Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

وہ جانتا تھا دل آویز بے قصور ہے مگر تھی تو وہ اُس کے ماں باپ کے قاتل کی بیٹی۔ اُس کی پرورش جن لوگوں نے کی تھی۔ زورین شاہ دنیا میں سب سے زیادہ اُنہیں سے نفرت کرتا تھا۔
اُس نے اپنی زندگی کے بہت سارے سال اذیت میں گزارے تھے۔ کیونکہ تب وہ اپنے مجرموں سے واقف نہیں تھا۔ مگر اب ذکریا ہاؤس والوں کی اصلیت جان لینے کے بعد وہ اُن کی زندگی جہنم بنا دینے کا ارادہ رکھتا تھا۔ جس کے لیے سب سے پہلے اُس کے عتاب کا نشانہ دل بنی تھی۔
مگر وہ خود اِس بات سے ناواقف تھا۔ کہ اُس نے ابھی صرف حقیقت کا ایک رُخ دیکھا تھا۔ وہ انجانے میں ہی دکھوں کی ماری، ہمیشہ سے نفرتوں کے وار سہتی آئی دل جیسی لڑکی کے ساتھ کس قدر زیادتی کر رہا تھا۔
اُس کے اندر کی بے چینی اِسی وجہ سے تھی۔ مگر ابھی وہ اِس قدر غصے سے بپھرا زخمی شیر بنا ہوا تھا۔ کہ مسلسل واویلا کرتے اپنے دل کی سدائیں بھی نہیں سن پارہا تھا۔
زورین مزید نجانے کتنی دیر اِسی کیفیت کے زیرِ اثر رہتا جب فون کی آواز پر وہ حال میں واپس لوٹا تھا۔
کال ریسیو کرتے دوسری جانب سے اُسے جو نیوز دی گئی تھی۔ زورین لمحے کی بھی دیر کیے اپنی جگہ سے اُٹھا تھا۔ اُس کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے تھے۔
” تم بس وہیں رہوں۔ میں ابھی پہنچتا ہوں۔“
جس انسان کی وہ پچھلے اتنے ٹائم سے تلاش کر رہا تھا۔ وہ آج اُسے مل چکی تھی۔ اب بہت جلد وہ ہمایوں اور اُس کی بیوی تک پہنچنے والا تھا۔
★★★★★★★★
”میں ایک دہشت گرد، دوسروں کی زندگیوں سے کھیلنے والے ایک سمگلر کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ میں پہلے بالکل ٹھیک سوچ رہی تھی۔ مجھے بدنام
کرنے کی سازش اِسی شخص نے کی تھی۔ ضرور مجھ سے نکاح کرنے کے پیچھے بھی اِس کے کسی گھناؤنے ارادے کی تکمیل ہوسکتی ہے۔“
سُلین اپنی آنکھوں سے ابتہاج کے خلاف سارے ثبوت دیکھ چکی تھی۔ اگر وہ باقی سب باتوں کو جھوٹ بھی مان لیتی تو اُس کے جیل میں قتل کے جرم میں گزارے گئے اتنے سال وہ عدالت کے وہ پیپرز کیسے نظر انداز کرسکتی تھی۔
اچانک ایک ساتھ یہ جو ڈھیر سارے انکشاف ہوئے تھے۔ اُس نے سُلین کا دماغ بالکل ماؤف کردیا تھا۔ اگر ابتہاج لغاری سچا ہوتا تو اُسے پہلے ہی اِس بارے میں سب کچھ بتا دیتا مگر اُس نے تو سُلین کو کچھ بھی نہیں بتایا تھا۔ اور پاشا نامی شخص سے تو خود اُس نے ابتہاج کو فون پر بات کرتے بھی سنا تھا۔ ہر بات ابتہاج کے خلاف جارہی تھی تو وہ کیسے اِن سب باتوں پر یقین نہ کرتی۔
” میں کوئی کمزور بزدل لڑکی نہیں ہوں۔ اِس دھوکے باز انسان کے ساتھ اب میں مزید ایک پل نہیں رہوں گی۔“
