کیونکہ میرے لیے دولت اور یہ مصنوعی چیزیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ میں پورے یقین سے کہتی ہوں۔ یہ ہماری آخری ملاقات ہوگی۔ مگر آپ کی اِس عالیشان عمارت سے نکلنے سے پہلے بس اتنا کہوں گی۔ کہ اللّٰه کی طرف سے دی گئی اِس طاقت پر اتنا غرور کہیں ایک دن آپ کو ہی نہ برباد کرکے رکھ دے۔ اور رہی بات مجھے سزا دینے کی۔ تو یہیں آپ کے منہ پر چیلنج کرکے جارہی ہوں۔ نہیں ڈرتی میں آپ سے جو بگاڑنا ہے بگاڑ لیں میرا۔“
دل کو اُس سے اِس قدر بے رحمی کی اُمید بالکل بھی نہیں تھی۔ لیکن زورین سے بھی زیادہ اُسے خود پر غصہ تھا۔ جب پوری زندگی گر کر خود ہی سنبھلنا سیکھا تھا تو پھر آج اِس شخص کی جانب مدد کے لیے ہاتھ کیوں بڑھایا تھا۔ اپنے اِسی غصے میں وہ زورین شاہ کو مزید اوٹ پٹانگ بولتی وہاں سے نکل آئی تھی۔
جبکہ زورین کہیں نہ کہیں اِس دھان پان سی بالکل گڑیا جیسی نازک لڑکی کی اتنی بہادری پر اُس سے اچھا خاصہ امپریس ہوچکا تھا۔ آج تک انجان لوگوں سے وہ پانچ یا دس منٹ سے زیادہ بات نہیں کرتا تھا۔ مگر آج دل آویز کے ساتھ بلاوجہ اُسے بحث میں اُلجھاتے وہ اپنا اتنا ٹائم اُس کے ساتھ گزار چکا تھا۔ جو کہ اُس کے مزاج کے حوالے سے بے حد حیران کن بات تھی۔ زورین کو اِس کی معصومیت میں ایک عجیب سی کشش محسوس ہورہی تھی۔ جس کی وجہ ابھی بھی زورین کا دل اِس لڑکی کو جانے دینے کے حق میں نہیں لگ رہا تھا۔
اپنی کرسی کی جانب مُڑتے اُس کی نظر خون کے قطروں پر پڑی تھی۔ جو چیز اُس کا موڈ مزید خراب کر گئی تھی۔ آج زندگی میں پہلی بار وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوا تھا کہ کیا وہ واقعی اِس قدر بے حس انسان تھا۔

★★★★★★★★

دن دہاڑے اسلحہ کے زور پر اِن لوگوں کی ایسی غنڈہ گردی پر وہاں موجود ہر زی روح سہم چکا تھا۔ سوائے ایک کے جو آگ اُگلتی نظروں سے اپنی جگہ پر ہی بیٹھا یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔
”ابھی اور اِسی وقت اپنا یہ ہوٹل بند کرکے ہمارے ساتھ چلو۔ ورنہ تم سمیت اِن تمام لوگوں کے بھیجے اُڑا کر رکھ دوں گا۔ “
اپنی بندوق سے سہمی کھڑی سُلین کی کنپٹی پر دباؤ ڈالتے وہ دھمکی آمیز لہجے میں بولا تھا۔
سُلین نہیں جانتی تھی یہ کون لوگ تھے اور کیا چاہتے تھے اُس سے۔ کیوں لے جانا چاہتے تھے اُسے یہاں سے۔ ہمیشہ اُس کے لیے عزت اپنی زندگی سے بڑھ کر رہی تھی۔ اِن لوگوں کے ساتھ جانے سے بہتر وہ مرنا پسند کرتی۔ مگر اِس وقت سوال وہاں موجود باقی لوگوں کی زندگیوں کا بھی تھا۔
سُلین نے اُمید بھری نظروں سے قاسم کو ڈھونڈنا چاہا تھا۔ مگر وہ وہاں موجود ہی نہیں تھا۔ سُلین کی سانسیں مدھم ہوتی جارہی تھیں۔ اُس نے ہمت نہ ہارتے آخری کوشش کرتے موبائل کا لاک اوپن کرکے قاسم کو کال ملانی چاہی تھی۔ مگر اُس سے پہلے سامنے کھڑے غنڈے کی نظر اُس پر پڑچکی تھی۔
