Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

“تم لوگ آج اِدھر ہی رک جاؤ نا میرے ساتھ۔ پلیز مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔“
دل بیڈ سے اُٹھتی سویرا کا ہاتھ تھام کر نم لہجے میں بولی تھی۔ اُس کا پورا وجود ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔
رخصتی کا سن کر اُس نے فوراً انکار کر دیا تھا۔ مگر آج تک بھلا اُس گھر میں کبھی اُس کی کوئی بات سنی گئی تھی۔ جو اب کوئی اہمیت دی جاتی۔ دل کا رونا دھونا کسی کام نہیں آیا تھا۔ اُسے کسی بوجھ کی طرح سر سے اُتار کر پھینک دیا گیا تھا۔
نجانے کتنے خدشات میں گھرے دل نے زورین شاہ کے عالیشان محل میں قدم رکھا تھا۔ جہاں بکھری رونقیں اور چکاچوند دیکھنے لائق تھیں۔ دل کی ساری کزنز اُس کی قسمت پر رشک کررہی تھیں۔ مگر وہ اِس وقت ایسا کچھ سوچنے کی کنڈیشن میں نہیں تھی۔ جس طرح اُس کے گھر والوں نے اُسے سر سے اُتارا تھا۔ زورین جیسا ہر چیز پر گہری نظر رکھنے والا انسان اُس کی اہمیت کا اندازہ لگا چکا ہوگا۔ اور اب دل کی اُس کے آگے حیثیت کم ہوجانی تھی۔ یہی سب باتیں اُس کے زہن میں گڈ مڈ ہوتیں اُس کی پریشانی میں اضافہ کررہی تھیں۔
” دل ریلیکس رہو۔ زورین شاہ چاہتے ہیں تمہیں۔ اِسی لیے تو اُنہوں نے یہ سب کیا ہے۔ پلیز اب تم بھی آگے سمجھداری سے کام لینا۔ کچھ اُوٹ پٹانگ مت کرنا۔“
وہ سب اُسے پیار سے سمجھاتیں وہاں سے نکل گئی تھیں۔
دل اِس وقت شدید قسم کی گھبراہٹ کا شکار تھی۔ اُس کا دل انجانے خوف سے دھڑک رہا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی۔ زورین شاہ اُس کے ساتھ کیا سلوک کرنے والا تھا۔ مگر آج ہال میں سب کے سامنے جیسا برتاؤ زورین نے اُس کے ساتھ کیا تھا۔ زورین کے لیے اُس کے دل میں ایک انجانا سا احساس پیدا ہوچکا تھا۔ جس کی نوعیت سمجھنے سے وہ ابھی قاصر تھی۔ اُس کے ہاتھ زورین سے سامنے کا سوچ کر ہی ٹھنڈے پڑ چکے تھے۔
وسیع و عریض شاندار بیڈ روم میں جہازی سائز بیڈ پر سُرخ و سفید پھولوں کے درمیان بیٹھی وہ اُنہی کا حصہ معلوم ہورہی تھی۔
وہ نجانے کتنی ہی دیر اپنی سوچوں میں اُلجھی رہتی جب ناک کی آواز پر اُس کا دل آؤٹ آف کنٹرول ہوا تھا۔ مگر دروازے سے وائٹ باربی فراک پہنے ایک پیاری سی بچی اندر داخل ہوئی تھی۔ اُس کے پیچھے منزہ بھی تھی۔
“واؤ آنی بابا کی دلہن تو بہت پریٹی ہیں۔ بالکل پرنسز جیسی۔“
میرا دل کے قریب آتے اُسے دیکھتی چہکتے ہوئے بولی تھی۔ اُس کی معصوم آنکھیں خوشی کے احساس سے چمک رہی تھیں۔