سُلین آنکھوں میں آئے آنسو بے دردی سے رگڑتی کمرے سے نکل آئی تھی۔
وہ اچھے سے سمجھ رہی تھی ابتہاج نے اُس کے ساتھ کتنا بڑا گیم کھیلا تھا۔ وہ اُسے اپنے اتنے قریب لاکر اُسے اپنی محبت میں بالکل بے بس کردینا چاہتا تھا۔ تاکہ جب اُسے ابتہاج کی اصلیت کا پتا چلے تو وہ کچھ نہ کر پائے۔
وہ اپنے ساتھ کھیلے گئے ابتہاج کے سارے مائنڈ گیمز سمجھ گئی تھی۔ اِس لیے اپنے مسلسل احتجاج کرتے دل کی آواز پر کان بند کرتی وہ اِس وقت صرف دماغ کی سن رہی تھی۔ اگر دل کی سنتی تو کبھی ابتہاج لغاری سے دور جانے کا فاصلہ نہ کر پاتی مگر یہاں سوال ایک اکیلی اُس کی ذات کا نہیں تھا۔ اُن تمام لوگوں کا تھا جن کی زندگیاں ابتہاج لغاری نے اجیرن کر رکھی تھیں۔
وہ اپنا پرس اور اپنی کچھ ضروری چیزیں لیتی ابتہاج لغاری کے گھر سے نکل آئی تھی۔ کبھی واپس نہ آنے کے لیے۔
★★★★★★★★
”دل پلیز اِس طرح رو مت۔ میرا دل بند ہوجائے گا۔“
منزہ دل کو اپنے ساتھ لگاتے پریشانی سے بولی تھی۔ دل کا یوں بُری طرح رونا اُسے تکلیف میں مبتلا کرگیا تھا۔
”بھابھی وہ بہت نفرت کرتے ہیں مجھ سے۔ میں اتنی بُری ہوں کیا۔ جو ہر کوئی مجھے اتنی بے دردی سے دھتکار دیتا ہے۔ کیا کبھی مجھے میری لائف میں کسی کی محبت نہیں ملے گی۔“
آج اُس نے زورین کی آنکھوں میں اپنے لیے شدید نفرت دیکھی تھی۔ جو اُس کے لیے سب سے زیادہ اذیت کا باعث تھی۔
اُس نے اپنی اب تک کی زندگی میں اگر کسی کی چاہت کی تھی۔ تو وہ یہی ایک انسان ہی تھا۔ مگر زورین نے بھی آج اُس کے دل کے بُری طرح ٹکڑے کردیئے تھے۔ اور اُس پر واضح کردیا تھا۔ کہ وہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی زورین شاہ کے لیے۔
”نہیں دل ایسا کچھ نہیں ہے۔ تم بہت پیاری اور سچے دل کی مالک انسان ہو۔ دنیا میں ایسا کوئی انسان نہیں جسے صرف نفرت کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اور تم تو بالکل بھی نہیں۔ تمہیں بھی ایک دن تمہارے حصے کی محبت ضرور ملے گی۔ زورین ابھی غصے میں ہے۔ جس کی وجہ سے تمہیں کچھ بھی بول گیا۔ مگر جب اُس کا غصہ اُترے گا تو اُسے اپنی غلطی کا احساس ضرور ہوگا۔“
دل روتے ہوئے جذباتی لمحوں کے بہاؤ میں آکر اُسے اپنے گھر والوں کے رویے کے بارے میں سب کچھ بتا چکی تھی۔ جس کے بعد منزہ کا دل اُس کے لیے مزید پسیج گیا تھا۔ اب تو وہ ہر حال میں زورین سے بات کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں۔
