Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

ابتہاج نے دوسرا بازو سُلین کے گرد لپیٹتے اُسے اپنے حصار میں لیا تھا۔
”ابتہاج تمہارا بہت خون بہہ رہا ہے۔ اِس لڑکی کو اِن لوگوں کے حوالے کرو اور چلو میرے ساتھ ہاسپٹل۔“
دلاور ابتہاج کا بازو دیکھ فکرمندی سے بولا تھا۔ اگر پاشا کو ابتہاج کے گولی لگنے کا پتا چل جاتا تو اُس نے نجانے کیا طوفان مچا دینا تھا۔ اور دلاور کی الگ شامت آنی تھی کہ اُس کے وہاں ہوتے ابتہاج کو نقصان کیسے پہنچا۔
مگر ابتہاج کو دلاور کی یہ بات سخت ناگوار گزری تھی۔ اُس کی جانب ایک سرد نگاہ ڈالتے اُس نے کسی چیز کی تلاش میں اردگرد نظریں دوڑائی تھیں۔
”وہ کپڑا لاؤ اِدھر۔“
ایک طرف گرے ٹیبل کے کور کی جانب اشارہ کرتے ابتہاج نے دلاور کو اُسے اُٹھا کر لانے کو کہا تھا۔ گولی اُس کے بازو کو چھو کر نکل گئی تھی۔ مگر پھر بھی زخم کی تکلیف بہت زیادہ تھی۔ خون بہنا بند ہی نہیں ہورہا تھا۔ لیکن ابتہاج لغاری کی غیرت کسی صورت گوارہ نہیں کرتی تھی کہ اپنے بازوؤں میں سینے پر سر ٹکائے بے سدھ پڑی لڑکی کو اِس طرح بے یارو مددگار چھوڑ دیتا۔
جس لڑکی کا دو آتشہ حُسن ابتہاج لغاری جیسے احساس سے عاری شخص کو اپنی جانب متوجہ کررہا تھا۔ اُس کے حوالے سے یہاں موجود کسی بھی انسان پر ٹرسٹ نہیں کر سکتا تھا۔ سُلین کا نرم گرم لمس اور ہلکی ہلکی اُبھرتی مدھم ہوتی سانسیں ابتہاج لغاری کو اپنے سینے پر محسوس ہورہی تھیں۔ اُس کے لیے مزید اِس پوزیشن میں کھڑا ہونا بھاری پڑ سکتا تھا۔
دلاور نے کپڑا اُٹھا کر لاتے ابتہاج کے کہنے پر اُس کے زخم پر کس کر باندھ دیا تھا۔ جس سے اُس کے خون کے بہاؤ میں کافی حد تک کمی آگئی تھی۔ پولیس اُن سب غنڈوں کو لے جا چکی تھی۔ جبکہ کچھ اہلکار ابھی بھی وہیں موجود ویٹرز سے پوچھ گچھ کر رہے تھے۔ سُلین کا آفس پوچھ کر ابتہاج کسی کانچ کی گڑیا کی طرح خیال کرتے پوری احتیاط سے اُسے اپنی بانہوں میں اُٹھاتے اُس جانب بڑھ گیا تھا۔ سُلین کا سر ابھی بھی اُس کے سینے پر ٹکا ہوا تھا۔
ایک پل کے لیے ابتہاج لغاری کا دل بھی اُسے خود سے جدا کرنے کو نہیں چاہا تھا۔ مگر یہ خیال صرف ایک سیکنڈ کے لیے ہی آیا تھا۔ اگلے ہی لمحے وہ اُس کے آفس میں داخل ہوتے سامنے رکھے صوفے پر نہایت ہی نرمی اور احتیاط سے لٹا دیا تھا۔ جب پیچھے ہوتے اُس کی نظر سُلین کے دلکش چہرے کی جانب اُٹھی تھی۔ گلابی پنکھڑیوں جیسے ہونٹوں کی ملائمت کا احساس دور سے دیکھ کر ہی ہوجاتا تھا۔ اُنہیں چھونا تو نہایت ہی خوش قسمتی کی بات تھی۔ خمدار گھنیری پلکوں کی جھالر تلے موجود دو خوبصورت نین اِس وقت اپنی دلکشی خود میں ہی سموئے ہر چیز سے بے خبر تھے۔ جوڑے کی شکل میں قید بال ڈھیلے ہوکر باہر نکل آئے تھے۔ ابتہاج لغاری فوراً اِس دلفریب منظر سے نظریں چراتا اُس سے دور ہوا تھا۔ اپنے گلے میں ڈالی شال اُتار کر اُس نے سُلین کے اُوپر اوڑھا دی تھی۔ جس نے اُسے چہرے سے لے کر پیروں تک ڈھانپ لیا تھا۔