دل کو وہ کیوٹ سی گڑیا پہلی نظر میں ہی بہت پیاری لگی تھی۔ یہ وہی بچی تھی جس کی فوٹو اُس دن دل نے زورین کے ٹیبل پر دیکھی تھی۔
” آپ بھی بہت بیوٹی فل ہو۔ اور پرنسز سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت ہو۔“
دل نے اُس کا نرم گال سہلاتی پیار سے جواب دیا تھا۔
” میں تو اپنے بابا کی پرنسز ہوں۔ وہ کہتے ہیں مجھ سے زیادہ بیوٹی فل اِس پورے ورلڈ میں کوئی نہیں ہے۔“
میرا اپنے بالوں کو جھٹک کر ایک ادا سے بولتی اُن دونوں کو مسکرانے پر مجبور کر گئی تھی۔
” یہ بات تو اُن کی بالکل ٹھیک ہے۔“
دل کو اُس بچی کے انداز میں زورین شاہ کے لیے بے پناہ محبت محسوس ہوئی تھی۔ وہ بے حس انسان کسی کے لیے اتنا سافٹ کارنر بھی رکھ سکتا تھا۔ اُسے یقین نہیں آیا تھا۔
“دل یہ میرا ہے۔ زورین کی لاڈلی بیٹی۔“
منزہ نے تعارف کروانا ضروری سمجھا تھا۔
” بہت پیاری بچی ہے۔“
دل کو تو شروع سے ہی بچے بہت پسند تھے۔ پھر میرا تو بہت پیاری بچی تھی۔ مگر اندر کہیں ایک بار اُس کے دل میں زورین شاہ کی پہلی بیوی کو لے کر سوال اُبھرا تھا۔ جو وہ منزہ سے ضرور پوچھنا چاہتی تھی۔ مگر میرا کے سامنے نہیں پوچھ سکتی تھی۔
“دل تم چینج کرکے ریسٹ کر لو۔ زورین کسی ضروری کام سے گیا ہے۔ اُسے شاید دیر ہوجائے۔ اِس سب سے تم کافی تھک گئی ہوگی۔“
کچھ دیر کے بعد منزہ شرمندہ سی اُس سے نظریں چُراتے بولی تھی۔ اُس کی بات سن کر دل کے ہونٹوں پر تلخی بھری مسکراہٹ کھیل گئی تھی۔
جب اُسے اُس کی اوقات پتا تھی۔ تو اتنی خوش فہم کیوں ہوئی تھی وہ۔ زورین شاہ نے صرف ضد میں آکر اُس سے یہ شادی کی تھی۔ ورنہ اُس کے نزدیک دل کی ویلیو صفر تھی۔ یہ بات وہ اُس پر واضح کر گیا تھا۔
” آئم ریلی سوری دل۔ زورین ایسا ہی ہے۔ اُس کے لیے اُس کا بزنس سب سے آگے ہیں۔ میں تمہارے معاملے میں بہت سیلفش ہوگئی۔ ہمارے بہت اصرار پر ہی اُس نے یہ شادی کی ہے۔ شروع میں شاید تمہیں تھوڑا سیکریفائز کرنا پڑے مگر زورین جتنا اُوپر سے سخت بنتا ہے۔ دل کا اُتنا ہی نرم ہے۔ تم بہت پیاری اور معصوم ہو میں جانتی ہوں۔ ایک دن تم اُس کا دل ضرور جیت لو گی۔“
منزہ اُس کا پھیکا پڑتا چہرا دیکھ اُس کے ہاتھ محبت سے تھام گئی تھی۔
دل اُس کی باتوں پر خاموشی سے سر جھکا گئی تھی۔ اُس کے پاس منزہ کی کسی بھی بات کا کوئی جواب نہیں تھا. وہ اُسے کیا کہتی کہ یہ سب پہلی بار نہیں ہورہا تھا۔ جب سے اُس نے ہوش سنبھالا تھا۔ ہمیشہ سے ایسے ہی تو دھتکارا جارہا تھا اُسے۔ دوسروں کی نظروں میں بے قدرا ہونا ہی میں سیکھا تھا اُس نے۔ پھر وہ کسی بات کا دکھ مناتی۔
★★★★★★★★
