Teri Chah Mein By Farwa Khalid Readelle50119 Episode 29
No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
”بیٹا وہ۔۔۔۔۔۔“
رقیہ بیگم اچانک زورین کو اِس طرح اپنے سامنے دیکھ بُری طرح گھبرا گئی تھیں۔ سب پر چلانے والی کے الفاظ جیسے گم سے ہوگئے تھے۔
”زورین بیٹا ایسا کچھ نہیں ہے۔ وہ دراصل۔۔۔۔۔“
تنویر صاحب جلدی سے آگے آئے تھے۔ جب زورین نے ہاتھ اُٹھا کر اُنہیں خاموش کروا دیا تھا۔ وہ اِن دونوں افراد کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ اُس کا دل چاہ رہا تھا۔ ابھی اِسی وقت اپنے خاندان کی بربادی کے زمہ دار اِن لوگوں کو دنیا سے ہی ختم کردے۔ مگر ابھی کچھ وقت کے لیے اُسے لحاظ رکھنا تھا۔ اِن کو اتنی آسان سزا نہیں دے سکتا تھا۔
وہ اِن کو بھی ویسے ہی پل پل مارنا چاہتا تھا۔ جیسے اِنہوں نے اُس کے چاچو کی فیملی کے ساتھ کیا تھا۔ اور جس طرح اُس کے بے قصور ماں باپ کی جان لی تھی۔
”زورین پلیز سب لوگ ہیں یہاں۔۔۔۔آپ پلیز یہ سب مت کریں۔۔۔۔یہ تھپڑ کھا کر ہی بڑی ہوئی ہوں میں۔ میرے لیے یا یہاں موجود لوگوں کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے یہ۔“
دل زورین کا بازو تھام کر اُسے رقیہ بیگم کا ہاتھ چھوڑنے کے لیے بولتی زرا سی تلخ ہوئی تھی۔ جو بھی تھا مگر وہ اپنے خاندان والوں کا اب بھی یوں ڈرامہ بنتا نہیں دیکھ سکتی تھی۔
زورین جو کافی برہم لگ رہا تھا۔ دل کی بات پر اُس نے نظریں گھما کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔ اور سجی سنوری اُس کے بازو سے لگی وہ زورین شاہ کے دل کے تار چھیڑ گئی تھی۔
اُس کے ہاتھ کی گرفت ڈھیلی پڑی تھی۔ جس سے رقیہ بیگم نے اپنا درد کرتا ہاتھ نکال لیا تھا۔ اُنہیں اپنی ہڈیاں چٹختی محسوس ہورہی تھیں۔
”یہ شخص ٹھیک نہیں ہے۔ جس سے نرمین آپی کا نکاح ہورہا ہے۔ یہ پہلے بھی میری فرینڈ کی بہن کے ساتھ غلط کرچکا ہے۔ اِسے پولیس ڈھونڈ رہی ہے۔ اور اب یہ پھر شناخت بدل کر یہاں آگیا ہے۔ یہ نرمین آپی کے ساتھ بھی غلط کرے گا۔ پلیز آپ یہ معاملہ سنبھال لیں۔ میں آپ کی احسان مند رہوں گی۔“
دل جانتی تھی یہاں کوئی اُس کی بات کا یقین نہیں کرے گا۔ اِس لیے وہ زورین سے ریکویسٹ کرتے بولی تھی۔ جیسے اُسے اتنا یقین ہو کہ زورین اُس کی بار مان جائے گا۔
وہ نرمین کی لائف کسی صورت برباد نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔ اُس کے لیے چاہے اُسے کسی کے پیر بھی کیوں نہ پکڑنے پڑتے۔
”آنٹی ، انکل یہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے ایسا کچھ نہیں ہے۔“
