Teri Chah Mein By Farwa Khalid Readelle50119 Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
آنکھوں میں پڑتی روشنی کے احساس سے ڈسٹرب ہوتے زورین کی آنکھ کھلی تھی۔ اُس کے روم میں فل ٹائم وہ پردے گرائے ہی رکھتا تھا۔ جس کی وجہ سے کبھی اُس کی نیند ڈسٹرب نہیں ہوئی تھی۔ مگر یہ میرا کا روم تھا۔ جس کی وجہ سے وہ اپنی نیند خراب ہونے پر کسی سے گلہ بھی نہیں کرپایا تھا۔
میرا کا خیال آتے ہی اُس کے چہرے پر نرم سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔
اُس نے آنکھیں موند رکھی تھیں۔ مگر اپنے بازو پر میرا کا سر اور سینے پر اُس کے ہاتھ کا لمس محسوس ہورہا تھا۔ اُس نے موبائل اُٹھانے کے لیے جیسے ہی کروٹ بدلی میرا کی جگہ دل کو اپنے اتنے قریب سویا دیکھ وہ کچھ پل کے لیے ساکت رہ گیا تھا۔
وہ اتنی معصومیت چہرے پر سموئے پرسکون سی اُس کے بازو پر سوئی ہوئی تھی۔ کہ زورین کتنے ہی لمحے یک ٹک اُسے دیکھے گیا تھا۔ وہ چاہنے کے باوجود اُس کا سر اپنے بازو سے جھٹک نہیں پایا تھا۔ زورین نے نظریں گھما کر اپنے سینے پر رکھے اُس کے ہاتھ کی جانب دیکھا تھا۔ اُس کی شرٹ کو پورے استحقاق سے تھامے وہ اِس لمحے اُسے کوئی چھوٹی سی بچی معلوم ہوئی تھی۔ جیسے نیند میں بھی اُس کے دور جانے کا ڈر ہو۔
زورین بغور اُس کی جانب دیکھ رہا تھا۔ جب نیند میں ہی دل مسکرائی تھی۔ اُس کے چہرے پر ایک الوہی سی مسکان بکھری ہوئی تھی۔ خواب میں جیسے اپنی کوئی من پسند شے دیکھ لی ہو۔
وہ اِس وقت لائٹ پرپل کلر کے سوٹ میں ملبوس اپنے بے پناہ حُسن کی رعنائیاں بکھیر رہی تھی۔ دوپٹہ فولڈ کرکے تکیے کے قریب رکھا تھا۔ جبکہ بال کھلے چھوڑ رکھے تھے۔ جو بار بار اُس کے چہرے پر بکھرتے زورین کے دیکھنے میں خلل پیدا کررہے تھے۔
زورین نے ہاتھ بڑھاتے اُس کے چہرے سے بالوں کی گھنی لٹیں ہٹاتے کان کے پیچھے اڑسی تھیں۔
اُس کی گہری نظروں کا ارتکاز تھا کہ دل کے گال گلابی ہوئے تھے۔ وہ ایک دم کسمسائی تھی۔ اُس کی نیند زورین شاہ خراب کرچکا تھا۔
دل کو آنکھیں کھولتے دیکھ زورین جان بوجھ کر سوتا بن گیا تھا۔ دل کو بھی آنکھیں کھولتے شاک لگا تھا۔ میرا کا تو دور دور تک کہیں نام و نشان بھی نہیں تھا۔ زورین شاہ کا چہرا اپنے بے حد قریب دیکھ اُس کا دل زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔
اُس کی گرم سانسیں دل کے چہرے پر پڑتیں اُسے دہکا گئی تھیں۔
اُس کا دل صبح شام اِس شخص کی خواہش کرتا تھا۔ مگر آج اُسے اپنے اتنے قریب دیکھ اُس کے دل کو خوشی نہیں ہوئی تھی۔ وہ جانتی تھی جیسے ہی زورین شاہ جاگے گا۔ اُسے پھر سے ویسے ہی دھتکار دے گا۔