سُلین نے آنکھیں کھول کر اجنبی نظروں سے اردگرد کا جائزہ لیا تھا۔ یہ اُس کا بیڈ روم نہیں تھا۔
”میں کہاں ہوں۔“
اُس نے غائب دماغی سے چھت کو گھورا تھا۔ جب ہاتھ پر محسوس ہوتے اُس نے چہرا گھمایا تھا۔ اُس کے ہاتھ میں ڈرپ لگی تھی۔ اُس نے مریغوں والا بلیو لباس پہنا ہوا تھا۔
وہ ہاسپٹل میں تھی ۔
مگر وہ یہاں پہنچی کیسے تھی؟؟؟؟
اُس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔
اپنے ہاتھ سے نیڈل نکال کر وہ اُٹھنے ہی والی تھی۔ جب صبا دروازہ کھول کر اندر آتی دیکھائی دی تھی۔
“میم آپ پلیز لیٹی رہیں۔ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔“
صبا اُسے اُٹھتے دیکھ جلدی سے قریب آئی تھی۔
“صبا تم لائی ہو مجھے یہاں۔ پلیز اُٹھنے دو مجھے۔ بہت غلط کیا ہے اُس نے میرے ساتھ۔“
سُلین صبا کا بڑھایا ہاتھ پیچھے دھکیلتی اُٹھنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔ اُس کا سر درد سے پھٹا جارہا تھا۔ آنسو ایک بار پھر چہرا بھیگونے لگے تھے۔
“نو میم ، میں تو ابھی کچھ دیر پہلے پہنچی ہوں یہاں۔ ابتہاج سر ہی لے کر آئیں ہیں آپ کو۔ کافی فکرمند بھی لگ رہے تھے آپ کے لیے۔ ابھی بھی قریشی صاحب کے ساتھ باہر موجود ہیں۔“
صبا کی بات سنتے ہی سُلین کا چہرہ غصے سے لال ہوا تھا۔ اتنا سب کچھ کر لینے کے بعد بھی اُسے سکون نہیں ملا تھا۔ جو اُسے مزید بدنام کرنے کے لیے دوبارہ یہاں آگیا تھا۔
“صبا وہ اچھا انسان نہیں ہے۔ مجھے اُسی نے بدنام کیا ہے۔ اور ابھی وہ نکاح والا جھوٹ بول رہا ہے۔ میرا نکاح نہیں ہوا اُس سے۔ “
سُلین صبا کا ہاتھ تھام کر اذیت سے بولی تھی۔ اُس کے کانوں میں بار بار وہی باتیں گونج رہی تھیں۔ جو میڈیا والے اُس کے کردار پر کیچر اُچھال رہے تھے۔
”میم کول ڈاؤن، ایسا کچھ نہیں ہے۔ باہر ابتہاج سر قریشی صاحب کے ساتھ موجود ہیں۔ اُنہوں نے بتا دیا ہے کہ آپ کے ساتھ اُن کا نکاح نہیں ہوا۔ صرف آپ کو بدنامی سے بچانے کے لیے اُنہوں نے نقلی نکاح نامہ دیکھایا ہے سب کو۔“
صبا کو سمجھ نہیں آرہا تھا۔ وہ سلین کو کیسے سنبھالے۔
” یہ بھی اُس کے کھیل کا کوئی حصہ ہے۔ مجھے اُسی نے بدنام کیا ہے۔ وہ تصویریں اُسی نے بنوائی ہیں۔ اور اب یہ سب کررہا ہے۔ وہ شروع دن ایسے ہی گیمز کھیلتا آرہا ہے مجھ سے۔
اِس کا مطلب وہ غنڈے بھی اُس کے ہی بھیجے ہوئے تھے۔ اتنے ٹائم سے وہ مجھے بے وقوف بناتا آرہا ہے اور میں بنتی آرہی ہوں۔“
سلین کی سوچیں ابتہاج کے حوالے سے بالکل منفی ہوچکی تھیں۔ دروازے میں موجود ابتہاج نے زخمی نظروں سے قریشی صاحب کی جانب دیکھا تھا۔
” آپ کو ابھی بھی لگتا ہے۔ وہ مانے گی آپ کی بات۔“