”بھابھی میں جاننا چاہتی ہوں۔ آخر ایسا کیا ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے زورین میرے پیرنٹس اور فیملی ممبرز کو اپنے پیرنٹس کا قاتل سمجھتے ہیں۔ کیا واقعی ایسا کچھ ہوا ہے۔ یا زورین کو کوئی شدید غلط فہمی ہوئی ہے۔ پلیز مجھے ساری سچائی بتا دیں۔ کس جرم کی سزا میں میرے مقدر میں اتنی نفرتیں لکھ دی گئی ہیں۔ پلیز“
دل منزہ کی جانب دیکھتی ملتجی لہجے میں بولی تھی۔
”محبت۔۔۔۔۔۔۔۔۔محبت کے جرم میں۔“
منزہ کی بات پر دل نے اُسے مزید اُلجھی نظروں سے دیکھا تھا۔
”محبت۔۔۔۔۔کونسی محبت۔۔۔۔“
دل کے لب پھڑپھڑائے تھے۔ اُس نے تو زورین کے لیے اپنی محبت خود سے بھی چھپا کر رکھی ہوئی تھی۔ پھر منزہ کس بارے میں بات کررہی تھی۔
”تم دونوں کی شادی سے پہلے میں اِس ساری سچائی سے ناواقف تھی۔ کہ تم ہی ہمایوں شاہ اور شہلا کی بیٹی ہو۔ اگر مجھے زرا سا بھی اندازہ ہوتا تو میں تمہاری شادی زورین سے کبھی نہ ہونے دیتی۔ کیونکہ جن لوگوں کے نام سن کر ہی زورین شدید نفرت کے تحت آپے سے باہر ہوجاتا تھا۔ وہ بھلا اُن کی بیٹی کو عزت و مقام کیسے دے سکتا تھا۔ مگر مجھے اِس سچائی کا بھی کچھ دن پہلے پتا چلا ہے۔ جب میں تمہارے آنسو پونچھنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتی۔“
منزہ کی آنکھوں سے بھی آنسو نکل آئے تھے۔ زورین کی زندگی کے ہر معاملے میں شدت پسندی سے وہ اچھی طرح واقف تھی۔ اور اب دل کی آگے آنے والی زندگی زورین شاہ اُس پر مزید تنگ کرسکتا تھا۔
” مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی آپ پلیز۔۔۔۔۔کھل کر ساری سچائی بتائیں مجھے۔“
دل اب ہر حال میں سب کچھ جاننا چاہتی تھی۔
” تم زورین کے سگے چچا ہمایوں شاہ کی بیٹی ہو۔ زورین کی فرسٹ کزن۔۔۔۔۔“
منزہ کے انکشاف پر دل کو شدید جھٹکا لگا تھا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھے گئی تھی۔
پھر منزہ آہستہ آہستہ اُسے جو کچھ بھی بتاتی گئی تھی۔ دل پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹتے چلے گئے تھے۔
★★★★★★★★
” کیا ہوا ہے، سب خیریت ہے۔“
ابتہاج شام کے قریب گھر پہنچا تھا۔ اُس عورت کی آمد کے بعد وہ اِس قدر ایگریسو ہوچکا تھا۔ کہ اپنے اِس جنونی غصے کے زیرِ اثر وہ سُلین کے قریب تو بالکل بھی نہیں جانا چاہتا تھا۔
سُلینپ۔فسز کو زرا سی تکلیف پہنچتی برداشت نہیں کرسکتا تھا وہ۔ اپنی وجہ سے تو کسی قیمت پر نہیں۔۔۔۔۔
مگر اب گھر آکر اپنے تمام ملازمین کو اِس طرح ار جھکائے مجرموں کی طرح کھڑا دیکھ وہ ٹھٹھک گیا تھا۔ اُسے شدت سے کسی گڑبڑ کا احساس ہوا تھا۔
”سر بیگم صاحبہ دن کے ٹائم گھر سے نکلی تھیں۔ اور ابھی تک واپس نہیں آئیں۔“
ملازمہ نے ڈرتے ڈرتے اُسے بتایا تھا۔ جسے سن کر ابتہاج کا چہرا غصے سے تن گیا تھا۔