”آپ بہت بُرے ہیں۔ آئی ہیٹ یو زورین شاہ۔ آپ کے لیے میں صرف ایک کھلونا ہونا۔ جسے صرف اپنے مطلب کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ خود کو بہت عقل مند سمجھتے ہیں نا۔ مجھے اپنا مہرہ بنانے سے پہلے یہ ہی نہیں جان پائے۔ کہ کس کو اذیت دینے کے لیے میرا استعمال کریں گے۔ میں اِس دنیا میں کسی کے لیے امپورٹنٹ نہیں ہوں۔ مجھے اذیت دینے سے میرے گھر والوں کو تکلیف نہیں ہوگی۔ بلکہ خوشی ملے گی۔ “
دل ااذیت ناک لہجے اور الفاظ پر زورین کے دل کو کچھ ہوا تھا۔ اُسے دل کی آواز میں نمی گھلتی محسوس ہوئی تھی۔
”آپ نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ بہت بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر، اپنی زندگی میں شامل کرکے۔ میرے دل کا جو نقصان ہوا ہے۔ اُس کے لیے میں آپ ہو کبھی معاف نہیں کروں گی۔“
دل نے شکوہ کناں لہجے میں بولتے چہرا اُوپر اُٹھایا تھا۔ وہ ابھی تک یہی سمجھ رہی تھی۔ کہ زورین سو رہا ہے۔ اِس لیے اِس وقت اتنی دلیری کا مظاہرہ کرتے اُس نے اُس مغرور نقوش سے سجے چہرے کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے جھک کر اپنے نازک لگ زورین کی کشادہ پیشانی پر رکھ دیئے تھے۔
اب دھڑکنیں تھمنے کی باری زورین کی تھی۔ دل کے الفاظ سے تو وہ یہی سمجھا تھا۔ کہ وہ اُسے اِس طرح زبردستی شادی کرنے اور اُسے اُس کی محبت جو کہ وہ اپنے کزن سے کرتی تھی۔ سے دور جانے والی بات پر کبھی بہ معاف کرنے کا کہہ رہی تھی۔ مگر اُس کا یہ کپکپاتا نرم گرم لمس ایک ہی لمحے میں زورین شاہ کی ساری کنفیوژن کلیئر کرگیا تھا۔
دل کی آنکھ سے آنسو گر کر زورین کے چہرے پر گرا تھا۔ جس پر دل اُس کے جاگ جانے کے خوف سے فوراً گھبراتی پیچھے ہٹی تھی۔
کچھ دیر بعد زورین کو دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی تھی۔ مضطرب سا وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اُٹھ بیٹھا تھا۔
” مجھ سے کہیں کچھ غلط تو نہیں ہوگیا۔“
زورین شاہ کا دل مزید بے چین ہوا تھا۔
بیڈ سے اُٹھتے اُس نے اپنے ماتھے پر کچھ دیر پہلے بخشے اُس نرم گرم لمس کو ہاتھ پھیرتے محسوس کیا تھا۔ عام حالات میں اُس کی جانب نظر اُٹھا کر نہ دیکھنے والی اپنی چھوئی موئی سی بیوی کا اپنی غفلت میں یہ نیا رُوپ اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر گیا تھا۔
جو بھی تھا مگر یہ احساس اُسے بہت انوکھا اور خوبصورت لگا تھا۔
★★★★★★★★★★
” خوش آمدید، آج تو بڑے خاص لوگ آئے ہیں۔ ہمارے غریب خانے پر۔ مجھے یقین تھا، تم ضرور آؤ گے۔“