ابتہاج کی نظریں بُری طرح روتی سُلین پر ٹکی ہوئی تھیں۔ وہ صرف اُس کی وجہ سے تکلیف میں تھی۔ ابتہاج سختی سے مُٹھیاں بھینچتا وہاں سے نکل گیا تھا۔
جبکہ قریشی صاحب کچھ سوچتے اندر داخل ہوئے تھے۔
” سُلین بیٹا آپ کیوں خود کو اتنا ہلکان کررہی ہیں۔ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔“
قریشی صاحب کو قریب آتا دیکھ سُلین کے آنسوؤں میں مزید روانی آئی تھی۔
” انکل مجھے ابتہاج لغاری کے خلاف ہریسمنٹ کا کیس کرنا ہے۔ وہ اچھا انسان نہیں ہے۔ میں مزید بدنام نہیں ہونا چاہتی۔ وہ مزید نجانے کیا گیم کھیلنے کا ارادہ رکھتا ہوگا۔ آپ اُسے یہاں سے بھیج دیں۔ وہ اچھا آدمی نہیں ہے۔“
سُلین ایک ہی سانس میں بولتی اُنہیں اپنے حواسوں میں نہیں لگی تھی۔ یہ سب جو کچھ ہوا تھا۔ اُس جیسی باکردار اور شریف لڑکی کے لیے بہت بڑی چیز تھی۔ اُس کے بابا کی اتنے سالوں سے بنائی گئی عزت خاک میں مل گئی تھی۔
” سُلین اِس سب میں ابتہاج کا کوئی قصور نہیں ہے۔ وہ بھی تمہاری طرح اِس سازش کا شکار ہوا ہے۔ اُس نے خود یہ سب نہیں کیا۔“
قریشی صاحب کی نہایت ہی نارمل انداز میں کہی جانے والی بات نے ایک پل کے لیے سُلین کو بھی ساکت کر دیا تھا۔
”نہیں انکل وہ اپنی پرسنیلٹی سے آپ کو بھی اپنے جال میں پھنسا رہا ہے۔ ورنہ وہ۔۔۔۔۔۔“
سُلین سمجھ گئی تھی کہ وہ بھی اُس کی طرح ابتہاج لغاری کی سحر انگیز پرسنیلٹی کے زیرِ اثر آچکے ہیں.
“بیٹا یہ صرف آپکی خود ساختہ منفی سوچیں ہیں۔ اور کچھ نہیں۔ دنیا دیکھی ہے میں نے۔ اچھے سے جانتا ہوں کون کیسا ہے۔ اور کیا گیمز کھیل رہا ہے۔ جس شخص پر آپ اتنے الزام لگارہی ہیں۔ وہ اب بھی آپ کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ آپ کو قریب آتے اِن سے بھی زیادہ بُرے حالات سے بچانا چاہتا ہے۔ اور اِس سب میں ، میں بھی اُس کا حامی ہوں۔“
قریشی صاحب کی بات پر سُلین کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔
” کک کیسی مدد۔۔۔۔۔۔آپ کیا کہہ رہے ہیں میں سمجھی نہیں۔“
سُلین نے سوالیہ نظروں سے اُنہیں دیکھا تھا۔
”آپ پر اتنے ٹائم سے جو حملے ہورہے ہیں۔ اور یہ جو کچھ ہوا ہے اِس سب کے پیچھے تمہارے بابا کے دشمنوں کا ہاتھ ہے۔ جنہوں سے پہلے تمہاری ماں کو مارا، پھر حبیب پر حملہ کیا اور اب وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں تم اکیلی اور کمزور ہو۔ ایک بات اور تمہارے آفس میں کافی ٹائم سے ایک جاسوس موجود ہے۔ جو تمہاری ہر بات کے بارے میں دشمنوں کو خبر دے رہا ہے۔ اتنی بار جو تمہارے ریسٹورنٹ میں خسارہ ہوا ہے۔ صرف اُسی کی وجہ سے ہے۔ وہ لوگ تمہیں پوری طرح گھیر چکے ہیں۔ اب اگر تم پولیس یا کسی ایجنسی سے رابطہ کرنا یا مدد مانگنا چاہو گی۔ تو وہ لوگ تمہیں ایسا کرنے سے پہلے ہی یا تو مار دیں گے۔ یا دنیا کی نظروں سے ہمیشہ کے لیے غائب کر دیں گے۔“