وہ شخص یہ دیکھ کر کہ کوئی دل کی بات پر یقین نہیں کررہا جلدی سے رقیہ بیگم اور تنویر صاحب کو اپنا یقین دلاتے بولا تھا۔
”دل تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ فہد بہت اچھا لڑکا ہے۔ میرے دوست کا بھانجا ہے، ہم ایسے ہی تو کسی ایرے غیرے کو اپنی بیٹی نہیں دے دیں گے نا۔“
تنویر صاحب زورین کا لحاظ کرتے دل سے بہت نرم لہجے میں بولے تھے۔ مگر آنکھوں سے برہمی بھرے تاثرات لیے دل کو گھورا تھا۔ کہ اب وہ چپ رہے بلاوجہ کا ڈرامہ بند کرے۔
”اگر دل آویز کہہ رہی ہے۔ تو ضرور کچھ نہ کچھ ہوگا۔ دل تم اپنی فرینڈ کی فیملی کو کال کرکے یہاں بلاؤ۔ میں پولیس کو کال کرتا ہوں، جو بات ہوئی کلیئر ہوجائے گی۔“
زورین فہد کے چہرے پر نظریں جمائے دل سے مخاطب ہوا تھا۔ فہد کا بدلتا رنگ اُسے دل کی بات سچ ہونے کی آدھی گواہی تو وہیں دے گیا تھا۔
دل تشکر بھری نظروں سے زورین کی جانب دیکھتی جلدی سے اپنی فرینڈ کو کال ملانے لگی تھی۔ آج پہلی بار کسی نے اُس کی بات کا مان رکھا تھا۔ وہ بھی زورین شاہ نے جس سے اُسے ایک پرسنٹ یقین نہیں تھا۔ دل کو یہی ڈر تھا۔ کہ اُس کی بات پر کوئی یقین نہیں کرے گا، نرمین کی شادی اِسی فراڈ شخص کے ساتھ ہوجائے گی۔ مگر زورین نے اُس کی بہت بڑی مدد کردی تھی۔
دل اُس کے بدلے ہوئے انداز پر حیران تو تھی۔ مگر اِس وقت اُس کا اظہار کرنے کا ٹائم نہیں تھا اُس کے پاس۔
”دل تم سچ کہہ رہی ہو۔ کیا واقعی ایسا ہے۔“
سویرا سائیڈ پر کھڑی دل کے کان میں گھس کر پوچھتے ہوئے بولی تھی۔
”ہاں، تمہیں کیا لگتا ہے۔ میں نرمین آپی کے نکاح میں جان بوجھ کر ایسا کروں گی۔ یا پھر اُن کے ساتھ کچھ غلط ہونے دوں گی۔“
دل اب کی بار چڑھ کر بولی تھی۔
”ویسے ایک بات ماننی پڑے گی۔ زورین بھائی پیار بہت کرتے ہیں تم سے۔ کیسے غصے میں آگئے تھے۔ جب پھوپھو نے تم پر ہاتھ اُٹھایا۔ مجھے تو خود اُن سے بہت ڈر لگنے لگا تھا۔ لگتا ہے غصہ بہت تیز ہے اُن کا۔“
سویرا کو اِس سچویشن میں بھی شوخیاں سوجھ رہی تھیں۔
”اُن کو غصہ کرنے کے علاوہ کچھ کرنا نہیں آتا، پیار تو بالکل بھی نہیں۔ ایک نمبر کے خشک مزاج اور سٹریل انسان ہیں۔ بس سن لیا، اب اِس کے بعد دماغ مت کھانا میرا۔“
دل اُن کے صبح سے مسلسل پوچھے جانے والے سوالوں پر زچ ہوکر جواب دیتی وہاں سے ہٹ گئی تھی۔ یہ نہیں دیکھ پائی تھی، کہ کچھ فاصلہ پر موجود زورین اُس کے اپنے بارے میں یہ حسین خیالات سن چکا ہے۔
★★★★★★★★★