گلشن آرا قاسم کو ڈرائنگ روم میں داخل ہوتا دیکھ اپنی جگہ سے اُٹھی تھیں۔ چہرے پر اپنا پہلا وار کامیاب جاتا دیکھ بے پناہ خوشی رقم تھی۔
” اب آگے ایسے ہی ہمارا ہر وار اُس ابتہاج لغاری کے دل پر خنجر کی طرح کھبے گا۔ بہت تکلیف برداشت کرلی ہم نے اب اُس کی باری۔“
قاسم کے چہرے پر ابتہاج کے لیے انتقامی جذبہ چھایا ہوا تھا۔ جسے دیکھ گلشن آرا کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔
” مجھے پورا یقین ہے تم ایسا ہی کرو گے۔ تمہاری قابلیت پر پورا بھروسہ ہے مجھے۔ اپنی فیورٹ باس سے رابطہ نہیں ہوا تمہارا۔ اُس بچاری کے ساتھ بھی تو بہت بڑا دھوکا ہوا۔ ابتہاج لغاری جیسے انسان سے نکاح کرکے۔ اُسے اِس وقت تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔ ایک تم ہی تو ہمددر رہے ہو شروع سے اُس کے۔“
گلشن آرا نے یہ بات جس قدر سنجیدگی سے کی تھی۔ اُس کے اختتام پر ایک زور دار قہقہ لگایا تھا۔ جس میں قاسم نے بھی اُس کا پورا ساتھ دیا تھا۔
” بس اب اِسی موقع کی تلاش میں ہوں۔ ایک دو دن رُک کر ہی ایسا ہوئی قدم اُٹھاؤں گا۔ کیونکہ اِس وقت ابتہاج لغاری زخمی شیر سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اُس کے دل پر ہاتھ ڈالا ہے ہم نے۔ اُس کی سب سے قیمتی چیز چھیننے کی کوشش کی ہے ہم نے۔ اتنی آسانی سے چپ نہیں بیٹھے گا وہ۔”
قاسم سامنے پڑا وائن کا گلاس اُٹھا کر لبوں سے لگاتے بولا تھا۔ اُس کی بات سے گلشن آرا بالکل متفق تھیں۔ اُنہیں کسی صورت ابتہاج لغاری کو ہلکے میں نہیں لینا تھا۔
ابھی وہ اِسی ڈسکشن میں مصروف تھے۔ جب باہر سے ایک ملازم بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا تھا۔
”کیا ہوا۔۔۔“
اُس کی حواس باختہ حالت پر گلشن آرا فکرمند ہوتی اپنی جگہ سے اُٹھی تھی۔
”وہ بیگم صاحبہ باہر ابتہاج لغاری ۔۔۔۔۔۔۔“
باقی کے الفاظ اُس کے منہ میں ہی رہ گئے تھے۔ جب پیچھے سے آتے ابتہاج لغاری نے اُسے گریبان سے دبوچ کر دور پھینکا تھا۔ اور اُن دونوں کو سنبھلنے کا موقع دیئے بغیر قاسم پر بُری طرح ٹوٹ پڑا تھا۔ اُس کے مکوں اور گھونسوں کی برسات پر گلشن آرا چیختیں گارڈز کو آوازیں دینے لگی تھیں۔
مگر ابتہاج نے ہاتھ نہیں روکا تھا۔
“رُک جاؤ ورنہ میرے آدمی گولی چلا دیں گے تم پر۔“
تین چار گارڈز اندر آکر ابتہاج پر گن تان چکے تھے۔ مگر اُسے تو جیسے پرواہ ہی نہیں تھی۔ قاسم اُس پر پلٹ کر وار کرنا تو دور کی بات، اپنا بچاؤ بھی نہیں کرپایا تھا۔ ابتہاج نے چند لمحوں میں ہی اُس کو لہولہان کرکے رکھ دیا تھا۔ سُلین کا سارا غصہ بھی وہ قاسم پر ہی اُتار رہا تھا۔