قریشی صاحب روانی میں بولی جارہے تھے۔ سُلین یک ٹک سی صدمے اور حد درجہ خوفزدگی کے عالم میں اُنہیں دیکھ رہی تھی۔
” تمہیں میں نے نہیں بتایا۔ مگر مجھے نجانے کتنی بار دھمکیوں بھرے فون کالز آچکے ہیں کہ میں تمہارے معاملات سے دور رہوں۔ ورنہ وہ لوگ مجھے اور میرے گھر والوں کو نقصان پہنچائیں گے۔ اِس کریٹیکل سچویشن میں صرف ایک ہی انسان ہے۔ جو تمہیں پروٹیکٹ بھی کرسکتا ہے اور اِس مشکل سے نکلنے میں تمہاری مدد کرسکتا ہے۔ اور اُس سے بھی بڑی بات تم پر لگی اِس بدنامی کو ختم کرسکتا ہے۔ کیونکہ اُن لوگوں نے بہت سی جگہ پر یہ بات پھیلا دی ہے کہ تمہارا نکاح نامہ نقلی ہے۔“
قریشی صاحب بولتے جارہے تھے۔ اور سُلین کو لگ رہا تھا۔ اُس کی سانسیں رک جائیں گی۔ وہ اچھے سے سمجھ رہی تھی وہ کس انسان کی بات کررہے تھے۔
” اِن سب پرابلمز کا ایک ہی حل ہے۔ تمہیں ابتہاج لغاری سے نکاح کرنا ہوگا۔“
آخر کار اُنہیں نے سُلین کے سر پر بم پھوڑ ہی دیا تھا۔ سُلین پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُنہیں دیکھ رہی تھی۔ صبا کو تو اُنہوں نے آتے ہی روم سے بھیج دیا تھا۔ کیونکہ جب سے اُنہیں قاسم کے بارے میں پتا چلا تھام اب کسی پر بھی وہ بھروسہ کرنے کے حق میں نہیں تھے۔
” انکل آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ کیا میں اتنی بے بس اور لاچار ہوچکی ہوں۔ کہ صرف اپنے دشمنوں سے بچنے کی خاطر ابتہاج لغاری سے نکاح کروں گی۔ جو خود کسی غنڈے اور فراڈ سے کم نہیں ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ میں یہ نکاح نہیں کروں گی۔“
سلین نفی میں سرہلاتی تکلیف کی انتہا پر تھی۔ کچھ گھنٹوں میں اُس کے ساتھ اتنا کچھ ہوچکا تھا۔ اور مزید نجانے کیا کچھ ہونے والا تھا۔
” بیٹا مجھے اِس وقت صرف آپکی فکر ہے۔ حبیب سے میں نے تمہارا خیال رکھنے اور ہمیشہ ساتھ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ تمہیں ہمیشہ اپنی بیٹی مانا ہے اور تم نے بھی مجھے ہمیشہ حبیب جتنی عزت اور مان بخشا ہے۔ تم بتاؤ اگر حبیب میری جگہ ہوتا تو کیا تمہیں کچھ غلط قدم اُٹھانے کو کہتا۔ وہ بھی وہی کرتا جو تمہارے لیے سب سے زیادہ بہتر ہو۔ اور اِس وقت ابتہاج سے نکاح کرنے سے زیادہ کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا تمہارے حق میں۔