ابتہاج پاکٹ سے موبائل نکالتا باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔
” یہ اُوپر کس چیز کی ارینجمنٹس چل رہی ہیں۔“
آفس کے باہر نکل کر ابتہاج نے قریب سے گزرتے زاہد کو روک کر پوچھا تھا۔
” سر وہ آج شام یہاں ایک سیمنار ہونا تھا۔ جس کے لیے سُلین میڈم اور ہم سب پچھلے کافی دنوں سے تیاریاں کررہے ہیں۔ مگر اب یہ سب ہونے کے بعد تو سیمنار پاسبل نہیں ہے۔ میڈیا تک بھی یہ بات پہنچ گئی ہوگی۔ اور دوسرا نیچے جو حالت بنی ہوئی ہے۔ اُس کے بعد تو یہ ناممکن ہی ہوچکا ہے۔“
زاہد ابتہاج کو تفصیل بتاتے بولا تھا۔ کیونکہ جس طرح اُس نے سُلین اور باقی لوگوں کی جان بچائی تھی۔ وہ سب اُس کے بہت احسان مند تھے۔
” آپ لوگ جو تیاریاں کررہے تھے۔ وہ جاری رکھیں۔ نہ ہی میڈیا میں اِس واقع کی کوئی خبر آئے گی۔ اور نہ ہی سیمنار کینسل ہوگا۔ بول دیں اپنے سٹاف کو۔“
ابتہاج اپنے مخصوص سرد تاثرات چہرے پر سجائے بولتا فون کان سے لگا گیا تھا۔ جبکہ زاہد اُس کی شاندار پرسنیلٹی اور اِس منفرد انداز سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہ پایا تھا۔ اُس کے اِس قدر بارعب لہجے پر زاہد کے پاس اُس کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
” سنو۔ جب تک تمہاری میڈم کو ہوش نہیں آجاتا۔ اُن کے روم میں جانے کی اجازت کسی کو نہیں ہے۔ خیال رکھنا اِس بات کا۔“
ابتہاج کے بے لچک لہجے پر زاہد سُلین کے حوالے سے کوئی بھی بات پوچھنے کا ارادہ ترک کرتا وہاں سے نکل گیا تھا۔
ابتہاج نے اُوپر بنی ریلنگ کے قریب کھڑے ہوتے نیچے موجود ہال پر نظریں دوڑائی تھیں۔ غصے میں وہ سب کچھ فراموش کرجاتا تھا۔ غنڈوں کو بُری طرح پیٹتے اُس نے ریسٹورینٹ کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ مگر اپنی کی گئی غلطی سدھارنا وہ اچھی طرح جانتا تھا۔اگلے پندرہ منٹ میں وہ اِس بات پر عمل بھی کرچکا تھا۔
دوسری جانب بازو میں درد کی شدت کافی بڑھ چکی تھی۔ جسے اب وہ زرا سی حرکت بھی نہیں سے پارہا تھا۔
دلاور ڈاکٹر کو وہیں لے آیا تھا۔ بینڈیج کروانے کے ساتھ ساتھ ابتہاج نے قریبی فرنیچر شوروم کال کرکے پندرہ منٹ کے اندر اندر ساری چیزیں یہاں پہنچانے کا آرڈر دیا تھا۔ میڈیا والوں کو یہ خبر وائرل کرنے سے روکنے کا کام اُس نے پاشا کو سونپ دیا تھا۔
اگلے ایک گھنٹے تک ہال کا نقشہ بدل چکا تھا۔ سیمنار کی تیاریاں بھی مکمل ہوچکی تھیں۔ ہر طرف سے تسلی کرتے ابتہاج وہاں سے جانے کے لیے اُٹھا تھا۔