سُلین نے بجھے دل کے ساتھ گاڑی واپس ابتہاج لغاری کے محل کے پارکنگ ایریا میں روکی تھی۔ وہ یہاں واپس نہیں آنا چاہتی تھی۔ مگر واپس آنے کے لیے مجبور کردی گئی تھی۔ وہ خود غرض بن کر ابتہاج لغاری سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دور چلی جانا چاہتی تھی۔ مگر چاہنے کے باوجود خود غرض نہیں بن پائی تھی۔
اُس کے بابا نے اپنی لائف کا ایک بہت لمبا عرصہ ملک کے لیے وقف کیا تھا۔ تو پھر وہ کیسے پیچھے ہٹ سکتی تھی۔ سیٹ بیک سے سر ٹکاتی سُلین کچھ دیر پہلے قاسم سے ہوئی ملاقات کے بارے میں سوچنے لگی تھی۔
”قاسم یہ آپ کیسی باتیں کررہے ہو۔ میں اب اُس انسان کے پاس کسی صورت نہیں جاؤں گی۔ میں وہاں سے نکل کر دوبارہ واپس جانے کے لیے نہیں آئی۔ میں اُس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔ جو شخص انسانوں کو بیچ کر حرام کھاتا ہے، میں بھلا اُس کے ساتھ کیسے رہ سکتی ہوں۔
آئی تھنک مجھے آپ کو کچھ بتانا ہی نہیں چاہیئے تھا۔ میں خود اپنے لیے اچھی طرح لڑ سکتی ہوں۔ مجھے نہ آپ کی ہیلپ کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی اور کی۔ آپ جاسکتے ہیں۔“
سُلین نے قاسم کو ملنے کے لیے اپنے گھر بلایا ہوا تھا۔ جب وہ قاسم کی واپس ابتہاج کے پاس جانے والی بات سن کر بھڑک اُٹھی تھیں۔
قاسم کا دل چاہا تھا اپنا سر پیٹ لے۔ پچھلے ایک گھنٹے سے وہ سُلین کو سمجھانے اور واپس ابتہاج کے پاس جانے کو کہہ رہا تھا۔ تاکہ وہ اُسے اپنے سوچے گئے پلان کے مطابق استعمال کر سکے۔ مگر ابتہاج لغاری کی بیوی اُس سے بھی دو ہاتھ آگے نکلی تھی۔ اُس کی سننے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
وہ سمجھ گیا تھا، سُلین جیسی لڑکی کو اپنے اشاروں پر چلانا آسان نہیں تھا۔
مگر ابتہاج لغاری کو برباد صرف وہی کرسکتی تھی۔ کیونکہ ابتہاج اگر کسی کو اپنے قریب رکھتا تھا۔ کسی پر بھروسہ کرتا تھا۔ تو وہ سُلین حبیب ہی تھی۔ جسے قابو کرنا اب قاسم کو بھی اچھا خاصہ گھما گیا تھا۔
”آپ تو اپنی ہیلپ کرسکتی ہیں میم۔ میں جانتا ہوں آپ ایک پاورفل لیڈی ہیں۔ مگر کیا آپ نے ایک بار بھی اُن لوگوں کے بارے میں سوچا ہے، جو ابتہاج لغاری کے ظلم کے نیچے پس رہے ہیں۔ اور ساری زندگی ایسے ہی مر مر کر گزارنی ہے اُنہوں نے۔ یہاں کی فورسز بھی اُس وقت تک ابتہاج لغاری پر ہاتھ نہیں ڈال سکتی۔ جب تک اُن کے پاس کوئی پروف نہ ہو۔ پروف ڈھونڈنے میں سالوں لگ جائیں گے۔ تب تک نجانے وہ شخص کتنی جانوں کا سودا کرچکا ہوگا۔ اپنے ملک کے لیے نہ سہی مگر اپنے بابا کے لیے تو آپ اُس شخص کے قریب رہ کر اُسے برباد کرسکتی ہیں نا۔”