” یہ اُن کے روم سے ملا ہے۔“
ملازمہ نے وہی لیٹر ابتہاج کی جانب بڑھایا تھا۔ جو سُلین باقی چیزوں کے ساتھ لے جانا بھول گئی تھی۔
جیسے جیسے ابتہاج وہ لیٹر پڑھ رہا تھا۔ اُس کے دماغ کی نسیں غصے سے پھولتی جارہی تھیں۔
” مجھ سے بنا بات کیے، اِس طرح نہیں جانا چاہیئے تھا تمہیں۔ اپنے ساتھ اچھا نہیں کیا تم نے۔“
ابتہاج کے چہرے کا رنگ متغیر ہوچکا تھا۔ آج پہلی بار اُسے سُلین پر شدید غصہ آیا تھا۔
لیٹر مڑور کر ڈسٹ بن میں پھینکتا اُنہی قدموں پر واپس پلٹ گیا تھا وہ۔
★★★★★★★★
ہمایوں شاہ اور شہلا کی محبت کے سب لوگ خلاف تھے اور شہلا نے اپنے گھر والوں سے بغاوت کرکے شادی کی تھی۔ اِس سب حقیقت سے وہ واقف تھی۔ صبح شام رقیہ بیگم کے دیئے جانے والے طعنوں سے اُسے یہ ساری باتیں ازبر ہوچکی تھیں۔ مگر اُس کے ماں باپ کی محبت کسی کی جان لینے کا سبب بھی بنی تھی۔ اِس بات نے اُسے ہلا کر رکھ دیا تھا۔
زورین کے والد اور ہمایوں کے بڑے بھائی اسفند شاہ اپنے بھائی کی محبت سے بارے میں جان کر اُن کا پورا ساتھ دینے کا ارادہ رکھتے تھے۔ مگر وہ شہلا کے اپنے خاندان والوں کی عزت مٹی میں ملا کر بھاگ کر آنے کے حق میں نہیں تھے۔ وہ ذکریا منزل جاکر صلح صفائی سے سارا معاملہ ہینڈل کرنا چاہتے تھے۔ جو کہ ہمایوں کے مطابق ہونا ناممکن تھا۔
اِس لیے اُس نے اپنے بھائی کی اِس معاملے میں مدد تھی۔ کہ بھاگ کر نکاح کرنے کے بعد اُنہیں اور شہلا کو محفوظ مقام مہیا کیا جائے۔ مگر اسفند شاہ کسی خاندان کی عزت نیلام کرنے کے پلان میں اپنے بھائی کا ساتھ دینے کے حق میں نہیں تھے۔
اِس مشکل گھڑی میں اپنے بھائی کا یوں پیچھے ہٹ جانا ہمایوں کو اُن سے شدید بدظن کرگیا تھا۔ جس کے بعد اُن سے شدید قسم کا جھگڑا کرتے وہ گھر سے نکل گیا تھا۔
ہمایوں غصے کا بہت تیز تھا۔ جاتے ہوئے اُس نے اپنے بھائی کا اِس سب کا انجام اچھا نہ ہونے کا وارن کیا تھا۔ زبان سے تو وہ یہ الفاظ ادا کرگیا تھا۔ مگر حقیقت میں اُس کے دل میں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ جو بھی بولا تھا وہ صرف غصے میں منہ سے نکلنے والے الفاط تھے۔ مگر شاید قسمت اُن کے ساتھ کوئی اور ہی کھیل کھیلنے والی تھی۔
جس دن ہمایوں اور شہلا گھر سے بھاگے تھے۔ اُس سے اگلے دن اسفند شاہ اور اُن کی وائف ہاسپٹل سے واپسی پر ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اُن کا یہ ایکسیڈنٹ حادثاتی نہیں تھا۔ بلکہ سوچی سمجھی سازش کے تحت اُن کی گاڑی کی بریکس فیل کر دی گئی تھیں۔ جس کی وجہ سے یہ سب ہوا تھا۔