” ہوش آگیا تمہاری میڈم کو۔“
کسی خیال کے تحت اپنے قدم روکتے اُس نے پلٹ کر زاہد سے پوچھا تھا۔ کیونکہ اُس کی اجازت سے ہی صبا سُلین کے آفس میں اُسے دیکھنے گئی تھی۔ ابتہاج لغاری کا یہی تو کمال تھا۔
کچھ ہی دیر میں وہاں موجود ہر شخص کو اپنے انڈر کر لیا تھا۔ وہ سب ایسے اُس کے آڈرز فالو کررہے تھے۔ جیسے وہی اُن کا باس ہو۔
” یس سر ابھی ہی ہوش آیا ہے اُنہیں۔ “
زاہد کی بات ابھی ختم ہی ہوئی تھی۔ جب قاسم پریشانی کے عالم میں اندر آتا دیکھائی دیا تھا۔
”میم کہاں ہیں۔ وہ ٹھیک تو ہیں۔“
قاسم کے چہرے سے فکرمندی صاف جھلک رہی تھی۔ زاہد سے مخاطب ہوتے وہ ایک طرف کھڑے ابتہاج کو نہیں دیکھ پایا تھا۔
”جی سر وہ ٹھیک ہیں۔ اُوپر اپنے آفس میں ہی ہیں۔“
زاہد کی بات پر قاسم سیدھا سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا تھا۔
“سر یہ اِس ریسٹورنٹ کے منیجر ہیں۔“
ابتہاج کے اُس کی جانب دیکھنے پر زاہد جلدی سے بولا تھا۔ مبادا کہیں وہ قاسم کو بھی سُلین کے آفس جانے سے نہ روک دے۔
اُس شخص کو سُلین کے آفس میں داخل ہوتا دیکھ ابتہاج کے آنکھوں کی وحشت ایک بار پھر بڑھ گئی تھی۔ وہ بنا زاہد کو کوئی جواب دیئے وہاں سے نکل گیا تھا۔
★★★★★★★
”آپی آرام سے پلیز۔ بہت درد ہورہا ہے۔“
دل آنسو بہاتے نرمین سے ہاتھ کی ڈریسنگ کرتے درد سے ہونٹ بھینچ گئی تھی۔ سویرا اور لائبہ اُس کو اتنی تکلیف میں دیکھ اپنی جگہ شرمندہ سی کھڑی تھیں۔ دل نہیں جانا چاہتی تھی۔صرف اُن لوگوں کے زبردستی کرنے پر گئی تھی۔
” میرا دل تو کررہا ہے۔ تم تینوں کو کان سے پکڑ کر پھوپھو کے پاس لے جاؤں۔ وہ ہی سیدھا کریں گی تم لوگوں کو۔ اتنا بڑا رسک لینے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ زورین شاہ کس قدر پاورفل بندہ ہے۔ اگر وہ کوئی ایکشن اُٹھا لیتا تمہارے خلاف تو بتاؤ۔ کیا کرتی تم لوگ۔ “
نرمین اُنہیں ڈپٹتی ہوئے بولی۔ دل کا کارنامہ سن کر اُس کا دل ابھی تک ہول رہا تھا۔ زورین شاہ کے حوالے سے وہ جتنا سن چکی تھی۔ اُس کے بعد نرمین کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اُس نے اتنے آرام سے دل کو کیسے جانے دیا۔
” آپی میں درد برداشت کر لوں گی۔ پر پلیز یہ نہیں پیا جائے گا مجھ سے۔“
دل دودھ کو پڑے دھکیلتے منہ بناتے بولی تھی۔ شروع سے ہی دودھ سے اُس کی جان جاتی تھی۔
”دل خاموشی سے ایک منٹ کے اندر ختم کرو اِسے۔ ورنہ میں ابھی نیچے جاکر تمہارا کارنامہ سب کو بتاتی ہوں۔“
نرمین کے دھمکی آمیز لہجے پر دل نے روہانسی نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔ جب صوفیہ پھولی سانس کے ساتھ درازہ کھولتی اندر داخل ہوئی تھی۔
”کیا ہوا۔ تمہارے پیچھے کتے تو نہیں لگے ہوئے۔“