”ہمارے ساتھ ہوشیاری کرنے کی کوشش کررہی ہو۔ “
سُلین کا موبائل والا ہاتھ بُری طرح دبوچ کر اُس شخص نے اُس کے ہاتھ سے موبائل چھین لیا تھا۔ بس یہیں ہر ابتہاج لغاری کا ضبط جواب دے گیا تھا۔ وہ مٹھیاں بھینچتا اپنی جگہ سے اُٹھا تھا۔
”چھوڑو مجھے۔ “
سُلین اُس کی گندی نظریں اپنے وجود کے آر پار ہوتی محسوس کرتی مزاحمت کرتے بولی تھی۔ مگر وہ شخص خباثت زدہ مسکراہٹ سُلین کے گلابی چہرے پر اچھالتے کوئی اور ہی ارادہ رکھتا تھا۔ جب اردگرد اسلحہ سے لیس کھڑے آدمیوں سے بنا گھبرائے ابتہاج قریب آتا سُلین کی کلائی پکڑ کر اُس شخص کی گرفت سے نکال گیا تھا۔
” جو بات کرنی ہے مجھ سے کرو۔ اب اگر ایک بار بھی نظر اُٹھا کر اِس لڑکی کی جانب دیکھا تو تمہاری یہ آنکھیں نکال کر تمہارے اِسی ہاتھ پر رکھ دوں ہوگا۔“
اُس کا ہاتھ سختی سے دور جھٹکتے وہ سُلین کے آگے دیوار بن کر کھڑا ہوتا اُسے محفوظ کر گیا تھا۔ سُلین پر تانی گئی بندوق کا رُخ اب ابتہاج کی کنپٹی کی جانب مُڑ چکا تھا۔ سُلین نے بے یقینی سے نظریں اُٹھا کر اپنے سامنے کھڑے اِس توانا وجود شخص کی جانب دیکھا تھا۔ جو اُس دن کی طرح آج پھر فرشتہ بنا اُس کا خطرہ اپنے سر موڑ لے گیا تھا۔
”کون ہو تم۔ لگتا ہے تمہاری موت تمہیں بہت زیادہ یاد کررہی ہے۔ جو ہیرو بننے کے لیے لڑکی کے معاملے میں کود پڑے ہو۔“
اُس شخص کو ابتہاج کی لہو رنگ آنکھوں سے خوف سا محسوس ہوا تھا۔ مگر اسلحہ کے زور پر اُس نے اپنی طاقت دیکھانا ضروری سمجھا تھا۔
”میں وہی ہوں۔ جس نے اُس رات تمہارے ساتھیوں کی چمڑی اُدھیڑی تھی۔ مگر اب اپنی غلطی کا احساس ہورہا ہے۔ کہ اُنہیں زندہ کیوں جانے دیا۔ خود سمیت اپنے گینگ میں عورتوں پر ہاتھ اُٹھانے والے سارے نامرد ہی پال رکھے ہیں کیا۔“
ابتہاج کی بات ابھی ختم ہی ہوئی تھی۔ جب اردگرد کھڑے چاروں غنڈوں نے اپنی بندوقیں اُس کے سر پر تان لی تھیں۔ یہ دیکھ سُلین نے منہ پر ہاتھ جماتے اپنی چیخ روکنی چاہی تھی۔ مگر اُس کی آواز پھر بھی ابتہاج کی سماعتوں تک پہنچ چکی تھی۔
”یہ کی نا اب مردوں والی بات۔“
ابتہاج اُن کے فوری لیے جانے والے ایکشن پر شاباشی دیتے بولا تھا۔ وہ اگر اکیلا ہوتا تو اب تک اِن اسلحہ سے لیس افراد کو نہتے بھی مار گرا چکا ہوتا۔ مگر اِن کو باتوں میں اُلجھانے کا مقصد اپنے پیچھے ڈری سہمی کھڑی لڑکی اور یہاں ریسٹورنٹ میں موجود بہت سارے لوگوں کی حفاظت تھا۔ ابتہاج کے ساتھ اِس ریسٹورنٹ میں آیا پاشا کا خاص آدمی دلاور اُس کے اشارے پر انٹرنس پر کھڑے شخص کی جانب بڑھا تھا۔
”تم لوگوں کی دشمنی اِس لڑکی سے ہے۔ اِس چکر میں اُن سب لوگوں کو نقصان پہنچا کر پولیس کو خود ہی اپنی گرفتاری کی دعوت دے رہے ہو۔ اِن لوگوں کو یہاں سے جانے دو۔ “
ابتہاج اچھے سے جانتا تھا وہ اُس کی بات نہیں مانیں گے۔ یہ سب باتیں بول کر وہ اُن کا دھیان اپنی جانب ہی رکھنا چاہتا تھا۔