زورین اُس وقت چھ جبکہ ثاقب بارہ سال کا تھا۔ جو خود بھی کافی سمجھدار تھا۔ دوسرا خاندان والوں اور باقی لوگوں کا اُس کے عزیز چاچو کو اُس کے ماں باپ کا قاتل ٹھہرانے والے بات اُس کے معصوم زہن پر نقش ہوگئی تھی۔
کیونکہ ہمایوں اور شہلا کا غائب ہوجانا اور اپنے بھائی بھابھی کی موت پر بھی نہ آنا سب کے شک پر مہر لگا گیا تھا۔ دوسرا شک جو گیا تھا وہ تھا شہلا کے بھائی تنویر صاحب پر تھا۔ جو اپنی بہن کے گھر سے بھاگ جانے کے بعد اسفند شاہ کے پاس اُن کے گھر آئے تھے۔ اُنہیں نے نہ صرف اسفند شاہ کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔ بلکہ بعد میں اُن کے ساتھ پیش آنے والے حادثے میں بھی کسی حد تک ملوث پائے گئے تھے۔ مگر اُن کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اِس کیس کو کلوز کردیا گیا تھا۔
وہ دونوں بھائی اُس وقت چھوٹے تھے۔ اپنے ماں باپ کے قاتلوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے۔ ثاقب تو کیس کلوز ہوجانے اور سب کے کہنے کے مطابق اِسے ایک حادثاتی ایکسیڈنٹ سمجھ کر خاموش ہوگیا تھا۔ مگر زورین کے معصوم زہن پر یہ ساری باتیں نقش ہوچکی تھیں۔ اُسے وہ دن ابھی بھی یاد تھا۔ جب اُس کے جان چھڑکنے والے چاچو اُس کے پاپا سے بُری طرح لڑ کر گئے تھے۔
پڑھائی مکمل کرنے اور ہوش سنبھالنے کے بعد اُس کا سب سے پہلا اور بڑا مقصد اپنے ماں باپ کے قاتلوں کو اُن کے انجام تک پہنچانا تھا۔ اُس وقت سے اُس نے ہمایوں اور اُس کی بیوی کو ڈھونڈنے کی تلاش جاری کردی تھی۔ ذکریا منزل والوں کی پے در پے ناکامیوں کی جانب بڑھنے کا سبب بھی وہی تھا۔
وہ اب کسی کو بخشنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ وہ ہمایوں اور شہلا کے کافی قریب پہنچ چکا تھا۔ جلد ہی اُس نے اُنہیں ڈھونڈ نکالنا تھا۔ جس کے بعد وہ سب کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
اُسے محبت لفظ سے بھی نفرت تھی۔ اور اُن لوگوں سے بھی جو کسی نہ کسی طرح ہمایوں شاہ سے منسلک تھے۔ جن میں سرِ فہرست دل آویز ہمایوں تھی۔
جس نے اب تک اپنے گھر والوں کی نفرت برداشت کی تھی۔ اور اب آگے زورین شاہ کی کرنی تھی۔ پہلے سب کی نفرتوں نے اُسے مضبوط بنا دیا تھا۔ مگر اب زورین شاہ کی نفرت نے اُسے کچھ ہی وقت میں توڑ کر رکھ دیا تھا۔ کیونکہ وہ زورین شاہ سے محبت کر بیٹھی تھی۔ جس جذبے کے تصور سے بھی زورین شاہ کو شدید نفرت تھی۔
” مطلب میری آگے کی زندگی میں بھی میں کبھی زورین شاہ کی محبت حاصل نہیں کر پاؤں گی۔ میں تو واقعی دنیا کی سب سے بڑی بدنصیب نکلی۔“
دل اپنا چہرا دونوں ہاتھوں میں گرائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