سویرا آندھی طوفان کی طرح اندر آتی صوفیہ کو دیکھتے بولی
جو ٹیبل کے قریب گرتی سانس بحال کرنے کے لیے دل کے ہاتھ سے دودھ کا گلاس لیتی منہ سے لگا گئی تھی۔ اِس وقت دل کو اُس کی اِس حرکت پر بہت پیار آیا تھا۔
” ایک گڈ نیوز ہے میرے پاس۔“
خالی گلاس ٹیبل پر رکھتے وہ اُن سب کی جانب متوجہ ہوئی تھی
”کیسی خوش خبری۔ جلدی بکو۔“
سویرا اُس کے اتنے سسپنیس پھیلانے پر اُسے گھورتے ہوئے بولی۔
”دل کی بچی زورین شاہ کے آگے تم نے جو بونگیاں ماریں۔ وہ سب بتا دیں۔ مگر یہ بتایا ہی نہیں کہ وہ تمہارے کہنے پر ایک مہینے کی مہلت دینے پر مان گیا تھا۔ ابھی پاپا کو کال آئی ہے اُن کے منیجر کی۔ وہ سب حیران ہیں کہ اچانک زورین شاہ کیسے مان گیا۔ جبکہ اُن کے ساتھ تو سیدھے منہ بات بھی نہیں کی۔ میرا تو بہت دل چاہ رہا تھا نیچے سب کو بتا دوں کہ یہ کارنامہ ہماری دل نے سرانجام دیا ہے۔ “
صوفیہ خوشی سے چہکتے اُن سب کے مرجھائے چہرے بھی کھلا گئی تھی۔ نرمین نے آگے بڑھ کر دل کو گلے سے لگا لیا تھا۔ سویرا نے بھی جھک کر اُس کے گال کا بوسا لیا تھا۔ جبکہ دل حیرت زدہ سی اپنی جگہ بیٹھی رہ گئی تھی۔ اُسے خود بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ کھڑوس شخص جسے وہ اتنی باتیں سنا کر آئی ہے۔ جس سے ہوئی ہر ملاقات میں اُسے زخم کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔ وہ اُس کی بات مان گیا تھا۔ دل اُس کے وہ غصے بھرے خطرناک تیور یاد کرتی جھرجھری سی لے کر رہ گئی تھی۔ زورین شاہ سے ہوئی تلخ کلامی اُسے ٹھیک سے خوش ہونے نہیں دے رہی تھی۔ زورین شاہ نے اگر اُس کی اتنی بدتمیزی کے بعد اتنی بڑی مہربانی کی تھی۔ تو اِس کے پیچھے ضرور وہ کچھ بڑا کرنے والا تھا۔
★★★★★★★
“میم آپ پلیز یہ میڈیسن لے لیں۔ ورنہ باہر وہ جو ہٹلر کے رشتہ دار صاحب بیٹھے ہیں۔ اُنہوں نے ہمیں آنکھوں سے ہی نگل جانا ہے۔“
صبا سُلین کی جانب میڈیسن بڑھاتے ابتہاج لغاری کا حوالہ دیتے بولی تھی۔ جس نے ایک گھنٹے میں اُنہیں گھن چکر بنا کر رکھ دیا تھا۔
سُلین ابھی کچھ دیر ہوش میں آئی تھی۔ اُسے ابھی اِس نئی کہانی کا علم نہیں تھا۔ اُس کا دھیان تو اپنے گرد اوڑھائی گئی بلیک شال کی جانب تھا۔ جس سے اُٹھتی مسحور کن خوشبو اُسے اپنے حصار میں جکڑ گئی تھی۔
” کیا مطلب میں سمجھی نہیں۔..“
سُلین نے صبا کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا۔ آج پیش آئے واقع کے ساتھ ساتھ سُلین کو اپنے ریسٹورنٹ کی رپوٹیشن خراب ہونے کی بہت ٹینشن تھی۔ اُس کا خیال یہی تھا کہ اب تک تو میڈیا کے تھرو یہ بات ہر طرف پھیل چکی ہوگی۔ جس کے بعد لوگ اُس کے ریسٹورنٹ میں قدم رکھنا بھی پسند نہیں کریں گے۔