تمہاری زندگی اور تمہارے بابا کی عزت تمہارے ہاتھ میں ہے۔ تمہارے پاس کچھ وقت ہے۔ سوچ لو تمہیں کیا کرنا چاہیئے۔ کسی غلط فہمی کا شکار ہوکر خود کو خطرے میں ڈالنا چاہتی ہو۔ یا میرے کیے گئے فیصلے پر عمل کرکے اپنے دشمنوں سے اپنے ماں باپ پر کیسے گئے مظالم کا بدلہ لینا چاہتی ہو۔“
قریشی صاحب کی ساری باتیں سن کر وہ عجیب سی کشمکش کا شکار ہوچکی تھی۔
“میں تیار ہوں اِس نکاح کے لیے مگر میری ایک شرط ہے۔“
سُلین کی بات پر واپس جاتے قریشی صاحب کے قدم رک گئے تھے۔
” کیسی شرط۔۔۔۔“
اُس کے مان جانے پر وہ بہت خوش ہوئے تھے۔
“ابتہاج لغاری سے یہ نکاح صرف میری پروٹیکشن کے لیے کیا جارہا ہے۔ تو میں اُس شخص سے گارنٹی. چاہتی ہوں کہ وہ میری یہ پرابلم سالو ہوتے ہی مجھے طلاق دے دے گا۔ اُسے نکاح سے پہلے مجھے اسٹامپ پیپر پر سائن کرکے دینے ہونگے۔ کیونکہ مجھے اُس انسان پر بالکل بھی بھروسہ نہیں ہے۔“
سُلین فیصلہ کرتی مضبوط لہجے میں بولی تھی۔ قریشی صاحب نے اُس کے بابا کا ہمیشہ ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا تھا۔ اُس وقت بھی جب اُس کے قریبی ترین رشتے بھی اُن سے منہ موڑ چکے تھے۔ تب بھی وہ اُس کے بابا کے ساتھ کھڑے رہے تھے۔ پھر اب وہ بھلا کیسے اُس کے لیے کوئی غلط فیصلہ کرسکتے تھے۔ اور جو کچھ اتنے ٹائم سے ہورہا تھا اُس کے ساتھ واقعی اُسے ایک انتہائی مضبوط سہارے کی ضرورت تھی۔ اگر ابتہاج کا ہاتھ تھا اِس میں تب بھی وہ اُس کے قریب رہ کر ہی اُسے بے نقاب کرسکتی تھی۔
” ٹھیک ہے بیٹا جیسا تم چاہتی ہو ویسا ہی ہوگا۔ مجھے بہت خوشی ہورہی ہے تم نے ہر بار کی طرح آج بھی میری بات کا مان رکھا۔ جیتی رہو ، خوش رہو۔“
قریشی صاحب اُس کے سر پر ہاتھ رکھتے وہاں سے نکل گئے تھے.
اُن کے جاتے ہی سُلین نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا گیا اپنا موبائل اُٹھا کر قاسم کو کال ملائی تھی۔ مگر اُس کا فون بند ہونے کا سن کر اُس کی پریشانی مزید بڑھ گئی تھی۔ ہمیشہ قاسم اُسے ہر بات میں گائیڈ کرتا آیا تھا۔ اِس وقت بھی وہ قاسم کو یہاں دیکھنا چاہتی تھی۔ اُس سے اپنے فیصلے کے ٹھیک غلط ہونے کے حوالے سے مشورہ لینا چاہتی تھی۔ مگر وہ نجانے اِس وقت کہاں تھا۔
★★★★★★★
صبح چھ بجے کے قریب اُس نے اپنے بیڈ روم میں قدم رکھا تھا۔ اُس کی کمپنی پچھلے ایک مہینے سے ایک بہت بڑے پراجیکٹ پر کام کررہی تھی۔ جس کے کامیاب ہونے پر اُسے کروڑوں کا فائدہ ہونا تھا۔ دو دن بعد اِسے کلائنٹ کے سامنے پیش کرنا تھا۔ مگر رات کو اچانک اُسے پتا چلا تھا۔ کہ اُس کے سٹاف کا ہی کوئی آدمی اُس کے بزنس رائیولز کے ساتھ مل کر اُس کے پراجیکٹ میں گڑبڑ کررہا تھا۔ جسے ٹھیک کرنے ہی اُسے ارجنٹ آفس جانا پڑا تھا۔