”دل ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ دیکھنا ایک دن سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ سنبھالو خود کو۔“
منزہ اُسے قریب کرتی اُس کا ہچکیوں کے زیرِ اثر وجود اپنی آغوش میں لے گئی تھی۔ اِس لڑکی کے آنسو اُسے اپنے دل پر گرتے محسوس ہو رہے تھے۔ دل اُس کا سہارا ملتے ہی بُری طرح رو دی تھی۔ منزہ کے لیے اُسے سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا۔
کافی دیر بعد بہت مشکل سے خود ہو سنبھالتے وہ سیدھی ہوئی تھی۔ اُس کا نم آلود گلابی چہرا اب سوج چکا تھا۔ آنکھوں کے پپوٹے سُرخیاں چھلکانے کو تیار تھے۔
” میں بات کروں گی زورین سے تم پریشان مت ہو۔“
منزہ کو دل کی کیفیت سے اب ڈر لگ رہا تھا۔
” نہیں آپ اُن سے کوئی بات نہیں کریں گی۔ آپ کو میری قسم، آپ اُن کو یہ بھی نہیں بتائیں گی کہ میں اُن سے محبت کرتی ہوں۔ پلیز۔“
دل منزہ کا ہاتھ اپنے سر پر رکھتے اُسے پوری طرح اپنی قسم میں جکڑ گئی تھی۔
”دل یہ کیا کررہی ہو تم۔“
منزہ اُس کی یہ حرکت سمجھنے سے قاصر تھی۔ جو اب اُسے ایک دم بدلی بدلی سی لگ رہی تھی۔ دل کے ہونٹوں پر سجی مسکراہٹ اُسے خوفزدہ کرگئی تھی۔ اِس لڑکی کو اچانک ہوکیا گیا تھا۔
”زورین شاہ کے ساتھ لائف میں جو ہوا وہ بہت غلط تھا۔ اُنہیں اپنی پوری لائف اپنے پیرنٹس کے بغیر گزارنی پڑی۔ صرف اور صرف میرے پیرنٹس کی خودغرضی کی وجہ سے۔ وہ اپنی نفرت میں حق بجانب ہیں۔ جیسے میرے گھر والے اور خاص کر روقیہ خالہ تھیں۔ میرے ماں باپ نے صرف اور صرف اپنی خوشی کو دیکھتے باقی سب لوگوں کی زندگیاں برباد کرکے رکھ دیں۔
جس کا بھگتان کسی کو تو بھگتنا ہی تھا نا۔ تو میں ہی سہی۔ شاید اِس طرح زورین کی انا کو بھی تسکین مل جائے جیسے اب تک مجھے ہر جگہ ذلیل کرکے رقیہ خالہ اور باقی گھر والوں کو ملتی آرہی ہے۔ “
دل کو چند سیکنڈز لگے تھے پہلے والی ہر احساس سے عاری اپنا دل پتھر کردینے والی دل آویز بننے میں۔
”آئم سوری بہت پریشان کردیا میں نے آپ کو۔ محبت کی طلب نے کمزور کردیا تھا مجھے۔ مگر میں پاگل یہ نہیں سمجھ پائی کہ یہ جذبہ میرے لیے نہیں بنا۔ بلاوجہ اِس کی خواہش کرکے اپنا دل ہی لہولہان کروں گی۔ اِس لیے آج اور اِسی وقت میں اپنی نفرت یہیں اپنے اِس دل میں ہی دفن کرتی ہوں۔ جس کا ختم ہونا تو ناممکن ہے مگر اب وہ کبھی کسی کو دیکھائی بھی نہیں دے گی۔“
دل چہرے پر زخمی مسکراہٹ سجائے اور آنکھوں میں نمی بھرے بولتی، منزہ کا دل اذیت سے بھر گئی تھی۔ مگر وہ چاہ کر بھی اِس لڑکی کے لیے کچھ نہیں کرسکتی تھی۔