جب اِس سے بھی چین نہ ملا تو اُس نے اپنی پاکٹ سے پستول نکال کر قاسم کی کنپٹی پر رکھی تھی۔ اُسے اپنے پیچھے خود پر گن تانے کھڑے لوگوں کی زرا برابر بھی پرواہ نہیں تھی۔
”میری بیوی تک میرے خلاف ثبوت پہنچاؤ گے۔ اُسے مجھ سے دور کرنے کہ جرأت بھی کیسے ہوئی تمہاری۔ زندہ نہیں چھوڑوں گا میں تمہیں۔“
اِس وقت وہ بس اِسی بات پر اپنا کھولتا دماغ ٹھنڈہ نہیں کر پایا تھا۔ کہ آج پھر دوسری بار اِسی، شخص نے اُس سے اُسکی سُلین کو دور کرنے کی کوشش کی تھی۔
ابتہاج لغاری غصے میں کیسے اپنا آپا کھو بیٹھتا تھا۔ اِس بارے میں گلشن آرا سے زیادہ بہتر بھلا کون جان سکتا تھا۔
قاسم کے ماتھے پر گن دیکھ اُنہیں اپنی جان اٹکتی محسوس ہوئی تھی۔
” ابتہاج لغاری دور رہو قاسم سے۔ سات سال پہلے مجھ سے میرے شوہر کو چھین کر سکون نہیں ملا۔ جو ان میرے بیٹے کو بھی مارنا چاہتے ہو۔ میرے گارڈز تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔“
ابتہاج کے شکنجے میں موجود قاسم کا زخمی چہرا دیکھ اُن کے دل پر ہاتھ پڑا تھا۔
ابتہاج نے گن ہٹائے بغیر پلٹ کر اُن کے گارڈز کو دیکھا تھا۔
” سات سال پہلے آپ کے سو کے قریب گارڈز جب میرا کچھ نہیں بگاڑ پائے تو یہ دو چار تو کسی کھاتے میں نہیں آتے۔“
ابتہاج نے طنزیہ لہجے میں کہتے قاسم کو زمین پر پھینک دیا تھا۔
” یہ میری طرف سے دی جانے والی سزا کا ایک پرسںنٹ تھا۔ اب اگر اِس کے بعد میرے معاملات میری زندگی میں دخل اندازی کرنے کی کوشش کی تو ایسا عبرت کا نشانہ بناؤں گا۔ کہ زمانہ یاد رکھے گا۔ میری سُلین سے دور رہنا تم لوگ۔ ورنہ جیسے اب تک شوہر کے لیے رو رہی ہو۔ عنقریب بیٹے کی شکل کو بھی ترسوں گی۔“
ابتہاج قاسم کی حالت دیکھ کر سناٹوں کی زد میں آئی گلشن آرا پر قہر برساتی نظر ڈالتا باہر نکل گیا تھا۔
” قاسم کو روم میں لے کر جاؤ۔ ڈاکٹر کو کال کرو جلدی سے۔ تم سب سے تو بعد میں نبٹتی ہوں میں۔ اتنی سیکورٹی میں یہ شخص اندر آیا کیسے۔“
گلشن آرا کی ساری خوشی ابتہاج نے چند لمحوں میں اُلٹ دی تھی۔ ابتہاج کی لال آنکھیں تصور میں لاتے وہ جھرجھری لے کر رہ گئی تھیں۔
★★★★★★★★
” ہاں تم فاخر کے ہاتھ وہ ساری فائلز گھر بھیجوا دو۔ میں چیک کر لیتے ہوں سب۔ آج شام میری کراچی فلائٹ ہے، آج آفس نہیں آؤ گا میں۔“
زورین اپنے منیجر کو ہدایت دیتا فون بند کرگیا تھا۔
منزہ صبح ہی واپس جاچکی تھی۔ زبان سے تو کچھ نہیں کہا تھا۔ مگر نظروں ہی نظروں میں اُسے دل کا ڈھیروں خیال رکھنے اور پیار دینے کی التجا کر گئی تھی۔
زورین واپس فائلز پر جھکا تھا۔ جب اچانک اُس کی سماعتوں سے ایک کھنکھتی دلکش ہنسی ٹکرائی تھی۔ جس کی متلاشی اُس کی نگاہیں فوراً چاروں طرف گئی تھیں۔