” میم ابتہاج لغاری جنہوں نے آپ کو غنڈوں سے بچایا ہے۔ اُنہوں نے سب کچھ ٹھیک کردیا ہے۔۔۔۔“
صبا سُلین کے ناسمجھی بھرے تاثرات دیکھ اُسے ابتہاج کے اُس کی بے ہوشی کے دوران کیے گئے سارے کاموں کے بارے میں آگاہ کرگئی تھی۔ اور یہ بھی کہ اُس نے یہ نیوز بھی وائرل نہیں ہونے دی تھی۔
سُلین اپنی جگہ ساکت سی بیٹھی رہ گئی تھی۔ وہ شخص اُس پر احسانات کی بارش کیے جارہا تھا۔ وہ انجان شخص اِس قدر خطرناک سچویشن میں جس طرح سُلین کی ڈھال بنا تھا۔ اُس کی عزت محفوظ رکھی تھی۔ وہ چاہ کر بھی اُس کا اتنا بڑا احسان نہیں چکا سکتی تھی۔ اُس کا خون آلود بازو اِس وقت بھی یاد آتے سُلین کے رونگھٹے کھڑے کر گیا تھا۔ ہوش میں آتے سب سے پہلے سُلین نے بھی صبا سے اُسی کے بارے ميں ہی تو پوچھا تھا۔
وہ دل ہی دل میں اُس شخص کے کیے گئے احسانوں کا شمار ہی لگا رہی تھی۔ جب دروازے پر ناک ہوا تھا۔ سُلین اپنا دوپٹہ دُرست کرکے ہاتھ میں موجود شال فولڈ کرکے گود میں رکھتی، باہر موجود شخص کو اندر آنے کی اجازت دے گئی تھی۔
” میم آپ ٹھیک ہیں۔“
قاسم کی فکرمندی نگاہیں سُلین کی جانب اُٹھ کر واپس جھک گئی تھیں۔
”آئم ریلی سوری۔ یہاں اتنا سب کچھ ہوگیا۔ اور میں بے خبر رہا۔ ابھی میرے کال کرنے پر ہی زاہد نے بتایا ہے مجھے۔۔ “
قاسم سُلین کو سہی سلامت بیٹھا دیکھ مطمین ہوتے نادم لہجے میں بولا تھا۔ اُس کے دوست کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ اتنا لیٹ ہوگیا تھا۔
” نو اٹس اوکے۔ آپ ایک بار ارینجمنٹس دیکھ لیں۔ کچھ ہی ٹائم میں گیسٹ آنا شروع ہوجائیں گے۔“
سُلین اُسے شرمندہ ہوتا دیکھ نرمی سے بولی تھی۔ اُس کی ہدایت پر قاسم ایک نظر اُس پر ڈالتا باہر نکل گیا تھا۔
”میم آپ ریسٹ کریں ہم سب ہینڈل کر لیں گے۔“
صبا اُسے اُٹھتا دیکھ جلدی سے بولی تھی۔
”میں بالکل ٹھیک ہوں۔ مجھے ابتہاج لغاری سے مل کر اُن کا شکریہ ادا کرنا ہے۔“
سُلین اُس کی بلیک شال اپنے بازو پر ڈالے باہر نکل آئی تھی۔ جب سامنے سے آتے زاہد سے ابتہاج کے چلے جانے کا سن کر اُس کے چہرے پر مایوسی سی چھا گئی تھی۔
ابتہاج نے جو کچھ اُس کے لیے کیا تھا۔ اُس سب کا بدلہ شاید وہ کبھی نہیں چکا سکتی تھی۔ مگر ایک بار وہ اُس اچھے شخص کا شکریہ ضرور ادا کرنا چاہتی تھی۔
”اُنہوں نے اپنا کوئی کارڈ وغیرہ دیا۔ کوئی ایڈریس ۔۔۔۔۔یا نام کے علاوہ کچھ بتایا۔۔۔“
سُلین کو سمجھ نہیں آرہی تھی زاہد سے کس طرح ابتہاج کے بارے میں کوئی انفارمیشن لے۔ وہ اُس سے مل کر شکریہ ضرور ادا کرنا چاہتی تھی۔ جو اتنا سب کرکے یونہی خاموشی سے نکل گیا تھا۔
لیکن زاہد کے نفی میں سر ہلانے پر وہ مکمل طور پر مایوس ہوتی واپس پلٹ گئی تھی۔
★★★★★★★