کیونکہ زورین شاہ نے کسی کی سننا اور ماننا سیکھا ہی نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ اپنی ہی کرتا تھا۔ چاہے اُس کی ضد میں اُسے کتنا ہی خسارہ کیوں نہ ہو۔
★★★★★★★★★
سُلین اپنے گھر واپس آکر کمرے میں بند ہوچکی تھی۔ ابتہاج لغاری کی سنگت میں گزرے پچھلے چند دنوں کے بارے میں یاد کرتے کبھی اُس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر جاتی تھی۔ تو کبھی غصے اور شدید دکھ کے زیرِ اثر چہرا آنسوؤں سے تر ہوجاتا تھا۔
ابتہاج لغاری باقی لوگوں کی طرح اُس کی لائف سے کھیل گیا تھا۔ اب وہ زندگی بھر اُس کے پاس واپس جانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔ مگر پھر بھی وہ شخص خود سے محبت کروا کر اُسے پوری زندگی کا روگ لگا چکا تھا۔
سُلین نے چوکیدار کو سختی سے منع کردیا تھا۔ ابتہاج لغاری یا اُس سے منسلک کسی بھی انسان کو گھر میں گھسنے نہیں دینا۔ ابتہاج کے حوالے سے ڈر ہونے کے باوجود وہ اپنے گھر کی سیکیورٹی بڑھا کر خود کو اُس شخص سے محفوظ رکھنے لگی تھی۔ جو کہ ناممکن ہی تھا ابتہاج لغاری جیسے شخص کے لیے اُس کی یہ سیکیورٹیز توڑنا مشکل بات نہیں تھی۔ سُلین کو اُس سے بچنے کے لیے اب کچھ اور کرنا تھا۔
ابھی وہ اِنہیں سب باتوں میں اُلجھی ہوئی تھی جب دروازے پر ناک ہونے کے ساتھ ابتہاج کی آواز اُبھرتی اُسے بُری طرح خوفزدہ کر گئی تھی۔
” سُلین دروازہ کھولو۔ ورنہ میں دروازہ توڑ دوں گا۔“
ابتہاج کی غصے سے چنگارتی آواز پر سُلین کے رگ و پے میں خوف کی لہریں دوڑ گئی تھیں۔
وہ ہراساں سی دروازے دیوار کے ساتھ جا لگی تھی۔ تو آخر وہ شخص نہایت ہی آسانی سے اُس کے گارڈز کو ہٹاتا اُس تک پہنچ چکا تھا۔
اُس کی جانب سے جواب نہ پاکر ابتہاج نے اگلی کوئی بات کیے بغیر دروازے کا لاک توڑنا شروع کردیا تھا۔ اُس کے دو تین زور دار دھکوں کی تاب نہ لاتے۔ لاک ٹوٹ چکا تھا۔ سُلین کے منہ سے چیخ نکلی تھی۔ وہ صبح ہی ابتہاج کے غصے کی ایک جھلک دیکھ چکی تھی۔
اگلے ہی لمحے پاؤں مار کر دروازہ پورا وا کرتے ابتہاج لغاری چہرے پر بھسم کر دینے والے تاثرات سجائے اندر داخل ہوا تھا۔ اُس کی آگ اُگلتی نظریں خود پر گڑھی دیکھ سُلین کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی تھی۔ آج سے پہلے اُس نے ابتہاج کو اپنے سامنے اتنے غصے میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔
وہ اپنے بے جان قدموں کو بمشکل حرکت دیتی اُس کی پہنچ سے دور ہونے کے لیے واش روم کی جانب بڑھی تھی۔
مگر اُس سے بھی پہلے ابتہاج اُس کی کلائی اپنی فولادی گرفت میں جکڑتا اُسے اپنے شکنجے میں لے چکا تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