دروازہ بند کرکے اندر کی جانب بڑھتے اُس کی پہلی نظر ہر طرف سجے پھولوں اور اپنے بیڈ پر پورے استحقاق سے سوئے وجود پر پڑی تھی۔ اُس نے خود کو سر سے پیر تک پوری طرح ڈھانپ رکھا تھا۔
زورین اِس لڑکی میں زرا بھی انٹرسٹ نہیں لینا چاہتا تھا۔ اِس لیے فوراً نظریں پھیرتے وہ فریش ہونے کے لیے واش روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔
ساری رات جاگنے کی وجہ سے وہ کافی تھک چکا تھا۔ اور اب ایک گہری نیند چاہتا تھا۔
بیڈ کے قریب جاتے اُس کی نظر دل پر پڑی تھی۔ وہ اُسی کی سائیڈ پر کروٹ لیے لیٹی ہوئی تھی۔ اب کمبل اُس کے چہرے سے ہٹ چکا تھا۔ اُس کا سندر مکھڑا زورین کے بالکل سامنے تھا۔ بیڈ پر لیٹتے اُس کی نظر بار بار بھٹک کر دل کی جانب اُٹھ رہی تھیں۔ اُس کی دودھیا رنگت میں گھلی گلابیاں اُس کے چہرے کو مزید حسین بنا رہی تھیں۔ دل کے ملائم ہونٹ سوتے وقت ہلکے سے کھلے ہوئے تھے۔ یہ چیز اُس کی معصومیت میں مزید اضافہ کررہی تھی۔
زورین کے ہونٹوں پر ایک بے اختیار سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔
وہ شدید تھکاوٹ کا شکار تھا۔ سونا چاہتا تھا۔ مگر دل کے چہرے سے نظریں ہٹا کر آنکھیں بند نہیں کر پارہا تھا۔
آخر کار خود سے ہی جھنجھلاتے اُس نے سیدھا ہوکر کمبل واپس دل کے چہرے پر ڈال دیا تھا۔ وہ گہری نیند میں اپنی دلکشی سے زورین شاہ کے دل پر بجلیاں گرا رہی تھی۔ رات کو وہ جو رو کر اور اپنی بے وقعتی پر تکلیف زدہ سی سوئی تھی۔ اپنی ایک جھلک سے ہی وہ زورین شاہ کو بے آرام کرکے انجانے میں اُس بات کا بدلہ لے رہی تھی۔
” اِس لڑکی کو اِس بیڈ روم تک لانا صرف تمہاری ضد تھی۔ اِس کی تمہارے نزدیک اتنی اہمیت بالکل بھی نہیں ہونی چاہیئے کہ اِس کی موجودگی تمہیں ڈسٹرب کرے۔“
زورین شاہ اپنی اِن عجیب احساسات پر خود کو سختی سے سرزنش کرتا کروٹ بدل کر لیٹ گیا تھا۔ کچھ دیر پہلے کا دل کا اثر اب اُس کے اُوپر سے زائل ہوچکا تھا۔ اُس نے خود کو واپس اپنے کریکٹر میں ڈھال لیا تھا۔
★★★★★★★★
” سلین حبیب کو اِس بات کی گارنٹی چاہیئے کے میں اُسے یہ پرابلم سالو ہوتے ہی چھوڑ دوں۔ امیزنگ۔“
ابتہاج نے سرد لہجے میں پوچھتے قریشی صاحب کی جانب دیکھا تھا۔ جنہوں نے اثبات میں سر ہلاتے مدد طلب نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔
” آپ فکر مت کریں قریشی صاحب۔ میں سُلین حبیب کی ہر شرط ماننے کو تیار ہوں۔“