سُلین جو قاسم کی کوئی بھی بچکانا بات ماننے کو تیار نہیں تھی۔ اپنے بابا کے نام پر چونکی تھی۔
”بابا۔۔۔۔کیا مطلب۔۔۔۔میرے بابا کا بھلا اُس شخص کے ساتھ کیا لنک ہوسکتا ہے۔“
سُلین کی دماغ مزید اُلجھا تھا۔ قاسم اُس کے بابا کے سب سے زیادہ قریب تھا۔ تو کیا وہ جانتا تھا، کہ اُس کے بابا کا یہ حال کرنے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ اگر ایسا تھا تو اتنے سال اُس کے بار بار پوچھنے پر بھی قاسم نے اُسے سچ کیوں نہیں بتایا تھا۔
”جی، حبیب صاحب کی اِس حالت کا زمہ دار ابتہاج لغاری ہے۔ اُسی نے اُن پر حملہ کروایا تھا۔ اُن کے پاس ابتہاج کے کچھ ایسے راز موجود ہیں۔ جو ابتہاج کو اُس کے انجام تک پہنچا سکتے تھے۔ ابتہاج اُن سے وہ سب چھین کر اُنہیں مار دینا چاہتا تھا۔ مگر خوش قسمتی سے وہ بچ گئے۔ ہاسپٹل میں اُن کے آس پاس موجود سیکیورٹی کا ریزن بھی ابتہاج لغاری ہے۔ کیا آپ اپنے بابا کی خاطر بھی اُس شخص کو اُس کے انجام تک پہنچانے کے لیے تھوڑی سی قربانی نہیں دے سکتیں۔”
قاسم کی بات سنتے سُلین یک ٹک اُسے دیکھے جارہی تھی۔ ابتہاج لغاری نے اُس کے بابا پر حملہ کیا تھا؟ اتنے سالوں سے اُس کے بابا کی جو حالت تھی اُس کا زمہ دار ابتہاج لغاری تھا؟
اُس شخص سے نفرت کرنے کی بہت ساری وجوہات میں ایک اور وجہ شامل ہوچکی تھی۔
مگر ۔۔۔۔۔۔
اچانک کچھ یاد آتے، سُلین کا ماتھا ٹھنکا تھا۔
اُس دن جو پیپرز اُسے بھیجے گئے تھے۔ اُن کے مطابق تو جس وقت اُس کے بابا پر حملہ ہوا تھا۔ اُس وقت تو ابتہاج جیل میں تھا۔ تو پھر وہ بھلا اُن پر حملہ کیسے کروا سکتا تھا۔
اُس نے مشکوک نظروں سے قاسم کی جانب دیکھا تھا۔
”اگر آپ کو یہ سب پتا تھا تو آپ نے مجھے اُس وقت کیوں نہیں ساری سچائی بتائی۔ جب آپ نے فرسٹ ٹائم ابتہاج لغاری کو میرے آفس میں دیکھا تھا۔ تب تو میرا اُس شخص سے نکاح بھی نہیں ہوا تھا۔ آپ کو بہت موقعے ملے تھے، مجھے سب بتانے کے۔ پھر کیوں نہیں بتایا آپ نے۔“
سُلین کے دماغ میں بہت کچھ چلنے لگا تھا۔ قاسم اُسے اتنی آسانی سے بے وقوف نہیں بنا سکتا تھا۔ وہ کوئی عام سی لڑکی نہیں تھی۔ ایک بزنس وومین تھی۔ ہر چیز کو باریکی سے دیکھنا اور سمجھنا جانتی تھی۔
قاسم ایک لمحے کے جذبذ ہوا تھا۔ اُسے سُلین سے اِس سوال کی اُمید نہیں تھی۔
”میں بہت ڈر گیا تھا۔ ابتہاج لغاری بہت پاورفل شخص ہے۔ آپ جانتی ہیں، ہر بار آپ کے سامنے اُس نے کتنا بُرا سلوک کیا میرے ساتھ۔ ویسے بھی کسی کو ختم کرنا، اُس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ آپ کے قریب آنے کا مقصد بھی صرف آپ کے بابا تک پہنچنا ہے۔“