”رقیہ آپا بہت اچھا رشتہ ہے۔ سلمان صاحب کے بیٹے کی شادی میں دیکھا تھا اُنہوں نے گھر کی بچیوں کو۔ سب ہی ماشاءاللّٰه بہت پسند آئی ہیں اُنہیں۔ خاص کر آپ کی بھانجی دل آویز کچھ زیادہ ہی اچھی لگی ہے اُنہیں۔ بہت اچھا رشتہ ہے۔ دیکھے بھالے لوگ ہیں۔ میں تو کہتی ہوں اِس معاملے میں دیر مت کریں۔ یہ رشتہ ہاتھ سے نکل گیا تو بہت پچھتائیں گی آپ۔“
زرینہ خالہ آج پھر اپنے رشتوں کا پٹارہ کھولے رقیہ بیگم کی خدمت میں حاضر تھیں۔ جو پوری سوسائٹی میں رشتہ کروانے والی خالہ کے طور پر مشہور تھیں۔ یہ ایک طرح سے اُن کا بزنس تھا۔ رشتے کروانے کے بعد اچھی خاصی قیمت شگن کے طور پر وصول کرتی تھیں۔ مگر دل سمیت گھر کی ساری لڑکیوں کو اُن سے عجیب سی چڑ تھی۔ کیونکہ وہ جب بھی اُن کے گھر آتیں۔ فل ٹائم اُن کو ایکسرے مشین کی طرح گھورتی رہتیں۔ دل کئی بار اُنہیں بھگانے کی ترکیبیں سوچ چکی تھی۔ مگر پھر رقیہ بیگم کی وجہ سے اُسے باز رہنا پڑتا تھا۔
” کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو زرینہ۔ لڑکا تو بہت پیارا ہے۔ اور نوکری بھی بہت اچھی۔ میں آج ہی سویرا کے لیے ندیم اور شبانہ سے بات کرتی ہوں۔“
رقیہ بیگم لڑکے کی تصویر دیکھتے پرسوچ انداز میں بولی تھیں۔
”مگر رشتے والے لوگ تو پہلے دل آویز کی بات کرنے کو بول رہے تھے۔“
زرینہ بیگم دل کی جگہ سویرا کا نام سن کر فوراً بولی تھی۔ جس پر رقیہ بیگم کے چہرے کا رنگ بدلہ تھا۔
”زرینہ ایک بار بتا چکی ہوں نا میں تمہیں۔ وہ لڑکی ہمارے خاندان کی نہیں ہے۔ خدا ترسی کے لیے اپنے پاس رکھا ہوا ہے اُسے۔ اُس کا میری بچیوں کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں ہے۔ نہ ہی وہ ایسے بڑے گھروں میں جانے کے لائق ہے۔ کسی چھوٹے موٹے گھرانے میں اُس کے لیے جیسا رشتہ دیکھنے کو کہا تھا۔ اگر ویسا کوئی مل گیا تو بتا دینا۔ جلد ہی اِس منحوس کو اپنی نظروں سے اوجھل کرنا چاہتی ہوں۔ پتا نہیں اِس کی بے غیرت بے حیا ماں اِسے ہمارے سروں پر مصلت کرکے کہاں مر کھپ گئی ہے۔“
رقیہ بیگم کو زرینہ کی بات سخت ناگوار گزری تھی۔ اِس لیے وہ اپنا غصہ نکالنے کے لیے اُس کے بارے میں جتنا غلط بول سکتی تھیں۔ بول گئی تھیں۔ زرینہ کا شروع سے اِس گھر میں آنا جانا تھا۔ اِس لیے وہ یہاں کی ہر بات سے اچھی طرح واقف تھی۔
رقیہ بیگم کی بات پر وہ سر ہلا کر رہ گئی تھی۔
”تم اُس دن فون پر کسی اور رشتے کی بات کررہی تھی۔ اُس کے بارے ميں تو بتایا ہی نہیں تم نے۔“
رقیہ بیگم دل کی بھڑاس نکالنے کے بعد واپس نارمل ہوتے چکی تھیں۔
” ہاں رشتہ تو ہے وہ۔ مگر آپ لوگوں کا اُن کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں ہے۔ اِس لیے میں نے اُس کا ذکر ہی نہیں کیا۔“
زرینہ بیگم ٹیبل پر پھیلی تصویریں اپنے پرس میں رکھتے بولی۔