ابتہاج نے اُن کو مزید کچھ بولنے کا موقع دیئے بغیر فوراً رضامندی دے دی تھی۔
“تھینکیو سو مچ۔ آپ جانتے نہیں ہیں۔ آپ نے میرا کتنا بڑا بوجھ کم کردیا ہے۔ سُلین مجھے میری سگی بیٹیوں کی طرح عزیز ہے۔ اُس کو محفوظ ہاتھوں میں جاتا دیکھ میں بہت خوش ہوں۔ بیٹا وہ شاید آپ سے تھوڑی بدگمان ہے۔ مگر بہت پیاری اور نیک بچی ہے۔ اُس کی باتوں پر درگزر کردیجئے گا۔ “
قریشی صاحب کا لہجہ خوشی سے لبریز تھا۔ جس طرح وہ ابتہاج سے بات کررہے تھے۔ وہ صاف ظاہر کرتا تھا۔ وہ لوگ پہلے سے ہی ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔
اُن کی اتنی ساری باتوں کے جواب ميں ابتہاج نے محض سر ہلانے کے علاوہ کچھ نہیں کہا تھا۔ اُس کی ریزرو نیچر سے اچھی طرح واقف ہونے کی وجہ سے قریشی صاحب اِسی پر ہی خوش ہوتے وہاں سے ہٹ گئے تھے۔ اُنہیں ابھی کچھ دیر بعد ہونے والے نکاح کے لیے سب ارینجمنٹس بھی کرنی تھیں۔
سُلین تھوڑی دیر پہلے ہی صبا کے ساتھ گھر جاچکی تھی۔
انتہاج نے پاشا کو اِس بارے میں بتا کر فون بند ہی کیا تھا۔ جب موبائل ایک بار پھر بجنے لگا تھا۔ مگر اب کی بار جو نمبر سکرین پر جگمگا رہا تھا۔ وہ سیو نہ ہونے کے باوجود وہ اچھے سے پہچانتا تھا۔
نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کال پک کرتا فون کان سے لگا گیا تھا۔
” ہیلو ابتہاج میری جان کیسے ہو تم۔ جیل سے رہا ہوچکے ہو تم۔ مگر ایک بار بھی اپنی ماں کے پاس آنا گوارہ نہیں کیا تم نے۔ تم جانتے ہو تمہیں صرف ایک نظر دیکھنے کے لیے میں کتنی تڑپ رہی ہوں۔ ایک بار اپنی آواز ہی سنا دو۔ میری تڑپتی ممتا کو سکون مل جائے۔ جیل میں کتنی بار تم سے ملنے آئی مگر تم نے ہر بار انکار کردیا۔ اتنے کھٹور کیوں بن گئے ہو تم۔“
دوسری جانب سے اپنی ماں کی بے تابی بھری آواز پر ابتہاج کے ماتھے کی رگیں تن گئی تھیں۔ وہ جیل سے باہر اِسی لیے نہیں آنا چاہتا تھا۔ کہ کہیں اُسے یہی آواز نہ سننی پڑ جائے۔
” ملنے اِسی لیے نہیں آیا کہ مسز لغاری کیونکہ مجھے آپ کی صورت سے بھی نفرت ہے۔ کھٹور تو میں پہلے سے تھا۔ مگر اب درندہ بن چکا ہوں۔ شکر کریں آپ کا سامنا نہیں ہوا مجھ سے۔ ورنہ کافی مشکل ہوجانی تھی آپ کو۔ دوبارہ مجھے کال کرنے کی کوشش بھی مت کرنا۔“
ابتہاج زبان سے شعلے برساتا کال کاٹ گیا تھا۔
غصے سے پاگل ہوتے اُس نے مکا بناتے سامنے موجود کانچ کے دروازے پر دے مارا تھا۔ یہ سب اُس نے اتنی پاور سے کیا تھا۔ کہ دروازہ کئی حصوں میں ٹوٹتا اُس کا ہاتھ بُری طرح لہولہان کر گیا تھا۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