قاسم سُلین کو اپنی جھوٹی سچی کہانیوں میں اُلجھانے کی ہر طرح سے کوشش کررہا تھا۔
”اوکے میں تیار ہوں۔ کیا کرنا ہوگا مجھے، اور میں بھلا کیسے اُس جیسے طاقتور شخص کو کچھ کر سکتی ہوں۔“
سُلین نے حامی بھرتے اُلجھن بھری نظروں سے اُسے دیکھا تھا۔ جب قاسم نے ایک چھوٹی سی کانچ کی ڈبی سُلین کی جانب بڑھائی تھی۔
اُس پر لکھا ”پوائزن“ لفظ دیکھ سُلین کی بے یقینی سے آنکھیں پھٹی تھی۔
”روز ابتہاج لغاری کو اِس زہر کی ایک چمچ دینی ہوگی۔ یہ آہستہ آہستہ اُس کے وجود میں اُتر کر اُسے بالکل بیکار کردے گی۔ اور اِس کا سب سے زیادہ اثر پڑے گا اُس کے دماغ پر۔ وہ مفلوج ہوکر رہ جائے گا۔ مرنے کی دعائیں کرے گا مگر موت نصیب نہیں ہوگی اُسے۔ اُس نے جتنے گناہ کیے ہیں، اِس سے زیادہ عبرت ناک سزا اُس کی کوئی اور نہیں ہوسکتی۔“
قاسم کی آنکھوں کے پردے پر اپنے باپ کا خون سے لت پت وجود اور کانوں میں اپنی ماں اور بہن کی چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔
سُلین جہاں اُس کی بات سن کرسکتے میں آگئی تھی۔ وہیں اُس کے لہجے میں چھپی ابتہاج کے لیے اِس قدر نفرت اُس کو ششدر کرگئی تھی۔
”آپ اپنے بابا اور اُن سب مظلوموں کی موت کا بدلہ لیں گی نا ابتہاج لغاری سے۔ اور آپ فکر مت کریں، آپ کی حفاظت کے لیے بہت جلد وہاں میرا ایک آدمی پہنچ جائے گا۔ جو ظاہری طور پر ابتہاج کا آدمی ہوگا مگر کام میرے لیے کرے گا۔ وہ آپ کو ابتہاج لغاری کے کسی بھی وار سے محفوظ رکھے گا۔“
قاسم وہ ڈبی سُلین کے سامنے کرتا اُمید بھرے لہجے میں بولا تھا۔
سُلین جو کسی صورت ایسے کسی بھی کام کا حصہ نہیں بننا چاہتی تھی۔ ناچاہتے ہوئے بھی کچھ سوچتے اُس نے ہاتھ بڑھا کر اُسے پکڑ لیا تھا۔
”ہاں میں کروں گی۔ اُس شخص سے بہت حساب نکلتے ہیں میرے۔ اُسے تو چھوڑوں گی نہیں میں۔“
سُلین کی آنکھوں میں نظر آتا انتقامی جذبہ دیکھ قاسم کا دل خوشی سے جھوم اُٹھا تھا۔ اُس کے سب سے بڑے دشمن ابتہاج لغاری کو وہ اُس کی محبت کے ہاتھوں بہت بڑی مات دینے والا تھا۔
جس سے ابتہاج لغاری کا سنبھلنا ناممکن تھا۔ اگر وہ زہر سے نہ بھی مرتا مگر اِس بات نے اُسے مار دینا تھا۔ کہ اُس کی سب سے عزیز ترین ہستی، جس کے سہارے وہ اپنی آگے کی زندگی گزارنا چاہتا تھا، اُسی نے اُس کی جان لے لی۔
سُلین گہرا سانس بھرتی گاڑی سے نیچے اُتر آئی تھی۔ وہ زہر کی ڈبی اُس نے اپنے پرس کے اندر ایک انتہائی محفوظ جگہ پر چھپا دی تھی۔