کاؤئنٹر ایک سائیڈ پر بنا ہوا تھا۔ جبکہ ٹیبلز کافی فاصلے پر ہال میں لگے ہوئے تھے۔ دلاور نے اُن کے گیٹ پر کھڑے ساتھی پر حملہ آور ہوتے اُس کے سر پر وار کرتے بے ہوش کردیا تھا۔ اُسے گھسیٹ کر ایک سائیڈ پر کرتے اتنی ہی خاموشی سے زاہد کے پچھلے گیٹ کی نشان دہی کرنے پر سب لوگوں کو اُس جانب بھیج دیا تھا۔
”باس وہ لوگ بھاگ رہے ہیں۔“
اچانک ابتہاج پر اسلحہ تانے کھڑے افراد میں سے ایک کی نظر اُس جانب پڑی تھی۔ اُس کے چلانے پر باقی سب بھی متوجہ ہوئے تھے۔
ابتہاج کے سامنے کھڑے شخص نے اُن لوگوں کی جانب فائر کھولنے چاہے تھے۔ مگر اُس سے پہلے ہی ابتہاج نے لات مارتے اُس کی گن دور اُچھال دی تھی۔ایک کے بعد دوسرے پر وار کرنے کے ساتھ ساتھ وہ سُلین کے آگے سے ہٹنے کو بھی تیار نہیں تھا۔ جو اب غنڈوں کا خوف بھلائے ایک بار پھر اِس اجنبی شخص کو اپنے لیے لڑتا دیکھ رہی تھی۔
جو اپنی مردانگی کے زور پر اُن اسلحہ سے لیس افراد کے آگے ڈٹ گیا تھا۔ جیسے اُسے اپنی زندگی کی پرواہ ہی نہ ہو۔
ابتہاج اُس شخص کو بُری طرح پیٹ رہا تھا۔ جس نے سُلین کو نہ صرف غلیظ نظروں سے دیکھا تھا۔ بلکہ اُس کو ہاتھ لگانے کی غلطی بھی کی تھی۔ پولیس کے سائرن کی آواز پر اور دلاور جو کہ باقی لوگوں سے نبٹ رہا تھا۔ اُس کے بلانے پر وہ ہوش میں آتا سیدھا ہوا تھا۔ پیچھے ہوتے ہوئے بھی وہ ایک زور دار ٹھوکر اُس کے پیٹ پر رسید کرنا نہیں بھولا تھا۔
ابتہاج واپس پلٹتا سُلین کی جانب متوجہ ہوا تھا۔ جو اپنی جگہ ساکت سی کھڑی اپنے ریسٹورنٹ کو کچڑے کا ڈھیر بنے دیکھ رہی تھی۔ کرسیاں ٹیبلز اور اُن پر پڑے ڈیکوریشن پیسز سب چیزیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکے تھے۔ ابتہاج نے جس طرح اُن لوگوں کو اُٹھا اُٹھا کر پھینکا تھا۔ اِس سب کا زیادہ زمہ دار وہی تھا۔ مگر سُلین کے لیے یہ نقصان اُس نقصان سے بہت معمولی تھا۔ جس سے اِس شخص نے اُسے بچا لیا تھا۔
” آر یو اوکے۔“
ابتہاج اُس کے کپکپاتے ہاتھوں کو دیکھتے بولا تھا۔ اتنی اچھے سے ایک جینٹل مین کی طرح اُسے پروٹیکٹ کرنے کے بعد بھی اِس شخص کے بات کرنے کا انداز ویسا ہی سڑا ہوا تھا۔ جس کا جواب سُلین کو سر اثبات میں ہلا کر دینے کے بجائے اور کوئی نہیں لگا تھا۔ ان وقت وہ بُری طرح ڈری ہوئی تھی۔
پولیس اندر آچکی تھی۔ جب سُلین کی نظر اچانک ابتہاج کے پیچھے گرے اُسی شخص پر پڑی تھی۔ جسے ابتہاج نے بُری طرح پیٹا تھا۔ وہ ہاتھ بڑھا کر کچھ فاصلے پر پڑی گن اُٹھا کر ابتہاج پر گولی چلا گیا تھا۔ تب تک پولیس بھی اُس کے سر پر آن پہنچی تھی۔
سُلین کی زور دار چیخ کے ساتھ گولی ابتہاج کے بازو میں پیوست ہوئی تھی۔ ابتہاج کے بازو سے فوارے کی طرح بہتا خون دیکھ خوف کے مارے سُلین جو کب سے یہ سب برداشت کررہی تھی۔ حواس کھوتی ابتہاج کی بانہوں میں ہی جھول گئی تھی۔

جاری ہے۔۔۔۔