”ارے بتاؤ تو سہی لڑکا کیسا ہے۔ کیا کرتا ہے۔“
رقیہ بیگم کو جوڑ نہ بننے والی بات دل کو لگی تھی۔ وہ دل کے لیے ایسا ہی تو کوئی بے جوڑ رشتہ چاہتی تھیں۔ جس سے وہ اپنے اندر لگی آگ کم کرسکتیں۔ جیسے شہلا نے اُن کا گھر اُجاڑا تھا۔ وہ بھی اُس کی بیٹی کو ایسے ہی برباد دیکھنا چاہتی تھیں۔ کہ جب ایک دن واپس لوٹ کر وہ اپنی بیٹی کا حال دیکھے تو اُسے بھی اُتنی ہی تکلیف ہو جتنی شہلا کے اُٹھائے گئے اقدام کے بعد اُنہیں برداشت کرنی پڑی تھی۔
”ایک بچے کا باپ ہے۔ پہلی بیوی ساتھ نہیں رہتی۔۔۔خاندان میں۔۔۔“
زرینہ خالہ ابھی مزید کچھ بتاتی جب رقیہ بیگم نے اُن کی بات وہیں کاٹ دی تھی۔
بس زرینہ مجھے یہ رشتہ منظور ہے دل آویز کے لیے۔ تم بات کرو اُن لوگوں سے۔ کچھ ہی دنوں میں آکر رسم کر جائیں۔ ہم شادی جلدی کرنا چاہتے ہیں۔ چاہے تو رسم کرنے کے بجائے سیدھا نکاح کردیں۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔“
رقیہ بیگم کے اِس طرح ہتھیلی پر سرسوں جمانے پر زرینہ حیران رہ گئی تھی۔
”آپا مگر پہلے پوری طرح سے میری بات تو سن لیں۔ پھر اُس کے بعد اتنا بڑا فیصلہ کیجیئے گا۔“
زرینہ کمزور لہجے میں بولی تھی۔ مگر اُس کے دماغ میں کچھ اور ہی کہانی شروع ہوچکی تھی۔
” ہاں بولو۔ کیا وہ لوگ رشتہ نہیں کرنا چاہتے۔ یا ہمارے خاندان میں کوئی مسئلہ ہے۔“
رقیہ بیگم کو زرینہ کا اِس طرح ٹوکنا پسند نہیں آیا تھا۔
“نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔ میں آج ہی جاکر اُن سے بات کرتی ہوں۔ پھر آپ کو کال پر ساری بات بتا دوں گی۔“
زرینہ رقیہ بیگم کی جانب مسکرا کر دیکھتی جانے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
★★★★★★★★
سُلین کی گاڑی سامنے کھڑے بڑے سے بنگلے کے سیاہ جالی دار گیٹ کے آگے جا رکی تھی۔ اُس کے کہے کے مطابق ڈرائیور گاڑی سے نکل کر سامنے کھڑے چاکیدار سے بات چیت کے بعد واپس سُلین کی جانب آیا تھا۔
”میم یہ ابتہاج لغاری کا ہی گھر ہے۔ اور اِس وقت وہ اندر ہی موجود ہیں۔ “
ڈرائیور چوکیدار سے پوچھی گئی معلومات سُلین کو بتانے لگا تھا۔ جسے سن کر سُلین کے ہونٹوں پر بے اختیار دھیمی مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ اُس نے بہت کوششوں کے بعد یہ ایڈریس فرنیچر شوروم والوں سے لیا تھا۔
گاڑی سے نکلتے سُلین گیٹ کی جانب بڑھی تھی۔
” میم آپ یہاں بیٹھیں۔ سر اِس وقت جم خانے میں موجود ہیں۔ اِس ٹائم میں ہم اُن کو ڈسٹرب نہیں کرسکتے۔ آپ کو اُن کے فارغ ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا۔“
ملازمہ اُسے نفاست سے سجے ڈرائنگ روم ميں بیٹھاتی باہر نکل گئی تھی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