ٹیرس پر کھڑے ابتہاج نے سگریٹ کا دھواں فضا میں چھوڑتے گہری نظروں سے گاڑی سے اُتر کر اندر جاتی سُلین کی جانب دیکھا تھا۔ اُسے تھکے تھکے بے دلی بھرے قدم گھر کی جانب بڑھاتے دیکھ ابتہاج کے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔
★★★★★★★★
”دل تھینک گارڈ تم تھی آج یہاں۔ تم نےنرمین آپی کی لائف برباد ہونے سے بچا لی۔ لو یو سو مچ۔ تم بہت اچھی ہو۔ اور تمہارے شاہ صاحب تو سب سے زیادہ بیسٹ ہیں۔ اُن کی تو کیا ہے بات ہے۔ جب کوئی تمہارا یقین کرنے کو تیار نہیں تھا۔ تو اُنہوں نے تمہاری بات سنی۔ ایسے ہی ہوتے آئیڈیل ہزبینڈ۔“
سویرا نجانے کتنی بار دل کے گال چوم کر اُسے گلے لگا چکی تھی۔
کال پر دل کی فرینڈ کی پوری فیملی اور پولیس دونوں پہنچ گئے تھے۔ اور دل آویز کا کہا سچ نکلا تھا۔ وہ شخص بہت بڑا فراڈیا تھا۔
اتنے بڑے دھوکے پر سب گھر والوں کو شدید جھٹکا لگا تھا۔ جہاں سب نرمین کی زندگی بچ جانے پر اپنے رب کے حضور شکرگزار تھے۔ وہیں اُس کی شادی ٹوٹ جانے پر کچھ پریشان بھی بہت تھے۔ جن میں سرِ فہرست رقیہ بیگم تھیں۔ زورین سے زیادہ امیر اور اچھا داماد لانے کے چکر میں وہ اپنی بھتیجی کو کتنے غلط لوگوں کے حوالے کرنے جارہی تھیں۔
یہ رشتہ اُنہوں نے ہی طے کروایا تھا۔ اِس لیے اب سب سے زیادہ سر اُنہیں کا ہی جھکا ہوا تھا۔
کیونکہ ہال میں اب سب لوگ دل اور زورین کی تعریفیں ہی کررہے تھے۔ جنہوں نے وقت پے ایکشن لیتے نرمین کو بچا لیا تھا۔
”دل تمہیں زورین بھائی بلا رہے ہیں۔“
صوفیہ عجلت میں اندر داخل ہوتے دل سے مخاطب ہوئی تھی۔
”اوکے چینج کرلوں، سن لیتی ہوں اُن کی بات بھی۔“
دل زورین کا بلاوا صاف ٹالتی واش روم کی جانب بڑھی تھی۔ جب سویرا اور صوفیہ نے آدھے میں ہی اُسے بازو سے پکڑ کر واپس کھینچا تھا۔
” چینج بعد میں کرنا پہلے زورین بھائی کی بات سنو۔ چلو جلدی، جو آج اُنہوں نے کیا ہے۔ تمہیں اِس رُوپ میں دیکھنے کا انعام تو بنتا ہے نا۔“
اُس کے نہ نہ کرنے کے باوجود وہ دونوں اُسے دھکیلتی باہر کی جانب لے گئی تھیں۔ دل اُن کی حرکت پر اُنہیں آنکھیں نکالتی آگے بڑھ گئی تھی۔
ساڑھی میں چلنے میں وہ پہلے ہی پوری طرح کمفرٹیبل نہیں تھی۔ اُوپر سے زورین سے سامنے کا سن کر اُس کے قدم ویسے ہی لڑکھڑانے لگے تھے۔ بالوں کو اُس نے لپیٹ کر جوڑے کی شکل دے رکھی تھی اب۔ کیونکہ فنکشن میں اُسے زورین کی بدلتی شوخ نظریں اچھا خاصہ کنفیوژ اور پریشان کر رہی تھیں۔ اِس وقت بھی اِنہی سوچوں کا شکار وہ اپنے بلاؤز کے گہرے گلے پر دھیان ہی نہیں دے پائی تھی۔ جس کو چھپانے کے لیے سویرا نے اُس کے بال کھول کر اردگرد بکھیر دیئے تھے۔