وہ میرا کے ساتھ اُسے پودوں کے پاس گلیری میں بیٹھی نظر آئی تھی۔ دونوں گیلی مٹی سے بھرے ایک بڑے سے تھال میں ہاتھ ڈالے بیٹھیں، نجانے کیا بنانے کی کوشش کررہی تھیں۔
ریڈ شرٹ کے نیچے وائٹ ٹراؤزر پہنے دوپٹے کو کمر پر باندھے، بالوں کو جوڑیں کی شکل میں کیچر میں لپیٹے وہ سادگی میں بھی زورین شاہ کو اپنی جانب متوجہ کرگئی تھی۔
درمیان میں گلاس وال ہونے کی وجہ سے وہ دونوں اُسے نہیں دیکھ پارہی تھیں۔ مگر وہ اب فائل پرے دھکیلتا فرصت سے اُس کا جائزہ لینے میں مصروف ہوگیا تھا۔
میرا نے مذاق میں تھوڑی سی مٹی دل کی نوز پر لگا دی تھی۔ جس کے بعد وہ مزید کیوٹ لگ رہی تھی۔ اُس کا میرا کو بُرا سا منہ بنا کر دیکھنے پر زورین کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔ اب وہ دونوں مٹی سے چیزیں بنانا چھوڑ کر ایک دوسرے پر مٹی لگاتی آپس میں کھیلنے لگی تھیں۔ دل اِس وقت میرا کے ساتھ کھیلتی اُسے بالکل بچی ہی لگی تھی۔
اُسے دل سے ہوئی اپنی پہلی ملاقات یاد آئی تھی. تب بھی تو وہ ایسے ہی تھی۔ ہنستی مسکراتی لڑتی جھگڑتی، اپنا ہر دکھ اپنی اُداس آنکھوں میں چھپائے۔
مگر اُس نے دل کی زندگی میں شامل ہوکر اُس کی یہ دیکھاوے کی مصنوعی ہنسی بھی چھین لی تھی۔ اُس سے زیادہ ظالم انسان بھلا کوئی اِس دنیا میں ہوسکتا تھا۔
زورین کا ضمیر اُسے کچوکے لگانے لگا تھا۔ سامنے بکھرتے رنگ دیکھ اُس کی دلچسپی اِن بے رنگ فائلز سے ختم ہوچکی تھی۔ وہ اُنہیں سائیڈ پر رکھتا باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔
دل جو میرا کو پیچھے آتا دیکھ بھاگتی اندر کی جانب بڑھ رہی تھی۔ سامنے سے آتے زورین کو نہیں دیکھ پائی تھی۔ اُس کا سر زور سے زورین کے سینے سے ٹکرایا تھا۔ گرنے سے بچنے کے لیے دل نے مٹی سے لبریز اپنے دونوں ہاتھوں سے اُس کی سفید شرٹ جکڑ لی تھی۔
مگر لمحے کے ہزارویں حصے میں اُسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا۔ اُس کی آنکھوں کی پُتلیاں خوف کے مارے سکڑ کر سمٹی تھیں۔
وہ جانتی تھی اب یہ شخص اُس پر دوبارہ بھڑکتے نوکروں اور میرا کے سامنے اُس کی عزت دوکوڑی کی کردے گا۔
” آئم سوری۔ میں ابھی آپ کو واش کردیتی ہوں۔“
اُس صاف شفاف وائٹ شرٹ پر اپنے ہاتھوں کے واضح نشان دیکھ شرمندگی کے مارے وہ زمین میں گڑھ گئی تھی۔ میرا کی خواہش پر وہ کچھ پل ساری باتیں بھلا کر اپنی پہلی والی دنیا میں واپس جاتی بچوں کی طرح اُس کے ساتھ کھیلنے لگی تھی۔ مگر زورین کے سامنے اب اُس کے دو جرم لکھے جاچکے تھے۔ ایک اُس کی شرٹ خراب کرنے کا اور دوسرا اُس کی میرا سے دور رہنے والی بات کی خلاف ورزی کرکے۔