مہمان سب تقریباً جاچکے تھے۔ زورین کو سب گھر والوں نے زبردستی ڈنر کے لیے روک لیا تھا۔
دل ابھی سیڑھیوں کی جانب بڑھنے ہی والی تھی۔ جب کسی نے اُس کی کلائی تھام کر اُسے ایک طرف قدرے تاریک کونے میں کھینچ لیا تھا۔
دل کی بے ساختہ نکلتی چیخ اُس کی مضبود آہنی ہتھیلی کے نیچے دب گئی تھی۔
اُس نے دل کی پشت دیوار سے ٹکاتے اُسے پوری طرح اپنے قبضے میں لیا تھا۔
”آپ۔۔۔۔یہ کیا کررہے ہیں۔“
دل جو خوف کے مارے کانپنے لگی تھی۔ آنکھیں جیسے ہی اندھیرے سے مانوس ہوئیں۔ سامنے اپنے بے حد قریب کھڑے زورین شاہ کو دیکھ اُس کا کچھ دیر پہلے خوف سے بھرا دل اب بُری طرح دھڑک اُٹھا تھا۔
”یہاں پر ٹھیک سے دیکھ نہیں پارہا میں تمہیں۔ یہاں آجاؤ۔”
زورین اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتا اُسے لیے ٹیرس کی جانب بڑھ گیا تھا۔ جبکہ دل اُس کے اِس شوخ لب و لہجے پر ساکت سے اُسے دیکھے گئی تھی۔
کیا یہ واقعی زورین شاہ تھا۔ یا اُس کا کوئی ہمشکل۔ وہ روڈ، بات بات پر بے عزت کرنے والا شخص بھلا اتنا اچھا کیسے ہوسکتا تھا۔
“ایسے مت دیکھو۔ ورنہ میں اردگرد کا لحاظ بھول کر وہ کرجاؤں گا۔ جو کرنے کو کب سے اِس دل نے مجھے پاگل کررکھا ہے۔“
زورین اُس کے لپسٹک سے سجے آدھے واں ہونٹوں کو گہری بے باک نظروں سے دیکھتا اُس کے پسینے چھڑا گیا تھا۔
اب تو دل کو یقین ہوگیا تھا۔ ضرور یہ زورین شاہ ہو ہم شکل ہے۔ جو راستہ بھول کر یہاں آگیا ہے۔ ورنہ زورین شاہ کو بھلا اُس میں اتنا انٹرسٹ کیسے پیدا ہوسکتا تھا۔
★★★★★★★
”آپ کی کافی۔۔۔۔“
سُلین نے بہت مشکل سے اپنے لرزتے ہاتھوں پر قابو پاتے کافی کا مگ ابتہاج کے پاس ٹیبل پر رکھا تھا۔ ابتہاج جو سگریٹ پینے کے ساتھ ساتھ لیپ ٹاپ پر مصروف تھا۔ حیرت بھرے تاثرات سے سُلین کی جانب دیکھا تھا۔
جو چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ سجائے اُسے دیکھ رہی تھی۔ جبکہ لرزتی پلکیں بار بار کافی کی جانب اُٹھ رہی تھیں۔
”یہ میرے لیے بنائی تم نے۔“
ابتہاج اب کی بار خوشگوار حیرت سے گویا ہوا تھا۔ جس کے جواب میں سُلین نے صرف اثبات میں سر ہلا کر ہی جواب دیا تھا۔
”امیزنگ۔۔۔۔“
ابتہاج خوشی کا اظہار کرتا، ایک ہی سانس میں ساری کافی کا پورا مگ ختم کرگیا تھا۔ جبکہ سُلین پھٹی پھٹی نظروں سے اُسے دیکھے گئی تھی۔ ایک آنسو ٹوٹ کر اُس کے گال پر گرا تھا۔ جسے وہ ابتہاج کے دیکھنے سے پہلے ہی غیرمحسوس انداز میں صاف کر گئی تھی۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