وہ اِس بات سے انجان تھی۔ کہ زورین تو اِس وقت کسی اور ہی کیفیت کے زیرِ اثر چل رہا تھا۔
اِس وقت بھی اُس کی خوفزدہ پلکوں کا رقص دیکھتے وہ اُن میں کھو سا گیا تھا۔
” اٹس اوکے۔“
زورین بے تاثر چہرے کے ساتھ اتنا ہی بولتا وہاں سے ہٹ گیا تھا۔ کیونکہ اُس کے الفاظ سن کر دل جس طرح منہ کھولے ہونقوں کی طرح اُسے دیکھ رہی تھی۔ اگر وہ اُس کے سامنے رُکتا تو ضرور کوئی گستاخی سرزد کر بیٹھتا۔
دل حیران پریشان سی پاس پڑے کاؤچ پر جاگری تھی۔
” کیا ہوا مما، بابا نے آپ کو ڈانٹا کیا۔“
میرا اُس کی گود میں چڑھ کر بیٹھتی فکرمندی سے بولی تھی۔ کیونکہ منزہ اُس کی اِسی بات پر ڈیوٹی لگا کر گئی تھی۔
”نہیں۔“
دل نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
“تو پھر آپ پریشان کیوں ہیں۔“
میرا اُس کا چہرا اپنے معصوم ہاتھوں میں تھامتے بولی تھی۔
“کیونکہ اِس سے بڑی اور کیا پریشانی والی بات ہوسکتی ہے۔ کہ میری غلطی ہونے کے باوجود اُنہوں نے مجھے نہیں ڈانٹا۔ تم زرا چیک کرکے آؤ تمہارے بابا کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔“
دل کے حیرت بھرے کھوئے کھوئے انداز میں کہنے پر میرا سمجھداری سے سر ہلاتی زورین کے روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔
★★★★★★★★★★
سُلین روتے روتے نجانے رات کو کس ٹائم سوئی تھی۔ کہ دن ایک بجے کے قریب بیدار ہوئی تھی۔ ابتہاج کی ہدایت کے مطابق ملازمہ کئی بار اُسے دیکھنے آچکی تھی۔ کہ کہیں اُس کی طبیعت تو خراب نہیں۔ مگر ابتہاج خود ایک بار بھی نہیں آیا تھا۔
سُلین شاور لے کر روم میں واپس آتے متلاشی نظروں سے اپنے بیگ کو ڈھونڈنے لگی تھی۔ رات کو تو اُس کا دماغ بالکل ماؤف ہوچکا تھا۔ وہ کچھ سمجھ ہی نہیں پائی تھی۔ مگر اب فریش ہونے کے بعد اُس کا زہن تیزی سے کام کرنے لگا تھا۔
اُسے ہر حال میں ابتہاج لغاری کو اُس کے اِن گھناؤنے کاموں میں مات دینی تھی۔
الماری میں رکھا بیگ نکال کر اُس نے پہلے اُس میں اپنا موبائل چیک کیا تھا۔ اُسے تو لگا تھا ابتہاج اُس کی ساری چیزیں ضبط کرچکا ہوگا۔ مگر اُس کی سوچ کے برخلاف اُس کا موبائل ، لیپ ٹاپ اور باقی سارا سامان بھی ویسے ہی رکھا ہوا تھا۔
سُلین نے جلدی سے قاسم کا نمبر ملایا تھا۔ ایک وہی شخص تھا جس پر وہ ٹرسٹ بھی کرسکتی تھی۔ اور جو اِس مشکل سے نکلنے میں اُس کی مدد بھی ضرور کرتا۔
”اُف ہو۔ یہ قاسم کال کیوں پک نہیں کررہا۔“
پانچ چھے بار کالز کرنے کے باوجود کوئی رسپانس نہ پاکر سُلین غصے سے موبائل بیڈ پر پٹختی واپس پلٹی تھی۔ مگر دروازے کے بیچوں بیچ ابتہاج کو کھڑا دیکھ اُس کی رنگت متغیر ہوئی تھی۔
اُس کے ہر احساس سے عاری بے تاثر چہرے سے وہ اندازہ نہیں لگا پائی تھی۔ کہ اُس نے اُس کی بڑبڑاہٹ سنی ہے یا نہیں۔
”اتنی بے چینی سے کس کی طرف کال کی جارہی تھی۔ “
ابتہاج کی سرد وحشت زدہ نگاہیں سُلین کو عجیب سے احساس سے دوچار کر گئی تھیں۔ کچھ دن پہلے اُس کے قریب رہتے جو خوشیوں بھرے خوبصورت رنگ سُلین نے اُن آنکھوں میں دیکھے تھے۔ وہ اِس وقت بالکل مفقود تھے۔
” مجھے اپنے بابا کے بارے ميں اُن کے ڈاکٹر سے کچھ پوچھنا تھا۔ اُنہیں ہی کال کررہی تھی۔“
ابتہاج کے سامنے جھوٹ بولنے پر سُلین کا ماتھا پسینے کی بوندوں سے بھر گیا تھا۔
اُس کے ہاتھوں کی لرزش بھی ابتہاج سے پوشیدہ نہیں رہی تھی۔ ابتہاج چلتا اُس کے قریب آرہا تھا۔ جبکہ وہ درزیدہ نظروں سے اپنے موبائل کی جانب دیکھ رہی تھی۔ اُسے ڈر تھا کہیں ابتہاج اُس سے موبائل نہ چھین لے یا اُس کے ہوتے ہوئے قاسم کال بیک نہ کردے۔ ابتہاج کو تو وہ ویسے ہی سخت ناپسند تھا۔
سُلین پیچھے ہوتی دیوار سے جالگی تھی۔ جبکہ ابتہاج کا چہرا لمحہ با لمحہ غصے کی شدت سے لال ہوتا جارہا تھا۔
”تو ہوئی بات ڈاکٹر سے۔۔۔۔“
ابتہاج اُس کے گال پر ہاتھ پھیرتا گھمبیر لہجے میں بولتا اُس کے چہرے پر جھکا تھا۔ اُس کے چہرے سے صاف ظاہر تھا۔ وہ سُلین کے جھوٹ سے واقف ہے۔
”نن ن نہیں۔۔۔۔“
ابتہاج کے ہونٹ اپنے گال پر محسوس کرتے سُلین نے اپنی مُٹھیاں سختی سے بھینچ لی تھیں۔
”تم جانتی ہو۔ اِس دنیا میں اگر کسی انسان کے قریب مجھے سکون ملتا ہے تو وہ تم ہو۔ تمہاری زرا سی قربت مجھے میرا ہر دکھ بھلا دیتی ہے۔ مگر تمہاری قربت ہمیشہ میرے لیے کسی آزمائش سے کم نہیں رہی۔۔۔۔۔
پہلی بار تمہیں صرف دیکھنے کی قیمت یہاں گولی کھا کر چکانی پڑی تھی مجھے۔ “
ابتہاج اُس کے پورے چہرے پر اپنے ہونٹوں کا جھلسا دینے والا لمس بخشتے پیچھے ہوتے اُسے اِس سے بھی کہیں بڑا شاک دے گیا تھا۔
ابتہاج لغاری اُسے پہلے سے جانتا تھا؟ مگر کیسے اُس نے تو اُس رات روڈ پر پہلی بار ہی ابتہاج کو دیکھا تھا۔ اُس کا دماغ کام کرنا چھوڑ گیا تھا۔
”مگر اصل دکھ کی بات یہی ہے۔ کہ تمہارے لیے میرا پاگل پن مزید بڑھ چکا ہے۔ میں اب بھی تمہاری خاطر ایک گولی کھانا تو کیا جان بھی دے سکتا ہوں۔ “
ابتہاج نے ہاتھ بڑھا کر اُس کے ہونٹ کے اُوپری تل کو چھوا تھا۔ سُلین مسمرائز سی اُسے سنے گئی تھی۔ اُس کا چہرا ابتہاج کے لمس سے خون چھلکانے کو تیار تھا۔ جبکہ دل کی دھڑکنیں الگ حشر برپا کیے ہوئے تھیں۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
